Skip to main content

Full text of "مجموعہ محمد حسن عسکری ۔ میر بلوچ"

See other formats


2 





پیش خد مت ہے ”کتب خانہ “گرو 
کی طرف سے ایک اورکتاب 


پیڈے نط رتا فی پٹ گروپ لب ما" عیب اپ کرد گی ہے کراپ کائک لحظ کی 


ے×حل 0955/71۵1 22/1.14479642572 ا ۶٥ء‏ ۰ا٥‏ ط2۶ ۶۵ ٤۶۰/۸۱۷۷‏ 


کب عم 


۷۸۷۵۵ عض۸م ۷ط عامج 


متا : 8538 05519ددو+ 

نطب ال : 923340004895+ 

گ7 : 971543824582+ 

می شا عرات : 923478784098+ 

می یر عبات ال : 923072128068+ 
































0 0۷۸2۸ ۸1۹ 2301.4194 
١اا‏ ٥ف‏ ب11 ۸2٥1‏ ٥صيراس1١‏ وہ (ہ1ڈ 
٤7ء‏ ۸۸-۶۱۰۱ ٥ھ(‏ ۵ہ صست ا۷ہ 
۷ , صماتبااا” ۳ ۹1۲۷۱+ عئ مد 
ر275 
۷٣۳۷‏ ۰پ“ٰ+75/) 


۲۸۵|] 








2008 

سینا پیش خدمت ہے کتب خانہ گروپ کی طرف سے 
شی یں یی کی ہو ایک اور کتاب ۔ 
20 پیش نظر کتاب فیس بک گروپ کتب خانہ میں 


بھی ایلوڈ کر دی گئی ہے ا 
9۲٥009‏ / یب۰۰۱ 5٦10 9://۷۷۷۷۰1۰۰۶۱٥‏ 
1144796425720955/7161-9۵۲۵/ 
میر ظہیر عباس روستمانی 
لا 0907-2128068 


و ا دح 


1۶37۰ ۶69-151-02061-2 


58319--۸۸۰۱:١۱ ں۴‎ ء3۱٥٥‎ 





7228143 ۴3 1 


۶۱۰۵۸۵۵۶۰ 722010 














" انان اور آری 

ستارەیا یادیان 

وش تی راگئی 

زیر خر لگرابیو ںکی 
جدیرعیت یا میں ہار 


ہرست 


3 


رن 


انان او ری 


انی چند غیراضسانودی تیوں کا پلا مجموع خحائ کرت ہوے میں ہے فیعلہ تیں 
کرس ا کہ انیں تتقیری مضاش نکموں با پچ اور--۔ اس کا مطلب ہے می ں کہ 
میرے زین میں تقید نگاری کناکوتی تقبور نہیں یا میں اس تقصو رکو علی شمل خھیں رے 
کتا۔ اصل جات ہہ ےکہ چیث اسان نثا رکسلانا پبند ہے “نہ حقید نر٤‏ نہ ارعب۔ 
یس و اپنے آ پکو اس زمرے میں شائل مکھتا ہوں جس کا نام ایک فراضجی ناول 
ار نے (نس کا نام اس ُۓ عذ کرت ہو ںکہ اردو نقاروں کے زین پر پار تہ ہو“ 
اور فقر اگریزی میں ککتا ہو ںکیوکہ اس کا ترججمہ اردد می لکر خی سگا۔.....۔ 
٤5‏ ذ ۴٥٥۴۸۲۲٣‏ رکھا ہے۔ ہہ وہ لوگ ہیں جو نہ تقاضی ہیں نر مفق؟ر 
محقسب نہ چوکیدا راس اتی اہلیت ضرور رکھت ہی ںکہ جو پلتھ دینتے ہیں اسےکمہ رت 
ہیں۔ چنائیہ میں ےہ تو خمیں کہ سم اکہ میں اصل شض اضاد نگار ہوں یا نقار ہوں- 
البنتہ ای بات ھے معلوم ےک میں لفظو ںکو اس طرح جوڑ سا ہو ںک_ تھوڑے 
بست لوگ میری حر یکو خشروع سے ہج کک بپڑھ لیے ہیں۔ اس کا وت ہہ ہ ےک 
جھے ایک تار لگیا ہے جس کے مم ہہ ہوتے ہی ںک کم ےکم الیک ہزار "دی 
بیر یق تاب ضردر خریدریں ھے۔ اس سے آگے جج او یھ معلو مک رت ےکی ضرورت 
ٹیس ہے چاسے میری گھیں حقیدی ہوں با مہ ہوںٴ میرے پاس بکتھ ھن والے 
ضرور موجود ہیں._.۔۔ جنییں قین ےک جھے لفطو ںکو جو ڑکر ایک ویپ رکب 
بنانے کا خن آن ہے اب ہہ میا فرص ےک فططوں کے ان مرکیات مج وہ گجریہ 
بھروں جو واتی ہے عاصل جوا ہے اور اسے کی لاڈ یا خوف کی وجہ سے لیخ تہ 
کروں“ ورنہ پفریش اضی یا خی یا چوکیدار یا اریپ بن چاؤل گا اور ا ںگرو, ے 


کا پت 


١ 


خارج ہوجاؤں گا نس میں شائل ہوکر میں ہہ حسو ںیکرا ہو ں کہ اتا ا میزان بے 
یں اور نمیں مل ستا۔ میرا خیال ہے کہ فی ایم لہ جس اپنے اس فرض سے نائمل 
جن ان ای لیے جس اپنی افسانہ نگاری اور اپی تقید گار یکو ایک ووصرے سے 
الک خی ںکرن چاہتا کی کہ دوفوں کے یچ تیہ ادر تحریک دی ایک ہے۔ 

میں نے اپے اس جمومے کا نام ''انسان اور آدبی' رکھا ہے۔ ىبی نام میں اپے 
افسانوں کے جھوسے کا بھی رتھ سکما تھالہ یدنہ جو پھ میں نے اس حتوان وانے 
ممون مج کا ہے وہ اس سے کی سال لہ اپنے افسانے 'ہکٹھلیوں کے وام میں بھی 
کمہ چنکا ہوں میری جذباتی اود ذہنی توجہ کا عور یس بھی ہے۔۔۔ انسان اور آوی کا 
فرق۔ میں نے اپنا یہ مضمو نکی ادلی اجحاع میں پڑ ھکر خایا تھا وہاں ایک صاح بک 
ققحات ری رح بجروں ہوکیں “کی وکلہ میں نے آخر کک خالب کا وہ مشمور مر 
اتال نمی ںکیا: 

آو یکو بھی حصرمیں انہاں ہوتا 

یوں 7 جھے بھی غاب سے انقاق ہے“ گر غال بکی طرحع اس جات پر افضمرںی 
میں عمزاور یہ بوے کے ساتھ مات الب کی مم کی زیت سے میزا خوف بھی 
بڑعتا جانا ہے۔ جب آ دی کو انسان بنا مس رآجانا سے نز و سیت اس طرح بو لے گن 
۔ 

لف برطرف تھا ایک انراز جوں وہ گی 

ہعارے زانے میں ہہ ععریعہ حضس شاعی نی رہ ہم نے بمت سے علخات 
مرطرف ہوتے دیھے ہیں اور یہ بے انی جیشہ انان کے نام پر برتی جاتی ہے“ خرتھ 
لیگ آد کو انسان اتا چاہے ہیں۔ مج بھی ایک طر حکی عفقمت ہوتی ہے۔ لین 
و ددسری عم کے لوکوں پہ ماع ہوں جس آد یکو جانا اہے ہیں اور جا کے 


بعد ہہ پچار اج یں:- 
جتخامیں دک میا ںی ادائیاں رکھیں 
بھلا ہو اکہ رک سب برائاں ویکھیں 
انان ادرآدی۔-۔۔۔ خال ب کی ذخیت اور می رکی زیت می ںکقا قرق 
ے'ا کا گھ "ئ پھ ىر چا ارڈ عقرب کے ارب ے گرڑا ھت راقف -ر 


0 


ہوت۔ اس لے میں نے مغرب کے اوب اور مٹرتی کے اوپ روتیں ے ملق 
مضمای نکو ایک بی مو سے میں رکھا ہے “کیوکلمہ اکر میں تے اروو اورپ کے پارے میں 
کب ی۔کوگی بجھ بوجھ کی با تکی ہے تصرف اسی لن ےکم میں نے مخرب کے لوکوں سے 
چند اتیازات کیہ ہیں۔ چنانچہ میرے دوفوں حم کے مضامین الک الگ خی ِں* 
لہ ایک بی سط کی حطل فکڑیاں ہیں۔ آ ج کل ہمارے لک میں مخرلی ارب کا وک 
کیھ بد ری ما بد اخلاقیکی علامت مھا جاتے لگا ہے۔کیوکمہ ہمارے نقادوں کے خیال 
ماری ندگی اور ماری روات اورپ ے ال الگ ہے سج بالگل یں ےج 
لن آ کل ہمارے درمیان الیک یز شک ے اور وہ روایتوں سے تھی زار گینں 
سے مین اٹم یم سے فنا ہوجانے کا خطرو.۔۔۔ اکر ساری انساحی تکو انٹم 
سے میست و نابود ہونا ہے تو حقیری مضاین بمیں اس موت سے نہیں بچا کتا۔ 
لن فا ہونے سے لہ ہہ نز مج لینا چا ےک آخر انلم یم مارے مروں یں 
گرزیں گے۔ اس س ےکوقی اص فائدہ فے شیں ہہوگا۔ گر بھرجال آد یکی فطرت یھ 
ابی ہے کہ خواہ موت کو ا نہ گے“ مگر اسے بھی ککھنا چاہتا ہے ۔ کم سےکم ہے 
روایت قے رق میں بھی مق ہے۔ اکر اس لاحاصل جت ںکی تسین ضردری سے تے پھر 
بمیں مغرب کے او ب کو جھنا ہی پڑے گا خواہ فرانی مصنفوں کے نام سکتے ہی 
شت لکیوں ت ہوں۔ 

چوکلہ جھے طرح طر حکی پنندییں سے ممعل کیا جازا ہے“ اس لے میں اپنے 
پڑ نے والو ںکو انتا اور ا وینا چاہتا ہو ںکہ نہ تو میس اش د ےکی طرف لا رہا ہوں ۔ 
مر مکی طرفٴ چند بائش دی ھہکریا چن دکمایں پڑ ھکر میرے اندر جو روگمل پیرا ہوا ے 
میں صرف اسے جیا نکر رہا ہوں۔ مہ ردعل دومروں کے لے کماں کک تابل قول 
ہے اس کا خیال رکنا میرے لئے خر ضردری ہے بمہ اکر میں اس کا خیال رکہ کے 
کل کلوں تو میری خیثیت الیک کلت وال ےکی خی رہ ے کچھ اور ہو جا ۓےگی- 





خر عین خرن 


ایت یا نک نظ 


”برا مرار آدی ! ذرا یہ 3چ اکہ ت3 سب سے زیادہمکس سے محبت کر ہے ؟ اہ 
اپ ہے ماں ے ‏ بسن سے ما چھالی سے ؟ 

مرا نہ ذکوگی باپ ہے نہ ماں؟ نہ مین نہ بھاتی۔ 

اپ روستول ے ؟ 

نی تم نے ایا لف استعا لکیا ہے جس کا میں آرج کک مطلب میں تمچوا۔ 

اپنے لک ے ؟ 

بچھے تو ہہ کھی نہیں معلو مکہ وہ ہ ےکس عرض البلد میی۔ 

ووات ے ؟ 

بج اس سے اتی بی نفرت ہے نی میں مرا ے۔ 

میس سے عبت ہے* الو کے ابڑی ٭ 

بج بارلوں سے محبت سے سم ان یاراوں ے ج ھگژر جاتے ہیں سفق 
نکسم ان ھت اگیزیاولں سے! 

اپی عحالیاتی قدر و قجت کے علاوہ پوو سلی کی ہہ نقظم انیسویں اور یسوی دی یا 
تمصع وو رکی سای اور اخلاقی نارں یش ایک دستاوی کی حیثیت رھق ے اور ای 
طرحع ایب اور آر ٹکی تار میں بھی محکن ہےکمہ مہ نم اس دو رکی ہر یک یا ہر 
فنکار پر عادی نہ ہوٴ لکن بھت بڑی حد تک اس میں جمارے ڑہائ ےکی روج بتر ے۔ 
اس ععمد کے انان کی ساری روعائی مابوسیاں 'ئجوریاں* معذوریاں' اس کی ساری 
ضرتیں اور آرزویں اس عم میں وج ہیں۔ ہہ نظم اس کی قلست کی آواز 
ہے مہ زندگی کے اس نظا مکی بھی۔ ان ضفی حناصر کے پسلو یہ پناو اس نشم 


۴ 


میں اضان اکم سےککم فا ری روعالی کارشوں اور موت کے خلاف اس کی چروچیر کا 
نان بھی کا ہے۔ جتنا مھ اور جیسا کہ اشیات مضعی دور کے فنکار سے محکن ہوکتا 
سہے وہ یماں مرجود ہے۔ اگر اسے پودری زندگی میں مل عق ےکم ےکم سی۔ 
برعال وہ آخر تک زندگی کا دان شی چھوڑنا چاہتا۔ عالاککہ اس معخمون میں گے 
پچپلی ایک صدی کے فیکاروں کے تقد نظ کی خامیوں ىی سے بث ہے لیکن ری 
لیم مہیں کرس تاس ا نکی قحلیقات مو تکی عمبردار ہیں یا اخداقی اعتبار سے اخطاعی 
ہیں۔ من کہ آرٹ موت کا اطا نکر ہو۔ اس مج فرد ما قو مکی زندگی سے 
بیزاری ما مو ت کی خوایش جھلکتی ہو۔ لیشن آ رٹ بھی او ری طرح مو تکی حلاش 
میں ہوسا آرٹ بخض زم گی کی تج جو ہے“ ایک سے فززن* ایک نے آی کک 
حلاش ہے۔ ہہ ہوسکتا ہے کہ فن کا رکو یا فواژن بدری طرح حاصل نہ ہو کے ۔ آتز 
اسے بست سی ای چزوں سے مال ہکرنا ڑا سے جھ فردکی طاقت سے باہرہیں۔ لن 
دہ اس نے از نکی سمت اے اشارے نک رس سے جن سے دوصرے تچ وکرتے 
والو ںکو جدد ٹل گے۔ پرآرٹ “مت ور ہوا ےکی کہ جناری کا دک رکرتے کے پاوجوو 
وہ صحت سے مر میں ہوسگتا فن کار کے اندر زندی مربھی کی ہو حب بھی خی 
پار ےکی تحلیق ما تخلیق کا خواب بذات خود تم بازنی کا عم رکتا ہے۔ البت لعض فن 
پارو ںکو مبتا“ زیادہ صحت و رکھا جاسکتا سے اور بت شک وکم چنانچہ اس مچپلی ایک 
صدی کے اوب پر تقی رکرت ہویۓ مرا مطل ب کمیں بھی ہہ خیں ہوگ اک ہے اورپ 
انانیت کے لے ضرد رساں ہے یا حول برست ہے“ جعیاکہ بت سے سای رضاکار 
اک ارت ہیں سے حیس بھی ضردری ہےکہ میرے مفمون میں کسی لفظط کے می 
دوہ نمی ہیں جھ مارکھیوں کے یماں ہوتے ہیں“ کیوکنہ ہہ فوگ لفظوں کو ان کے 
چچھوے سے چھونے اورک سے ہک معنوں میں استعا لکرنے کے عادی ہیں۔ ات 
کی اصطلاعیں اج مادیت آلود ہوقی ہی ںکہ ان سے نے کے زگک الو پچیہو ںکی پزلو 
آتی ہے۔ ابی لے میں نے تو کیونٹوں کا اخبار تک بڑھناپچھوڑ دا ے۔کیوکلہ دوثی 
میں تی مرو والا رسالہ آجا .ا ہے۔ انسانوں کا وک رکرتے ہو ےکم س ےکم ارپ 
اور ای تحقید میں ہیں ایے لفظط اجس جو انسانوں کی زندگی سے بھر پر ہوں“ 
محاشیاتی ما بعد ا لطیعات سے خیں_ 

37 سا تی فعض بحم ایک بقل ہین عم شک فنکار سو از جورتے 


۵ 


ہیں۔۔. صصق دور کے فن کار ے۔ ہہ قن کار اچے ٹل رد فنکاروں سے عرف 
زانے ما ماحول کے اعقیار سے بی الک شی بمہ خی اور بائنل لف روح ل ےکر پیوا 
ہوا ہے۔ یت ماو سی رمع د خم زنی کی تاپائیداری کا اصاس' تللک' رہب ے 
بای تکوگی نی چیزیں خمیں۔ اس یکیورس اور دورے بونانی فلسنوں کا ت وکر بی کیا“ 
ممیاہ یسے کفبرنے اس دن پر لعنت بجی ہے جس دن دہ پیا ہوا تھا اور جبترق نے 
دا کو ہہ عنہ تک دا ہےکہ جیری ہبیممی ںکیا اتی مصفاد منزہ ہی ںکہ بدی اور بے 
انصا یکو دک جک میں تیں_ ت غ و اندوہ کا اظمار یا بغایت اڑسی چچیزیں خمیں جو 
اس سن فنکا رک دوسروں سے مھت کرگھیں۔ یہ دکہ تے انسا نکی زندگی کے ساجتہ کے 
ہوئے ہیں۔ اور دہ بیشہ الن کا رونا رو آیا ہے۔ جماں کک لہ اختقارات یا تام 
زندکی سے بغاوت کا تعلق ہے“ لحض وقت ت نا فنکار سرے ے پاقی ہوںی نیں* 
کیوکنہ ایی مھوں میں لئی اس کے اندر اج تز کر جاقی ہےکہ اس کے لے ایے 
ارارول* اۓے تانوتوں اور ادٰی روایوں کا دجمدعی پاقی خٴمیں رتا جن کے خلاف اے 
بغاوتکرتے کی ضرورت یی آئے۔ خدا کے وجود سے ابا رکرنے کی گر تو ا ے 
جب ہو جب وہ پچلہ اپنے وجود کا تقاکل ہو۔ وہ اپن نے مگردوڈیٹی سے اپنے آ پکو اتا 
بے پہوا بنا سکما ہ ےکہ سادری جس اس کے لئے دعن کا ایک غلاف بن چاے ج یں 
کییں سے بھی بھی چک افھتا ہو.۔ ای اتسان کے لئے بای بست میروو اصطلاح 
ہے۔ ہہ لفط اس کے چچعد محو ںکی تحریف ضرو رکا ہے“ بواری زندگی بر عادی نمیں- 
سے فنکار کا غیادی فرق ہہ ہے کہ وہ ساری عقیی ہیں اور محھیتیں* وہ سمارے اخلاقی 
رت جن سے اب کک فنکار ملین تے اور اگ رکبھی انمیں تحلیف دہ پاتے تھے ت 
ای ں کم سے تتم اچ ایت اعروں وت گے کہ ان کے غلف فظارت ے بغارت 
کریں ان میس روری نز مکریں' ان کا نیا تخل م يکریں ٭ نا فتکار ان سارے 
اخلاقی رشتوں سے یزار ے“ ایگ رو سے ضضِ بللہ سب ے اور اتا ہزار ے٣۔‏ ان 
کی صرف تزمم یا تتجدید سے مین بوجاناکیا صعی ا نکی تخب کک سے علاے نہیں 
رکھنا چاہتا۔ ا ںکی فو یس مہ خواپش ہےةکہ ا نکی طرف سے ہمھھیں بی ھکرنے *اور 
ان سے بالئل بے نیاز ہوجاے۔۔۔۔ ہہ اود بات ہ ےکہ بوری بے میازی نائکن ے * 
کیوکنہ اخلاقی رشن نہ صرف حقیقت کا حصہ ہیں بلمہ خود سب سے بدی خقیقت وں۔ 
سنے فنکا رکی دوسری خحصوصیت یہ ےةکہ دہ حاع کے ایک فرد یا اور بمت سے انساتوں 


0 


کے ورعیان رے دالے ایک انسان کی حقیت سے اپنے محالمات پھر مور جن کر؟ 
لہ اس طبرح یسے دہ خود ایک کانحات ہہ اس وقت دہ دوسروں کے وجو کا خیال جک 
نیس آنے دن چاہتا۔ مہ دہ ہہ سوچنا ضروری تا ےک ال کے رویۓ کا روعروں 
کے روپیے سےکیا تع ہو گا اور آہیں میں ان کا عمل اور رد عم ل جس تم کا ہیں 
اپ محاللات اپ لے اپنے آپ سےکرنے می دہ اپ کو خود عتار سھتا ے* اور 
اپنے سے ماسوا سی گا او کی مم کا وع داری لی کو ار نہیں۔ اسے انا ج خی 
ارادیت منواتے کی عفد نی“ دو کی س ےکوی بات خی موانا چاہتا۔ ہہ لف ہی اس 
کی لت میں خی ایا جانا ہکوئی بات منوات ےکی و اسے جب گر ہو جب وہ ای کے٠‏ 
وتو کو اعحیت دیتا ہو۔ اىی طرح جؾ کا لفط بھی اس کی تزجصانی نمی ںکر کیوکلہ جم 
ایک سیاسی اور اجخائی تصور ہے وہ تو اپنے آ پکو ایک ای دنا میں جس کےکمیادی 
قافون بالئل انگ ہیں اود یہ قانون اپنے طرییق پر ع لکرتے ہیں (یماں میں نے لف 
”اموالات؟* بڑے وسیج محوں میں استمال کیا ہے۔ اس میں خ رو شر سے تضور ے 
ےکر ہوش کی ناماوں سے زنا تک سب ؟ جانا ہے) کی تق ند اشتمال اگیزی 
ياددمائی کے بغی ے خوب معلوم ہےکہ فرد کے متحلق ہہ نظرین یرس قیصر غاد ت7 
میں“ مگ ہاں جاکانی ضرور ہے۔ فرد ایک ععدہ کائحات سی گر مہ کائنات الی ہی 
دو ری کانانیں سے ہرس حراتی رہتقی ہے۔ ہہ نے فنکار بھی اس تساام سے بے خر 
نی ہیں اور ال سے جو چچوگیاں پیدا ہوقی ہیں ان کا علم ان ڈگارو ں کو ضس خرت 
سے ہے اور نہ ع'م جس ٹیڈ یکی شمل اختیا کر ہے وہ مارکس اور ١ت‏ کے 
لیب میس ہییں۔ مہ لوگ ت خر پلربھی جپارے پیفلٹ باز مم کے "دی سے اروگ 
ریلیٹف جیسے ادب کے مصیین کک اگر اس اضا ںکو اپی درگوں میں وس منٹں حر 
جانے وت و خون تھوکتے پھرتے ‏ پارورڈ میں جیٹ ھکر رو ش رکا لق جندارنے میں لت 
پچ خزع ین پیک 

اب گن کہ بوو سلی ھکس کس چزسے حبت می کر سکت۔ہ ایک ق3 وہ قد اک میں 
اھا۔ ین یہاں باد رک کہ مصصق دو رکی مادہ سی عقلیت اور لادٹی سر اس ے 
گی بن کرادیا چو شک ہیں ادد جب و ھکتا ہ کہ میں خدا سے نف تکرح ہوں لت 
اس کا مطلب مریایہ وارانہ رج کے ر١‏ اود نذصب سے سہے جتمیں اس حرج تے 
اپ عفیہ تھ کیج امتما کیا یٹ ھپ سے ات کرلک کات اتا ہی اس سے 


مۓ‌ 


بھی وہ تخضرہے ۔کیوککہ ہہ لک وہ عیب و غریب صر زین سہے جماں ممولی روئٹی کو 
کی کفکھا جانا ہے اور اس کے ایک کڑے کے لے انسان ایک دوسرے کے عق پہ 
آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اسے مہ بھی خی پ کہ مالٴ باپ' بھالی' بن یا روستوں کی محبہت 
کیا نز ہدتی ہے۔کیوککہ سو ںکی محبت نے زنرگی کے سر چشمو ں کو بھی زپریلا ینا دا 
ہے اور وہاں سے اب اسے وہ آب حیات جمیں مل رہا جھ بل کا تھا۔ رولت سے تو 
روہ کیا حی تکرے گا اور پھر بے ابمائی سے عاصل ہوتے وا ی روات ے ؟ ٹن 
حا عکو روٹے نے اس طرح تجکڑا ےکک روپد ہکی ببوس کے علادہ چردوسرا آدرش بے 
صعی بللہ خطریاک نظ رنے لا ہے۔ خصوصا فنکار نز اس حا کی نظروں میں (ا رکیوں 
کی نکروں میں بھی) ایک جیب الفقت وضئی ب نکیا ہے جو محاشری نظام کے لئے ایک 
دی ہے بقل بوو سلیر کے شاع رکسی ایک دن اگر ہہ مطال ہکرے کہ جے اپنے 
اصطل میں رن سے للع دو جین بور وا“ چائیں تے قیرت؟ خضے اور وہشت کے بارے 
لوگوں کا منہ کھلے کا کھلا رہ جائۓ گا۔ لیکن اگ رکوتی بور دا شاعر کے مہاب ما کے تو 
کس یکو بھی تچب میں ہو گا کہ اسے بالکل “موب سی بات مھا جائے گا۔ (یاوش 
چمیر نزقی پپند ت شاع رک دک اکھا جانے سے بھی میں تچجیکییں گے) اور ت3 اور شا ع رک ہاں 
کک اسےکوتے دی ہ ےک یہ ملحون عیبر کوک سےکیوں پیا ہوا (یہ بھی بوو علی ری 
ایک نظم سے ہے) ایک اور نیادی تعلق جن یا محبت کا ہے نان رو کی رجا نے 
فنکار کے لئ بیماں بھی مس کول دا ہے۔ بوو حلیر خواب میں دیکتا ہے کہ انتائی 
گندرے اور پلیر عخفریت نما انمانو ںکی ایل جماعت ا ےگیرے اس کا یراق اڑا ری 
ہے اور ا سکی محبوبہ بھی ان کے گے میں باضمیں ڈانے چپٹی ہوئی ہے۔ اسے چڑانے 
کے لے ان لوکو ںکو چوم رہی سہے اور ان سے اخطا طکر رہی ہے۔ نے فنکار کے 
نی تخلقات کا ایک اور تموتہ ہے ہے کہ بڑے اتظاروں کے بعد آتخر ایک ون 
,کو اتی محبوبہ سک پر نظ رآتی ہے۔ مرا خیال ہ ےکم یہ محبوہہ بمت ہوگی ت 
کسی ہوشل مم ںکھاناکھطاتی ب ھی۔ 0088 خوش خوش اس کے یی لے کیا ہے۔ 
لن وہ ات پٹ عالوں میں ہ ےکہ حبوہہ عڑکر دیق سے اور ص اکر دو نی ای 
کے پا > رکہ دی ہے۔ ایک زانہ تاکہ حش یکو زندگی کا اتل ستمچھا جانا تھا جن 
لاف ر ککی نطروں میں عو رج جانور ہیں جھ اپینے رو ںکو تابد میس لاکر ان کے سا 
سعمیاں بھرقی ہیں اور سیہ سب دہ صرف تین منٹ کے مز ےکی خاطر اسی لئے وہ اپنے 


۸ 


آ پکو مارک یاد تا ہ ےکہ اوروںکی رح دہ اپی جبلی خواہشوں کا لام ب نکر یں 
رہا کہ جیشہ ان کا مقابل ہکیا اور آج ‏ ک کی عورت کے ساتھ ہم آخوش ہوا نہ سی 
کا بوسہ یا-۔ 

خرککہ سے فنکار کا سے عال ہےکہ زجرچہ رنگ تلق پڑ و آزاو اسیں۔ لن ۔ 
3 ای می بلند جب یکو ول ہے نہ قلندر یکو مہہ آزادی اسے رہعالی پالیدگی دیؾ 
ہے۔ پراضنانی تل ادر جراخلاقی رش سے فتکار اپنے آ پکو عیعدہکرتنے پر مور 
بس کی زر پإحاد افزار نے ان بیادی تحلقات کے مظاہر شی سای :اواروں 
کوٹ ما دا ہے۔ اپنے ھاروں طرف ہریز اسے نچی' صدافت اور صن کے 
لاف نظ رآ ہے .۔۔۔ اور بی فنکار کے معبود ہیں۔ ان عالاِ سے اس کی 
یزار کی اتا مہ ہےکہ وہ ان چیڑوں سے اپنے آ پکو ان گکرنے پر مجبور ہے جو اس 
کا ضوع تن ہے جو اس کے خن کا رر میں-سف۔ لئ اناتی اور اغلاقی 
تعلقات گی سح میں ج انزار راج اور معبول ہیں اٹم وہ مان شمیں سکتا اور اتی 
افدار سعاع سے منوات ےکی طاقت خی رکتا ۔ اس لے دہ ہراس کو شی کی نظریں 
سے دنا ہے" ہراس چیزسے ددر بھکتا ہے جس کے مععلقکھا جا ھ کہ ىہ اچی سے 
ا مدکا ہے جحوٹی ہے ما چی ہے ایک اور حیبت ہہ ہ ےک انی اتزار ے عبت 
کرنے کے جاوحد دہ اعا بے جس اور اما سے عخیل می ںکہ ان اقدا کو لاد طور یر 
سب سے فاگی اور اففل مھ اس لے دہکوش کرا ہےکہ جس طرح بن ہے 
اخلقی مستلوں اور اقدار کے ا عھیٹوں سے جان بچاکر گے بھاکیاور ان ےکی چڑے 
یا جھوث“ اچھائی یا برائی سے پارۓے میں عوالول کا جواپ تہ دنا ڑے۔-- ےکوگلہ 
شاید دہ اپ جوابوں سے بھی من نمیں ہو کتا۔ کن ہےةکہ یہ بلک اور بے لی 
ھت سے لوکو کو اخدق انحطاطہ معلوم ہو ہو۔ لیکن اکر ہے قیکاروں میں بھی 
یں یی خود شک کی ہے ےکم کم ایک آد کو اس پر ذرا بھی ارس میں 
ے۔ 


ان فنکاروں کے دوعاتی مصئلے اور ا نکی بیزاری انی مہ رم لم نین اب ایک 
امس فی مل پا ہو ہے۔ اخلاقی معیار چھو ڑن کو چھوڑ دہیے جاک ںکوئی بات 
میں مان کا جد مار کے بفی۔۔۔۔ سے معیار شحوری ہو یا قی رشتوری* اس 
سے بت میں۔ فن پارھے کی قلیق کس بح من ہے ؟ تی پارے کے انڑا اور 


۴ 


کیل کے ورمیان* اور ای طح "ین پارے اور اس سے حتاث ہونے والے "وی کے 
ورمیا نکی نکی طرح کا تعلق "کسی نکی طرح کا رشن قے ہوتا ہی چاے اور ان 
رھتوں کاکوئی معار بھی لازی ہے ہہ معلہ فضیا یقکیا مق حیاتاتی بھی بن کت ے۔ 
لن نی المال فنکار کے نعطہ نظرسے دیھتے ہوے ہم اسے ایک بمت بدا فی مت ہکہیں 
کے۔ ہہ متلہ ییں عل ہواکہ غن برا شن کا نظریہ وجور جس آیا۔ یہاں بھی مس 
بڑے زور و شور سے اس بات سے انثا رکروں گا کہ ہہ نظریہ اخلاقی حیثیت ے 
انحطاط برستانہ ہے۔ مس اوبر دکھا آیا ہو ںکہ ممموٹی اخلاقی نعلقات فڈینکار کے لس 
طرح تاکن ہے تے۔ مہ نظریہ اخداقیات سے کس رکنارہمئی شمیں ہے" بکلہ غفن اور 
فنکار کے لے ایک خی اخلاقیات ڈعوجڑ ےک یکوسشش ہے۔ ہے اغخداقات ناکھل سی* 
اس می خامیاں “مہ الک بات ہے۔ مکی اور صداقت ایے تقصورات ہیں جن کے 
متحلق بج کی جا مق ہے لی اصطاحوں مس بت کانی کامیالی کے ساجھ انی بیان 
کیا چا کا ہےٴ“اس کے علادہ تی اور رات کے معیاروں کے تائم ہوتے میں جارخ 
کو بست ول سے اور ان معیاروں کی مادی شلوں سے ہر آدئ یکو روڑاتہ دوچار ہوتا 
پٹ ہے۔ یہ تقصورات اجخقائی زیادہ ہیں اور ان کا انخ٠صار‏ بڑی حر کک ان کے تلیم 
ہونے پر ہے۔ لین بث و تحیس' اپی بات منوانا یا ددمروں کی یات باناٴ ہے سب 
چزیں نے فیکارو ںکو مل اور بے مع جکمہ شاید غیراخلاقی معلوم ہوتی ہیں۔ اس 
لج اپنے فنی مہ سے مبور ہوکر انی الاقی معلیت کے تمسرے رکن نیشن صن 
کی طرف جانا پڑا جھ تا زیادہ انفراوی تتصور ہے جس کا تحلق عتل کے ہیاۓ اعصالی 
تجربے سے زیادہ سے اور اس لے ا س کی حقیقت کا اعلان زیادہ بن کے ساج کیا چا 
متا ہے پھر اس میں بح ٹکی بھی زیادہ مخیائیش ہیں فیکار کے لے تام وومرے 
اخلاقی تعلقات مردہ ہو گے ہیں۔ حسن دہ آخری جا ہے۔ جس کا سمارا لے بغیراے 
ارہ خنمیں۔ اما“ صن کا بھی ایک لہ معار ہو کلت ہے بے ساری قوم یا ساردی 
حاحع مانقی ہو لان ان فنکارو ںکو ہرز یر جھوئے ہوتے کا شبہ ہوا ہے اس لج وہ 
خود اقزا رکو بی شی ماس“ بللہ اقدا رکی اضاقیت کے زیادہ تقاگل وں۔ اھزا دہ اپٹی 
طرف سے صن کا کوتی تخل معار چٹ می ںکرتے۔ بوو سیر ان یاولوں ے حبت 
رتا سے جوگزر جات ہیں نشنی ان فنکاروں کا صن وہ سن سے جس کی شحل و 
صورت متمین خی یہ جو بدا رجا ہے۔ وو حن ج وکوگی ازٹی و اپری تقصور تمیں* 


جلنہ جو مھاقی نا پر بتی ے۔ 

تاب فن کا آتری معیار غائس جمالمیاتی ہوگیا۔ ایک طرح سے زبان سے تو سے 
فنکار ضرور نے کے رہ ے کہ حمن 'اور صدراقت ایک پچ ہے مین ان لفطوں کی طز 
میں ایک اور اقطراب پایا جات ہے۔ جب بوتانی صن ' صداقت اور گُ یکو ایک ومرت 
جاتے تھے تو وہ حسن کے طادہ باقی دوسرے ارکان پر بھی اتا ہی زور رین تھے۔ جس 
طرح و شی رشتوں (8ا88.۸701 -08۸۸۸) کا تزازن اور ہم آ گی صراقت ہو 
عمق تی ای طرح صدائت کا تقسور یا صداقت کے حول کا مہ با خو و من ہو 
بت تے مجن سے فیکارو ںکو ہہ بے می درہی ہ ےک کسی رح صدات اور تی کے 
تقصورات سے چیا چایا جاۓ اور صن کو ان سے بے از جیا جائۓ“ کیوکنہ اس 
ہوناک سابع میں سے تقصورات خالص اور بے مل رہ بی خیں گ۔ جب ے فکار 
جن اور صداقت کے ایک ہونے کا نرہ لاتے ہیں و ا نکی خوایشل ہہ ہوقی ےکم 
کی طبرح صدات اور می پر خو رکرنے یا ان کے معیار تا مكرت ےک ومہ واری ے 
جانئیں چنانچہ اس نرے کے باوجودکوشش ىہ دی ہےککہ آر ٹکو عمالیاّی طور ےر 
تین ری وانے و شی رشتوں کا جموع بنا دیا جائے “جس مں اخلاق اور خر ایال 
عناص رکوئی ابحیت میں رکھت۔ مطلب سے کہ آر ٹکو ای محردضی حیثیت دی جائۓے 
کہ اس پر اخلاقی معیار عاتد ہی نہ ہو کھیں' بالقل جس طرح ہ مکی پیڑیا ھکر اخلاقی 
انخبار سے میک یا بد خی ں کصہ ھت۔ بکلہ صرف اس کے وجو کو تلی مک لیے ہیں۔ 
خر آرٹ میں تطی اور کی محروضیت نو نضیاتی اور حیاعاتی اعقیار سے من ہی 
شیں* جب گک انسا نکمیادی اعقبار سے بالل برل تہ جاتے یا ف ارہ کے پیٹ سے 
کی طرح پیا ضہ ہونے گے برحال“ ان فنکارو ںکی انفراریت پرس اور وا علیت 
کے ساتھ ساتتھ ان کے یہاں مہ رجخان بھی نظ رآ ہ ےک فن پارے کو زیادہ سے 
زیادہ مع وی چی مایا جائے ج سکی یاد تمالیاتی اور و شی اختبارات ‏ تام ہو اور جو 
تی الوم اخلاقی معیاروں سے زار ہو۔ میارے افص شاعری کا نظری پیٹ یکر 
ہیف ذرلشن کا ہے کیہ شخرمیں سب سے پہ اور سب سے زیادہ مو کی ہوتا 
جاجے۔ اس کے علادہ جھ بیجتھہ سے وہ محض ارب سے۔ مصوری میں تاثژیت 
(0۸۴8۴9501081۸) پا ہوتی سے جو زنک یکو جیقیت موی میں وکنا چاہتق؟ لہ 
ھن ای کفکریزاں نا ہی سے معن ھ جاتی ہے اور اس لئے اس میں منیک ہی 


۲ 


سب یھ ہے۔ ناول میس فلوہی رآر کی خود عتاری اور اسلو پکی فقیت کا نو پان رکرّ 
ہے“ اور آرٹ کو تقیا ایک اسضے رج بکی شل دے دوتا ہے ج راہبوں تی 
تریانیاں ادد ریا نس چاہتا ہے۔ اس کے خددیک موضو عکوی ابعیت نیس رکتاج چپ 
ہے طرز عیان ہے۔ ان لوکوں کے سا ساتھ فطرت ڈگار بھی موجود ہیں جو آرٹ کے 
پرمتار نہیں ہیں گر انان کا مطالعہ اتی حخت محروضیت کے سات ھکرنا چاہے ہیں 
یسے کوتی سائنس دان گے کی میز پ جافوروں کو چا بھاڑا ے۔ ظاہر ےک 
سائنس وان جو باتیں ععلو مکرا ہے دہ اخلاقی معیارو ںکی زو میں میں آجیں۔ چنانچہ 
آرٹ پر ساتنس کی مع دقیت عائ دکرتے ہوئۓ و رحقیقت فطرت ٹگاروں کی کاوشی 
بی شی۔۔۔۔ دوہ خغیرشعوری طور پر بی سیک کی طرح اخلاقی مّلول اور 
اخزاقی فیملوں سے بچا جائۓے۔ خ رک اس دو رکی ساری نظریہ بازی کا اتل یہ ےکم 
فی کار اخلاقی جدوجہد سے تح کک اور اپتی کامیالی سے مالوں ہوکرے چاہ رے ے 
کہ صن ہے تقو رکوئگی اور صراشت کے نضورات سے ان گ کر دیا جاۓ ' کی وگلہ 
ایمانرارانہ فی تلق کا او رکوگی راستہ امیں نظرتمیں ۲٢ ٢‏ تھا۔ نین چو کہ می اور 
صداقت ات اہم نقسورات ہہ ںکہ ان سے یں برانا تحگن خمیں*اس لے وہ اپے 
سچھانے کو یہ بھی کت رہ ےہ سن میں بای تقصورات بھی شائل ہوں۔ کن ہے کہ 
ان تقصورا تکو ایک دوسرے سے ال کر وبا یا ح کو سب سے انل اور خوو عتار 
ھن اھے زانے مں اور اڑی قوم میں فنکاروں کے لے زیادہ نتصان دہ تہ ہو چماں 
اع میں پری جم آہجگی ہو لوگوں کے ولوں میں گی اور صراقت کا نمور صاف ہو 
اور مفبوںلی سے تام ہوٴ ڈنکار کا رشن عوام ے مغبوط ہو اور وہ ان سے برابر تٗ 
زندگی حاص لکنا رجا ہوٴ اپنی قو مکی اقدار اس کے خون مس بی ہوں سے او 
صورت میں صن سے متعل قیکوتی زہتی عقیدہ اس کے ف یکو ننگڑا لوا خییں پنیا کلت 
کیوملہ آر ٹف کی تخلیق بڑی حر کک خی رشعوری فنل سے لکن جب فثار اڑی حا 
میں نہ رہتا ہو “جب جم اگ کیا صعتی ایک مبقہ دوسرے لق سے معروف پیکار ہو“ 
کوتی ایک لہ اور مصدقہ نظام زندگی باقی عہ رہا ہو “جب فنکار کا عوام سے بھی رابطد 
باقی نہ رہا ہو اور وہ صرف اتی روعائی طاقت سے کام لیت پر مجبور ہو“ جب وہ اخالیٰ 
جک سے اکا چا ہو اور اخلاقی فیملوں سے خاتقف ہو۔۔۔۔ ایے زہانے میں صن کی 
خد ختاری اور آر فکی آزادی پر ايمان لاناگویاٴ خی ر گے بر نے جییں مرش بر بی کے 


۲ 


بر انقافل کی ضاحت کے لئ ظا ہے۔ لیکن یمان ہہ ےہ بجھذ کہ فکار سے سب 
خطرے ایک بلندر ت اخلاقیات اور ایک بلند تر صداقت کے گے مول لے رہا ے۔ 
جب بوو علی رکنتا سے کہ ”الزام ویتاٴ عخالق تکرتا اور اتصاف کا مطال ہکرنا تھی۔۔-۔ 
کیاىہ سب برنراقی خمیں سے ؟" تو فن اور فنکا رکی خود عتاری کا اعلان ت ضرو رکر رہا 
ہے گر سب سے زیاو ا اسے بے گکر ہے کہ انینے آ پ کسی نہ کسی طرع مصحن 
اخلاقا تکی آلودگی سے بچائۓ رھے۔ مکن ےک مہ فنکار اس بلند تراغ قیات کا 
کوئی داع نمور نہ رھت ہوں ان انی ہہ خیال ضرور ےکہ موجہ اخلاقیّات ‏ ے 
اگر وہ پچ گل ت شایرکی بلند 7 اخلاقا تکی ایک جحلک دکھھ لیں۔ میں بانتا ہو ںکہ 
ىہ بڑا فی جزبہ ہے 'گگر دودھ کا جلا مچماپچھ بھی پچ وکک پھ و ککر چیا ہے۔ اپے زمانہ 
کے جھوٹ کا یکرت ےکرتے وہ ادروں سے وکیا اپنے آپ سے بھی ڈرنے گے 
ہیں اور ہے بزات خود ایک ہڑا زبردست اخلاقیٰ اصول سے اور یتس پر عح لکرنا پچ 
فنکاروں یکو آتا ے۔ 

اچھا اب تن فنکاروں کا ایک اور ہمان دیھتے۔ اوبہ جس نے جن نظریو ں کی 
طرف اشار ٥کیا‏ ہے ا نکی رو سے ایک یل یافنۃ غن پارہ اتی اثر اگگیزی کے لیاظ 
سے فو ایک مع وضی اور جمالمیاتی زین گیا اور اخ قیات سے اورا بھی ہ وگیا؛ جن 
اب مشکل آ تی ہے موضو عکی۔ موضو عکی مچاۓ خو وکوگی ابھیت ہو یا ت. ہو* جن 
ن پارے تا کوتی موضسوع ت ہونا لازی ے۔۔-۔۔ خصوص] ارب ہیں۔۔۔ اخلاقی راؤں 
ما خیالا تکو خر ال ک کر وہچچتے۔ نج یکم س ےکم جزیات یا صحصوسات سے متلق ہوتے 
می ہم پھراخلاقی معیارو ںکی دنا یں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس گے فن کار خیالات ت7 
الگ رسے جذبات سے بھی بھڑکے گے دہیے بھی وہ ای زا ت کو مکلوک نظروں 
سے دیھنے گے تھے اور سی سوال بے گے تک مہ جذبا تکیا اس تقایل بھی ہ ںکہ 
ائمیں سو سکیا جاے۔ کسی اخلاقی نمور سے لقیرانسان کا دماغ ىا روح کیا حواس 
شس بھی جواب درے جاتے ہیں۔ چنانچہ جیمویں صدی میں واتی ڈکار ے٠‏ جو کر رہ 
ہے (ییس متا ہو ںکہ اس میس دوسری تک عظیم نے ابھی ک ککوکی بست بڑبی یادری 
تیدیٹی خی ںکی ہے اور فنکار کے سنہ ابھی عل نی ہومے ہیں* اس کے جذبات اور 
اصاسمات سب موہ ہو جےگے ہیں۔ ایلی ف کی ان چچار لائوں می اس موت کا اظمار 
اس کے اسیاب اور تارج سب آ جات ہیں :_ 


۲ 


م6 ت٠ ٥6٥0‏ ۱ اقہ٦*‏ '[۷۸۳ - :85100 4م ۲٣/۰‏ 351ا ۱٥3۷۵‏ 
60 8نا الہ م٥‏ جا ۷۲۵ 550:6 اا 
0 8 ا185 ہو ال٥ ۶:٥‏ ہالواد ٢۷٥٢٥٥٭٥٥ا ۱٠۱۵۷٣‏ 
٥5۵۴ 0۰٤‏ ہا" ہل ٤٠١‏ ٥٥ا‏ ۵ا۱١‏ اٌںہط٭ ۲00٥ : ۳٣۸‏ 
ہیں ہو کو تے ٣ء‏ کے بع دکی اگگری:ی شاعری م۴س محسوسا تک بدی قراواتی 

لہ ریل بل ہے “مرا سکی حقیقت بھی ایلیٹف نے میا نکمدی ے :- 
٭85٥ ٦٦‏ ۷۳۷۴۸ ۳۱۵۳۵۲۵۰۸۵ ۰۰ط آ۷ ااہ×تاٴ 
ےہںد8 ١۸ہ٭وصام ٢۸١۹ ہہا٥٥ ۷۸٣‏ 
ان”فنکارو ںکو بذبات کے پالثل شخم ہوجاتے کا خطرہ مات ےے۔ جو جذیات 
باقی بھی ہیں ا نکی قدددتجت کے بارے میں قن کا رکو تک ہے۔ جس طرح وہ 
اورو نکی اقار قو لکرتے سے افا رک رتا ہے۔ اسی طرح اپنے جذیات دو مروں سے 
اوہ ٹھو نے سے گچگپا ا ہے۔ یہاں ک کفکہ وہ اپنے جذبا ت کی ذمہ داری بھی خی لینا 
چاہتا۔ مع وطیت پر جو اتا زور دا گیا ہے اس کی ایک بڑی وجہ نیہ بھی ے۔ یذبات 
سے گی کا ایک وو مرا پہلو یہ ےہ فن کا رکو اتزار کے متحلق اپنے ماحول سے اتا 
اختلاف ہ کہ وہ اپنے آ پ کو اگر ادروں سے برتز ضمیس نو الک ضرور تا ہے' بل 
وش شک کے اپنے آ پ کو علبجدہ اور لف رکنا چابتا ے۔ یہ خواہشل الکی جونائر 
شل اخقیا رکرکی سے کم لا بوو لیر لوگوں کے ساتے مہ ہہ دکوئ یکر ےکلہ مس 
یے ایال ایا لک رکھاتا ہوں۔ فنکار دوسرے تذل اضسانیں سے سی بات میں بھی 
مخابمت میں رکنا چاہتا۔ اگر دوھروں کے اندر جذیات ہیں تق اس کے اندر پالنگلی 
خی ہونے چاہگییں۔ اسے دلہ ماؤ ںکی طرح ان چچزوں سے پالا و پر7 ہونا چاۓ اور 
کی نی سے متائ خی ہونا چایے اور اگر وہ حتاث ہو بھی سے یا اس کے اندر 
جذبات ہیں بھی کم ےکم دوصروں پر اس کا اظمار قطعاً تہ ہوتے پاے۔ ىہ پوو سیر 

کے 0000اکی خاحص صفت ے۔ 

جذیات سے اس گبراہٹ کے دو عل حلاشل کے گئۓے۔ ایک تو بے کہ سنۓ اور 
میم جزیات ڈہونڈڑے جائمیںٴ جنییں آج ج ککی نے عحسوس بی نکیا ہوٴ اور اضمیں 
ےکی شعل مس بی کیا جاۓ الہ نل عوام ان بر اہے سے ملق ہوتے کاشیہ 
خی نہک ریس ۔ ہہ نے ہوا ورلین اور میلارے کا نقطہ نظردوصری طرف یہ کوشش بھی 


ار 


ہوٹ یک کی طرح موضوع اور می بی سے چھفکارہ حاص ل کیا جاے۔ چنانچہ یہ نظریہ 
پی یکیالیاکہ شع رکو بھی مو سیت یکی طرح مناسیات سے آزاد ہونا چاہے۔ موسحتئی میں 
خخلف سری ں کو مض ہونۓ ہمیں ىہ باد خی آناکہ مہ آواز ترکی ہے اور سہ جیری۔ 
یم اممیں صرف آوا زکی حثیت سے سن ہیں اور آوازوں کے سن تیب اور آہگ 
سے محقوط ہوۓ ہیں۔ بی یکیغیت شع میں بھی ہوتی چا ہے۔ شع رو مھت ہوے مازا 
زین معن یکی طرف نہ جائے“ بگہ آواز بی سے ہاری ری ض لی +وجاے۔ اضمانے یا 
نٹ کو صنی سے آزا رکرانے کی کو شش خلوبی رت ےکی اس کے خیال میں وہ اد ہوا 
ہوا جپ پڑا ارپ پوا ہوک تھا۔ ہمارا زانہ انتا بتزل “گنرا اور پربیقت ےکلہ 
سے اس کا یل ہو بی ممیں سکیا نین کہ سے اویب کاموضوغ اس زانے کے 
علادہھکوئی اور زانہ ہو بیئی خمیں سکتا' اس لے اس کے لے صرف مہ مار کار ےک 
اپے فی اور طرز تر کے زور سے اپ موشوع کی گندگی اور پرصورلی وو رکرے* 
ورن ہکم سے کم اے بے اث ینا رے۔ اس صورت میں موضوع کی بزات و وکوئی 
ایت بای خمیس رہی۔ جو سیچھھ ہوا وہ طرز تیر ہوا۔ توکیا یہ خگن خی ں کہ موضورع کے 
بفیر صرف طرز تر ےکی حدد سے ایک تن پارہ تخلیق کیا جاکے؟چنانچہ فلوم رکا اپنے 
جذبات سے ڈر دی کے تائل ہے۔ ایک طرف وہ نام عمری کھتا رپا کہ جو ناو 
می کہ درا ہیں“ ہن بھھ بھی خییں ہے ان میں موس لی کی و کٹی ہے اور ہے 
موضوع بی کما ہے زرا کے اتی ببند کا موضوع مل جا فز پپرواقتی میں ہچ ہکرسکوں 
گا۔ دوسری طرف اسے ہے حمرت رىی کہ وہ ایا ناول کیہ جس کاکوئی موشورع نے ہو“ 
کہ جس سرت رر کرت کنل ع زور ہو۔ خ رگا اخ ور جن سے الک گے جازے 
عاسضے ۳ ہ ےکہ بغی کی مواد کے لوگ تخل قک یکومش شک رہے ہیں۔ 

ہ ہکوششل صرے سے لاتنی ہے توب ازب میں موسحتقی ما مصوری میں پھر 
بی تع بعد سافن نے کن جھالات کے اخور حیددد رانا مان یہہ کیہ 
آوازوں* کگیروں اور رگول کو یھ نہ یھ خود عتارانہ محر دضی حیفیت حاصل ہے۔ 
کیو ںکو اس طرحع تزحیب ویا اسکتا ہےکہ چاسے ان سے کوقی بدا فن پارہ تقکیل نہ 
پاتے من دہ ترحیب بچائے خود ہعاری عخالیاتی تی نکردے اور ہم اس کے پی ری 
اور عم کا سوال نہ بوچھیں' لین لخد اس طرح آزاد اور خود عتار نمیں ہیں جس طرع 
کیریں ما آداڑیںں لفظ خالھص آواز نی ہیں نہ دہ فطری ہیں' بگنہ انسا نکی ایجار یں“ 


ع 


اور ایک خاص متصد کے مائحت ابا سے سے ہیں لفظ ت3 علاخیں ہوں' وہ جارے 
زم ن کو ایک خاص تقمور اور ایک خاص مق کی طرف نے جاتے ہیں_ افتلوں کو 
خالئم بنانے کے لے بمیں ان کے مت رکو نظرانرا زکرتا پڑے گا اور اس کے بجر 
لفطوں اور آوازوں جم ںکوگی اتیاز ىی باقی خی رہ جائۓ گا۔ شی ارب موستقی میں 
مرخم ہوک غاب ہوجائے گا۔ و جماں کک اوب کا تلق ہے' اکر او ب کو اپتی بت 
برقرار دکھنی ہے نو وہ موضصوع اور صتی سے چچھا نہیں چٹرا ککتا۔ صینی کے لیر ارب 
پارہ مح موا رکا ول ہے۔ 

ہہت خی لی طور یر بائکان جی' لین ہہ لے پاگمیاکہ فن پارے میں ال چچز 
اسلوب ىا طرہتنہ کار ہے۔ چنانچہ فن کاروں نے بین تکی برسنش رو عکردی اور اس 
میں اتا لو ہوا کہ ۲۸۱۸۷۸۸۴۷ تے تو تر ہے کمہ وا کہ تن کار کی چروچنر کا 
اتصعن طسن عفا کی عواشل یف طز تن غخاز لن جات تاجن کے بعر اگ وہ اتی 
پارےکی تخلیق یہ بھ یکمرے خب بج یکوتی ہرح شمیں۔ اپ فکار تہ جذیات ڈىویڑتا 
ہے مہ موصضوعات تہ اور سیل“ بلہ صرف ہفحت بی ایک جزسہے مج سکی اسے دعحن 
ہے بوں اگر اس سے بیج تکی تحریف ب تھی جائے نو دہ خالص جمالیای اوصاف جاۓ 
مک و ضتی سن کے لے اجزا اورک لکی جم آہجگی ضردری ہے۔ لکن جب وہ وینت کا 
نام لیت سے تو عہ ععلوم اس سے کیا کیا چچیزیں راد ہوکی ہیں “گویا بیت بورے تن 
پار ےکی اعم قام ہے۔ یت ا س کی اظظروں میں ایک ایا احم اعم بن گئی ہ ےک 
بی مل گیا نے جک کہ سب کم لیا ..۔۔ جذبات بھی“ تطیلات بھی موضوعات بھی 
اور مزا ہ کہ فنکاز ہہ بجی تلیم تی ںکرے کہ وہ ویقت کے تصور میں اۓ عخناصر 
شال ل کر ہے بلمہ جیت کے خالص جالیاتّی نتقسور پر اڑا رس ا اس خالص عمالیاتی 
تو رکی چو وہ اس رت اور صرگری سےک رتا سے جس طرح ابل توف خرا ے 
وصال کی آ رز وکیاکرتے ہیں بلگلہ در یقت جج ت کی جو ایک تم کا تصوف بن گئی 
سے جس میں اصلی نوف کے سارے لللف اور سار ےکرپ موتوو ہیں 

جن نظطریاتقی حیثیت سے خی لہ علی اعتیار سے خو رکریں نکیا وا قتی بویقت کا 
ہہ تقو رکہ ویجت صرف جحالیاقی تین جم بپجیانے وانے و مضی رشتوں کا نام ے> 
کی طرح جحیق ہد بھی سا ہے8 خاص طور پر اوب میں موسحتقی کے ایک ککڑے میں 
تی رآوازو ںکو ترحیب د ےکر ین جیجت چا کی جاعلق ہے۔ لیکن بای سو مض سے 





۲ 


اول میں آوازوں کا بابی رشن ہی رح تائم مین گا اور اییا تق کس طرع وجورمیں 
لیے گا جس میں نشووما کی کیقیت نظ ر آے اور جو شروع سے جز کیک لوط 
کر پیفرض عال ایا ہو بھی گیا اس فن پارے کو آپ اد پ یں گے یا 
مو حتی؟ اب جس ایک بڑی پامندی ہہ ےک مت یکو آپ لفنقوں ے غارع میں 
کرتھتے۔ اس لئے ادب می آ پکو ددم مکی تزحی بہکملی پڑےگی اور وو لنٹ بیاتے 
پائیں کے الیک و لفقو ںکی تزحیب آواز کے فحاظ سے دو سری تحیب می کے اڑا ے 
نوکویا ارب پارے میں دو میستس ہو ںگی۔ ایک مادیٴ دو سری ممنوی۔ جیسا میں نے 
اھ یکما تھا آوازوں کی ترحیب کا سلسلہ پاچ سو سے کک جاری نیں رکھا چاکتا_ 
لن منزری بیت ا کی سمل ہوسکق ہے۔ لنذا ارب پارے میس مجیورا مادی وت کا 
انار معنوی ویت پر ہوگاٴ ان صمی کا تتصور اتزار کے تقمور سے بقیر ہو بی میں 
کھا۔ می کید تحب کے لئے صرف سن اور برصورتی کے معیاروں ے ہام تمیں 
لے گاں اس ین جج اور بدریٴ کچ اور جحھوٹ کے تصورات کا وغل بھی لاڑی ہوگا 2 
جس چنز سے کر بھاگے تے' اس سے پمردو چار ہنا پڑا۔ فنکار چاہے یا نہ چاے* 
اخلا قات کا جوا ا سک یمگردن پر رکھا ضرور رہ گا 

ا کی ایک مزیدار عثال دیگیے۔ ازع یلت مصوروں تے وخ وی ٰکیاک وہ رگو کو 
مناسبات سے انل اسی طرح آزا کرانا چا ہیں۔ جس طرح موستقی میں آوازیں 
آزاد اور خالئص ہیں چناشچہ ہہ اسکول اس حم کی تقسومیں ما ےکہ ایک حر ما 
متتمل بنا لیا۔ اسے چھونے بدوے خانوں میں باخا اد کسی خانے جس رد رنگ بھرویا“ 
کی میں ملا کسی مس سفید* ا کی تفیرو ں کی جائ ےگ یکہ خلا زرد رگ جنت یا 
ناط مج ل کی فمائندگ یکنا ہے“ رخ رگ دوزرغ نا کرب مھ کی وظیرہ وفیرو-_- 
بائل دتی جات ہوٹی سے اڑنے تہ پائۓے ےک گر ار ہم ہوے 
واتتی اطاقات ایا دام خت ہے اور آشیاں کے ات قری بککہ اس سے پالئل عفر 
کن بی نہیں وی تکی سیل کیله اخلاقیات ہیں اور بھی ضروری ہےکہ فطرت میں 
پر بیت کا متصد ہوا ہے۔ ری کی شکل حاحاتی تقانونو ںکی پاہنریاان سے ہم آگ 
ہوتی ہے۔ چنانچ فن ارے مس بھی معنوی بیت بقی کسی اخداقی سور کے کن نہیں_ 
عالاکمہ وکس بے مال یرس اور زندکی سے ددریکی جمت ت لگائی جاتی ہے۔ گر ای 
نے اس یقت کا انقمار بے بے لاگ یی سےکردیا ہے۔ نوکس کا قیکار اسٹون: 





٢ 


آر ٹکو صن کے تصورکی تیل ھا ہے۔ دہ خود بھی آر ٹکی خی قکاچاتا ے 
جن ابھی وہ اں میں کاسیاب خی ہوسکا۔ غالا بھی اس کے پاس صن کاکوئی تصور 
می نمی ہے ناول کے آخر میں اسٹیو نکھتا ےةکہ میں اپتی رو ںکی بٹی مج اتی 
نل کامخیہ رڈھالے جا ربا ہوں جوابھی کک پدا ہی میں ہوا۔ می سب سے لہ اے 
گی اور صداقت کے تو رکی حلاش سے اور اس کی پرو سے حن کا تقصور عاصل 
کرت ےکی امیر ہے۔ صن بھی مخیری سے پیا ہوا ہے اور خحیرسےکنار کش ہ وھکر 
صن کا خواب بھی میں دیکھا جامکتا۔ ایز دا پوت نے فز یماں کک مہ دی ہ ےک ویکت 
آرٹ کے لے سرے سے ضردری ہی شمیں۔ سال کے طور پر اسے ہوم رکے بیہاں 
بی تکی موجودگی سے اثکار ہے۔ نشی ان محنوں میں جو لفظ وینت “کو انیسویں ری 
میں پہنائے ے ہیں۔ 

یت آرٹ کے لے لاڑبی ہجو یا نہ ہوٴ مہرعال خالص جمالیاتی ویت ارب میں 
ال بے معن تی ہے۔ اک ایا عراب ہے جس میں ذرا بھی اصلیت تیں۔ اس کا 
حصول ای قد کن ہے جپشنی پربوں سے مات بج تکی ججونے فلوم کو جس ط 
اکوں نے چیداتے ہیں وہ بھی عیرت اک چیز ہے لکن فنکار میں الیک بات بدی 
دش ہے۔..۔۔۔ تزقی پتندوں اور آرٹ کے دوسرے دشمتوں کے گے وہ ےک 
آپ فنگار ‏ ہکوگی اییااعتزاض مم سکریھت جس سے دہ چس سے واقف نہ ہو۔ ویر 
نے اد با کنا ہےکہ بڑے اویو ںکی عطظمت آرٹ یا رز بیان پہ جنی نہیں بھی بھی 
وو مت بی برا لھے ہیں۔ لیکن اس کے بادجود جکلہ شابید اسی وجہ سے ا نکی عطظرت میں 
کوگی فرق میں آنا۔ لین ہہ سب تل مکرنے کے بعد دہ پھر سی اصرا رکر ہ ےک ہم 
یے ددمرے درہچے کے آومیوں کے لے تو اس کے سوا او رکوتی چارہ کار نی ںک 
آرٹ یا رز میان کا سسارا یں۔ چتامچہ آر ٹکی دھن مس اس تے آپنے آ پک امے 
ایے درد اد رکرب میں جلا کیا کہ عابلا بابلا اٹھا ہے۔ بھی کھتا ہ ےک مہ طرز بیان 
کا حفریت میری جان اور حم دونو ںکوکھلائۓ دے رہا ہے ۔ بھی تج اٹمتا ے ”آریف* 
آرٹ زجر ناک قریبٴ بے نام بھوت' جو نک چچ کک جھیں ببھا:] ے اور تمیں 
جا ی کی طرف لے جانا سے ! * ظوب رخوب جات تھاکہ اس کے اندر ‏ اءائی اور تلق 
کی قوت چداکرنے کے لے جس پچ ری ضرورت ہے دہ طر عیان شمیں بللہ ز نی کے 
ایک تن تقصورٴ اخلاقیات کے ایک سے معیا رکی ہے۔ اپتے ول بن موضوغ کا انار 


۸ 

بی می رکا ہےکمہ اسے ایک نے فظام افذا کی تج تی زندگی کے پیا ہونے کا 
خنظر پڑا جال قزا اور روع پرور جایت ہوا تھا* لن زندگی نے جو راہ اتا رکر لی ے 
اسے کیے قو لکیاجاۓ اور اپنے آ پ کو اس سے کس رع ؟ آینگ مایا جاے۔ 
اس کا ضف وب رساری عمرڈھونڈ ا رہا اد بھی نہ چا سکا۔ اس جم ٢‏ کی ایک ملف 7 
یراس نے ایک سے کے لے 65010 0۸ھ میس دی لی تھی۔ لیکن مل مور 
پا کی درو کو تسین .بھی نہ وی اور جیشہ لیک خی محی تکی حلاش میں را 
من جو توبات می نے اس مفمون کے شروع می جیا نکردی ہیں ا نکی بنا بر اے 
ہی جزات جن بب وگ ی کہ ہے بات تلی مکرثمے۔ اسے جج ھی حق الا قات کی اور وہ 
اپنے آ پکو مبجھانا یہ راکہ جھے آر ٹکی ضردورت ہے بی یکدری ا کی ساری 

روعائی ازیتو کی جڑ ے۔ 
بی عا لی کم و ٹیش اور فنقاروں کا بھی ہے۔ یت کے بردے مس دراصل وہ 
معیت ڈجونڑھ رسے ہیں۔ مع دو دکی زندگی بے شکل اور بے وینت زندگی ے۔ 
اس کے اجزاء اور کل کے درسیان نامیاقی ربا باقی نی دہا۔ زندگی ادر جن چچڑوں > 
زندگی مل ہے ان کاکوئی مقصد مصمین نیس ربا۔ چناچہ ان س ب کی محویت رم 
پڑتی جا ری ہے جب کک زندگی میں مقصر محویتٴ ہم آچگی اور بت بای شی 
فنکا رکا شعوری ور پر ان چیوں کے لے کاوش مم ںکرنی پڑتی تھی۔ جن کرج جب 
چیزیں غاب ہیں ادر فنکار اپنے اندر اتی طاقت خمیں پا کہ سحاح مس اخ وویارہ 
وا یں لا گے فو وۃ لا الہ آر فکی طرف مرا سے اور وہاں ان سب کا شم البدل عاصل 
کرنا چاہتا ہے۔ چھکمہ فن پارے می وہ ہم آچچی اور بیت پیا ہوجاتی سے جو زنرگل 
میں متقصور ہے اسلنے دہ فن پارے کو زندگی سے الک حقیقت مچھتا سے اور زندگی کی 
اقدا رکو آرٹ پر عائتد خی ںکرنا چاہتا۔ چکمہ ماحول اے اقزار کاکوئی معیار' زندگی 
ککوئی متقررہ ساسا ممیا خی ںکرنااس بل ے دہ غن ار ےکی تخییق اور اس کے اجز ای 
تعیب کے اصول جمالیات سے ماگتاہے۔ عثال کے طور پر لہ ناول نکاروں کے لئے 
نی کگکڑگھڑائی فیت مدجودتھی۔ الیک ع کسی عورت سر عاشق ہوبا ہے ان سے 
راسحے میں مشلات آقّی ہیں۔ نی آخ سے مضشلات دور ہوجاتی وں؛ دونوں کی شادی 
بوعاتی ہے اور وہ ڑی خوی عرش رکردسیے ہیں۔ میکن آح کل زندکی کا کوئی ساسا 
موجود می ' ہہ تد کی زندگی ایک خی شکل اخقیا رکرتی ہے یا اورو ںکی طرح بے شک 








1 


رای ہے۔ لہ عولوں مس بیو سے جعاری دٹپی ناول کے خاتے کے سالقہ بی شم 
دجاقی می اور ہم مجھھ لیے تھےھکہ اب اس کے بع کوئی خاص بات تی ہوتی ہیر 
پیر تے باقی زندگی اس رح بس رک ہوگی جس رح اور لوگ بس رکرتے ہیں۔ لین اب 
ناول اور اضمانے اس لمح شح ہہوت ہی ںکہ آخ میں ہیر کو زندگی کاکوتی یا راع 
ر۳ ہے اور دہ اس پہ ہہ لِکھڑا ہوا ہے “نہ بھی نہ ہو حب بیالی و کی زنری میں 
تی پاش ہوقی ری ہیں تاول کے خاتے کے بعد بھی ای بمت سی بای ہوسلق ہیں۔ 
چنائچ اس جو کی وندی میں مخز لکوتی خی بس چلتا ہی چلنا ہے۔ اس کے مق نے 
و کہ ناو لکو آپ جماں چایں ک مکریھت ہیں اور تھاڑیں : تاول کا دومرا اور تر 
حصہ بھی ککھ ھت یں" زندکی آ پکوہہ نہیں جا قک کھاں شرو خعکریں او رکراں خم 
کریں۔ ذندگی آ پک وھکوئی معوی بیت فراہم نمی ںکری۔ اس لئے اپنے فن پارے کی 
خاط رآ پ کو عحالیاتی بیت ہی ڈحونڑ تی ہے جھ اتی خالس شل میں بائکن ے_ 
ادا فنکار جبور ےکم وہ معنوی بینت بھی اچنے آپ ہی حلاش شکرے یماں کر یت 
کی ملاش اخل قیا ت کی حلاش مین جاتی ہے موجورم زاتے کا رٹ صرف زندگی ام 
الیدل ىی جس ہے کم زندگی ادر زند کی مع تکی جج بھی ہے۔ یوں تو یہ بات ہر 
آرٹ کے معفل کی جائق ہے۔ لین ہے آرٹ کے متحق محاص طور پر اور اس 
حثبت سے ہہ آرٹ ایک میم الشان اہحیت رکتا ہے“ کیوکلہ زندی کی حلاش کے 
دو رے زرائَغخ زیادہ کارآھد بابت شی ہوئے ہیں اور انا نکو محیت ڈھوی کر ریۓ 
کا فرلیضہ غن کاروں کے س رآ ڑا ے۔ 

یہ مچھنا بڑی می ہوگ کہ فنکار اس سمارے عل سے بے جررہیے ہیں۔ اپ 
آپ سے لائلی فکار کی مفوں میں سے شھیں۔ ااقیات سے بے نیاز ہوجانے کی 
خوائش ضرور ان کے ول مس موجود حی' لیکن وہ اس سے پیچھا نہیں چا سن جے_ 
در سے لوگو ںکو ایت تع کہ دہ سیاست سے بائکل بے تعلق ہہوکیا ہے۔ اس کے 
حواب میں اس تن ےکھا کہ میری مخییت یہ ہ ےکہ میس ضرذرت سے زیازہ سیاست 
مم الچھا رتا ہوں۔ ای طرح ٢ے۱۸ء‏ میں قران کی قلست کے بیر اس تے کیا تا 
کہ اگکہ لوگ یرب یکاپ 006۸71011 88110۸۴007۸ بیڑھ لے تو می عاد کی 
روفماعہ ہ9 وب رکیامؾ ہے ہارے غن کار ‏ شاید اپی رق سے اف بات اور 
اخلاقات سے بمت مشتول تھے بود سلید نے ان فنکارو ں کی پور یکیقیت ایک بنا 


۲٣ 


یں با نکردی ہے۔ و ہھہکھتا ےک ہ انسان کے خون میس جسورعت اس طرح شال ہے 
یے ‏ تلک کے جراشیم۔ اس سے کوک ی کے پچ سکم ہے۔ غوبیراور نوس کے ہرناول 
سکوکی : ہکوگی اخلاقی تقمور ایا جا سے اور اس ی کی بددلت ان میں فی ہم آ گی اور 
یت کان آ ہے جوکس کے یماں نچ ربھی ہہ اخلاقی تقور ہیں پردہ رہتا ے' لن 
وب ر کے یماں و ناول کی بدری مشوونما بی اس نقور کے زور سے ہولی سے اور ای 
سے ناول مج حکت چدا ہولی ے۔ 

آخر میں ایک نظ رنضیات اور جیت کے تعلق بھی ڈا لے بییں۔ خی نضیات 
ہے وجوو میں آتے سے فن تکارو ںکو ہہ امیر بھی سج یکہ اید اس کی مد سے وہ 
اخلاقیات سے چھفتارا پانھیں۔ خی خی فضیات ہی اخداقیات سے نز آزا دکرسحق ے- 
کیہ اگر ہم انا نکو نضیاتّی مرکبات یا جبلتوں کاکھلون مان لیس تے اچپنے اتعا کی زمہ 
داری اس پ باقی خخشض ری اور جب انان خور حتار خیں رہا ة اخاالی معیاروں کا 
وال بھی پیرا خی ہو لین نضیات اغداقیات کے ساجہ سامہ بی ت کو بھی شتم 
کروی ہے “کیوکلہ مضیات مصضمؾق دو رکی بے شحل زندک یکو اور بھی بے شکل بنا دی 
ہے۔ فضیات کے نزدیک انسان ایک عمل ہے جو موت کے وقت کک بے رکے جاری 
رہتا ہے۔ اس عم لکی بت سی شانھیں یں“ سوچنا“ سو سکرنا وغیرو- چوک نضیات 
اخداقیات سے باورا سے اس لے اس عمل کاکوگی مقصدر بھی میں دوسری بات ب کہ 
اس عمل کا ہر حعہ ووسرے مھوں سے پالل مٹلف اور انوکھا ہے۔ اس لے آپ اع 
مو ںک کی تن ش کی ہل میں بھی تزحیب میں رے بت اس عمل میں کسی تم کا 
پک میں متتا۔ بی عمل آپ کا موصوع ہے“ اب آپ کے موضوع میں نہ 2کوگی 
ئک ہے نہ ا سک یکوگی شحل ہے اور اخل قا تکی درد آپ لین جاچتے خیسں' تو جایے 
کہ اس صورت میں آپ کے فن پارےکو ویج ت کے حاصل ہولق ہے ادب من 
کل امت تو عحکن سی میں ما عحان سے نو صرف اس طر کہ ہیکت اور تزتیب کا 
کوتی نٹان نہ ہو۔ آپ مجیور ہی ںکہ اس مل میں سے ایک گمڑا کائیں جن ے گڑا 
کماں سے شروغ ہو او رکہاں شخم ہو؟ اس میں نہ تے عمالیات آ پکی ددکرحتی ہے نہ 
فضیاتٴ جب آپ ایک خاہس مم سے شرو عکریں ے اور ایک خاص میکمہ ش کریں 
کے تو فورا ایک یکو دوصری چزی 7رت ریۓے کا" اقزار کا اق معیاروں کا عوال 
پرا ہوجاۓ گا۔ آر کیا سعی* زندگی کے کی شیج میں بھی اخلاقیا تکی آمیزش کے 


۲٢ 


یف رخالی نضیات کا رآعد میں ہوگتی۔ اخلاقیات کے اخ رنفسیات کےکوکی مم ہی خمیں 
ہیں جو لوک اس حقیقت بر نظ رخمیں رھت اور اعقیاط سے کام خمیں لیے وہ غیر 
جابراری کے پاوجود مض اخلاقات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عثال کے طور ر نضیات کا 
اہ ر کے گاکہ بوو لیر میں قوت ارادی میں حھی اور ٹور میں مت زیادہ تی کو 
بوو حلیر روپے خمیں کا سکا اور ٹورڈ ت ےگروڑولں روپ پیا گے عالامکہ شاعی کے 
لے جس قوت ارادی کی ضرورت سے اسے یھ شاعرىی کا ول جانتا ےے۔ وتی بات 
سے جیا قرآن خریف میں آیا ےک اگر ہم ا س متا بکو پہاڑ پر ناز لکرتے 3 وہ 
ے کمڑے ہوجاً۔ فورڈ صاحب قز یچ کیا ہیں۔ برعال اگ رکوقی پور وا“ شاعر کے 

کیاب ماگے ز بت سے ماہرین مضیا تکو انکار نہ ہوگا۔ مضعق اخداقات سے پچ بھی 
جائئیں ت3 بھی کسی نہ سی اخل قیات کا سمارا لے بغی رکام میں بجتا۔ 510886۸101878 
نہ ےکوش ش کی کہ خمالعصس تضیاقی آرٹ بجی کیا جاۓ جو پالقل غی رشعوری ہو اور 
اخلاقیات کا پابند نہ ہو۔ لگن اپتی تحلیقات مس می پداکرنے کے لے اخمیں بھی 
پا یی طورت دید 

خ رککہ بعالیات ہو یا نات “کوتی چنزفن کا رکو اخلاقی ذمہ داری سے آزاو خضمیں 
کرحق۔ اس کا کام ح ن کی خلیق ضرور سے گر نی اور صدراقت سے قبع تلق 
کر کے وہ ص نکو بھی خی پاسکا۔ یقت کا افسان ہگ کے فن کاروں نے اغلاقیات سے 
پیل پگ ےکی نے پیر یکوششی ںکیں می نوم کعام کے انی پھروتوں آنا پڑا ہمان 
لت زا پوس 

اس مخمون میس میں نے اس ائے کے قفن کاروں کے ایک رجخان کا وک رگیا 
ہے اور صرف یہ جایا ےہ وہ اخ قیات سےکنارہ شی اخقیا رکرت ےک یکوسشش میں 
اکامیاب رہے۔ ہہ رجمان نظیاّی زیادہ سے ع لٹ یکم اشمیں ف ن کارو ں کی حلیقات مس 
زا ےکی اخلاقی عالت کا جیسا تجزیہ اور خی اخ قیات کے تا مکی جیی شدید خاش 
ملق سے وہ ساست یا فف یا اور شعبوں میں نظرنمیں آتی۔ اگر وہ اخلاقی راکیں یا 
خیالات ظاہ رکرتے ہوتۓ گمراتے ہیں تو یہ بھی ان کی امانداری اور صداقت یق 
ہے ورنہ چقبری کا دعوکی کے اقیر اور اتی بے پچارگی کے اختزاف کے اوجورٴ انہوں 
نے اپنے زانے کے ضا گومیوں کی زعدگی کو اس طرح بدا سے جو ایک خلبم 
انلا بکی حشثیت رکھتا ہے بی یکیاکم ہ ےکک اتموں نے ایک سے کے لئے بھی ریا 


۲ً 


کاری میں برتی اور اپے متعلق کبھی جھوٹث میں بولا۔ بدو حل کی اس الیک لائن 
سمیرے زا کار پڑت واسے میرے بھاتی؟ میرے چم شحل* اس ایک لائی میں جو 
الاب اگ الا جچمان ھج۔ ان سۓ ہے پڑے اخلاقی معلم خالی ہیں۔ اس 
لی ایک صدی مس شن کاروں تے جو باج ھکیا ہے دہ ادب اور قرع کے لُۓ یاعث عار 
میں بللہ ا نکی ححلیقات نے آر ٹکو سای قوت اور ایحی تک ایک خیگواہی چٹ 
کی ے۔ ن کارتن دھاا ہ ےکم اوروں کو روپے ے خممروں سے یا کین 
آدرشوں کے لایج سے خزیدرا جاسکتا ہے “گر قن کار جب کک دہ شن کار ہے زی و 
قروشت سے بالا تر ہے کی کہ اس کے لے سب بڑی حقیقت اس کے اخصاب میں 
اور اخصاب جھوٹ میں بولا کرت اسی لے خن براے شن کا نہر ایک اخلاقی حقیقت 
ہے اور اخلاقیات کا مد و معاون ہے۔ ج بکولی سیاسی ىا اخلاقی عاد روٹما ”پا ہے ت3 
میں بڑے رع کے ساتھ کھت ہوں ناش لوگ بوو علیر ب جت!" 


انان اور آری 


اس مفمون کے بارے میں ایک اہم بات ہہ ہ ےکہ اس پ ہکئی ہت صرف ہوئۓے 
ہیں۔ میوقت میں نے کھت میں میں _ایا سوچتے میں بھی میں اکر جھ میں سی 
نظراتی موضضوع پر اچتی ور صسلسل اور متواتر سوچ ےکی صلاحیت بوتی ت بھی ہے امم 
صفلوک رہتاکہ اس مکی صلاحیت کسی افسانہ نگار کے لے موزوں بھی ہے یا خھیں_۔ 
انشابردازی اور غور و گکر بڑی مرجحو بن چچزریں ہیں۔ گرم ایا عو ٰکروں بھی 2 
مرا مفمون اسے جھلا دے گا۔ مس تو یس کاغز سان ر بے اور لم پامہ میں لے 
اوگتا را ہوں۔ گر جفتوں میرے سے تے واقدار ہونا منطور خی ںکیا۔ ا س کی ایک 
وجہ غالیا یہ بھی ہوکق ہ ےکہ موضوع میری رسس سے باہر تھا مر میرے ااسات 
میری سس سے باہرخمیں تھے .ہہ 3 ہوسکتا ہےکہ عیر یکم علی سکع بینی* 
خوپتری اور زکٹی شحو تکی وجہ سے میرے اصاممات روغ می سے اط راحتوں پھ 
ینک سے ہوں“عرہہ اصاسات جیسے بھی ہوں میں ان سے بے واب طور پر واقف 
تھا۔ جھے معلوم تھاکہ میں انسانٴ اور آدیٴ ان دو مموئی اور عام استمال کے مطالق 
قریب قریب ہم مت الفاظط میں ایک خاص فرق محسو کرت ہوں۔ جھے ان میں ے 
ایک لفظ اور اس کے متحلقات و مناسبات ند ہیںٴ اور دوصرے کے ناپند۔ جب 
اصاسات اسے غمی ر حم ہوں ت ےکم س ےکم عام عالات میں تلم بڑی تیزی ے چلنا 
جاہتے۔ 

شاید میرا فلم اس وجہ سے رک رہ تھاکہ میں جی اضاسالت کا انما رکرنا چاہتا 
نہوں وہ فیشن کے خلاف ہیں اور فیشن کے خا فکوئی مرک تکرتے ہوتے دی طرور 
چنا ہے“ خصوصا خیالات سے معالے میں شایر جے کھر ہہ یک اگمر میرے 


۲۲ 


اضاسات فیشن کے خاف ہوں ت ےکم س ےکم میں اشمیں خیالات کا رحہ ق3 دے ہی دوں 
اور اخییں علمی احتد لال کی شحل میں پیش یکروں باکہ اس ا راف کا تھو ڑا بست جواز ت 
پا ہوجاتے۔ اس طر تن کار کے حاسن ق بمت سے ہیں “گر اسے ایا رکرنا میرے 
کے من مییں۔ نہ تو میں ان دوتیں افطوں کے نیاوی لعوی سعتوں پر بج ٹک رگا 
ہوں؟ نہ مج الا قیاتٴ نہب اور مابعد ا مطییعا تکی تارںق یا ان علوم سے تلق رک 
وائے تقصورا تکی تررجی نشوونما کا کیج عم ہے۔ نے دے کے جھھ یھ 7ا سے تو 
ارب کے بارے میں.۔ اس سے میں بھی کلایی ادوار سے میری واقیت اڑی خی ںک 
می ای راۓ پر اع دکرسکوں ياکسی او رکی را پڑھوں ے اس کے خلط یا کیج ہہوتے 
کے متحلق کو ی تی فی ہکروں۔ تھوڑی سی سی سنائی با میں ارود اوب کے 
بارے مس جات ہوں۔ پاچ چھ شاعروں اور مصفقوں کے کلام سے مشِں براہ راست 
واقف ہہوں۔ اس کے بعد میری حاساتی تی الہ انگتتان اور فرانس ان وو مکوں کے 
ارب کک محعددد ہے۔ یماں بھی مس ضبتا کچل ڈیڑھ سوسال کے ادوپ سے زیادہ بات 
ہوں۔ جھے سب سے زیادہ شخوید تہ ای ددر کے اؤوپ کا ہے عالائہ جس طرح 
اپ میرے بے جم آیا سے اس کے ل'ۓ لفظ شدیر ذرا مبالفہ آمیرے-۔ میں اس 
ایب سے واثفیت بدہاتے کی اپتی سی کوششیں کر رہا ہوں “بھی مگرم جوںی کے 
سا بھی بے دلی کے سا“ بھی صحض خانہ پر ی کے گے برعال چھے خیال یہ دبا 
ہےکہ اس او پک کی دوسرے کے احاسصات یا خیالات کی یراغلت کے ایر براہ 
رامت سو ںکروں۔ ا یکوشش میس شجھے ایک بری عادت مہ ب گنی ہ ےک مج اپنے 
ادلی رو ںکو اپنے اور شمم کے ہریوں سے زیادہ الس او رگراں قزر گنن آگا ہوں* 
اور زندگی کے معلق ج وھ سوچتا یا محو سکرتاہوں اس میں ان اد تزیات کا پان 
ضرور ہوا ہے۔ چ کہ میرے ہہ گزیات انسائی رشتوں سے بھی زیادہ اکم ےکم ان 
کے یراب ٹھوس ہیںٴ اس لئے مہ ادلی جات جھے ایک بھی جس کا کام رین ہیں یا 
یوں کت کہ اک عزید جبلت من کے رہ سے ہیں۔ اکر جس کمہ دو ں کہ میرے ادلی 
گزیات می قویت ارادی ہیں فو ہہ مبالشہ نے ضرور ہوا “مر صرف اس تم کیاجس کے 
بضی کوک یکر ی یقت بیان خی ںکی چائق_ 

انی جیا تکی عدد سے ججھے چع چلا ہے کہ انسان اور آدبی مج بمت بدا قرق 
ہے۔ ای ذریے سے تھے ہہ نمی اندازہ ہوا ہےکہ اگر لوگوں تے جلدی ہی ہے فرق 





۲ 


داع طور سے تہ تھا قے اضسانی تزیب مامستتیل صمدییں کے لئ مم ہے۔ ہے میرے 
حضوسات ہیں “لی ولاکل تی ہیں اور جہ میں اشمیں ہے شقل وے کت ہوں“ اڑا 
اکر میرے متمون میں جا یا اعتدلا کی لہ ادعا“ناژ نکی پل تحصب“ لہ قر اور 
ہٹ دعری نظ رآے تر جے معذدر کت ہہ سب واس عسوسا تک نشایاں وں۔ 
میرے ادلی قجیات ای چچڑریں ہیں جھ ایک دقعہ ہو کے ہوہچھیں۔ ماحض یکو قیت اراری 
کو (یہ دونوں لفظ ض عالات میں چم مع ہوتے ہیں) بدلنا میرے یں کی بات تیں- 

اپ حسوسا کو میں علی استدلدل ت نی بناسکا مر ایک عام آدی کی طرح 
جھے ہہ ملمون اکن ہس جدٴ پاٹ وی ری سے اس کا نقاضا ہےکہ اور نہیں حم 
سے کم ایک اود آوی کے محسوسات بی کو اپناگواہ با یں۔ اس ام کے لئ بے 
این کے فی اور شاعراونا مونھ سے بت کون آدی سے گا جنییں اتی پروفسری کا بھی 
اط نہ آیا ادر بڑی ڈعٹاتی سے قول لیاکہ یجھے مرنے سے ڈر گنا ہے۔ زندگی کے 
متحلق انموں نے جھ یھ سوچا مھا تھا جب وہ اسے ایک فس کی ہل ہیں مرج 
کرنے یھ ت2 انیس سب سے پل ایک جاب بائل نال لکھنا پدا۔ عحض ہہ چانے کے 
بل ےکم جو فلقہ انسان' کے بارے مج و وہ آوی؛ کے کام میں کا ان روتوں 
کے فرق کا انئیں ایا شدید اصاں ہہ ےکہ اس جاب مس بھی بی بات بب یکی ہے کہ 
میرے فیک انسانٴ اورٴ اناضیتٴ بڑی مشتہ چچڑیں ہیں۔ 

ایک نھم مسذب ک کک بماندہ بوخدری کے پروفسرکی شمادت پچھ زیادہ تایل 
اقیار ند شیں ہوٹی چا “گر ایک ایسا آدبی جھکم ےکم برانے علوم سے ابی رع 
واقف ہو اور ایک ند روں بھی رکتا ہوٴ اس اعزام کا سجن سے ہی کہ اگر وہ 
می تی چکے بارے مس شی اہ رکرے و ہم سے وھ لی کہ آخر اے سے ضرورت 
کیوں یش آئی- 

بت شماو تگزارنے کے بعد اب میں قررے اظمینان کے ساجتھ چنا سکیا ہو ں کل 
میرے زین میں ان وونوں لفطوں کا مفسو ح کیا ہے۔ آ دی ت دہ ہے جس کی مادی 
ضردریات بھی ہیں اور خی ربادی بھی ہن وکھانا ہے' چیا ہے سوا ہے اکنا سے“ جضی 
خاش مو یں کر ہےے۔ جن سکی بجض خیہاری اقرار ان مادی ٹروروں گی نان یں 
اور مادی ضرورجیں بت خیرمادی اقذار کی پابندی تقو لکرتے پر جور وں 'ہو قاریق 
حول کو حتاث بھ یکرنا ہے اور اس سے ستاث بھی ہوا ہے۔ اور جس نے سائقہ ہی 


۲ 


ساھ انی اتزارٴ ای ےگزشنت تریات“ اپ تتقل اور تقبل کے ذرہیجے اپ گرد ایک 
خی رمرتی ماحول بھی پیر اکر لیا سے جو اس کے لے ات ىی ابمیت رکتا ے عتنا جاوروں 
کے گے فطری ماحول۔ ان پانں کے علادہ آدی وہ سے جو آظرت اور حبت' رتم دی اور 
بے ربی س بکی صلاحیت رکتا سے“ جو علوی اور سفلی روتوں تم کے زیت موس 
کرسکتا ہے اونا موفو کے تزدیک آُدٹ یکی سب سے بڑی بجچان ہہ ہ ےکم دہ م رجا سے 
میرے زدیک زندگی میں اس کی سب سے بد بچان ہے ےکم دہ یک وقت پالگل 
متضاد اور تنا تحص رہہقانا تکی رزم ماہ بنا رہتا ہے۔ اس کے اقعال و ا حمال کے ملق 
می در سے کوقی بی کوتی خی ںکی جاسحق ۔ہکیوکلہ ہم مہ پنۃ میں چلا کت کہ اس کے 
ان رکس وق تکو نکون سے متضاد جز بے کا مکر رسے ہیں۔ آدئی وہ ہے جو تارق کی 
ایچرا سے ےک زیچ انف ایگ مہ ما ۲٢۷‏ ہے“ اور جب کک وہ بد للکر اھ اور نۓ 
ین جاے بیشہ متلہ متا رہے گا۔ آد یکو میکع نہک یکوسشش دو حم کے لو گکرتے ہیں۔ 
ایک عمران اور ددسرے فیکار۔ ىہ دونوں کت کے ا نک الک طرییقے استعا لکرتے 
ہیں۔ ان دو قموں کے علادہ ایک تمسری عم بچنمبرو ںکی بھی ہے ....... خقبروں میس 
حرا نکی نظ ربھی ہوتی ہے اور فنکا رکی بھی ان کے اندر تہ تذ مراتول کا سا افادہت 
پہستانہ مجن ہوا سے شہ فنکاروں کا سا حقیقت برستانہ فتلک' ان کی شخصیت ان 
دوٹوں سے کییں زیادہ نواؤن ہوقی ہے۔ گر اس مضمون میں ہم پقبروں کے ملق 
خحور خمی ںکریں ھے۔ انساحی ت کی پری تار ش ععدودے چتر كَق رہوۓ ہیں* اور 
یہاں ہم عام آدمیوں کے حقعدہ نظر سے سوچ رہے ہیں۔ پھر قرو ں کی خصی ت کو 
ھن کے لے خی ر موی مصیرت درکار ہے جس کا می وعویی می ںکرککتا۔ اس لئے 
بحم صرف لہ دوفو ں مگروہوں کی خصوصیات جا تن کی کوشش کریں مے _ جھراتوں 
سے میری عراد صرف بادشاہ یا آمرخیس ہیں بللہ جمموری رجتھا ‏ سای مصسوین* اجخائی 
زندی کے معحلق سوپنے وانے فستی* ان س بکو میں نے حم راتوں میں ششائ لکیا ے۔ 
بی دہ ام لوگ جھ جاتے ہی ں کہ آدی ایک اص ی2 سے زندگی ا کریں۔ جب 
ہہ لوگ کدمیو کو کجھنا جماہجے ہیں تذ ان کے ساتے ایک فاص مقر ہو ہے۔ ان 
کی تحتیش ایک حخصوص اور داسع افادیت پر جنی ہوقی ہے۔ اس کے برخلاف ڈیکار 
جب آودمیو ںکو جک ےک یکومص شک را ہے نے اس کاکوئی واتجع مقصدر میں ہوہ۔ عھران 
3 آرمیو ں کو غام مواد ھت ہیں۔ فکار کے لے آدی بی بتاقی اور مل چز ہوتے 


٤غ‎ 


ژیں۔ ران آو کی شخصیت میں سے چند چڑوں کا اتا بکرم سے اور اپ افادی 
محمد کے یش نطرچھ چیزو ںکو ردکرسلما ہے۔ فنکار کے لے اس عم کے انقاب کی 
کوئی گفیائیشی خھیں۔ فیکا رو یں ین ھدکرن کی اجازت تیں_ 

یہاں ایک ذرا سی حیہ۔ مضروری معلوم ہوتی ہے عھران اور فکا رکی صا یں 
ای یں خمیس جو جیشہ ایک ددسرے سے الگ اور بے واعطہ رہتی ہوں۔ مرا نکی 
عنصیت میں تھوڑا بہت حضرفیکار کا بھی ہوسکتا ہے“ اور اسی لح فنکار یں عمران 

ابھی مج سکہ چکا ہو ںکہ جب فنکار آدمیو ںکی طرف تج ہکرت ہے اس کاکوئی 
ایا انادی متقصد نمی وت جس سے فوری متا کی امیر ہو ٴ اس لۓ اس تخلیق میں 
آدبی یشہ آری رتا ے۔ے فکارکی مجیوری ہے۔ آدی اور ران کے ورمیان مقر 
حاصل ہوجاجا ہے اس لے مرا نک انان ایا کرتا پت ے۔ ہے مرا نکی ضرورت 
ہے۔ انسا نکوشت بوست کے بے جاگتے آدی کا نام شمیں ہے۔ ہے صرف آدی کا 
سابیہ ہے ایک مطلق و بجر تقمور سے جو حخلف جمرانوں کے ساتت پرلتا جات سے اور 
ج سکی مغات تعمرانوںکی ضرورجیں مصحی نکرتی ہیں۔ انسان' عمرانو ںکی اس رت 
جاک خواپیش کا نام ہ ےک اگہ آودی اس عم کا ہو نو ہیں ا سکی خظیم و ترحیب میں 
بی آسانی رہق 

اوناموٹو سل اق م6 کے انسا ن گنو ہے ہیں*> شل ارسلو کا بے پرول والا دو نے“ 
پاچ راسکول کا محاشی انسانٴ اینوس کا عقل رکے والا انانٴ روسو کا مجاشری عرر 
ناے ولا انہان- 

ان محللف تقصورات میں خلف ش مکی خامیاں ہو ںگی مگ رج نو اس وقت روسو 
کے انسان سے بحٹث ہے جو راع الوقت کہ ہے انسان کا ہے تقصور ایا ول ہوپکا 
ہ ےکہ جھ لوگ روس کا نراقی اڑاتے ہیں ان کے یماں بھی ہہ تصو رکسی نہ کی حول 
میں تووار موی چا روس کے انسان کا خانہ پٹ لکرتنے سے پل ذرای ھرجخ 
لاڑٹی ہے۔ برلشن عری صاحب نے ایک عکمہ دی خلگی کا اما رکیا ہ ےک لوگ روس کو 
اہ اہ بدتا مکرتے ہیں۔ ا سکی معحض جزرو ںکو بالتل نظراندا زکرکے ووسرے تم 
کے اققاسمات بی کرتے ہیں جن سے ا سکی تحلیصات سخ ہوجاتی ہیں۔ میں رشن 
ہری صاحب کے وگوو لکو لاا خی چاہتا گر اس کے یاوتور روس وکو یرنا مکرنا چاہتا 


٣ 


ہوں۔ محکن ہے روسو نے اپچنے نظریوں میں خود اصلا حکر ہو اور بیثیت مجھوی اس 
کے خیالات مس وازن اور اخترال پیدا ہوگیا ہو ۔ گر روس کی اصل اور غالص قلِںات 
سے ہہیں اج خرض خی ہے چشتی اس بات سےککہ اس کے نظرریے ارک اور مقبول 
کس شعل میں ہوے ہمارے گے اصل روس اتتا اہم خی ہے تنا دہ روسو جو چٹر 
رعقاعات کی علامت بی نکیا ہے ادر جس نے ایک اضانوی شل اتتیا ری ہے 
بحض وقیہ ارینی جیقیں اضسانی معاللات پر اتا اث نمیں ڈالتیں جتتا تاریی اضمانے۔ 
چنانچہ ڈیں اس وقت انسان کے اس تقصور سے بجنٹث ہے جو سخ رہ صورت بی ہیں 
سی گر بسرعال روس سے اخ ندکیاگیا ہےٴ اور سے انسویں صدی کے مفرلی ارپ نے 
اس زور شور سے پھیلایا ہےکہ دہ مارے زہائے کا ایک بیادی اور لوگو ںکی جذباقی 
نی کا لازی حص ی نیگیاے_ 

سہ انسان ایک مصقا و مضزہ او محصوم سی ہے ج سک زہنی اور جذباتی ملا یں 
لاحیدود ہیں جو اصل میں ت3 خ رکا مہ ہے لین بھی مگڑتا ہے ماحول اور غاری 
عالات کے ا سے کاتنات ماس سے اوپ رکوئی طاقت خی سے“ اور وہ پیدا تی اس 
لے ہوا ہےةکہ ہر مکی رکاوٹوں پر تاب پا ما چلا جائے اور اتی فوعات کا وا پوعا٥ّ‏ 
رے۔ ال کے اراروں پ'اس کی خراہشاتی ب کی پامیاں سی ہیں؟ سراۓ ان 
پاہندیوں کے جو وہ خود اپنے اوپ عائ دکرنا چاہے ( روی اشزاکیت ہہ جؾ قر وکو تمیں 
دیق بنہ افماد کے مجموعہ مین عوا مکو دب ہے۔ عوام اقتزار اع کے اتک ہیں۔ ان 
کی قوت اداد یکی جیددئی قو تک پابن شیں* صرف اتی عرضی کے الع ہے ) چھران 
عفات سے متصف سے انسان ارظا پڑھے ہے“ ابی اندردق زندگی کی حم د تمدی ن کا 
شر کے بی ردہ تز کرجا را ہے اس تزق می جو غارگی چیزیں عائل وں جب وہ 
ددر ٭ جاگی ںگ 3 انان بل ہوجاۓ گا۔ 

اننان کا ہہ تقصور مارے زیات ےکی گی ساست مج نہ می اکٹرو بیشتزیاسی 
یں مم ںکم و بی ضرور متا ہے اور عض ارلی علتوں میں بھی جنوں نے ساسی 
نوں کے فریب مس آکے چچلہ ڈبیھ سو سال کی اد ارح سے بھہ میں سیا 
مارے زانے کے سیاسی نرہ ساز ہی نی بلہ بھت سے ادیب بھی بھی مات ہو ں کہ 
ای ائن اعم اکا اثماع موجو شی ہے و ای باج لکوو رصن یکر ے سپ کے 
کم ھا ضر رکیا جاکما ہے۔ اس امی کا نام ما انان ہے۔ انان کے اس قو ری 











.لاف 


یی خ کاب ہمارے وا ایپ ممروپ کے سکالرزک طلب پہ 

اٹ یس بی لک یکئی ہے۔ مصنفکتاب کے لیے یک خواہشات 

کے ساجسافٹ بنانے والوں کے جن میں دعائۓ نی کی اتد عاے۔ 
ز رف فی ٹمس" ککرو سس بح حتانہ مسمیں بی پواکرد کے 


روپ کی ملاظ تو : 
×جسل-11447964257209535(79۴/+ دہ :۵د ظ۷۸۷/):فجلاج 





میرظہیرعباس روستمانی 


: 068 : 
الگا‎  ے‎  ےے‎  _“: 





























۹ 

داش کا ہہ عالم ہ ےکک جن لوکو ںکی پدری زندگی ہی اوب خی وہ کک اشزای رویں 
کے وجود میں آنے کے بعد ہہ کھت تےکہ اب میا انان ضرور پرا ہوگا۔ چتان ۷م 
یس جب لی تزقی پنز کانفشن ہوقی و آنورے نافرو نے روی تا رو ے سب 
سے پل بی سوا لکیاکہ روس میں یا انسان پیرا ہوچکا ہے ہم اس کا چترہ دیک کو بے 
چچین ہیںٴ “یں سے اضا نکی نو دکھا یے۔۔ جب نے انسان نے تفاضول کے پاوتو 
رابنا فوٹو نہ جھجا 2 آندرے شید جیسے پر عقیرت اویب اس کی زیارت کے لے یل 
کھڑے ہوتے گر روس کی کر پت چل کہ ماحو لکی تبد یی کے باوجود اسان ولا کا وییا 
ہی ہے جنسا بیشہ تھا۔ البت پگھ خور پثر ہوگیا ے_ اس کا جو ہے ہوا کہ بڑے اریوں 
میس روس کے ججقن داع تے وہ ایک ای کبرہے ہچچیننے گے سب سے لہ آنورے 

ید عرب ہہوہے ‏ پچھ رآررے مالروٴ پچ رکٹی ‏ چھرسلونے خرضیکہ سب وا دے گ- 
چھ سیق ان لوکوں تے خارتی رثا سے برح ن ہوتے کے بعد یا وہ ارپ سے 
بھی حاصل ہوسکتا تھا.. جن شماعروں نے فطری انان کے تصو رکی اشاعت میں حصہ لیا 
سے خود اخمی ں کی اعری اتی ےکم ہہ تقو رکی اک وکھطا ہے۔ فطری انان کی سب 
سے لی خوابش یہ ہو تی ہے کہ میربی مسرت مازوال اور ااحیرود ہو "گر ان خشاعرو ںکو 
چھ چھ مین کے ابدر تی پند پچ لگمیاکہ ہہ خوانش تی بے مصعمق ہے“ اور آدی کے 
نفاطیہ لے کیے مفضراور ناپاندار ہوتے ہیں۔ فطری انا نکو ایک اور گن ہے ہوتی 
س ےکم میں نوری کاتنات پ مھا جاؤں۔ تے اس خوش عضی کا وور ہونا بھ یکوگی مشکلں 
بات نمیں زندگیکی پچھوٹی چھوٹی حرومیاں آدی کا مزاح درس ت مدق ہیں۔ وہ قوش 
جھ کائنات پر لامححدود فوحعات کے عزائم نےکر اتی ہیں اور اس ٹین کے ساج ھک 
سماری کائتات میں انسان سے اوبر ما اس کے مقال ےک یکوکی طاقت سے می نمی خر 
میں بھی دس پاچ سال سانے خوایوں کے مزے نے لیت وہچئے۔ ہہ وققہ قوموں کے 
لئے مضہ بھرکے باب ہہو پا ہے۔ سو پچیاس سا لگزریں کے تو اپینے آپ حقیق تکھل 
جائۓ گی ای طرح انسان کے ہ رم کی پاترنوں سے آزار ہوتے کا سوال ے۔ 
انان کے عمل پر ایک چچھوٹی سی پابنری تق بی ہ ےہ ا سکی سان طاقت بت رود 
ہے اور اس طاقت سے بھی وہ تی بھر کے کام میں نے یکسا۔ ایک اص ع رکو نے 
ہے بع زور ہوتا شروع موجاتا سے اور بالاخر رانا ہے۔ او ریہ خمیں تو کم س ےکم 
بی یز انان کے عمل اور یل دونوں پ پامندی عائ دکمەق ے۔ اگر اضان اپے 


۴ 


جنی کر آزاد پچھوڑوے گا تو اس کا لازبی تمہ خی رصعمول بابوی اور گی ہوگا۔ رواتیٰ 
ادب سے یں سب سے بدا مق بسی ما ہے رومانی شماع بڑی بڑی زبروست امیریں 
لے کے لہ تے اور یہ امیدریں الیک ای کک کے باطل بت ہوقی پل یگئیں۔ متیہ ے 
ہواکہ ان کے لے شعریت اور اندوہ انل ہم صمتی تسورات بن ھئۓ۔ چلے تھے 
اضائی زندگی سے صن اور قوت کے راگ گانے “گگ جن ٹوٹی مو تکی آ رود ہر۔ اس 
لس کی اصل وج بسی ہ ےکم ان لوگوں نے انسان اور آد یکو لیک بی بات ھا 
تھا اور ایک ہجرد تقسورکی اط رٹھوس قزیا تکو پالل نظرانرا زکردیا تھا 

انان کے اس نمور کا ارب پر سب سے پسلا اث بی ہوا کہ شاعری رونا ججیگنا 
بین گئی ۔ خریماں کک بھی نثیمت تھاٴ روسو کے انسان نے ة اور وے ہوے گل 
کھلائے ہیں۔ جب شا عو ںکو ہہ پت پچ لیگ یاکہ انسا نکی لامحدود خوائش اور ملا جن 
مرف مل ہی می بروے کار عق ہیں جحبقی زندگی جس خمیں* 2 اضیوں نے سو اک 
زندگ یکو بل ہی تک بکیوں نہ محدد دکرلیا جاے۔ چتانچہ .....۔ 
77 8 8 کے ڈراے بدھ میں یرون ہہ تجوی: بی یکرتی ہےکہ ہیں 
اتا زبروست خزانہ عم لگیا ہے آئ چلوٴ ہندوستان بلیں* وہاں کی سے ترجہ ب کی بیاد 
ور حر حر رہ میں چیا ہی ہد ا مس اس 
ونیا کے تمام مگوں اور وہاں عاصل ہوتے والی لڑتّں کے نام گنا جاتی ے۔ ١‏ 
داب دتا ہےککہ ہمارے خواب اسھے ین ہیں قے اخیں یقت بیان ےکی کونششل 
کیو کین اآن وش یس ایت روضررے کے مرا بانتیںکبرکے ج وعشرت حاصل 
ہوئی ہے دو کل کک فا ہوجاۓےگی اور اس کے مقابے میں اصلی زعرگی بالئل چھپصی 
معلوم ہہوگی۔ اس لئے اب چچیے سے فائدہ ؟ اتا کام نز ہمارے نلازم بھ یکرلیں ھے۔ 
چنانچہ ہہ دونوں اشالی در اندنئی برتے ہوۓ زہ رکھا لیے ہیں۔ لامحدود سر پ 
انسان کا جن اور اس کے انور اس کی صلاخ تل مکر لیت کا آخری مہ سے جہزا کے 
اصلی زندکی بی مل و کے رہ کی ہے اسی لئ انیسویں صدی کے قراششی باولیں 
میں خودکشی اور مو کی اتی بجھربار ہے_ 

پچورہہ عققیدہ آدئ یکو خود خر اور سنک ول بھی بنا ہے۔ چکنہ لاسحروو صرت 
خرف میلک عندسے اود حرف مل ہج حاصل جونکق ہت ایں ہے دی کر 
دو سرنے آدمیوںکی ضردرت صرف اتی دسھ کے لے تی ہ ےکہ اس کا تخل کت 


٢۲ 


میں آجاے۔ اس کے بعد وہ دوسروں سے پالقل بے ناز ہوجا.ا ہے۔ پچھراسے دو مروں 
کی خواہشات اور جزیات کا اصاس کک جُیں رہتا- اق تی لزت انروزی ے اے 
اتی فرصت می خمیں مھ اس رسم کے مطابق آدی اتی محبویہ تک سے کتتی بے ری 
برتے پر مور ہوجا.ا ہے اس کا انداز ہکرتا ہو ت 
2۳٣ 00088‏ 7ق کا اول 30۷9 ۸ بڑ ھ٤‏ ویے بی ممون محخنقرطور سے _ 
881 ںانے اپنی الیک ق لم می میا نہکمداہے۔ دہ اتی محبوبہ سے کتتاہے:ف 
تی شل میں مس جس چی سے محب تکردہا تھا دہ خود میری سرمسق تی۔ ت بی 
بھی جانۓ نز میرا مھ ممیں گڑت ہم نے انعتاقی مسربیں کے دن ضرور ایک ساتھ 
گزارے ہیں ۔ مگ بر تے ایک معموی ساز تھی جس معراب سے نے پیا ہوتے ہیں 
وہ میں تھا۔ اب تا جماں گی چاسے جا نے اپنا الہ لی لیا نے وعوت بھی تم 
ہوگی۔ اگر ابھی تھوڑی سی شراب بائی ہے و اسے فوکر بی هیں کے ٠×‏ 
چوکنلہ روسو کا انسانع موم اور پک نقس بھی ہے اس لے اس ستک ولی کے 
پاوجود اسے یہ تک شی ہہوناکہ میس بے رتی سے کام لے رہا ہوں۔ میرتنے حیت 
کی تی نو انسوں تے عام آدمیو ں کی زندگی اور ان کی جپوریو ںکو فراموش تمی ںکیا 
اف 
کر کاڑی؟ جاکائی' دنا سے نر میں ہے گر“ یر یھ کم ہوگا 
از مر و نیں تی روا رب گا تر لیے ما سے کر موا رے گا 
اس حم کے اضاسات سے وہ اع بیگانہ ہیں ج نکی شاعری کا مرگ روس وکا انان 





اس عقیدرے سے ہنی بیاریاں پدا ہوقی ہیں ان شش سب سے بدی جار 
انتاہٹ ہے۔ انسا نکی جذیاقیق صلاعیتیں لاححدود سی “مر تخقی زندگی ہ۔ روۓ کار 
آنے کا برا موقع خی دیق۔ یی زندگی اور اصلی زندگی مس زین آسان کا فری 
ہے۔گھرجتن لوکو ںکو ىہ ککھایاگیا ہےکہ تم کانجا ت کی سب سے بی طاقت ہوٴ تم ہر 
مک پابنروں سے ماورا ہو“ ادر زندگی سے اہی فقعات پور یکرتے کا مطالہ ہکرت 
ہو۔ ان کے لے دوہی باتیں رہ جاتی ہیں۔ یا فذ اصلی زند یکو آزانیں بجی ہیں اور 
ا کیک لکی رح خو کش یکرلس یا ساری زندی بیزاری ادر انناہٹ می ںگزاریں گر 
آ ری فعا زیاوہ دے آلّاہٹ پرواشتی میں کب رسگا۔ وہ انتاہٹ ے چکارا پانے کے 


"۲ 


لے شی بی دیپپیاں اعبا نی شرو ںعکردتا ہے۔ ۱1۷۵۸۸۸۸5 کے ایک تاول کا بیو 
اپے پاس سے ہی خر جکرکے ایک خریب نوجوا ن کو طواتخوں کی چاٹ اتا ے۔ 
جب اس فوجوا نکی عاوت پچ ہوجاقی ہے ت3 دہ یه دنا بن ھکردتتا ہے۔ یمان ت کک 
نوجوان چوری اور فی کک پر جبور ہوجا. ہے۔ اس سے بی کو بڑٹی تسین بہوآی ہے 
کہ خی گزیہ فاعیاب رپا ون2 کے ال فکز اکا ےپ سے ہب ےک می نمی مرا 
کک کا سلطان ین جاؤں۔ نرم نر مگمدوں پر بالل بے مس پڑا حقہ پا کروں اور پی ری 
کننر کے بیع سے پر رجے ہوں۔ انتایٹ جتن بھی بھیل بھیل عق ے وہ سب 
بوو لیر نے مخضرلفطوں میں بیا نکمردیے ہیں : 

× نگیرڑیں* بھڑو ں*جروں 

بنرروں؟ جچھڑوں' گمدہوں*ٴ سانیوں۔۔۔۔۔ بھو کھت“ خراتے> 

دہاڑتے عفرتتوں ہے درمیان 

عاری بدکاریوں کے شرمتاک چڑی اگھروں 

ایک عفریت سب سے کھتاڑتا برویت اور شر ہے ! 

یں ت وہ ایا کر سے نہ چگماڑ] ے 

گر اس کا یس لے تو سناری زج نک و نر بنا کے رکھ رے* 

اور ایک بماقی میں دنا کو شگ, جاۓ* 

اس عفریت کا تام بے لعفی ہے !.-.۔۔۔۔ آنسو اپے آپ ای 

کی آککھوں میں ڈحفک آتے ہیں- 

وہ جیا حقہ پیا را ہے اور لوکو ںکو سوٹی چڑھاتے کے خواب وھ 

باے* 
بووحلیر کے نام کے ساتھ مصیے کا ایک نا ررغ ہارے ساستے ٴا ہے۔ رداتی تحریک 
کے شاعروں شا 901 ھا اور 191ا اکو پع چلا کہ انسان کے اندر لاسحدوو صلاخّل 
اتی تر جاتی ہیں گر مل ایا نمیں ہے۔ چنانچہ اس اصاس کے ساچھ ان پر بدی رت 
طاری ہوک گر وہ رو وج کے ٹہ گے اس کے آکے رہ ھی ںکیا۔ بوو حلیر نے اس 
ہے انگ بل ھکر بوچھاکہ آخر الیاکیوں سے 6ا اس کے ہاں انان نے چپ چاپ 
ححیقت سے پار نہیں مان کی“ یکلہ ثٹ یٹ کے بروقعہ اہختا رہل انان تے بوو لی رکو 
اپنے پیش رو فلیوں“ ادیوں اور شاعروں سے ور می ما تھا مور آ دی خوو اس کے 


۳ 


اندر موجود تھا۔-۔۔ اور آدی بھی بدا جاندار اور چےکنا۔ چنانچہ اس کے انرر انان 
اور آدی دووں ایک ووسرے سے مت ھے۔ بوو حلی کی شاعری اىی جن ک کی رزمے 
داستان ہے انسا نِکو ای ماحول سے بھی جرد مل ری شی جب آدی اے چت 
کرلتتا تھا تو ماحزان انخیلشن رے کے انا نکو پچھراٹھا با تھا_ پوو سیر کے اثرر روسو 
کا فطری انان مر خییں سا مگ رآ دی تے اتی قوت ضروردکھا دی۔ خممویں صدی کی 
ترزیب کے سے بدو لی کی شاعری ك ۔پسٹائن کے بیقول* باب ل کی حیثیت رکھتی سے تے 
ای سل ےکہ ا کی شاعری نے سب سے زیادہ شرت کے ساجھھ میں چایا کہ موجورہ 
مخری تذب کا خدا فطری انمان دراصل جوا ور ے۔ 

میں بی کام ظوبی رن ےکیا ہے۔ اس کی ٢خصیت‏ بھی انسان اور آ دی کی رزم 
گا؛ تی۔ انا نکس طرح کس تکھا.ا ہے ا ںکی اررنی نزیس اس نے مادام ہو 
داری میں دکھائی ہیں۔ اس ماش کا زیادہ وائیج مان ظوبی کے خطوں میں متا ہے۔ جن 
عقیرو ںکی بنیاو بر ا س کی خصیت تی رہوگی شی ان کا نقاضا تھاکہ وہ اپ ہ رآرزو اور 
ہر جز کو مامعدود بات ےک یکونش شکمرے “مر اسے اپنے چچاروں طرف دلواری ںکھڑی 
نظ ری یں ؟ ا یکشن کے اضاس سے دوہ لیف کے مارے یق اتا تھا۔ ایک 
طرح دیکھے تے لوب کو اندازہ ہوگیا تھاکہ جس تتزیب مم فطری انا نکی پچا وی ہو 
وہاں بڑدی شخصیتیں پیدرادی نمیں ہوگتیں۔ وہ اس طر عکہ وہ اپنے زمانے کے مزا کو 
پیٹ نظر رک ھکر بڑے رٹ کے خصائص اور شرائ متحی نکر تھا اور آخر میں ىہ بھی 
اختزا فکرتے پر مجبور ہوجاتا تھاکمہ سب سے بڑے فنکار ان ترائ کی پابندی ضیں 
کرتے' بللہ ان ۔شھرائط سے بے خیازی بر شض کی وجہ سے بڑے نے ہیں۔ جس شرت 
اور والمانہ اشماک کے ساجھھ فطری انان اپتی ساری فجمات کی خاص ط رکا 
سرت کے حول کے لئے وق کردا ہے اسی مو کے ساجھھ فکوبیرنے اپنے آ پکو 
اپنے فن کے لے وق تفکروا تھا اور نیک عام آد ی کی زندگی کے بت مطالیات اور 
مناسیات ہوتے ہیں وہ سب ای قریان گاہ پر چڑھادیے تے- یہاں تک ککہ جب اس 
کی حجوبہ نے ا سکی بے فو بھی کی شکای تکی اور اسے ٹوکاکہ شاید تممارے دل مم 
جھ سے زیادہ اپنے ف نکی محبت ہے“ تو لوبیرتے بی صفالی سے اور اس کے یڑبات کا 
خال سے یقیرقول لم اکہ ہاں ام می ککتق ہو۔ آخری عمرمی جاکر ا کی مہ میں 
آنے ا خھاکہ میری خصیت اور ٹن برری طرح پھولا بچھلا ضمیں و ا سکی بی وچہ تی 


۳ 


کہ میرے اندر کا جھ کی تھا میں بیشہ اس کا گل گھونا رہ ان زی نارل 
پوراراے وچ یس جو میرے نزدیک اس کا ات عرین خاول ہے ظوبیر نے انان 
کے ای رجقان پر طف رکیاہے کہ دہ ارقی ا ملیتوں کی حد سے آکے بڑھنا چاہتا ہے* اور 
فندگی کے پرشے می معمل ےکی "رز ھکر ہے ' اور آخر میں رہتا سے دی می کا 
مس پت بلہ اکر اسے اپکی بے جا خواہمشو ںکی سز نہ لے 3ز ام یکو غیت تجھے_ 

خر انیسویں صدی کے آخ کک ادیوں اور شاعروں نے اپنے موس نے 
کے ذربیہ مای کردا تھاکہ اسان کا ىہ تقسور بجاے خود انساعی ت کو بربا کرد ہے کے 
لئے کا ہے اس کے بعد اوب جن اک تا ود شور ہت چا اس وور مض ہے 
عقیدہ شم نو میں ہوا اور اروں کے شخ سے شخم ہوبھی کے سک تھا یکلہ اس کی 
پشت پنای دنا کے سارے گرا نکر رہے ہوں۔ جو ادیب میرے زین مش وں ان 
کے اندر انسان اور آدٹی کی معکش بد سور جاری ہے '“عگردہ انسان کی قلست وکھاکر 
چپ نمی ہو جاتے لہ دامع طور سے کد کی بے ای تکرتے ہیں۔ ظویرساری مر 
موسط لبق کے لوکوں سے نفر کر رہا تھا۔ گر آخر اخ میں جب وہ چچھونے موئے 
وکانراروں کہ اپنے بورے خاندان سمیت یر کے لیے جاتے ہوئے دکتا تھا تڑ پورے 
پاسف کے سا کنا کڑتا اک شا بی الوکف ابق پر جن نازئل ‏ وے* تر 
ان اور من مان نے ''شاید ' کالقط عذ فکردیا ے' نہ ہو نے 2 صا 
صا فکما ےد کے خاول کے آخھ می عام آد یک ہے ہوگی۔ مہ ادیب عام زنرگی 
کے مطابت کو اور اس کی عد جریوں کو قو ل کرت ہیں جیدرہ میں پل اے 
حیاحاتی ددرت اود آد کی زندی کا لازی شر سج ھہکر.۔ ان لوگوں کا روہ دی طور 
بی اتی ے۔ 

ان دو مار اریوں نے و ردر آد یکو قو لکرلیا ہے “گر ہمارے زنائے کے زیادہ 
7 اریوں اور تضیے)] عمراوں کے داغ بے ائھی جک اسان عاوی سے اور اس تضور 
سے اتب اہ الا ت ضر لاحع وو کت و ود دا کے تھی مز 
ہیں۔ ضس لوگ بے مضرور دجو کرتے ہو ںکہ دوس میس ایک نی ایشاعی تکی بیاد ری 
کئی ہے' داب اس عم کاکوتی خطرہ میں ہے“ رہاں فرد سعاشر ےکی میتی کا پابند سے“ 
اے فاص عم کے اخلاقی اصولوں پر عم لکرا پا ہے مگرے ولیل صرف بادی انظری 
جا درست ہے روس می قرد پر جھپاہنریاں لا ی کی ہیں دہ صرف خاری مکی یں 


٥ 


وہاں فرد کے افعال و اما لکی عد بندی ضرور ہوگئی ہے مرا کی دای زندگی ب کوئی 
پابندی میں ہے۔ اشتزاکی اخلا قیات کا عمل دخل صرف خظاہری اعمال کک ے دائلل 
زندگی کک ا سک ہچ براہ راست میں ہے۔ ےکی د مکو گی میں بن ہکرکے روسی 
اشتاکیت ممفمن ہوجاتی ہ ےک اب کے کے دل مس اتی دم اوپہ اٹھا کے پلائے کی 
خواہش بھی پیدرا خی بوگی۔ رہا داعلی اقتزا رکا محاطہ ن انسان کا تو تور اپ کک قرو 
سے متحلق رہا تھا ١‏ سے عوا مکی طرف خعف لکرد ا گیا ہے۔ اس سے زیادہ اد رھ خمیں 
ہوا۔ عوام سے اوڑھی کائحات میں او رکوکی طاقت خمیں ہے عوام معموم اور پک 
طینت ہیں عوام کی خواہشات پ رکوگی پابنری ضمیں ہے“ عوا مکی طاشتیں لا محدود ہیں- 
سے تی اخلاقیات اس سے زیادہ اور ىچتھہ خی ہے اور اس پر متزاد ہے کہ اس خی 
اخلاقیات کے عریر اس پا ت کو پالگل اظرابرا زکزدیے و نکر ان را تک پرولنت 
افرادکوجن رن جات سے دد تچاد ہوا پڑا ہے دی اک پر کی بوری قوم کے ساس 
بھی کے ہیں کیوکلہ جس طح ایک فر دی صلاعیتیں لاححدددخمہیں ہوں ای طرح 
افراد کے ایک جھو سے کی صلاعتیں بھی لامحدود نمی ہوں۔ عوام کی شخصیت بھی 
سیدھی سادی نجس ہے۔ اس کے اندر بھی متضاو اور خناقس رہابات موجور ہیں۔ 
. کنا تکی جو طاقیں فرد کے کام می بھنزت ڈال عق ہیں دی عوا م کو بھی پریان 
کرحق ہیں۔ یرعال یہ بات ایی نی ج ھی ڑمدست قوی عارئے سے دوچار ہوے 
ا رجھھ میں آجامیں۔ ابھی روی فی بک مر یکیا ے۔ ہہ ق3 روی قو م کو آہستد 
ہس رىی پت لے گاکہ کانات کے سب سے بڑی طاقت ہہونے کی مع کیا ہیں- 

گر ببتہ کے یر پانلے جس دکھاتی دنے جات ہؤں۔ چو کہ ارب پر تضور سے 
مکنا ت کی طرف سوسال پا اار ہکروتا ۓے توؤے2 ردی تزیب ے پارے ٹش 
ہیں وہاں کے ادب سے کی مغید مطلب باتیں معلوم ہوستی ہیں۔ عوام الیک مجرد 
عطلق تضور نیس ہے بکلہ اس کے مادی مناسبات بھی ہیں قے عوام سے راد اقرا کا 
مجموص تی ہوسکتا ہے۔ اب اگر عوام یا افراد کے جو کی چند صفات بتائی جاتی ہیں 7 
فردییہ میتی یح عیانب ہے کہ نیہ ساری عفات ہجھ میں نہ سی “گر ان کا تھوڑا 
بت حصہ ت3 مھ بھی ما ہوگا۔ چنانچہ دہ سارے تقسورات ایک ای ککرکے والیں "نے 
کت ہیں جن کا کک او ہکیاکیا ہے۔ اور ان کے اشرات بھی لازی طور ہکم و یٹ ودی 
موں کے جھ عانیہ دارانہ حاع میس ہوئے تھے۔ رو کی خی اظاعیت نے صرف 


٢ 
ظاہری عالات برئے ہیں۔ صرف معاشی؟ سیاسی اور ساب ماحول دا ہے۔ ترزیب فق‎ 
کاکوتی نا داخلی غظکام عرتب میں کیا بمہ انان کے متحلق اس کا حقید ہکم و یش وی‎ 
ہے جو روائی لہ حیات کا ہے“ اور جو زرا سی یل لے ہی آدی یکو انفراریت پر سی‎ 
کی رف لے جا ا ہے۔ اور جب اس انخفایت پ رس کی علاستیں قرد میں نمووار ہو نے‎ 
یق ہیں تو اہتاعیت پھر قر رکو مزا دی ہے۔کئی اجیتھے فنکاروں کے ساجھھ روس میں بی‎ 
ہدچکا ہے۔ آزمیوں کی دائلی زندگ یکو ابو میں رت کے لے رو کی اہتماعیت کے‎ 
پاس صرف ایک آلہ ہے جبرواخقسماب۔ آخج اقسانی تارق می اجتاعی ت کی اور بھی ل‎ 
معالیں ہیں ۔ کم سےکم اڑی جن سی بمت ىی ہوچھی ہیں جن کے کے مرضاد‎ 
انفرادیت پرسی اتی بی ملف جی جتنی روس کے لئ “مر اضسوں نے ج رکا اعتعال اج‎ 
فراوانی س ےکیوں می ںکیا ؟ بمت تی واشع ار تزا کو نے خی رکوئی بھی مم معانشرو تقول‎ 
می ںب رکا ۔ گر جہماں کک ادب اور فن مج ارججاىی جذیات سے تھوڑے بمت ا خحراف‎ 
کا تلق ہے اے اپند یدگ کی نطرے تز ضرور دیک ھا گیا ہوگا“مگر یہ بھی خمیں ہوا‎ 
ہوگاکہ حکوصت کک کھرائے ا ھے ا سے نیداری کے باب بجھے اور فور ] کچل وی کی‎ 
توم شکرے۔ سے بائئل وی بات ہے کہ کھار پر جس تہ چلا ٢مگدھے کے کان اجنٹھ_‎ 
اکر روی حکومت ایا ارب پچاہتقی سے جو حزیضانہ عتاصر سے خالی ہو !جس می تزاباگی‎ 
اور فزازن ہو“ جھ پوری قوم کے لے ہو تو اسے سب سے لہ داعلی زندگی کی ڑانا اور‎ 
موازن افدار می ن کرت جھاہیں۔ محلوص ت کی خواہشات سے حرف ہونے والوں و‎ 
کھڑتنے دجھکڑنے ے ىا انان چھا بد تن ےکی زیادہ امیر خی ہے۔ جن تمزیوں نے‎ 
نزانا اشخمای ادب پیا کیا سے ا نکی ییاد آرمیوں کے ھوس بے اور کائجات و حیات‎ 
کے منوازن اور ححیقت آگیں تصور پر حي' وہ تز حں آر ی کی پری خصیت کے‎ 
لے ایک تین ہش لام عرت ب کرتی ھیں۔ اس لے لوگ جب رکے بقیربھی اس‎ 
اجتاعحی کو تو لبرتے تے اور اس طر حعکہ مین تو شدم تن ری “ک یکیقیت پیا‎ 
ہوجاتے۔ انیک خخاص تح کی اخائی زندگ یکو لوکوں نے قو لیکرلیا سے یا ١یں' وہ ان‎ 
کے رگ و پے می می نگئی ہے یا خمیں* اس کا مین اعقان بسی ہے کہ ججرو اکراہ جنہ‎ 
اصرار و ماکید کے بخیروہاں بڑے فن پارے پیا ہوں۔ روسی ترزیب اس اسحمان میں‎ 
ری نمی اترقی“ عالاکمہ ال میس الیک وفعہ جم ہہ اعلان ضرور من لی ںکہ روس‎ 
انان ار کا سب سے یم الٹان اپ پیا ہوگا۔ اییا ارپ پیا ہوتا ق ورکنار“‎ 


غ۲ 


جو لوگ متقول اوپ تی کن ےک یکو کے ہیں دہ یا 3 تھوڑے ون بعد خو کی 
کل ہیں ما ان کی یو ں کی اشاعت ھا“ بن دکمدی جاتی ے۔ ہہ بڑی جیب و 
غریب صورت عال ہے۔ اکر دوس میں الیک نی تمقعب پیا ہوہگی ہے اور کک والوں 
کی غالب اکثیت ا کی افدار سے پودی طح معمنن ہے ق3 دو ار آومیوں کے 
مخرف ہوجانے پر اتا پریٹان ہوئےیکیا ضرورت ہے ؟ اگر اس یلت کا اتریٹ ےک 
ہہ دد چچار آدبی اک تتکو اکر غلط رات پہ ڈال ہیں کے تے اس کا مطلب ہے کہ 
آکژیت اس تذ بک اقزار سے پرری طرح معطی میں ہے اور اس میں کی 
سو ںکرقی ہے اکر اکژیت اس ترذیب سے معمشن بھی سے ......۔ اور اسے بکایا 
بھی چاسکنا ہے و اس کا مطلب ہہ ہوا کہ روثی کا صلہ دی کی زتدی کا سب ے پٹ 
متلہ میں ہے“ بللہ ا کی زندی جس اتی ہی اعیت رت وائے اور بھی ایک وو 
کے ہیں جن کا نام لے کے آدب یکو الیا فرعب دیا جاسکتا ہے کہ وہ رو کی کر چھوڑ 
س ےکی اور دن می لک جاے۔ اس مت یکو نہ روی عومت سجھاتی ہے نہ 
روس کے حداح بک جھ آدی اپی تی نکی خاطریہ بات جگھتی چاہے اسے لازی طور 
سے روس کا رشن مھ لیا جات ہے_ 

روس کے متعلقی ایک بات اور تقایل ور ہے۔ فرضس کیہ کہ روس میں قطری 
اسا نکی سقا کو عوام کی طرف اس انداز سے خف لکیایا ہےةکہ انقرادیت پرستاد 
رجعقامات کے لکوت کنیائش نمیں رہی* اور ایک ممولی قر رکو اس کی اازت ننیں 
کہ وو اپی ذات میں عوا کی صلاھیتوں کا مس دیھھے۔ لے ہم تھوڑی دہ کے لئ بے 
بات تصلیم سے لیے ہیں کر عوام ہرسعالے میں ابتی عرضی ک براہ راست اظلدار میں 
کرتھت۔ می ضردرقوں کا نقاضا ہہ ہےةکہ عوام اپ ماحیرے خقبکریں جن کے 
ذریے ان کی مرش یہ روئے کار آتی رہے۔ مہ نمائنیرے جچئی دب عوام کے نماتیروں 
کی حثیت سے کا مکریں کے اتی دے کے لے عوا مکی جملہ صفات اور ارات کے 
الک ہوں گے اکر عوام موم اور ب گناہ ہیں قے اح دہ کے لئ ہہ بھی ےگنام 
ہوجائیں گے ۔کم ہکم نہیں اپنے آ پکو محصوم جن کا تھوڑا سام ضرور حاصل 
ہوگا گر ہے مائندرے برعال اقراد ہوں گے“ اور ان مم عام آدمیوں کی ى یگزوریاں 
ہو ںگی۔ کسی اخلاقی نظا مکی خی رموجودی مج ان عوائی نماحدو ں کی علومت اتا 
امقیدادی بموگی۔کیوکلہ یہ لوگ عام آدمیو ںکی طرح سک دی اور بے ری سے بھی 


گا 


ام لیں سے اور عوائی نماتنووں کی حیثیت حیفیت سے اہچے آ پ کو فلیلی سے م ای کت 
این گیٹ عوا کی صورت من اتیان تو کانقات یس بب سے بدی طالت اور غِ 
مطلق کک ا او رکوتی تہ ہو بی میں سکتا۔ ٍ 

انسان پرسی فرد اور قوم دونوں کے معالے میں بڑی جلدی خود پرسؾ اور مت 
ای ین جاتی ہے۔ وہ اس طر حکہ انسان ا خود مطلق ہے صرف ماحول اسے 
باڑتا ہے۔ اگر ماحول کو خرایوں سے پا ک کردا جاۓ ت اسان کل ہوجانۓ گا_ 
چوک کم ےکم نظریاقی طور پر میہ ماحو لکی خرامیاں روس میں دددکی جاچی وں۔ اس 
لے ردسی اپنے آ پکو ہر طرح سے عل انان تقو رکرنے کا حعتزار ھت ؤں۔ اور 
اسکولوں کے ہچ نمی رککیوں سے پچ ہی ں کہ صاحب آپ کے کک مں ربیل گاڑی 
بوتی ٤ے‏ ؟ 

ذاتی ور پر میں انسان برستی سے اس لے ژرَا ہو ںکہ انسان کے ایک مجردوو 
مطلق تصور پر ایمان لانے کے بعد آدی بے رتم ہوجا.] ہے۔ انفرادی معاطات یں 
بھی اور اجتای محاطات میں بھی بللہ اجتقامی محا مات میں زیا دہ کیو کہ انتتائی فائرے 
کے لے حرام چچن ہکو بھی علا لکردیے کا میمان ہ رآ دی می ہو ہے انان برستی نگ 
دل کیسے بن جاتی سے اسے یف نے ای ککمانی میں بدی اتی طرح سمجھایا ہے۔ 
یک وات یکو کسی وکیل کے بمان جلایا جا ہے وہ دبان جاکے دیکھتی ہ ےکلہ وکیل بڑا 
ات دار' بدا شریف اور بااصول ہے۔ گر پل ربھی اس کے بیوی پچ اس سے نفرت 
رق ون بات پ یز وقل کھ زان ض اتززی کے حاق پراضررازی ,2* 
کہ اسے فلاں فلاں اصولو ںکی ید یکرت جچاجے۔ چناضچہ اسے میں وہ اصول بی یاد رہ 
جیئے تے او رگوشت برست کے آومیو ںکو دہ پالنل ہی بحو لگا تھا 

رزکه جن اقاق پ سی ےآ 2ر ہر نآزاان کے لی آزق کزان 
میں اطیف وس او رکھسرے جیا تکی صلاحت باتی خی رہتی اور آدٹ یك اختیار رے 
نس من کے رہ جات ہے۔ جب انا نکی عفات لہ ىی سے مقرر ہیں تر اس کے 
بارے میس سے فزیات ہ کیا ہو ہیں ؟ جو چنز نل ہی سے مل سے اس می ںکوگی 
اضافہ +یں ہوکا_ 

اسی لج جھے اندنیشہ ہوا ےکہ انسان اور اضماضیت کے موجورہ تضصوزات ے ہوا 
ایب شی چیدا ہوکتا۔ یماں ایک بات کا فرق وظ رکھنا ضروری ہے“ ایک تے مرے 


٢" 


بہوئے اور زندہ سب آومیوں اور ان کے الہ لہ سارے قجریات کے مو ھے کو بھی 
انسان یا انانی تکمہ بت ہیں۔ ائیے سے ہرآدی کی زندگی مس آتے ہیں جب وہ 
اپے ذاقی قزیات کا ددسروں کے قریات سے مقابل ہک ہے۔ اپنے قجزیا تکو تھوڑی 
بھت تیم دتا ہے" اپنے آپ سے پوچتا ہےةکہ ان قزیات کا مطل بکیا ہے“ اور 
جھ یس دوسرے آد کون ہیں کماں سے آے ہیں *کدھر جار ہے ہیں۔ اس تم کا 
ھک دی کے اندر جار ت مکی شاددایاں* ہزار ت مکی مابیسیاں“ ہزا ر تم کا اواب پیا 
کرسکتا ہے جب آدی اس انداز سے سوچ رہا ہو نز ہم پوے ٹوس معیں یں کر 
بت ہہ ںکہ وہ انسان ما انناعیت کے بارے مس سوج رہا ے۔ اس حم کے تار ے 
داسن چا کے او ب کبھی بوا یا تم آور خمیں بن سکھا۔ دوسری تم کا انسان یا اضساشیت وہ 
ہے جج سکی تشرع میں اوک آیا ہوں۔ چوکلہ ا ںکی ساری عفات لہ بی سے مقرر 
ہیی ہیںٴ اس لے اس کے بارے میں سو تے کی قطی ضرورت نممیں> خصوم] مۓ 
انداز سے سوچنے کے صن ت ٹھیٹ ارتراد ہیں۔ ہہ انان الی بے رنگ اور چس 
سی چیہ ےکہ ا سکی ہلست کے بارے میس نو بت پک ھ ککھا چا سا سے اور ڈیڑھ سو 
سال سے ککھا ہی جا رہا ہے۔ گر ا سکی مدح مس کوکی اڑی یز میں کسی باکمق بے 
باندتی آدی جن چار وفع دہپی سے بڑھ لیں' میس نے بت سوچنے کے کومص شک یکم 
بدے اد بک یکوئی اڑی ثال مل جائۓ جنس کا تعلق انسان کے الیے تصور ے ہو گر 
میں کامیاب شمیں ہوسکا۔ نے دے کے میں معلد کی وہ چھوٹی سی تقر ضروریاد آقی 
ہے جس میں وہ انسا نکیل محددد صا عیتوں کا وک رک را ہے۔ اول تو می ںکھوں مگ اکہ ہے 
تر اس حم کا تعکر ہے جس کا وک میں نے ائھی ایک منت یع ہکیا تار شیکپیر 
کے اکٹ نقارو ں کی را ہے کہ نشاۃ اض کے بعد انسان کے اتدر جو آزادی اور 
خودعتاری آگئی تھی ىہ تقتہ ا سکی مم رہے۔ خر مہ ابنا ابنا اق ٹن ہے۔ اس تقر 
کا رنگ ‏ و اس وقت کت ے جب اے یٹ کے پور ےکردار کے مقائل رک ھکر 
دیکھا جاے۔ لٹ یے آری کے منہ سے ہے تق واتقی بڑا مزد دق سے .۔-ے 
اقبال کے کا حمکو انسان بس کے جواز مج چٹ کرے سے بھی زیادہ مدد ممیں ملق 
اقبال انان کی لامحدود صلاعیتوں کا تال ہے بھی تو بڑی واتج اور مین میروں کے 
یی رہ ب کی مقر رکی وی عدوں کے اندرٴ“ آپ مہ ھت ہ ں کہ 
اتال کے ہقاھ اور چیزیں'ٴ ان کے شاعرانہ اصاسات اور چچزؤں- گر غرا ی اعتقاد 


انور 





۵۔ 


ان کے اصاس کا ایا ازی اور جمیادی جز ہےکہ انان کے ملق بلند انگ ے پلنر 
انگ دعو ےرت ہوے بھی ان کا انداز الما رہتا ہے جیے اپنے سے بڑئی کسی طاتت 
کو للگار رہے ہول'ٴ یا اسے چڑا رے ہوں۔ ان کے شعریں مں ہے اصاس بیھ لت 
ہے کہ اکر تو یوں ہے تو می بھی یوں ہوں“ ىہ بات اس ملق اضماعیت پرسق ے 
نیادی طور پر مخلف سے جو انان سے آ کے کی بت کا تو رکر بی خییں سٌق_ جب 
انال ملق اضان بس کی طرف مائل ہوتے ہوں تو اتی موت اور وو ووصرے 
اسباب فور یاد آجاتے ہیں جھ آدٹ یکو ا کی سے ب ھعجنچے لاتے ہیں ۔ گرم بھی حقیقت 
ہ ےکہ خدا کے تضور میں شوخ باتیں کے کے وت می اتال ایک آرے گل وازن 
انم میں رکھ کے ہوں۔ خلا ایک بوے خن فم اور ماعل احزام بدرگ نے اّال 
کے مشور اور متبول مصرع نز شب آفریدری جااغ آفریدم پر نہ اعتزاض کیا ےک 
رات جیسے آفا قکیراور پراصرار ور کے متقاے میں می کا جچرارغ لات ذرا بھی سی یات 
ہے۔ مہ اتچچی خطابت ہے بدا شع رمہیں ہے_ 

انسان بس پر ججھے سب سے بدا اتراض ہہ س ےک انسان نے کے بعد آدی 
اغاق معیاروں سے آزاد ہوجا ہے۔ اخلاقی معیاروں کی ضرورت تر اس کے لے 
بہوتی سے جن س کی شخصیت میں متضار اور تنا تس میلانات موجور ہوں'* اور ان عیلایات 
میں سے تن ضس کو ابھارنا اور تح ض کو دہانا لازی ہو۔۔ جو تی ججاۓ خور کیک ہوہ حضل 
ماحو لکی بدی سے مجبور ہوکے بدجھ جاتی ہوٴ اس کے لئے اظلاقیا تکی ضرورت تمیں 
ہے ماحو لکو بدل دیتا کان ہے۔ ماحول ید لگیا تے بچھر ا سکی بی لہ ہے۔ اڑی ہی 
مجیدری ہو تے حاون اس کی گرا نکر رہے ای اصولو ں کی موجودگی لازئی خی جو 
اندروٹی طور پر عم لکرتے ہوں۔ اسان پرحتانہ تزیپ کا وار اخلاق اصول ہے ےکہ 
جھ انان تانون کے مطابق چتا ہے وہ تک ہے۔ چناجچہ انان کی برست لکرنے والا 
آدی خودپند اور خود خرس ہوجانا ہے۔ دہ بوو سلی رکی طرح اپتے آ پک و بھی ریا کار 
نمی ںکہ سکتا۔ اکر اس کے مفاد پر براہ راست چوٹ نہ بای ہو کوتی اخلاق گناہ اے 
نہیں چوڑا سگت.. علی طور پر انسان بس اخلاق ےہ ضی کا دوسرا تام ہے۔ اکر پوری 
قم انسان برست جو جائے و اس کی ساست بھی اخلاق پابنروں سے آزاو ہوجاقیٰ 
ہے بی وجہ ےکم امن کا جقنا برار آرج کل ہوا سے اتا .بھی تمیں ہوا ہو" ا لی 
الاقوائی مصالع تکیے اتی میلییں بھی بھی موجود میں تھی مر جک روز سز ہکھڑی 


۱ھ 
رگقی ے۔ ۱ 
ىہ تو میں بوے مفصل رق سے جا چکا ہو ںکمہ شے انا نکیوں نا پتر ے۔ 
اپ یے عوال رہ جا ےکہ گنی ریغ ید تچب لس پلک سی رج ہی پانت ے_ 
آ دی انان میں بین سک“ پل آدری رت پر مور ہے ىہ ایک حاتاتی ھوری ے 
جس میں آدی کا کوتی اتقیار ییں۔ اس گے آدبی کو تج ویتا بھی ایک حاحاق 
ضرورت ے۔ 
اب میں ہے جا]ا چاتا ہو ں کہ میرے ین میں آ دی کی ژندگی اور اس کے 
مطالیات کا کیا تصور ہے یہ بات وا حکرنے کے لئ مثال کے طور پر ایک کالہ 
پیٹ یکر ہہوں جو میں نے ہہ مقمون شر عکمرتنے سے چند دن چلے اندجیری رات میں 
ایک اجاڑ ڑ سی حڑک >> بے جلنتے ہوئۓ سا تھا۔ میرے پک کے مین عص بج جارے ے؛ 
ایک موٴ ایک برقعہ بش عورت اور اک آٹٹھ توسال کا لڑکا۔ جب کی القا لکن کے 
قرییب آیا لةعورت سمارشورٹی ۔ےجچے میں کہ دتی شی بک 
پش مل جاگی نے ہم تو بجھوں مریں گے× 
ڑکے نے بڑی تتویش کے ساجھھ پچھا لگئیوں' اہاں' کیوں؟ 
بھوکو ںکیوں مریں ے۷۹ 
چھ ہیں نے ماج کیا" 
پاپ نے بھی تاحل ریککہ مہاں !ا ہوسے ہی رہ یں گے 
یٹ نے پ ھا ”ابا“ تمیں ا بکیا ل رہا ے؟" 
باپ تے ایا ””ای روے!'* 
”جب چشن ہوجا ےکی توچ رت میں ےک 
بالیس روبے میس ےی !* 
ےکو مہ س نکر بڑی گگر ہوتی ”چالیس روپے میں ہ مکی ےکہیں جے؟'' ایک لہ 
مو رکرتے کے بعر وہ یھ راولاک 
بٹکیوں ایا“ جب میں بدا ہوجاؤں گا تو میں آلوں ج!'* 
جب اس لڑکے تے ہے آخری جج ل ہکا سے تو اس کا اجہ نے کے تابیل تھا۔ ا سک آواز 
میں خوشی حی جیے اس نے مشکل ع لکری ہو اپنے اندر ای صلاحی تک موجود 4 
اچاب تھا“ زندگی کی 3مہ واریاں تقو ل بر ےکی انف حید آزق تد وارؤن زیر 


۵۲ 


کرنے کا حوصلہ تھا۔ ایک عام "دی کی زندگی سے جھ یھ عراد ہے“ اس کی زندگی کا 
سارا نٹاط اور سمارا الم اس چھوٹے سے مکائے مس بجا ا ہے۔ آد ی کی زندگی اور 
اس کے قرائض بالل عامیانہ* بے نک اور غیرشائرانہ ہیں۔ گر آومیو ں کی آیں کی 
بے خرس بے مقصد اور عو بے وجہ محیت اس زندگی مج رہگ بھرتی ہے“ صروں 
سے آدی اىی پچکر میں بجضسا ہوا ہے اور اس کے اندر جھ بھی تھوڑی بمت ملا 
ہیں دہ ا٘ییں دعندوں میں صرف بوقی ہیں “گر آدی ابی کک ان زمہ داروں ے 
میں اتایا ہے آدی ابق تخلیق کے دن سے ےک بب تک حااتی زندگی ے 
جدوعد یں معروف را ہے؟ اس نے خون ححوک تھوک را ے “گر ہے تنیں 
اریہ اس کی زیادہ تر ١‏ صلیتیں اسی فضول مکش میں صرف ہبوت ہوں راس کے پاوجود 
اور اٹی انحالی ححدود صلامیتوں کے مل پر ہی اس نے اپنے لے ایک غیرحیاعاقی زندگی 
بھی تحلی قکری ہے۔ اپنے اس کارناے سے اسے الی عقیرت اور یت ےک 
پت رفعہ ا سکی اط رای حاتاتی زندگی قیا نکرن ےک بھی تار ہوجا] ہے۔ ہہ سے 
دہ بی جھ اصل میں مارے اعزا مکی سجن سے کہ وہ مفروضہ جو سم شعریے 
ہے“ سم کامرانی ہے۔ یہاں یھ اپی ایک ج بات یکزدری کا اعتراف منظور ہے پش 
بات لوکوں کے ساس میں نے اکٹراپنے آ پکو بوا مق محسو سکیا ہے۔ زندگیکی مہ 
داریاں بور یت سے آدی کے اندر جھ جیا تک چنگی آجاتی ہے اس کے ساسے 
ہردد مرا ریہ اھ بے مجان اور بے حقیقت سا معلوم ہوا ہے_ 

جو ڑیپ آو ں کے ٹھوس جات سے بے نیاز ہ ھکر اقدار ساز یکرقی سے 
اس کے مقدر میں متس اور صرتیں کی وں۔ تصو۔] اورپ آریوں ے قیع 
تل یکرکے دو قرم نمی پل ستا۔ اس دموک ےکی ولیل بی کر ےکی ضرورت ممیں۔ 
اررو سے سے اورپ فصوص] مئے افمانے کی حثال ماری ہکموں کے ساسے ہے۔ 
بعارے افسانہ نگاروں نے اپتی تخلیق کا مرک انسا نِکو میا تھا۔ چنانچہ دس یارہ سال کے 
اندر اندر سب جیٹھ جھے ہیں۔ عقلبی انتبار سے مس ایک منو زندرہ ہے ج سک یگرشت 
زندہ آرمیوں کے قیات پر اتی مفبوط ت یکہ موجہ عقیرے بھی اس کا کھھ نمیں پگاڑ 
کے یا اب بچھ عزنی: امد کے افسانوں مم جان اتی جا ری ہے 'کیوکلہ وہ آہستۓ 
آبستت انان سے آد کی طرف بجر تک رے ہیں- 

ىیہ صورت عال یھ اردو ادوپ تک ہی حدود خی ے۔ ساوی ویا کا انان 





۵٢ 


پرست ادپ جحک کے چور ہوگیا ہے اب کک ج کچھ ککھا جا کا ہے اسے وہراے 
ت7 رچے کے سوا اس ادب کے ساس او ہکوقی صتتتبل خی ہے۔ چرکک کے اویب بی 
مہ رہ و ںکہ ا پکیاکریں ؟ ار روس کے اویو ںکو اجازت ہوق نز وہ کی ہی 
کھت دد ایک آدمیوں نے ہہ بات کت ےةکی جرات کی 3 فا ا نکی حرستکردییگق۔ 
: ارب میں ددیارہ جان کس طح آعحق ہے یہ 3 پھر بھی چھوما ستلہ ہے۔اب 
فزسسل اضانی کے پورے متتتبل کا دارد داد اس پہ ہ ےکہ جیسویں صد یکی تقوب 
تا دائلی ندگی مس یادی جیا ںکرے* اور انمائی تگر و ٣ن‏ اور بیاوی تضوراتی 
اعد بندی ۓ سرنے سے ہو اس تکیل کی سب سے بھی شرط نہ ہ ےکم اقذار 
کا یہ ٹا کام دی کے لے ہوٴ اسان کے لئے نمی اور کد یکو پزری شخصیت اور 
ا کی جیقی صلاھیتو ںکو زین میں رھک بتایا لیا ہو اس کے بقیرساری کانزنیںء 
یں ادر معاہرمے بییار ہیں۔ اگر ساری دا یں اشتاکی نظام راع ہوگیا اور آدبی کی 
داعلی زندگی ای طرح آزاد رہی فو اس سےکولی بیاری فرق خی پڑے گا-۔ 
واعلی وندی کی اس تلیل فو میس فل اضانی اور اس سے مستقیل ا ضوري 
ہوگاٴ اس کے متحلق آندرے مالرد نے ایک بو مغ اشار ہکیا ہے۔ جھ لوگ بے سوپے 
سے جردت رجاحیت پبند نے رہے ہیں ا نکو زین جس رک ھگکرمالرو نے کھا ےک 
عارے لئے ذندی کا البیہ اقور بہت ضروری ہےةکیدکلہ میں یہ 3ے معلوم ہ ےک انان 
کماں سے چلا ہے رہ پعد می کہ وہ جاکماں رہا ہے۔ ا یات کا ایک رومرا رر 
بھی ہے سے ان لوکوں کے ساستت پی کر ای جھ فطری انسان کی قلست سے ا ہے 
اوس ہو گے ہی ںکہ اب اضسوں تے تنشائم بسک یکو ہی اپنا شعار بنا لیا ے۔ ان لوگوں 
سے 8 کمہ ھتے ہی ںکہ ہمارے لے زندکی کا نشاطیہ تقمور بھی ضروری ہے گیوکل ہے 
2 یت می ںکہ انسان جاکماں را ہے۔ گر ہم ہہ ضرور جانن و ںکہ وہ چلا کیاں ے 
ہے۔ البیہ اور نشاطیہ ان دوقوں تقصورا تک برو سے جم ایک متوازژن اور ے میر 
اظام حیات مرجب کر گت وں- 
خر می ںکی تحسب یا جایداری کے بشیر ےکنا خی رعاسب نہ ہوگاکہ عام آری 
کی شخصیت' ا سکی علاھیتوں ادر ا ںکی زعدگی سک ےگونمگوں تاضوں کا بت واطا اسلام 
نے درکھا ہے انقاسی اور جب ما فظام حیات نے خییں رکھا۔ الام تے ول خوش 


کن بانوں سے کمیں زیادہ اصلی زندگی کی خیتوں یىی طرف تج کی ہے۔ اسلام آدی 


۱ 


۵ذ٢‎ 

کی خصیت کے ماد اور قناتس مطالبات سے کرای خییں۔ اس نے کھھی کے 
ران ےکی کوشش میں کی بللہ ہر تا ےکو ا کی واجب ہہ دی ہے۔ جس ط 
آد یکی زندگی الم اور شاط دوفو ںکی یہ ہے دونوں کا جواز ہے ٴ ای طرح اسلام 
نے بھی دونوں تقصورا کی کخیائیشی رکھی ہے۔ انسا نکو الم اور جائل کھ یکما ے اور 
ا کی خویو ںکو سراہا بھی ہے۔ چناجچہ اسلام کے تقصور حیات مس شروع سے آ خر 
ک٠‏ لف تونوں اور میلانات کے درمیان ایک نازن موجور ے- 

پاکستان چ کہ اسلای تصور حیا تکی نمائندگی کا دعحوی ٰکرتا ہے اس لئ جسویں 
صدی کے موجودہ عالات میں بارا ایک خاص فرضل ے“ وہ ہ ےکہ جمارے تضصور حیات 
میں جو محکنات ہیں اتمیں ہم اپنے اگروگل اور اتی شخصیت میں ہفف لکریں۔ اسلای 
کردا رکی تخلیق جیسویں مد یک اسان تمذعب مج ایک انظالی واقنہ ہوگا۔ ہے بات 
ہمارے لے ایک اور حاظ سے بھی اہم ہے۔ دوس ری قرییس شای اپنا تقصور حیات چموڑ 
کر بھی بری بھلی طرح زندہ رہ صتی ہیں نین جمارا تصور حیات انتا واج ٴ مجن اور غیر 
مم ےک مان صرف اپنے تصور حیات پر ع لکرکے ہی زندہ رہ تا ہے اس 
کے بی لا نکی زندکی تاخحکن ہے۔ ماری توبی زندگی کی نشوو نما اسی تصور حیات 
سے وایست ہے۔ جہارے ادب میں بھی صرف ای طرییق سے جان سی ہے' ورتہ ہے 
اسی طرح بے اشزی اور ناتذاا کی خلائؤں میس ناک ٹوئیاں ما رتا رہے گا۔ 

چ‫ 

وٹ ڈیہ ممون مس تنے علقہ احیاب ذوقی لاہور میں بڑھا ے لنض حفرات نے علق 
کی روا سجیدگی' خلوص اور دیاخت داری سے کام لیے ہوتے جج جا یاکہ میں نے 
آخخر میں جس انراز ے اسلام کا ذکرکیا ہے اس سے اندازہ + ا ےکلہ مس دو عری 
تمذیوں یا نطامو ںکو ال خور خی رکھتا۔ چنامچہ مھ دوسرے برہہوں خصوص] پرے 
اور کنفیوشس کے براہب کے متحلق یھ ضرو رکھنا چاہے تھا۔ چوک ہہ امحتزاض تیک 
تی پر نی تھا اس لگ اس توٹ کا اضاقہ ضروری معلوم ہوا جماں کک دنا کے لۓے 
کوکی نظام حیات تجوی :کرنے کا تعلقی ہے وہ نہ نے اس مضمون کا موضوع سے نہ بے 
میں ا سکی صلاحیت ہے اس لے می نے ملف نطاموں کا نقائی مطالصہ نی کرتے 
کی کوتیکوشش خی ںکی۔ مین چوکہ انسان ادر آ دی کی بٹ کا تلق پاکنتان سے 
باشندوں سے بھی ہے اس لئے اپنے لک کے عالات کے پیل نظرمیں نے مز ہیں ہے 


۵۵ 


اشمارہ بچھ یکر وا کہ ہمارے پاس اس وقت بھی ایک اییا نظام حیات موجود سے جو ہا 
موازن اور حقیقت آنیں ہے۔ اس کا ہہ مطلب می ںکہ دوسری تیڑیوں میں جو 
خوباں ہیں میں ان سے ال ہوں۔ اسلام نے نیل تاب کا تور پٹ یک رکے 
مسلمائو ںکو بسی ہدای ت کی ہ کہ دومری تززیوں کا بھی احتزا مکر.۔ اگر میں دومری 
زیو ںکو لقو جکتنے گگوں نو مہ بات اسلا مکی روح کے خلاف ہوگی۔ 

بدھ اور کنغیوشس کے نظامو ںکو بھی میں عمیت اور عحی تکی نظرے رتا ہوں* 
گر ان کے بارے میں بھی درا سی تفرںع لاڑی ہے۔ ججیسوہیں صدرے کے لحض مفرلی 
حول اور ارول تے ان دوتول ڑاہپ کا زکر غی رمعولی عقیرت کے سا ھکیا ے- 
اس عقید تکی الیک اص وجہ ہے اور اس کے تیچچہ اص مم کے نضیاتی محرکات 
کا مکر رہسے ہیں۔ لا نمیت* آزاد خیالی اور انسان برستانہ تقصورات سے مخرلی تمزعب 
کو جو نتصاات بی ہیں ان کا مککروں کو شید اصاس ہے“ دہ چاچے یں کہ ان 
تضصورات کو ترک کر کے کوئی نا نظام حیات اغقرا رکیا جاتے۔ مگمر کی صدی میں 
سائنس اور یرہ بکی جوکتمکش ہوکی ھی اور ججس طرح لوگوں کی بحیت میں تفایک 
نے فلیہ حاص لکرلیا تھا اس کے اثرات ان مکگروں کے دارغ سے ابھی زائمل خمیں 
ہبوت ہیں۔ چنانچہ دہ افدار کا نا نظام بھی عرت بک نا چاچتے ہیں اور ساجھ بی ہہ بھی 
چاچے ہی کہ اس فظام میس کی مافوق الفطرت قوت کا تور مازی ن ہو_ اس تم کا 
نظام برھ اور فیرش کے یہاں ٭ ہےے۔ ان دوٹوں تے يیگ زندگ یکو زیادہ ایت 
دی ہے اور مدا یا حقیقت اعل کی محرفت پر در خی دبا دونوں نرہبوں میں لیت 
اور مصفا دنا دح تکی روح بت دید ہے۔ اس لے برکورہ پالا مغرلی ھفکروں کے لج 
ان ری بوں میں بدی کشش ہے۔ مجن ہماری ذہنی ضردریات بالنل دوصری تم کی 
ہیں۔ ہمارے ملک کے باشندے ابھی کک دا کے تقصور سے بیزار میں ہیں اور نہ 
اسے تر کفکر ےکی خواپش رھت ہیں۔ اس کے علاوہ جج حلیتے یرے او کنب شن 
کے مہماں سے وہ جھمیں اسلا کے اندر ربج ہوۓ بھی محسرے۔ ددوصری طرف ہے 
بھی یاد رکھنا چا ےکہ مخری لوگ بد اور کنفیوشس سے قخلیںات کا مطالعہ ا ٴ٣‏ اور 
الس شحل می کرت ہیں مر چین میں ہہ نراہب خالئس شل میں راک نہیں ہیں- 
دوسرے فلغو ںکو سے کے طور پہ استعا لکیاکیا ہے اور چہنہ جبتی قوم کے مزح نے 
ان نات مج ردو بر لکیا ہے۔ جتی آرٹ اور یرے یرہ کو عرارف یں جتا 





٦ھ‏ 
چا ۔ اگر ورپ بد نجب اخقیا رکرے ‏ ز بست عمان ہےکہ وہاں سے آرٹ تی 
غاب ہوجاتے۔ ٹوس مان تے صراحتا“کما ہ ےکہ بد کے اصولوں کے انور ریچ 
ہوۓ آرٹ کا تقصور خمیں کیا جاسکتا اور بدجھ آرٹ ایک اڑسی اصطاح سے جس کے 
کوتی صمی میں ممنفیوشس تنے ہر کی افاوی ت کو مض ہمہ بالئل ممعلہ زی ریا 
ہے۔ خلا انسوں تے اپنے پان ںکو نصح تکی ہ ےکک عراء کا کلام پڑھاکرو۔ اس سے 
میس چڑیوں اور پھولوں کے نام یاد ہوجائیں گے“ ہہمیں تی آرٹ پر عاشؾ ہوتۓے 
کے بعد اسے سمنفیوشس کے نہب کا لازی ش کک کا مق میں پپچتا ابع مغرلی 
محر ںکو ہہ مؾق حاصل ہ ےکم دہ اتی مضیاقی ضردرقو کی متا یر پر اور کنذٍ,ٹ 
کے اہب کو اور غراہب پر تج یں اتی نفسیاتی ضرورتو ںکی بنا بر بی مغری مر 
اسلام سے بے اخقتای برتھے رسے ہیں۔ از عنن حوسط کی رشنتی ابھی کک ان کے 
زہشوں سے وور میں ہوگی۔ مخرب کے آزادخیال آدی اپتی سجیدگی کے پاوجوو اسلام 
کے متحلق خو رکرنا ضروری میں ککت۔ اسی تحصب کا اث ہمارے آزاد خیال طبقوں پ 
پڑا ہے اور میں دوسرے نظام خواہ اہ خر ضروری طور بر وقش نظ رآنے گے ہیں۔ 


شن برا ٹن 


مض حعفرا کو چجھ سے غلکابیت ےک ہہ اعت جا سے علی مو یک وکرخنراروں 
کی زیان می اداکرکے مل بنا درتا ہے۔ خداجاتے ان یزرو ںکو ری ایک اس سے 
بھی زیادہ تشوٹیش جاک اور بیاری ایتزال پپندی کا اصاس ابی ت ککییوں خں ہوا۔ 
بدوے بوے نظریوں اور بزاہب اگر بر خو رکرتے ہوئے عام طور سے میں نے ان کے 
سج تزین تسور کے با مقبول تزین تقو رکو پیش نظ ررکھا ہے۔ جن وثوں مناظروں 
کا زور تھا مض ملمان ہہ خرسن کے پچھولے خی ساتے جےکہ امریکہ میس ایک 
مس نے جحقن سے عای تکردیا ےک حعرت عمیٹی کا وجود ہی خمیں تھا گر اج 
میس سکع کا جو تقصور بی کیاگیا ہے وہ انا ا ینان بخنش ےک اگر رت بی جاری 
آعموں کے سا سے موجود ہوتے نو اس کے علاوہ او رکیا ہوتے۔ اگر واقی ان کاوجور 
فرنشی ہے نز میں انسانی شنبل پر ناز ہونا چا ےکہ وہ ایےے اضرانے تخلیقکرستا سے جو 
حقیقت سے زیادہ جاندار ہوں * اور عام انساحی تکی ذہنیگیرائی بہ بھی خ رکرنا چا ۓکہ 
وہ آزار خیال مفمقوں اور عالموں کی طرح تشھل خی سے بللہ اضماقوں کی حتینق تکو 
بج عق ہے۔ مارکی تقید پر انظمار خیا لکرتے ہوئے بھی میں نے بارکسی نقادوں کے 
عھ ل کو مارکس اور ٹن سے وصیت ناموں ے زیادہ ابحیت دی ے- ای طرح متدل 
ماج اور منوازن دارغ روسة سے بھی مس تے واققیت بدعائ ےک یکوشش می ںی 
بلکہ ردمائی شاعروں کے رت بعد وپ اور امام جڑاں ڑا ککو برنا مکرتے میں لگا دہ 
ص ضر رس وع روا ےک 
مجیدری ہ ےکہ جھھے صرف لے خالات سے دی سے جمموں نے زعرہ اناتوں ے 
دل د داغ می اتھی یا جر یی نکی طر حکی حکت پیدا کیج مکن ہے سح شدہ 


۵۸ 


صورت میں راییج ہوۓ بہوں ہھر جن سے تسلوں کی نیس ماش ہوکیں۔ جج حقیقت 
کی تنیبت اقماتوں سے زیادو شخت ہے ۔کیوگلہ جب تک حقیقت پ اناوں کے تخل 
کاعل تھی ہوا وہ عردہ رہتی ہے حقیقت میں صمی اسی وقت پرا ہوتے وں جب وہ 
افسانہ بن جائے۔۔ عیاتب ان ہکی الماریوں کے شش بھی ضرور صاف ربے چائیں لن 
عیرا ول انسانی دیاخوں کے عل اور روعل کے مطاح میں ہی کلت ے۔ 

چتانچہ فن براۓے فن کا ذک رکرتے ہو نے میں نہ پے ہے معلو مک رن ےک یکو شش شکروں 
اکم ہہ فقرد ایجا کس ت کیا عہ ىہ دریاض تکروں گ کہ وہ سا لکوضا تھا اور اس دت 
موسم کیسا تھا یہ ہہ خو رکروں ماک اس نظرہے کے مومیر کا مطل بکیا تھا اس نے 
کہاں تک ا سکی پابند کی“ اس کے تو یکو نکون تھے انوں نے اصل نظریے 
می کیاکیا تزرمیمیں اور اضائے کے اورکیوں سے_ ہے مسائل مشکل ہوں یا آسان شش 
این عل کے گا خیا|ل ہی اچنے دل میں :دہ آنے دوں گا۔ شن براۓ شی والے 
نرہ کے متحلق جھ خوش میں ما خالط (میاں رایج ہوپچی ہیں صرف اشمی ںکو پٹ کا 
موضورع بنائؤں گا کی وککہ عام انسانو ں کی ہنی زتدگی بر صرف اخ کا اڑ پڑا ہے۔ آرت 
کل ہرمک میں تقید کا ایک ایا درس گگمر قائم سے جس کی رائتیں اوپ کے براہ 
راست اور ذالی اث >ر خی گلمہ ساسی مصلحت اندیشیوں بر ہنی ہوقی ہیں۔ اس 
درسے کے نویک دی وی کے اونی مزاج کا قر قکوتی مصعنی نیس رکتا۔ جما مس یکو 
ارب اور فی سے خی رصعمولی شخت ریکھا فور] مال رستوں اور ٹن براۓے تن والیں 
کے ربوڑ میں پانک دیا۔ ان پوگوں کے لئ بھیٹ “جک ری ہدس مکھوڑے سب ایک ہیں 
کیدقلہ س بکی ہار ٹاجگھی ہیں۔ سرعال جے بح ای خثایت بھی میں میرا تو بللہ 
تھوڑا سا زائرہ بی ہے۔ اگر لومڑی بھی پچہ نتر ہوتے کے مب میں کچلڑی جانے گے تو 
اوینٹ رے اونث حر یکون سے کل سی رھی کا طعنہ بے اث ہو کے رہ جا جا ہے۔ پھر 
اونٹ می لومڑ یکی سی پجکدا رر سے نے سید بال* مہ بوچھ ‏ ٦ری‏ چرچ اب تک 
جاعحق ہے۔ اس لے فن براتۓ ‏ نکی ج نحریف بھ یکی جائۓ اس کے پرتاروں میں 

وی فن برانے فن کا فقرہ س نکر میرے زبن میں جن توق اضورات پھا 
ہہوتے ہیں۔ 
کہا رکو معلوم ہے کہ میں جھگھڑ بنا را ہوں اس میں پائی رکھا جاے گا سے 


۵۹ 


حتیقت اس کے شور میں اس طرح جذب موی ہے کہ اب اسے اس کا خیال بھی 
میں“ اور عہ بھی اس کے ول میں ایا گھڑا بنات ےکی خوائش پا ہوتی سے بج 
یس پانی رکھا ہی نہ جاکے۔ جس طرح مٹی کا استعال اس کے کا مکی ایک ھک ے 
مقر کی ہوگی شرطھ ہے اس طرح گھڑر ےکی افادیت بھی۔ دہ ان شرائا کو تق جلی 
طور پر لی مکرما ہے س اب ا کک پودی فوجہ اس بات پر صرف ہوقی ہ ےکم مس 
گھڑ ےکو اتی بباط بجھر خواصورت مناؤں۔ اسے ش نکی افادحت سے انار خیں ے_ 
کیوکک ہگھڑا بنانے کا خیال ہی اسے ایک مادی ضرورت کے مامت کیا ہے گرا کی 
تج کا مرکز عحالیاقی حضرہے۔ بی روہ ایک ادیب اور شاع رکا بھی ہوسکما سے بل کسی 
نکی حد کک جرکامیاب فن کار کا ہونا چاہے۔ ورنہ فن کا اترام سے بغیر ہن وا 
میں ہوسکتا۔ چناجچہ اس حد کک نے جرفن کار غن برا خن کا کل ہو ہے۔ اکر 
ماع میں ہم آتگی میک سوتی اور مرکزیت ہو تو چاسے نظراقی طور بر خن کا ایک خاص 
افادی مقصد ہیککیوں نہ مھا جانا مرن نکرہ بالا ‏ مکی فن پرسی کا وجود ناگڑے ہوجاتا 
ہے۔ اگکر روس میں الس اور ہم آکگ اشنزاکی ترزیب بھی عمل ہوئی تر اس وور 
کے دی بھی فن بس سے نمی پچ حھیں کے_ 

اندرولی طور پر ہم آپیگ حاح مم ہرجسمانی اور دتی عمل کا مقر و متراع* 
یف“ طرسطنہ کار اور نظام زندگی میں ا کی مہ عقرر ہوتی ہے۔ ایک عمل نہ 7 
دوسرے ععمل کے لوازبات و مناسیات غص بکرسکتا ہے نہ اس کے مؾق میں اپے 
اوازمات سے وستبردار ہو سکسا ہے چنانچہ ف نکی جک بھی اس طرح ممین مدق ہے کر 
لیک اسے غن تی مجھ کے ایا رکرتے ہیں۔ کی اور عمل کا تم الیدل جج کے 
میں ٹی ایس“ ایلیٹف ن ےکھا ہےہکہ فن براے فن کے اصلی تن قز یں منزعویں 
اور انھارویں صدی کے لوگ کھت تے۔ اس کا مطلب بی ہج ےکہ اس زہاتے مس 
لوگ ف کو نہ نے آر تی طرح نرجب کا تام عقام متانا جا تھے“ نہ آسر وا ئل ڈکی 
طبح بودی زندی کا مہ کیوضٹو ںکی طرح سیاست کا۔ ہہ حقدنہ نظرافادی ت کو فن کی 
عدود سے خارج شی ںکر۔ ہہ بیان تے انفرادی طور سے پرتنزیب پ تخحصر ےک وہ 
ون میں اغادعت اہی ہے یا نس اور چائق ہے قے تم کی افایت۔ ہہ زیت کس تم 
کی ہوٹی سے اور اس سے جو فی کا نقسور پیرا ہوا ہے ا سک یکیقی تکیا ہوقی ہے۔ ان 
ہب پان کو خی رمتوازن معاشرے میں رجے وانے پوری طرحع شس بجہ بتا۔ ایک 


٦٦ 

اختاہ یہ بھی ضروری ہ ےکلہ مخلف ذہنی عوائ لکی انگ الک کہ مقر رکرنے کے مم 
مہ میں ہی ں کہ ان اتیازا ت کی تروین سیاسی وستور یا بقانون لحزرات کی شثل میں 
2ھ یو می ہد سح مد عم 
لگ وط نے رھت ہیں گر ا نکو نوعیت بیان خمی کرت .۔ ا ن کو الفاط کی شحل .یں 
یم دس ےکی ضرورت فزازن گگڑتے کے بعد ہوقی ہے کہ ا نکی فخالفت یا مایت نی 
جاکے۔ بسرصورت فنع اور زندگی جس فر ققکمرت ےکی صلاحت خوازن محاششرے کے 
تزازن کا ایک لازی اظ ما رے۔ 
۳ قش برامہے قن کا مقبول تزین تسور ہہ ہ ےہ شن کار زنگی کی تمام د پچپوں 
سے بے ناز ہوکے میں عالیاتی تنعین کے بییے بڑا رے۔ ہہ تقصور اس فاظط سے 
ول ہ ےکہ خاص خن کا عمل مون ہکم س ےکم اوب میں ق دستیاب ہو میں کتا۔ 
البعہ ہے ضرور عحکن ہ ےک کوگی فنکار عحال ببس قکی دھن مج اپچنے قجثزیا ت کو مورود 
کرےٴ اور اس طرح اتی تخلیقا تکو نتصان یجاہے۔ جس طرح آ ح کل بہت سے 
لوگ اس کوشش میں مصروف ہی ںکہ غ کو زنر بتایںٴ اسی طرح ساھ ستزسال 
لہ عقرب میں دو چار اقراد نے چاپا تھا کہ سادی زندگ یکو تن یتادیں یا زندگی کو اییا 
نی ںکہ اس میں شن کے سواۓ یھ رہ ہی مہ جائے۔۔۔۔ اور شن بھی اینے گے 

سے پکہ صحتوں میں ان لوکو ں کی سی کونشش بکا اگ :ایر پے نائعائی چان فی 

اس بیری شل میں ہہ نظظریہ خاید ہی کسی قرآور تار نے تو لکیاہو۔ المت انا طرور 
رای موی فقواس ید سجدو ۷ای۳ زرفیدے ال فرمك وا 
تج پر یی کہ ف نکی روح ععالیاتی گن سجف ار فنا بی کو یں کی ےید 
اتی قلیقات ت میں زیادہ سے زیادہ عمالیاقی تین فراہ مکریں. کن ہے بچھ قنکاروں 
نے نظریاتی طور بر فون برائے فرن کے اصو لکو بھی صلی مکردیا ہو گر عھلی طور یر چجتہ 
کوتی ازیا ععتقول ویکار نظ رجیں ]جس تے اس فظریجے نر مان لاتے کے بغز نگل 
کے اہم ترین پھلیو ںکو نظ اندا زکردا ہو یا ان سے وی ش مکردی ہو* انت 
عالباقی کین کا رس جن کے روگیا ہو زیارہ سے زیازہ نے گمان جھ ےو نت گے پارے 
میس ہوسکتا ہے۔ گر خدا جات ےکیوں' مج ےکوی سے والٹتگی ہی خنمیں ہوتی۔ اس لے 
مس نے اس کی ترمیں بس تکم ڑھی ہیں۔ بے جانے بوجھے ا ےگرون زوثی کے 
قرار دے دوں۔۔ اس کے علاوہ ایزرا باوتڑ نے دنا کے بمحرین اوب کا نصاب تزخححیب 


1٦ 


ریے ہوے بوو حلی رکو نظراندا زکردیا ہے او رگوسی کو رکھا ہے٠‏ آج رکوتی ق بات ہوگی 
ہی۔ عالاکنہ غن براے ف نکی جو شل اصل میں نتصان'رساں تی اس پر تقما حل 
ہوا ہی خمیں چسٹ عو ںکی ت میں بات ہی خی کر رہاٴ مر عام طور سے لوگ خی 
برا فن کا مطلب وتی مھت ہیں اور اسی حیثیت سے اس نظر ےکی خالفت ہوتی 
ہے پچلہ سو سال کے دوران مس غمع کاروں نے راہیو ںکی طرح غ نکی برست شی 
ہے اور ا کی خاطرج رش مکی تقیانیاں دی ہیں۔ اس لے شاید اس الد عضی کے لے 
بھی منیائش ئل آتی ہے گر یک خاص سیائی جماعت کا یہ وطیرد بھی رہا ہے کہ تس 
فنکار میں اپنے طر نکی سیاست نظرنہ آئی اسے بمال برس تک گالی جا دی۔ 

تیر یں ہے تو یں ی۔ میں فن برائۓ قن کا نیہ مفموم بھی و لكرت ہوں اور 
جال پرستو ںکی بری قرست بھی جس میں بوو حلیرٴ ورلشن* راں بو* مالارے' والیری* 
یر سب شحائل ہیں بللہ میں تے سور ہلٹو ںکو بھی اتمیں میں ملاۓ وبا ہوں- عالاکنہ 
دہ ین برا فن ت دو کی بات ہے“ فن کے بھی برستار خمیں تھے بللہ ف یکو پالگل 
تی ش ‏ مکنا چاجتے تھے اس کا ایک جواز تو ہہ سےکہ متمور و عردود تو نیہ لوگ بھی 
ہیں۔ دورے ا سگروہ کے اہام آتدورے بروں تے ابھی ۵ء می ںکھا ہ ےک پھم لوگ 
اب بھی جدید دو رکی اس عفیم روایت کے تائٴل ہیں ج بددٹی سے شروع ہوقی سے 
اس ردایت کے زمرے مم جن لوگوں کا شار ہو ہے ان کے آہیں کے نظراتی 
اخلافات چاسہے جو بھی ہو ں گر بادی اترم بی خیال ہوا ےکم یہ لوگ ش نی کو 
متقصود بازذات کھت ہیں اور فی سے صرف جعالیاتی لف عاص لکنا جاہجتے ہیں۔ لئ 
اس ممان ب یکو حقیقت کھتت۔ اب جم نظریات سے بجٹ می ںکریں کے“ مہ بھی یاد 
میں رھیں کہ راں ب یکو ٹن برا شن کا نظریہ قیول میں ہوسلتا تھا اور والیری 
نے الس شاعری کے تقصو رکو مل جایا تھا جم س ب کو ایک ہی حبی سے چے بے 
بجھے لیت ہیں۔ اب ہم نظریا تکھ چھو ڑکر ان لوکوں کا عل ریھھیں گے۔ جم خور 
ککریں کہ جب یہ لوگ تحلی قکی طرف آئے و اضیوں ت ےک یاکیا؟ نل صن سے 
یچچ سرکرداں پا سے یا ان کا تس اتی اور میرانوں می بھی ل ےگیا؟ جحالیات کا 
برستار نے کے بعد ا نکی زندی جو ےکم آب من کے دہ گی یا اس میں سمتد رکا سا 
برا گیا ؟ کیا سے لویل خر اور صراقت کے تصورات ے اگل بی کنارہ کنل ہو گۓ؟ 
کیا ان لوکوں می ں کی اغلاقی مکش کے ہار میں لت کیا یہ عقیقت ہ ےک نہ لوگ 


0 


عالیاتیق تسین سے علادہ اگ رکسی چ کی طرف مال ہوتے ہیں 3 فاسر جذبات اور 
اخلاقیق تخری بکی طرف ب کیا ہہ لوگ زندگی سے منہ موڑ کے مو تکی طرف جا رہے 
ہیں؟ اب جم ان سب سوالوں کے جواب ڑحوییں گے نظریات میں میں بلہ 
تقلیقات یں۔ 
انیسویں صدی کے پچلے پپاس سال کک حقی رکا عام اور غالب رہجمان بی تھاکما 
ارب کے مقاصر میں نع اور نفف دونوں چیں شائلل ہیں اس کے بعد یا لع گی 
شر بائلل ہی اڑا دی جاتی سے ما اس کا وکر دلی زبان سے ہوا ہے۔ نظریہ سازوں کے 
زین میں لللف کا تقصور تنا ارخح و اع ہو دہ الک چی سے۔ گر عام آدی اس لفظ کا 
عطلب بت بی صعمولی فص مکی لزت اندوزی یا صردر کھت ہے۔ ایک خاص سای 
میلان رج والی حقید اسی موم پر زور دی سے مآلہ چد اویوں کے م خلقی عام 
لوگوں کا ہے عحقیرہ اور مفبوط ہو جا ےکم ہہ تق ون رات ہنیک میں بڑے ” جمالیاتیق 
تنکین “کی جبگیاں لیت رہے تھے ىہ بات برجم سےکمہ ا ںممروہ کے شاعرعخالیاتی 
جن ت کی یل پر انا پورا زور صرف کرت ہیں۔ گر اممیں اہی قلیقات یا لق 
جدوضد میں موی طور بر جو ” مزا" متا تھا اس کے چند غھونے دکیھ جج 
بوو لیر سے ہہ حظیم روایت شروع ہوتی ہے۔ راں بونے اسے شاعروں کا بارشاہ 
مہ دا کا ہے۔ اس خدا نے ابی جعالیاقی تسین کے لے ایک وی جنت چا ری 
ہے جب وہ اس جنت کا لف لیت کے لے وہاں پت سے ت2 اسے ج کچھ نظ ر۳ ہے 
اس کا خلاصہ آپ بھی طاحظہ فریایے۔ 
' اے وس ! حرے جنرے می بے مس ایک اق 
صلی بکھڑی لی جس پ میری حییہ لی ہوتی خی ..... اے 
میرے آت ‏ یج اتی قوت اور ہمت عطا فراکہ شش اپ دل اور 
اہ حم کا يہ خور مشابر دکرسکوں اور جھے کمن تہ آے !" 
پچھرجب بوو لیر دا کی جتاکی ہوگی دنا کی طرف راخب ہو.] سے اے مندرچہ زیل 
لف حا ریا ے >۔ے 
می ظیم جنلو !ام سے بے ای ڑ رتا ہے عقنا برا ےگرجاؤں 
سے۔ تم طوفانوں کی طرح ہچگھاڑتے ہو اور جمارے عون و 
مقمور ول بھی جوایری نات اور موت کی از یکراہوں کا گھوارہ 


1٦٦ 


ہیں؟ تممارے فوجوں کے جواب میں کوک اشتے یں .....۔۔۔۔ 

سندر کے ہولناک قنقے میں جج کسی مختح و مخلوب انسان کی 

سی سنائی دیق ہے نجس میں آہیں اور گالیاں بھری ہوں !" 
محبوب سے محبت جنناتے مٹتا سے تر اسے پراسی کر ہے ق 

اس وت تک عیری بح سرخیں ہوعحق جب مت کک کی 

کے گے ورواز و تھو لے ہو نے خوف زدہ تہ ہوٴ جچے ہر طرف 

معیبت بی معیبت نظرنہ ہے کنشہ بے و کاپ تہ اش" 
اب دور جدید کے اہام اعظمم راں ب ھکو دی ےٹک ا نکی چیک کاکیا رگ ے :- 

منمیں زج رکا پودا قح چڑھاگیا جوں ......۔ میری اعٹمیاں پکک 

ری ہیں۔ زہر کے زور سے میرے اخضا یس شُئے ہے“ مر 

شل کڑی جا ری ہے۔ می بالنل ڑھےممیا ہوں میں پیاس کے 

ہارے عررہا ہوں؛ میرا دم گحمٹ را ے۔ میں تی جک ننہیں کا 

جم ہے“ ابری اقیت آ ڈرا یھو پک کس ھڑگ ای ہے ! 

مم بنا جا رہا ہوں** 
انییں محعلوں کے آشیاں می سوا چھوڑ کے گے بد نے اور دی کہ امام مال لوتزیا 
مو ںبس مکی عشرت اندوزی میں شین ہژں:- 

اوتزیاموں کا اضماتوی نمائرہ مال دور ور سمندر شض ان ڑگیا ہے۔ واں اسے ایک 

شارک بھی ملق ہے۔ دوتوں کی یں ي کی معلوم ہوتی ہی ںکہ ہہ جھھ سے بھی 
زیادہ برہے خر وہ لی کا پوسہ لیتا سے اور اس سے ہم خوش ہوچاتا ہے وو مقبوط 
رائیں جوکو ںکی طرح اس خوفاک مچچل یکی جنپباقی ہد یکعال ک ےم۷رد لپٹ جاتی ہیں“ 
از اور گل پھڑے تحبوب کے جم کو بڑے پیا ر سے آ خوش میں نے لیے ہیں ان 
کے گے اور بے ایک دفصرے سے جڑجاتے یں اور روتوں شس ے حترری پروں 
کی بد کے پیک اشن کے ہیں دہ دونویں ایک لویل پاکیزہ اور ہولناک ہم 
آخ وی میں مصروف ہوجاتے ہیں : 

۰خ میں یھ ایک اڑی تچ مل کی خی جھ جھھ سے مشاہ شھی۔ 

دہ سے میں زندیی میں عتمائی حسوس خی ںکروں جا !اس کے 

خیالات بھی بالئل میرے بی جیسے تے ! میری بہلی جوبہ میرے 





زان 


سا سے تی ×١‏ 
میس آ پکو مضمون کے شروع سی میں ڈرانا تو نہیں چابتا تھا “گر لیا تی تسین کا تاشا 
درکھانے کے لے ہہ منطربھی چیی کنا بڑا۔ گر ابھی آپ ناک بجھوں تہ چڑھاہجے “خی 
اور غرمت کے لے بت وقت ہے۔ لہ ہہ اور لماحظہ قریا مج کہ جدید دو رکی عظیم 
ردایت کے سن اماموں نی آندرے برقوں اور فلپ سو رک وکیے سرد رگٹھے یں :_ 

'مہمارا منہ عم شدہ ساعلوں سے بھی زیادہ خنگ ے۔ ماری 

ہیں یق کسی نوج سے بق یی متصر و تما ےگھومتی رمق 

ہیں ......۔ شاندار اٹیشتوں ی بھی جمیں پا خی ملق 

مایق مہ پر ہے“ اور ا بکوگی آوی جات ممی ںکرکتا۔ ہر 

نس موہ ہوکئی ہے' اور اندھھے بھی ہم سے بھٹرژں سس 

ساری زین کا عفظ"یم حسم ہمارے لے کائی محابیت خی ہوا ...۔ے 

ہہ فلت ہروسنزخواں پر مزا د ےگی۔ گر اقہو ککہ جھئیں بھوک 

ی میں ری !* 

ىہ تذ دو تن شالیس ہیں۔ اس دور مس ہج رآدی کے یہاں قرم قرم بر اپیے ہی 

شمدید روائی درد وکرب کا اع مار ما ہے۔ اس خنصرکی موجودگی میں ان لوگو ں کی ػِق 
کاوشو ںکو صرف اور محض لزت اندوزی یا عحالیاقی لف کک ححدودکردیتا جائز جیں۔ 
اگر زرا سے لط فکی نما ران لوگوں تے ہے روعائی ازعت قیول تو ل کی ہے 3 ان کی 
مت واشی داد کے قاعل سے اس روعائ یمہرب کی ایک جیہہ ہہ ہوحتقی کہ خود 
ایق ان کے غیرمیں بڑی تھی اور ن میں لکیہ کل کر دہ بی طلب پور یکرتے تے۔ 
اس سے تو اثکار خی ںکیا جاسکتا گر نضیات سے اس یا تکی نجیر یں ہوگم یک ان 
کی خود ازیتق بی شحل ککیوں اخقیار کرت ہے ہے لوک بدے بدے اابعد الطیںآی 
سوالات پچتے ہیں۔ انا نکیاچت ہے ؟ کاتجنات میں اضا نک یکیا کہ سہے؟ کاتنات میں 
رکا وجو رکیوں سے؟ وخیرہ وقیرہ جب ان سوالوں کا جواب خی ستا_ یا پچ رون اگگیز 
جواب خی ا ت ان کے اندر وہ خم و خحصہ اد رکرب چا ہوا ہے مج سکی میں تے 
مشالیس ریں۔ اگر ہہ لوگ جنی چچزوں کا وک رکرتے ہو جھیتے فے خی رہ مکمہ ھت سے 
کہ ا نکی خود اذیق نے خکاس کا ہہ راسند ڈحوجڑا سے اور اپنے آ پکو لیف جچانے 
کے نے اتال عل ابعد الطید"قی مسائل کا ڑا ثکالا ہے۔ گر جیساکہ آپ نے 








1۵ 


طاحظہ قرایاٴ ان لوگوں نے منہ سے لوتی بالنل اتا رکر رکھ دی ہے“ نی بے راہ روی 
ہے اعظمار میں اخمیں ہارا آپ کا کیا یھو یٹیوں کا بھی حاط خی ہو اس لے 
نضیاتی جلویں سے بھی کام میں لے گا۔ اگر ہے لوگ اتتا درو اپنے اندر کٹ ہوۓے 
ہیں تو اس کا مطلب ہہ سس ےکہ اض عمالیاقی تح٣ین“یا‏ لت اندوڑی “یا خدازیق ے 
ن کی بڑی زی کگر ہے جو اجمیگمراں قزر معلوم ہوتی ہ ےکہ است ےکرب سے دو چار 
ہونے کے بعد بھی ان کی روعائی کاوش میں فرق خمیں آت اور ا نکی جدوججد برابر 
جاری رہقی ے۔ 

اپ ایک نا سوال پیرا وت ہے۔ اگر ان لوگوں کی گػلیقی کاوشوں کا متصر 
عالیای تین سے بیھ زیادہ تھا غن براتے فن کا دم بھرت ےک یکیا ضرورت تی؟ 
ار ان کی ػلقات مں اغاق مسائل کاتتا ت مر سوالات اور ایک جال گراز اپری 
گن عق سے تو اہبے نظریات میں فن کو عحض جمالیاقی حص کے مظاہ رکک محدود 
کر یے می ںکیا مصلحت حی؟ ان لوکوں کے بارے میں مشمور ہے کہ اع کے لے 
زندگی می سب سے بدی چچیز فن ہے ۔ انی بی ہگوارا خی کہ جمارے خن > تربی* 
اخلاقٴ سای معار عائد ہے جائیں۔ جیساکہ آپ جاسنے ہیں کسی نہ کس یتح کی 
تھوڑی بست اخلاقی تجیحات کے لغ کوتی ارب پارہ تخلیق نمی ںکیا جاسکتا۔ قام مروجہ 
معیاروں کو تر کفکرتے کے بعد ان کے لے لازم بوگیاکہ ادب پارے کے ساجھ 
سا اقتزار بھی تخلی قکریں۔ اگر اخمیں صرف و حض تسحی نکی حلاش تیب اموں 
نے موجہ معیارو ںکو چھوڑ کے اخعمالئی ماق ت کی اور اپنے سر ددہری حنت فی۔ ان 
کے لیے آسان تین راس قے ہہ کہ جس مع مکی اقدار بھی جس رآتیں تقو لکرے 
اور ا ن کی جیاد بر اپنا عمالیاقّی نقش بناتے_گمر ان عمال پرستو ںکو نی رعمالیاتی چڑوں 
کے غخلاف ات کر ی دکھاتے اور اپنے ف یکو قمام مروجہ تصورات سے آزا وکراتے کی 
پیا یکیں ہوگی؟ 

انیس وزیں صدی کے درمیان میں بمت سے بڑھھے کک لوکوں کا اختقاد رہب پر 
سے اش گیا تھا۔ جو زیادہ ساس تے وہ اور چو ںکو بھی ش ےکی نظرسے ریت گے 
تھے۔ یہ عل اور اس کے اسیاب و متا جکوتی ای ڑقی تی باتیں خنمیں ہیں۔ اس 
لے میں اختار سے کام موں گا۔ ایک خاص علق کے خیال می یہ سب موس لق 
کے اتحخطاط کی نشانیاں ہیں۔ ہہ راۓ بھی اپتی کہ درست ہے گر اوب کے طالب عم 


٦٦ 


کی تی کے گے اتی بیات ماق تین نار کے ویاتے ین اور ان سے تھی سو مال 
پھلے ووں کے زانے میں تو سو سے لبق کا اخحطاط تے الک رہ مق بھی پاری طرحع 
شروع میں ہوتی تی۔ الع سک پچھہ آعار ضرور نظ رآتنے گے تے۔ گر ان ووٹوں 
شاعرو ںکی ذاتی زندگی ادر تحلیقا تکئی اہم جاتوں میس جمارے زم نظرشاعو ںکی زندگی 
اور تحلیقات سے مشایہ ہیں۔ خصوصا ویوں می تر یٹ ای مم کا درد وکرب کا ے 
جو ورلین اور راں ہو ہے۔ چناجچہ ارب میں عال مک رلک ہے معمل کا مطاع کر تجے 
ہو ہیں اتی نیش کا آغاز نشاط اص کے ددر سے کرنا بے گا نب لف اشزات 
کے مائحت کلیساٴ بلکہ غہہب سے بے اعمینانی کا سلسلہ شرورع ہوا۔ تہ ب کی عقاشیت یا 
ضردرت آپ کے نزدیک صسلم ہج با نہ ہو ایک بات مان پڑتی ہ ےک عام آدبی کو 
رہب دو چار بڑے ازیت جاک سائل سے محفوط رکتا ہے۔ خلا ایک ت سوال سے 
کانات میں شر کے وجود کا دو مرا سوال سے انفرادی بقا کا۔ تسا محاطلہ ہے عالم 
موجودات میں اتسا نکی حثیت کا۔ میں یہ ہیی ممی ںک رت کہ ب رہب ان لو ںکو وو 
اور دو چا ری طرح ع لکمدتا ہے یا خرجب پر ایمان لاتے کے بعد آد یکو اس تم کی 
کوتی تشویش ہوقی ہی شییں۔ نین اتی جات ہےکہ نہب میں آ پکو لاڑی طور سے 
دد چا کی طرح می لکمدتا ہے غرہب پر ائمان لانے کے بعد آ دی کو اس تم کوئی 
تٹولیش ہہوقی جی میں جن اتی بات ہہ ےکم نہب مس آ پکو لازئی طور سے دو چار 
بائوں پر اگ رگھر سے بی رامان لانا پا ہے۔ اور ان بقیادی خفروضا تکو مان لیے کے 
بعر ایک ایا علق نظام تب ہوجاا ہے جو ایک عام آدبی کے روعاتی مسا ل کو تشنی 
بش رییقے سے مع لکنا ہے۔ لیکن ان بیادی مخ وضات کو تر کفکردیا جاے لے 
مسائل اڑی خوفاک شل انتا رکر لیے ہی ںکہ ابھی کک اضاتی راغ انمیں عل تمیں 
کرسگا۔ اور حل سوچ ہے تی ہکہ اڑسی باقوں سے کی کاٹ کے کل جاؤ۔ گر قیکار کے 
لے مععبت سے ہے کہ وہ جیات سے میں شیں چا سکھا۔ مہ ہہ ہے کہ اے 
ستتل درد وککری پکی شدت بدداش تکرتا اتی ہے۔ ولوں اور مارلو نے خشروع بی میں 
حسو ںکرلیا تھاکہ ہہ بے دبتی ہیں کے کی ےکن وکیں جھوا ۓگی۔ مارلو کا حیطان کک 
اتا ف کر ہے کہ خمدا سے چسٹ جانا دوزغ کے عابوں سے بھی رید ت7 عاپ 
ہے ووں ایک اور بات بھی مو کر ہے وہ ہ کہ سریایہ دارانہ نظام مں انان 
کیاکمت نے والی ہے۔ چتانچےہ سعاشر ےکی طرف سے بھی بے می کی داغ عل ید 


ے1 


چھی ہے۔ تل فکی خخلف میں اتی اتماتی ہولناک شل میں جدیدیت کے شاعریں 
کے یماں ‏ اہر وی ہیں۔ اب محاشرہ سبتی“ سعاحشی اور سیاسی اعتبار سے بھی نیر 
موازن ہوا ہے۔ او راس کے نظام جس اتی جان میں ر یکہ سب اقرا کو ایک 
ڈُرازے مس چوڑے برھے“ یا ان سے وفاداری کا مطالہ موا ے_ ان ا ال 
کاححات سے سے ول کرویا تھا “ گر ساکنس ان سوالوں کا کوئی جواب تہ وے کا“ 
جنییں دا کا تو ری نکی طرح ح لکردتا تھا۔ اس لئے ڈینکارو ںکو ساکنس ۔ بھی 
اعتاد نہ را انیسویں صدی کا ایک نا دلو تھا تق لیکن ترق سے مم ار مرن ہیں 
نہککیس چچھے رہن کے ہیں تے یسا راں بد ت ےکما تھا یہ بھی مان ےک رت اگھوم پر 
کے دہیں آجائے جماں سے پل تی محخقرر کہ غن کار* خزجب ‏ سائحنس* کک و قومٗ 
خانرانٴ اخلاقی تقسورات سب سے بنزار ہوسا چلامگیا کی لہ ا سکی دنا مج سکوئی مرکڑیٰ 
سور میں ربا تھا جس سے ہہ سب یں بھی رہ گھیں۔ لیکن چوکہ ان قورات 
کیگرفت عام لوکوں پر بای تھی اور شلف لوگ محتلف طریتوں ے اس عقیر ت کو 
اپنے ذامرے کے لے استعا لکررے تھے اس لئ فنکار اور بھی وکنا بوگیا۔ چنانچر 
یم دو ے ہی ںکہ عمالیاقی تسین حاصل اور فراہ مکرتے کے علاوہ وہ ایک اور کام ظرور 
کر رہا ہے یی جر موجہ تقصور سے انکار کم س ےکم اس میں یہ خوانش رور نظ رآتی 
سہ ےکلہ میں دعوکا مس کھاوں گا ادر ان فن میں نو کی امیوش خمیں ہوتے روں 
گا۔ اگ کسی خی رجمالیاتی تقسو رکی ضرورت پڑی نز خود ڈھوڈ لولں گا۔ وو رو ں کی یات کا 
ین نمی ںکروں ا 1 

شع کا رکی دنا می اس کی ععالیاتی حس یا اعصالی تزیہ وہ آخری نز رہکئی تی 
جس پر اسے مین آ گے کو تھوڑے ہی دن بعد اسے اس زی بھی کک ہوتے آگا۔ 
اپے آپ سے خلوص برے اور آلائنتوں سے پاک رہ ےکی لکن خی جس نے تن 
برا غن کے عقیر ےکو جم دیا۔ فنکار زندکی سے یا اخلاق سائل ے بھاگ نمیں 
را تھا۔ الب اسے دوسروں کے پی یکردہ عل تول خنمیں تھے فن براے فغن کا نظ 
بنا گاو شعیں تھا بکلہ میدران کار زار فیس کے علاوہ خام اقزا رکو ر دک رکے خن کار 
زیر دس اوک لی شش اپنا سرد را تھا۔ دورد جدید سے پل فن کار آسانی سےسمہ مت 
ےکہ مارے خن کا متصر منفعت بھی ہے اور ال ف بھی ۔کیوکنہ ان کے ڈہن میں 
منقحت کا واج تصور موجود تھا۔ گر نے قنکار کے پا لقع تصان کاکوٹی بنا بنا معیار 


1۸ 


خی تھا اسے فو خود تر ےک رکے پت چلاتا تھاک۔ ه٦‏ کیا ہوا ے اور تتصا نکیا۔ اگر 
اس نے منقعت کا خیال تر کف کردا نوہ مجبور تھا۔ فن پ ہکی اور عم کے سعار عائر 
نہکرنے کے مم ملا یہ ہوتے ی ںک۔ فا ری ادارے یا وچ تضو رک ابراو قول 
کرت ےکو حیار خییں' بللہ ححضس اپیے عل بوتے پر یق تکی حا کنا چاہتا ہے۔ خواہ 
آخر میں اسے حقیقت اشیں اداروں جس لے قن برائۓ قن ج رم کی آسائیوں* 
تر خمیوں اور مفاروں سے حفوط روکر اضسائی زندگی کی جیادی خیقو ںکو ڈہوجڑتے کی 
خواہش کا نام ہے۔ بظاہ رن ہہ بات ضرور ہیل اعتزاض معلوم ہوتی ہےکہ اس نظریے 
ایک آ دی کے ذاقی نباشرا تکو سب سے با معیار ماناگیا ہے گر اس اعتزاضل 
میں ہہ ححقیقت پیش نظرمیں رکھ یگ یکہ یماں ایک آدی کا سوال خی بللہ فیکار کا 
سدال ہے شع کار محس ایک آدی مجنم+ب من گار براہ راستی زندگی کا 1د کار 
ہے ۔ دہ ایک صعھل ہے جماں زندگی جرب کرتی ے۔ راں ہو کے ول ہیں ہے نمیں 
کنا چا ےک میں سوچتا ہوںٴ بللہ ججھے سرچا جانا ہے۔ اس لے کا رکی تلیقات کو 
ایک آد کی راۓ خمیں سا جا “کتا۔ ہہ اور بات ےکم جھوئے فتکاروں سے بھی 
ہیں وق“ ف9و“ سابقہ پڑما ہے۔ گر اس طرح تو جھوٹے کرو ں کی بھی دنا مج سکب ی 
یں بمار کے صصق جیل خشرٌ صاحب بھی براہ راست اللہ میاں سے خطاب لے 
کر عازل ہو تھے مھ راتجمی ں کسی نے کیم انقد میں مھا 

ان نضریحات کے بعد حر ہوگاکہ میں جدید شماعروں کے دو چار الے بیانات کا 
جائزہ لوں جو بظاہر بے خطرناک معلوم ہوتے ہیں۔ بووحلیر تے کھا ہے ہکس یکو "|| 
افزام دی کسی کی عخالضت مرا بکمہ انصاف کا مطال ہکرنا بھی بد نراقی ہے ظاہرمیں ت 
اس کا مطلب ہہ معلوم ہو ےک ن کا رکو انصاف اور آزادی کی لڑائی ے واسطد 
میں رکھنا چان گگرہہ بیان آسگر واخن کا شی بود یترتا ہے. بوو ۔بلئر کے سا سے 
ایک فمایت بی زبروست مہ تھا۔ حقیقت کا جو تصور اب کک راری تھا وہ ککام خییں 
دے را تھا۔ اب فنکار کے لے ازی خاکہ یقت کو سے سرے سے سے حقیقت 
کا ور مین مہ ہوسکا ہو نے انصاف کا مطلب بھی + + دجام ہے۔ اس صورت میں | 
کس عم کے انصاف کا مطال ہکیا جاے؟ دراصل اس عم کے ہلک ے اتصا فک 
لڑائی مم کوک یکی نیس آتی ۔کیو کہ اس سے انصاف کا متلہ تا ہے۔ اگر اس تم 
کے کو روس امرکہ اور انگتان کے اریاب انار اپنے دل میں تھی بھی راہ 


11 


دے وی اکرتے تو یٴ ابین“ ا وکخن دزدو ںکی ان بن کے تہ رہ جاتی- 
تس ای طبح جب راں بو اخلاقا تکو دا غکیلکزدری .ا سے ت اس کا مطلب 
صرف ہہ ہوا ہے کہ جو لوگ عالات کا حاظ کے لقیر ہر موجہ اخلاقی تقانو نکو بے چون 
د چا تیم ریت ہیں وہ سوج ےکی طاقت 8ھیں رکھت۔ خور راں بو میں ااق 
اقدار فراہ مکرتے کی طاقت تھی یا خمیں اس کا عال اس کا کلام پا ھکر بی معلوم 
ہے۔ آپ آنرنے خزیز کا ایک رسواے راف مل کج۔--۔۔۔۔ہ کا 
لاق سے طز وا اس را 2ا ضا ان ےس مہ 5ل فا مجنگنہ 
ید فن کا رکو کی سے بالقل بے میاز ہوجاتنے کا مشورہ وت ہے بللہ اسے کنا ہے سے 
کہ معاششرے کا انوروثی ناژ نگلڑ پکا ہو “گگر ىک و پر کا تصور وبی چلا رپ ہو ج وتھل 
٠‏ حم نی اور نازن کے ووقت تھا“ ایا ور فن کا رکز یئ علق ین یز" ین دم 
او ہے کوستو سوک ہہ ساس تس 
پوو لیئر نے یطا نکو جلا وطتوں کا عصا اور موچرول کا چا غکھا ےب ال کو یہ 
اخلاقی معیار ڈھونڑنے ہیں ن3 روچ معیارو ںکو تہ کی می ںکزین یں اس سک لئے 
لحض وقت می کو یر اور ب کو یک مج ھکر تی ہکرنا پڑے گناک حقیق تکیا ے۔- 
اس سے جے ٹن نکاز:ج عم کے مزوحز نو ات رسے ہے ف کو اڑا رکنے بر ممررے 
ہیں۔ بللہ ید نے ے اس معامے مس بدی سخ تگیری سے کام کیا ہے۔ اضسوں ت ےکنا 
ہ ےککہ اگ آپ کی اعت "یں شاعل ہہوں صے ت جماعت آپ کو ق دکرلے گی۔ 
اصل رای جھلے کا تزجنہ ازدد جس میں ہو سکتا۔ وریہ اس کا لیک مقروم ہے بھی 
ہوا ےہ اگر آ پ کوگی فیصل ہکریں ے تو اس فیلہ کے اصیر ہو کے رہ جاتیں ھے۔ 
نی ید جاہے ہہ ںکہ آپ ہے حجزیات سے تجھی معکسشن مہ ہوں“ بللہ جو بات سے 
کرلیس اسے پھ رح کفکی خورد بین سے ونکھھییں۔ اسی طرح روعاقی سخرمیں وہ پل رے 
صخقرکی ہوتی مضنزل کے مال یں ہیں ان کا خیال کہ اکٹ تحلیقی خیالات ہیں ی 
کیل ی بھیل مس چدا ہوتے ہیں۔ آ ج کل قرانس یں ایک ترک بی ہے- د3مہ دار 
ای بکی۔ اس کے متحلق ید ث ےکما تھاکہ ؟ رج تو آپ او پکو مہ دار متا رے ہیں * 
کی من کہ خیا یک چھی وسہ ذلز چونا جا ہے می اکر عقرن ظرلپون کے لوہ گی 
اور طرح سوچ کی پامندی ہوکئی تو عخلیتقیق خالات کا تچ ىی ارا جائۓ گا۔ ٹیر کے 
زدیک تن خالات سے اتساحیت کو فاکدہ بتچا ے“ وہ گو] روعائی یا تق کیل _ے 


7 

دا ہوئے ہں۔ فن براے فن کے نظرہبے کو بھی آپ اسی تم کا بھیل بھھتا_ ہو 
لو ککمی نکی عمل می ف نکی برنی کے قائل سے ا نکی بیادی خوائش زی 
سے کنار کی نی می جس طح دنا کی ابتدا سے ےکر بج کک فن کار ہے 
خیالات' تورات؟ اصاسات تقلی قکرنے کا بھیل کلت لہ آنے ہیں* دی بھیل نے 
لوگ بھی یل رسے تھ فرق نے ہےکہ ان کے ححیل کے تیر زرا حلف ھھ ہے 
کیل وں تھی جانا خھماکہ لہ 2 کاتحا تکو ریزو دی ھکمددٴ اور پھر ایک خی کائحات نا2 
جھ پل سے زیادہ شین۔۔۔۔۔ ہم آپگ* منوازن اور پاستی ہوں اس بھیل ہیں ے 
لیگ بارے ہوں یا یت ہوں* مسرعال انضوں تے کھیلا قرور۔۔--_ 

من ہے غن براتے فن کا نظریہ ہوا ملک ہو ۔ گر یں نے ق2 اتی سی لیپ اوت 
کی دی۔ صرعال آپ میری یات پر نہ جاہیے' جن لوگو ںکو اس نظریے سے مفلق 
کجھا جات ے“ ان کی گے 22 جدیر رواےت نے جو بت سوچا؛ ھا اور موی 
کیا اس پر جھ چھھ جق ہے ا کی محروسیاں اور کامرایاں' خرض پر کا وڈ راں 
ہوک عم دوضغ می ایک موم مس لیا ہے جو ول ہام میں کاصی کی تھی_ بہ نظم 
آ پکو تا ےگ یکہ اک تمال پر کے بارے میں کس یکو خوش فمیاں جھیں تو کی 
جلدی رشع دگلئیں۔ اور جر فا ہک اتی اتی تمہ پر پنۃ پ لگیاکہ نمور بھال کی بیاد 
چند غیرعالیاتی اور جم ہ گر اتزار اور اخلاق اغیارات پر تہ ہو 7اصا جال پڑات 
خرد ایک معیبت بن جانا ہے راں ہ کی لعف میں شروخع ہوقی ے : 

”کچھ ٹھیک یاد ہے ل ایک زانے میس میری ذندگی الیک غیافت می 'بماں ہر 
ول کاکنول کل جا تھا' جماں پر طر کی شراب کا رور چتا تھا_ 

ایک شام میں نے سس ن کو اپنے گشنوں پر جٹھا ید..۔۔۔ اور جھے اس کا مڑا 
گڑوا لگا اور ں نے اے گالیاں ریں* 

وراصل سادی بات ان جن چھوئے چھوئے جملوں میں بکئی ہے۔ اخل قیات“ 
ادد مرہب یا ایک موازن اور جم ہگ رنظام حات* .کی اجازت سے ماع بڑہوائۓ ایر 
صن کو عوں پر ہٹھانے کا بک انام ھا سیف تی آپ: راں بد کی دبا دی سن 
گے کیاگرری ف 

”نمس نے انون کے غلاف جیا ر اٹھا لئے 

میں بھاگ کڑا ہوا۔ اے جار وگرقوٴ اے الا“ اے یت٠‏ میں نے انا رای 





4 


مممارے پر وکیا ! 

آت مہ عال ہواکہ ہر طر عکی انسانی امید میرک روح سے خاخب ہہوگئی۔ ہ رصرت 
کائ ہکھوسٹے کے لے مم بمرا بن کے وی ددندر ےکی طرح اس پر بجحیٹ پڑا۔ 

نے عملادو ںکو بلایا کہ دم نڑتے ہوتۓ ا نکی بندوقوں س ےۓکندے واثؤں 
سے چیا سھوں۔ میس نے وباؤ ں کو پکاراکہ ریت سے خون سے میرا گلا ھوشٹ ریں۔ 
میں نے معیی تکو اچنا مجبود بنا لیا۔ میں کین زی لونا۔ میں تے جم مکی ہوا سے اپ 
آ پکو کھایا اور یں تے دداگی سے دل گ یکی۔ 

اور موم بمار میرے لج اڑ خود رقتن مچڈولوں کا سا ہولناک تق ےکر گیا_* 

یہ عالت صرف راں ہو یکی خی بہوگی' بلمہ اس رومیت کے اور شماعرو ںکو بھی 
وومرے تام تضورات سے کنارہ کل ہوکے صرف حسن پ رس کمن ےک یککونصش میں 
ای مم کے ہزات سے دوچار ہونا پڑا۔ اب ان کے ساتے دو راس کے یا ت اپنا 
خزانہ چادوگریٹوں کو * افلاس کو نفرت کو پر دک رکے قراخت سے بیٹہ ہائیں کم ہو 
گذرتی ہ ےگ داککرے۔ یا برای وند کو خی اخلاقی بخیادوں پر پچھر سے فی رکریں۔ 
الہ مال پسق سے لے ہولناک تا پیا نہ ہوں۔ ان ششاعروں نے روٹوں ہاتیں 
کییں۔ بھی قوامت بار کے بے بھی عم تکرکے اف ھرکھڑرے ہوتے۔۔ ا نکی ہے 
دی کے ھوتے میں بی کرتی چکا ہوں اور نہ بھ یکرت ا اوروں نے اتمیں پرنام 
کریئے :می نکیاکسرچمونڑی ہی جن ے صرف سے دکھاؤن گانکہ ان لوگون میں ضررت 
تی کت شدید تی 

راں بو نے نمکورہ جالا عم میس ورلشن سے اپنے بارے مس ہہ الفاظ کسلواۓ ہیں 
' جب وہ گے بے ول سا معلو "ما مس اس کے ہج ریب و خریب اور یرہ خخل کا 
و فردفریڈار جا. آلج جات کے کن ری ا 
بھی جار می پاصحق. راقو نکو میں اس کے سوتے مو مے پیارے جم کے برابر لی 
کنتوں حائق رىی ہوں اور ہہ ععلوم کرتے کی وش شکرکی ربی ہو ں کہ ٢خ‏ وہ 
حقیقت سے ات اکیوں پچنا چاہتا ہے۔ اڑی خواہش ‏ و تج ک ک می آ دی کے دل میں بھی 
تہ چیدا ہوئی ہوگی ا سکی طرف سے فو جھےکوتی اندیشہ میں تام گر جھہ محسوس ہو 
تھاکہ دہ معاشرے کے لئے ایک زبروست خطرہ بن تا ہے۔۔۔۔۔ شاید وہ زندگی 
کو برلیے کے سریست رموز سے واقف ہے؟ پھریس خود ہی جواب دی کہ میں وہ 7 


اك 


صرف ان رم زکی حلاش میں ے" 

-_ فو زندگی کا بد انا ای تال سے کن اے سارے چدیر اورپ کا موان ھا 
جاتے۔ وہ حقیقت جس سے راں بو یا دوسرے شاع رپچ کیکونش لکررہے ہیں مرف 
یقت کا مروجہ تقور ہے؟ نس میں اخلاقیات سے لب ےکر سیاسی اور معای نظام تک 
سب چتیں آجاتی ہیں۔ ہہ لوگ موجودہ عیقت سے بے خیاز ہہونے ک یکوسش شکررسے 
ہیں کہ ایک ی حقیقت تخلی قک رگھیں۔ اور و اور خود مڑید کے یماں جن کے غلاف 
آج کل سے جات بمت زدروں سے کی جا رجی ےہ اخمیں ذاتی تسین کے علاد ہی 
چ سے علاقہ خ!یں' مس خیال بار جار ہا ہے کہ انسان فطرت کے مقاے پر ؤٹ جاۓے“ 
اسے تابو میں لان ےک یکوش شکرے اور اس طلمۃ انی زندی بدنے۔ اشی پروی تھی 
کی داستان بت عزیۃ بے کی وہ اس نے المان کے قائرے کے لئے اسان سے 
نک اتی تیم جس سے زطدگی کا تتشہ بت گت پرلا۔ 

راں ہو کو تو تام فطری اور ماوراۓ فطری اصرار و رہوز معلو ممککرتے کی اڑی 
گن یک دل می جروقت پگ بھزکق رہتی عھی۔ اس نے اپنے دو خلوں ہیں ایک 
جاتاعدہ نظرہ بی لکیا ہ ےکہ شا کو عارف بھی ہوتا چاۓے- اس میں ہے اہلیت ہ وک وہ 
جر نکی ح کک دہ سے اور تتقیل کا نظارہ بھ یکر کے اس عارف کا ایک اص 
فرییضہ ہے ہے کہ اپتے اندر جو ماوراۓے عمل قوتیں موجود ہیں ان کی یرد سے غاری 
حقیقت کا نقاب جاک کہدے اور اس پردے کے یچ جو ازلی نور ہے وہاں تک کچ 
جاتے۔ ا ںکی راۓ میس سب سے پا عارف بوو لت تھا۔ راں بوکھتا ہ ےک آخجدہ 
سے مماخری عل ہے سا جا مین سل کیو پل نے ری کی گے نت کا 
سمطلب یہ می ںک شاع رعمل سے بے از ہ وکر قگر طلق میں ڈوب جا نے گا ران ىو 
شاع مرکو آسمان سے اگ جراتے والا جا ہے۔ مق شاعرجن حقیققو ںکو بے نقا بکمرے 
گا وہ صرف بمالیائی تین کے کام میس می ں گی بکنہ ان سے انسا نکی زندگی برنے 
گی اور ہمت زشل اختیا رر گی - 

زندگ یکو از سر فو حخلیقیکرتے کا خیال خرف خواہش جک دو خی رہ ان 
لوکوں نے اپنی سی کوشش کی ضرورٴ خواہ دہ کامیاپ ہوتے ہیں یا تاکامیاب“ یا ہے 
یی سرسے سے سمل ہو۔ اس دقت وکر صر فکوسشش کا ہے ۔کوسش ش کی توعیت کا 
یں راں ب ھوکنتا ہے ”می نے سے بخول“ سن ستارے' سے جم خی زیائیں اییاد 


1ھ 

کر ےک یکوشش کی ہے ۔ بیج اییا حسوس ہوا ہے تجیے جھہ میں بافوق الفعری قرتیں 
بی ہوں اپ نیت کی ایک فعظم کا اققباس دکھے ‏ ہم آ پکو ضمایت مجیب اور وع و 
ریش سر ز بیس ودنا جاہچے ہیں جماں جھ بھی چاہے اسے پمولوں سے لرے ہوتے 
اسرار و رموز عاصل وت ہیں۔ وہاں رح طر حکی می ہگ ہے جس کے رنگ 
کک کی نے دیکے بھی نہ ہوں گے براروں خی خ شکھیں ہیں جن تک وہم 
ومان کا بھ یکگزر خمیں ہوا ہیں ان س ب کو حقیقت جخشتی ہے“ اسی خواہش کا انار 
ساں پیل رو تے یو ںکیاہ ےکہ جو دنا بھی کک نامعلوم ہے میں وہاں چاکر انسانوں کی 
تآیایاں با وں۔ ۱ 

جیسا ان اعقیاسات سے بھی خاہرہو ا ہے نیا فن عال پرست یا جموو برست تمیں 
سی اس گی یں جرابر متتعتی ل کی طرف گی ہوکی ہیں ان شن کارون نے 
صرا تا“ کما ہے کہ شاع رکھ اپے اندر ہیی جنی کی صلاحیت چدا کر جچایۓ۔ گل 
محفوں نے فو ہہ را دی ہےےکہ فن کا رکو چا کہ اتی کی ییادوں کو زکن ے 
جالنل ار حکر رے بالہ تل کا نظارہ براہ راس کرت چنانچہ ا 
ایک تی اور ظاہرمیں معمل سی اسطاح وجودمج آئی ہے۔ مستم لی یاد اب دو چار 
نونے ان شع کاروں کی مستعتیل بس کے دیکتھ سال کپ روت ےکا سے 'فن طرف 
ہہ نمس ہے کہ موجودہ لی کو دیکھا اور حسو سکیا چاے' مہ خن کا نما کام ہے سے 
کہ زا عاضرکی عدوں کے پار جا کے ان خیالا تکو چسلہ سے دیکھا اور موس کیا 
جا بن بر ابی جک عمل خی ہوا" شار لک وکی خواپش ہ ےک ' انا تذ یں ایک 
ملک ہوٴ ایک مجور ہو ےت سیل !ا * ائلی فی کی ران میں ”تی رو کا 
نقاضا ہے کہ ہم مبراعہ فرائحض انتا رکریں* دراصل اپ ٹی کا ٣‏ نظران سب 
شماعروں ے زیادہ امیر پرستانہ ربا ہے اور انموں نے سیل کے بارے میں بڑگی 
بڑی فو قحات کا اما رکیا ہے ۔.-۔۔۔ہ اور یٹ رق ک2 ان ا را 
قباس ا نکی فعظم کا بھی مطاحظہ فیا می ہے 


ا سے مھ یکصسی جاندار جستیاں' مہ ری ری کامتاتی نھییں کی سصسس مت آتا گا 


سی پے یہ“ خودراں بوجو خوش ی کو اح تکتا ہے کوگہ خوشی ہم روعائی پروجر 


2 

اور تقیقت کی حلاش سے خاخ لکرتی ہے اپنی نی زندگ یکو دوزغ سے تجی کر 
ہے اس زائے کے اتظار یں سے جب زندگی خی شکل میں اہر ہوگی۔ وہ ون کپ 
آے ما جب جم ساعلوں اور بھاڑوں کے اس پار مجابروں اور عفریتوں کے زوال* تو ہم 
کے نات نی جدوجد اور نی عخقل و دان کی پیر ائش کا استقا لکرنے بچاتیں ے اور 
زین بے کے کے ظمور کے وقت اپنا ہہ سنہ عقیرت لب ےکر سب سے لہ ہیں گے؟ 
اسے اعظار می خی بلمہ ششین ہ ےہ دوز کی رات شح ہوجائ ےکی اور * مج کے 

وقت ہم دید عبرکی طاقت سے سح عظیم الشان شمروں میں واغل ہوں مے* 
زندگ یکو بدل ےکی خاش کے ساتھھ ساجہ سب سے اہم مل ہہ چیا ہوا ےکلہ 
زندگ یکو پر لے کا ذرلع ہکیاہة۔ انصویں صدی میں نہب کے ذربیجتے زندگ یکو پرلے کا 
خیال عام طور سے ممتحلہ خی ز مھا جا تھا۔ البتہ سانس سے ہہ امید ضرور یں ری 
کار نے اس ماحول می اپنے آپ سے ہہ سوال پوچھا ےکم اگر انا نکو تاریی باحول 
بر بدری قزرت عاصل ہوجاہے ‏ رت کا معلم نیب ہوجاے اور چرخحکن بضرمل جاتۓ لو 
کیازندگی بدل جات گی؟ چنانچہ راں ہو نے فر قکیا ہےکہ حہ سب چڑیں میرے جے 
میں ہہگئیں ' میں ہ رشحم کے اسرار و رمو ڑکو بے تقا پکرنا جات ہوں' وہ بزبی اسرار 
ہوں یا فطری۔ موت؟ پدائیشی > ستقیل ماضیٴ نظام کانتنات٠ٴ‏ عدم مس سے سے حے 
واہے چیراککرنے میں اتاد ہوں ....... جھ میں سب بشریں وی آ پکر ٹین 
کے گانے ابس ما حوروں کا تارج ؟ کیا آپ چا نے ہی ںکہ میں غاب ہوجاؤں' خوط 
ماروں اور اھوشھی خقال لائؤں؟ ہو آ پکیا جات ہیں؟ مس سونا بناوں گا بڑی بی 
کسی ردوائھیں بنائوں گا" اول نے سے جن گذی بول رہا ہے وہ دوزخ مین ہے اور اس حم ھ 
جنر کے باوجود اسے چچھظکارا خی ا پھر آپ نے دیکھا راں ہو نے مم و پر کے 
کارناضو ںکو باکری بناکے دکھایا ہے چوک عم و فن سے زندگی بدل میں سی اس 
لے ا نکی وقعت ا سکی نفظکروں میں اس سے زیادہ خھیں۔ اتی ق لم کے آخری حے 
میس راں بد اس یج > پا ہے۔ "مس مچھتا تھاکہ ججے مافوق الغطری مطاتیں ماصل 
توق ہیں۔ خی اب چھے جا ۓ کہ اپنے تخل اور اپتی یادوں کو وق یکروول" اپ 
اسے ہہ بھی پت چ لیمیا ےکہ علم و جنر میرے کا مکیوں خی آیا لیس اق قات ے 
ال یکنا ہمتش بویا تھا۔ میس اہن آ پکو فرش یا دانش مند بھتتا تھا گمرمیں ت چھر 
زشن بر والیں جگیا ہوں"۔ فرشت کا مطلب سے کل انسان۔ جو کآ وی اہنے آ پ کو 


۵ء 


کل سنبھتا ہو وہ اتی زندگ یکو برل میں سا“ ؛سی طرح خالی داضشمندری سے بھی وہ 
سر ہو کے راو ےچ اروا یس 
خالی علم سے بات ںکی ترحیب و ححظیم عحکن میں بکہ عم جباتوں کا 27 کار بے کی 
زبروست صلاحیت رکھتا ہے اور ججبلتوں کے آزار ہوجاتے ہی کو راں بو ووزرغ تا 
ہے چناجچہ عم اور قن کے بھروسے پر خحجات “ما زندگ یکو بل ےک یکوگی صورت نظر 
میں آتی۔ 

کہ قن کار ان ددنوں چچیتوں سے اوس ہو چنکا ہے “گر اخ بی زندگ یکو پر لے 
کی خوا ہش اب بھی باقی ہے اس لے اس کااہم تین فرفیضہ ہہ موجاسا ےہ زندگ یکو 
پرے کا فہ ہر جملہ ڈحومڑے۔ ار عححل سے ذریجے کن نہ بنو ت ماوراے عخقل 
ملاتوں کے ذرہیجے۔ چنانچہ اس انرھی تو کا يذیہ ساری جدیر رواعت پر غاب سے 
اس جو کا استمارہ سغرہے۔ موں تو شا بریاں اور بائژن جیسے ردباقی شاع ربھی سخ کے 
دھتی تھے گر ان کا سف رم غلطکرنے یا سے اساسات سے طف انداوز ہونے کے لے 
تھا یق تکی جو کے لے میں اس سے سفر کے لوازات سب سے پل پوو ۔۔لیتر 
تے گنواہے۔ بوو سلیتر کے مساق رکو ایک امموقی مگ نیکھائے جاتی ہے وہ ہہ بھی شمیں 
چان کہ می ںکماں چا رپا ہوں او رکیوں چا رہا ہوں'ٴ گر برابر چلتا رہتا ہے اس سخرکی 
ایک خصوصیت ہہ ےکلہ اس مج نہ یادیا نکی ضردرت بڑتی سے اور نہ بھا پکی۔ ں 
حرط ہہ ےکلہ آدی وہ نز ڈو ڑ کے لات جو ئی ہو اور شےکوگی ت جات ہو_ بیے 
جیے ہے جدیر ردایت آگے بھی ہے جسمانی بے حرکق کا خض ربھی بدستا جات ہے۔ 
آندرے سال موں ن ےکا سے ' میں الیے اشن کے خواب تا ہون ججماں رے 
گاڑیاں می نہ علق ہوں ....... بے ھرکق بھی بدا اچچھا سفرہے۔ میں صی رک رکے اپے 
سامان پر جیٹہ جانا چایے' ان شعروں سے ہہ نیہ بھی کال جاسکتا ےکم شاع رعمل چموو 
کی عحقی نکر را ہے۔کھرہہ تضی رخد ہے شاع عامعلوم ثی حتقیق کی جج وکو جسمانی 
حرکت سے بے ما کرنا چاہتا ہے۔ بقول پل کودل سوال جے کا خی سے بلہ باتنے 
کا۔ جس طرح نا سفرحکت سے بے از ہے اسی طرح میا یج کی فوعیت بھی رنظر 
جھیں۔ یہ ت لیک ےکم اصل متصد زنر یکو پدلنا ہے “مھرجب فسہ کا پت ہی خمیں لت 
موس کے سے یی دہ جا ےکم جو چچ بھی ہاحلھ آتے اسے آزیاتے۔ سے علاش نی 
کا رکی جا ن کو اس طرح کی ہے کہ اس سی جن زکا ذر بی میں بوو سلیٹر نے اس 


خ3 


کی توعیت دو لائنوں می جیا نکمدی ہے ” خا رکی سح می سکود او“ چاہے وہاں جنت 
ہو ما جئم.....۔۔ نامعلوم خی تک یگگمرائیوں میں“ بال ہکوتی خی نبا آ کے۔* 

اور سہ غا رکون سا ہے؟ خود قن کا رکی ‏ سی۔ اس چ کو خور یرس اور اناعی تک 
کر برنا کیا جا ہے۔ گر ان لوکوں کے اپچنے اندر خوطہ لگاتے کی ضرورت اس و ۔ 
سے یل آئ یکہ مہ لوگ اپنے ذاتی جریات کے ذریے دہ گے ےہ خاری زندگٴ نا 
حم و رحب سے روعالی انتقار* عدم تاژن او رگرپ سو ورڑے لاہ شا 
موی مھ اور شدید ہوعاقی ہے۔ چناجچہ اچنے اندر ڈوب کے ہہ لوک تی ہکرنا جا ہے 
جھےکہ آخر ہار ی داعلی زندگی میں بے تر تی یکی وج ہکیا ہے۔ ا سکی یمم ہوعتق ہے 
ما میں ۔ اگر ہوتی ہے تکس اصول کے مائحت۔ اس اقدام کا مطلب ہہ خمیں تھا 
کہ خاری وا سے و لطف نے ہے ٴ اب ذرا اتی سی سے ول بملاوٴ بللہ ان لوگوں 
کا مقصد انی اندرونی زندگی کا محروضی مطالعہ تھا لافرگ نے سفر کے می" اپۓے 
اندر 7۱ جانا" جائے ہیں اور ساں پل رو نے ”اس طرح چلن اک ٦‏ یں ایر ر کی 
طرف گی ہوں* ان فقروں ے ہے خیہ طرور وت س ےکہ ہہ لوگ صرف قرار یا لت 
اندوزی کے خواہش مد ہیں۔ گر و رحقیقت سے فنکا رکو حلاش اس یا ت کی س ےلم 
میری دائلی زندگی اصل میں چچ کیا ہے۔ باعل کی مور حعابیت سےکہ ایک آدی کا 
یٹ اکم رسے وا کفکھڑا ہوا تھا اور بڑدی صمتمیں اٹھاتے کے بعد وائیں آیا تھا۔ ویر نے 
اسے سے صن پنائۓ ہیں۔ بجی اھ رلوٹ کے ٢‏ سے و ماں و چھتی ہ ےہ خ مگھھرسے 
کیوں یل دیے تے۔ جا جواب دا ہے کہ میں ڈھوجڑھ نہ رہا تھاکہ ٢ز‏ میں ہوں 
کون ...۔۔۔ شید کے نزدیک ہہ تختیش حض (یکاروں کا چو ملا میں اللہ ایج 
جھمرانوں کے لئ بھی ضردری ہے خید کے ناول تے زے مس بڑھا اپ بید کو 
صصح تک ےک سب سے چلہ تم ہہ معلو مکر وک خمکون ہو۔۔ اس کے بعد اپ 
آإڈ یدا ہگ نواعت ے واقیت پیا گو'“'ق اور جز وو نے اس ۷ا طزید 
ھی جا دا ہے دکہ صتت ہو گے اپپنے آ پکو اس طرح د سینا جیے وکھ سنے والا کوئی اور 
ہو وو سلیٹر تے نو خر دا سے دعا ماگی بی ےک ' مججھے وہ ہمت اور طاقت عطا ق اک 
میس آپینے ول اور اپے شی کو یہ خحور دکیہ کوں اور جج کن نہ ۲ے" راں ہو تے 
بھی اپے عارف اور شاع مکی خحصوصیات ہیں مان کی ہیں ” وہ ای رو ںکو ڈعویڑن 
ہے اس کا محائ کر ہے اسے طرح رح سے آزمانا سے اسے مھتاے* 


ف 


جس پچ ہکو ان لوگوں کی احخطاط پیندی یا تن رس یا پرکرداری کھا جات ے“ 
اسے اتی تقرییحا تکو پیش نظ رکز تنک یکو لکن چاہیے۔ عمل میں تو خر 
میں مر خی لکی حد کک یہ درست ہےةکہ سن ریا تکی دن می ہے لوگ اغداق > 
تل اور انساخیت س ب کی عدوں سےگزر نے ایک چچھوئی سی مثال ہے ہے کم ایک 
دن ٹیٹھے بیشمہ راں بو نے ورلین سےکماکہ باجھ چھیلاۃ اور الیک نا رہہ حاص لکرو- 
درشن نے باھھ بھیلایا 2 راں بو نے چاق مار یا۔ گر یہماں مڑے کا سوال پیا نیں 
ہی سے لوگ اتی صسق کے جرپہلو سے براہ راست وا قفیت عاص لکرنا چاہے خے_ 
راہ وہ پھلو برا ہو یا عتقل کے غلاف ہو یا غیراتالیٰ ہو۔ ان کا وامر متصر انان کے 
محلق سا علم حاص لکرنا اور انسا نکی ح کک بپنچنا تھا۔ یہ لوگ اپنے ادبر تزیات 
کرتے تھے۔ ا نکی یی باتوں میں ہیں شوت پرسی نظ رآتی ہے۔ مرا نکی شموت 
تا عماشی ادر تحاش جٹی سے کوسوں وور ہے۔ اتی شموت کا مطالعہ بھی ہہ لوگ 
رامیاضہ خت گیری کے سا ھکرت تھے یھ کے تے زنے تے میننبوں عورتون سے 
دل لگایا “گر ول ١ایا‏ کیں شمیں۔ اپتی ا سکزدوری کا اتا فکرتے ہو و هکتا ے 
کہ چھے اس سے ہے فائدہ ضرور ہواکہ اپنے آ پکو جاتنے میس بدی یدرو گی_ پوو لی 
نےکماکہ '' یس ان چزو ںکی علاش مج ہہوں جھ خالی ہیں' سیاہ ہیں' اور تی یں" اس 
کہ مطلپ ہے "میں ہے کہ آتندہ سے بدکاری کے لاہ اس کاکوئی مشظلہ بی تہیں 
ہوگا۔ شن سرمیتو ںکو اسائی جیا تکی عددد سے باہ ربجتھ کے اور عدم یا خلا کہ کے 
یوں ہی پچھوڑ دیاگیا ہے بدو لن وہا ںکی بھی ساحت پر مصرہے۔ جن چزو ںکو مروجہ 
اخلاقیات نے مو قرار دے ا ہے وہ اض می آزان چاہتا ےکم ان کی حتیتےت 
کیا سے در ای دی سے ان کاکیا تلق ہے گی سے عرادہ ہکہ دہ ہر تم سے 
زہئی پردوں کوچ کے حقیقت کو اصلی شکل میں دیلمنا چاہتا ہے“ بیہاں ک ک کہ خو اک 
جیاتو ںکو بھی۔ اىی نقاتے کے ماتحت ان لوکوں سے مض وحشت جاک کی صرزر 
ہدگی ہیں عمل میں بس کم خیال مم بست زیادہ بگلہ الیک عد کک ہہ لوگ اتی 
تحقیقات کے لے خیالی بدائھا یکو ضروری ھت ہیں۔ چنانچ راں بو نے اپ عارف 
نتر تلع قکما ہے ہگگرسوال اپتی رو حکو بے اخا ہولناک مناتے کا ہے۔ وہ جمت زیادہ 
زبروست ہرم“ بہت بی عرددد و محون بن جا.ا ہے اور سات ہی سب ے بدا عارکف 


بیس کیدمہ اسے وہ زرل جاقی ہے جس سےکوقی واقف ی میں ے*" 


2 


اپنے آ پک جا ےک یکوشش مج ف ن کا رکو بڑے بڑے پاٹ کہ سڑتے ہیں۔ وہ 
ج رصم کی خصیت او رکردار احقیا رکرکے دیکتا ہے زندگی کی ہر شحل کو ٢ا‏ سے 
یق تک ہروشم اور ہریت میں حلا ش کر ہے۔ بے کونشش مع لہ خی نضرور ے اور 
فنکا رکو خود اس کا اختزاف ہے گر جس معاشرے میں عرلزیت تہ رتی ہوٴ وہان نے 
کوشش لمازی من جاتی ہے الہ مرک ز کو پھر ے ڈحوعڑا جاک یا نیا عرکز ایجا کیا 
جاگے۔ ہمارے زانے میں سیاست دان ‏ الگ رہے' پڑے پوے قدفی اس ریاضتی 
سے جفک کےکمی نکی نظرہیے کے سام میں جا ٹیش ہیں گر ایک فنکار سے جس 
نے جار خنمیں مانی۔ دا خمیں سا نز یہ سی گر فن کار نے ہولے والے مچھڑو ںکو پ چنا 
قول نمی ںکیا۔ پگ ہعاری دنا حم ایک دی ت سے جس نے ہونے والے یچچ ےکو ہر 
شول میں یجان لیا ےد خر اب آپ ران ب وکی زبان سے نے کہ علاش حقیقت کے 
لے میں خن کار نے کسے کے گیات سے ہیں“ گر ھتہ میں میں آیا * او یں 
بدلی ....۔ حث فقیر فن کار* ڈاکو' پادری۔ بھھ مس سب جن ہیں ......... کو چنی 
بھی شکلیں زین میں میں بنا کے دکھیں اب میں اپنے آ پک وکس کے ہاتھ یچوں ؟ 
کس پانو رکو پجوں؟ کس مقرس بت پر مل ہکروں؟ کون سے ول نڑوں؟ کون سا 
جھوٹ افقیا رکروں.---- ؟ ۹کس کے خون ض چلوں٭× 

فن کار اجی دوڑ ہو پ کر سے “گر ابی حنت کا مل کھاتے کی اسے جلدی 
میں ہے۔ اکر ا س کی حت ضائع گئی سے تو جائے “گر ابی خاکائ ی کی بردہ بای ا سے 
او ریف برا اد طرع طرح سے وت کپ ےیک و کاو زار 
اسے پت چلنا ہس ےکم ہہ و وی زندی سہے اور اصلی زندگی غاب ہے چنانچہ شن کار اتی 
ناکائی اذر عحردی کا اعتراف بے ھک ہکر لیا ہے بللہ اسے ہہ بھی محسوسی بہوجاتا سے 
کہ اس ناکابی کا جب بھی خود میرے اندر موجود ہی چتاجچہ لوتیاموں نے کما ہے 
”وہ طوفا نکی طرح آزاد تھا گن آخر ایک دن اتی خوفناک قوت ارادی کے بے الو 
ساعلوں پر بچنس کے روگیا' ان لوکو ںکو اپتی صرشاری کے باوجود عم ہس ےکہ جم زندگی 
کو یس چانے پ پر ےک یکونششل کر رسے ہیں دہ دراصلل اتنان سے خکن بی تیں۔ 
صسرعال ابی سی کوشش جم جج یکر رہے ہیں۔ راں ہو نے صاف لفتظوں می ںکں ویا ے 
روعائی محش بھی اتی می خوفیاک بہوتی سے جچتی انماتو ں کی جنگ گر اتصاف کا 
لوہ صرف دا تی کو عاصل ہو سا ہے۔“ صرف ابعد الطی تی عحا لات تی مج 


25 


ہیں معموی انسائی معاللات میں بھی ا نکی خود ای عد سے بمی ہوئی ے۔ ان 
لڑکویں پر آ پکوگی ایا اعتراض خمی کرت جھ اضسوں نے خود اپنے اور کیا ہو۔ ان 
لوگوں نے یہاں تک تلیممکیاہ ےک ماری چدوجمد کا مق رکتتا بی با رکیوں ۔ سی“ 


۱ ہماری جوکت بن کئی ہے وہ اس عمل کا مازی جز سی موجددہ حاح کتتی بی بری سی* 
۱ مر موجودہ عالت میں معاشرے کے لے ہمیں قو لکرنا درشوار ہے۔۔ راں ہو تے ورلین 


سے اپے بارے می ںکملوایا ہے ”ن دہ مھ میں جات اور کام وہ بھھ یک رکے میں ورے 
گا۔ دہ ت3 اس طرح زندگی مکنا چاہتا ہے جی ےکوئی سوتے میں چچل رہا ہو کیا صرف 
ابق تیگ مزائی اور رم دلی کے ئل پھر اسے ححتق دنا میس رہے کا جؾ ہو تا ےک 
خالیا ان شن کاروں میں خود جگاہی کے سے ایک انگ جس موجود ہے۔ ہہ لوگ چا ے 
جس عالت میں بھی نہوںٴ خواہ اضسوں تے اپنے پاقی حوا سکو ختتٹراو رگڑ کر ویا ہو* 
گھرہے ڈائز جن ن تھی شاخل عین چو گی آوتزیامواں نے ان گی پور یکیقیت کا غلاص 
ایک لے میں ما نکردا ہے ”وی تے جس دھوکا وی کے لئے ضرور ای اکرا تھا گر 
دراصل عیری عخل بھی خی رحاضرتیں زہوقی'' اس زا ح کو اییا بقیادق تل ککما 
جالکتا ہے جو اہپنے آپ سے بھی مطشن نہیں بہوا * اہن آ پ کو بھی سواف جمیں 
را ا وو لیئر نے اپنے "ریا کار تظاری**کو اپنا ھم شکل اور بھائ یکا تھا- 

ہہ زیت اس بوری رواعت پر عاوی ہے“ بمہ ہے جملہ اور شاعروں اور اریوں کے 
یہاں بھ یکو نچتا ہے_ 

یں ن ےکھا کہ یہ لوگ اپنا صحروتی مطائعہکرنا چاہتے تھے “گر کن ہے ہے 
ا دگوکی ىی دعوئی ہو۔ سجکلہ بدکاری کا پردہ ین گیا ہو۔ اس لے الیک ورا طول 
قباس ادر شی یکروں گا۔ اکر ایک اچھا خاصا معتقول دی اپنے وی بوں او رگمیار 
کو چھوڑ کے ایک سزہ اشارہ سال کے لڑکے ہے چیہ چیہ شرور شر کک ور کس 
سرکرداں پھرے تو داتی ببڑی بری بات ہے۔ گ رآ پکو رکھانا ہہ چابتا ہو ں کہ ورلن 
اوہ راں بد نے اس مکی اویاشی سے حاصص کیا کیا راں یو نے برکورہ پل نظم کے 
ایک جھے مس اپی دوفو ںکی داستان ککسی ہے۔ اپنے آ پ کو جشی دولھا قزار دا ے 
اور درژ نکو بی ولسن اپ سن ےکہ نہ بی ولس نک یاکھتی ہے 

مم میاد وی میرا جاک میں وم گید ین ناپاک کچھ پیج 
ددراےے ک باندی بن گئی ہوں دہ ینہ بی سا تھا ........ ا کی لطاقوں ۓ بے 





۸۰ 


سو رکرنیا۔ می اس کے چیہ ای دیوانی ہوک یکم اپنے اضانی فرائحضس بھی بھول بٹی 
...تہ مال وہ جا. ہے میں بھی اس کے ساتھ ساجھ جاتی ہوم مور ہوں_ اور 
دہ اکٹ جھ برٴ جھ یاری پر خخا ہوا رہتا ہے۔ دہ نز بعوت سے بموتٴ آدی تھوڑی ے 
...بھی بے شر یکی باقوں پر ظ کر ہے بھی ستک د یکو ین بنا دیتا ہے اور میں 
تح دشتقی ہوں ........ اٹ رات کے وقت اس کا بھوت میرے سر پر بھی سوار 
ہوجاٴ ہم لوئے لوٹ یھت“ اور میں اس سے لڑاتی جھگڑتی .......... دہ دن بھی گیا 
ہبوت ہیں جب وہ اس طرح مین مین کے چا ہے جیسے بھت با عجرم ہوا کیھ یکبھی وہ 
بڑی ری دیعالی زیان میں بات کا ہے ........ راب اتوں میں وہ پا جٹۓ 
ہوۓ لوگوں کو دکھہ دہ کے روتے گلتا* جتمیں افلاس تے پاتور بنا رکھا تھا وہ 
اندیری عڑکوں پر بڑے ہو شرابیو ںکو اٹھانا۔ اس کا انرازسچھھ ایا ہوا بی ےکی 
بدعزاع ما ںکو چھوئے چچھوئے بچوں پر رم آہجاے۔-- وہ اڑی شالٹگی ے چتا 
تی ےکوی چھوٹی سی لڑ کرجا جا ری ہو۔-۔۔ وہ ایےے بفنائیے جبارتۂ ف نطب ہرز 
اسے آلی ‏ ...... چاہے وہ کے ىی اعت یا برے' چچوہ ادر یب و غریب کا مکیوں 
نہک رہا ہو میں اس کا ساتھ دیق۔ یھ مین تھاکہ مس ا سکی دنا می بار تمیں پان 
-... گر ا کی تیگ دی بڑی صحو رککن ہے ادر میس ا سک قیدری ہوں کی اور 
می ہے طاقتہ--۔۔ ماب ی کی طاقت میں ہ وع ی کہ اسے برداش تکرے' اس کی 
صری رس کے اود ا کی محیت کا یارگرال اٹھائے ........ٹ جیری ڈندگی اس یر خضر 
و کے رہ گئی ھی گر عیبری مق رادر بے رگگ می سی سے ا سے کیا لاو تھا؟ ارہ 
مض وفعہ میں چڑگکے اس ےکھت یک میں ممماری بات مھ نہوں ت ووکند حھ جکک 
دتتا۔ چنانچہ ے باربار خصہ آجا] ......... گر بجے اس کی نواڑخول کی طلب زیادہ ہی 
بوقی گئی۔ اس کے بوسوں اور ہم آخوشیوں سے بیج ایا معلوم ہوتا یے میں چٹت 
مس ہچ کئی بہوں ۔ مھ ان یانو ںکی عادت گنی ...... گر جج پیا رکرنے کے بح رکتا 
جب میں جیرے پاس شی ہہوں گا تو جھ باتمں اب کک ہوکی ہیں وہ تج ےکی معیل 
یز معلوم ہو ںگی۔ لتق جب نہ ف تیر یمگمردن میس ھیری باہیں ہو ں گی نہ جیرے آرام 
کرنے کے سلے میرا سعنہ ہوگا نہ میرے ہوخٹ ری آعموں پر ہوں گے ۔کیوکمہ ایک 
نہ ایک دن میا کی ددر چلا جانا لاڑی ہے۔ جے دوسرد ںکی بھی نز مر دکرفی چاجۓے- 
ے میرا فرلبقد یے ...سس مم نے اس سے وعدہ نے لم یاکہ وہ جھے چھوڑ کے 


۸ 


تمیں جائۓ گا۔ اس تے ہہ محیت بجھرا وعدہ یٹبیوں دقع ہکیا ہے گر ہہ وعدہ کی ایا بی 
بے فی لا جیسے میس اس س ےکھو ںکہ میں ححری یاتیں مبحھق ہوں ........۔ لض وقد 
ہی بائئل بھول اتی ہو ںکہ میر کات بن کی ہے۔ دہ بے طاتت رے گا۔ ہم 
دونویں سخ مکریں گے ریستانوں میں تا رجیلیں گے تامور مرو ںکی چڑیوں پر سوتیں 
ےم ہکوگی گظر ہی مہ دکھ۔ جب میری کک حھ لہ گی ذ ا سں کی ساتانہ طات کے 
یل قانون اور رسم و رواع بدل گے ہوں گے“ جا ہتتا ول یکی ولی ہی مر بے ے 
میری خواہشوںٴ میری مرنقں اور میری بے گگریوں پ ہکوتی یاز یرس خی ںکرےگی- 
یس نے اس کہ اٹھائے ہی ںکہ ان کے برلے مج ںکیا تے جھے وہ جیب و غریب زندگی 
دے دیگا۔ جو یو ں کک یککمایوں میں صصق ہے وہ مہ خی ںکر سکسا جہ اس کے آورش کا 
چعد گئیں۔ اس نے مھ بتاطا ہ ےہک میرے دل می بیچھ پٹڑانیاں ہیں پچ امیریں وں۔ 
گمران کا جھہ سے کوتی تعلق خیں ہوسا کیا اسے دا سے ہم کلابی کا شرف عاصل 
ہے؟ شاید جے خدا ہی سے رجو ںعکرنا چاہے۔ گر میں یالنل تحت انشیی میں جا نی 
ہوں اور بجھ سے دعا بھی تی ماگی جاتی۔ اگر وہ ھ سے اپے رع د خم میا ن ے 7 
کیا میں اشیں اس کے خی خاق سے بتھ زیادہ بج او ںگی؟ وہ بجھ پر مل ہکرت ے* 
دنا میس جس کی بات سے بھی عیرا تعلق سے ان سب پر جھے گھفننوں رم ولاتا رہتا 
ہے اگ جس روؤں نگ ڑ متا ے بح رن ایے آت ےکم جو آد بی کی شر 
کسی عم کا کا مکرتے ہیں دہ اسے کی خوفیاک ودای کے کھلوتے معلوم ہوتے۔ وم 
بڑچی دہ دم تک ایے ہت اکہ ڈر گنن تا........ پچھراس کا انداز توجوان ماں یا بی 
بسن کا سا وجات۔ اکر وہ اتا وص نہ بت ت3 ہماری خجات ہوجاتی۔ گر ا کی نری بھی 
اتی ہی مک ہے میں ا سک جاندی ین کے رہ گی ہوں....۔ میں بائیل بی 
ہوںإ؛٭ 

راں ہو نے اتی تقوب پیٹ یکرت ہو کسی ص کی خوش مضی روا میں رھی* 
کوئی رعایت جممس برتی ۔کوئی اچھا یا برا پھلو ایا نہیں رہا جھ پٹ ہکردیا ہو۔ اہۓ 
پارے میں اس مکی مع دخیت اس ردایت کے خن کاروں کا مع نظرتھا۔ اسی چز 
کو زیادہ تفیل سے ر یکنا ھاوں 7 بروست یا جوشس سے رجوع کیج ہے لگ اظلاق 
بے راہ روی میں تے ضرور ڈڑے “گر اتموں تے اخلاقی بے راہ رد یکو بھی اخلاق صی 
کا آلہ متا دا اور اپنے آ پکو اخلاق گجڑہیے کے لے جن کیا اپنے آپ سے علودگی 





۸۲ 


برض کی صلاحت کے بقیر اخلاقی حض کا وجود میں آنا جائحن ہے۔ خحکن ےک ان 
لوکوں تے موجہ اخلا قیا تکی خی بکی ہو ۔ گر ساجھ بی ایک خی اور بلند 7 اخ قّات 
کے لئے زین بھی موا ری جس دور میں ان لوکوں نے اپنی تحلیقا تکی ہی ںکم سے 
"م سیاست کے میدران ‏ ںکوگی آدی اخلاقیات کے اس درہچے کک میں مم چ سا۔ 
خماری حقیقت کے اندر پرتے پیرتے ہمارے داش ور جوہ رکک و جا پچ وں گر چتر 
فنکاروں کے علادہ اپنے اندر خوطہ لگائے کی ہمت اس زہاتے میں او رکوگی خی ںکرکا* 
عالائمہ جو ہری طاقت کی حاہ کاریو ںکو صرف خودبنی کی طاقت ہی روک عمق ہے۔ گھر 
ہعاری سیاست مس خود نی زوال ببندی کا شی شمہ بھی گی ہے۔ 

اد بکی اس روایت نے ایک اور بست بڑا کام سراخحام دیا ہے نشا ما کے 
وقت انمان نے سمبھا تھھاکہ میں ےرہب اور تمرا کے نصورات سے آزار ہو کے بھی زنرہ 
رہ سم ہوں۔۔ ان ادیوں نے اپنے اوپہ تزیا تکرکے حابم تہکیا ہ ےکہ نہب ےہ سی 
تی ض کسی ایے می ہ ہکی ور کے بغیرانسان منواؤژن زندگی بس رخمی ںکرگا۔ می 
نقاد نے اس تحریک کے شروع بی می بھانپ لیا تھاکہ بمالیا ات کا راس مداکی طرف 
جا ہے۔ چنانچہ بی ہوا۔ مارلد کے خحیطان تےکما تھا کہ خدا سے الک ہوکے ایا 
معلوم ہوا ہے جیسے دوزخ میں جل رس ہوں۔ بائئل بی تجریہ راں بد کا ے۔ بلمہ 
اس کے خیال می ت دا سے بپھاگنا یائئل اکن سے م می چم گیا ہوں اور خیں 
فی ںیہں ور مکی 

3 یں تق بھی شاعوں میں “گر خصوعیت ے لافورگ اواں 
تاب میں ٹواکوب نے تو بالقل صوفیوں کے سے تجزیات کو اپنا موضصوع تن بتایا 
تاضی سے سب لئاق فئرم اص اق ساوک وو ےا کل 
کو بے قرار ہیں ملمہ حقیقت اور فریب حقیقت٠ٴ‏ خواب“ اضانی تر“ بے مم 
تقسورا کو بھی اپنے لج وندار مت ہیں۔ بتول عنر روردی ”جچماں حوا کی جھرانی 
ہو وہاں سے حقیقت غاخب ہوجاقی ہے ا ڑ جاتی ہے' نا ان لوگو ںکی نظر شاعرقیر 
ون ہے“ آوراسن سے پا کان کے اب :کیہ ہے دا سن فور جک الیک 
شاعرنے ددار جایا سے جو بمیں اس سے بھی لطیف تر حقیقت کک جئے مج۹ں رق۔ 
چناضچہ ہہ لوگ محرفت بھی باللل سم ططرییقے سے حاص لکنا چاجے ہیں ان لوگوں کا 
مطبحع نظریہ ہے کہ مارے میں تھوڑی ىی غیربادیت پیوا ہو اور غیرماری حقیقت میں 





۸۲ 


تھوڑی سی مادیت۔ ج یز بے ضمایت ہے دہ تھوڑی بت ٹھوس بن لافؤرگ ہچتا 
ہ ےکلہ جمی ںکیا عم دا کو ازصر فو شمیں جتاتا پڑے گا؟ لتق صحرفنت عاص لبرنے کے لئے 
ہیں وہ اصاس پیداکرنا پڑے گا جس کا خیال ابھی کک محرفت ڈھوجڑتے والو ںکو حم 
ہیں آیا تھا اس خواہش کا اظمار اس نے ددسری رح مو ں کیا ہے ”'اے جمارے 
آساتوں دالے پاپ ! ہیں رو زکی روثی بہجچا۔ جلہ تر مہ ہ ےکہ ہیں ذرا اپنے وسحز 
خوان پر جیٹھ جانے رے' ای طمح ید کا ہیر تے زے اس بات پر تج بکر ےک 
آت غیربادری دنا اور ماری حقیق تکو الک انگ چےزیں بلک کیکیا ضرورت ے۔ 

نوگویا اس طرح یہ فنکار فطرت کے متحلق ہمارے لقسورات بھی برل رہے ہیں 
اور ایک خی تم کا توف ایچا کر رسے ہیں۔ فقطر کی خواصی میں ساتض ران بست 
ور قگ لگیا ہے۔ گر عام آوی فطرت کو ای بح محسو کر ہے جیے رو سو سال 
چھلے“ بکنہ طرز اصساس تو شاید سائھنس دانوں کا بھی خمیں پدلا۔ نظریات بدل گے ہیں ہے 
کوشش صرف فنکار نے ہی کی ہے کہ اصاس کے انداز ہی کو بنیادی طور سے پرلا 
جائے۔ خلا ایک ذراىی جات بسی ہ ےکہ جماں عدریں تہ ہہوں وہاں میں بھی موس 
کی جایں اور جماں عدیں موجود ہوں انمیں حسوس نکیا جائے۔ دوسری کوشش نے 
کہ آواز یا روش جیسے عناص کو ان کی اولیں ۴ل میس عحسو سکیا جاے۔ اور ٹھوس 
اور بے شھوس چو ںکو آلیں میس سم دا جاتے۔ اس عمل کا نام سال پل روتے ت 
دکھائی دسینے دالی چڑو ںکی وکھائی دینے والی اقلیرس رکھا ہے“ یا دہ شہ دکھائی دیۓ وا ی 
یقت ...... سے انسا نکی خوائشل نے شٹھوس متا دیا ہے اسی طرح ای ککونشش بے 
ہوگی ہ ےکہ اندمیرے“ اجاے ‏ صحقی اور خی رتتقی زندہ اور حردہ کے تضا کو باطل قرار 
دے وا جاتے۔ اس کے لئے ایک جائثل ہی خیش مکی صلاحیت درکار ہوگی۔ اور ہن“ 
ااسات' عافظہ سب کو ازکار رق میجتہ کے چھوڑ دیتا بڑے گا۔ اس خی صلاحر ت کو 
پل اعلدار نے یوں میا نکیا ہے ”عم نظری خالہص قوت کاظلام ب گیا ابی خی ر تق 
اور وو چٔرِ ‏ کا لام“ جو تہ وا سے واقفت یں تہ اپنے آپ ے۔ ہے بوی 
پسون طاقت ہے۔ مِ تے جو دکھاتی تا ہے اسے بھی ش کردا اور جھ ضمیں وکھائی 
دا اسے بھی۔ میں تے اپنے آ پکو ایک بے دارغ سے مج تھوریا!* 

ان لوگوں نے خمارتی فطرت اور اپنی خود یکو تڑ ےک رکرکے منتتظ کر ہے سے پیر 
ان میس سے اڑی توجس ثھالیس جھ تل کے دائڑے میں میں ساتیں لا یری ہے 


۸ 


نھھی۔ خکن ہے انموں نے ان چزوں پر ضرورت سے نادہ نچ صرف کی ہو- سم 

خضورت اتون ےی ظز ین کیاہحکنہ نین گزی تق ہو بے نظمی کا اور انتا ت کو 
ہیں منطلر. اس کے یا اتسوں تے انان“ فطرت ‏ کائحات اور حقیقت کا اییا مہ 
گیرتور ڈہونڑت ےک یکو شش کی جج میں ان سب عناصرکی چلہ نگل آے اور جوان 
قام خناصر یر عادی ہہوٴ جن کا میں نے وک رکیا۔ آپ کہ ھت یں کہ ایا تضور 
ڈہونڑن ےک یکوشش بی سرے سے مم اور لالشقی سے“ یا ایا تقصور یا تقورات پچ 
سے موجود ہیں" یا ان لوگو ںکو اس جدوچند م۴ بڑی خلت ناکامیوں کا منہ وکا پا اور 
ان کا قنی اضساحیت کے لے نتصان دہ بن کے رہمیا۔۔ سے سب سوالات الگ ہیں۔ میں 
ان میں الجھنا خی چاہتا۔ میں تو صرف اتی بات مات کر رہا یہو ںکمہ ان لوگوں نے 
خالی خولی جخال پرستی نمی ںکی' بلک انسان کے بدرے نظام اصا س کو بدلنا چاپا۔ ساتنس 
کی اذہ تزرین دریافنوں کو اضمانی شعور میں جز مرن ےکی طرف پلا قدم اٹھایا شی 
سے بغی عم بح رفعہ وہ ہہزار بن جا سے جو قشہ سے قئ لگیا ہو اور روح ع ر کے 
غالب نین ضرٴچنق شجزناحیت پر ایک سے تقحو ف کی جیاز رکنے کی کونصشل کی۔ سے 
ک رضخ نالیا تن بھ گی راز رجامح ے٣_‏ اتیا نک عوتورء علخ ان ے خیدرہ برا 
میں ہوعھتیں۔ اس صورت میں جمیں رکرنا چا ےکم انسان نے ايے عظیم الشان 
کام کا خواب دیکھا۔ اس کے بعد جم ججتتہ مچاہیں احتزاضا تکر ھت وں'ٴ اور وہ سب 
کے سب جھھ تول ہوں ھے۔ بللہ میں نے خود بھی الےے اختزاضات مرو پار ے 
ہیں۔ 
فطرت اور مابعد الفطرت کے مشاہرے کے لے خی نظ رییدراکرنے کی کوشش کا 
ایک لازبی شحیمہ ہہ بھی ہ ےکلہ ایک ما فن ایا کیا جاے۔ عام طور سے مال ہہس 
کے جو می لے جاتے ہیں وہ ییماں پائنل بے کار ہوجاتے ہیں۔ ان لوگوں ک یکو ششوں 
کا مات یہ ےکلہ حقییق تک عحض میا نککرکے نہ رکھ دیا جاہے“ بلمہ ایک خی حقیقت 
لفتطوں کی پرر سے تخلیق کی چجاۓ- یقول ساں پل رو ان لوگؤں کے چٹ نظ ووپارہ 
پیرائش میں تی ۔ بکمہ حض چدائیش ایک طرح ریت ت نہ خضرشاعرق مض بیغ 
مز ریا سح گر او لوان تے ہی مو یکن کہ ہے خف رمارے یہاں 
زار سے زیاور ظز٣‏ ےے۔. ے. لو گزیا فف ظز اک ہے ری دزن یز لے 
تھے سال پل رو نے اس ع لکی تصرح ہی ںکی ہے "ہلفتطوں میں پھلی مریعہ پر گے 


۸۵ 


ہوں۔ ان بروں سے لفظ اس جال ہوجانھیں مھ ےکسہ حقیقت ے مابعر ا طیبعات میں * 
واہہ سے اشیاء کی سر زین میں پچھلائک جایں' اس نے ے وا تج ہوگیا ہوگاکم ہے 
عمل زندی سے قرار یا خالی عحالیاقی تسکی نکی چاٹ یں سے“ چکلہ فطرت اور حقیقت 
کے تو رکو یفیادی طور سے بد ےکی ہہ گی رکوسشش کا ایک حصہ ہے۔ اسی عم ل کو 
راں بو نے الفاظط کی کی یا کر یکما ہے“ یا ”شا عرانہ لف جنس سے سارے حواس ڈائرہ 
وید اق تق نفرخوں ‏ وک رکرتے ہوۓ و ہکتا سے مم غاموخیو ںکوٴ راتؤں 
کو الفاظطکیکرفت مس لا رہا تھا جو بیان ”میں ہوسکا اسے لکیہ رہا تھا۔ میں کھیریو ںکو 
ال مک رہا تھا گر آپ اس عم لکو اور زیادہ تصرںع کے ساجھہ کھت جاے ہیں“ 2 
مان پل سار کی تیر دیکھے۔ ان کے خیال میں شاعر افطو ں کو استمال ہی تمیں 
کریا۔ نر گار لفنطوں کے اندر واخل ہ وکر ان کا اتی طرح محاحن کر کت ہے۔ ہے 
بات شاعم رکے م کی ہیں وہ لفففو ںکو صرف باہرسے دیکتا ہے۔ نٹ ہکا رکی طرح وہ 
کی چیزکو میان خی سک سا اس کے با دہ اس نز کے متقابے میں“ افظو ں کی یدد 
سے ایک خی چیہ متا کے درکھ دبا ہے دہ الفاظطکی شکل میں چچیزوں کا برل بی یکرت سے 
چنانچہ اس کے شعرعحض امہ کہ میں ہوتے لہ یزیں ہوتے ہیں۔ شاعر یٹ 
معنوں میں خالق ہو نا ہے۔ سار نے مثال کے طور پر راں ہو کی دو لائتیں یٹ ی کی 


ہیں۔ 
کی کی مدقم ہوںا کے کیے کلنہ یں! 
وہ کون کی روج سے جو بے گناو ہو؟"* 
سار تر کن یں ×یان > گی سے سوا لک یا گیا ہے؟ نہ کوتی سوا لک رتا ہے“ 
شاعر بالکل خاتب ے“ اس سوال کا جواب خی وا جاسکتا۔ یا یں کے کہ ہہ خوو اپنا 
جواب ہے۔ کیا ہہ جھوٹا امتضار ے؟ گ رہ یھنا مل بات ہوگ یکہ راں ہو ےکنا 
اتا ہ ےکلہ ہ رآ دی کے اپ نے اچ گناہ ہیں۔ جحیسا برقوں تے ساں پل رو کے پارے 
کما تھا“ اگر وہ ای اکھنا چابتا کہ دیتا۔ اس نت ےکوگی اور بات بھی ممی ںی چابی اس 
نے تو ایک مطلق استضار یی کیا ہے۔ اس نے روج کے ایک ین لفظ کو 
امتصساریہ جس عط اکر دی ہے بیہاں اختتضساریہ ایک چچزی نگیا ے تیے سٹورےڑ کا وررو 
کمرب زرد آسمان یی نیگیا تھا۔ ہہ مقموم شمیس رہا ‏ نہ مادی چچتزب گیا ہے۔ اسے یاہر 
سے دریگھا گیا ہے اور راں بو ہیں دعوت وا ےکہ جم اس کے ساجھھ م لککر ا سے 


۸ 


باہر سے وھیں۔ اس میں عجب اس بات سے پیرا ہوا ہ ےکہ اسے دیھنہ کے لے ہم 
اسان یِکیفی تکی عدوں سے یاہرقثل جاتے ہیں اور اسے وہاں سے دیھتے ہیں جماں ے 


رارف ے۔* 


میا فی شحلی قکرن ےکی ا سکوشش کو اگر ہم اجتناتی عظیم کارجامہ صلی مکربھی لیں* 
بھی ایک اعتزاض یہ وارد ہۃ ا ہ ےکہ ان میس سے مض لوگوں تے زندگی کا اظرار 
کرنے کے بھاۓ ائ مار کے عمل اور ائ مار سے ورابج کو اظمار کا موشورع پیایاٴ بللہ 
والیری نے ت بیماں کک ہمہ ویا کہ جے تمس طریقہ کار سے ری ہے۔ اگر دی 
اظمار کا طریقہ ڈحویڈ نے نو پھر اما رکی بھی ضرورت جییں۔ اگر آپ صرف نظریں ' 
تک محددد رہیں ت واقق بی معلوم ہوا ےک ح. لوگ زندگی سے بیگاتے ہو گے ہوں 
کے گھرسوال مرا یا آپ کا خی فنکار کا ہے۔ اور فنکار بھی کیسے مالارے اور والیری ۔۔ 
تیےٴ اکر اس جا کا شن کار ہہ تختقش شرو عکرا ہ ےک اما ریکیقی تکیاہوقی ہے 
امار میں خل لی کس طرح او رگن یانآں سے ب؛ تا ہے اور یہ رکاوٹ کس طرح وور 
ہوتی سے فو ناشحکن ہ ےکم دہ اضائی داغ اذد اضائی زندگی سے ہب سے بیادی عحاصر 
کک نہ بج جائے۔ چنائچہ مدت و حیات* جم اور روح خیرو شر' عرم اور وجور“ خرل 
انسان کے دہکون سے یفیادی سال ہیں جو ہیں مالارے اور والیرتی کے کلام میں تہ 
ھییں۔ والیری نے جو فظمیں اندار کے مسائل سے ملق کسی ہیں اشییں وم 
پغّئے ہمیں انسان کے نار نے جں بے ےمگہرے ا حشافات ہے ہیں۔ بللہ ابا خاصہ 
اتک فلغنہ زندی مت بکیاجاسکسا ہے۔ دی ہہ یا تکہ ان دوٹوں میں زندکی گت کش 
ات کم بوگئی مع کہ ان کے یماں موت و حیات کا قرق موہوم سا روگیا ہے۔ تو ہے 
صظ یٹ ے عل میں مرکا .مال رے کی اے روودیاد اور چواے کا خواپ 
(س جم مرا جی) یا والیری کی نظمم ساپ بڑھ کے دیکھتی چاہے۔ ان لوکوں نے بھی 
موت سے مل ش کی سے اور موت پر چاکی سہے۔ البتہ گان بھاڑ کے ”زندگی! 
زندگی!'' چلاتے ہو شی بھاگے۔۔ ان لوکوں کا ایک اص زہتی کچھرہے' ایک غاص 
اب ولیہ ہے ای کے اندر رہ کے جا ہکرت ہیں۔ مالارے تے زندہ ری ےکی 
خراہش کا انقمار اییے میقب بیج مج سکیا ہے۔ 

ملین اے میرے دل! ڈرا لاو ں کا گانا تس !٭ 


۸ 


بردحت اور جوا کک نے نے اس روایت نے انسانی زندگی کے لجض لازی 
ارارین گا اقّت شرو کردا ہے۔ چنایچہ ان روتوں تے ایتراقی اضائی تعلقات خلا 
اندا نکی ضرورت کا اختراف بڑی شد وھ سحےکیا ہے اىی مرح یر نے اپے نازہ 
ترین تاول تے زے میں محض انقرادی تک و کانی میں تجھا۔ بلمہ روای تکو بھی آد ی کی 
کل نشووفما کے لے لازی جا ے۔ اس کے علادہ اس تاول میں انموں نے یراہ 
راست ایک ای فظام زندگی کی ریف کی سے“ جماں دوات سب لوگوں میں برابر 
تیم ہوتی سے اور آدی کا سای درجہ صرف ذاتی قابلیت سے مین ہو ا ہے وی ری 
اں ریا عل یىی اج آزادی گی ے۔ پارشاہ تے ڑے روعائی دیا اور غاری 
یق کو الک الک یں میں سبچھتا اور اس کا محیشت زدہ مان ای ڈڑی یں ان 
دوٹوں کو انگ انگ مات ہے۔ گمر اس اختلاف کے پاوجود تے ڑے کا روب معانراد 
میں ہو۔ بکلہ اس کا عقیدہ ہےککہ ای ڈی ہیں کے گنے سے میرے مر پ برکتیں 
نازل ہوئی ہیں۔ ہے سے وہ دنا سے سے عمال برست جانا جاتے ہیں۔ یہ جات آ پ کو 
صرف خن برا فن کے چیاریو ںکی دنا یں می لگ یکم اپے حخال ف کو رحت مھا 
جا ہو۔ 

ا سکاب میں یر نے فردکی ممشووتما اور چیل کا اہعتالی صممت منرانہ تور می 
کیا ہے۔ فر کو چا کہ انا الیک کام متصحی نکرنے اور پھردل و جان سے اے پورا 
کرتے مج لک جائے۔ راس سے بھگنہ پر انسان یور ہے گر بویشہ کے لئ بکک 
کر نہ رہ جائے۔ کا م کو بیدی بچوں سے بھی زیادہ عنی: رہے اور اسے ہوا رکے 
ھوڑے اور ہہ کام الا ہوکہ اس سے پوری انسانی تکو فائدہ یچچ ای سے قردکی 
زعدگی تھل بوکی ہے شید کے نزدیک کا م کو ادحورا چچھوڑنا سب سے بڑا گناہ ہے 
اور دوذغ یس آد یکو بی سزا دی جا ےک یکہ جو کام تم نے برا خی ںکیا تھا اسے یار 
پا رکرو۔- 

آ پکییں مےکہ آج شید صاح ب کو ہوش گیا نے بی اکچی جات ہے گروہ خوو 
اور ان کے ساجھہ دوسرے عمال برست بھی السی چےزیں کھت رسہے ہیں ہن سے ایک 
موہوم عالماقی تین تو حاصل ہوتی سے مر اضساعیت کو او رکوئی واج قائدہ ٹمیں 
تا ہہ اختزاضس صرف سای ع_م کے لوکوں ہی کی طرف سے عاصد میں ہوا پل 
اسیے لیکو ں کی طرف سے بھی ج سیاست سے باہر پلفہ کے لے باج پائوں مار رسے 





۸۹ 


ہیں۔ چنانچہ کیسٹر نے خی بر اعتزائ شکیا ےکہ ا نکی کتابوں میں کوگی خیال خیں 
ہوتا۔ میں ایک مم تا ذاکقہ* ایک بھی سی خوخیو ضرور محسوس ہوقی ہے جو ان کی 
تحلیقات کو امپی مت عطاکرتے کے لے کا میں ہے۔ کیوکہ خالی ذا کے سے 
انیاحی تک وکوگی فائمدہخییں پیا ؛گ رسسیسٹڑ کے خلاف شمارت وہیے کے لئے میں خوو 
اپنے قجیات چپی کنا ہوں۔ ید نے جنگ کے ددران میس اپنے روزنابے میں ج وھ 
ککھا ہے اس کا زیادہ حصہ خیالات تی تمہ صرف بی زا کت فراہ کر ے۔ انقا کی 
بات سے کہ جن دنویں ملمانوں کے قل عام کا سلسلہ خشروع ہوا سے جھے اس 
روزناچے کے محخلف اجزا پڑت کو مل جیے۔ جس مم کے خاری عالات شید کے کک 
وقت تھے اس سے بھی تشوشیش ناک میرے بت وقت تھے مر میرے سا نے ایک 
بدی ٹھوس حقیقت ہہ بھی تج یکہ یر کے ذہنی سحون می ںکوئی فرق واقع خیں ہوا تھا 
ان کے لب و بے می ںکی طرح کا اضطرار نمی آیا تھا۔ خالا ڈیر نے اتی جین نر 
عمر پھر میں بھی میں ھی شاید انموں نے خاری حخیقت سے انا دید با رکھی 
حاصل خمی ںکیا۔ ید کا زین دق افنظار اور“ افطراب پر حیات جح ض کو تزچخ دے رہ 
تھا اس تے ماحو لک ناامیری اور توف و ہزاس نے مغخلوب ہوںامگوارا خی ںکیا تھا 
بلہ ان عالات مج تھی حیات انروزی مم لگا ہوا تھا- کیا اپ انرر ای از ن کی 
صلاحت رکھنا اور دوسروں می یہ صلاحیت پداکرتا انساضی تکی خدحمت جہیں ہے ؟ کیا 
زندگی کی طاقتو ںک کور بڑنے دنا ٹھوس کارنامہ جھیں ہے ؟کیا ایں روہیے سے زجگی 
پر غیرمثروط قین کا اظمار خمیں ہوت]؟ 

جس روا تکی ابتدا فن براۓ قن کے نظرہیے سے ہوقی اس سے تعلق رک 
والے فیکاروں کے یماں اوح اح جو خی رصحت من عناص ربھی لح ہوں ان ہے جج ے 
انار خیں* البعتہ اس سے انکار ہےکہ ىہ ردایت جھوگی حثیت سے عوام یا بہت زندگی 
یا حیات مھ ل کی وشن سے اور انساضی تکو انحطاط ما مو تکی طرف لے جاتی ے۔ 
اس کے برخلاف ہہ روایت ایک عظیم الشان ححقیقی م مکی حیثیت رھت سے جو زندگی 
اور زندگی ہے میادی موازیا تکو ڈھوجڑتے نی سے اور اس ہست اور خود اختاوی کے 
سنا ھک نی نے بنا تقو مااسستارا جن تین لیا ہہ ترک جاور منداتت کے 
خیادی وجور سے مر خھیں ہے“ بللہ ان کا کل اشات اہی ہے۔-۔۔ ایا الات جو 
ایر انان سے محکن بھی میں ہے۔ انسان کا اعصالی نظام تنا کرپ اور اذیت 


۹۰ 


یرام تَا سے اسے ان شن کاروں تے آگے بڑ ےکر تو لکیا سے الہ اساشی تکو 
یقت سے روشنا س کراھیں اور اس گگن میں اضسوں تے آسانیاں تمیں ڈعویڑیں* 
کی مفار سے متبجھو خی ںکیا ‏ کل صدائت کے علادہ کسی اور چچ کو ال اعتنا تیں 
تھا عحکن ہے حض کوششوں میں ہہ بالئل ناکام رسے ہوں۔ گر تن سیاست کا 
میران شییں۔ یماں فیصلہ کامیالی اور ناکائی کے ساب سے تمیں ہوا یماں چلتا ہی 
سب بیھ ہے پانچنا حر تانچنا سب باب ہتس پورپ کا شعور زنری سے بگاد. و٣‏ جا را 
تھا انموں نے جماں کک ہہوسکا زندگ یکو تقاعم رکھا۔ انسوں نے اپنے فرض سے جان 
نس بچائی۔ اپنا کام بے دکی سے می ںکیا۔ انساحی تکوگرم رن کے لے آسانوں سے 
آک لان ےکی دن میں برابر گے رہے۔ ان لوگوں میں جو تریک یادی طور سے کام 
کر ری تھی وو بسی تھی اس کا اط رک بغی انی خی جانچا جاکتا۔ زان اور 
کا نکی کیغیتوں نے جو کام ان کے ذسے الا تھا اسے اضسوں تے اوحورا خیں چھوڑا_ 
تے ز ےکی طرح ان کا بھی ری نیگیا ہے اور دوذخغ ان پر حرام ہوگئی ہے- 


مااکیت اور اطلی مصو بنری 


انسائی تار اور اضسائی تفگ رکی نار می ما رک تک جو حثیت اور ایت ے 
وو اتی مصسلم ہے کہ بار جار اس کا وک رکرنا بھی نیع اوقات ے۔ تحص بک رخواریاں 
حائل عہ ہوں فو یہ بات مان لیت میں کس یکو عق نہ ہوگاکہ ما رکمیت نے انسائی زنگی 
کو ھن کی کوشش ایک ایے طرییقے سےکی سے جو بی عد کک قریں قیاس اور 
عربوط ہے۔ اور جس نے چتھ ال قزر رجقانا تکو آگے بدھنے میں یرد دی ہے۔ گھرے 
بھی عقیقت ہےکہ ما ریت نے عروط نظریے پر بمت رکتھ قریانکردیا ہے اور ہے 
برجقانا تکو یدرد دی ہوے اتی نظریاتی سلاشتی کے لے اے اہے عوامل اور جقائق 
سے ئم پڑھی برتی ہے جج نکی حیثیت عحض حراخیاتی نہیں“ جکلہ حیاتیاتی نے اور اس 
لیے انمیں نظریاقی جبدیوں یا سای انظلایوں کے ساخمہ خاتتھ بدلا یں جاستا۔ ایک 
طرف ‏ ما ریت تے دای اقزار کا نراقی اڑایا اور پر محالے میں عمل اشاقی ت کو 
رواع متا چاا۔ دوسری طرف اتال فطرت کے خی ر عقلی نقاضوں ے مور ہوکر اور 
ایک اشاقع تر بین جائے سے بن کے لئ ارس خود بھی چن دای اا9 
کرنا پڑہیں۔ جن کا واحد وصف ہہ سب ےکہ وہ ضبتتا عرتی ہیں۔ چوککہ ما رححیت کے لئے 
انا زی کی دوسری تیر ںکو ر رکرتا لاڑی تھا اس لے ما ریت تے ان سب 
کو شی رععفی اور خی رسائنڈییک شھیرات ےک یکوش شکی اور نے نظریوں میں علوم کیہ 
کی کی درس جامس جاہی۔ ین جماں کک اضاتی زندگی کی تیم سے تعلق رن 
وانے علوم کا علق ہے کوتی نیہ حطلق و جرد اضافیات بر نی مل کتا۔-۔۔۔ لی 
لی دنا مس کامیاب مس ہوستھا۔۔۔ ریاضیات می نظیاتی احتبار سے پا دو اور 
روچار نہ ہوتے ہو ں؟ گر انسائی ڈندگی ٹس روز عد کے کاروبار کے لئے سے بات قرض 


۹۲ 


کرت چاکی سے خاہ اسے قریب می کیوں نکھا جائے مجن اسے ہزاروں قریپ یا 
کجھدتے اضانی زندگی کے لے ضروری ہیں۔ چتناتجہ اسانی زندگی کے ملق پ رنظورےے 
کو چد دای اور صعطفل اقذار فر قکرنا بای ہیں۔ بی مجبوری ما ری تک وج۴ چیٹی 
گی نین کہ جا عبت تے سرف یں کس یی معاشیات میں تحص اصل 
کی تعھی اور زندگی کے سارے مو ںکو اسی ایک شیے کا لح مج میا تھا اس لئے 
ما ریت نے اپنی دای اقذار بھی محاشی عوائل بی سے مار لیں۔ تیرہے خلطلی تو 
و ا قلییا۔ نہ اور فزبی نظظروں نے بھی کی حی او رکرتے ہی ںکمہ زندگل 

کے ایک حخصوص شش کی اقرا رکو تام شعوں پر حاد یکروہیں۔ گر ان کے سام ھ کم 
ےکم اتی مات ےک ان اقزار کا تحلق انان کی انددوئی زندگی ے ہو تا ے ' اھزا 
نظرنے اقسا نکی حرف خارتی: ذح دک تی شی“ مگ جحعاقی اذر روخاق زخگی گے لع 
بھی ایک نظام عرت ب ہب رھت ہیں اس کے برغخلاف ما ری تک اقذار عراسرغاریق 
دمیا سے ملق ہیں اور پڑوے بدے جةباقی مسائل کو چھو ڑکر گی یی 
رعا ا کہ رہا ہوں۔-۔۔۔ انسا نکی جذباقی ادر روعانی زندگی کاکوگی تس ین بخش نتشھ 
ان اقدا رکی یرد سے عرب خی ہو سکتا۔ ما ریت کا ین کہ عحضس معاشی ماحول 
کو برلے سے انسا نکو بھی برلا جاسکتا ہے۔ پراتے اخلاقی اور نربی نظام ىہ مکفت کے 
کہ انا نکو برلے کے لئے اس کے نتصورات اور اختقادا تکو بدلنا لازٹی سے۔ گنی 
س ےک مور الڈکر نظریہ پدری طرح کال ع ہو ین مارکسی نظریے پ ہہ وقیت طرور 
دک کے تی مان اقانی کے اور خرف پر و کس“ لہ درارغ بھی فرن ضکیاگیا ے 
اور نضیاتی حرکا کو عقائل نوج امیا ہے۔ نفضیاقی حرکات ت ظاہرمیں میم اور تقر 
.لیکن دراضل فو را خقائی مل اضیٍں ي جحفرب ا زکیمت عزیان رارق کے 
ارتقاء کی رین یا نکرنکحق ہے تن ہہ خی جا ح کہ آعجز سیا ذ گی ووائط۔ 
کیوں عاص ل۶ ہنا چامتا ے- اس کا جواب صرف ضیات رے گی ے۔ ھڑا بیادی 
انار سے معائی سطہ فضیاتی اور اخوق سلہ بن جات ہے۔ خودکیونزم کی سار 
جدوجد چند اخاقی تورات پر نی ے* ین ما رکحنیت آپیے پ کو اس نظرے 
دیکے ہد ےگراتی ہے۔ جب اشقالیت ىہ دعوی یکرتی ہےةکہ من تکرنے وا ےکو اتی 
حت کے جج سے فی ہونے کا تق ملنا اج لز رراکل وہ چر پائل ملق و رر 
اخلاقی تقسورات پر اپنے دو ےکی اد رکھڑ ےچ ورتہ سے اصول “عحقی اور عل‌ی ولیلوں 





۹۲ 


سے قطعا ایت خی ںکیا جاسکتا۔ عرل و اتصاف کے چتد دائی اضولوں کے اقیراشالیت 
١‏ وجود میں میں آعق شی اس اختبار سے ما ریت ایک اخلاق اور جذباقی نے 
ہے گر امن جڈیاحیت کے پاوجود ما رکمیت کو جزیاتٹ سے مخلق ہونے سے اڑقار 
ے۔ اور حض مفطقی اور علی نظریہ ہوتے کا وعویٰ! تی“ اس میں بھ یکوقی ہرح نہیں 
تھا اگ ما ریت خای زندگی کے محاشی اور سیاسی پملووں کی متصوب۔ بند یک رے 
ملین ہوجاتی اور انسا نکی اندددثی زندی کا نظام عرت بکرنے کا کا مکی اور نظریے 
کے بیز کروی فجن ما ریت انساقی مخاطات شض وررہ“لا شیک رونا چچاہتی ہے اور 
کی دوسرے نظررہیے کا رخل اس ےگوارا خییں.۔ اس کے ساجچھ ہی اس می ںکوئی نظام 
جذبات قراہمکرنے کی بھی صلاحت میں ہے۔ چنانچہ محاشیات اور سیاسیات کے 
حددد سے دائڑے کے باہر پچارا مارکسی نہ بھوسا جانا ہے ادر زندگی کے اہم ترییی 
جذباتی سائل میں اپنا رویہ میک طرح جائم میں کرسا۔ اور اگر وہ اپنے معاشی 
نلیا ت کی روشنی مج ججلدی سے کوتی عل ڈحونڑت ےکی کو ش کر سے نے اس کی 
کیقیت غاصی “لہ خز ہو جاتی ہے۔ را ذرا سی سے ضرر چڑوں سے وہ اس طر 
بھڑیے تا ہے جیے بھڑوں کے بے سے“ اور عام تنزحی مسائل میں پچتھ چڑا ہوا سا 
رے کا ہے “کہ جما ںکوتی با تکی اور لگا گگڑنے۔ مر عام آدبیکی زندی میں معاشی 
عقیدرے ام ابحیت نیس رھت جقناکوگی مقردہ جذماتی نظام۔ کیوکہ اے ہر ہر سے 
جذباتی صورت عالات سے دو ار ہونا ہنا ہے۔ اگر اس کے لئے مجذباقی سا تج موجور 
ضہ ہوں جس میں اس کے اعصا بکی حزیبات خی رشعوری طور پر علق چپلی جاھیں ت 
ا کی بوری زندکی کیف ہوجاتی ہے اور وہ بین اشتراکی نظام کے پاوجود ون 
زعدی خی ںکزار کلتا۔ ما ریو ںکو انی را الاعنقاد یکی قمت جذہاتی نا آسودگی کی 
مل میں اداکرنی پاکی ہے۔گرعام آد یکی زندی اسے مجبو رکرقی ہے کہ اپے اعصالی 
دا کو پا ا٤کرنے‏ کے لے جھ جذیاقی سا جج بھی آسانی سے مل جتیں انییں تو لکرلیا 
جاتے۔ عام طور پر ہہ سا موجہ پراتے اور خی مارکی ہوتے ہیں۔ اور اس پر 
ای لک ناک بن چناجھاتے و یک سے ارتا وف شرورع موا۔ جب کک رتس 
نظام خاری دنا مج اعم شس ہونا اس وقت کک تے راس خوش مت کی بھی منیائش 
رہتی ہ ےک جب ہہ فظام حا ہوجاے گا ذ اپتی جذیاتی رواستیں اور ساتے خود پیا 
کر ئے گاک لا نکیوشنٹف فا مکو جاک کے وقت بی سے سے علی دشواازی جت ٣ل‏ 


' 


ےک لوگ اپٹی زندلکی چوٹی سے چھوٹی بیانیں سے سک ےہر بڑدی سے بڑبی یائیں کک | 
گے یارۓ ہی نکیا نو ککزییں۔ ما رکفت الوکووں کی سے متقل ود بھی تھی خی 
طریتے سے عل میں کرت اور انمیں اپنے ععقیروں کے تک داڑے سے باہر بھی 
نہیں نے ویتا چاہتی۔ براہ راست تو ما رکیت جذماقی راس متجین می ںکرق' ال ھ 
مارکسی نظریں سے چند نج اغز سے جائکت ہیں۔ گر اس طرع جو اصول اپ کک 
ہناتے مھت ہیں ا نکی جمیادوں ب کی تیم ارب اور آر ٹکی قفیرتیں ہوق کوک 
ہہ اصول زندگی کی بدی بدی حتیتوں سے کہ نھھیں چراتنے کی کوسشش کرت ہیں* او 
رحس سادہ دلانہ خوش حقیزرگی سے اتی زا حاص لکرتے ہیں خحکن تھاک ما ریت 
نطری اعتبار سے نہ سی می میقیت سے آ ہس آہسعہ ایے نصورات پیر اکرلیتی جو 

لیونٹ ترزیب کو معنوی اعتبار سے بھی دنا کی ددسری بدی ترزیوں کا ہم یلہ بنا 
ھت گر اول تو فلخیاد. اعتیار ے ربا رکیت تق میں اور خخوں) با ری نظرے 
سازوں میں دای اکسا رکی بوئ یککی رہی ہے اور ع٣‏ لی دنا می ما رکیست کے کامیاب 
ہوجانے سے فو اس خردر میں اور ترقی ہوکی ہے۔ چنانچہ تججیہ ہہ برآتد ہواکہ اتی تمام 
مادی ترتھوں کے باوجود رو کی روعائی زندگی پر ایک جیب بے بچارگی شی سے خواہ 
اس پر می عککرنے کی کعئی می کومعش شکیوں نکی جائے۔ یوں روسی علومت کے قول 
کے مطابق نت نی اد یکماہیں تریم و جدید دوتوں؟ روس مم پڑھ جاتی یں ات ریا 
کے کی اور ملک میں خی بوھی جاتیں۔ گر ترزسی محاطات سے عوام کے اتی وی 
لیت ہے باوجود روس کی شن میں بھ یکوتی اڑی تخلیق پیش می ںکرکا جے پور ڑوا 
تنذی بکی خحلیقات کا ہم بل ہکھا جاگے۔ ہہ صرف الزام میں ہے بل ہگورکی جک نے 
اس کا بارہا اختزا کیا سے۔ نیشن اس اختراف کے بادتودگورکی حر ضف کی یج شخیسں 
ن ہکرسکا اور نہ اس سے معناسب نہ تچوی ہوا بکگہ دہ تق اپتی دینداری کا گار ہوکے رہ 
گیا۔ اس دقت غیرے ساسح ےگورکی کا ایک مقمون سے جس میں اس تے پورا نقش 
ٹین کیا ےک روس کے انظا ی شاعرو ںکو اولی روایات مم ںکیاکیا تریلیا ںکمذ ہیں 
اور شاغر یک ون راحتوں سر نے جانا ہے۔ اس مممون میں نظریہ برس اور روزمو کی 
زندگی سے بے اعقناتی جو شکھیں ا خیتا رکرتی ہے دہ نہ صرف الم جاک ہیں بللہ معملہ 
زین جاتی ہیں اور رت ہوقی ےک مگ ورکی جسا آدی .۔ جچت سے بے اوفام رو جات 
مشاہرے میں آتے والی یانیں سے اپنے آ پکو ایا غاتخل کے بنا سکا۔ اس مشمون کا 


1۵ 


ڑب اس وجہ سے بت کار آید ہوگاکہ اس میں اوب او رک ر کے متخلق مارکی نؾیڑ 
نظ رکا پورا نچوڑ آجانا ہے۔ ا بگوری کا ہراحیت نامہ دیکھتے بل 7 

سے روی ادب کا بجوزہ علیہ بی کرتے سے پل کو رکی نے ان لوکو ںکی اخریف 
کی ہے جوم ارب تخل قکرتے والے ہیں ۔گورکی خیال می روسی توجوان نل ایک 
ترقی یڈ اور اپنے اوپ اعد رکتے والی قوت سے ( چ2 مان لیاٴ اور یق سی شرط کے ) 
تار کی ضطق چاتق کہ مہ نل زنگی کی تی عو ں کی تخلی قکرے۔ مارکسی 
لوکوں کو ند ہےککہ ان کی تذیب ہر معالے میں پائل خی ہوگی۔ عالاککہ گ ھی 
دشواریوں کا اندازہکبرکے اتمیں بضل وتے رواعت ے واقی تی ضرورت کا اخزاف 
کزنا ]ا ہے لن وہ اس واقی ت کی اس رح فوتی طکرتے ی ںکہ ساری روایت لیا 
میٹ ہوعاتی ہے۔ خاری محالاتد میں و کن سے آسانی سے خی شکھیں تخی قکری 
جائیں جھر روعائی زندی میں تا ین ایا منہ کا توالا خی یماں اگ نیا پن پیرا ہوکتا ے 
تو ایی اصولوں کے ذریت جن کا براہ راست تحلق انا نکی ذتی اور تفیاتی زندگی 
سے ہو گر فطرت کے خارتی زندی می ںکوگی قلی پنش اور تام پھلوؤں پر حیط تب یی 
پا خمیں کی جات ہہ حضس خود قرسی ہے کہ انساتو ںکو بھی مشینوں کی رح پرلا 
چجاسلما ے۔ 

آکے پچ لک رگو ری کھتا ہےسکہ روسی خوجوانو ںکو ارب میں بھی نی شلوں کی 
حلی ق کن چاہے۔ اس لے ضروری ہ ےک انمیں اد ب کی برانی عموں سے بجی 
آگاہی ہو۔ پرانے ادب سے ایک تو اتمیں نیک یھنا چا ۓے_ دوسرے اخمیں پرانے 
ادب کے ذریجے محوسط لبق کی ترقی اور حزل کے عم لیکو جھتا باے_ اور ہے معلوم 
کرنا جا کہ موسط عیقہ اححطاط یڈ کیوں ہے۔ ارب اس معالے میں بست مقیر 
مامت ہوگا ۔کیوکلہ بورڑا شاعروں تے اس سارے عم لکی تقوب نشی خو کی ہے اور 
ناکارہ انسانوں کا ڈرامہ بڑی عمدگی سے یی کیا ہے مض مارکسی عصفقوں میں ہہ عام 
رجمان پایا جا ما ےک کیونسٹ وور سے چسلہ کے آومیو ں کو انسان ہی نہ ھا جاے 
لہ ائمییں صرف و حضس جاکیرداریا بدرڈدا خیا لکیا جاے۔ ورک کے بیان میں بی 
ذہیت نمایاں ہے۔ موسط طظ واشی تزل پڑے ے اور پو روا شاعروں نے واقئی ایس 
انحطا کی تقو بھی سے اور تض محوں میں وہ بھی اس انحطاط میں شحریک رے 
ہیں۔ گن حوسط عبیقہ اپینے علبیدہ خصائس کے یاوجرد انسان ہے “کوئی دوصری بت 


3 


میں ہے اور اس اعتبار سے بست سی بنیادی باقژں میں روسرے طبقوں جیسا ے_ جب : 
تک ہے سب بت انسان ہیں ان جس ضرو رکوگی ن کوقی تقر مشترک رہ ےگی۔ خاش ی 
ویش عالی ىا برعالی انساقو ںکی جنیادی انساحی تکو میں بدل ححق۔ الہ ہگورکی جیے ول 
اپنے نظریاقی ما جذباقی تحصب سے مور ہ ھکر اس قزر مت ککو قرامو شک رت ہیں 
نظرے سمازئ یکرت ہہو ہے گورکی تے عوسط فلت کی اشافیت کو ملا دا سے اور اتی 
کتاب وہ علوق جو لہ انان می کا نام تچوی ہکرت ہوثئۓ اس نے محنت مش لی کی 
نیادی اساضی تکو نظراندا زکرنا چاپا تھا۔ اگر ما ریت باگوری یا اد رکوئی اضانی زندگ 
کو خحیق معتوں میں (لشنیق نضیاتی اخقبار سے) بدلنا چاہتا سے ت اسے سب سے پچہ 
انساتو ںکی اناعی کو نظرمی رکھنا پڑے گا جو ظاہری لیاسوں کے پاوجوو تخل حیثیت 
ری ے۔ انمانو ں کی جیادی انما یت کا اضاس ما رکھیو ںکو ہپ یا آرٹ سے 
حاصل ہوسا تھا۔ گر ان کی نظروں میں رووں چزیں مشچ وں۔ انیسویں صری کا 
شاع رگورکی کے لے انان خمیں ے> لہ بورژوا شاعرہے۔ ہہ اڑ یکورضی ےکلہ 
یرے تززیک ‏ گورلی کی افیاے جک خگلوکت بن ہانھ ہوں اور خٹ خب رہونۓ گلا 
ےکلہ اس ذہنیت کے آدبی کے افساتوں میں رجح“ ری اور جذیات کے پاوتوو 
کوتی یی انانی سنویت مل بھی سی ہے یا شیں۔ اضا نکو اتسان نہ نت سے بدھ 
کے او رکیا اضسائی جرم ہوسا مہے؟ ماناکہ بدو سلیٹر جیے شاعر متوضطا لبق کی گلست 
ے۔ سے تمان یں“ ین وہ اس سے تھی زیادہ انمائی روج کے تھماترے ہیں۔ 
سیر واقی وس لبق کی موت کا اعاا نکر ہے۔ گن مارکی تی بک بھی نے 
وی رتا ا مر ہی وی ۷ اضق سار خر حا ایا تا 
شلوں کے باوجود اس تنذیب کا نظام بھی اھ بمتزنہ ہوگا۔ جو شاعری کم سلتا ےکلہ 
' می ے ریا کار حقاری؟ میرے جم شحل میرے بھاتی'' وہ صرف منوس لبق کا شاع رنمیں 
ہے بلک ازکی اور ایدری اضساخحیت کا شاعرہے ۔گورکی جیے نو دولت لوگ ىہ بات آسالیٰ 
سے میں مجد ک کہ شاعرذہتی اخیار سے انی تذیب سے بلند ہ ھکر زندگی پر ور 
ترستا ہے۔ حوسط لی کی تمفحب مم دنا بھ ری بے اھانیاں سی “گر اس ترزیب 
سے تج اک لو ای تبون جن ناک لت ےار اق میں ئن 
اور وھ صرف و محض انان تے۔ اور صرف و عحض اضائی زی کے محلق.ازی وابری 
تالق یی یکر رہے تے۔ گ رکوری کے لے انیسومیں صدیکیںشاعزی میس شہ تھکوگی ب 


۹٤ 


عحالباقی قرر و تجثت ہے عہ انماقی حویت اور حخل اس وچ ےک بے مماعزری ایک 
مائص وت اور خحاص آومیوں کے درمیان پیدا ہوگی تی انا نضہ مروود ہوگئی- 
شاعری میس وہ تی شمحمی ںکیا ہو ںگی جنییں روس کی توجوان ضل خی قکرے 
گی؟ اس سوال کا جواب دی بہوتۓےکورکی کتا ہے کہ خی شاعری دلاورانہ شاعری 
ہوگی ہکیدکلہ دو ںکی خی زندی کا تقاضا بی ہے۔ ایک عد کک ہہ بات مات کے تابل 
ہے۔ واشی انیسوریں صد یکی شاعری میں یاس ببس اور سی انی اہتنا کو تج کی 
تھیٴ بللہ خم لود جذبات کے ا مار بی کو شاعری سبجھ مایا تھا۔ واقتی نی شاعر یکو 
اس ضواحیت سے چا چڑانا چاہجتے اور اسے ایک نے عزم اور خی انتک سے بھرپرر 
ہنا جایے۔ لن ولاورانہ شاعری کے نقرے کو بغیر پدری رح سے ہوۓ ول 
کر لیے میں بدا خطرہ ہے۔ اس کے مم مہ بھی ہوسکت ہی ںککہ شاعری صرف انا ن کی 
فڑحات اور سریلندلوں کے راگ گاتے اور انمائی زندگی کے کور پھلوؤں ے چان 
بوچ ھکر ہیں بن درکرے ‏ اور شاعری صحض ڈیک اور بڑلولا بن ہوکے رہ جاے ۔گویا 
شاعری کا فرض تصیدہکوتی بن جا ہے --۔۔ اور بت بی یٹ میں یں_ انان 
سی صلاعیتوں اور قوژ ںکی جحتی فضہ سرا یکی جا ےکم ہے۔ مر جب کک ازن پے ا 
کرتے کے سن جےکوکی دوسرا اصول موجود نہ ہو ہہ فقہ سرائی چچھورا ین اور ششوحت ال 
ہوگی۔ بیوں ہو ےکو نے ہوم کی شاعری بھی ولاورانہ شاعری سے مگ رکائحنات میں انان 
کے علادہ جو دومری توئیں کا مکر ربی ہیں ان سے خائحل ضس ہے۔ مکمہ کاتنات میں 
انان کا مقام حقیقت رستان نقط نظرسے مین کے بقیرہومرکی شاعری اتی بڑی ہو 
ہی میں تی عی۔ زندکی کے الاک پہلوو ںکو نظرمیں رے بی شاعری تذ شاعری 
ایی ت ندب کک انور سے کھوچھلی ہوگی۔۔ اس معن میں ددہرا حوال ہے ہے کل 
دلاورانہ شاعر یق کیا صرف فبوحات پر خوشیاں مناتے کا نام سے؟ کیا روعائی جنگ کی 
شاعری ولاورانہ خیں ہوگ٥ی؟‏ کیا بوو ہلیئ رکی شاعری دلاوراعہ شاع ری نیں ے؟ کیا 
دلاوری عحضل خاری مظاہ رکو مخلو بک ریت بر شتل ہے اور اخلاقی جدوجمد ٹس کے 
اع فذری طور پر عرقی نمی ین گت“ دلاوری کے دائڑے سے غاررح ے؟ 
گوری نے اع یکی خی عو ں کی چجتھ اور ن شیج بھی کی ہے۔ اس تے بانی 
شاع ری کے جین بوے موصوع قطرت٠‏ معحبیت اور موت کے لے ہیں اور چایا ےک ان 
چیزوں کے یارے مں پرانا رویے کیا تھا اور تا روہ کیا ہونا چا ہے۔ فطرت کے ملق 


1۸ 


پرانے شاعروں کے انداز نخظرکی نحری فگورکی تے مو ںکی ہے ”براتے شاعر فطرت کی 
مراتیکیاکرتے تھے “بھی دہ اپنے آ پکو فطرت کا مالک ججاتے کے او ری قطرت 
کے چچے نیشن درتیقت ا نکی تصیدہ خوانی خلامو کی حثیت سے ہوقی تھی ان کے 
رو یے مس خوشایر اور فطر تکی؛ متابعت ہوتی تھی۔ ا نکی نشمییں ایک چابر شمنقاء ی 
ان میں تھیرے کی طرع ہوتی میں اور ان کا اب و اہ پالگل رعاوں کا سا تھا۔ وہ 
طغانٴ سیلاب خنک سالی ادر فطرت کے ددصرے مان اقعا لکو نظ رانرا زکرچاے 
تے۔ امموں نے کببھی انان کو فطرت سے لڑتے اور اس کو مخلو پکرتے پر خمییں 
السمایا“ ادر نہ اس انرھی چابرانہ قوت کے خلاف "اج کیا۔ گن اپ زانہ بد لگیا 
ہے۔اب 3 رویس مس مناظرکی شحل بدلی جاعکق سے اور دلرلیس صربتر باغ بن ح 
ہیں۔ لن شاعر ریھتائوں اور درلوں کی طرف نظربی نہیں اٹھاتے۔ رویں سے 
شاعرو ںکو اس تی عم کے متعلق ککھنا جاہے۔ اب تذ ا٘میں ایک میا موضوع مل گیا 
ہے مجن فطرت کی ایتراتی توتوں اور تام انترائی چزوں کے خلاف انتای طور ے 
مم عت لکی جددجمد اور یر طیقاتی انا نکی تحلیم و ممیت ٴجو ایک وومری فطرت کا 
خالق سہے اور اتی قوت اراویٴ ععحل* جئیل اور جسماتی طاق ت کی برر سے ہدے پڑوے 
کارنا ےکرتے والا ے۔ 

اب اس بورے مان کا قزیہ یی تو نہ صرف طرح طر حکی یج فنسیاں اور خوش 
قیاں نظ ربہمیں کی بامہ خلط میانیاں میس گی۔۔۔۔۔.۔۔ جو غایر رات ےہ ہوں* جم 
حض خوش اعففادی کا میجیہ ہیں۔ سے مور پکی شاعری سے ورا بی واققیت سے وہ ہے 
چملہ ضفنے ہی س دے گا کہ بورژوا شاعری خغطرت کے پاریک پھلووں کو نظرایراز 
کروی ہے۔ مان ےکلہ فطرت کے خلاف احتخا حکرتے ہوے بورنڑوا ششاع مال وی 
و سی زیت مئے ہوں۔ لین خطرت کی اندرھی تونوں کے خلاف احّاع پور نوا 
شاعرىی میں موجور ے۔ نیس ن کی معطمھوں سے حثالیں پر خی کو یار ہوں گی اور 
انیسویں صدیکی فرانی شاعری سے نےچھتی مثالیس چاہے جع کے لہ جاہے اور نے 
کھنا بھی غلط ہ ےکلہ بدرنڑوا شماعروں نے انسا نکو فطرت سے لڑتے کے لے بی نیں 
ایھارا۔ عالانہ اس فصن می سسکورکی تے ساری برای شاعر یکو مطعون قرار دیا سے گر 
میس جان بوج ھکر یت رکا وکر خی ںکروں گا بکمہ اپنے آ پ کو انیسویں صدی بی تک 
ححدود رکھوں گا کیا براونگ کے یہاں اکٹریہ عقیدہ میں تا کہ انان فطرت پت 


۰ 11 


حاصل کرسکما ہے“ اور اسے ‏ یاب ہونا چایۓے؟ کیا فطرت کے ملق یل کا روے 
حض خلاموں کا سا ہے؟ اور غطرت سے لڑائی کا جذی 3 روائی ایرپ جِں گال قراواتی 
سے ما ہے خواہ اس میں انا نکی لازی لست کا اصاس بھی شحائل ہو۔ پور ئڑوا 
شاعریں تے ہر لہ اور ہروقت فطر تکی نوخایر تمی ں کی“ بہ ان کا روہہ (خود ایک 
ہی شاعر کے یہاں ) حخلف اور تو رہا ہے جیس اکم انسانوں کا روہ وت ے۔ اگر 
رمتانو ںکو یاخوں می تیدی کیا جاسکتا ہے و ےہ بڑی مبارک بات ہے“ اور انان کی 
عفمت کا حجوت ہے گھر شاعری کے متحلق بح کرت ہوے ہیں ہہ و یھنا ہوگاکہ جو 
شماعراس کارتاے کے یارے میں کے رہ ہیں ان کا انراز نظ رکیا ے؟ الۓے کارنامیں 
ہے متحلق قطعہ ا رج بھی ککھا جا سکس سے اور ایے شححت ٢م‏ زشع رجی ؛_ 

ضر پ پل ری سے پن بھی دع کی پری سے گام کی گی 
اس کارناسے پر آد یکو یبر ضروری اور میالقہ آمبز موی بھی وی ہے اور کب ربھی 
سد ہوسکتا ہے۔ سوال محش ان کارناموں پر نظم کیہ سے کا خمیں ہے جگلہ اس روعائتی 
کپ رکا جو ان ننلموں میں خودار ہوگا۔ اگر انسان رمتا نکو عرقزار بنا کے ہہ مھ لے 
کہ ہیں اب میں وعدہ لاشریک ہہوگیا ہوں اور میں نے فطر ت کو مغلو کر لیا اس کا 
تہ دی ہوگا جھ شداد یا خرود کا ہوا۔ انسان کے انتا اوراک نے انضائی فطرت کی 
ا یمور یکو لہ بی مت میا ھا اور اس کی تشکیل ان تصو ں کی شمل می ںکردی 
عحی اگ رمگورکی کے خی شاعری عحض انسا نکی کارکردگی اور ناخ کے نے میں مت 
ری اور انال زندگی کے المناک پھل ھکو حول کئی تو لاف وکزاف بن کے رہ جاڑے 
گی۔ انان کئی ہی تز قکرنا چا جا اسے آخز می اپتی بے بی اور لاچاری لے 
ددچار ہونا پڑما ہے۔ مارتی قوج تے الگ رہیں* خر انمان کے دارغ میں الیے نول 
یابائی کا من ہے جن کے عقالے میں اجتائی طور سے مم عق لکی طایت بھی کارگر 
شی ہوتی۔ اگر انان نے خارتی حثیت سے ایک خی فطرت درا بھ یکرلی ت اس کا 
اش انا نکی روعائی زندگی م" س کون ىی اڑسی حبدیلیاں چیداکردے گناک جن سے ایک 
پالل ا انسان وجود جس آجاہے؟ اول نز یا انان بی ایما تم . سے جس کے یارے ہیں 
بت یھ چٹ کی کخیائیش ہے۔ نین خاری عمل سے نت کوتی ایا انان پیا ہو تی 
جتییں عنقتا نین وق اعئی: درےکگی اق قی حتت ۳ نان فطزت سے رب کے 
رہ جانا بڑںی بۃدی ہے“ وہاں خر مشروط طور یر قطر تکو مخلو کر لیت کا مقیرہ بھی 


ایک فص مکی تعائم برسی ہے۔ فطرت تو خور انسان سے مغلوب ہونا چاہتی ہے گر احل 
طبرح تی کوتی حدرست جم کی عورت عرد سے۔ غخطرت مغلوب ہوقی سے “گر وم 
ابنے تعاون سے اور اس مھارلے کا تہ سی ای کک خلای نمی ہوا بلکہ قوت 
<یمگررق ك2 پھر پائل ”دلىے 7ل آیرشیی سے ہے علل کل ےآ ۶٣ز‏ 
کرنے کا خیال بھی بدا ہی خیں ہوا۔ تو دوات لوگوں نے بیشہ بھی صوچا ہے “کم 
کائنات میں بس جم ہی ہم ہوں او رکوئی مارے پرابرکا تہ ہو۔ اور ان تام لوگوں کی 
روعانی گلست ہمارے سا ...سے ار ادر فرعون سے ےکر ٹاوصف 
گگ۔۔۔۔ ہے ورحت ہےکہ فطرت کو تاب میں لانے کی چتنی علاحیت کیوضشٹف 
تذیب می ہے ات کی اور تزیب میں خمیں رجی' فان فطر تک عمل ”یرک اپنا 
یادی عحقدہ منانا اور انسان سے او رکسی اور قو کو تلیم نےکر ممتجّل کی بایوہیوں 
اور ول گگیوں کا سامان خوو قراہ مکرنا ہے۔ 
محبت کے بارے مج ںگگورکی سے بیاءات اور بھی فرحت بخش ہیں٥جچت‏ بھی اتی 
اورپٹ بھی اپتی۔ ایک طرف و بو روا شاعری پر تٹائم یرس اور یا ئٗ پندی کا الزام 
خاکد ہوا ہف دوصری طرف ہہ نشفایت وی ہے کہ تم ای یں کیوں شی مات 
کرت جن سے مق کور ہو اور یاس پیا ہو۔ مقصد حضل انتا ہ ےک بدرڑوا شاعری 
کسی ش کسی طیح برا کھا ججاے۔ چتانج ہگورکی کا ارشاد ہ ےک برای شاعری محب تک 
زندگ کی سب سے بدبی عحلیقی قوت سبجج کر ا سکی فقہ سراٹ یکرتی تھی من سے بات 
من سن عق اط سے یت بی اب ائدزشن اذ اتکی جات سے کے قوت ات 
وھ بے ید تو اپ ہے ے ات 
رساں مؤں' “خلا چو ے“کھیاں“ مررن آ پ کو فطرت سے فکایت ہے لہ ہرز 
جاری سمولم تکو نظ ررکھھ کےکیوں نی بنائی؟ مہ ودی خدد برستانہ نظریہ ہے جو ساری 
کاتحات کا عرلز اضان کو ججتا ہے ) مریایہ داراشہ ریاست ت بیاری پچھیلاتے وانے 
کیڑوںکی طرف سے بے اختناقی برتی سے “کیوکلہ اسے عوا مکی حندرسق کیا پروا؟ 
کن مزددروں کی ریاست اڑسی بے بروا خی ہوعھتی* وہ فطرت کے ملق عمل کے 
راف ودب درگ ہن ودک ایق دیلین ک یوق ے عیپ لڑے و ار 
ہی ںکہ میس شاعروں سے چو ہے مارت ےکو خی ںکتاٴ بللہ عیرا مطلب ہہ ےکم قطرت 
کے ملق شاعری کا رویہ یدلنا چاہے۔ وراصل عیرے لگ نو اس بیان کا مطلب بجھتا 





2 
با درشوار ہے تکوری کے بیان کا می متجیہ ق بی ہوسکتا ےکر شاعر گکمنہ عفائی کے 
لئے فشمییں کک اکرہیں..۔ اول تو انیسویں مد یک بورڈوا شاعر یکو اس سے لع انار 
میں ہےککہ محبت بھی ایک جبلت ہے“ اور اس جبلت کے تق بھی ضرور رساں اور 
انریشہ ناک پلو۔۔۔_ب۔ وفی یا جماق ہو یگ ہیں بورئڑوا ارپ میں 
لے ہیں۔ لی نکوری ہہ میں مھ سکتاکہ اس جبلت نے یھ ذہتی مناصبات بھی پر 
کرلئے ہیں اور جن جماں فضانی خوائش ہے وہاں فیاتی ترک بھی ہے۔ اتا نکی 
ایک بت بڑی خحصوصیت بسی ہےکہ اس نے جضی جیل کو ستوارا او رتارا ے اور 
تل کٹ کے علادہ اس سے ردعانی تزعیت کا بھی کام لیا ہے“ دیے اگمر ہر بات کا 
ارک پہلو ہی چنا ہد 2 ہم کمہ کت ہو ںکہ کیوشٹف تریک نے بہت سے موقغ 
پر ست لوگ پیدا ے ہیں جن سے بویت اجتا یکو ہت خطرہ ہے۔ اس لئے ہے ویک 
ٹرآ ہة۔ بنی ججلت چوے و طرور چھاکلق سے گر اتسا نکی ذکفی ادر روعالی 
زندگی میں بھی کوی رد مل چا کرقی ہے“ ادر شاعری کا تعلق انا ن کی روعاق زنوی 
تی سے ہے۔ پھرسوال ہہ ہ ےکم جب اشنزاکی حلومت سمارے چو ہے مار یی گی* اس 
دقت انسا نکی حبت مج سکاکی خی پاکنڑگی آجا ۓگی؟ 
گور کا داقق بی خیال ہے کہ اشزای ریاست میں بی تعلقات بیادی اعتیار 
سے بالل خی چرہوں کے۔ اس نے صاف صاف افلوں می ںکما ہےةکہ اشزای سا 
ہیس اضانوں کے درمیان ضسل کش یکی ابتدائی شچھیں باق خی رو ںگی۔ اور الی 
شھیں جھ صرف دو مو ںکی جمائی قوت کے یل پر زندہ رے والی خی علوق کے 
سے فاحدو مع ہیں۔ اس جیان م ںکوتی مق یا مطلب جے ت وکھائی نہیں ریا۔ عمل 
گوگی کا آخری عدیں اس سے آكے او رکیا ہو ںگی؟ سای رم و روا ع کی چرمیان 
فیادی ادر ایتراکی جٹی تحلقات پر کس طرح اث انداز ہو گی" ہے بات ذرا مکل ہی 
سے مھ مس عق ہے سہ نے ہوسلما ےک بیادی جبلت ہے اما رکی میں پرل 
دی جبائیں' دہ چھھ سفور جائھیں یا جو جاہیں گر ابتداقی تعلقات بائنل سے بس طرع 
وت ہیں جب ک کک اضان کا پررا جسالی اور اعصال ڈچچری ن پرلا پاے۔ 2ے“ 
ا بکودی کا ایک اور افزام سفے۔ پرائی شاعری نے ہمیں یہ مھایا ہے کہ بپڑیوں کے 
گانوں سے پچ پچلتا ہے کہ محیت بی سے گاتے پیرا ہوتے ہوں۔ دای محبت تے رٹ 
گی ہمت وو کی ۓے لان عزانت اور حورنوں کے احتعال کی چچھیں ھا نے رای 


۲ 


صتعتو ں کی بی بہت مدکی ہے۔ مج یگگورکی کا الزام ہہ ہے کہ محیت کے جزبے تے 
سیا داروں کو روپیہ کھاتے مس آسانیاں جم شچائی ہیں۔ میری ججوی: سےکسمہ نمیں 
سور کی بھی قاع تکملی چا ۓ کہ وہ مریایہ داروں کے کارانیں کے لے روش 
کیوں جم بپہجیا نا ہے! اس کے صمق ہہ ہو کہ بھییں کسی نکی بھی تحریف می ںکرنی 
جیاینے* اس ور سے کہ کھیں ضریایہ دار اس سے قاکرہ تہ اٹھا رے ہوں یا ان کا 
مطلب ہے ےکم جب مزدوروں کی لو فکھسوث بر ہوجائۓے گی ت پھر پرچذیہ عتقدں 
من جات گا۔-۔۔۔۔ اس سے لہ حجھیں۔ حیت کے یارے ہج ںگوری نے ہس ایک 
بات ابق آق اع ٹن ہے ہو ٣ق‏ دن مد ے کے پن روا عاج مس شاعروں تے 
حو رتو ں کو دی تو بنا دیا “ گھر وٹے عورت سے چائوروں کا سا سلوک ہو رہا_ روںی 
یں ععورت کا درچر عرد کے یرام ے۔ لے زی آزاردی ناصل سے اور وم ہ رکام 
رق ہے۔ دییے تو اس جیان پ اختراضات مہوت ہیں ٢رچ‏ مان لیاکہ روس میں 
عورتو ںکو واتنقی ایک باجرزت درجہ عاصل ہوگا۔ پنانچہ شاعری میں اس عمل کا رورحل 
ىہ ہوسکتا ہ ےةکہ نہ عورت کو دیڑی رتایا جات اور نہ جانور* جللہ انا ہم رجہ مھا 
جاے“عگراس سے ایتقرائی جنی تعلقات کس طح اث پڑے ہوں گے۔ اس کی تقیر 
توف یىی بدد سے ہوعحق ہے۔ دراص لکیونٹو ںکی ہہ خواہ اہ کی جٹ ےک 
جعاری جرجات خی ہوگی۔ اس ضد میں دہ اضساقی فطرت ک ککو بدلنا اہ ہیں “گر اس کا 
تور جک میں کرکی کہ خر حطر ٹک وس بح بدلا جائۓ ۔ چناجچہ اس مکش میں 
اش ائیی اینڈی مینڈی جات کمن اتی ہیں جھ لا حالہ معحلہ خر ہوجاتی ہیں۔ 

مدکی ہے خےدیک پور ژوا شاعری کا مسا بدا موضوع موت ہے وہ کھتا ےگل 
موت کے پاکڑ ہونے کا عقیدہ بدرڈدا حاج کے لئے بہت مفید اور قسلی جنٹی ے+ 
یف اہن ضعاج ہیں کوک ایک زفسرے سے ممیت میں کرت اور عت سے لن 
بالگل زائد اور شر ضردری ہوتے جیں۔ بورژڑوا ریاست مزدوروں کی حت اور زراڑزی 
عھرکے بارے میس شس سوچنی۔ اشتزاکی ریاست مس صح تکی بدی مامت کی جاے 
گی سے سب ناس چھ بدی خوی سے لیم ہیں۔ گ کیا اشزاکی ریات میں موت 
ا عون بے گی سارے جتان باڑنے پوڑ تھے سی صحزوزہ گآ یکو وت ہیں و پرے 
ناسف اور خوف کے ساتھ کم اککرمتے ہی نکہ اتی موت بھی بھمو ل کیا بسی بک ھک وتسف 
تتذیب کے ساجھ بھی ہو را ہے۔ جس کاتنات میس صرف انسان ہی انسان رہ چاۓ وہ 


ان 


صرف بے رتک بی میں“ اتحطاط پذ کائحات ہہوگی۔ شاعری می ت داتتی سہ بات بی 
بھی معلوم ہوقی ہ کہ ایک دن انسان موت پر بھی غالب آجاۓ گا۔ لان ایک علمی 
م کے ممون میں ہہ یا کمن ادر اس اصو لکو خی شاعر یی جیاد انا بدی یا٣‏ 
صورت عال ہے۔ انسان کے اشیات خود ی کی بھی کوئی انا ہو لی چچاے' ورتہ اس کا 
مہ ای بدماتی اور ناامیدی کی شحل میں برآم ہو٦‏ ے جو پااگل شجراور بے مرے۔ 
انسان اکر موت پر غالب آسما ہے و اتی روچ کے زرے' ےک ا لت 


کی بقاکو فسفہ زندگ کی یاد عنانا خود اتی تذی بکی لست و ریجنت کا سامان قراہم 
ریا ہے۔ جات ہہ ہے کہ کیو ٹم نے جم مکی ضرورتوں کا نز مطالع کیا سے اور ان کی 
تھی کا لحاط رکھا ہےٴ مین روعائی سپھر سے پل نو انکا رکیا اور جب ازکار ناشن ہوگیا 
الم خم بھرتی شر عکردی --۔۔۔ فربی اور تچرل رواتوں سے رش تڑنا ایا ۓے 
رر کام میس تھا یس اکیونزم نے سوچا تھا۔ جس طرح ساکنس واڑوں نے غلطلی سی تھی 
کہ روح میں فلت اور جرهەپ سے بے انتناقی برقی* نان چوک مظاہر فطرت اور 
اتنس کی وریاخوں میں نض کوئی انسائی قرروتجت اور مسحویت میں ہق اس لئے 
چیزوں کے متعلق انا رویہ متمین کرتے کے لئ اممیں کسی نہ کسی فلس ےکی ضرورت 
بای" اود تیتہ ہہ ہواکہ فخانہ ساکل میں درک تہ ہو ت ےکی ویر سے اتموں نے بقیر 

حقیدری کاوش کے موجہ فلسفوں میں سے کی ای ککو تقو لکرلیا۔ اکٹ وی میں 
آا م ےکم اجشھے خاسصے سا فنسدان خی رساتنی الات میں بڑے لو ہم برست ہوتے 
ہیں۔ بی عال ما رکیوں کا ہوا۔ اضوں نے ری ضردرنوں سے یبور ہ وکر الے انراز 
نظ رتو لکرلئ جو بالنل بے جوڑ ہیں۔ 

گورکی تے شاعرو کو ری پرایت ہہ کی ہ ےکم اتیں سائنس کے کارناموں اور 
پڑے بڑے سائنس داقوں کے بارے میں لکھنا چان “کیوککہ ساتنں کے عمن ہیں 
اا نکی سرگرمیاں ددسری مرکرمیوں سے زیادہ اس با تک تق ی ںک انان ان 
اق وجٴ اتی محرت اور اتی درو مندی صر کفکرے۔ اس میں گک تی ںک انان 


ان 


کی ہہ سرگرمیاں بھی عزت کے لاک ہیں۔ اور سائن واتوں کے کارتاے اس تائل 
ہی ںکہ ان پر میں ای جاتیں۔ لن ان چچیزو ںکو خی دلادارنہ شاعری کا اہم تین 
موصوع تقرار دسینے کے معن مہ ہی ںکہ ہراس پچ کو اہم ھا جا رہا سے بس کا علق 
انسا نکی خارتیق زندکی سے ہے بیوں ہہوتےکو تا پر زشاعری کا موضورع بن حکق ے_ 
لن بڑی شاعری کا موضوع اس وقت کک میں بن عق جب ک ککہ اس می وہ 
ححاضریر ل ہاگیِں جن کا لق انان کک زەق اہر عزباق ارر روعائی زندگی سے بت 
مرا اور باصق ہو۔کوگی خارتی کارنامہ یزات خود بڑی شاعری کا موشورع نمیں ہو“ 
لہ ا سکی اشسانی محویت گر ما ریت ابھی تک ا س کک عضی میں جا ےک خاریق 
اقعال اور مظاہریزات خوو اہم ہوتے ہیں۔ اس غمبرتتقیدی روہ کا تیججہ ےکلہ رو 
کیکیونٹ تنذیب میں ا لے عناص دا ہو لے ہین جھ قاگی ترزی بکی خصوصیات میں 
سے ہیں۔ رو کی خی تفیب کے مادی کارناسے چچتت شاندار ہیں ان کے مقاے میں 
روعائی کارناموں کی حثیت بست معمولی ے۔ اس کی وچ صاف ظاہرے۔ زبروست 
کی کازنان خاراکی الڑحات کی بد ے وجزر میں مین ىآ کے چزنہ باصق اور نز 
پرسانہ اور منوازن اضاقی رو ےکی برولت۔ اگ رگور یکو خی شاعری کے لے ایک راہ 
شل سی نکرن تی 7 ہمان شاءی ںلز پوتاری دور کے شاع مج ھکر خو رکیا تھا“ وپالں 
تھوڑی بھست و کیلع اشیں انسان کر بھی سوچنا چا نے تھا ای طر بورڑوا 
شماعروں کے غااف تحصب جمیں برتا چاہے تھا اور فرت فک لین چایۓے تھاکہ شاید 
ڈعوٹڑنے سے ان ممول شاعحروں میں بھی کوتی مستخل اقدار نل یں اور یھ دہ 
سسی اج بات تو پور وا اور برولماری دونیں عم ہے شاعروں میس مشترک سے کہ 
دونوں ایک طرح چدا ہودتے اور ایک رح مرتے ہیں اتی بات ہی ا نکی زندگی کا 
اقدار میس بست می کساں چیزیں پیر اکردتیق ہے۔ جو لوک خی رطبقاتی حاح تا مک رن ےکی 
کوش شررہے ہیں ان می ںکم س ےم ہی صلاحےد :وی جا ےک مض پہادوں سے 
اد ب کی بوری ار بے انسائی اور خی رطبقاتی کارنا ےکی حقیت سے خو رک رگییں۔ می 
شاو دا ا رات مس لون سی بھی کے نان ان کی شا 
براتے انان کے متعلق ضرو رکوتی حائل قدر بات حتانت کے ساجچھھکتی چاتےٴ ورنہ 

بی شاعر کی سرے سے ضرورت می میں ہے ۔ کوٹ تزعب میں عوا م کی 
تی تیب سے لئ کک وزرامت اور کرت ضفت ولآ طرف سے ا مکی ہوگی 
ناکک عنڑلیاں کا ہیں- 


اورپ اور انقلاب 


اوپ اور انقلاپ کے ورمیا نکیا رش ہے؟ او پکو انقلاپ کے کام میں معاو 
ہونا ج ہے یا خھیں؟ اگر ہونا جچایے ت ےکس حد کک؟ ہہ سب سوال ایے ہیں جن کا 
جواب سوپنے سے پل جمیں انقلاب کے مغموم کا تی نکرنا چا ۓےکوکلہ عمو] جو لوگ 
انقلاب ند ہوتے ہیں اخمیں خور پعد خمیں ہو کہ انقلاب کت سے یں اور ہم اس 
ےکیا عراد لیے ہیں۔ ادب بی میں خیں“ سیاست مس بھی بھمت سی خزابیاں اس لفظ 
کو کیج طور سے نہ ککھ نکی وجہ سے واقع ہوقی ہیں۔ اوبہ سے مکل ہہ ےک تام 
اسطلای الفاطد کی طرح اس لفظط کے مغموم کا تنین ایک فرد کے حیاتی تجرہے کے 
ذزرکےیے اتا خی بھ] جقنا سای یا عرائی مقیروں کی بیادوں پر تائم ہونے وا ی جماخوں 
کی ضطروروؤں“ اور نضل اوتقات مولتوں کے حاظ ے- ہرعال لفظ انقلا پکو ال 
یئ تو اس کے بھی بی موم نظ رآتے ہیں 

سب سے چل جنس تس ہم دو جار ہوتے ہیں وہ انقلاب کے بارے میں ایک 
عام آوبی کا سور ہے۔ چو کہ جرانقلا لی عمل کے ساتھ ساختھ یھ طاققت کے استمال 
کے مظاہرے بھی دیگتے میں آتے ہیں خوضری:ی بھی تی سے لوگ لوٹ مار سے بھی 
باز خمیں رجے ٴ ایے تما پچھوٹے بڑے با نے بر ہر قوم دک بچھی ہے۔ جنانچہ 
انقلاب کا نام لیے ہی سب سے پل خورید یکی موی ساسے آّی ے۔ چھگلہ زیادہ 
7ت بی ہو ےکم تعمران افراد یا لج آسانی سے اتی مجکہ چھوڑتے و تار خمیں 
بہوتے ‏ اور آخمیں طاققت استعال کر کے بنانا یڑا ہے ”اس لے انقداب کے لے کام 
کمرتے والی باعتیں خوو انقلاب کے اس تو رکی ہمت افزال یکرکّی ہیں۔ یہ ضرور ے 
کہ انقلاب کے بعد ہہ نقسور خود ان کے گے میس پچچندا ین جا سے “گر انقلاب سے 


۳ 


نل عوا مکو طاقت کے اتال کے لے آمادہوکرتے کی غاطراجیں اس تو رکو پرا, 
راست یا ححں تشم پش یکرکے پیلانا یا ہے۔ انقلاب سے پسلہ جو سیاسی اور محاشی 
ا اض کا عام ہوا ہے وہ خوو طیبیعتوں میں ایذارسائی کا رجقان پیا کردا ہے چنانچھ 
انقلاب میں حصہ لیے والے یا ححای تکرتے والے 'انلاب زعدہ یاو' کا × لگاتے 
بے سب سے نل سے میں سو ےکر انطلاب میں جکمان بنا رے گاہ ۱س کے 
بجاتے ان کے زین مس سب سے پل ہہ خیال ٦‏ کہ ہیں موجودہ او ں کو 
غارت کرتے کا موتع لے گا۔ انظطاب کا ہہ تقسور صرف عوام بی کک حرور تمیں* 
انقلاب کے زاتے میں ای الے لوگ اس سے حتاث نہوجاتے ہیں جو عم عالات مم 
پڑے امن پیند ہوتے ہیں۔ بمہ شاعر اور اوىیب پ اس تو رکو اور ھی جلری قول 
کرتے ہیں “کی وکمہ انیس اپنے زان ےکی غی رشوری خواہشوں ے بوا قرسی تحلق ہو 
ہے“ اور تو اور خود شیل'جھ انقابیو ںکو مشورہ رجا ہ ےک ظلم کا مقایلہ آضا کے ذرہیچ 
کرو بھی عمحا انلاب کا وک فنل و غارس گر ی ہے دق رممی ںکر سا .۔ ہہ ضرور ےک 
مت اوقات اسے الیے انظلاب ہی سے وحشثت ہونے تی ہے جس میں انسائوں کو 
ق یس ضروری ہو“ گر خونی مناظر سے الف لیے میس دہ کسی ےکم مہیں سے ٹل 
کیا معن انقلاب فرانس کے بعد سے ل ےکر ورپ بجھرمیں بجی انظلابی شاعری ہوئی 
سے اس میس خون بماتے کا ذکر کا ہے۔ بللہ یٹ تار _یت کے زے اٹ جو اظالٰ 
"ہیں لسن آق نون دوگ :اض ہے عان ”سن ون۔ وتان کک ٣ے‏ رے ×زکل< 
اپنیڈر ‏ آون جیسے جیدہ لوگو ں کی نموں میں بھی سے بات ملق ہے۔ خود جمارے یہاں 
اردد جس بھی بیی عال رہا ہے۔ اب سے وس سال پل کی ساس معظمیں او یج“ ان 
میں جرد مشیر پک اور خون کا کنا ذکر ہو تھا۔ خصوصا اسان داش کی ایک نظم 
یں ت3 انا ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ وہ عم جس میں شاعر انطاب سے مخلق خراب ریت 
ہے۔ ادوپ کے علادہ آرٹ مس بھی بی رگ ہے۔ مین عثال ولاکردا کی ہے۔ وہ ت7 
ایک سے کے لے بھی خوتریدی اور انلا بکو ایک دوصرے سے الک مییں فک رسم_ 
خر کہ اکر ہم ارب میں انقلاب کے اس تصو رکی سنالیں ڈحونڈا چاوں نے جنکڑوں نے 
کر یھت ہیں۔ 

کیا بہ ارب وا تسور بی یک رسکتا ہے؟ اس سے مارکسی لوگ کک انا رکریں 
گر ارب تق اف سے از نکی حلاش ہے“ اور انقلاب کے اس تضور میں تازن 


۱“ 

کی تمہ ی میں ھی گی۔ ادب نا اازن رچابتا ہے کیوکلہ اوب بیادی انتیار ے 
تاور تخلق کا حائی سے اور خوکر پالا تمور میں گزیب براتے زیب اور سب 
چیزوں پر عادی ہے اس لے اس نتصور کے ذریجے مور ادب تو پیرا ہوسکتا سے گر ہوا 
ادب میں چیدا ہوکتا عم اپمے موقتوں پر کھت والا عحن خطابت تچ یکر ہے ارب 
میں ۶ہ خطایت انظلالی نان ہگزرنے کے بعد بڑی بھی مک وکیلی سی پر لع اومات 
وص رماع حون تلق یب نیشن بے کنا ےک دی یپ سے ہیک 
کرے ت3 شاعری دا ہوتی ہے“ ادروں سے ین گکرے 73 عطابت پیا ہو ہے۔ جس 
مع کی انتلالی شاعری کا ہم اس دقت لوک کر ر بے ہیں اس میں ت لڑاقی رو وں کی 
روہوں پا اصولوں سے بھی شی بوقی* بللہ دوسرو ںکو محض اشیاء مج ےکر_ سے 
اور ابی اشیام جنیں ہم صرف وڑ پچیگنا اسے ہیں۔ جس جج ہکھ آپ صرف محض بڑ 
کنا چاہے ہوںٴ اس کے متخلق آپ کا رو .ھی انقبار سے حخلیق ہد بی میں سا 
ید کپ کے دخ سے چند یو ں کو (انسانوں یا اصولوں کو خییں' چڑوں کر) 
نس تڑ ھی کی خاط رڈ بی کا جذیہ سط رے گا آپ بدا ارب یق بی میں 
ا ا روے 7 سرے سے خمبراضائی ہے اور انسان انی انساحیت بھوکر انان 
وت رت دای تق میں کرسکنک الم الیک بات نخرو مر گن ے۔ ہو کت ے 
کہ یب براتے خیب کا یذیہ اجس آہست قزی بکو معردضی طور سے یا بدی ولجیی 
کے سا مشاہ ہکرنے کے جذبے میں تیدیل ہہوجاے او تن کار خی عم ل کی بوی 
ابی تضوے لقکروے۔- ای صورت ےل وہ واتی تقائل تزر ارپ اور آرٹ پڑا 
کرس ہے۔ ا کیا سب سے اتھی مثال ولاکمدا کی تھوبریں ہی ہیں بمرعال ے کام 
آدی انقلاب کے بعد نک رسما ہے انقلاب سے گے ترجے ضہر وآ جا سز 

انال عل مس مد یکرنا اتا ہو" اور اس کے داغ پہ خون ری بی اب ہو 
جن غن کاروں کے یاغ انقلالی خون ریزی غااب آجاۓ ا نکی شخصیت کو 
گی چچپییوں سے خای ٹیس مھت چاہے' چجھے پھر دلاکردا کی ایک توم یار کل 
ے -۔ست17زادی کی دی مورپے پر اس نسوب میں صرف ولا کردابی کی یں“ 
اس سم کے سب افلالی فنکاروںکی ففساقی سوا معری داش طور یر بیان ہرگ ے 
آادی ا دی بی چوڑی پچگی اور انا ش مکی عورت ہے * جس کا سی خوب برا موا 
ہے۔ اس مم کا عودت مصورکی پوجہ کا عرکز ہے“ گر وہ جساق انیار سے ای 


۸ 


عورت پر ابو پاتے کی ابلیت خمیں رکتا۔ اس لے ا سکی بے قراری اور تا آسووگیٰ* 
سادیت اور مساکیت میں جریل موجاتی ے- اور وہ لاشوں کے ڈعیر اور زئموں کے 
انار سے بقیر اڑی عورت کا تقو رکر بی نیں کتا۔ اگر ایا فینکار سیاست سے تھی 

دٹپی رکتا ہو نو وہ فور] انقلالی خون ریز ی کا شیداتی بن جا ا ہے۔ اس میں شیک تمیں 
کہ اس نی چیند لک دجہ سے سای خیب برانے خی کی حر تکم ہوجاتی ہے“ 
اور فن کا ر کی تلق میں نضیاتی مساکل داخل ہ وکر اسے ٹراپ یا شی رآرٹ بی 

جانے سے با لیے ہیں۔ چناجچہ اس جضی الیجصن کے اججھ بھی پیسلو ہیں اور برے بھی_ 
اس کے بقیرولاکرداکی تقمومریں کامیاب ہو بی خییں عق تیں_ 

 )(‏ انلاب کا دوعرا موم ژیاد گرا ۓِے اگلایوںۓن جو لوگ و رار ہورج 
ہیں وہ شروع بی سے اس مفغسوم سے وافف ہوتے ہیں۔ دوصرے لوگ بھی انقلاب 
کے بعد محا لے کی ح وع جاتے ہیں با بھردا کے وحندوں میں لے گت ہ ںک 
اخمیں گر می نمیں موک انقلا بکیا ہو تا ہے کیا نمیں* انقلاب کا اصلی مفموم خومریدی 
اور تحزیب خی “جح ض کسی ہکسی طر حکی تیب یکو ذراصل انقلاب ککتے ہیں۔ سے 
ہیں انلاب کے سب سے سے مصحمی* اصلی انقلاب و بقیرخون برانۓ بھی ہوسا 
ہ...۔ عالالمہ عو خون بنتا ضرور ہے۔ انقلاب کے مم حقیقت میں یہ ہ ںکہ 
دہ نظام زندگی جو تاکارہ ہوچکا سے بدل جائے اور اس کی مہ نیا نظام آتۓ جو ۓے 

عالات سے مطابقت رکتا ہوٴ اص ٣ی‏ انقلابپ صرف سیاىی یا محاشی خی ہو“ بل اقذار 
کا انقلاب ہوا ہے انقلاب میں صرف سحاح کا ظاہری ڈحانچہ خیں بدلتا بلہ دل و دماغ 
سب برل جانا ہے۔ اصلى انقلاب نضیاتی انقلاب ہو ے۔ اس ے نا انان ہوا 

ہوا ہے (ظاہرہےککہ نا مس صرف بست ححدود معنوں میں کہ رہا ہوں) اس عم کے . 
انقلاب میں ارب بیشہ حاون ]ا سہے' بجمہ ایے انقلاب سے چار قزم آگے چتا 

ہے۔ جیادی ججدلیوں کی ضرورت کا اصاس سب سے پطے ارب :ی ولان ے۔ ان 

تبدرییوں کے نفسیاتی وو ںکی تیل ادب ہ یکرت ہے۔ اپنے آ پکو انقلالیٰ کے بغیر 

اروپ ہربڑے اور یمیادی انقلاب کا نقیب وا ہے۔ ڑی۔ اچچ لارٹش تے ‏ بیماں تک 

کصہ دیا ہ ےک جب کک ادیب انسائی شعو رکی بیادی تیریو نکی عکای ‏ ےکرے وہ بدا 

ایب مین بی خی گا۔-۔۔- عالالمہ اپنے آپ 3 لارٹں سیاست ے پیزاری کا 

اعلا نکر ہے گر اس تے صلی کیا ہ ےک انسان کے سیاسی شعور میں چنر ترظیو کا 


۹ 

نو وکھلاے کی وچر رے یتر اتا با بنا ہے عالاکلہ چپ کے ارد شی گے 
سے میان پزری طرح تقول خی سے گر یادی اعتبار سے لارنس نے ٹنیک با ت کی 
ہے۔ بللہ جوکس کک کے مہماں شور کی حرطیوں اور نے انظلاہوں کے آمار لت 
ہیں اس اعیار سے جم ج وک سکو بھی انظالی ای بکصہ ھت ہژں- 

جی فی الال انقلاب کے مغمو مکو پچھیلا ہے خمیںٴ سیاسی اور معای تپریلیوں تک 
رود رھ ۔کیوکمہ بی جدیلیاں اکٹ انا نکو سپ سے جوری لو بوتّی یں اور 
یش آتی ہے اپ بی ان ریو ں کی ماع کرت ے۔ ایک کدھ یا وی یارہ 
ایب اگر ان جبدریلیوں کے خالف نہوں تو اس سے بھ میں ہو من حیث ا جورع 
ادب ان کے جح می ہوا ہے چو کمہ اوب قوم کے باجھھ میں ایک آلہ ے سے توازن 
کی جب کا اس لے جبدیلیو ںکی ممایت ادب کے لے خاکزےہ ہے“ چیشہ سے بی ہو 
چلا آیا ہے ادر یش بی ہو رہے گا۔ اس میں مک میں کہ ادی کی شخصیت میں 
رجعت پنری کا پلو بجی .ہت ہو ے۔ بات ہے ےکلہ اوعب صرف اڑی چیڑوں کے 
بارے میں آلھھ سنا ہے جو اس کے صیاقی اور ذہٹی تجرئے میں آچی ہوں۔ ہے وی 
یں مدقی ہیں جو ایک خاص وقت میں موجود ہوں۔ جو چزیں گے پچ لآآر وجور میں 
میں کی اس کے بارے مس اویب سبچھ میں لکیہ کا ۔کیوکلہ دہ اس کے شجرہےے سے 
ارچ ہژں۔ چناتچہ وہ موجورہ چیزو ںکو تقائم رکھنا پچاہتا سے“ اس کی ہے حثیت غیرانقلا ی 
سے اور ایک عد کک مسعتعل ہے۔ گر سام ىی ساتھ جب عالات اضسا نکو بد گے پر 
مجیو کرت ہیں تو ارب بھی عالاءچ کا ہم آواز ہوجات ہے 

تبدیلیوں کی طرف اار ہکرتے والا اوپ دو طرح کا ہو تا ہے ای کمگروہ ‏ ان 
اریوں کا ہوا سے جو مخلف طریتوں سے ہہ دکعاتے یں ٣۔‏ پان نظام اور پان اقذار 
کیوں تاکاتی اور ناکارہ ہوں> اض رف اۓے او ںک پان چچیوں سے انعمائی بت ہوتی 
ہے اور وہ اشٹیں بدلنا خھیں چاہے “گر ارب کی حقیقت مین روب اے و رکرتی 
سہ ےکم دہ براتی چزوں کا ناکارہ ین دیڑھے۔ اےے اویب بھی انقلاب کی مدرم تکرے 
ہیں' ان کا اپ کے رات کریب 7ی ہر“ گہ ایب برای روز اگزوہ 
ایے لوگیں کا سے جنییں شعوری طور ے معلوم ہو ےکم برائی افدار کے بجاۓ 
ا بکون ىی افدا رک رداچ پان چاہیے ۔کم ےکم وہ خی رشعوری طور پر نی اقذار کی 
طرف اشار ہکرت ہیں۔ یہ لوک کے انلالی ادعب ہیں خواہ ان مں تتدد پندی ہو یا 


١ 


طہ ہوٴ چاسہے آپ اتمیں انقلالی ن کھییں حب بی انقلا بکم ےکم نضیاّی اتتیار رے 
ان کے اش وجور یں خی ۲گ 

دومرے جر ارب گی طرع اررو ارب نے بھی بیشہ اس مم کی انقلالی 
جبریوں۔۔۔ مج اضسانی شع رکی حدیوں۔۔۔۔ کا ساجھ دا ہے۔ صرسی دی تریک 
میں بھی چند انظالی اصرتھ باے وہ بشاہرسو فیصد اصلاج پیند بی “علوم ہوقی ہو_ 
رخوم ای یک نے حسلمانوں سے شعوز یں جن تچ علیا نکی * ان من آرب برا رکا 

شریک را جلمہ دہ حرسلیاں بڑئی خد کک ادب کے ذر ہے ہوکھیں*اس کے بعر مارے 
ش۴ 3س ردان عررت سے تیج 50ش 
ارپ جموگی حیثیتٹ سے ضیات کے اس انقلاب شی سیاست سے آگے را ہے 
نضیاقی جریلیاں صرف ان ادیوں کی یرد سے خی ہوکیں جو شعوری طور پر افزار کا 
انقلاب پدراکرنے کے جح میں سے بلمہ اس میں ان ادیوں کا بھی بڑا پا سے جو 
شعوری طور رے ار پکو الا یِ مطابوں ے آزار رتا جچاجے ہیں“ ان اروں تے و 
روح انقلا بکو سیاست اور محاشیات سے بھی گے زندگی کے چموئے یھو ٹےگوشوں 
گک جں ؛نچارا ے۔ 
(۳) انقلاب کے ہہ دو بوے مفموم ے ہوم “گر انقلاب کے مق لت رقع سیا ی 
جناخجدن کی سم وا کی ال نی یرٹ میانتے یس ااخن نات می وہ حالیہ خثالین قزائش 
کے فلنی ایب ہڑاں پال سار نے ارب اور انقلاب کے تعلق بر بج تکرتے ہوے 
یی کی میں ۔۔ اق رز متون س ات تن وو را رت رھ نت یا اون ×زطون 
کے ساجھ جا لے جے۔ ایے ایک صاحب چے جتموں نے قربایا کہ تک کی موجودہ 
حالت کے پیش نظ رانلاب کا مطلب ہہ ہ ےک ج جن عی ہے اسے دا ی زار 
رکھا عجائے۔ دوسری تحریف ایک کوٹ نے یی کی ہ ےکلہ انقلاب کے مق ہیں 
چیراوار بڑھانا۔ ہہ دو الڑىی تھرفقگیں ہیں جن سے انقلاپ کا سارا تقور بی اللٹ پیٹ 
ریا ہے ے جات الحاعن ے٣‏ بروقت الاب کی خزورت میں +رق< سے 
ایک عرحبہ انا نظام اقدار شحح ہوجاتے و لازم ہوتا ےک تخی کارروائیاں بی دک رکے 
یق اقزا رک محلم جخیادوں پر تا مکیا جافے۔ گریہ عمل انخلاب نمی ںکھلا سلتا اور اس 
اوت ج“ ریا نے سے ک ااھدے بر رگا اق ے کن سیل وی کو 
تھوڑا بہت جوشش ضرور آجاسا ہے۔ اور سیاسی جماعتمیں اپنے عابی جوش و خروش بی کے 


١) 


ذریج حاص لکرتی ہیں ت بھردہ اییے کارآیر لف ط کو کے چھوڑ ححق ہیں؟ گر چوک 
انثلاب کے بعد ایک خی جماعت برسراقتدار آجاتی ہے' اس لے انقدب کا اصلی 
مغموم اس کے مفاد کے خلاف ہوا ہے دوصری طرف اس ائظ کو اہ مقار کے لے 
استعا لکرنا بھی لاڑی ہے۔ چنانچہ لف کا مفسوم ہی بدل دا جا."ا ہے۔ اب انقلاب کے 
صعق بدلنا میں رہچے جک قائم رکنا ہے “مہ ہعاری جیسومیں صد یکی سیاست کاکر 
ہے۔ بے ایھانیاں نے لہ بھی ہوتی آئی ہیں معمر لففوں کے مغمو مکھ اجتی آسانی سے 
تڑ مروڑ لین لیکو ںکو میں آت تھا ےم 
ادپ ‏ و انقلاب کا ساجھ اس وقت وا ہے جب خود زندگ یکو انقلا ب کی ضرورت 
ولی ہے۔ نکورہ بالا انقلاب چوکلمہ ایک صعمل اصطلاح ہے۔ اس کے ایب اس کا 
ساجھ دے بی خی سا اکر ادی بکو ہہ مھایا جا ےکہ اب انطلا ب کی ضرورت خم 
ہوکئی تو دہ مان نے گا۔ نین خی انقلالی عم ل کو انقلا بک کر اس سے ایت طلی 
کی جائے ے اس کے اعصاب اس مفمو مکو تقو لکرتنے سے انکا رکردیں گے_ البت ہے 
دوسری جات ہ ےک کسی ملک کے ادعب جائکل سیاسی لوگوں کے قلام ین گے ہوں اور 
جرجات بے چون و جا مان لیے ہوں ' گر اپنے حسیاتی حجربے کے برخلاف حیقت کی 
کو تح ول نے کے مب بے فی نک دہ قائل :قر اونب پداکزی میں حمیں ے_ 
إ رد میس آ جک بی ہو رپاے ۔ 
انلاب کے ہہ سب مغموم ‏ ےکم و ٹیش سای تھے چوکل انقلاب کا لفظ صب 
سے زیادہ عیای اور ای اراروں کے پارے جں اختعال ہو ہے ان یت سی 
جماعتوں نے اسے اپناکھلونا بنا رکا ہے۔ اور دہ ادیوں سے بھی ہہ نت عکرتی ہی ںک۔ ہم 
۱ انقلاپ کے جس تقصو رکو روارج دینا جائیں اسے تجول کرلوں گگر آتر اوپ ہے پابند 
کیو ںگوآءاکڑے* اقلاب ضرف ابی تتزخین ہے سیاسی ہے کی اد پڑے 
ایک مضیاقی مظرہے. تو ہم ارب کا وک رکرتے ہومے انقلاب کا وس یع تزرین مفمو مکیوں 
شر یگ ین رجھیں.* اکر اتقلاب کے عق سمے عالات سے عفاعمت پیا کزتے کے 
لگا ایت ان تج بر گے کے ہیں“ تو ابی عواحدت کی ضبورت 3 زجگی کے چرنڑ 
چنوٹے شیے جس ہرسمے یش آتی رو سہے اور ارب عمو] اضمیں محو ںکی عکاس یکرت 
ہے۔ عییقت کے مطالبات سے ہم آچچنی پا کرنے کا عمل خود ایک صاسل انقلاب 
ہے“ اور ایرپ سب سے لہ اس انقلاپ کا آئتہ دار ہے“ لہ ای وچ سے اشا نکی 


5ہ 


۲ 


بنا کے گے ضردری ہے۔ ارب کا انظالی معحل سے حقیقت سے ہم آ گی پیا کرنا؟ اور 
اس کا ذربیہ سے ححفیقت کی بدلق ہوقی عوں کے ساتجہ حاججہ زندگی کی اوضاغع کو 
متاسب عدوں کک بدلنا۔ زندگی میں صرف ساىی اور محاشی سح بر تی جدمیاتی مل 
میں ہو رپا جکگہ جدیاتی عحل کے جیسیوں میدان ہیں۔ ادب جدمیاتی عحل کے ہر 
چھوے بڑے خظ رکا احا کر ہے۔ می رکا مور شع یھ ون 
او نے جح کر جلے 
میاں خشل ررہو جم رعا کر یل 
کیا ای شرین پل ےپ جدیات سے سیت ا اشک اتال روز مو 
سے انسانی تعللقات می کی ہے۔ مر ہے متدرجہ مل شع رم ںکیا جج انقلاب عبت 
نضیاتی اور اخلاقی انقلاب ۔-.-.-.۔ چھپا ہوا ے :۔ 
ۓچئگن ‏ خی تح 
تم جماں کے ہو راں کے جم بھی میں 
اگمر لوگ حیر کے اس شع رکی چرلیا تکو مججہ لیں اس ے بو انقلاب رونما 
ہوگا وہ مارگ کے انطاب سے تمیں بدا ہوگا۔ ہہ حمیک ےکلہ انسانو ں کی ال ژعت 
اس بچرلیا کو میں مہ مق اور ابی لج می رکا تو رکردہ انخلاب تبھی روظا جن 
ہوگیا گر بسرحال ادب کا کا ت بی ہ ےکم 3 انساتوں کے سا سے انقلا بکی خی سے می 
یں بی تکر:سسے وںاافداب نعط کو یسح سے وع خز او میتی و پان 


ربے۔ بدا اویب ہی سب ے جا انظلال ی ہا ے۔ 


مارا ایی شعور اور ملران 


اس ممون میس یھ ج سب ھکھنا ہے اس کا سارا مقموم میوں ت ایک جملہ میں بجی 
آ کا ہے۔ لیکن معض رقعہ اخصار بدا خطرناک ہو ہے“ اور ات کا مطلب بی پرل 
کے رکھ دتا ہے کنا دراصل ججھ اتا ہی ہے کہ ندر سے بور ے مان کے 
والے اتی ق سے مور لے لہ سے ہیں۔ مجن ہہ سیدعا سادا سا بیان خالس ادلی 
لی کون شف ان ہی او پک ا بد لہ دی راہ 
علق ہے بات غالعتا“ ساسیات یا عرایات سے دی رت والی لض جماعتوں نۓے 
(لائض وقعہ خماص اخراض کے مات )کی بھی سہے۔ اس سیدھ سادے بیان ے 
ادپ اور مچر وشن جھاعتیں بھی فائدہ اٹھا عحق ہیں۔ کوئی اس مم کی برگمائی 
یلان ےک یکوشش کے فو بھی الیک عام ملمان اہےے بیان سے دہ ار ہوتے بی 
کک بڑے گا تھرڑی دہ کے لئے اپنے ارب سے بتک ضرور جائۓ گا_ 

گر ارب کے سجیدہ طالب عکمو ںکی حیثیت سے نہ تے ہیں کس یکو مطعو نکرنا ے 
ح کس یکو الزام دینا ہے۔ ہہارا کام فے یس اتتا ہےکہ چچچلہ سو سال کے اندر اویوں کے 
شعور میں جو تبریلیاں ہوقی ہیں اتمیں بک نکی کو شش کریں' جو سے میلامات نظر 
میں ا نکی فوعیت معلو مکرییں اور ہے تو اہ ساجھ ان جبریلوں کے غاری اور 
داتلی اسیاب گئی وریاض تکرے چیین۔ جم تے انی سج کی وائزۃ کا را طرور چچر 
عوائل کک ححدددہکرلیا ہے۔ گر شروع میں ہی الیک کلیہ میا نکردیے کے یہ می میں 
ہی ں کہ چم اسے عاخم یالذات بے ہیں۔ کلیہ میا نکرد جیے سے ای اتا قاثرہ ہوا ے 
کہ مارا وائزع عمل مفرر ہوگیا“ اس بیان کے وٹ پچ کا فیملہ خی ہوا۔ ووران 
خیش میں خکن ہےکہ ہیں اڑی باتیں میس جھ اس کل کو خلد عای تکرتی ہوں۔ پھر 


۳ 


ہے ضروری نیس ہ ےکم چچتی جات ہ مککییں کے وہ سب سو فصد محیک ہو ںگی۔ غیر 
عرتی عواعل کے متحلق آپ جو جات بھ یکہیں اس میں اک تھوڑا سا مال طرور ہوگا۔ 
سافن کے بضی روہ عوائل الفاط کی کرفت میں کی میں ھت مبائدہ ق انگ رہ ایے 
عوال کو ھا ہو تو طلط بات کتے سے بھی نمی ڈرتا اہن بصوت کا چا کرتے 
کرت مھ وفع پچ سے مم بھیٹرہوجاتی ہے۔ پچ کا وشن جصوت می سے مہ غورد 
اظھینای ہے۔ علط بات جس سے پچ بات پیدا ہوعکق ہے بشرطیکہ ہم خلعل یکو سج ور 
نت عیب 

چنانچہ یہاں بھی ہم غلط بامیں سو ے سے میں وریں ھے۔ لہ تا سب ک 
ری اور جل جازی سے بھی میں رای کے ال بی جا تکھنا ہے۔ خلط یا گج 
کی نی تع کا ان سا سے ہو ت بث کاکوگی ب رکوگی پہلو ت سان آ ىی جات ے۔ 
پھر ہم اس با نکو ملف سعیاروں سے برتھ ھت ہی ںکہ ہہ یقت ے مطابقتت رکتا 
بھی ہے یا میں اس کے بعد جم اس میا ن کو قدل یا و کرت ہیں۔ اگر ے بیان 
امینان بنش نہ ہو ای حم ےکی سے جیا نکی حلاش پالئل سمے صرے سے رت 
ہیں۔ چتانہ ہم سے بھی اتظار خی ںکریں ےکہ ہار دو زا رکنائیں یڑ کے عالم یی 
لیس ت پھر بھہ سوہیں۔ اس کے ججائۓے جم ابی بے علمی سے بھی کا لییں کے۔ حش 
اق ا وت رک ان ای حا رس کی کاں مص و 
کتاب ہم نے پڑھی طہ ہی حب بھی اس کے بارے میں موں خی ائئل پچ عق یگررے 
لڑا لییں کہ اچھا' اس میں ہہ ککسا ہوگاہ کن سے اس میں بپجہ اور ہی ککھا ہو_ گھر 
ہم بعد ہیں معلو مکرلیس ھے ورتہ ات ائل رس پھرتے ہیں *کوگی عہ کوگی رات 
میں گھیرا کے میں ٹوک می دے گا۔ خرض می ںکوگی سن کوگی با کی ضرور ے۔ 
سو بجھ کے یا بے سوپے بے“ اور یھ میں ےتیل می سسی۔ اک تخلقی خالات 
ول گی ہی دل گی می پا ہوتے ہیں- 

سب سے پچ لہ سوال ہہ پیدا ہوا ہ ےکہ آت جم اپنے اس جائد ےکی ایترا غدر 
سےکیو ںکرنا چاجے ہیں۔ خدر 3 ایک خارقی واقعد تھا۔ ہہ جس دی پر ولال ت۸7 
سے اس کا عحل تو یکلہ سے اری تھا اور یتس اس سے ختاڑ ہوتی شروخع +وگئی 
تھیں۔ ہہ اختراض اتی مہ بالئل ہیا ہے مغلیہ سللطعت دراصل در سے لہ بی ختم 
ہو چچگی شی اور اگریزوں کا اتدار ٣ئ‏ ہرپگا تھا- گ٥ر‏ انان و نثاوں اور علامتوں کا 


۵ 


اح ہے۔ بڑے سے بڑا انقلاب ہوجاہے “گر اثمان کا شعور اسے اپ ار ای 
وقت تک جذ کرای خی جب ک کک دہ ساری رمیا می علامت می مم < 
ہو جائتیں۔ جب کک لال تحلعہ میں مخل باوشاہ ببڑھا تھا لوک کھت ےک ابھی رتا وہی 
ہے جو لہ تی۔ لدل قلح کیا تھا حیقت اور شعور کے ورمیان ابی خاصی ولوار 
تھی۔ لوکو ںکھ اصل صورت عال کااضساس ولاتے کے لے جائی ہو بھی علامتوں کا اي 
ہونا اور تی علامتول کا پیدا ہنا ضروری تھا۔ بندوستانی ملمائوں کی تی اور روعالی 
زنلدگی می قدر ای عم کی الیک علاص تکی حثیت رکتا ہے میرا مطلب ہے نہیں ے 
کہ اگرینو ں کی ترقی یا دوسرے عحناصر کے تبور میں آتۓ سے ہندوحتان میں ص(راتوں 
کی تقوی حیثیت کے لے جھ خطرات پیدا ہو سئے تے ان سے ملمان بالل ہی بے خر 
تھ۔ سید ام بریادی اور سیل می دک پودری ترک اس خا لک تی رک ے۔ 
سلمافوں کے ایک ذون یق نے ان خطرا تکی نوعی ت کو صرف مبجہ بی میں کیا تا 
بللہ مکی یش بندیاں بھی شروعےکردی جھیں۔ عم ل کی رورت کا اصاس مولوی ملاؤں 
کک تی محعددد شی تھا۔ بللہ اس خریک نے ہندوستان کے اس صرے سے بن ےکر اس 
صرے کک سب ملماتو ںکو براہ راست پغام دیا تھا اور اس کے اٹ سے اوپ و شعر 
کے علق بھی ان لے بغیرنمیں رہ کے تے۔ موم نکی مندی جناد اس با تکی ہیں 
شماوت ہے کہ شاعروں ک ک کو قو مکی صورت عال کا کیسا شدید اضاس تھا۔ چناجچہ 
ملمافوں پر کل بے تبری کاالزام تم میں زا جات الع مسلمائوں کا شعور اس 
با کو تل مکرتے سے ضردر ٹچکچا ربا تھاکہ جم ایک غالاب سیاسی قو کی حیثیت سے 
بندوستان میس تم مو ہے ہوں۔ 

گ کنا لاق سے تام کان بچتا ‏ تر رجا وع 3ای پل قب یی 
بھی کنیائش نہ ری اور صلمانو ںکو ابی خق حیثیت تل مکر بڑی۔ ھہ دن کے لے 
مصلمان پالئل من ہد کے رہ ےب لین زندک یی ضرورسجں سب ھک رق ہں۔ آز 
ھئے عالات سے بھی جو کرتا پڑا۔ سیاسی اعقیار سے و خی رصلمان مخلوب ہودی کیۓے 
تھے ۔ اب مسلمافوں کے شھ رمیں ایک خی جک کا آغاز ہوا۔ نشی جند اسلای تزیب 
اور مخرلی تمفیب کے ورمیان مشش اعگری: اس تم کے وشن اور اس مم کے فاحع 
نمی تھے شن سے اب کک ملماتو ں کو واسط. یڑا تھا۔ اکر مرٹے ہندوستان چا 
جاتے نو ان سے اور صل(مراتوں کے درمیان ہویش سجھ اور ہی شحل اختیا رکرتّی_ 


٦٦ 


اگھریزو ںکی رشح کا عیب حض اتا میں خھاکہ ان اکردار مسلمانوں سے بلند تھا“ ان یں 
دم ار ھاإسک تیاور اعار ھا ہے حب بائیں بھی ہ ںھمزلفش ون ت میں 
مارکسی تزہہ بھی تو لکرنا می چا ہے۔ اگری: اپینے ساتھ نے علوم اور پیراوار کے سخۓۓ 
زرائع ےکر آۓ تے۔ مسلمانوں اور انھریزوں کے درعیان کردا رکی جک خی 
تی۔ جکمہ اس چنزی جک خی جس کے لے بسرین لفظ برا جک ے۔۔۔۔۔۔۔ 
اس اون کے مغمیم میں سائنس کے علمی اور لی دونوں پملو آجاتے وں- اگریزوں 
سے ساجھ محض فویں تپ خانے خمیں آآتۓ تھے بلہ ریل گاڑی ار اور نہ معلوم 
کیا کیا حیائبات ان کے سا ساتھ ہندوستان یچچ تے۔ اگر دو ای ترزیوں میں کر 
ہوتی ج نکی اتقتسادی اور سیاسی ظا مکی جیاد ایک می برا جک پر ہوکی ‏ شایر ان ٹش 
سے کسی تمقعب کو بھی ہے ضرورت چچی تہ آئی کہ آپینے آپ کو خواء عوا ہکم 7 
تھے -.-۔ فجنی جس طرح ہندو اور لم تزیوں کے تصاوم سے وقت ہوا تھا۔ 
ٹن اگھریزو ںکی تب اپے ساتھھ ای حیرت ۴اک یں نے کے آکی می تو ہمیں 
جن پربیں کیکمانیو ںکی طرح ‏ ایل مقین معلوم ہوتی تھیں_ امیں دی ھکر خراہ حزاہ 
اتی تیب اور ای اقدار ےکن ہوئے کا اصای ہون تھا ۔ ان روٹوں تڑعوں کا 
تسار حضس غیر مرکی خیں تھا۔ غارتی اخقیار سے بھی دونو ںکی اشیا اتی ملف تی ںکہ 
ے ددلزں رو الگ رانضسی معلوم ہوقی گی اور اس اختلاف سے جچئم بش یکنا سی 
طرح کن نہ تھاں 

اس اختلاف کے ملق مسڑانوں میں دو حم ما روگل ہوا_ لان کلت ت3 
ضرو رکھا جھئے تے “گر روح حات بڑی مخت جان تیر ہے۔ وہ الی آسائی سے میں 
عرتی۔ چند سال کے مشقمل کے بعد وہ با کے تے طریقو ںکی حلاش میں ہن فگئی۔۔ با کا 
ایک می طریقہ تھاکہ اپنے اند رسچھہ میم و تچ اور ردو بد لکرکے ۓ عالات سے 
مطابقت دا کی جاۓ۔ گر ساجتھ سی ساجھ اپتی خودی کا اصاس حح نمارتی عالات کے 
دہاؤ سے حبریایاں منطو رک ریت میں ابی بٹی متا تھا۔ چناطیہ ملرائوں کے شعور یں 
مجرٹی اور جھودٴ بقا اور فا کے درمیان جک جاری جی۔ ایک عق تو اگرینوں سے 
تحلق رہ والی ہر زکو ضضہ برا متا تھا۔ بیماں ک کہ اگھریزو ںکی ریل میں ٹا 
بھی کاقر ہوجانے کے برای تھا اس انداز نظرمیں ابی تی شخصیت کا اتزام اسے تام 
رک ےکی آرزو خودداری اور بت سے یانر بر ہے جھلکت ہیں۔ گر آخز مین سی بھی 





4 


تی مرن پے ما ہےةکہ مہ فتا کا راست تھا۔ اگریزوں سے نہ ھی تق برا میک ے جھوت 
سے بقی رمسلمانو ںکی اجتای رتا نا کن عی_ 

دوسرا طیقہ الیے لوکوں کا تھا جھ حبریلیوں کے لئے جار تے۔ جم ماس ہی ںکہ ہے 
لوگ حقیقت برست تے اور انوں نے بقا کے راس کو بائنل ٹحھیک بیچانا تھا یں ان 
کی عظمت تلیم ہے گگربھا کے مصعی ہہ میں ہی ںکہ سے عالات جس اپے آ پکو اس 
طرح بدرلی ں کہ اپی اجخای خصیت تی باقی نہ رہے۔ اصلی بنا نے دسی ہے کہ قوم کی 
عخلیقی صلاعیتیں بھی نہ مریں اور انی انفراری شخصیت بھی برقرار رہے۔ اس ووسرے 
میق ھکو قو مکی بقاکی بھی کر خی اور قو مکی شخصیت سے بھی محبت تشھی “گر حالات سے 
مطایقت چداککرت ےکی کگر میں ان لوگوں سے تض الی غلعطیاں سرذد ہوکمیں جن کا 
خمیازہ ہ مکو اب کک چھگتنا پڑ را ہے۔ ان لوکوں نے بالئل خی رشعوری طور پر چند الے 
رججقاات کا آغا زکیا من ن کی وچہ سے مسلماتو ںکی زہتی> لری اور بی نشوو نما ایے 
جاندار یق سے میں ہوکی تی ےکم ہونی جابے تھی یکلہ ہم نے اپنے نی ت کے 
میس سے بھی ست بیج ےکھوویا_ 

ان لق نے سب سے بدی شلعلی نہ ک یک. اہی اور اگگرنینوں کے ورسنیان تو 
سب سے بوا قرق تھا اسے عناسب طرییقہ سے مکح یکوشش تھی ںکی۔ اگگریزو ںکی 
مادبی تزرقی کا ان پر انیا رحب بے اکہ اچنا علم“ اچنا ارب اتی تمنعب' اہپنے طور طریۓق“ 
سب بچچھ چے سے نظ رآنے ھے۔ اخیسومیں صدی کے اکستا نکی فیاد جس برا تک پر 
ھی اسے ق انوں تن ےگرفت مس لاف کی کو کی ہیں۔ اس پرا می کک وج 
سے جو افدار پیدا ہو رہی میں اشمیں تقو لکبرتنےکی گر پطلہ ہوگئی۔ اس زہاتے میں 
ود یرپ والوں کا شعور ایک ماش میں لا تھا مر ان لوگو ںکو اس کا یلھہ پت تمیں 
تھا۔ انموں نے انگستان کے سیاسی اور محای نظام* ادب مچٹرس بکو بڑی صرسری نظر 
سے دیکھا تھا۔ اور اسی نظر سے خو شکزرے مس ول بھی دے میشھے ھھے۔ چنائجر 
دوتوں مزیوں کا گرا اور نقابگی مطائہ کے اخیروہ ا سکوسشش میں پک سے کہ اول ت 
اپنے یما ں کی ہر زکو مغرلی معیاروں سے جا جک ان میس دہ خبیاں نثالی چاتیں جو 
مغرب والوں کے خزدیک بھی خوبیاں ہوں۔ اور اگ منج مان کے بھی خوبیاں ن۔ گل 
کیں تر ارد ناار اتی چیک ھٹا بجتھ لیا جاۓے.. اڑس یکوشش زعدگی کے ہرشتے میں 
ہوگی۔ چنانچہ صرسید نے قرآن اور مان کی مطایقت وکدانے کے نے سائوں صن 


۸۸ 


کہ ڈائے۔ اسی طرح ادب میں نل شاعری پیا ہوئیٴ سے اتچھی شاعری وکیا ا چی 
نل بھی میں کما جاسکتا ۔ اکر ملمافو ں کو وا٘نی عالات سے اڑی عطابقت پیا رن 
تی کہ ایک دن خود مغرب سے کر لین کے تال ہوجایں نو ایں سب سے لہ 
مقر بکی پرا یک پر قضہ جانا جا ے تھا گگراس زہانے میں مصلماتو ں کو سب سے 
بی تشویش ہے مج ی کہ جندد سرکاری طازموں میں ہم سے آکے لہ جا رہے ہیں۔ 
ہندوؤ نکو دوڑ کے کک لین کی ججلدی میں اضسوں نے ساکنس اور اخینری جیھے علو مکی 
طرف ‏ وج میں کی“ مہ اگریزی زبان اور اگری:ی ارب باحا اور وہ گی 
صرف اس حد تک جماں کک ہہ پچیزیں طلازمصت دلانے میں کام آنھیں۔ اس زہانے کے 
تام ال راغ رات میں ایک اکبر الہ آجادی ایا تھا سے ملمانو ںکی پری صورت 
حعال کا را اور سیا عم تھا۔ اسے ہے بھی معلوم تھاکہ عخرب کا مقابل ہکمرنے کے لے 
مسلدانو ںک وکیا کرنا چا صرف دی ایک آری تھا جس نے انھرینوں کی لا ہوئی 
چزوں میں استارے اور علاتیں وییھمیں اور ان کے صعی اتی توم کو سمجھاتے کی 
وش شکی۔گھراسے جسوڈیا برانی کی رکا فقی رج کر ثال دیاگیا_ 

خی سرسی کی تحریک سے نےکر لی پگ ععظیم سیف ہیں مسلطسان ایل ار 
بے میں ایے لوکو ںکی تعدار بوصقی نظ رآتی ہے جنمییں اچپے زہتی عمقیروں کے پاوجوو 
ہنداسلائی ذع بک افتدار پ دہ ٹین شی رہا جو ایک تھی چائتی قوم کے اقرا رکو ہوتا 
چاہنے۔ شی شرد اور ای دو چار مصتخی نکی عرکرمیوں کے پاوجود ہہ لوگ اہے 
ماشی اور اتی روایات اور اپننے تذجی سرائے سے ری وئ بی میں نے کے ان 
سب یو ںکو ہہ لوگ ةرا حم فک یا بدشچ کی نظظر سے ریکھتے جے_ 

پچھرای زانے میں ایک نا سابتی مظرحمدار ہوا ہے۔ جن لوگو ںکو مروں میں 
وکریاں عق جاتی ہیں وہ انا آجاتی ون چھوڑ بچھا کر شمروں مج آتے جاتے ہیں۔ وشن 
میں ان کے خاندان کا تعلق یشت پا پشت سے ایک پائی' ایک دعوفیٴ ایک بھی کے 
خانران سے تھا اور سے سب خاندان ایک دوسرے کے محاللات سے اشاتی وی لیت 
تے مر اب ہہ تلقات ٹوٹ مے اور شمرمیں ؟گر طازمصت پش لوگوں کا ملنا جانا ہیں 
اپنے ہی جیسے لوکویں سے روگیا۔ کہ اٹل داغ تق اور عوام میں وہ پسلا سا رپا و 
ضط نمی ریا “اس لے ہمارے او نکی اپنی قوم سے بکاگی روز بروز بڑھتی ہی گئی- 

گمراس کے صع سے میں ہی ںکہ اس زناتے میں تو اوپ پیدا ہوا وہ ق مک زندگگ 





۹ 


سے بائنل الک تحلک ہے محاللہ اس کے بالئل برکھس ہے صرحا رک یکتائیں' نز 
اھ کے تاول؟ سار جن اور اووھ ق کے ووصرے کلسۓ والیں گی تین ے سپ 
ہی یماہ راست توم کی روڑم٣‏ ندگی ے پدا وی ہیں۔ لاشعوری تعالقا ت کو ایک 
وم سے ش مکنا خحکن خی ہو ہم تصرف ہہ جا رہے ہی ںکہ اس حم کے رحقاعات 
اس وقت موجود تھے یہ رہہقا:ات رنگ بعد شں چاکر لاۓ۔ 

شاعری کی دنا میں جو لوگ خرزلیں کیہ رہے تھے انی ت تیر ےک ےکر چھوڑا 
جاسکتا ہےةکہ ہہ لوگ تو ایک روای کو عباہ رہے ہیں۔ مگ رصن اسول کی .اتی شاعری 
میں ہہ بات بھی نظرمیں دنیھی جاعق ےکم ان شا عرو کی زبان مس ایک الی اومیت 
ہے جھ عیر ذوق' آتصش“ امیراور وا کی زبان ش نی ہے ىہ بات صاف تالی ے 
کہ اب شاعری اور شاعرعام زندگی کے دائڑے سے دور ہ ٹک اپتی ایک رتا الگ 
نات جا رہے ہیں۔ خسوریں صدی کے شروع مس خحصوصا جب سے اقبال نے شاعری 
شرو کی نف مکی شاعری لہ سے زیادہ فطری ب نکی اور دہ نیل شاعری کا سا کلف 
اور نم کم ہہوگیا۔ مر ان نمو ں کی زیان صاف طور سے روڑ و کی زیان سے پااگل 
انگ تی ہے۔ اس یں فارسیت زیادہ ہے“ ترکینیں زیادہ ہیں ىہ بات بھی مارے اد 
شع ز کا رغ جاتی ے۔ 

گر آ پکو صلمان ادیب اور مان قو مکی روز جروز بھی ہوئی بیاگی کا لقن 
شہ آیا جو ا ہہ ای کہ اردد ناول میں نذہ امھ سرشارٴ ساد تین نے جس تم کی 
نر جس مکی حقیقت نگاری اور جیی روایت کا آغا زکیا تھا وہ انمیں کے ساہتکیوں 
مم ہوگی* اور اروو اضماتے کا ہہ زریں ددر شیدہ سج لکیوں ہوکے روگیا؟ بات ہے 
ہےکہ ان مصتقو ں کی ایقدائی نشووغا ایے ماحول مج ہولی جب ہے نے ر۔قانات ہوا 
نمی ہوئے تھے۔ اپی قو مکی اجائی زعدی ا نکی نس نس میں ر چ گنی تھی۔ ابی قرم 
کوکم تر کن کے بعد بھی ا نکی حیت اور اعزام میں کی میں پسق تھی انی 
گرفت تی صرف ایک ع مکی زمکگی پر تی اس کے سوا دہ کسی اور زندک یکو مہ ہی 
اق گن کھت ال رسلا آزرو - ارون کا ج راگ آروہروازے بزائت :٣ج‏ 
ہے ا س کی نشوونما عام مسلمانو ںکی روز مو زندگی سے پالئل اتک تنک نے باحول 
میں ہوگی۔ مہ لو عام مسلماتوں سے ان کا وہ رشن تھا جو ان سے لہ ہر آوی کا ہو تا تا“ 
نہ مسلمانو ںکی زندکی می دہ ہم آچگی اور تجمذحی وصدت باقی ری خی جھ بای سے پاقی 


۳ 


انان کا ضر اپنے آگے جکا دیق ہے۔ ہہ لوک نہ و عام مصلماتوں کی زندگی کا ایا 
اعتزام اور اس سے اج محی تکرتے ھےککہ سرشار یا نذہ احع کی رح ای کی عکای پھ 
یور ہوجانمیں * اور نہ وراصصل اشمیں اس زندگی سے اتی واقیت بی تھی سای 
ساجھ دہ اردد اورپ جم ںکوگی اڑی بات بھ یکرنا چاہجتے تے جو پل بھی تن بہوگی ہو اور جو 
اگریزی ارب ہیں ہ٭وّی رجی ہو۔۔ ہہ لوگ جوان الصرتے۔ اتی سای روایچو ںکو تاپتر 
کرت تھے ان سے آزاد بھی ہوا چا ہے تے۔ اگھریزی اد بکی تی رکی آرزو تھی گر 
انگریزی کا مطالعہ بھی سرسری تھا۔ بللہ صرسری مطاے ہکو بھی چھوڑہیے۔ سرشاردی کا 
مطالح کون سا بدا وسج تھا گر اس کے باوجود اضموں تے مرداضمیس اور پوکٹز سے انڑ 
ا۔ جات ہہ ےکلہ ان کے تخل میں وہ جندرست اور تذاتائی خی جو اجتائی ژندگی میں 
مولیت کے بعد بی عاصل ہوتی ہے۔ اس نسل کے لوکوں میں ابی رتو ںک کی کے 
سبب وہ علیقی جان باقی بی نہ ری شی چنانچہ یہ لو کی اریی معنف ے متاز 
بھی ہوۓ ےکس سے سر وا نڑ سے امیں اپناہھم نس م لگیا۔ اہےے آدیوں کے 
گے اپنے ادب میں تھوڑی بت دی پر اکرنے کا ایک ہی ذرعہ ٭وتا ہے“ اتی 
شخصیت' پھراخیں ابی مخصیت کا بھی ایک تسور مان مکرنا نا ہے سے ہے ہروقت 
ساےۓ رکتے ہیں۔ گر اس راہ پر چلنا جمارے ازتیؤن کے لئے "سر وا منڑ سے بجی زیاوہ 
خطریاک عایت ہوا۔ اس کے پاس موستتی ھی مصوری شی اپتی خصی تکو پملو وار 
بناتے کے اور میں رق تھے۔ حاد حیدر درم ساد انصاری'تیاز تچوری کے پا 
الی کون سی نز تی؟ اور ہاں اس من میں ابو لام آزا کو بھی نہ بھو لئ اشمیں 
بھی و اپنے اوپ رین عزاتی کا شبہ تھا۔ اس روہ کا کل تزین اظہدار انموں تے 
”نار خاطل می کیا ہے۔ اس سے پل ہک اکرت ر ہے اس کا جھ کوتی عم مجمیں۔ 
کیو کہ میں آرج تِکف زا رضاح بک کر کے دومئے بھی پڑت میں کامیاب تہ ہوسکا۔ 
خر کہ اس یدرسے سے ملق دیو ںکی خائص کاوش یہ ہوقی مع یکہ اہنے آ پ کو 
اریب حابت کیا جائے۔ پھر اتی ذبانتہ* جووت؟ حصن بستی اور عورت سے وئی کا 
اشتمار دا جائے۔ زیان ای استعا ل کی جاے جو انسان بھی بول بی تہ گیں۔ قاری* 
عرلی الفاظ اور ترکیھوں کی بھر مار ہو ناک عام انساتو ںکی زندگیٴ ان کے طور طریقوں 
اور ازى کے انزاڑ گر اوز انراز یان سے ععمل بے قلق پرری طرئ واج ہوچاے۔ 
ایک جیب بات ےکہ سے ادیب اپنے عحقیدروں اور اپنے ذہتی رہجخانات کے اط سے 


٢ 


عام ملمانوں سے بالتل الک ہیں “گر ان کے ییماں عام مسلمانوں کی زندگی پچ ربھی 
جک جاتی ہے۔ نمکورہ جالا اریوں میں سے محتض پے ملمان تھے اکم ےکم سای 
اعقیار سے عام ملماتوں کے ساجھ تھ۔ گر ان کے یہاں ملماتو ںکی زندگی کا پر ت 
ا ری میں آ۔ مر ا سگمروہ کے اویو ںکو تر تھاکہ ہم عام لوکوں سے انگ ہیں۔ 
ایک صی میں واقق عام زندی سے شور و شئب' مفادات اور وچپیوں ے علعدگی 
ارسیت کے لع زی ہسیہ.._ نل لعف کے سن ےکی کک اف دی این لت 
|| ضروری ہے ےکہ چچوٹی چھوٹی زز خیبوں اور بگای دچپیی ں کی زد سے وور ج ٹکر آدی 
|| حیات ج ل کو اپنے اندر جز ب کر ے۔ جو اویب اس خر سے عام زندگی سے الگ 
|| ہوتے ہیں اخمیں اس سے بت خی وت یکہ لوگ مارے یارے می ںکیا سوپت ہیں 
کیا میں سوچ لین ہمارے عمال پرست ادیو ں کو اکٹر ا کی بدی تٹویش رم 
یکہ لوک ان سے سرجوب بھی ہوں۔ ابواللام آزاد تق خر سیاسی رجنما تے ہی' ان 
کے اندر بھی ہہ جیب تضاد ہا ہ ےکہ ایک طرف ت وہ فخریہ دو یکرتے ہی ںکہ اگر 
آإ اور لوگ مشرق کی طرف جا رہ نہوں ‏ ز میں مخرب کی طرف جانا ہوں۔ دوعری 
طرف اہشمیں ہہ ہکوہ کہ انموں نے لوکو ںنکو کیج را سے پر چلانے کے لے ب تر 
زور مارا گر پرجخنوں نے ایک نہ سی۔ اور آخر تہ بگتا۔ قوم سے علعدگی پر لفراور 
پھر رچنماتی کا دعوکی ہہ اردو کے تعلی جخال برستوں بی سے من تھا۔ خیار غاطرمیں دو 
عیارجیں اڑی علق ہیں ج وھ کم ویش اس پور ےمردہ کی نمائندگی کر دیق ژں۔ ابوااکلام 
آزار آیۓ ہں :بعض حالتوں میں مگاڑی اشن پہ رک تھی جاتی ہے "گر عیرا بد کی 
صورت نظرخیں آتی۔ جب نظ رآتی سے نے ا سکی مفدرتیں میری گر کاوش تنا کے 
لے (کفر کاوش کنا کسی خود اع متتنانی کے ساتھ اتی نحریف بھی ہہوگئی سے اور پھر 
کاوش کے لیے مہ بھی واقی بدا دقمق ہے) ایک دوصرا می لہ چیا کرد ہق ہیں۔ 
ععلؤم ہوا ہے کیہ یم گج تحابق تا اف تی عنن ذو حتاف عون کے لئ وو ختظار 
تتیچوں کا یاخعث ہوجا.] سے اس کے آمد جھ بیدا رکزدی ےچ۔ عپدائ دک اور زیادہ 
سلا یق ہے۔ الاو مکی ٹائم میں بھی اس کے صرثاتے ھی ربے گی" پچ ربھی ساکع کا 
اوس تخریبا کیھاں بی رہا_ معلوم خمیں آپ ان اتال کا ع لکیا تجویبکریں ے۔ گھر 
جے خ شیرا ز کا تلایا ہوا عل م لکیا ہے اور اس پر من ہوپکا ہوں- 
یارا ںکہ ور اطاقت مض وورف حیبت درباغ لالہ روید وور شوریوم شی 


۲ 


اضانیت اور حریف بی تو دو رکی بات سے “جس آردی کے عم سے ای مملے 
قل بے ہیں میں تو اس کے اندر بی خوش زوتی بھی نقصور میں کرستا۔ میں خور ت 
عمال برس قکی صلاحت جیں رکتاٴ مجن پتض مال پرستو ںکی دو چا رکتائیں میں نے 
خا سے محوق سے بھی ضروبر ہیں مگگر سے اکڑ میں تے تر تک یں دیھی۔ ا وکس مانس 
او رگو بے کات وکر یکیاٴ شاید آسکر وا من کک میں تہ لے ابوالکلام آزار ا یکتاب 

میں دوسری مکہ کھت یں گر او رگ ڑکی دخیاکھیں اس درجہ ایک ووصرے ے خلف 
واقحع ہوگی ہی ںکہ آدی ایک کا ہوکر پچھردوصرے کے عائل میں رہ ستا۔ میں تے دیکھا 
ہ ےکم جن لوکوں تے زندگی میں دو چچار عریبہ بھ یگ ڑکھا لیا“ ش رک لطاقت کا ا صا 
پچھران می باقی نمیں رہا'“ اطافت کا ہہ سستا اور تچیچھورا معیار شاید ہیک عمال برق 
کے ام سے جچچی لک یاگیا ہو جو آوی شک رکی دنا کا ہوجا .ا ہے اس کے پاس مس کلف 
دار سیر تین بی رہ عاتی ہے قیض کے ےھ نیس ربتا۔ افو تو ہہ ےکم ىہ 
آدرش صرف ایک قرد کا میں تھا بک ہکم و بی ملماتیں کے سارے تلیم یاقت: طیق 
نے اسے افختیا رکر رکھا تھا- ہے طبقہ ظاہری نقات کا ایا ولراوہ ہوا تھاکہ توت' 
عطمت سب سے نار ہہ کش ہوکیا تھا شگ رکی و فینی کا جو تہ ہوتا سے وی ہواٴ اور 
مدان مطرتی جنیاب میں اپنے سات آشھھ لاک آدمیکٹوا آے اور پاکتتان نے کے بعر 
بھی زندگی کے چھوٹے سے بچھوٹے ےہ میں ہرایک سے پت بپچھرتے ہی ںک ہکدعر 
جاتھیں “کم دحرنہ جاتھیں۔ ان س بکو گر کے می رکمنا چاجے۔- 

عوام سے بگاتہ ہوکر ا یگ روہ ے ارود او بکو ایک اور مت نتصان نایا 
عیرامنٴ الاب سرشار* نزعہ اج“ حا سجن“ شریہوقوو ک ری آظ آرنۃ خزفاری 
اور انشا کی بڑی جاندار روایعت بدا ہوگئی ھی جس میں بڑی بڑی صلاحییں شھیں_ 
ایوازىلام آزاد اور نیاز ور دی ےن ےئن روایت کا گلا اس بری طر عگھوٹ اک 
آج تک اردو نثراس نہ سے سنبعل میں کی مولانا عبا حؾ کی راہے پالگل 
درست ہب ےکہ اردو نرکو اس طرح مرو ںکرتے کی مہ داری سب سے زیادہ الو الام 
آزاد کے صرہے۔ گر اس زماتے میں جے وین اس ہے رو اور یچار ن کا قریقۓ 
وکیا تھا۔ اس دور میں ججھے تو اس ایک آ دی نظ ر7 سے ج سکی مٹرمیں لی اور ادلی 
مضاشن کے بیا نکی اہلیت بھی ھی اور وہ تانائی اور زی بھی جو عام لوک ںکی کنل 
ےگا تعلق رس سے پا ہوقی ہے۔ حا طلب مولانا جر ‏ لی کی نٹرسے ہے ۔گھر 





۲۲ 
ہہ جیب بات ہ ےکم قراقی صاحب کے علادہ نہ نے کسی نے شاعری کے ساملے میں ان کا 
ا زک کیا ہے“ نہ نز کے سلسلے میں عالاکمہ اپنے دور کے سب سے سعقول نٹ ہکار مرعلی 
.می تے۔ رہ ابواللام آزاد نے ان کی نن کو تو میں نوجواتوں کے لج ملک زہ رتا 
ہوں۔ اس انداز کے وس میں کک والے ایک قو مکو ش مکریے کے لے کاقی ہیں۔ 
گر ا سک ھک یاکیا جا ےکہ ٣۳ء‏ کے قرب بی انداز چچل پڑا۔ اور ہ رآدی ای 
مکی عارت کک یکونش شکرنے لا۔ چچھکمہ اس مس عبی فارسی کے کائی لف جا 
کی ضردرت پٹقی ہے اس لے مہ انداذ ہ رآدبی کے ہی نکی بات میں تھا۔ چنانچہ اس 
کے بر اثر ایک اور جم کا انداز ڈ‌لا جو ۳۷ء تک ردالی اضماتوں میں استعال ہوا_ 
اس یں تر ایواکلای انرا زی خوں شاں* پھوں ہاں سی تہ عام زمدگی ے رشع 
مخبوط رھت والی نکی قوت۔ اس نمی نہ نے عبت کا زور تھا ن ہگ کی وتیاکی وصحمت 
او رگھرائی۔ ایک طرف ‏ و عام زبان کے قریب آنے سے ایتناب کیا جا.ا تھا دوصری 
طرف ابولکلام آزاد یا تیاز ش پور ی کی تھوڑی بست شوتی اور یکھا پن بھی زاین 
بہوتا تھا۔ چنانچہ اردد نیس بھی ایک عریل مکی ادمیت پیدا ہوگئی شی جو عوامی زندگی 
سے مج الامکان دامصن بچاتی رمق تھی ای طرح ان اضمانوں کے موضوعات تھی 
نان و مکان کی یر سے آزاد ہوتے تھے ان افساتوں ھےکردارول کا تہ وکوئی ہب 
تھا نہ قومحہ ذات* شہ علبقہ* جیسے ا نکی روحیں مڑسڑاتی ہوئی تھیں۔ ولے ہی ان 
کے ارتی مناسبات خی رمصین شکل کے تھے ا نکمداروں کا دنا جس او رکوئی کام ہی ز 
تھا۔ اس پاک عحیت کے لہ جاتے تے۔ اگر ا نکی محبوب ہک بھی ا نکی خی تک پاکی >ہ 
شیہ ہوتا تھا تق وہ لے میں سے باہیں ثکا کر فورا پچھ لیتق تچ یکہ اگر میں خوبصورت 
تہ ہوقی نکیا تم مجھ سے اڑی ہی حی تکرتے؟ ............ بات ہے ت یکہ ان اشاتوی 
کے کھت دالے زیادہ ت عوسط لبق کے ایے موجوان ہوتے تھے جو وبٹی کندری کے 
غاب سے زندگی شرو ںعکرتے سے اور شم ہوتے تھے کل رکی نے“ گھر ان کا زجن اس 
چک وبھی ققول نی ںکرنا تھا اس ذہتی مجبور یکی وج سے دہ اپ ےکمدارو ںکی سایق 
حثیت اور ان مگ رذ چٹ یکی زندگی سے بھی وی میں نے جھت کے_ ہے ورست 
ہ کہ اس دور میں بہت سے اضماتے وییرات کے متحلق بھی کیعہے گے لیکن دراصل 
ایے کے والو ںکو بتیادی دی گاؤ ںکی زندگی سے جمیں ہوقی ھی مللیہ ا نکی تم شر 
سے بیزاری کے باعث جی۔ گا کو زند لکی ایک اہم وعرت مج ھکر نی کلما جات 


٢َ 


تھا بللہ آفرجح گا بج ہر 

چھراس زان میں مزاحیہ مضاین کی ھی بدی ریل بل رہی۔ گ٠ر‏ مو ان 
اضماتوں کا موصورع زن عرید شوہر ہہ تھا مارے ادییوں پر اس زہاتے مں جو جوا ت 
طاری ہی دہ اسی سے ن ظاہرہے۔ کہ ارد ھکی نکی روایت بی یچ میں سے  “‏ مح 
ہوکئی تھی۔ اس لئ وسح اور مم ہگی رشحم کا حزاح ہمارے یماں سے اڑ ہ یگیا۔ اپ 
کتی مھ یک سم عریف ما تبون باج جج رکی سی نکی بی میں ستا تھا جو زندگی 
کے چھوٹے سے چھوئے داتے سے مزاح اغف کر گے۔ نے د ےک وی پپھوٹر تم کا 
مزا رہگیا تھا- ہاں “ الیستہ ایک شوکت نانوی کا ملمون سوونٹی ریل ضرور سے بج 
یں زندکی سے دہ ادر وس دگپی کا نان ہا ہے۔ بیس کے مضامین بھی قوم کی 
اجخقائی زنری سے میں گلےٴ صحض چند اقراکی خوش بی کا یہ ہیں۔ 

اس پڑرے ددر میس (پرییم چن دکو چو ڑکر) فیس ایک خی بیک چعتائی کے اضماتے 
ہیں جن میں بچجتھ زندگی ہے۔ انوں تے شعوربی طور ےک وش شک یہ ٹکو روڑ مرو 
کی بول ال سے تقریب لان جائۓے۔ چناجچہ برتیں بعد ہیں اردو ٹر اڑی حمقی جالق 
ھلنگی اور ازگی نظ ر٣‏ تق تہ مو کی جف حقاق ہن ریں کک رای حصب ١ون‏ 
میں ایک پورے یىی نمامندی (لشق عکاسی) کا تر حاصل ہے بزری ملمان قوم 
خر میں ان کے مصفوں میں میں مق۔۔۔.۔۔ ان ستیں میں بھی میں ملق ہن 
معوں میں نز امھ کے یماں ملق سے (لشق قوم کے ضاس تین لی کی جیدہ تین 
دپپپیں کی تقموں) الع ملمان موس لبق ہے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں خوو 
اخمادی اور آزادی کا جز جذیہ چدا ہو رہا تھا ا یک انسوں تے خوب نمائندگی کی ے۔ 
اگ لی حدد حتف :شی فندگی سے ہزاو زاسرت تلق ا اس نے آزی کے:ورآن 
ایک اییا ابھار* ایک الیا ولولہ نظ ر٢0‏ سے جو اس دور کے ووصرے مصتقوں ہیں پالکلی 
مفتور ہے ممرعال ایک ححدود معوں میں جم عظلیم بجی فک مسلاتوں کا نماحندہ ہمہ ھت 
یں۔ 

مان اویوں کا ادپی شور انی تو م کی مجیدہ تین یں سے جیسا بے از 
اور بے تحلق ہوکی تھا اس کا اندازہ اسی سے ہوسا ےکہ تدر کے بعر مسلمائو ںکو چو 
سای رخواریاں ٹل تی میں ا نکی ور و نڑتہ ام نے ۲ این الوقت' میں سح 
دی مر غووت جٹی تی ککو اردو افسانے می ںکوئی نمامندی خی ی۔ زیادہ امکان 


۲۵ 


إ| یی تاب کر ملمان اویو ںکو اس ترک سے پاری ڈتق جررری ہوگی۔ مر اس 


زاتے میں صلان ارےوں کا سب ے ہڑا ذہنی آورش تو عمال پ کی ھا۔۔۔۔۔ یا 


انۓ آپ کو عمال پرہستس ابی ت کرنا۔ اتمیں قو مکی روعائی کاوشوں سے کیا حبت 
+دعتی شی اس رے مخلاف بندی میں دے۔۔ جندوو نکی ترک آزادی بر کے 


اضمانے اور ناول میں گے۔ جمارے ادیوں نے ة چان جان ہے اپنی خصی تک ولا“ 
اور اسے اس قائل می مہ رکھاکہ ذاکی تین سے گے می نزیس اپنے آ پک وکھو 
سے۔ 


او ںکی طرف سے ایک با تککی عاعمق سے اور وہ بڑی عد تک ممتقول ےک 
۲۳ھ سے ۲۴ء کک مسلانو ںکی ساست می بکھ مج بک وگو میں ربہیٴ بلہ مولانا جحرعلی 
کی وغات کے بعد تو ملمان من حیث القوم ساست سے بالئل علعدہ دی ہوگے۔ ای 
صورت میں ادیوں پر ھولیت طاری تہ ہوئی نکیا ہوتا۔ جب پوری قوم کی دہ 
وی میں اتی بزہگئی مع کہ ددسرون کا عند نی رہے* تاوب ہ یکیا خر مار لت وہ 
بھی زنانے بن جھے؟ وزسرے نس مریارے ہناں۔ ہہ مدر یی تلیم ہے۔ لان اگر 
مان اویو ںکو اتی قوم کے .احضیٴ عال اور سمل سے شدیےر گی ہولی ت ایب 
ای قو مکی بے حی کا تجزیہ بیکرت تے۔ تو مکو لن نے ہی درے ھت جھے۔ خر 
ایال کے رجاتی پغا مکی نشووما بھی تو اسی تتمل اور بے جضی کے زہانے میں ہوگی۔ 
قوم جتی جابد ہو یکئی؟ اتی قو مکی صلاعیتوں بر اتقبال کا ایمان بدحتاگیا۔ اور آخر رونا 
نے دکھ لیاکہ اقبال کا اعتاد غلط نمی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ملمان قوم نے پاکستان کا 
مطالیہ منظو رکرالیا جو اضائی تار کا ایک ناور واتہ ے۔ بات ہے ےکہ اقال کی نظر 
ملمان عوام پرگمڑی ہوکی یی ماتیق ملمان ادیب صرف اپچتے آ پکو دکھ رے تے۔ 

٣ء‏ کے قریب مسلمان ادیوں اور شاعرو ںکی اتی قوم سے بے اظھینا یی ایک 
خی اور واشج علامت نظ رآتی ہے۔ اب نظ موں میں پتری الفاظ کا استعال بڑھ جات 
ہے اور ہندد دلدمالا بھی شعوری طور پر اردو شاعری میں داش ل کی جاتی ے۔ ججے اس 
پر قفعا اضس وی جمیں ہے اردو کے اندر جو لہ بھی شمائل ہو چاۓ گا اروو کے 
خزانے میں اضاقہ بی ہوگا۔ میں ت حض معروخضی طور پر ایک حقیقت بیا نکر رہا ہوں 
کہ اردو فظم کے اسالیب مس ہہ جبرٹی جہوگی اد سہ جبدلی ساتھ ہی ات مارے اىل 
شعو رکی ایک حکت کا پع بھی دیق سہے “گر مہ اضائے اپتی زیان کو وسحت دیے کی 


٢٦ 

خیال سے یا ذپنی قو تک زیادقی کی وج سے میں ہوے۔ ملمان ادیوں ے ہنرو 
فنے یا کی رکا مطالعہ خمی ںکیا۔ مضکرت اعری کے اہم عناصر سے وا قیت پیر کرت ےک 
کو یکوش تین کیب ین اش“ یریم وو 3را غرم عم کے سو پچاس لفظ اور اوش“ 
ھی ویر دبولوں کے تام نے گے مہ اس زنائے کا وکر ہے ج بکم ا رکم وھ کے 
سان اپنے آپ کو مان ھت ہو شیانے گے سے اور جنرواوں گا پر چز 
مصلانوں سے ابی نظ رآتنے گی حتی۔ ار ہے لوگ روٹوں تڑیوں کا چرم مال 
کرتے کے بعد ہندو کر کے مج می قیصل ہکرت ےکوی ظکای ت کی جات نہ تی اس 
سے اردد میں ایک خی خلاقی آتی۔ گر ہمارے اکر ایل عم حضرات نے مسلداتوں کی 
سای مخطا ت کو تھے اخ ملمانو ںکی جک آزاری میں اوروں سے ٢آ‏ گے رپ ےکی 
ساری مثالوں کو بھول کر مہہ لے کرلیا تھا کہ مسلماتوں میں آزادی کی طلب سے ہی 
یں ىہ قوم می ناکارہ ہے۔ چناضچہ ججماں کک خکن ہوسکا ہمارے لتض ادیب اور شاعر 
ای باط کے مطابق ہندد تیچ ری تر رے گب الات صرف ا آپاواچراو 
کا نہب تر کگردییے جب بھی اد بک وکوتی ایا خخت نتصان میں عبیچ سا تھا ۔ گھر 
انوں نے اس جح رواعت سے چچچھا پچھٹران ےکی کوسش ش کی جوان کے خون میں 

شال ہو پچی تی نیہ ظاہرہے“ ایےے لوگوں کا اوب میس کے روگیا۔ 

١٦‏ میں تق پندی ا ہے او ب کی ترک شروع ہوتی ہے۔ ملمان قوم اور 
ملمان اریوں میں ج بای بھی شروں ہوتی حی دہ اب اتی انتا کو کی گکئی۔ گر 
ایک جات ضردر ہے۔ ٣٢‏ سے ےک ۴ کک نر جو ارب پیرا ہوا تھا عام طور سے 
و دی اص ایقائیمروہ سے متحلق تھا ہی میں“ یوں ہی ہواقی ارب تھا۔ ہے اروپ 
کی جیاد چوککہ حیقت نیاری بر تھی۔ اس لئے تض اضمانہ نار مجبور ہو گے کہ ایک 
خاص جماعت کو اتی نظطروں کے سا سے رھیں۔ چنانچہ اس مبوری کے پاعث 
مسلماتوں سے زہتی بے عقلقی کے باوجوو نے او بکی ححریک تنے ملماتو ںکی زندگی کی 
کئی جاندار تقوریں پیش یککیں۔ شا ععست چتتا ی کی ساری تقزیغات“ ام عی اور 
ار ادر نیدی کے بچھ افساتنے“ جکمہ الیک آدھ اضانہ ے شاید ہ رک وانے نے اس تم 
کا ککیھ دا ہوگا جس میں صلمانو ںکی اتای زنری کا کس نظ رآ ہو۔ اس انقیارے ت2 
ہ مکل نے ہی ںککہ اس دور مس اردو اقسانہ پھر نڑہ اح رکی اقسانہ گار ی کی طرف 
لوٹ درا تھا اور اردد ٹر ایک مریبہ پھرجان پیا ہو ربی تھی تم ر صداتو ںکی اس 


۲ 


تقو گنی سے باوجود ہہ یقت ےکہ جموگی اخقبار سے ملمان اویب اپنے عقاکر“ 
اپے تصوراتٴ اور اپنے رہقازات میں ملمان عوام سے بالنل الک تھے۔ اب تک 
|| صلمان اریب اتی قوم کی میاست سے کم از کم ذہنی جدردی طرور رکٹ 
کے ۔.۔۔۔۔ حقلبق دی میں می تو نہ سی۔ مر نے ادیو ںکی غالب اکڑی ت کو 
مسلمانوں کے سای عزائم سےکوتی دوبی نمیں حیبست سے اویب نے لم فی ککی 
سیاست کے فت خخالف تے۔ اور بست سے اویب پالنل بے تعلق اور بے تاز تے_ 
ای طح یا ق3 ادعب پاکستان کے مطالیے کے خلاف تے“ یا پچ رک وگ کی عالت میں سے 
اور کھت ےک پاکتان ین جاتے قے ہی کیا نہ سپن ت ہیی ںکی۔ ترہب اور سیاست کا 
تحلق انی پپند ای مییں۔ جن لوکو ں کو اشتاکیت سے فظریاق رای میں تتیء 
ان کا بھی ىیی خیال تھاکہ سیا سی مقیوں کا سعائی عل دوسرے سب حعلوں پر وت 
رکا ہے۔ پھریور پکو نتری فکی فقروں سے درھنے کے لوگ اہھے عادی ہو یہ جے 
کہ جو بات ورپ والو ںکی عتل میں نیس اع حی۔ دہ ہمارے اویو ںکی ععقل میں 
بھی میس عق تھی چتامچہ عیسویں صدی میں کی بماعت کا نرہی اخطا فک بنا ہے 
سیاسی حخوق اکنا انی پائنل ناتایل بین معلوم ہو تھا. مر چ کہ مسلم لی ک کو عو 
کی اتی زبروست ححایت عاصل ی۔ اس لئے وہ اس مطالی کو جعلد بھی میں کے 
تھ۔ چنانچہ ہمارے ادیوں تے پاکتا نکی نہ تر ححای تکی نہ بھل کے خالقت بی کی۔ 
ا اہ ادعب پزری سحیدکی اور خور و کر کے ساجھھ پاسکتان کے مطالے کی برزور قااشت 
آٍ| یکرت حب بھی قو کو فائدہ ہی پپچچتا اور خنلف متلوں کے بت سے اہیے پناو 
١‏ طروں کے ساتے جات جن کا پع پاکستان پنے کے بعد چلا۔ گر ہمارے اریب 7 کے 
اپ تطعی ليکو قوم کے مجع سے وی ابی خعھین مھت ھھےر خرن کہ این وذ رن 
اىوں نے اتی عالت بھی جیب ےکی ىی بنا کی شی نہ ت اپے آپ کو صلماتوں 
سے پالیل انگ بیکرت ے نہ ان مس حائل ہی ہوتے تھے چنانچہ اس اندرول تاد 
کی وجہ سے مض ملمان اریب بڑی موہ خزض مکی ذہنی الچھنوں میں بے ۔ بھی 
کھا سم +و نا یب یکنا نین ہو بھی سی اک اود ما ح ینان ہے۔ پر 
وی سے سے گلز خاش ن کین رب کن ی کہ ہمارے مض ھے کوقی ای بات شہ ققل پارنے 
جس سے فرقہ برس کی مو آتی ہو آزاد خی کی اڑی دن سا کہ اپنے آ پک سی 
پچ سے انا بی تہ رکھا۔ تہ کھ لکر عحی تکی تہ نیت _ محلقف سائل سے متحل قکوتی 


۸ 


آخری فیصل ہکرنے کے ڈر سے ان پر بح کک نی قوم کے اہم سے اہم صائلی 
کے متحلق بی رویہ درہاکہ جیسے چتا ہے نہ رو۔ ان محاللات مج ہمارے ادیوں تے 
کی ارچ ذمہ وازی حس وی بی میں گی۔ 

گر زیادہ پر لف یاتد ہہ ہ ےکم قوم سے بے قدبی کا گل ہکرت رہے۔ پاکتان 
نے سے لہ قو مک محبھی نیس جانا کہ پاکستان اتچھی یز ہے یا برمی۔ گر پاکستان نے 
کے بعد ہہ فکایت ضرو رک یکہ مہ ین مارے خواب و خیال میں بھی میس کی ی٠‏ ے 
ہواکیا_ 

پاکتان نے پر مارے اویوں کا چ گنا بڑی بے عثال بات ہے۔ قوم کے مقاوات 
اود عزائم سے اوعب الیے خاق٘ل اور بے از رہ ےکہ اتمیں عوا مکی صلامیتوں _ے 
قلما بے خبری ری۔ چناجچہ پاکستان کا وجود میں آنا واتنی ان کے لج چریتاک ہونا 
جاجے۔ 
گر اس گے سے ایک فاکدہ ضرور ہوا۔ جمارے ادییو ںکو ہہ پع پچ لیگیاکہ ہم 
ایک خاص جماعت کے فرد ہیں“ اور چاہے ہم قوم کے عزائم سے ری لیس یا در لیں 
جما ام تل ہو بے تل سے الک مجمین ےو ضا ات .اجتزای کے سزا بی سزا یی 
ملمان ادیبو ںکو تی مہ داروں کا ھی خیال آیا ہے۔ قوم اور اریوں مج مفاہمت کا 
ساسلہ شروع نو ہوکیا ہے گمر ابھی مشکل ہہ ہ ےک قوم اویو ںکو میں بچائق۔ ان 
کے علبقی عام سے وی میں رکھتی ۔ گر دوصری طرف حلوصت کے عمال نے اروپ 
اور ادنیوں کی طرف تج شرو عکمدی ہے پاکتتان بے ہوتے سال پھر ہوگیا* گگر 
اشمیں ابھی کک پت می خی چلا تھاکہ ادب یا ادیوں کا ھی وجور ہے- گرجب پت چلا 
انموں نے ارب کے وجود ب یکو خطرناک کھت ہوئے جن بڑے ادلی رسالو ںکو یر 
کردیا۔ اویوں کی آزادی کے بین حافط عوام ہو سن تھے ین چوکہ اریوں نے 
عوا مکو ہیہ محسو سکرتے کا موقع سی خمیں دیاککہ مہ بھی جھمیں میں سے ہیں۔ اس لے 
اید عکومت کے اس او ب کش افدام پر بھی عام لوگو ں کو نتصان کاکوگی ا ساس ہی 
گے 

چنانچہ ادر بایں ‏ الگ رہیں؟ٴ پاکستان میں عحض او پ کی بقا کے گے ہے لاڑدی ' 
ہوگیا ہے کہ ادیب جلد اڑ علد عوام کا اخاو حاص لکریں اور اىی رح عاضص لکریں 
نس طرح عافظ“ سحدی؛ میرا اور اتا لکو حاصل تھا مق قو مکی خوشا دک ر کے“ قو مکی 


لا 


نتریف میں تضیر ےکلہ کے میں بہ عحضل اہین آ پکو قوم کا ایک قرد مھ کے اور 
ای حیثیت سے ول کھو ل کر حیت اور تقر یک ررے ویو روسپی ععادی گ٠زیوں‏ میں 
ایک وفعہ ہہ بات جھلگنے گے نو ہم قوم سے اپنے مخوق بھی مانک یں ے؛ ان کی 
حایت بھی حاص یک رگیں گے اور جمارے ادب مس بھی دہ قیت اور قانائی آجائۓ گی 
ج کسی قوم کے فماحندہ ادب میں جولی چاے- 


پیش خدمت ہے کنب خانہ گروپ کی طرف سے 
ایک اور کاب 
بیش ار تاب فیس رک کرو کپ خائہ می 
بھی ایلوڈ کر دی گئی ہے. 

۷۵۹۸/۷۸۷۷8۵95091 2۳/9: 9 

۴(ف-71144964257209557:61 

میر ظہیرعباس روستمانی, 

ایا 209963 2۱ جودہ 


فساوات اور مارا ایپ 


ےم کے فسادات مصلماتوں کے لج ایک بست ہوا قدبی عادط ہیں؟ نس کے 
اثرات ہم جس سے ہر آد کی زندکی پہ پڑے ہیں مس یک زندگی پ ےک مک یکا زنر پہ 


تیادہ گر پڑے ضردر ہیں۔ غالا ایی واقعات دنیاکی رر جس بھی میں ہو چوکلہ | 
بات ات قریب کی می اس لے بست سے ہدیوں نے فساوات سے متخلق قرض سے | 


ور پر ککھا ۔ چتد نے ول پر چو ٹکھ اکر ککھا۔ برحال اس دس مگمیارہ ھتہ کے عرص 
میں اس موضوع کے مصحلق بت سے افسانے اور میں جمارے ساس ایی ہیں۔ 
کچھ پڑ نے والے ان افسانوں سے “عمش ہیں ض لوگوں کو شثایت ہے کہ جبارے 
اویوں نے مصلماوں ے مد نظرسے تال برا ہے معض لوگو ںکی خواہیش ےک 
ساسح ب کو داع نہ خظرافتیار ہی کریں۔ یس ایت کے شانرار سعتیل سے لو 
اۓ ریں۔ 

تیرلوکو ںکی پپند اور اپیند ت لی ہی رہتی ہے گر جھ سوال ال میں پان کا تا 
و ابھی کت ف کسی نے نی بی چا یق ایے واقعات انسامی تکی یا عسی قو مکی بارخ میں 
نی بی :ایت نت رت ہوں؟ خواہ صدبوں گے کی ذندگی ان سے زے اڑ 
صورت بڑے ہوتے واٹی ہو خاء ان واتعات نے کسی کو انال فطرت یا پوے ہوے 
سائل کے متحلق تکرب اکسایا ہو یا کسی فلف یکو چند آکری متا تک کن یس بدددی 
وگ رکیاے واقیات مقے اور حخل واقفات کی حثیت ے ارب کا موضضوع بین مج 
ہیں ؟ ایے سوالات کا جواب سوتتے بہوتئے میں ابق ذاتی یا قوی یتو ںکو تھوڑی 
دہ کے لے بھول جانا چا ےکم ا زکم دو جار لے دل سے پھررکھ لیت بچاۓکیوکلہ ارب 


قب ایت بوا علدل وت ہے انسا نکی تار ت2 میں میں ہار سال برای ے- ۱ 


۱ 


٢ ۱‏ 
أ. دا جات ےکیاکیا ہکا ہے اد رکیاکیا ہونے والا ہے ارب آخ ھک سکس قرد او رس 
| سکم ںگروہ کے جذیات کا اتتزا مکرے ؟ اگ ہیں اپنے سوال کاکوتی تلی جخٹ جواب 
ڈھوجڈنا ہے و اتی مظلومیت کے اصا کو تھوڑی دہ کے لے خی ریا رکمہ دیتا چا ۓے_ 
ایک آسانی ہم اپنے لے چی رارکت ہیں۔ وہ سک ہکوتی ایا تی زبروست واتے 
یں اور یھی ںکہ اوب انس کے ممتحل کیا کتا ہے ؟ ۳ا کی جنگ نے بمت سا ارب 
ِ پا کیا ۔ لکن تج اس مم ںکتا ادب واتتی زندہ ے۔ ڈطھ لی سیٹس نے ز پپلی جک 
عقیم کے بارے میں ایک ہے ادی بکی سفاکی اور مد سے کام لم ہوتے صاف 
کہ دیا خھاکہ میں نے اپنے خی شاعری کے مجھوسے میں بتک سے متحلقبوتی نم نہیں 
شمائ لکی کی کہ حضس انفعالی لیف اوب کا موضورع تمیں ہوتی_ 
یہاں مہ بات یاد رکنے کے لاک ہے کہ جک کے ملق شاعر یکرنے وا لے 
ایک شاعرت ےکا تخھاکہ میرند ساری شاعری ‏ لیف بی میں ے۔ 
بات ہہ س ےک ادرپ ف جذباتی گزاوں کے پارے مج ہوت ے اور انقعالی تکوئی 
یہ خی سے احان خرور ے۔ آلز قیارات کے نآ ر وازر تگری ا خطمِان 
لیف کے لے جانیں تمہ فیصلہ ناگزے ہ ےک قسادات ادب کا موضورع بین بی تمیں 
ھت خواہ وی تعلق کی بنا بر بمیںکتنا ہی روناکیوں عہ آنا ہو قومی حارعات اور ایک 
پور ےمردہ کے جسمانی مصاب کے بارے می بوے سے بدا ارب جو بھییں مل کت 
ہے و حزع فامہ فی سے متض نے ہہین۔ لان ان گحززدن کے ارب ین جاٹے گی 
وجہ یہ خی ہب ےکمہ ان میں یہودی قوم کے سلگگڑوں اقرار کے قل و ارت اور عوروآں 
کی بے حم اور بوری تو مکی جلا وطنی کا رونا رو یا گیا ہے۔ جو چچتر اتی اوب بتاقی 
ہے دہ اور تی یھ ہے یہ ودیوں کا عقیدرہ تھاکہ ہار ی قوم خداکی محبوب سے اور ہم 
خداکی خاص عنایت ہے گمر رشمتوں کے پاتحوں ان ب ھگزری یہ پچھہٴ عمقیرے اور 
یقت کے اس تار نے بیمودبی ں کو سخت روعاقی ایذا بخچای اور ان کے انرر کک 
اور ششین؛ امیر اور بای“ خرف اور بے باگی' بفاوت اور وفاداری کی یاہم آویزش 
ہوتے کگی۔ بیودی قوم کا ہہ یسدہ روعانی تجیہ اجس نے عبرانی بر ںکی کہ و فقاں 
کو بلند تین ادب کا مریبہ دیا۔ چنانچہ ا نکتابوں کا موضوع قوی معیبت خمیں سے بل 
ای ٹر ے۔ 
عھراس کے ہہ معتی میں و ںکہ اگر اسے عادعات ادوپ کا موضورع ت۔ ہوں ثڑ ان 


7 


انیو ںکو لکمنا ہی نہ چایے“ ادیب جروقت ادب بی ن پیدا تی ںکرتے رہچے ا ن کی 
زہ داریاں دوش مکی وی ہیں ایک تو ادی بکی حثیت سے دوعری ایک جاعت ے 
قردکی حثیت سے اس میں شیک تی ںکہ آوی بک بی ذمہ دادی ا کی اولان وم 
داری ہے گر معحض موت اسیے بھی آتتے ہی ںکہ جب ادیب کے لے اپنے ووصرے 
ورچ کی ومہ داریال پ راکنا ی واجپ ہوچاتا ے اور ہے زمہ داریاں بل ژمہ داروں 
کے مناقی بھی نہیں ہوہیں_ 

اسے کن کے لے بھی جہیں دوصری بتک شی سے روران میں لف میں 
کے ادیوں کے روہیے پر قو رکرتا جاہے۔ روس میں تز ادیوں تے اتی خانوی زم 
داریو ںکو اس جوش د خروش کے ساتھ پور اکرنا شرور کی اکہ ادلی ڈمہ داریو کو پالگل 
می بمول گے - پللہ انوی امیت رکتے وا ی تجیو ںکو ارپ کا درچہ دے دیا- ہلگ 
کے ووران میں ردسی ادب کا فرضس مضمی سے قرار پا یا کہ دہ اتی تم“ اس کے سپایوں 
اور اع کردا رکی نحری فکرے اور جرمتو ںکو پر حاظ سے تائل ثقرت وکھاے۔ باتا 
کہ روسی قوم پر بڑی معیبت آئی شی اور ادیوں نے اپنی قو مکی جنئی بھی رص ت کی 
وہ ھی ککی “کر اہنے اصلی قرائ کو چھلا دینا او ری مانوی مت رکا غلام بن کے رہ 
جانا (خواہ وہ مقص رکا ہی بلند سی)ادی بکو زیب خی دتا۔ دیے بھی اگر ہم چایے 
ہی ںکہ یاکستان کا اوپ یلند تزین اسلائی ؟درشوں کا عالل ہو ثڑ ہے ضورت عال ججارے 
لے پپندیدہ میں ہوگی۔ مسلمانو ںکو ہہ برای تک یگ کہ اگر شمیسں اپنے غلاف بھی 
شارت دی بپڑے و نہ پیچپا .۔ ایا ارب جس میں مس صلمانو ںکی تخریف بی نتریں 
کی کی ہھ اسلائی حقدد نظرسے بھی تال ول میں ہوسلتا۔ رمک روسی اویوں کا 
مثال مار ی رہبری کے لئے تقطی ناکانی“ بلل گرا کن ے_ 

ددصری مثال اگ یی: ادیو ں کی ہے چھکمہ جک کے دوران میں بھرتی ای ہوگئی 
یت ئن رک کی ادیپ کو ہوائی چماز چلانا ڑا“ یکو سک بجھاتے والوں میں شال 
ہنا پڑا اور شاید انوں نے ہہ کام خوشی خوشی اخحام ود اور ری فرض ای کے 
ساب لیکن جماں تک میں جاضا ہو ںی معقول ادیب نے قلم سے وریہ قو مک یکوقی 
خدمت !یں کی محکن ہے ا کی وحہ یہ ہ کہ جزمن افگتا نکی زمن پ قزم نیں 
رک کے اور انگریزو ںکو وہ ذات شی اٹھانا بی جو روس کے لتض علاقوں اور قرائ 
کے حے مس آگی۔ اکر ہہ دن آن ن شقن ہے کہ اگری: اویب اپنے ک کک براقع ت کی 





۲ 
ماطریمت سیچنھ آھ بہرحال جنگ کا ازییوں پر جو ددعل ہوا دہ ہہ ےہ اتموں نے 
ابی زند کو بڑا خالی خالی سو سکیا۔ مہ پھول رسے تھے نہ چڑیاں۔ عمزی: اقیا زع 
تھے جج کک وجہ سے ذاتی آزادی میں بد یکی آکئی شی۔ ان سب ذہنی اور خی 
آسائنوں کے غاب ہوجاتے سے امیس بدی ملیف بوگی اور اضموں نے بجھری بی 
زندگی کے سوگ میں رونا یسورتا ششرو عکردا ۔ ق ایل اگری: ادیوں کا روی ہڑا'انشْالٰ 
عم کا ربا اور اس روگ ل کی خیادوں بی جاندار اد ب کی یر خمیں ہوحھق۔ محضل 
جلاہٹ٠‏ عحضل بد می کا اصاسں۔ مصحض بے ا نات ادب کے گے زیادہ دے کک کام 
نم دق اس سے زیادہ کار آبھ تذ شمدید اور جنونی تم کی نقرت بی ہوتیٴ ہہ ت تاعل 
ریف بات ےک ملا قوی خدمت کرتے ہو ہے بھی انسوں نے اتی ادلی حیثی تکو 
قراموش می ںکیا۔ مر جس عم کا ذہتی اور جذباتی تجریہ اضیں عاصل ہوا وہ ادلی اختار 
سے بست زیادہ تقائل وقعت خی تھا۔ قو مکی خدم ت کرت ہو بھی وو ہہ سوچت 
رہ ےکہ آبج تو قوم ہم سے کام نے ری ہے خدا جاتے کل مارے او کیا پابنریاں 
ثائے۔ ان کے اس رویے سے با ایا ظاہر ہو تا سے تیسے اخمیں اتی ارلی شخصیت پر 
برا ین اور اختبار نہ ہو۔ قوی خرس تکرتے ہوئے اش ہہ سوچنا بی نہ جا ہے تھا 
کہ گے بل کر ہمارے ساجھ کیا سلوک ہوگا۔ اگر لڑائی کے پير قرم ارعوں پ 
پابنریاں عائ دکرتی یا اس کا خحدشہ ہوت فے اتی یہ فیصل ہکرلمنا چا تھاک ای صورت 
میس ہم قوم کے خلاف بھی ای ہی جن دی سے دوج رکرہیں ھے “کم ام ادیو ںکو 
تق ای بکی ایمیت کا اتا حم شقین ہونا چاہچے تھاکہ دہ جج کی پروا کے بقیر اس کی 
راقع تک رگھیں گر انگرن: ادیوں تے لڑے 'قیرہی پار مان کی اور ہہ فر ضکر لیا کم اگر 
قوم نے حخ تکیری برکی ت ہم بے دست وبا ہوکے رہ جاتیں ے_ 
اس کے برشلاف قرات۱می ادیوں کا روبے بدا منوازژن اور ياواقار رہا۔ اشموں تے 
اپنی ایک بھی حثی ت کو دوسری پر قیان خی ہوتے دا۔ بات ہہ ہے کہ اضموں نے 
اتی ان دو جیشیتو ںک وگ خی ںکیا۔ بلکہ دوتوں کا فرق بست داع طور بر اپنے ذکی 
میس جائم رکھا۔ ہہ ٹیک ہ ےکم دو ایک بدڑے ادیب جک شروخع ہوتے ىی قرانں 
مو ڑکر لہ ےکہ ہہاراکوگی کک جس ہے۔ مہ جم فرام ںکی طرف ہیں عہ جرمی کی 
طرف لین حیدہ ادیوں تے ا نکی عیت پر تک می ںکیا ‏ اضیں بۃول میں ھا 
خدار خمیں مھا جلگہ جرابر ان کا ازا مکرتے رے“ ان کے علادہ ياقی تمام اریوں تے 


"۴ 


ہر حن طریقہ سے جرمتوں کی خخالقت کی“ لوگوں کو بضاوت پر ابھارا رت کہ اس 
ازک موق پ> تو مکی جھ خدمت بھی ان سے ہہوعتی تی کی رکم سے کم بے 
اریوں نے ایک لہ کے لئ بھی س ےکوارا خی سکیاکہ قو مکی محیت کے جوش میں ہر 
ان خالات سے ان اقذار سے قدار یکرریں جنییں ع ربھرپ تھے چلہ آے تے یا قوی 
خدمص تکرنے کے بعر اپے آپ کو ادلی ذمہ داریوں ے آزاد میں یا جو چڑیں 
حنل توم کابذیہ آزادی بیدا رکرنے کے لئ کسی میں اتمیں اورپ کا رجہ ریں“ 
فراتی اریوں کے ہنی تزازن کا عالم اس چچھوئے سے واققنہ سے اہ رہوگ ریلتھ ادیوں 
نے جرمتوں کی حخالفت کے لئ اور اولی سرکر یکو اس پر آحوب زانے م"یں بھی 
جاری رج کے لے یہ طور سے کتابوں کا ایک سلسلہ شرو عکیا تھا نس کا نام تھا“ 
”اسے دی سبیوں د موقی' سجن آورھی را تکو چت وا یکتابوں کا سلسلل “ جب قرائں 
آزار ہوا ف ان اریو ںکو ایک بست یوا ادلی انعام یا گیاٴ گر ان لوگوں نے انعام قول 
کرنے سے افنکا رکروا او رکھا جم لوگوں نے جو یلت لکھا سے ہہ ے صرف قوی غرصت 
کے سللے میں ککعا ہے ہہ نے صرے سے ادب بی خمیں اور عہ ہم نے اسے اوپ مج 
ک رککھا تھا پھر بھم ایک ادلی انعام کیسے تو نکریں ؟ اس جنگ کے دوران میں الۓے 
ایے فرانی ادیوں نے پروپنڑےکی چزیں کی ہیں جنمیں سای معاللات سے 
بالئل بے تحلق اور الس ارب کا شیرالی مھا جانا تھا۔ آندرے یر یسا ادیپ جو 
پچ بے کے محالمہ میں ٹبھی مصسلح تک خاطرہی میں میں لایا اور نس نے چیہ بحیڑ 
جھڑکے پر اینےػ تما یکو تع دی دہ آزادی کے جزیہ سے بے قرار ہ ھکر اپ ےکونے 
سے باہر قلل یا “گر ساجھ می جرمتو ں کی نتریف بھ یکرت رہا۔ ریشم جنگ کے 
دوران میں قراضھی اوعب آزاد یکی لڑائی یش ول وجان سے شال رہے گر لڑاتی شمم 
ہوتے می وہ بپھرسیاسیات سے انگ ہو گے ادر جو یھ جک سے پل ھہکرتے تھے و مکرنے 
گے جب مک ک کی موت و حیات کا سوال تھا ت اتموں تنے او ب کو تی قرض کے 
راحتے یں عائکل یں ہوتے یا جب دہ تازک وقت گل گیا نز پچھراضوں ت ےی 
مع مکی ساس تکو ادب کے ے بر چچھری نیس پھیرنے دی اور آج بھی جب دتیا بھر 
کے اویب ہہ کتے ہی کہ ا بکیا لکھی ںکیا نہ لکھیں کون جانے کل ایم مم سے ریا 
خی ہوجاے۔ ت قراضمی بدی بے قلری سے اپے تقلیق کم میں مصروف ہیں جیے 
ال ہوں۔ 


۲ 


ان تیوں حم کے اویوں کے روعل پر خو رکرتنے کے بع رکم سےکم جیے تو 
فرانی اویوں کا رویہ پند 7 ہے۔ قوی عاوثؤں کے مقالے میں چچ اریپ کا رونے 
, اس سے سوا او رکیا ہو سکم ہے۔ جب تو موت اور ژندگی کا سوال دریٹل ہو و 
١‏ ایپ کا یو جا کہ ےل بای ام بش سے 
حدمت نے عق ہے اور وونوں میں ےک یکو بھی ہے تحلق میں ہوجانا چایے۔ عام 
. عالات میں ادیب سوا اپنے اوب کے او رکسی کا شی وا ۔کوگی بڑی سے بدی 
طاقت بھی اس ے وفاواری کا مطالیہ میں کرگمق۔ یہرعال اریپ کو ہے معلوم ہوا 
إ| جات کہ اسے کس وقت کس حثیت سے عم لکرنا ہے۔ شر یق کی حیثیت سے یا 
| اض بک حثیت ے۔ 
اوس ہ ‏ ےکہ جمارے یہاں اردد مٹش بی جات صاف طور سے میں سمجھی جاتی۔ 
| ہماری حقیر ادج بکی ان دونیں خصیتو ںکو ایک دوسرے مس الجھاتی رہتی ےے_ جب 
ارسیوں سے ہہ مطالبہ ہو ہ ےک قسادات پر ککھو فو یہ بات بالئل واج نمی ں کی جات 
کہ ادج بک یکون سی شخصیت قسارات ‏ گگے۔ ادیپ دالی یا عام شری والی۔ ارب 
والی خصیت تو فسادات پر کلیھ تی خٍں گحق ۔کیرکلہ فا ارب کا موشوع تیں ہیں- 
ابع شری والی مخصیت فسارات پر اضماتے آلیہ سی ہے۔ گمراس صورت میں اس کا 
ایک مخصوص حقد نظرہوگا جھ سراسرغیرارلی ہوگا۔ اڑی صورت مں ادی بکوئی سای 
عرانی نظریہ انتا رکرے گا اور اپنے اضسمانے میس ا س کی حمای تکرے گا۔ ہے کوگی 
ری بات جمیں ہے۔ میں تل مکرچنکا ہو ںکہ نت اک موقتوں پر ادی بک خی راد 
کی خدمت بھی انام دی جاہے۔ گر خرالی ہہ ہےہکہ جن لوکوں نے فسادات پہ 
اضسانے کے" ہیں اش اصرار ہ ےکم جارا جحعنہ نظرادپی ہے۔ عالاکہ اگمر اتموں نے 
کی بلند جذ بے سے جبور ہو کے کوقی مخصوص نتطہ نظراتقیا رکیا ے ت اس کا اخزاف 
کی میں شریان ےکی ضرورت میں ہے۔ 
اچچھا اب ہہ دگھی ںکہ اردد یش ج اضمانے ضساوات کے متخلق کیسے یئ وں ان 
می ںکیاسیاسی یا عرانی قد نظ راتا رکیاگیا سے ؟ ا سکی اچھائی براتی جا نے میں جارا 
معیار ہہ ہوگاکہ نیہ خصوص حقعد مظراختیا ررت ےکی وچہ سے کت والن ےکو حقیقق تکو 
سح ممی ںکرناپڑا۔ ادر ج مھ و کمہ را ہے اس پر اسے خود بھی مین ہے یا نہیں 
کیوککہ ادیب چاہے خی رادلی مقاصد کے مائحت کل جب بھی پچ پول ےکی ومہ داری سے 


آزاد نہیں ہو اد بکی قوی قدمت ہہ نی ہوت کہ دو چحھوث پچ پرطرح ای 
ق مکی محایت سے چلا جاے۔ ا کی قدعت وس بی ہے کہ اس کی قو مک ھکوکی 
مخت مرطہ دربی ہو اور اسے ابی قو مکی اتی کا نشین ہو ت2 دہ انی ہرروں سے 
عوام میں ین اور اعد چیا کرت ےکی کومش شکرے۔ اوب خوا ہکوئی بھی تد اظر 
یککرے بے اسے جرعال مس بولنا ہی پڑے گا اسی معیار سے ہم ان قسارات وانے 
اضسافو ںکو بھی جانیں سے_ 

اپ کک اردد ہس فسادات پر جھ اضساتے کی سے ہیں ان میں اککرو زپٹر 
وص خلا تکی ایت کے لے کک کے ہیں۔ ان اقماتوں ک بیاری خال ہے ے 
کہ ان فسادات میں جس بمعیت کا اکمار ہوا ہے وہ ھت بری پڑڑے۔ ے اقائے 
اں ممیت کے غاف نفت چیا کرنا جماہچے ہیں اور سا بی اس کی وجہ بی 
ڈجودعڑتے ہیں ۔ وجہ ہہ ہےکہ ای بریدیت عام طور سے انسانوں میس میں ہوگی_ ہہ 2 
سیا فان سے کے ئے پا کی کئی ہے انکریندں کی الیک جال ہندوستان کی تیم 
ہچ اگ تیم نہ کی ہہوقی او فسادات بھی ضہ ہوئے ہوتے اور ہنرو صلمان ٗی 
کی رح رہے۔ امیر ہ ےکم مہ نفت جلد خاخب ہوجائےکی اور بھائی بھئی پر گے 
جانھیس گے لح اقاے نار جن یں ک۔ ہنددستان اور پاکتان پھر ایک ہوچاکیں 
ہے۔ چتانچہ ان افساوں ح سکوش لک جاقی ہ کہ اقزام ددتوں می سے یکو بھی ے 
دا جاتے۔ مہ اگگری: کو طزم گروانا جاے۔ بنا مظالم دوتوں طرف بلساں وکواے 
جات اٹیں۔ ان کالفا مین کیا جانا لہ مشرق ات من بک پڑا ہے ارس مان 
کرتے کے لے تو اب لفت می ںکوئی لفظ ا بی تھیں_ 

خر ہے ہے ان افسانوں کا زہی ہیں نرہ اول تو سے نظراق انا بنا ای پورا ے 
کہ خود کھت والو کہ بھی اس پ ین مکل ہی سے ہوکا۔ تفر کو مض اگرینوں کی 
اض ت6ا قاقاد گنایا ز لیصاررضاٗے ان چ بای عل یارے_ وش 
کیاکہ کھت والدن یا عمیت شی چا رھ جائیں دہ وی کرت یں ان يہ غرو اض 
ین نیں۔ اور وہ اض ہو ںکہ جم نہ بات کرک اپنے آپ کو بھی دعوکا سے کے 
ہیں اور وومروں کو بھی_ چتائچہ یہ سارا ارب یالئل بے خلوصس* بے ان اور کھ وکھڑا 
ہے۔ اس میں پرزور خطایت بھی و نی ملق “کیوککہ سارا نظریاّی ڑحائچہ ہی مصنوی 
ہے بیہ افسانے نل موی ہی شی ہیں ان کا ایک خطریاک پماد بی ے_ ان ش 


کر 


ملاتوں اور پاتان کے غراف ہدا زہریلا پروینڑا ما ہے۔ من ہے کہ ہے سب 
ٍِ قن اَل اقیان سے ئن اور خریت کل رھ ے ٴي اق +ھن گرا ن۶ا ری 
اث ملمائیں کے غوف ہے۔ اول ‏ ضاوا تکی زیادہ قمہ واری ملمائوں کے سر 
رھی جاتی ہے دوسرے تی مک ف کی ماج جایا جانا ہے“ عال اکلہ تیم یمن پاکتان 
۱ کا قیام ملمافوں کا عنی: تین سای آدرش رہا ہے ان افسانوں میس کو موق ے 
کہ ملمانو کو پاکستان کے یادی اصول سے بت نکیا جاے۔ 
ہعارے اویو ںکی رف سے (شی جھ اوعب پاکتان کے عائی وں) اس او* 
یل اب دی کیا کو ول کو سن مین موق سیف کر تھی اعت او 
5 مت وا یو کی ری چاو کی این کر ٣ق‏ سے یں بن از ×ز 
بندوستان سے خرف 7 


اسب پیچیلائیں نا یک یدام کریےہ تن کام 3ے درو ای کو 
مبارک رہہ میں اپنے سواسی س ےکیا خرض میس ت اپنے ادیوں سے صرف ات 
۱ بات جا کہ دہ میں بتاھیں ہمارے او کیا شق سے او رکیوں بی ہے؟ جم جزاردں 
17 مسلمائوں کے مع عام چہ فدسے اور مرن شی چایں۔ نون آومیو نکی وت بھی 
بذات خو دکوتی اہم محنویت میں رکھتق_ اکر مارے پچچاس لاکھ وی خرووار اززائوں 
ا رع الموں کا مقابل ہکرتے ہوئے مرتامیں تس بدی خوش کی بات ہے۔ مین ار 
مارے پا آدی جات مچانے کے لاس میران سے ھا فکھڑے ہوں 3 نے ہمارے 
لے ایک الیہ ہے۔ جم فو یس میا جات ہو ںکہ ہمارے ادیپ مار ےکردا رکا لے 
ککریں اور ہیں چاکی ں ارے سات ھکیا ییڑی داقع ہوئی ہے۔ جار اکردار ماری 
[ دشا کے غاوان ضا ۓ: یا 'دن۔ ض١‏ لئ غرہت ×م انید اریوں ے 
ضر کنا ہے ہیں۔ ددمروں پر حقید نی ٴ اتی قوم پر مقیر- 
رہہ کام ای کک جارمے ادیوں نے کیا دی نہیں نے دسے کے ہیں ایک 
کاب ہے جھ عال ہی مس شائع ہوک ہے من نزرت اشر شاپ کی یا خرا ہے اشاد ہنا 
ا فرر ہے میں نے یہاں کک سک کو ار ہو ںکہ ہ یکناب جرہڑھے کے یا پاکتائی 
کی تطرس ےگذدقی چا اس کے شروع میں متاذ شریں صاحب کا ماچہ سے جن 
یٹ انسوں نے قساوات سے ملق اوب کا جائن: لیا ہے اور بجایا ہےکہ غلط تم کی 
|اضاعیت یق اور اآصاف کی رو یں بب کر ادیب خد ایت آپ سے مجموٹ ہو لچ 
ہے ہیں اور انموں نے یقت کا جس طح مشاہدہ ادر تزی کیا تھا اے چان پوچ ےکر 


۸ 


اصلی شل میں پت کرنے سےگری :کیا ہے اس طرح او بکو بھی نتصان پیج رہا ہے 
اور پاکنتا نکو بھی کی وکہ متس لوگ ادب کے پردے مس پاکستان کے خلاف پوپیگنڑا 
کر رہے ہیں۔ شیریں صاحی کی صا فگوتی اور ذہنی امھاندار یک داد دق پڑلی ے- 
شاب صاحب تے اپنے افضاتنے میں انساضیت پرسی کا ڈوک ححس رجایا۔ انموں نے 
اس اضساتنے میں غیروں کے ظلم بر اتا زور ٹیس دا جقنا پاکستاتو ںکی بے راہ رو پر ہے 
کتاب اگ ر کسی کے خافت ہے تو خود پاکستان والوں کے متا بک میروئین دل شادکی 
اللنا ککمانی حض حھعوں کے مظالم پر مشقل جس ہے دل شا کی ڑییڑی ىہ ےک 
اس نے پاکستان والو ںکو مھا چتھ تھا اور پایا یچ شماپ صاحب تے اس زندگی کا نے 
الناک پہاد بڑىی ایک دس سے نایا ںکیا ہے ان کے طتزم جقنا بھی زہر تھا وہ 
ادروں کے اوپر میں اپے تی اور صرف ہوا ہے تکتاب میں چیاحیت ت ضرور ے_ 
گر چ کہ ہم اسے مقصمدی ادب کے لحاظط سے جایچ رہے ہیں اس لئے اس پر اعتزاض 
فلط ہوگا۔ شماب صاحب نے پاکستان والیں ےکردار بر تقی رکرتنے می اختالی جرات 
اور سحائی سے کام لیا ہے۔ اگر چاکتاتی ارعب ای ے خق اور صرات پتری ے کام 
لیت رسہے اور اکر پاکتانی اد بکی ابا بی ہے ت بے پاکستان میں ارب ا تل 
بست شانرار نظ رآ ے۔ 

پاکتائی ادرپ کے شا:رار مججّل کی روعری شماوت سعاوت حن منٹو کے وہ 
اضمانے ہیں بیجن کا یں متنظرفسادات ہیں۔ ورائصل ىہ اضماتے فسارات کے پارے "یں 
ہی ممیں کہ انان کے بارے مس ہیں۔ ان کا موضوع سے انان مخصوص تم کے 
عالات میں۔ ہہ دک ھکر جھے ترہو ا ہ ےککہ فسادات سے متحلق تی کو ادٹی طریقہ 
سے سب سے چچسلہ پاکستتان کے ایک اویب تے اصتعا لکیا ہے ادر اپپنے دہا کو ہنگائی 
نی چا کرنے سے بٹاکر ادلی تخلیق مس نایا ہے۔ منٹو نے ہ رم کے مفاوات سے 
بے ماز ہوکر صرف انسائی ممت' عرف اضانی صراقت خاش کی ے۔ بی اپ 
ے۔ 


صفٹ و“ فسماوات ے 


لہ دس سال خن نے اد بکی ترک تے اروو اقیاتوی ارب ج ںگران ظز 
اضانے سے ہیں۔ لین اس سے بھی انار نمی ںکیا جاسکس کہ اکٹرو بشتزےۓ اشرانوں 
کی حرک تخل قکی اندروتی گن ختیں خی بللہ ڈاری عالات اور واقیات“ خراہ ان کا 
تلق خر مض فکی وات سے ہو یا ماحول سے عحکن ہے ہہ حنت حر کک ائن رانا 
الویقت عقیرے کے مائحت ہوا ہ وکہ محضس نماری ناحو لکو یرل دہیۓے سے اتساتوں کی 
دائلی زندکی کو بی برلا جاسکتا ہے۔ بسرعال عام طور سے ہہ وستور رہا ہے کہ جب 
ہمارے اقساعنہ ننگارو ںکو اتی ادپی سرگرمیا ںکزدر ہوتی معلوم ہوقی ہیں ت انموں تے 
اپے آ پکو اللزام خمیں ویا ‏ اشمیں کبھی ہہ تشولیش خی ہو یکہ شاید ماری اندروتی 
مشددنما بعد ہوگئی ہے سے ہم داعلی عمل سے دویارہ جار یکرت ہیں اس کے برغلاف 
انسوں نے اپے آ پکو بی سوج کے صلی دے کہ خارتی دنا ج سکوگی ای یات ہو 
بی میں ری جس کے بارے مس ککھا جاے۔ مھ مات سال ہد ئے میں تے ارد کے 
ایک اضرانہ فا رو جنموں نے مفای لی اور مشیر سے متحلق اضہانے کل ےکر غاصی 
جولیت حاص لکری عھی“ مہ کت ہہوپے سنا تھاکہ اگر جاپائی ہندوستان پر مل ہکویں اور 
کک میس بح دہکڑ بد ہو ت3 ارب پر بہار آے- 

خدا شگر خر ےکو شگر دنا ہے جاپانوں کا نہ سی قط کا حملہ ہوا کسی نے چور 
بازار بش چاو ں جک روپ جڈرے “کی نے اقمانے کل ھکر رت چ دنا میں جو 
مہوت ہے عسی ح کسی کے جنلے ہے لئے بی عو مس ان ویاتے میں گڑ کے 
موضوع کو ایا نقزس حاصل ہوا کہ طالب عموں جک نے اپنے جنسی قزیات کے 
با پھوکون سے علق دنا اجرورع کردیا۔ ‏ وو سے ھا نہ ال رخرائے سے پرسو ئا 


١ 


اضمانہ چماہیے سے انکا رکردیا تو وو شقی القلب اور بے رم شحمیرے گا۔ خرض بگا لکی 
معیببوں کے طفقیل ہمارے افسانہ نگارو کو چکتھ دن خاصی آسائی ربی “گھڑر ےگھڑاے 
افنمانے لئ رت وافقاته جزجات حب میا تھے کسی ہز کے سج کاو کی ضزور مت 
بین گی۔ 

پھر ق ا بھہ ہنا پڑا ت جمازیں کی ہڑتال ہوگئی ۔ککمیں شی کے جشن میں بقامہ 
ہوکیا۔ خر ضف می نی رح کارویار چنا رہا۔ اور جب ے۴ ء کے قسادات ہہوے تو 
وا الہ میاں نے بچجھر بپچھاڑ سے دیا۔ جی چچاسے تو الی۔ اضسان۔ کے ورن۔ طز مون 
ہوک ہے۔ انسانو ںکی درندگی پر داحت پیتےٴ ساعرا کی چالاکیوں کا بردہ چاک تج * 
ان جانں سے بجی بھرجاۓ و تہ عورم ںکی بے حرمتی کے کر ےہک ری پیا یچ 
موقع موتقحع سے ہہ بھی دکھاتے ہی کہ اس مصعیت کے ساچھھ ساجھ رم دی اور انمائی 
ہعدردی کے خھوتے بھی نضۓ ہیں پچھ ربھولا سا من ب اکر تب کی کہ ہندو مصلماتو ں کی 
عح لک وکیا بہوکیا کل جک نز بھاتی بھاتی تھے مرح ایک ددسرے کے خون کے پیاے 
کیوں ہوجھے۔ مس خطرو ہے رہ جات ےک کئیں آپ کے اور چانپراری کا الزام نر 
آجاۓ ۔۔ نز وہ بھی اڑی مکل بات نمیں۔ شروع مس اکر بای ہندد مارے گے ہیں تا 
اد 727 ہوتے ہوے اج ملانوں کا حاب تھی پرا ہوجانا چانبے۔ تزاز و کی ۃّل 
دونوں طرف باب رکرتے کے لج تقمور یرابر براب رکردہیچے“۔ رعز ال میں یہ س ےکہ 
آپ انی اضساحیت بس تیک ولیٴ بے تتقصبی اور امن پیندری عایم تکردیں او رک یکو 
بات بری بھی شر گے۔ 

اگ رکوگی دی “ہوا میں تی ہوکی رىی بر جن کی صلاحیت رکتا ہو نے داد ت میں اس 
کو بھی دتی جاہجے۔ آخر اپنے شریفانہ زا تکو منظرعام پر لانا اور اس طرح وو مروں 
کے شریاتہ بزبا تی کو مشتع لکرن بھی تو اناحی تکی ایک غرمت ہے۔ المت شریقانر 
جذیات جس تھوڑی ىیکسریہ ہ ےکم ان کے ذربیے ادس کی خخلیق نہیں ہوگمق۔ میں 
بیہ با ککوگی خیالی اور خی ران الل معیار مات رک ھکر میں مہ رہا ہوں۔ ضماوات 
والا ارب اتنے اور جو شراھا عائ دک رت ہے اخمیں عو خر پرا میں کر فمادات پے 
کھت وانے افسانہ نگار سب سے پل دعویی ن ہکرت ہی ںکہ جم پچ بولییں ے_ گھر 
ساتتھ بی اخمیں سے بھی گظر ہوقی سہ ےک تہ ہتدو ناراض ہوں ےر سان * عق چاپراری 
کے مت ہہ لے جات ہی ںکہ ایک جماعم تکو ووہری جماعت ے تیادہ تضور وار ےہ 


ات 


برای جاہے_ ہے اوپ تم ری اور صعی کو معلعو نکرنا چاہتا ہے گر مکی لم 
کک کی طاقت شی رکتا۔ اس زے داری سے بچنا چاہتا ے.۔ ایب سے جم اس تم 
کے پچ بھوٹ کا مطالبہ خی ںِکرتے جھ جم تارق یا محاشیات یا سیاسیات ک یکتابوں ے 
کرت ہیں۔ ادعب سے 8 مکی نظریے ما تماری دا کے بارے میں پچ پو لے کا ات 
مطالبہ خمیںکرتے بنا اپے بارے میں پچ ہولے کا فسادات پر ککعت والے چاے رتا 
بجھرکے بارے میں پچ بولے ہہوں“ مین اپنے بارے میں تمیں بوسلے۔ ا نکی سب سے 

بڑی کاوشی ہے ہوتی سہ ےک جم اپنے فطری میلاءات اور تحضیات کو چھپاۓے رین 
١‏ عالاکہ اتی زبروست شورش کے زان میں ایے قحضبات کا ابجھ رآنا حیاتا تی ضورت 
' ہے۔ اگر ہہ لوگ اپنے افسانوں میں وات قکوتی اسان محویت پیدا کمن جا ہیں 7 
سب سے لہ اتیں ١‏ انا یِکزدری کا اخترا فکرنا ہہوگا۔ ات انرر جو کچ بجحھوٹ 
۱( ا ہے اس سے تم وج یکرکے سا ادب پیا خی ںکیا جاسلتا۔ المتہ متبول عام 
ارب پیدا ہوسکا ہے ۔کیدکمہ پ ھن وانے بھی نز اپنے آ پک بی مین دلانا اہج ہیں 
کہ مارے شریطاضہ جذیات مرے شنمیں دراصل او پکو اس بات سےکوئی وٹبی تمیں 
ا ہکن نل مکربا ہے ےکون جم ں کرت تفم ہو رپاہے جا قش ×× ا ارب ڑے رکا 
یی لی ععل م بے ہہوتۓ اور نقل سج ہوے' اتماتوں کا غاری اور وائلی زوی گیا ہوا 
ہے۔ جماں کک اوپ کا تعلق سے قلم کا خارتی عمل اور اس کے خاری اوازمات ہے 
معن یں ہیں۔ ہمارے افسانہ ار لم کے صرف محاشری پہل ھکو دیھتے ہیں۔ ‏ الم اور 
۱ مظلو مکی اندروئی زندی سے ظ مک کیا تلق ہے اس سے اممیںکوتی دی جھیں۔ 
مارے اقان ‏ گار گواریں اور بندوقیں تو ممیوں دکھماے ہیں“ کاش ان گواروں اور 
بندوقوں کے یچچ جیتے جاگت باج اور ساحے جتتے جاگتے سن بھی ہوتے سسساتان و 
نمیں کمتاکہ فسادات پر گت والے سرے سے بے خلوس ہیں۔ ان میں ے بعض 
لوگ واقئی تک دل ادر کیک عیت ہیں۔ گر اب مِ عام زندگی والا خلوص کام میں 
دتا۔ ىہ لوگ اس متصد سے اضسائے کلت ہی ںکہ ظم کا خارق عمل وکیا کر لم سے 
خلاف نفرت کے جذیات پیداکرہیں۔ لین جب کک میں کی فل کا اضانی ہیں منظر 
معلوم تہ ہو حض عاری گل کا نظارہ مارے ان رکوئی رے پا؛ ٹوس او رگمری محوےے 
رکے والا ردگل چا مم ںکرکتا۔ جم انسانیں سے نو نفرت اور محی ت کرت ہیں 
آٔ تما لموں اور مظلوموں سے جھیں_ 


نان 


فسادات بر الین وانے افسانہ نگاروں نے لم سے نفرت ولانے کے لے اکٹریے 
طریتہ کار استما ل کیا ےک ظلم ہو ہوا دک ھکر سن والوں کے ولوں میں وہشت 
درا کی جاے۔ گرم سارے واقعات اتے اذہ ہیںٴ لوک اتی آمگموں سے اتا پجھ 
دکیھ جے ہیں ما اہیے قری دوستوںن سے انتا یھ سن بے ہیں کہ صن میں کی 
فرصت اب ان کے او ھکوگی اث بی می ںکرتی۔ اگر آپ نے اپے افسانے مس دو چار 
عورو ں کی بے عمتی یا یچوں کا فنل دکھا دیا تاس سے لوگوں کے اعصاپ پ کو 
روعل ہو می میں ہہ زانہ بی ایا خی ر موی سے علم ہہ کل بے انا صممولی چیز 
ین یئ ہیں۔ غی رمعم وی باتیں اب لوکو ںکو چو اتی بی شییں۔ اس حم ہے نکر ے 
ان کا جس کک بیدار نمی ہوا اخلاقیگصس تو ددرکی چچزڑزے فارات والے اضماتۓے 
ارب میں تھے نے نہ ہوتے م“مگھروہ و انا ابی مقصسدر بھی حیک طرح ادا خی ںک رت 
کی کہ جو باتیں یہ افضساتے می ل کرت ہیں وہ تے اب خبریں بھی جمیں روں۔ 

منٹو نے بھی قاوات کے متلق یہ ککیما ہے لیف یا چو چو اضساتے 
جع کے ہیں۔ وراصل میں نے بوا غلطط فقرہ استما لکیا ہے۔ ہے افضسال فسادات کے 
متحلق میں ہیں بلکہ انساتوں کے پارے میں ہیں۔ منٹو کے اضماتوں میں آپ اشائوں 
کو لف مشلوں میں دیجعتے رہے ہیں۔ انسان بحیفیت طوا نف کے ؟ انان بیقیت تال 
بین کے وغیرہ ان افسانوں میں بھی آپ انسان ہی دیچھییں گے فرق صرف انتا کہ 
یہاں اضا نکو ‏ الم یا مظلو مکی حشیت سے بی لک یاگیا ہے اور ضاوات کے مخصوص 
حالات میں“ سمابجی مقص رکا نے منٹو نے ڑا بھی میں پالا۔ اگر تلقین سے آ دی سرع رجایا 
کمرتے تے مسٹرگاندھی کی جان می کیوں جاتی۔ منٹ وکو اقسانوں کے سابتی اشرات کے 
بارے میں نہ زیادہ غلط خنمیاں ہیں نہ اتموں تے اڑسی ومہ داری اپنے صر ی ہے ھ 
ادب پوری کر بی میں ستا۔ پچ وو نو منو نے لم بر بھی کوتی خاص زور خیں دیا 
انوں نے چند واقعات 3 ضرور ہوتے دکھامے ہیں “گر ےکہییں خمیں ظاہر ہوتے دی اکہ 
ہہ واقعات ىا افعال تفہ احتچھ ہیں یا برے۔ یہ انموں تے تطالموں پر لعنت بجی سے 
نہ مظلوموں پر آنسو بہائۓے ہیں۔ انسوں نے تو ہہ کک فصلہ خی ں کیاکہ نلم لوگ 
برے ہیں یا مظلوم ایج ہیں۔ براشتم ہندوستان کے ے ضارات ای دہ چچڑوں' اور 
صدیی ںکی ارچ سے “صدبیں آھے کے عتعل سے اس بری طرح امھ ہو ہیں 
کہ ان کے مححلق بوں آسانی سے اجتھے برے کا فؾیی خمیں دیا جاسکن کم س ےکم ایک 


م۳ 


متقول او بککو ہے نعب نمی دتاکہ امیے ہوش اڑا ری وانے واتیات ے ملق 
سیائی لوکو ںی سس بے اق کے تل ہکرتنے گے منٹو نے اپنے افسانوں میں دی کیا 
ہے ج ایک اھاندار (بسیاسی محوں مج امماندار تیں بلہ اویب کی جڑےت ے 
ایماندار) اور تق اریپ کو ان حالات مں اور الےے واقعات کے ١ے‏ تھوڑے خرتے 
بعر لص ہو ےکرتا اہن تھا۔ انموں نے کیک وید کے سوال بی کو خارح از (ھھ 
ترار درے ویا ہے ان کا قد نظرر سای ہے“ حہ عرانی نہ اخلاقٴ بگمہ ادلی اور تلق“ 
منونے و صرف ہہ دی ھک یکوش شکی ہ ےٹک خطالم یا مظلوم کی نصیت کے عتقف 
تقاضوں سے خالمانہ خ کا کیا تلق ے٠‏ تل مر ےکی خایشل کے علاوہ الم کے انور 
اود رکو کون سے میلانات کا فیا ہیں' 'نسائی راغ میں فل تی مہ یر ہے زندی 
کیا دو مر دکچپیاں باقی ری ہوں ما شیں۔ مود نے نہ ق رم کے جذیات بھڑکاے یں 
حہ غے کے عہ لفرت کے“ دہ آ پ کو صرف اذانی داغ' اض یِٰکردار اور شخمیت ‏ 
اىلِ اور عفلیقی انداذ س فو رکٹ ےکی دعوت. وے ہیں۔ اکر وہ کرتی جذہ پراکرنے 
کی مر وں ت صرف دی جذیہ جھ ایک فن کا رکو جائز طور پہ پیر اکرنا چاہئے۔ نی 
فندگی کے متعلق بے بایاں خر اور اسججاب۔ ضسادات کے متحاق بی بھی سکیا سے 
اس مس اگ رکوی چیہ انسائی ساد دکھلان ےکی سجن ہے نوہ اضسائے ہیں۔ 

چوکلہ مفھ کے افسانے بی ادلی حلیقات ہیں اس لے ہہ اضسانے ہیں اخداق لور 
پ4 بھی چوٹاتے ہیں ع۔لاکلہ منٹو کا خیادی متصد ہہ خمیں تھاں بلمہ صرف مفلیق۔ خر 
مو عالات مم اگ رکوتی ہیں چوڑنا سحق ہے 2 فی رمول واققات یا اقەال نیں 
کہ پاکل مممول اور روڈمم وک سی جاھں۔ اگ ہکوگی کدی دو سو بچوں اور عورتز ںکو لی 
کرنے کے بعد ا نکی کھوپڑھوں کا جار گے میں بین تا ہے تم کوتی خی محوقع بات 
تین جب تی ای سا مشخظلہ ین چکا ہھ اس مج سںکوئی خو فک بات بھی پاق میں 
رہ جاق۔ لکن جب جم دیھت ہو ںکہ عو ںکورہ گکر ہو رہی ہے کہ غون سے رہل کا 
ژی گرا بنا گا وم ضردر ایک طر عکی بر نی حخمو یکرے وں۔ ا نوں کا 
گی سے لہ جاا دہشت ایت نہیں ہے“ دہشت ق اس خال سے موقی ہے کہ ہی 
لوکوں میں مفائی ادرکند کی خیٹرباق ہے دہ بھی ت یکرت ہیں۔ آخر معوی۔ ت بل 
اور نشار دی سے پیا ہوقی ہے غیرمعمو عالات می خی رصعمولی کی میں انان 
کے ملق زیادہ سے زیادہ ہہ جا عحق ہی کہ حالات انسا نکو جانو کی جح بر نے آتے 


"۳ 


ہیں۔ فان خی رصعموی عالات میں غی رصم ولی حرکسی کرت ہوتے مموی یا ںکی طرف 
وج ہیں انان کے ملق ایک زیاد هھگری اور زیادہ غیادی بات اتی ے۔ وہ ہے کہ 
انان ہروقت اور بیک وقت انسان بھی ہوى ہے اور حیدان بھی_ اس میں خوف کا 
پلو ہے ۓےکہ انسانمیت کے اصاس کے پاوجود انان حیوان بنا کی ۓگوا را کرلتا اور 
تین کا پھلو ہہ ہےککہ وضئی سے وضئی بن جانے کے بعد بھی انسان ابی اضاعیت ے 
چیا میں چھڑا کا منٹھ کے ان افسانوں جم ہہ دوتوں لو موجوو ہیں۔ خوف ”ھی 
اور دلاسا گی ان لیفوں میں اضان ابق بیادی بچاروں حاتوں* ناستوں اور 
پاکڑکیوں سیت نظ رآ ہے۔ مو کے قیقے میں بدا زہر سے “مگ ریہ مہ بمیں تسلی 
بھی بست دلاا ہے۔ خی رصعمولی عالات میں یکنا کہ اسان کی صلی د پچہاں اور 
موی میلاا ت کی کے دیاے نمی دب ھت بی بات ہے مفٹو نے انسا نکو تہ الم 
تلایا سے مہ مظلومٴ لہ بس انتا اشار ہک رکے چپ ہوگیا ہے کہ انسان میں بت ہی 
باتیں باپئل ان مل بے جوڑ ہیں۔ اس خیال سے٠ماوسی‏ بھی بمت پیا ہوتی ہے۔ گر 
ایک طرح سے دی تے انساتی نطرت کا مہ ان مل بے جوث پن ہی تحقی رجاحی تکی یاد 
یی کا ہے۔ اگر انان صرف ایک طرح کا صرف تک یا صرف پر ہوتا تر بدی 
خطرناک نز ہوا۔ انسا نکی طرف سے اکر بتھ امیر برح ہے تڑ صرف اس وچر سے 
کہ انسان کا سی لیک شی اچھا بھی ہوسکتا ہے اور برا بھی ہوسا ے۔ وومرے ہے 
کہ انان اتی اضاحیت کے دائزے خر محبوں ہے۔ نہ تو فرش بن کا ے دہ 
حیطان* دہ کنا ہی خی ر عم و یکیوں نہ جمنا چاہے“ موی زندگی کے تھاتے اسے پچھراتی 
حددد میں میٹ لاتے ہیں۔ روزمر؛ کی معمولی زندگی ای طاقت ور چچ ےک اضان 
اگر بت اچچھا خی ین سلتا نز بہت برا بھی ممییں بن سکما۔ صعممولی زعدگی ا سے تھوک 
یٹ کے سیدھاکری لیی ہے۔ مو کے ان افساتول کا سب سے ہڑا وصف موی 
زندگی کی قوت اور عظلت کا یی اخزاف ے۔ وومرے اشادد ہار ہنردل اور 
مسلراتو ںکو مم ولا دلاکر اشن راہ راعت > لانا چاچے یں۔- ین ان کے اضمائے 
ش مکرنے کے بعد جم بین کے ساجھ می ںککمہ سک کہ ان کا ؛حتیاح کارکر بھی جہوگا یا 
تیں.۔ منو عہ نوک یکو شر ولا ما ہے ع ہس یکو راہ راست پر لان جات ہے۔ وہ تا بوی 
طنزیہ مراہٹ کے سان انسانوں سے ب ےہکتا ہ ےکم تم اکر اہو بھی قے چیک سے بست 
زیادہ دور خی جامگت- ای اعقیار سے من وکو انمائی فطرت ‏ ھکھیں زیادہ بھروسے نظر 


۵ 


آ ہے دوسرے لوگ اتسا نکو ایک اص رک مس د ینا چاتتے ہیں۔ وہ اتا نکو 
تو لکرنے سے لہ شرائ عائ کرت ہیں۔ مفٹ کو اسان ابی شحل بی میں تیول ے> 
خواہ و مکی بھی ہو۔ وہ دککھ چکا کہ انسا نکی انساعیت ال سی حخت جان ےک اس 
کی بریریت بھی اس اضاعی تکوش خی ںکرحتی۔ مفٹ ھک اسی انساضیت پر اعخماد ہے۔ 
ضاوات کے متحلق بش بھی اضمانے کیہ سے ہیں ان میں منٹو کے ہے اضماتے اور 
ال سب ے زیادہ ہولناک اور سب ے تیادہ رجات آمھروں- منٹوکی وہشت اور 
رجاجیت سیای لوگوں یا اضسانیت کے تیک دل ناومول کی وہشت اور رجاحیت نمیں 
ہے بلکہ ایک فنکا رکی دہشت اور رجاحیت۔ اس کا تعلق ب٥ٹ‏ و جحیص یا جھرے 
میں ہے لہ ٹھوس حقلیتق تجربے سے بی منٹو کے ان اقسانوں کا واحد آقیاز ہے- 


لام عباس کے اضماتے 


خلام عیاس نے اس ہی اتیتھہ اضہاتنے ککسعہ ہیں تن اردو ےکی اور اشمان نگار 
تے۔ اکر ان کے اججھے افسانوں کا مقاللہ اردو کے دوسرے اچھے افسانوں سے کیا جائے 
3 لام عیاس کے اضسانے کسی طح بھی بے نی رہیں ہے گر پھربھی اممیں وہ 
ولیت عاصل نہ ہی جس کے وہ سن تھ۔ عام طور یر اضرانے کے لق جو 
حقیری مضاشن کیہ جاتے ہیں ان می عیاس کا ذکر بھونے کہ بی ہو ہے مخمون 
نار ذرا باشریا سجھرے ذدق کا ہوا تق اس نے ان کے متحلق سبکہ کہ ویا؟ و رنہ ؛ غاب گر 
ساجھ می ساجتھ ہہ بھی ورست ہے کہ انقرادی طور سے ان کے دو تن اضہاتے متبول 
بھی ہوے اور مشمور بھی ہوتے۔ لہ آمندی کا ار تق اروو کے مشمور تڑین اقماتوں 
مس ہے۔ اگر آپ ارب سے سجیدہ دبگبی رک والے می آدی سے پوچچیں کہ 
مم ںکو نکون سے اضمانے اب کک پند آسے ہیں ت وہ آمنری کا نام ضرور نے گا 
اس سے تیججہ سہ لصا ےک غلام عیاس مجموی طور سے مقبول خمیں ہیں “مر ان کے 
مض افساتنے بست متبول ہیں اکر ہم اس تاد کی وچہ معلو مکرلیں تو جم لام عیاس 
کے ف نکی خصوصیا تو زیادہ اتبچھی طرح سنہ کییں سے_ 

اردد جس جو اقسانہ نار بحتثیت جموی متبول ہوۓ ہیں۔ اتی ں لی کی چ ڑکا 
سودا ضرور ...ہہ لفظط میں کی برے مم میں استعال تی ںکر را ہوں* 
مرا مطلب ہہ ہ ےکمہ امیس ایک خاص مم کا موضورع نر ہے اضموں نے کاسی کے 
لے ایک خاص علاقہ یا الیک خاص طبقہ انث لیا ہے ۔کوتی ض یا چھتا ہوا اسلوپ 
ان احیا دکیا ہے“ یا ان کے ایک افضسانے کا جمھوی اث یا فضا دوصرے اضسائ ےکی ققا 
سے ماش ہوتی ہے۔ خر قکوتی حہکوئی بات ہوتی ہے جس سے ک وی پھلی نظریں 


ء‌ 


بیان سکتا ہےکہ اضانہ کس کا جج تکرش خر موہ ععمت؟ پیری عتاز مفقٴ 
اک سب >مے ماں الی اخیازی صفات موجود ہیں۔ اس کے برخلاف غلام عیا کو 
کسی پت ہکا سودا میں ہے تہ ےکی خاص موضوع کہ نہکسی اص اسلوب کا کسی 
ماس جزباتی فضاء کا۔ اسی نز سے اشیس نتصان بھی بہجچا سے اور فانندہ تھی بی ان 
ک گکمرددری ہے“ ادر بی ا نکی قروت- 

بات ہی سب ےکہ جب ووسرے لوکوں نے کلعتا رو عکیا نے جو سیاسیٴ محاشی' سای 
اور نقیالّی چچیگیاں بردے یی بردے میں رفا پا ری یں اپ ام ہو گی 
ھیں۔ اب جرصاس فوتوان کے لئے بضاوت یاحکم ےکم ری لای ہوکئی تھی 
ا سکی فقرت اور اس کی محیت کے مرگ من تے۔ اپ وہ اپنا کام صرف کلسن تمیں 
مھا تھا۔ بللہ چند چیزوں کے خلاف اور ددسری چند چیزوں کے جن میں کلم خیا لک 
تھا۔ پرکگصضن والے نے اس وع دائڑے کے اندر اتی نفرت اور محبیت کے لے چند 
چزیں ین کی ھیں۔یمت حد کک ای اجقاب نے اسے ائیک خاص ذر ۔حنہ امار بھی 
وے وا تھا اور مد ہیں بر لو ومرت اور 
انفرادیت پیدراکردی حی۔ ۳۷ء کے قرعب وائے دور جم ایا ہونا جاگزے تھا 

گر قلام عیاس نے اس سے آھ وس سال لہ لکھنا شروع کیا تھا۔ اس وتت 
موسط لبق کا نوجوان اپپنے ماحول سے بڑبی حد کک معن تھا۔ خور ملمان توجران* 
چناجچہ اس زانے کا ارب اتل سے عو خالی ہنا تھا۔ پریم چن دکو چھو ڑکر اگ رکوئی 
چھوٹا موعا متل ہکیں نظ رآ سے نے علیم بیک چچتاتی کے یہاں۔ ورتہ اضانہ لگا ری 
چپ یو ںکو تذ اس دنا سے ماورا مھا جانا تھا چنانچہ لام عیاس نے بھی ابتدا الھرام 
کے افساقوں اور ای نی لکی ددسری چچیزوں سےکی۔ ت اگر ان سے یماں الی نایاں 
اندروقی وحدت شی ملق جھ فو رآ ہماری تج کو جذ بکرلے یا ہہم بر یچھا جاے فز ا سکی 
وہ داری ان کی نشدنما کے زانے > ہے۔ احری فک بات نز ہے ےک ان کا زہتی 
ارنقاء (ان کے اکٹ پیروؤں اور ہم عمرو ں کی رہ وہیں کا ووں یں رک گیا بللہ 
وہ بل ھکر ای نسل والوں سے آسے۔ ان کے اندر پرائی اقتدار سے بج ٹک لے کے وہ 
ہب انداز ہیں جھ دوضرے سے اضسانہ نگاروں میں لے ہیں_ البع وہ بتالیٴ وہ ے 
میری دہ متا بہٹ وہ رت شی ہے جو توعمرباخیوں جس بوقی ہے ورتہ وہ ہے 
لاگ سادگی ادر بھولا پسن ہے جھ الیک دقع ہکو نت مخالف پر بھی قالب کان ہے۔ ووصرے 


۸ 


نہ والوں کا افسانہ نز ایک دع وآں دحار حل ہکرت ہے۔ جس کے رے می خالف 
صورچہ ڑحتا چنا جا.ا ہے۔ اس کے برخلاف غلام عحباس کے انداز میں مصالت کا 
رگ ہت سے جیے اخمیں اپے اوپر پورا اختادتہ ہو یا عخال فکی تیگ تق پر بھروسہ ہو 
کہ وہ تھوڑی ىی ردوکر کے بعد مان ہی جاۓے گا۔ 

ایک خاس زانے میں نشوونما پانے سے لام عیاس پر ہہ اثزات تب ہوۓے 
ہیںٴ چاسے انی ںکونا نت یا پاناٴ البستہ ایک انی ہے سےکھرے مناٹع کے سوا اور 
ضپج کہ تی نیں ھت ٣۳ء‏ میں و لوک اتی جات کے کے لے ای توپ رسے سے 
کہ ان میں انتا صبرتھا می میں جو لہ بات کے کا طریقہ کیھییں۔ اب و چند باتیں 
ای جحیں جو کھجنہ والو ںکو اپنا زر ۔حنہ اعظمار بن اکر ونیا کے ساس آنا چچاہتق شی ں* اور 
ان کے سا سے ادیب اپنے آ پکو بے دوست و پا سو سیک تھا۔ گر ۷۸ء کے قریب 
کوتی نز ظاہرہونے کے لے اڑی بے قرار خیں شی ۔کوکی آدی اس وچہ سے اوعب 
جن تھاکہ وہ ادعب جنا چابتا تھا۔ اویب نے کے لے آ وی اص جم کے باوراتی 
موقصوع استعال میں (اا تھا اور خحاص حم کے اولی الفاظ فقرے ترکیییں۔ جو لوگ 
را مجھ رار تے وہ پاال موضوعات سے چپ نے کے لے ذرا ىی کاوش اور بیان کے 
زریعوں اور اسالیب کا استعال شجھے کے لئ تھوڑی سی حنت بھی موا راک رین سے 
اس رح کے بائحت غلام عیاس تے بھی اپتی زبان اور بیا ن کو سنوارتے کی شور 
کومش شکی او رسب سے مہ چےزریں عاص لکیسں۔ چنانچہ ا نکی زبان ہۓ اضانہ گاروں 
کو و ھت ہوۓ تیر موی طور یر صاف حری* ساوہ اور رواں ے- آلاگوں اور 
امھیٹوں سے پاک۔ جن مطالب کو دہ میا نکرنا جاہجے ہیں ان کے اظمار پر تقادر* اپ 
صلاعتوں سے واقف٠ٴ‏ اتی عدوں کے اندر باللل مین اور ان سے متاوز ہوتے کے 
خیال ےمریزاں۔ یہ خوبیاں جھوئی اعقبار سے سے اقسانہ ننگاروں ‏ سکم باب ہؤں۔- 
ععصت چتتا یکین رکا نے خی کمن یکیا دہ نز یقن اکنا چاہتی ہیں اس سےکمیں زیادہکمہ 
جاتی ہیں ۔ گر ام عیاس کا یہ وصف ‏ ےک وہ ج ھکمنا چا ہیں اسے ہمہ ضرور دی 
ہیںٴ مہ خمیں ہو اک کی ں کو یکسررہ جاۓ اور ہے حن والا تی محو سکرے وہ اپ 
باط سے بوج کر جات کن کی کوشش بھی میں کرت س سے ان کی زبان یا اسلوپ 
سال نہ ے۔ اگر اخمیں کی ہیی یا بارکی کا ان مطور ہوا سے تو وہ پچنلے حیر 
کے اسے مبجھ لینتے ہیں اور پچھرننس حد کک وہ ا نک یرت میں آکّی سے ای عد تک 


اغا 


کن ےک یکونش ش کرت ہیں۔ چتاجچہ ان کے انداز میں ہوا نوازنٴ اعترال اور آرار پا 
وکیا ہے جو بے سی یا جمود ہرگزخمیں ہے 

خلام عیاس کی قوت بیان کا بمترین مظمران:, کا اضانہ آمندی ہے- بلہ یی ںکتا 
چا ےکم زیان و میان ہی نے اسے افسانہ بنایا ہے درنہ ایک پشکد تھا۔ گر جج سے 
یں حسوس وت س ےکہ اظمار کے معالے مس ا نکی احقیاط اب حد سے بح گی 
ہے سیسال سبعال کے قح اشھانا بڑی ضردری یز سہے بللہ نے ادب کے باحول میں ت7 
ایل ستائیشی ہے گر انتا لن بھی اچچھا می ںکہ قرم ہی رکے گے اس مکش میں 
پڑے والے کا زین جیئ ‏ ھکھانے روح کردا ہے۔ اسی وجہ سے آدی اقماتے کی قضا 
جذب ہوتے ہوتے پھ رانک ہوجات ہے یہ نز اضسانےکی اث اگھیزی میں ذرا سی 
ماع ہوتی ے۔ 

یں نت ےکا اک ظلام عیا سکوکسی چم ہکا سودا ہیں ہے اس کی بی وچہ نے 
بھی ہ ےکہ اضسوں نے مہ اضاتنے چق عم رکو پھچ کے کے ہوں۔ جب یجان اور ہنگا 
آرائی کا زانہ شخم ہوچکا تھا ادر زندگی میں ا نکی ایک کہ مین ہوچی تھی_ اس لے 
ان کے افساتوں می بدی عتات اور بط ”گیا ے۔---- عرف انراز بیان دی ضیں 
بللہ مشاہرے میں تقصیلات کے اجاب میں اضضان ےکی تزاش خراش میں۔ اکر ہم 
موی حثیت تہ ان کے افسانوں کی فضا کا تی نکرنا جچابئیں تر اسے ایک می یز 
دی ین کے علادہ اد رکیاکمہ ھت ہیں ہراس رجسے پن کے یچچ دہ تام چزیں بجی 
ہوگی ہیں جھ دوسرے سے افسانہ ننگاروں کے یہاں دحڑژدھڑ جمل اتی ہیں_ جو پاتیں 
ادروں کے یہماں بلا خیز بن کے آتیں دہ یہاں بڑی تری اور ملا ھت کے ساجھ آتی ہیں 
آمندری جھوتد حمام میں ان سب افساتو کی بی یکیقیت ہے۔ خ رگد اعترال پندی 
اور ناژن لام عیاس کے افسانوں کے میان اور خیال دوتول پر عاوی ہے اور بی چچڑ 
ان کے رت ککو سب سے ان گفکرقی ے- 

لام عباس کے متحلق جموی طور ےکوی با ہکا چاہیں تذ سب سے پل نظر 
ا نکی فی خحصوصیا تکی طرف حاقی ہے طالا ہے افسانہ نگاروں میں یہ ایتاز آضی ںکو 
عاصل ہے موصسوع“ خال ىا جنے ےکی وحدت ان کے یہاں جلدی سے میں للق_ 
گر پل ربھی ان کے افسانوں کا میک ددسرے سے مقابل ہکریں تو ایک تہ ضرور رتب 
ببو با ہے۔ غلام عیا کی دی اور حتین و تخت کا مرکز مہ اصاس ہےکہ اضنان کے 


۵۰ 


داغ یس دح وکا کھانےکی بڑی صلاحت ہے علکہ فریب خوروگی سے بقیر اس کی زندگی 
این من جاتی ہے۔ اور وہ ہر مت پ ری نکی لح کا ذہی فریب برقرار رک ے کی 
کوش ش برا ہے ان کے جو سے میں دس افساتے ہیں جن میں سے پاریچ کا موشوع 
وضاختا“ بی ہے۔ اور بی پاچ اضاتے غلام عیاس کے بمترین اضساتے ہیں۔ ان 
اضیافوں م ںکدار یا نقکی نے قریب مس جا ہوتے ہیں ما ”سی قریب کا دہ چک 
ہوا ہے۔ جواری کا یرد اپنے ذہتی قریب کے نے میں ایا مت ہے کہ وہ زلەل 
ہونے کے بعد بھی شی چھ کم "لہ اپنے آ پ کو مور رت اور دومروں کو بھی اہی 
ہے کے دو ایک کھونثٹ پلان ےکی جان نو ڑکوش شِک رن رہتا ہے ۔ہکتہ می پاپ کے 
خوابوںکی ممارت تو ڈھے جاتی ہے “گر بنا یا پ کی قری ہکتتہ فص بکراکے اہپنے لئے 
اعمیت کا ایک نیا قریب ایا رکا ہے۔ 'لمام ہیں" کے ممداروں کے سمارے ڈہٹی 
قریب خاک میں مل جاتے ہیں اور وہ صاف صاف اس کا اعلا نکردیتا چاے ہو ں ”گر 
چھربھی ان فریوں کے بقیراشمیں ابنی زندگی می تاکن نظ رآت ےصق ہے۔ چنانچہ وہ اس 

5 د رت کے اصاس ى یکو اپنے شور سے مان ےکی گر رو ںعکردیجت ویں۔ 
انی زند کی چند بی یتو ںک راس تا پڑ نا ہے اور وہ اپچنے عطالبات میں تم 
گواراکر لیے ہیں جاکہ زندہ رہ گھیں۔ سمججھون کے بیرد نے اخلاقیا تکی دیدار کے یے 
جھانک کے دک لیا سے مر وہ ذرا لی کا آدی ہے۔ ول نہ میں ہو]۔ اپ 
سے عم سے نادہ اٹھا نا ہے۔ مگ رکو نکر ےکہ ا سکی عقلیت بندی بھی ایک 
قریب شی ہے ؟ دہ تا ہےکہ میں نے اخلاقی اتار سے سجھو کیا ہے۔ گرہے 
گرا دراصل اس تے اپچنے آپ سے کیا ہے اور ایک خی قی رک آزادی مجن کی 
کوش کی ہے آمندی مس ایک فردکیا پاری ماعت نے ابپیے آ پ کو چان بوبج ھکر 
دوک میں لا کیا ہے۔ شر آمندی کی یرادر اس کی آیادی اور روٹق میں ورچہ 
بدرجہ اضافہ انسائی عحات کے قصری تقیرہے۔ آمندی میں جھ خی ابینٹ دوعری ایٹف 
پر ھی جاقی ہے وہ اس قھرکو بلعد تر اور حم ت بناتی ہے۔ کمن یکیا بن رہ ے 
ایک ا قریب بن رہا ہے۔ ای وجہ سے شرکی تی رایک خاص طزرہ محویت افتیار 
کی ہے اور اس کے طول طول جیان ہی جس ساری افسانفیت ہے۔ یوں دیھتے میں 
3 شر نے یکمائی بدے مزے نے سحےکھ با نکی گئی ہے “مر دراصل یہ چتگارہ دی 
ایک دا دا ذہرخند ہے جیسے انمائی ححاقت کے سے سے سے وت عم یا کرتے میں 


۵۱ 


مصن کو لطف ۲ رہا ہو 

سے غلام عیاس کے افساتوں کا مرلڑی اور جیاری جا ۔ہ۔ےہ-۔۔۔۔۔۔ اضان 
کی قرب خوروی اور ماقت- ہے اصاس بڑے انروہ والم یا رید کلیست کا موجب بی 
کا ہے۔ گر غلام عباس کے سا ایا تمیں ہوا۔ بیہاں بھی ان کے مزا ج کی اعترال 
پندی آڑے آگی۔ وہ اس قرب خوردگی اور ححاقت پر نہ رج کا انظما رکرتے ہیں- 
نر خم و غسے کا ہا ملیسا عہ طماحیت کا اشمیں انسا نکی اس جیاد یکیغیت پ ریہ تاسف 
بھی ہو ہے “مھ ڈسی بھی آتی ہے“ بھھ رت بھی ہدتی ہے ۔گرنی ایملہ وہ شش و 
مس پٹ جاتے ہی ںکہ آخری فیصل ہکیاکریں۔ چتانچہ و ہکوئی آفری قصلہ خی ںکرے_ 
بلمہ ایک بح ہم کلہ ھت ہیں۔ ان کا آخری قعصلہ ہے ہے کہ جب انان ژندگ 
مسلسل قریب ہے ہی فو پھر قرییو ںکو قو لکرتے کے سوا اد ریا حچار؟ کار ہے ام میں 
سے تو صاف تتجہ ىیی تب ہہو ںا ہ ےکہ انا نکو زندہ رہنا ہے فریوں ے چھکارا 
کن نہیں چنانچہ لام عیاس کے افسانوں کا آخری پاش تتلیم و رضا کا ہےٴ ان کے 
افمانو ںکی ب ہکیقیت اور بھی نمایاں ہوجاۓےگی اگر جم ان کا متقايلہ منٹو کے اضماتے تا 
حقانون سےکرہیں۔ منٹھ نے بھی انسا نکی ذہتی قریب خوردگی کا نتشہ دکھایا سے “کل عنٹو 
کا افسانہ پڑ ھکر یا قذ انسان کی ذہنی بے چارگی پر نی جٹ ہوقی ے یا لت کا 
اصاس پدا ہوا ہے۔ خلام عیاس کا افسانہ پڑ کر آدی زندگی کی شرائا ے جھوید 
کر ےکو راضی ہوجا] ے۔ 

صسرعال اس سے چح پا ےک جم وی حقثیت سے ام خباس کے افمانے ایک 
ھرکزی دصدت سے ا لیے خالی خی ہیں جیسے وحن والو ںکو معلوم ہوتے ہویں* الین ہے 
دعدت ڈرا دے مش پاتھھ آکقی ہے۔ جماں غام عیاس کا ایک منذرد لب و لہ ٴ ایک منذو 
انداز بیان اور ایک تد و ضعی ااس ہے۔ وہاں ان کے ااسا تکی بھی ایک عاورہ 
سصت ہے۔ صرف فی اعبار سے جیں' بلنہ مجن وی حیفیت سے بھی وہ ایک اآقاریت 
اور ایک متخل شخنصیت رھت ہیں جس کی سم اضساندی ادب میں ایک متاز گل 
ہے۔ 

اب چوکمہ ا نک یکتاب شائع ہو گی ہے۔ اس لئ ان پر جھوی حثثیت ے ور 
و کگ رکیا جاسکتا ہے اور ہے ادب مج ا نکی عیدہ بورے اتصاف کے ساتہ عقرری 
جاحکق ہے ۔۔ اور ا نکی مہ یقتا کسی اور افسانہ ہار سےگمٹ کے میں ہوگی_ 


آ۵ 


مراور تی غزل ٭* 


ىہ بات اب داش ہوقی جا ردی ہےےکہ جمادری خزل پر غالب کے بجاۓ ھی ررے 
اثزات بڑھ رہے ہیں۔ ا سکی وجہ ضس تتوع بندی شی ہے۔ اب ہمارے خمز لو 
خی زی اور روعانی ضردرتیں حسو س کر رسے ہیں جو غال بکی شاعری سے بوری خیں 
ہوتیں۔ اب ان کے سان ایے لے ہیں جمیں مرتے زیادہ شثرت سے مو سکیا 
تھا اور ایک ایا مزاج چید اکر نے یکوسش شکی تی جو زندی سے ہم چچگی اعم رت 
میں رد درے ےے۔ ہی لہ صرف ہمارے تی خشاعروں اور ادیوں کے ساتے میں“ لہ 
دی دنا کا ارب تح کل اسی مکش میں جا ہے۔ اس اعقبار سے میرغااب سے 
زیادہ چدیدرسے اور ۓ نقاضول ے زیادہ ہم آہیگ ے۔ 

ابی دنا سے ےکن ننارے نفادون تئے ال پک دع رکون کا شروخغ یا 
غال بکی جدیدعت کا اصاس شایر سب سے پیلطہ عپرال رجٹن بنور یکو ہوا تھا۔ وہ اس 
لے ےکہ موجہ ؛قدار سے بے اعحیطائی کا جو عل بورپ میں اٹھارویں دی کے ٢تری‏ 
ضے میں شرورع ہوا تھا“ وہ ہمارے میہاں اٹیسویں صدی کے آخر میں خرورع ہوا اور 
اسے شمعوری شل ایا رکرت کرت مس یں صدی کے بھی دس میں سا لمگژر جمئج۔ 
پر اگگریزی تنلیعم پاتے والیں نے روباتی شاعروں کا تھوڑا بست مطالع کیا ن اوگگم کو 
لح ا با ہواٴ اور سا کی اقزار ے ا ٹزاف زین اور صاس او کا اتیازی نثان 
قرار چایا۔ واشتی اس وقت بی حدیدیت می اور ایک حز کک آحج کل بھی ہے گمرے 
جدیدعت ایک لہ قائم میں رہ عمق تی اسے کسی نمی طرف چلنا ضردر تھا- 
چنانچہ اکر شاعری کے لے جدیدی تکوتی لازی صفقت سے ت ہم الب اور عیر سے 


۲ه 


درمیان اس وقت ت ککوگی معقول فیصلہ خی کرت جب کک جم لور پکی جریوےت 
کے انراز رقآر ے واقک ےٍ ہوںے 
اس جدیدیت کا آغاز“ موجہ اقرار سے ا تزاف تھا اکر اس ذونی کو مق طور پر 
مشررنما بات ہا جاتے ل9 اس کا لاڑی تتجی ىہ ےکلہ تہب“ اخل قات؟ محاشیات“ 
سیاسیات پلراس کے بعد موجہ علوم مہ ک کک بڑی سے بدی اور چچھوئی سے چھوٹی 
قذ رکو غللط اور ناکارہ حا کیا جا ع کسی چچ کو غلط یا تاکارہ کت کے لئے لازی سے 
کہ آپ کے پاس بیطہ کے ل ےکوی معیار بھی ہو ایک معیار نہ ہوسکتا ہے کہ آپ 
موجہ اتذار میں سے چچت رو تصلی مکرلیں اور ا سو پ مس کس کے یاتی تام اقذار 
ک ھکھوٹا حابم کر ہیں گر اس طرح کل اخراف خحک ن حم ہوگا۔ اس لے بریرمت 
کا سپ سے بدا معار ڈاٹی پر یا ارات تار پایا- جپ چدیر اع ہر قاری اصول 
کو ر کرک لئی کے لئے یس الیک چچز ياق رہگئی۔.۔۔۔۔۔ ابی مخصیت اب شاعر 
اس طرف موجہ ہواٴ اور اس نے اتی شخصی کو جا بوٹ ٰکرنا شرو عکرویاں یت 
یہاں تک کپ یک اندروقی عرکزیت و شخم ہوی گئی حی۔ خیالات اور جذبا ت کو بھی 
قریب مبج ھکر چھو ڑا جاسکتا تھا “مر لوگ اپنے اعصالی ارتاشا ت کو بھی موک بعد 
گے۔ مقر طور سے جدیدیت کا عمل مہ وا ہے او رکئی محنوں میں اب بھی جاری ہے 
توزت ہپ ننافننے یں عون ایب خودی سے یع اک آپ کی سید وت کے 
ددچار ہوجانیں ‏ ایک نیا عق در شروع ہوجا.ا ہے درتہ پچ رخاموشی کے علاوہ اور 
کوئی راستن شمیں۔ فلقہ زغست والوں کے یہا ں کوکی ای بات شی جو وو لیر پالا 
رے ما راں ہو کے یماں لہ سے موجور عہ نہو۔ ہہ لوگ 3 صرف تخعیدات پیٹ یکر 
رےِ یؤں۔ ٠‏ 
گگرجدیدیت نے پرچیکی اٹ یکردسیے کے بعد ایک اور پانالکھیا ہے۔ قن ککار نے 

اپے آپ ک ککوکھلا رینے کے بعد یہ مھ اکہ اب جرچیزشم ہوگئ یر دیکھا ے معلوم 
ہو اکہ ائھی ووسرے لوگ باقی ہیں جنمیں مٹانا آسان نمیں۔ چنانچہ فنکار اتی روعائی 
دو دکی انتا پک کے پھراشیا تکی طرف مائل ہوکیا ہے۔ ہہ دو طرفہ مل آپ 
۱ ارک پردست اور جوکس کے یہاں دک ھت ہیں۔ خی عمل ٹوس مان کے یہاں 
| شاید اتی ابی طرحع یش ن ہکیاگیا ہومگر ققیری عھ ل کی تخعیلات ان کے مال زیادہ 
: یں۔ 


۲ه 


اس مارے عمل اور روگ ل کی یہ میں بیادی ماش ہہ ہ ےکہ شی کار اور 
دوضرے اتسانوں می ںکیا رش ہو- انصافٴ صدراقت اور صن کے ا ٰ ین معیارول 
کے مطابلق اتی روعائی زندگی کو ڑحال نے کے بعد بھی آ دی دوسرے آومیور کے 
ساتہ ملک حون ققلب کے ساجھ رہ سا سے یا خمیں ؟ اب کک اس سوال کا : راپ 
اریپ اور شاخریے وسۓ رے و ںکہ یں تر خر ین تی کاروں ے وریاق تکیا 
ہے کہ ایک نز اتصاف صداقت اور صن سے بھی بڑی ہے سىصصجہ خاف 
مھ اکر آری حیات محضس قو لکرلیتا ہے ت ددسروں کے سام اشتا کک یکم س ےکم 
ایک وجہ تق قل آتی ہے“ بلہ اییا اشنزاک حاحاتی طور پر از ٭وجاتا ے۔ زندگ کی 
اس قوت کا اضاس فن کاروں کے اس سے اثیات کا صبجب ہوا ہے- 
یی بھی روعانی مکش کا انس بی ہ ےم اع رین زنر کو عام تین زندگی 
سے ہم آبک جنایا جاے۔ اس ا لی ترین زندگی کا نام ان کے یہاں شی ہے۔ وہ 
عحش یکو وا کے معمولات سے الک یں رکھنا جات بکلہ ان یس سو دیتا چا ہیں۔ 
ا نکی کوشش بقزل فراق صاحب ہے ری سےکہ مادعت ممں تھوڑی ی روعاثیت اور 
روعانیت میں تھوڑی ىی مات پدا کی جاتے۔ (ئجب بات سہے کم قرائش کے 
سور علسٹ اپنے بارے میں باپئل بی با تکماکرتے تے)۔ می رکا عاشق زندگی کے 
کیگگڑوں اضانی رشتوں ہے اثرات اتی طبیعت پر لے ہوتے محبو بکی طرف مال ہوتا 
سے 
ماب اورتے پ مل کا جا 
گے الت. ساجے سا جڑایا سے 


بیماں جو لہ بھولا بین ہے دہ خالی رز بیا نکی بدوات خی ے؛ بلہ عام انسائوں 

کی زندگی میس شرکم تہکرتے سے عاصل ہوا ہے 
گھراس کے صعمی میہ نی ہی ںکہ میرک بھی عمائی کا اصاس ہوا بی تمیں “یا اٹموں 
نے ووصرے انانوں کے ملق احقانہ خوش می میں عم رکاٹ دی اگر ظاہری طور 
سے یت و ال بکی زندگی می بدی مل بل شی“ اور اشیں اپنے زہاتے کے اس 
تین انان ں کی دوس مد رتی۔ اس کے بمخلاف ھ رکا اتد اور ان کا عزاج اس 
معالے میں ساز گار حایت یں ہوا اخمیں خوب ہجریہ تھاکمہ جس آد یکی زندگی میں 
اعلی تین محفیت پا ہونے کے انداز موجود ہوتے ہیں اس کے سا ھدکیاگزرقی ہے۔ 


۵ھ 


بیانہ وضع برسوں اس شر میں را ہیں بھاگا ہوں دور سب سے میں کس کا آا ہوں 
نی جاں ٹیڑعی خی بت ری جج خر ھا سے ہیں کم مموتے 
گمر ویک ؟ ظکابی تکرتے ہوئے بھی عیر اختزا فک رگ کہ آدبی خود بی روکھا پیا 
بھ تو پچارے دنا والے بج کیا کریں۔ بس رصورت اضسوں نے اس اصا کو اپ اوھ 
غالب میں آنے دیاکہ مم ںکولی تادر الوجود جستی ہوںٴ اور جھے مج ےک یکوی اہلیت تی 
میں درتا۔ یہ انداز کر ال بک رگ و پنے میں ب سگیا ہے موسن یہاں مک ؟ تے 
ژں۔ 
بے پیر وشت و باد سے کے گا یىی 
اور اس خراب گھمیں کہ ویاں تمیں رہا 
اس کے بی مع ہوتے ہی کہ وہ عش قکی سرسق ن ماق میں ری یا کم ہوگئی* 
چاو دنا کی رٹگا رگی سے می دل بسلا لی * مر می ر کے یماں عاشؾ اور وتیا والوں کے 
درمیان اڑسی زیددست شج عائل خی ہے ان کے کا مکی دنا ھ دوصرے لوگ 
عاشق سے بے بایاں ہعدددی رھت ہیں۔ ا کی زندگی جس محوی تکی عائل سے اس 
کا ااتزا مکرتے ہیں “کو خود اس کی تحطی کن ےکی ہمت میں رجھت گر اس کا ورجہ 
نے ہیں۔ 
بی این 9 بے کہ لت 'آزا" می رج 
جن خدا می جائے وہ گمں ہو یا نہ ہو 
ىیہ جھ لوگ مر سے سے کے مفتاق ہیں نو اس لئے می ںکہ چلو بھی زرا نراق 
اڈائمیں ے یا الو ہتائیں گے ہہ لوگ و اس انداذ سے می رکا وک رکرتے ہیں جیے اس 
کی صعحیت سے فیس حاص لکرن چاجے نہوں حر ساتہ ہی ساحقہ انیس حرت اس بات پ 
ہ ےکہ غیرجیے لوگ چچھھ جیب سےکیوں ہوجاتے ہیں اور اس بات پ خود می رکب" 
رت ہے مہ مین وقت تو اغسوس بنا ہے کہ می وومروں ے تل ف کیوں ہوں* 
صرعال می ری خصیت دوسروں پر اش انداز ہوقی ہےٴ اور دوسرے بھی اس حتصیت 
کے اسرا رو یی کی بھ رید رکو شش کرت ہیں 


ات 


یر صاحب وو ۰ سب کو 
کیل وے تتخریف یہاں بھی لاے سے 
اسی طرح عیبر کے یہاں چارہمگر بھی حتب صفت میں ہوتے- وہ رک روعائی 

بیز تکو ھت ہیں اسے صش قکی راہ سے باز بھی خی رکا ات کیوکلہ وہ ا ے 
اعلی تزین زندگی کا مظم ران ہیں گر می رکی مطعلیفیں نی دیکھی جاتیںٴ اس لئے اس 
طرح حففقت سے سبجھاتے ہیں جیسے کی ماں یا بڑی بسن سمجھاتی ہے وہ اس انراز 
سے تحت ہرتے میں جیسے خود بھی ان حجزیات سے واتتف ہوں یا یر کے ساجھ خود 
ان کا تھی رل دکھ رہا ہو۔ 
خعف بے سے مر عممیں جہن انی کی میں صیرکر دہ اوربھی صاحب طاقت بجی من "نے 
مت چا رو 
را عال امن کی گی میں سے پیر ج اھ جائتیں ران سے 3 چنا کریں 
بے تراری جھ کوتی ریکے ہے سح کت ہے -سمبججھہ ت سے حیرکہ اک رم جج آزام نمیں 
تو آاز بج 7 ضر جہ نے عم طان آم. ے لا یں 
مامت خی“ رگف فشلن“ رن زار سر ت یئم ہیں مہب عال جنگیا 

م کو رد مل ہے تم زرو یں ہو ایے 

یا ری من کے چاری مکی ے 

رات آپے یق کیں ة چا ہے ہے 

اتا می میرے بیارے کوگی کڑھا آکرے ہے 

اگر ووسرے لو فکمیں حقیدی روش اخقیا رکرتے ہیں وہ بھی اس نل ۓکہ یر 

نے انسائی تعلقات جم ں کک یکمدی' یا انا نکی باط سے بد ھکر دکھ برداش تکرتے کی 
وش قش کی 


4 


اور جب ممحھتوں کا عیر ‏ رکوتی ان میں ہو تپ ربھی لوکیں کے بے میں جم 
میں آقی مہ انی کی کو اعمیتان ہوا ہےکہ میرکی زی جس رح کل ہوسحق 
تھی اس کا قریینہ تل آیا 

آتے تھی جواں سے جیاں ری خنے اواسں 

آخ مھ یر اس کی گی ی الم" جا رے 


اکر می ری موت دوسروں کے لئ عیر تکی چترحق ہے و اس طرح می ںکہ اچھا 
ہوا اسی عقائل تھا ینہ اس وجہ سےکہ اڑی تعیفیں اٹھاتا عام آدی کے مکی بات 
سن 

خ ہس ا ا ہو بی تو ×و 
يہ ہبہ یق یج وی میں وق 

جھ کک کہ عے رگا اس عاشق نے عال: کیا 

نظرمیرن ےکیسی صرت سےکی بست روے ہم اس کی رخصت کے بعر 

رض مر کے حشق کے لے رتیا مں* اور وتیا والوں کے ورمیان لہ موجور ہے۔ 
مر کے لئے صشق عام انسائی تقحلقات سے ال کفکوکی نزیس ہے کہ اممیںکی اطیف 
اور ری ہوگی شل ہے چناجچہ جب وہ محبوب سے وجہ کے طالب ہہوتے ہیں تاس 
گی نین کک ان کے جذیات مشں اوردول سے زیادہ ششدرت اد رگرالی سے “یا وہ نچ کے 
زیادہ تن ہیں یکمہ انسائی تعاقات سے رت ے 
تم وتوہ ہویۓ دکھ کے بچھ کینہر اتی پ بھی میں سے خو بکوئی یا تکرد 
بس یں ہے بے لق گج جو کے رخ بل جا کی 
وج گی میں موم تم جماں کے ہو وانں کے جم بھی ہیں 
آج گل عتظزار ہیں مکی نف پا لے پار ین مم می 
کرت امدادہ کرتے اہ سم جم سے تہ بھی چا کر لد 

یس اکہ اس آخزری شعر سے ظا ہر ہے ا نکی شوہ خثایت بھی انیں عام اضائی 
تخلقا تکی شراز طکو نظ ر رت ہوئے ہہوتی ہے عاشن کے تقا سے میں ہوتے۔ 

کی ضامی ال کیں یں تے لک قا اق ہیں 

یں یھ ئیاں“ کک آرااں بک میں مبلا ہوا کہ تی سب یائاں میں 


۵۸ 

مت کر دحیب جج یر نے حم ہیں جیا ین کا ٢س‏ عرنیسش کے کوئی بھی ڈوک د تھا 
خر اعلی تین زندگی اور عامیانہ تین زندگی می جو شیج سے میرنے اتی شاعری 

میں اسے پامے ک یکو ش کی ہے ان کے یہاں نہ نو عام آدبی اتا بے حس ‏ ےکم 
عاشق سے وشنی یا مغائزت برتے مہ عاشقی اتا جہ جن اور عال مست ہ ےک مم یکو 
خاطرحی میں نہ لائے۔۔ ان کے یہاں عام آوبی اور عاشن الک الک حلرق میں یں* 
زی عام آ دی کی مخ سے آہستھ آہست بلنر ہ وکر لطاقت“ عومیتٴ شرت ؛گرائی 
او رگیرا یکی اس سض تک ہق ہے جس سے عاشق مراد ہے“ ایک دم سے چھلانک 
نی مارگی۔ ان دوتو ںکیغیتوں کے درمیان خلا خی ہے ایک زی سہے اعلی تی 
کیج بر نہ کے یل غالب کے نزذدیک انساقی تعلققا تکو تر کک نا ضروری ہے- یر 
کے تزذیک ان تعلقا کو چھوڑنا ذ انگ رہ ا لی تین سح بر کے کے بعد بی ان 
سے بے جیازخیں رہا جاسککا۔ عیر کے عشق می بست سا درو“ نر ی “گلاوثٹ* بع ہگری 
انی انان تعلعات کے طضیل آتی ہے۔ غالب عاش نکی زندگی اور غام ژندگ یکو اس 


شل ھن سے سے 
طات ‏ کات جلرہ پیداکر تیں مق 

ین ان سے گے ان دونوں میں تضاد اور تقائل کا علاق تھا۔ عیبر کے تزویک اطاقت 
ودراص لککثاوت بیکی کعری ہوگی شل ہے ہے کعثافت اگر لطافنت کے جم میں خون عہ 
پہنچاقی رسہے تو اطافت سرتعا کے رہ گئے۔ 

بروست اور جوگاس کے سان بھی شھروع میں لطیف وکیف کا بی تاد تھاگگر 
آخرمیں وہ اس تشیجہ پر یچچ کہ لطافت خود انی ذات کک ححدود ہوکر زندہ خیں رہ تق 
کم ےکم تقلیقی قویت نی من کحق.._.۔۔ اسعزا پالننض میں بچن کر رہ جاتی سے 
( ہہ الزام لارٹںس نے ان ووتوں ی نایا تھا“ گر اس تے پروست اور جو کی ری 
حیق تکو نیں سمچھا ) چناتچہ ہہ دوتو ںکناہن تکو “تق عام انسانی تتعلققا تکو قجو لک لین 
ہیں۔ ہے جدیدع تک ازہ 7ہن ضزل ہےے۔ آپ گے یاد ولاتیں ےک جوئں سے پور 
سار 7 آ سے جس کا قول ےکمہ جضم کے مم ہیں دوصرے لوک گر ایک بات ت ہے 
ہ ےکہ نف یکی دوھکون کی مضزل ہے جماں پروست اور جوشس تہ پچتچ ہوں اور سار 7 کچ 
سے ہوں۔ وہ دوتوں فی کے سارے حدارج سح ةکرتے کے بعد اشیات پر جا یی ”ےا 
ان دوتو ںکو چھوڑ ہے قراتمی سور مطٹو ں کی ساری کاوش نیادی طور سے اشاقی تی 


۵۹ 


تھی۔ ددسری جات ہہ ہے کہ سار تز نے صاف لفطوں میں اعتزا فکیا ہے کہ میں ت 
افال ی داغ سے صرف ا نگوشوں کی سیاحت من محروف ہوں جو اتحطاط پڑے باحول 
میں نمایاں ہدجاتے ہیں۔ چنانچہ اتموں تے اس روعائی نیل کے علاوہ اوپ کا ہے 
قرض بھی ایا ےکلہ وہ عابقی سال میں جن کی حابم تہکرے۔ آزاد تن اور ؤمہ 
دار تین اورپ والے مقظرییے کے بی مصعق ہیں۔ چتاجچہ انسوں تے ىہ ت مان لیا ےکہ 
اد بکو محاشیاقی ادر سیاسی مساکل سے دئبی ہوتے جاہےٴ ابھی ہہ ضرورت حموں 
شی ںک یہ ادی ب کی روعائی کاوش اور زندگی کے یٹ اور ابتطرائی مطالیات میں بھی 
جم آپگی دن جاہے۔ روست اور جو نے اس جم نگ یىی ضرورت کا امتزا فکیا 
ہے۔ میرتے یہ ہم آپنگی پیر اکر کے دکھاتی ہے۔ اس کا مطلب مہ خمی ںکہ میں مرکو 
ان روٹوں سے بدہاۓ دے رہا ہوں۔ جن روعائثی معرکوں سے یہ دوڈو ںگمزرے ہیں“ 
اگر می کو ان سے وو چار ہونا پت ۓے معلو مکیا صورت عال پا ہوقی- ہے روٹوں اگر 
اشا کی ضزل می کک بے تق بڑی بات ہے میں ت صرف ایک اعرداقح یا نکر 
رہا ہو ںکہ میر ہے یہاں مہ بھم ہی اور فازن تخل طور سے موجوو سے_ 

چنانچہ مر کے یہماں جدیید تین جدیدیت کے عناصرطااب سے زیادہ لے ہیں_ اور 
۹ء وا کے لے می رکی حاعر یکمیس زیادہ صمق خیزہے اسی لے سے خمز لیگووں 
:کی بحم تکو عبر سے ایک غطری علاق ہے“ اور عیر کے ااثڑات روز بروڑ بوحت چا 
رسے ہیں عالاککہ عیبر کے متخلق ببمت ب یکم کل عا گیا ے- مال کم ککہ قرای صاحب 
نے بھی ابھی مج ککوکی تخیلی منمون می رکے بارے میں جمیں کلما- 

ودراصل عیبر ہے یہاں خزل کے مع وہ ہیں ہی خمیں جو فاری میں ہیں۔ ای لے 
جھ لوگ خاری شاعری کے زیادہگرویدہ ہوجاتے ہیں وہ می ر سے جم آ نک میں ہوکتا_ 
سوا عرزا یگاتہ کے میرے خیال میں تو اب میں اردو مز لکو عحضل فاری خوزل کا 
نیہ یھ ےکی عادت تر کک دی جاچے۔ جس اکہ میں نے لہ بھی کا تھا“ ےت 
اص رکانل یىی زبان سے ہہ سوال س نکر بدا انان ہہوالکہ صاحب“ نز ل کیا چزہوقی 
ے؟ 

جع جوکس نے شاعر یکی اعناف کے متحلق چد خیالات می کے ہیں۔ تی چابتا 
ہ ےکلہ ا ن کو ساتے رک ھکر اردو خمزل کی حقیقت مبکھن کی کوسشل کی جاے شی“ 
صاحب“یار زندہ مت ياق ! 


صبراور یل م٭ 

ابی دو ایک مین ہو میں نے وک رکیا خھاکہ جمچلہ دو جن سال کے عرصہ شں 
غمزل ےکی فیس تہکمیں زیادہ معبول ہوکئی ہے۔ من چکمہ ہمارے شاعرو ںکی ذتتی 
عادقوں می ںکوگی بخیادی بد لی خی واقع ہوگی نہ ان کے قثیات میں وسحت او رگرالی 
پدا موی ے اس لے ادٹی قرر وقمت کے لحاط سے بشٹرجی خرزلوں اور آزار تموں 
می ںکوی فرق میں ہے۔ مرکا تح بھی ح۴ ای طرح ہوا ہ ےکہ جن حناص ریہ میرکی 
ححق عو جم سے ؛ضیں نر اندا نکر کے صرف ای بای نک ہیں جھ ابی 
محیت اور اپتی زہٹی ضرورتوں سے مناسبیت رکھتی ہوں۔ نجنی اس زانے میں میرتنے 
سے ا دہ سے تہ وا سپ یھ 
ذق مکی آنن حھفی تک انف جیپ ای اق ے۔ بک ناف الات کے 
دوران میں لوگوں کو اےیے بہولناک تجریات یش آے ہی ںہ اب ان میں سوپت کا 
سے میں ری اس کے جا جذیا تکو بروئے کار آنے کا زیادہ موقح طا ے۔ ا 
وچ سے شاعرغالب آؤر اقال کی بے ڑی کر میں یک“ کیوککہ اسن ہیں آظھ رکی 
ضرورت بڑتی سے اس کے بجائۓ میرک تی رککرتے میں ننس میں سویتت سے لقراور 
خالی حسو سکرنے جی سے امم تچل جات ہے اس ولیل کا مطلب ىہ ہوتا ہ ےةکہ میرک 
شاعری ففلر سے حنصرسے خالی ہے “یا مم رسوج میں سیت تے محسو س کرت کے 'یا مر 
کے شاعراتہ قجزیات ین خی گار سے وازہ سد ات کو وف جب اپ سوا نے نے ۴ز ہز 
کی شاعری کا ىہ تسورکس حر کک حححیقت پر می ہے۔ اور اس سے بھی اہم سوال ہے 
ہ ےکہ اس ولیل میں جس تم کے شاع رکا علیہ بی لکیاگیا ے ”کیا ایما شاعراتتا پڑا ہو 
بھی سکسا ہے سسمہ اس کے بعد آتنے والا اردو شاعراس کے سا حے اپے ج زکا اتراف 


ھ 


کرے اور غالب جییسا گلری شاع یں بول جائے۔ اگر می رصرف جزیات کا شاع تھا ت 
الب جیسے شاع کو یصے معلوم تھاکمہ اردد شاعری میں نے عناص رکا اضاق کر رہا ہوں اور 
سے ایق برزی کا شریر اصاس تھا“ جمرے اپنا عقایلہ اور موازن ہکرتے کی ال یکیا 
ضرورت یل "لی ؟ 

جیسا میں لہ بھی ککمہ کا ہیں می رکے میہاں دد رگ سے ہؤں۔ می رچزیات کا 
شاعربھی ہے اسے چھوٹے موٹے تجزیا تکو ایے مین طرییقہ سے بی ںکرنا بھی ہآ 
ہ ےک اس محالے میں بھی دوسرے اع رآساتی سے اس کا متقایلہ ضیی ںبرت- ان 
اس کے علاوہ مر کے اندر ایک اڑی زبروست صلاحت جھی ج کی دوصرے اروو شاعم 
جس حماتی بھی میں تی ھی رکے راغ میں اتی طاقت مت یکہ صرف عشق کے حجریات 
ما جذماگی تحزیات خی صرف شاعرامہ قزیات بھی تی بللہ زندگی کے بت سے 
چموئے بوے اور لف توعیت رتے وا لے تثیات پر ایک ساتھ تو رکرگے اور ان 
س بکو اکر ایک عظیم جز ت جرب ےکی شکل رے کے روزانہ زعد کی وہ جخیقیں جو عام 
شاعریں سے یہاں شاعراد تزیا تکوش مکردیق ہیں ادر ای لئے عام شاعران سے پ کر 
شع یکرتے ہیں ما چھراشمیں ققو ل کر لیے ہیں قز ان می اطیف تر جات کی صلاحیت 
میں رہق عیران جتجیقتوں سے ستزانا نے ایک رہام“ خوو آگے بو ھکر ان کا متقابل کرے 
ہیں۔ ا نکی شاعری ان خر شاعراشہ قگریات سے الک رہ کر چدا خی ہوتی“ لہ ے 
گزیات اس کا ای جن مین “اور اعٴمیں سے خی کی شاخ یکو قو رت“ عخزت اور جن ےگیرق 
عاصل بوگی ہے یہاں چم زندگی کے صرف چعد قیات (تصوضا لطیف شقزیات) ے 
دد ار خی ہوے“ ای سرپ سی سار را اور اسچڈ مارے 
تجوع اور تتضار؟ رفعتوں اور پپستیوں “قوتوں اور مجبوربیں سیت آظر مح کو شاعری میں 
حون بھی بڑی کل بات ہے ۔گز ار اور اع ری دوفو ں کو قتاکرتے وا لے جیا تکو 
بھی شاعری میں حجیدی لکردینا اڑسی زس جو روڑ روز ظبور میں تمیں آقی۔ 

ول ت بی ابی تکرتا دشوار ےکلہ می رکی شاعری تر کے ضر سے پالنل ہی 
عاری ہے کن کہ حالص ابعد الہ تی اور عطلق مر می کے اس کا ہوٴ اور 
اس عم کا کہ جربدے شاعم زکے لے لاوی بھی ہیں مجن زج لکی تفیون پ غورد 
گل ریا اس ت رکھ اصا کی شکل میں بدلنا ددصری طرف اتی اصاسات کے محلق 
معروضی طرییقے سے سوچنا ‏ پچھ راس متتوع تر اور ا صا سکو ح لک رکے ایک جا تی 


۲ 


تحلیق ریا --۔۔ بی ت می رکی شاعری ہے بللہ می رکی علیم ت شاعرتی میں گر اور 
اضاس کے عناصراس طرح شیرو گر ہو جے ہی ںکم ہہ جانا پالکلل اکن ےک پل ہب 
کا بھاری ہے۔ 

پھر می رکو خالس جزبات کا شاعر ککھنا اس وجہ سے اور بھی مشکھل ےک اپتی 
ٹیم شاعری میں می راپنے ذاتی جذیا تکو دہ اہمیت خی دی جو دوصرے شاعرویۓے 
ہیں ۔ککم ےکم ابی شاعری کے اس ے میں (جھ حض خنانہ شاعری ی یکر نیں رہ 
جا) عبراس خوش عضی میں ملا ہوت می می ںکہ اپنے جیا کو کاسحات کا عرکز بجھ 
ہٹھیں۔ اپے دید تین لمھوں میں بھی ایک عام آد یکی جموی زندگی ا نکی نظروں 
سے اومل میں ہو تی بلکہ ا نکی شاعری کا موصوع دراصل بی لہ س ےکم قرد کے 
زاقی قزیات کا مقام زندگی اور کائحات مج ںکیا ہے ؟ مہ ملہ مایعدالط رات سے نر 
مححلق میں مہ الک جات کہ عیرتے اس متلہ >ے جس انراز سے خو رکیا ے وہ 
خالمس مابعد الطژ تی تفگ رکا انداز نہ ہو۔ نان اگر می کو خالس جباقی شاعرمان بھی لیا 
جائے حب بھی ا نکی شاعر یکی فوعیت بائل ددصری مع مکی رہق ہے۔ جس شاعر کے 
جزیات کا تحلق یراہ راست پوری زندگی سے ہو وہ اس شاعرے عتلف عم کا ہوگاتس 
کے جزبات کا تعلق صرف خود ا سکی زات ے ہو 

حاصل کلامم کہ ہمارے سے خز لگو جس مکی شاع یبر رسے ہیں دہ چاسے 
اتی جو یا جریٴ ا سکی فص داری خود اخیں کے اور ہوثی جچاہئے۔ اتی تردرو ں کی 
تادیگی میں می رکی ند چپ یکرنا۔.۔۔ اور پھر غلط مکی سد کسی طرح بھی سجن 
شییں۔ اس طرح میر کے ساتھ جز بے اتصاقی ہوگی وہ نو ہوگی بی خود حے شاعرو ںکو 
نتسان بے گا “کی کہ وہ اتی شاحر یکی حقیقت یھت دنوں جک میں سہ کھیں سے ! 





عا یک متاجات وہ 


بیوں نو شاعر یکی عرکزی رداعت می کا وحف ہہ ہ ےکس اس شاعری نے خمزل تام 
رنہ کے لے عام زندگی سے نار ہ ھی اخقیا رکرتے یا تمائل عارفانہ بر نک یکوششل 
مم ں کی بلکہ ہماری شاعری کے بت سے جے میں شاعرانہ ہمت اس بات پر صرف 
ہوگی ہہ ےکہ ایک طرف تو خناحی ت کی رو مج روڑعو کی زترگی نظ رانراز ‏ ہوچاۓ* 
دوسری طرف اس زندگی کا شعور خنائی ت کو پالل کچل تہ دے۔ روزم و کی عام زندگی 
کے اصاس کو ساجھھ لے کر ایک ری ہوگی خنعیت خلق کرنے کے سللہ میں 
صرقرست مبری کا ام آتے گا۔ نیشن عام آدیکی عام زندگی کے جن پلو ہوک 
یں ان ے واتیت رکت نے اور اس وقفی تکو شاعرانہ طور سے استعا لکبرت ےکی جی 
صلاحیت عالی مم ملق ہے وڑی عیبر کے علاو وی اور ارد شاعرمیں نظظرخمیں آتی کم 
ےکم ہہ مقمون کت ہو نے تچ کسی ایمے شاع رکا تام یاد خمیس آ را بے اس باب مس 
عالی پر فویت دی جاگے۔ ایک نظیراکبر آیادی کا نام ضرور اس من ہیں یا جاکتا 


ہے۔ 

من نظیرنے رندی و سرمت یکو ایک پیش بنالیا تھا ا نکو زندگی کے ہ رمظرے 
لف لیے بکہ مزا لوٹ ےکی زیادہ گر رہتی شی اس کے بخلاف حا ی تے عام زندگی 
کے مظاہ رکو شاعر کے شم و نقاط دونوں حم کے اعلی تین حجزیات کے سا سحوتے کی 
کوش شی ہے ۔ ای یکوشش نظیر کے یراں میں علق یا اگ رکمیں موجود ہی انقاقیہ 
طور ہر اس محاطہ یں خبر اور عالی کے ورمیان قرق ىہ ہے کہ خیرتے پچ وکلہ تہ 
صرف عاش قکی حقیت سے بمہ ایک عام آد یکی حقثیت سے بھی اپنے تجزیا تکو عل 
کرکے ایک ہریت عٹیم الشان“ جاں بنش اور حیات افزا تجریہ تخل قکرن ےک یکوضل 


ا 


کی تھی اس لے ان کے بیہاں ارجکاز زیادہ ہے“ عام زندگی سے جج ویج ھراد ہے اس 
کا خطر عیر ہے یما ں گنج آیا سے “مر اس ہے متلف پھلووں اور تتعیلات پر وچ ہم 
ہے عالی کا یل اس احدازکا میں تھا جس کے عمل سے شا عوونہ تجیات بزات خوو 
زندگی کی ایک خی تکیل بین جاتے ہیں۔ اس لے ان کے شی لکو اج مسلت چی ہے 
کہ وہ زندگی کی تحیلات پر تھرتے۔ شاعر کے چھوئے بڑے قزیات سے ان تنعل 
عناو ا ما وو کے او الع دنن وین بر ےکی و نے داز ے 
اون زس 

ہہ صلاحیت عالی کے نزل کا لاڑی جز ہے۔ لگن چ کہ غزل کے برغلاف اقم 
میں اۓ ریر ارجناز کے بقی ربھی کام چچل چان ہے بھڑا ہے صلاحیت ان کی تظموں 
میں زیادہ ٹین طور بر نمایاں ہوگی سے اور نظموں میں بھی اتی سادگی اور پےکاری سے 
عمین انلاز خی عق تی عتاجات یو" ہین بے عم لل ۂکرخال سے جو عفاخزق 
فرصت اخیام دی سے ا سکی نخریف ہوگی سے اور حالی تے مثٴالی ہندوستالی زیان کا جو 
نمویہ یی کیا سے اس کی بھی نتریف ہوتی ہے۔ لگن اس کے خالص اوٹی پ-لو کی 
طر ف می نے وج خی ںکی۔ غالنا لوگوں نے اسے ایک بنگائی اور فردی چی زج کے 
چھوڑے رکھا سے جو اس اس تال کہ عورحیں آہیں میس جیٹے کے پاعیں اور رو 
رلا لیں۔ عالالہ ححیقت ہہ سے کہ مسدس عالی سے لوکو ںکو جو عقیرت ہے وہ ات 
لہ ورست سسی “گر ماس اوٹی تخلیق سے نتطہ نظرسے و رکریں نے مناحبات جیہ بی 
مین پل کی کہ اب میں شش ای تی عشات ش٣‏ نکی جو مس دن ہیں وت سے 
سے تھی وستیاب خی ہوکتیں.۔ عناجات بیدہ کے بططہ دو حین مجح جمیں عالی کے ادلی 
مذازنے کے بارے مطان ایک ای لاوی جات جات ون سضسے ججے اش رینم خالی کی می بھی 
تخلی قیکی انسانی اور ادپی سنویت کا سج اندازہ خی ںکرتتے۔ میوں تو عالی نے ایک مہ 
کنا نت 


سے تج کہ خوب سے سے خوب ترکماں 

اب ری سے وین جا کر نظ رکھاں 
ون عا کی نظرجلد بی ھمرگی۔ ىہ میں نتص میں ثال رہا ہیں۔ عال کی 
شاعری کا مخصوصس سن رچاؤ گحلاوٹ' د لگیری۔ ہہ سب یاتیں اس ایک یات سے 
دا ہوگی ہی ںکہ ان کی نظراناقی دنا سے یاہر خی جاتی۔ خوب سے خوب ‏ کی 


۵ 

حلاش میں وہ مطلقات یا اعیان کی دنا میس ضس جاپچیچے مہ اسے اضانی زندگل' انان 
فطرت اور اضائی تعلقا کی رنگا رگی ادر یچ گی میں ڈحومڑتے ہیں۔ عا یکی یت 
مححوفانہ یا ماورائی گان سے بالقل عاری ھی مناجات بیوہ کے پلہ تین صفحوں ے 
انرازۃ ہوسا ےسک ایک مطلق اور جرد تو رکی حشیت سے ود دا پر خور جیں 
کرت تھے ان کے لے دا سے عراد می خرا اور انان کا درمیائی رشنط۔ دا ے 
ماامص وجو کا ادراک عالی کے مم کی بات میں تھی میں تو اس وجود کے اس پملو 
سے زیارہ ماسیت تی جو انان سے خلت رکتا سے اور اضالی زندگی پر ان انراڑ ہو 
ہے چناصچہ مناجات بیوہ میں امموں نے خدا کا جو نقصور جٹ یکیا ہے وہ ایک مریان “گو 
زرا خ گی ریاپ کے تصور ے زیارہ قریب ے- 
راو تڑی وشوار اور گڑی ام تا راہ گیر کی تڑی ! 
ہے ناد سم یتوں ما ے سادا گھیتیں کا 
ہے ائیلوں کا رکوالا ہے انریرے گھر کا اچالا 
ى رین جن "ا آًٌّاےۓ وی آرسں یىی گن عچیاے 

چڑارے؟ چکار پر ارے 

اربےے* یں کے 6ا چکارے 


یہاں آپ اعتزا کرت ی ںکہ ہے اشعار عا ی سے زیادہ ایک بیوہ عورت کے 
جذیا ت کی تزعمائ یکرت ہیں تبے اتماتوں سےکوگی سہارا خمیں مل کا اور اس کا پدل 
وہ مرا کے ایی تصور میں ملا کر ربی ہے گر حالی کے کظام میں۔۔۔۔۔۔۔۔ دا 
کےکسی خالص اور مطلق تصو ری شراوتیں میں میں مقصر اس ساری بجٹ ے ہے 
تھاکہ عال یکو اضسائی زندگی سے ایا دید تعلق ےکم خدا بر خحو رکرت ہو نے بھی وہ 
اسے میں بھول سست_ 

اب اس فظم سے واح دکردار شی بیدہ کی طرف آیے۔ بدہ کے رع و خم سے 
خلف پہلو ہو کت ہیں “گر عالی نے خصوصیت ہے ساحہ جس سر ژور دی ہے وہ نے 
ہ ےکہ دنا می عام عورتیں جس طرح انی زندگی مس کرت ہیں وہ یو کو عاصل تمیں 
ہ ھکی۔ کوا عالی کے خزدیک ژندگی کی سمل اس بات مس جہ ےک آ دی ووصرے 
آدمیو ںکی ىی زندگی بس کر گے اور زندگ کی چٹ یگونامگوں سرگرمیاں ہیں ان میں حصہ 
اھ 


و 
و 


بے یت 


٦ 


بیو ہ کی واردوات آنمیں ممتوں میں الیہ شی ے_ خصوص] اس وچ ے اور بھ یک 
بیو کے اصاس محرد یکو عام اضائیٰ زندگی کے وع اور رما رگگی کے متقائل چٹ یکیاگیا 
ہے۔ یہاں عا لک فی فکاوت دیکت کے تائل ہے ۔ زندگی کے وع کا ننتشہ انموں تے 
7۲7 راست میں ھٹا کما ل کی یات ‏ ہے ےک عام زندگی کی وسحت او رگم ا گی کا 
اصاس اضوں نے یں استماروں بمہ حاروروں کے ذرج پدا کیا ے۔ مثال 
کے طور پر چند شع رد یھ جو میں نے کسی تلسل کے سا میں کہ جلہ کہ سے نے 
ہیں۔ 


5 

3 

5 

سیت 

گ* 
7 


مین وتے اور لئے نہ دکھاا 
رق ای خق جا ۴ں 
چن سے جگی اور ےہ سوقی 
کفا وا پا تورا ےہ ۴ 
پیل عشے مھ مم" 


گے و پھر اس ول کی گی نے 
امم گے ریت گا ےت رونا 
یف جا کا جیا جن ہو 


اوہیں پا بھاؤں کیوگر 
آ ملا ہیں جح ان ا 
چاند جوا پے می سے 11 
نین کم ری ہیں سانصر یں 
عدا ممیت سے جب لی ہوں بی 
رات وے ےت نے 21 یھایا 
بای ری بھی گا میں 
ے چىق ىا شر ےھ رق 


سیق پے بے چن تت لا 
آرتہ گل مزا گے جن ٠‏ 
ایز ربا بے بن پاسا 


ضا پا فا ےہ پے 
عادی رات میں آپ ەونا 
ایک ے بٹتا سا 


شہ ہرویا 


ان رس یارہ شعروں می ںکھیں بھی عال ی تے اضالی زندگی یراہ راست بیا نکرتے 
کیکوشش نی کی من ان میں سے ہرشع کے یہ اس زندی کا اساس تڑپ رہا 
سے ے ایک عام آدی زندکی بچھتا سے اور جے حاص لک رکے اسے تسین ملق ے_ 
اس زندگ کی صرف خوشیاں ہی نیں“ جکمہ مرنا جیا رونا سنا خم اور نشاط خر زندگی 
کا جرپھلو اور ساری پہنائی ان شعروں میں موجود ہے۔ عام زندگی سے جم چچگی> قریت 
بادر رفاققت کا جو احاس عالپی کے عزاح کا جیادی فص رتھا اور جس تے ان سے ہہ عظیم 


٦ 


شع ہوایا- 
انح سے جاتے سے ہوگی کیا عرے گ ‏ مکی صورت 
تہ وہ واوار کی صورت سے 2 ہ ور گا صورت 

اس نم می ںکھ ل کر ہمارے سا تے 7 ہے۔ یمان جم اسے صرف ایک للیف 
جھجریا جذماقی فضاکی شحل میں نی دیھتےٴ بک مہ زندکی کے مناسبات و متحاقات سے 
صرف ہو ہوا نظ رآ ہے۔ مہ خیال عا یکی ناصحانہ نطموں میں بدی قراوانی سے لے 
گا کہ فر دی خمیل اہتقائی زندی میں حصہ لیت می سے بوتی ہے۔ مجن منایبات 
بیوئیں ہہ خیال ایک زریں اصو لکی حشبت سے چٹ ممی ںک امیا بہ اس کا مامیاتی 
عل ٹھوس جذہاتی جیا تکی ۴ل میں دکھا ا گیا ہے پچھریہ قعظم عا ی کی فی اور شعری 
صلاحیت کا ایک اہم حفصر ہمارے ساتے اتی ہے اچچھا شاعرہریچھوئے بے تر ےکی 
زی عنم کے لع نے قزر مین زیتالہ اس مین ات عط ہوا ہ کہ وو ای گزانت 
کو اسپنے اندر جزپ ہوجاتے وے اور بعد میں اممیں کسی بوے شعری مترر ے 
تصول میں مر فکرے۔ چنانچہ چھوئے گریات انیتھے شاعر کے یہاں بدڑے اور ید 
جیا ت کی تکیل یا دضاحت کے کام آتے ہیں۔ اسی شعری صداحت کا عمل ہمیں 
مناجات بیو یں ہر ہرقدم پر نظ رآ ہے۔ عالی نے زندکی سے حیسیبوں چھونے چمونے 
جریات مڈرے ہہں جو اگر علعدہ ععدہ بھی بیان ہدتے تر اتی مہ انج غاسے رایپ 
ہوتے مگھریہاں ان کی برو سے یو کاگردار اور اس کا جزباتی اور روعائی متلہ جب 
ہوا ہے۔ تشیمات و استعارات قڑ انگ رسے عالی نے محاورے کک اےے استعال سے 
ہیں جھ ایک طرف نو دہ کے جذباقی جرب ےکی شدید تین تعا یِکرتے ہیں۔ ووسری 
طرف اس کے تھے کا مقالہ و موازنہ عام اضسانو ںکی وسجج ت زندگی ےرت ہیں- 
تسری طرف جہیں یہ ججاتے ہی ںکہ شاعراور عام انسانی زندگی سے ورمیا نکیا رشن تھا- 
ہہ سارا عل انتا دہ اور اتا للیف ہے اور ساجہ بی اس خلا تقانہ ایک دس ے 
اخحجام پایا کہ اگر شعری طریقہ کا ر کی موزوعیت اور کامیالی کے نقطظہ نظرے ور 
کرییں تو مناجات بیدہ کا شار ارد کی اعلیٰ تین نطموں میں ہوگا۔ یہ نظم اس اعرکی بی 
شمادت ہےکہ اگر ادوپ کے لئے افادیت ضردری قرار بھی رے دی جائۓ خب تھی ہے 
یقت اتی ججلہ تقائم رہتی ےکم شع ری اغادیت شاعر کے خلاق تل کا ایک اوقیٰ سا 
پھلو ہے“ اور اس تخل سے الک ہ کر وجور میں خییں آنکق_ 


اردوشاع ری فرا قکی آواز 


فراتی صاحب اردو شاعربی یں ایک خی آواز الب و لیے“ یا طرز اصای* ایک 
ٹی قوت بللہ ایک خی زیان ےکر کے “کیوککہ اس میں ذرا بھی ھک جی ں کم قراق 
نے بست سے سے لفظ ہماری شع ری زان میں داخل کے ہیں اور صعحولی ‏ ے مولی 
افتطوں کو ایک خی محویت اور شی فضا دی ہے خیریہ ت ۳۸ء مس نی انرازہ ہوگیا تھا 
کہ اردو یں ایک بدا شاعرچدا ہو رہا ہے۔ گر شروع شھروع می ںگمان ہوا تھاکہ فرای 
کی شاعری اڑسی چیہ خی جو زیادہ معبولیت حاص ل5م رکے۔ گر بڑی شاعری اپنا متقام خوو 
پناک لق ہے۔ چنائچہ دیس سال کے حرصے مج قرا ق کی شاعری اور تیر ے اروو 
پڑھۓ والوں کے زوتقی ججمہ طرز اصا کو بدرل کے رکھ دا ہے اور ایے چیہ پچ ہک 
خوداتی حی تکو پت خی جچے پایا۔اب جو خزلیسں کی جا ری یں ان میں فرای کا 
دا ہوا طرذ اصا سو نجنا ہےٴ فراق کے محادرے سالی دسییے ہیں قرا کی آواز ارزآی 
ہے۔.....۔ پالیی اسی طرح جیسے غز لو شعرا سے یماں میراور غالب کا اصاسں 
ادر محاورہ جا با پیک اخمتا؟ چل حن چار سال مج جو اروو غرزل کا احیاء ہوا ےے۔ وہ 
دے فصد فراق کا سیون حت ہے۔ قرا ق کی شاعری تے اردو مج ایک ادارے کی 
حشیت اخقیا رکرکی ہے شاعر تو شاعرعام پڑت والوں کے شعور میں قرا قکی شاعری 
ری پی جا ری ے۔ 

قرا ق کی شاعری کا سے اشمان ۳۸ء سے شروع ہوا ہے۔ اور خر قراقی صاحب نے 
بھی انس کا ا ختزاف کیا ہے ۳۸ء حے ےکم اب کک کی خی سے تو وو می 
احخاب شحائع گے ہیں ۔گھر اس اختزاف اور اس عم کے امقایات سے لوگ ہہ جھ 
ٹیٹھہ ہیں کہ ۳۸ء سے پل فرا قکی شاعری عحض مو مض کی شاعری ما تجیاتی ج زتی- 





ھ 
حعال ہی جس قراق صاحب تے اپنے ۱۹۹ء سے لم ےکرے۱۹۳ء تک کے کلام کا ماب 
رمزوکنایات کے نام سے ان کیا سے جس میس لہ خرزلیس ۱۹۳۸ء سے بی ےضکر ۱۹۳۵ء 
ک کی ھی ہیں۔۔ اس اعقا پکوپڑھکراتدازہ وا کہ قراق صاحب کے یماں اس 
دور یں وہ رثحت“ وم وٹ رسلا یناور وہ پسلو وار شعر بے خییں ہیں ەمگھر پر ٤‏ 
و ےک ا ا ا وک یں یی 
شعر اىیے میں کے جو بست سے استادوں کے ولواتوں پ بھاری ژں۔ اس وو ری 
شاعری میں بھی فراق صاحب کے مخصوص طرز ااس کے بفیادی عناصر* ان کے عزاح 
کے مخصوص مساکل* ان کے لب و مج کے بیادی خددخال سب موجوو ہیں۔ بات ہے 
ہ ےکلہ بڑی شاعری و خعتا“ ور میس میں ہجاتی۔ بڑھی شاعری برتوں شاعرکی خصیت 
پت رہق سے ج بکمیں جا کے ساتے آقی ہے۔ بوے شاع رکی عطلرت کا راز اس 
کی ایترای شاعری میں بھی نظ رآجا ہے۔ چنانچہ فرا قکی شاعر یکو جکنہ کے لے اس 
ابترائی شاعری کے اسحخا ب کو بھی بڑہنا اتا ہی ضروری سے جتنا بعد کی شا عریکوٴ اور 
ا سکتا بکی ایت عحض تارینی میس ہے کل بذات خودى ےکتاب ایک شعر یکیقیت 
کی عائل ے۔ 
فراق صاحب کے یہاں بیادی متلہ قراق کا ہے۔ قراقی کو وصال میں تبریل 
کرتے کا یہاں فراقی کے وہ صی خیں ہیں جو اکٹراردد شماعری میس ہوتے ہیں؟لچی 
وپ سے میعدگی۔ اس وچہ سے می ںکہ حجوپ کے رشن وار عاکل یں یا جوپ 
جفا کار اور نقاخل پند ہے۔ یہاں قرا قکی اصلی وچہ دو خمیتوں“ دو قربو ں کی بیاری 
یعدگی ہے قراتی صاح کو اس بیادی اور خضری فصل کا یسا ورر اک اور پر جلال 
اصاس ہے اردد شاعری میں ب وا حم یاب ہے۔ میں ہہ مم ںکھتاکہ اس تم کا اصاس 
اردو میں پالئل اب ہے۔ موں ہوت ےکو تو ور وکا ایک شعر چجھے اس وت یاد گیا_ 
آخر اور کو کی ہیی بج صمارے بھی وەعیان پاتی ے: 
ہہ شع ربھی بب کم نیا ریے والا میں نہ معلوم شا حرتے کتنا خون ہر جلایا ہوگا 
جب ایا شع ہوا ہوگا۔ گر قراقی کے یہاں سے بیقیت انفاقی تجمیں۔ ان سے یماں شروع 
ہی سے ہہ اضاس بڑی شمدید اور امتماقی شحل میں موجدہ سے اور شرع سے ان کے 
خور و گل کا مرکز متا ہوا ہے۔ چنامچہ قرای صاحب کا محبوب بھی عام اروو خشاعری کا 
تاخل پند اور بے از عم کا حبوب میں ہے بلکہ ان کا حبوب نز خود عاش نکی ناز 


۱ 
بمداریو ںکو تار رہتا ہے۔ چناجچہ قراقی نے اپے عاشق اور اپینے محبوب کے اخلقات 
بڑے ول میں چی لیے وانے انراز سے یا نکھۓ وژں- 
صن سرییا حمنه عشق مرا خور 
ا کا انراتم از و نا ے بَرتا ین 
ان کے عاشن کے مطالمبات حبوب سے میہاں کک ہوتے ی ںکہ ے 
کیل ے تی سے تتاظ جک 1 
گج خاے؛ ںرج عخوژاے 
تلم رجورافاخل اور بے مازی سے قراتی کا حجوپ انتا ددر ہ ےکہ آیج ج کی 
اررو شاع رکا جوپ ت ہوا ہوگا- 
صوصن ت ےکھا سے سے 
وہ کرتے ہو ہے زی مخ نے موم بتوں کو کیا جانا 
اس کے مقاٹلے میں فراق کا شعر یی ٴ جو گمداز جو حضری حصرت* جونئی* جو 
ینرک جھ افطراب اور جھ سحون قراقی کے یہاں ہے ا کی برچھایں کک مو می 
ہے شع رب میں پڑی ٭ 
پاکن۔ بات وو نپ لے اق تقا حلف ان کو حور ہے بوڈکا ضن 
قراق نے حبو ب کی نضیات کے مت قکوتی آخری فصلہ لہ ےکر کے جمیں 
رکھ میا خی مہ یہ حصہ حبو بکی شخصیت کے سن سے سے پہلو نظ رآتے ہیں اور ہر 
عرحبہ ان کے احججاب میں اضافہہکرتے ہیں۔ فراق صرف محو بکو حاص لکرتے کی 
کن خمیں رکت۔ ان کے ول میں وب کے لے بے پایاں میرردیٴ اترام اور 
خالمس انسانی لگا ہے۔ محبوب سے محی تکرتے کا ہہ اسلوب اردو میں بالنل نیا ےکم 
سکم اجی شمدیر اور ری ہوگی شکل میں پل ہکبھی ممودار میں ہوا تھا 
اچھا ت3 یللہ قراق کے محبو بکی دو چار تسومریں دہ ٹج پھ رآپ قراق کے 
عحشق اور ان کے ہجرو وصا لکو بھی مہ حھیں ے 
ا ےہ آقم "مس نے وھ انس گی ہیں سن نے خی 
یی چچُن ھا حن می گِن نا سا رو تا 


ےا 
مس کر بھی ہم سججہ عہ کے ج س کی ختیں سے جں اس نظری خثایت سے وور وور 
ج, عزر ری خی تمام یں ى 7 کی کو ہو بھی نہ سنا تھا سچھھ گمان فراق 
تیابل سے تال ہے “سک شائش سے ملف ہے 


اواۓ تو بہ تو سے وہ ہمارے بہوتے رتچے ہیں 
نے اڑی جج کو فگاہ حوق کیا جاتےکماں ممری صورت پر بھی اب را گماں ہوا 


تن 
اک ارای می کے بے کییں اہ اڑ یار 
ے> یا تنگ مار کوگی بج ختپ 
اق خی کی بلق اق نف یم مض اور بھوٹی بھا ی رت 
ہوگی سے اس میں ایک جب کسک٠ٴ‏ عیب ساریٴ جب درو اور جب شون ہے 
قرا ق کی شاعری کا یمیادی لہ میں سے شروع ہو ا ہ ےکم ایا حبوب پاکر بھی اس 
سے وصال اور کھل بکائلت کا اصاس عاص لکنے کے لے جدوم ھکس بڑتی ہے۔ 
عاشن اور جو ہے ورمیٴن ہزار غلوص اور جاک یی۔ نین وو انائی خمیتیں 
اڑسی متواڑی لائتیں ہوکی ہیں ج ھکوشش کے باوجود ایک دوسرے سے میں مل متیں_ 
بی عشقیہ زعدگی کا سب سے المناک پھلو ہے تض لوگ اسی بے چارگی سے خی 
زندگی اور قوت حاص لکرتے یں- 
فراق نے ای شعری شخصیت کے زور سے ان پپچھروں مس سے پلتی ٹکالا ے اور 
خم د خوش کی رعدو ںک ای کیا ے- ا 
آپ فراق کا صحوب دکھ بے“ اپ ورا ان کا جج راور وصال اور عشق بھی ریۓ 
یت کی ممبت ری ہاں الفقر ہی ہے 
دی مم بوں چایں ے سان وچاؤں 
شی ہیں وخ جر کر کیل زات رھ 
یم وبو ٢اشّا‏ ۔ لق کے ںی مکراویا 
وصال کو بھی بنا وے جو میں درد رای 
ای سے چھوحے ا خم ساتیں جات 


١۲ 


رو ے گے کو ۶ چیرو نے چے گر 
ہیں تو سب"ں ھاں و٣‏ ور رت 


تر کی سج ق میں یت 
چا رکھا سے تچچھ سے وسوسوں تے ول و قرقت کے 
اشی وموں سے اپنے آپ کو تما کھت یں 
ججراور وصال کی فضیات پر چت پہلوؤں سے فراق نے نظرڈالی سے اور اس 
نفضیات کو جس طرح شعریت مس جرل کیا ہے دہ اردد کی بڑی شاعری ىی تیں* 
مغرب کے ارب سے پپسلو مارقی ہے۔ فراق نے اردو شاعری کا وائز: شعور یرت ٤اک‏ 
طور پر وس ع کردا ہے اور نضیات مشق کو بوری زندگی اور بوری اضانیٰ شخمیت کی 
نضیات متا ریا ے- 
فراق کے یہاں عشق ما لہ حض چابے اور چاہے جانےکی بات خمیں ربتاٴ بللہ ہمہ 
می رہ ذکر بر ی زندگی کا مہ من جانا ہے۔ اس صشق سے اضا نکی پوری خصیت* 
جلہ اس کے ماحول کک کو ایک خی لی خی فخدگی اور عق قات طق ے۔ نزاق ۷ 
عشق وقق گن اور طلب سے بمت یلند ہوکر بیزری کاتنات کے متحلق ایک روب ٴ ایک 
انزاز نظ لہ ایک کنل شلقہ حیات من جانا سے جس جس ڑمکی ہے سارے اناو 
سارا ججرو اخقیار سارے جدلیاقی حناص رآکے ایک ووسرے سے جم آہنگ ہوجاتے 
یں۔ 
دل دہے روتے ہیں شایر اس لہ اے' ے ووست 
اک کا اتا چک جاا زرا وشرار تھا 
وصل مس جو شاواں ہے“ ججرض جرگریاں سے وہ فا قکیا جات ےکیا عمال جاناں سے 
پھر فراق کے عشق میں ایک ما عخضریہ ہے کہ ا نکی عحیت مجح سی محجو ب کی 
گکن میں ہے کہ ای خصیت کے اسنا تکو وس عکرنے کا ہم ہیر تقاضا ہے اچچ 
یکو کاتمنات میں سحوتے اور اتا کو اپ انرہ جذز کلت کی طلب ہے۔ خود 
ز ند یکو بن ھکر لے لگا لیے کا اشتیاق ہے۔ ہہ وہ خواہش خمیں جو پوری نہ ہو ق دی 
کی خصیت اور سکڑ صث کے “کٹ کے رہ جاے۔ اس طلب کا سج قراتی یا وصال“ 
خم یا خی ہیں کہ اع سے ے اررا آل گُرن آمییز اور بجھرپو رکیقیت سے چو 


۲ء 
زندہ آد یکی زندگی کا .اتل ہوتا جچامچۓ ے 
ترک عحبت کرتے وا وکون انا بک جیت سی عشق سے لہ کے دن سوچ کون یوا سے ہوتا 
ضہ کوگی وعزة ےہ کوگی ثتین* عہ کوئی امیر تق 
ں سے تزی حت ؛ جم ہم میں یں گر ہیں ت تا انار کا ھا 
یا جن ٣ع‏ گرق می 7 تج نا اخ ہے رور رورٴ مات سے وور رور 
قرصت ردری کاموں سے پا نے رو بھی لو اے لف بار ری غردرت سے دور دورد 
اسے اعل ول ہے تار بث بھی سے چلو 
محخفصرب کہ فراق کا عشق نٹاط و خ حم“ ججرو وصال * تاز و نا زکی اصطلاعات ے پلنر 
ہیک ر کل اور حضس اشیات کا نام ہے فراق نے ہہاری خی ضسل سے شعور میں ایک 
زبددست جبدٹی چدا کی ہے۔ ہمیں عحشقیہ زندگیکی خی اقذار دی ہیں اور ہیں واتی 
صصح کرنا سکھایا ہے۔ ہہ قراقی کا سب سے بدا اسان ہ ےہ اضون تنے جش کش ش و 
زندگی اور شعور کے پدرے تظام مج وہ مہ دے دی ہے چمال ہے چیہ ووسرے عتاصر 
سے ععدہ خی بللہ سب کے ساجھ م نک ہوبر عه لک رتے۔ فرا قکی شاعری و 
اردو شاعر یکی ردایت میں ایک زبروست اضافہ سے بی مر خی نس لکی ذہتی اور جذباتی 
زندگی پہ بھی مہ شاعری بدا گرا اش چھوڑ جات ےگی۔ بلمہ ہہ شاعری جمارے ششعور میں 
واشی اس طرح رچنا ششروع ہ ھگئی کہ جمیں ان اثزات کا پوری طر انرازہ گی 
تین وک 
آخ میں قراق کا ایک اور شعرسن ٹھج قراق کے بارے میں یاد میں پڑت اک 
کسی شاعرتے فرا یک یکیقی تکو انتا وس“ یاعظشت اور بم ہگ ربتایا ہووے 
وہ سے قراری مل وہ قضاۓ تمائی 
وہ منٹن مت ہہ آان زراق 
ایک آخری شعراورے 
ص سے ید کو جمم مت عاقی کی 
تا پاجھ سے کیا جام سے تحت تھا 


اسلای خن تیر رو 


اسلام نے عاندار یو ںکی نقسوے بناتے پر جو پابندی لگا دی شی اس کی وچہ سے 
ری اسلائی تنب میں یہ کار یکو وہ مقام عاصل نہ بہوسکا جھ ددسری تمزیوں شس 
حاصل سے خصوص] عریوں میں تر اس شن نے اتی بھی ری می ںکی شی امان ا 
ہندوستان کی مان جمزیوں میں ہوگی۔ ا س کی ایک وجہ مہ پامندی بھی ہے گ٣ر‏ اس 
میں ضلی عضص کو بھی بدا رخل معلوم ہوا ہے سای نسل کا حبیہ کاری سے کی زانے 
میں بھی ایا شخت نمیں رپا جیسا نی نرک تن عرب الک یھن 
ا یٹ القوم بیسودییں کک کی اس فن میں کوکی روایات میں ہیں انفرادی طور ے 
یودی مصور پیا ہوگے ہوں ت الگ بات ہے ۔ بیسودیوں کا تی اص لی میران اوپ رپا 
سے اور عریوں کا تھی بچ کہ بیمودبو ں کی کھج یکوکی حکوصت میں ربی اور اس تو مکو 
می کک میں بھی المیان سے کک کے ہف کا موقع میں ما۔ لان عریوں کا ویش 
سے اپنا ایک کک اور اتی حکومت رہی ہے اس کے علادہ اتموں تے سس ی اور ین 
تک جا کے صدییں تعمرل کی ہے۔ اس لے احمیں ھارتمیں بناتے اور مۓ سمۓ مر 
بسانے کا خوب موتع ما مادی شحل میں چیزیں تخلی قکمرتے کا شوق جو ان پابتریوں کی 
وچہ سے پورا تد ہوا تھا پورا کا را نقیرات میں صرف ہوتے نا۔ جن دوصری اسلای 
تلوسوں میں مصوری اور مہ سازی پیدا بھی ہوگی وہاں بھی اس کا درچہ مانوی تی 
رہا۔ چتاجچہ اسلای فتون لطیقہ میں غالب حصہ غقیرات کا ی ے۔ 

اسلای نفیرات کی اصطلاح روز استعال ہوٹی سے“ گر ایک مجیب بات سے 
پندوستان سے ی ےکر این کک اسلائی ہما رتو ںکو دک جاہئے۔ می رکاکوگی ایک انداذ 
نظ رجیں ہے گا ۔کییں تعلی اشرات ہیں“ کس روم “کی دوبان “کی باز خی کھیں 
امانی “لمیں ہندوستاتی۔ خود جندوستان بی میں اسلای عمارتوں کے خلف انراز دکعالی 


۷ 

یں گے حا لکی مخل ماروں شاءِان اڑات نیادہ یں 3 کاٹیا وا ڑ مارآں 
میں جندد حناص رکا لہ ببھاری ہے۔ جس طرح جم ایک خاص حم کے ستوتوں اور خاص 
۴ کے دروازو ں کی مار ت کو یوناقی ما دوبی کتے ہیں ان محوں میں اسلای قیرات کا 
وجود تی یں“ اسلای نقیرات چتد تا“ اوضارع یا اشقال کا نام تمیں* بللہ اس مور یا 
اس رو کا نام سے جو ان ملوں کے چیہ کار فیا ہے_۔ 

اسلائی تفیرا تکی اس روح می جو سب سے جیب خصوصیت سے وہ جم دکھ 
جیے ہیں جن اس روح نے را بھی تخصب سے تام میں لیا اور جنس قوم کے خی 
تمیرمی جو حصریند آیا ہ کہ نے میا اسلام نے بتایا تاکہ عم او رس رمصلما نکی 
قلیت ہے ین میں بھی ا ہو نے جاکے نے و اسلای نفقیرات کے ماہروں نے اس 
بر حوف جوف عھ ل کیا او رکوگی ایا بدا رعہ رہا نس کے رن تیر سے ملماتوں نے 
فا نہ اٹھایا ہو باز شی ممارنں سے بتار پی 3 مندوتان سے گر لیا یہاں تک 
کے پندوستان کی مخصوص علاص تکنو یکو محر کے گقید کے اوپر لہ دی۔ ہندوسانی 
مماروں کو نے جا کے وصمعقن کی ۳د عتوالئی متدوستان شں مھارتیں منواتے کے لے 
ورپ سے شن ککارو ںکو بلا کے مشورہ لیا۔ خ رکم اسلام تے انساخبی تک ا رونم 
پپپلی عریبہ فقیرات کے عمالے میں شعوری طور پر ٹن الا قوامیت برق اور ہ رم کی 
قوی اور ضلی جک نظری سے الک ہ کر ق یکو ق نکی حشیت سے دیھا اور ہ رر ے 
یھ نہ یھ اخ فکیا۔ شی اس معالے میں بھی اسلام نے دکھا دیا کہ اسلائی تذعب 
تخرافاکی حد بتدیوں سے بہت یلند ہے اور تہب و عمت کا ھاظا کے بی رساری ةوموں 
کے ور کو انساحیت کا ور“ ابنا در ھی ہے۔ اسلای نخیرا تکی ہہ تزیاحیت اور 
انتقامیت اڑسی چیہ ےہ ا سکی خثال بڑی مل سے ل ےگی۔ 

اسلائی ققیرات سے ماد یا تق میں اور متقیرے ہیں“ یا شابی عحل “گر ثنی اور 
ری اختبار سے جو اہمیت نربی ممارن ں کو حاصل ہے وہ دنیاوی عمارتوں کو حاصحل 
شیں۔ وہ تو خیربور پکی خی تی ب کو پچھو ڑکر ہر تذیب میں بی ماب رک ایک خاص 
عقام حاصل سے “گر اسلای نقیرات کا نے نام آتے بی مسیروں کا تقصور ساس 7آ ہے۔ 
میدوں پر اتی نجہ اس لے صر فک یگئی ےکک مہ ہماری قو مکی تق نزین زندگیوں 
کی ترمان ہیں “ ہماری زندگی کا خلاصہ ان مسیدروں کے رز نمی نظ ر7 ہے۔ سیر 
پر بی نطرڈا لے ہی پت چنا کہ ہہ مہ اس لے بتاتی گئی ‏ ےہمہ یماں زیادہ سے 
زیادہ آدی جح بوگیں۔۔ الک الک شمیں بمہ یک ساخھ۔ اسلائی ترزیب میں ایتاعیت 


٦ا‏ 
بج زور ہ گیا ہے ا سک دی غمازی ہماری مسیدی ںکھتّی ہیں- 
دو مرے نیمروں کے ماد بر خور مجن نے دکچھییں ےک عمارت مج پر رار احول 
پیر اکرن ےکی بد یکو ش کی کئی ہے ۔کمیں بائنل اندھیرا سے نہیں سور عکی روش 
کو رکے ہوۓ یشوں میں سے گمزارا گیا ہے ماگہ داغ بر ایک مخصوص مم کی 
اجخیت اور غیت طاری ہو اسلای خمارتوں میں اس تم کی پازمری ملق روا 
تیں رھ یکئی۔ صسویرکی سب سے اہم چن کن سے جس جس زیادہ سے زیادہ روش اور 
ہوا آکی ہے۔ جات ہہ سےکہ خود اسلام کا سارا فسقہ زندگی ہی ابمام پرسی اور رمزیمت 
ےکوسوں رور ے۔- اعلام انا زم یکو عم اور گر ے ذرسےۓه زیادہ سے زیاوہ مور 
کرنا چابتاہے۔ اسی آدر کی علاصت ری میں ہیں۔ مروں کے ڑے اٹ دوعری' 
اسلائی عمارموں میں بھی ہے خصوسیت بست نیاں نظ رآّی ے- یہاں ہوا اور روش پر 
کم سح ےکم پامندی لھاکی جاتی ہے- 
پھر اسلائی عمارقوں کے نے بدوے سیر سے سارے ہوتے ہیں۔ اسلائی عمارتیں 
بندو اگ و تنک ممارتوں کی بح بھول مبداں خیں ہوتیں* یہاں ممارت ساز ییادی 
تن سے ا حراف مم ں کر ا ہندد ہھمازقو ن کو دی ھکر سے احصاس بنا ہے گکہ میائے 
دا بےکو تیچ مج سکوکی بات سوج ھکئی اور و ہک رگزرا گر اسلائی عمارتیں اڑی معلوم ہوقی 
ہیں یسے ذرا زرا سی تنصیل پےے سے سوسی ہوقی ہو اسلائی عمارت ساز وت چڈیات یا 
ارات کی پیدی میں کرت جلہ ایک صخلی اور آقلیرسی نت گی لبحض لوگو ں کو نے 
انحلیدری زیر بس ہمگمرا ںگذرقی ہیں۔ خوصا پور پکی جج رعقلیت پرسق سے اکتاۓے 
ہوئے دباخوں کو خلا ہہ لوگ تارج عحل کو دکی ھکر اختزائض ککرتے ہیں کہ اگر اس 
عمارت کو بی میں سے کاٹ کر ایک حصہ اٹھایا لیا جائے ‏ کوگی تتصان خیں ہوگا_ 
کیولہ دونوں صے پالکل ایک سے ہیں اور دوصرے صے مم ںکوئی تار بات سے ہی 
جییں۔ گر ہہ اختزاض بدا خی رماریتی اور نامنصفانہ ہے۔ نجس تمذحب خےکوتی ٹن پارہ 
می کیا ہے ا سںکی رو ںکو بج بقیراعتزاض جائز میں اسلام صرف فوں اور 
صوفوں کا :زجب میں سے“ بللہ عام انساتوں کا زجب ے۔ اسلا مکی بیاد “مم چزیالت 
ادد ادر گجریات پر خی مہ تمام انسانوں کے زواضعاف اتل مشتزک لین عقل پر ے۔ 
اسلام کا جنیادی عقیدہ انتا صاف “ سا“ ہے میل اور خی حم ےکلہ عاسم آ دی کی بھی 
بجہ میں آسکا ہے اسی لے اسلدی قتون لیقہ میں بھی جزبات پر عخحل کو وت 
حاصل ری ہے دوہی حرط اسلای عمارتوں کے نقشوں میں بھی وط ری ہے_ ہے منلن 


ۓ۷ 


ا لیر یکیقی ت کی ذہتی اور روعائی لاعاری ما ہے مائجگی کا متجیہ نمیں بلمہ زندگی کے 
ایک یادی تصور سے ملق ہے_ 

اعلای تفیرات پھر نوحید کے ععقیرے تے بھی ب ڑا گرا اور ژبروست اث ڈالا ے> 
اسلای قیدے مں خدا اضان اور قطرت روتوں سے بلند 7 تق ہے۔ اس کا وجوو 
اییا ملق و جرد ادد خی رمرقی ہ ےک لی مادی نز سے ا سکی عماہمت محکن بی جیں_ 
خدا کا عفان صیات اور جذبات کے ذرہیج من یں ۔کیوکمہ ہہ دوٹوں تو تیں ت مادی 
لوازبات کے ذرہیج عح لکرتی ہیں“ البستہ افلاطون وا ی عخل کی تھوڑی سی بج ےرا 
کک ہے۔ چناشچہ خون لطیفہ کے ذریع خمدا کو ڈھوہڑنے کے لے (کیدکلہ انان کی 
سب سے بڑی علاش کا مرکم خدا ہی ہنا چاہیے ) یں صیالت اور ڈیا تکی تیں بل 
تل مکی پیرد کم بہوگی۔ اس اصول کے مطالق اسلای ممارتوں کے نننۓ نطح 
کے نحاظ سے بنائے ھیے۔ ای ییادی اصول کا ددصرا اش ہہ ہوالکہ اسلائی خیرات تے 
ای اویضاع و اشقال مس بیشہ فطرت سے آزاد بہوتے ک یکو شش یی دنا کی اکٹ بدی 
بی تذیوں کے ٹن حقیرا تک ىی جدوجد ری ےکہ مارت ای ے_ معلوم ہو کیے 
اس سے لا کے رھی سے ہے“ بللہ ہہ معلوم ہھ جیسے زین میں سے خوو بود پھر آکی 
ہے۔ مارت کا ڈھاتچہ اور ممارت کے خطوط قطری منظر کے تخطوط کے خلافٰ شہ ہوں- 
بلہ اس درہے ہم پگ ہو ںکہ ہمارت منظرمی مرم ہو کے رہ جاے۔ چتانچہ وی 
بن کاکوتی پندد مندر دک پالکل اییا معلوم ہو .ا ہے جی ےکوی آم ہے پیڑوں کا مز 
بد مندد کے سارے ہچ و خم اور شیب و راز وی ہوں کے جو آموں سے چینڑ ے 
ہوتے ہیں۔ اسلائی خن تعیبراس کے یائنل برخلاف ہے اسلای ممارت فطرت پر اسان 
کی فوقیت کا اعلا نکرتی ہے اسلای سمار فطرت کاکھنا خمی انتا چلا جااٴوہ فطرت کی 
اصلا عکرنا چاہتا ہے فطرت کے خطوط کی رد لے 'غیر اپنے دارغ سے ایک ۓ 
ڈاچے ایک سمے خسن ےکی خحلی قک را ہے۔ ہندد فی ظفیریس انان قطرت کا ایک حص 
ہوا ہے۔ اسلائی شن تیر انسان فطرت سے اوپر ا تےٴ فطرت پر الب آتے کی 
کش شکرنا ہے اسلی خن می رانا نکو الیک خی جرات٠‏ ایک تی امنک ایک خی خود 
اعتادی ماج ہے۔ اسلای فن تی رزیان حال سے ىہ ہیام دیتا ہ کہ انسان محضش انی 
طاقت کے مل بوتے پ آسانوں کے مقاے مم ںکھڑا ہوسا ہے۔ انسائی روج فطرت گی 
رعناتیوں سے استفادہ سے مقیر بات خود ین اور رخ ہے۔ میں اسلامی قن تقیرتے 


۸٘ 


خطرت کی نقالی بھی بڑی ح در گی سے کی ہے لا حر قرطیہ کے ستون دنا بھ رکی 
ہماروں میں بڑے مع کےکی نز جھے جات ہیں۔ ان ستوتو ںکو وی ھکر ہے گمان ہوتا 
ےگویا صعحرا می ںجور کے درش تکھڑے ہیں “گر قطر کی پابعداری ت کیا فطر ت کی 
ڑالی ج ککیھی اسلدی تی رکا یادی اصول ضیں متا اسلای مارت وور سے بھی فطرت 
سے بالئل الک تحل کفکھڑی دکھاتی دیق ہے اور نے آ پکو فطرت میں یرم نیں 
ہونے دی اسلام سے پچ ل کی بت سی تمزیوں میں مجود عمو] فطری قوتیں ہواکرّی 
یں ای لے وہ انی عمارقوں میں بھی خطر کی ہم آچگی اور فطرت ے مفاہصت 
ڈحویڑتے تھے لگن اسلام کا خمدا ساری قطرت کا خالق ہے“ اس کے برمتا رکو فطریت 
کی خوشامر یا فطرت سے مفاہص تکی ضرورت میں رہق فطرت سے بی عابحدگی اور 
ہے نیازی سارے اسلای شن تی رمیں تلق ہے ہندوستان میں تو خر سلمانوں پ 
اائوں اور بنددوں کا ا بڑپگا تھا اس سلۓ عا مگمروں اور بّوں میں ہے عض راتا 
مایاں خیں دکعاتی درتا۔ گر انی نکی زندگی بر عریوں کا اش انت مرا پا س ےکلہ مب 
ساط ت کو ختخم ہوے بھی صہدیا ںگز رصئتیں گر حریو ں کی ننانیاں قدم قدم پر ملق ہیں۔ 
ای نکی معدبی معوی مستیاں کک اس انداز سے متا یگئی و ںک ان کا ہرخط ادد ہر 
وضح فطرت کے عقاعل صف ‏ را سے اضان اور فطرت کا ہے تقائل صرف اسلاق 
فقیرات می میں میں لہ دوسرے اسلای فون لطیقہ میں بھی کارقیا ے۔ انان اور 
غطرت کے تتا کو انیسوہیں صدری کے اوٹی تقیر اور جذباتی فلن نے بھت برنا مکیا 
سے “گر جیمویں صدی میں اس پر شرانے کی زیادہ ضرورت باقی خی ری۔ کوگلہ 
یسویں صدی کی سب سے نمایاں فی چیز تق اقلیری مصوری ای تضادی تجمان 
ہے۔ پھرمہ اقلیری مصوری براہ راست اسلائی اثرات کا نہ ہے ۔کیوکہ ہے صحف 
خصوصییرس ہے ساتتھ اکپبٹی مصورو ںکی ایباد سے اور ا کی لوگو ںکی زوڑمرہ زندگی دی 
اقلیری مکاتوں اور الیری مستیوں می ںگزرتی ہے۔ پھر ای نکی عب مارتوں ٹس 
دلداروں کے اوبر علی تخریں ہیں جو ا اعیا الیرسی مصوری کے ممترین خموتے ہیں۔ 
نی ای لہ اسلای قیرات کا سب سے با چغام ىہ س ےک انا نکی ایک ععدہ اور 
مستل بی سے جو فطر تکو سیڑھی بن اکر ان داغ اور ابی رو ںکی ہمت ے غدا کا 
طرف ند ہوتی پپلی حاتی ہے۔ علیت٠‏ علیہ خور اختاریٴ عم اور یلنر سے یلند 7 
ہوت ےکی گی ہہ سے اسلای عما رتو ںکی خصوصیبت اور انقراریت -۔--! 





شارہ پا یادبان 


اولی سال 


سارہ یا یادیان 


قرانس میں ایک بڑھےکرتل صاحب تھے جمیی ںسبکھہ کک بے کا عوق تھا_ چور 
چری سے جا ہیا چھیری سے میں جانا عمرسپاہیو ںکو ٹیفٹ راخ ٹکرا گمزری 
تی فذح سے انگ ہوتے ت ادیو کو پر“ رات ےکی سوجھی۔ چنانچہ ایک اد ی رسالہ 
ال جیٹھ سے اور اویوں کو جتانے کہ فراضی کس طرح ککھی بای ہے۔ سے 
شاعروں سے اممیں بدی عثایت تح یکہ یہ لوگ فرانحی بالکل نیں جان۔ سادگی 
سلاست رواقی کے ساجھ میں کھت خوام عنزاہ بات الما کے کت ہیں۔ بنا ری 
صاحب نے ہر می نمو ںکی اصلاح فربانی شرو عکہ دی۔ یلت چلاتے والیری کی نظ م 
مسندر کے ممنارے ایک جرستان" کا بھی تب آیا۔ والیری کی ایک لائی ہیں 


2۷77 75×۷ ۲5۷5۸ ۲۱۱۱۸۸۷۹۰۷۲ 2۷۶ ےہ بے 
ہوا سن کی ! جح ہک یکوسش لکل چاے- 
کنل صاحب تے اسے کمسالی اور میٹ قراتحی ‏ ہیں جر لگیا۔---- 
۸ ۷۱۷۶۴ ۶۸۰۸۷۷۳ .7 ۷6۱--۷ جج 
کرتل صاح ب کی اصلاح کے بعد زیان یا حاددہ ہ ھگئی ما میں اس کا تج پت 
ہیں ؛ اتی فراضی جھھے میں تی ےشن شاعری ضرور غاب ہ ھگنی۔ چط تو بی رک 


۸ 


کہ خیا لکتتا بد لگیا ۔ کرت صاحب تن ےکا ہے جے ججینا جاہجے۔ ایک اگریزی مرمم 
نے اسے و ں کر دیا ےک تمس جینا جچایے۔ اس کے مخلاف والیری نے اپتی اس 
خوا ش کو ایک عام اصو ل کی حشثیت دی ہے اس نے ہہ جمل ہکا ت اچپنے آپ سے ہی 
ہے *گھراس طرح جیسے تام دوسرے انسائوں سےکما ہے۔ اسی طرح اس نے اپتی 
ایک اندردوثی شیک کو زندگی کے ملق ایک رویے کی عل دے دی ے- قلقہ 
زیت وا ےکم اکرتے می ںکہ جب آدی اپنے لٗ ےکوقی چیا حا بک را سے تو ورامل 
ساری اضاعیت کے لئے اسحقا بک را ہے۔ والیری نے لفظط ہی ایے پت ہی ں کہ اتاب 
کی دوتوں ضزلیں ایک ہو کر رو گئی ہیں* تخصیص اور عموسیت کا فرق صٹ گیا ے- 
شا رکرنل صاحب الفا کو خیال کا مباس یا زیو ر کھت ہوں گے ین یہاں ت خیال بھی 
ان کے پے نمی پڑا۔ اب شاعر یکی جات لیج سار ت ےکما ےک مصور مٹوری 
انی اضردگ یکو زدد آسان متا دیتا ہے۔ بسی عال اس لائن کا ہے۔ والیری نے اپنی ایک 
اندرونی ت ری ککو نفہ بنا یا ہے۔ ہہ صرف بین کی خوائش کا اظمار یا اعلان خض بُللہ 
ىہ لائن بزات خود ین کی کوشش ہے اس لائی میں دو جلے ہوں۔ ایک فطرت کے 
پارے میں ووسرا انان کے متحلق۔ افروس ہہ ہ ےکم فراضحب یک آواڑیں اردو سم 
الز میں خعمل میں ہو حتیں _ بسرعال شعریں بر خور سے بغی رمضمون کلھنا حاقت ے* 
کو ہہ حماقت اردو میں بیشہ سرزد ہوّی رثقی ے۔ ج۔۔۔۔ 5211۷ ٣٢٥ط۷‏ 
جا ہہ صرف ہوا کی صوقی عکای خی ہے ان آوازوں میں فطرت پ انان کا رک 
اور فطرت کے متحلق ایک مضتفل نظطریہ بجر ہے۔ فطرت کے لے جعیناس قدر آسان 
سے ڈ اس کے برخلاف انسان کے لئے چینا ایک مستعل کاوش اور سپروجرر ےٴ اے 
خاری اشیاء سے مج لڑنا پڑنا سے اور اپنے آپ سے بھی ہہ ساری کل کش ان 
رے میں آکئی ہے 





۷۲۱۷۶7 6اط ۲277-۸ ۴۸۳۳. .1ہ 
چنانچہ اس لائی میں تن بھی صمق میں وہ الفاظ کے اندر ہیں۔ الفاظ برل وج یچ ت 
پرا گے رقفیت ہو اتا ے- والرق او رکرتل صاحتب کے ورمیان عرف اتا ہی 


۸۳۲ 

فرق خمیں تھاکہ والیر یکو الا طکی گی کا اصاس چجھ زیادہ حاصل ہو۔ ہے اضاس بھی 
ڈندگی ادر فع کے یارے مس ایک خاس روکے سے پیا ٭. ہے۔ جب کک ک وی 
اپتی ایک ایک ح س سو ای اشیاء یں داشل نکر مے اور ای اشیا کو اپتی ایک 
ایک س میں جذب ‏ کے والبر یک ىی شاعری نم ہوتی- 

ىہ روب ہکون سا ہے ؟ قن کا خمارتی اشیاء سے اپنے آپ سے“ اور اپنے فی سے 
کیا رشع ہو نا ہے“ مہ باتیں اڑی ہیں جن کے متحلق کہ کے کا جے جن میں پچ دہ 
سان ککعنہ ہے بعد اکر میں ہہ سج جیٹھوں کہ پیر سے زہی عوال بھی عیری 
مرفت میں ٣‏ سے ت میری خود فخرسی بمہ جمالت ہ ھگی۔ لیکن ارب کے ایک مموی 
طالب علم کی حثیت سے اس مم کے سوالات می ز٤ن‏ مج پا ہوتے لاڑی یں- 
جیے فو اد بکی تخلیق کا ذاتی تجریہ حاصل میں میں یس انتا ب یکر كت ہو ںک پوے 
شاعروں نے اپے ام کے متحلق جو چجنھکما ہے۔ اس کی رو سے تخلیق سے انرروثی 
جم لک الٹا سیدرھا میکح ہک یکوسش شکمروں۔ ا سکی حقثیت بالنل اڑی بی ہوگی جیے میں 
کسی کا سفرنامہ با ھکر قطب شال کا نتش ینہ جیٹہ جائوں۔ خر دل گی کی غاطری 
ی۔.-۔۔ چحی دک یکوش مر چاہے- ! 

اس متصد کے لے میں نے دو چیزیں بچھانئی ہیں۔ ایک تر میاارے کی تشم 
دوسصرے جزرمن فلفی پام یڑک رکا ایک محخمون جس میں اس نۓ بینڈر لن کے کلام سے 
شاعری کے متحلق پاریچ یادی باتیں ثا لک یی کی ہیں میلار ےکی ' مم فراتمی ہی 
یس نفقل ہونی چاجنے شی ۔کیدگمہ جھ باتیں باقی دہ لوکوں تے فلسقیانہ انداز مم نکی ہیں 
وہ میلارے تے اتی یلیک کے ذری کی ہیں۔ شیگن اردو یٹ ذ زیادہ سے زیادہ 
اگریدی تمہ ہی دا جا سکم ہے۔ ھیرا جی ت جرات رندانہکر ٹین تے؛ لان یرا 
عقیدہ ہہ ےکہ اردو شش میلارے کا ترجہ میں ہو سلھا۔ بللہ اگریزنی خیں بھی روجر 
فرائی کا تجمہ جرات رنراعہ سے زیاد یھ خ*ھیں۔ جو حخض میلار ےکی تع میں افوں 
کے لقیر تج کر ڈائے وہ تک حیت تو ضرور ہے میلارے کی شاعری یں گگتا- 
اس تھے میں شعریں کا مطلب ت ضرور آگیا ہے شاحری کو فراتی صاحب بے 
میلارے کے پاس می رب ے دا ہے تر یہاں اگریدی ت سے کے بی مگزارہ خیں ہو 


۸۶۳۲ 


۴ 
بی 
ات 
5 
0 
تھے 
7 
- 
5 
+ 
ہے 
۳ 
77 
3 
5 
غ 
3 
ِ 
8 
5 


5۸۲1۸10 


1 0110 ! ۲٦15 ۲۰۱٥ہ۸٠۸ ماج۸‎ ۷1۱۲٣٢ 
۴۶ص۱۷‎ ۳۰۱ ص510٦۸1‎ ہ٢‎ ٢۹/۱٢١٢ "ناط‎ ۲٦۱٦16 طنلٰ‎ 
0۲ہ ۸۶ )ناد‎ ۲۱1۴۶٢ ے۸ کتاہه ص۲۱‎ 11005 
-۲۱۶11ں 5111515 ۸۷۸۸۷ ں0‎ 0۱۸۹۷۷ 


2 ن۸ ھ۸ م۳۷‎ ۸۷16۸717٦0+ ۸۸۷۷ ٥1۷١ 
171311۸05 
1 نان مزن‌ںنں‌م حپ1ر یہن ۴۸0۷ھ‎ 


٢ن‏ ۸1۸1۳ 111 کا نت ۱۷۱1111 ۶۲۶۰۷٢۷‏ 156ص5۶۱۴ 
۱۷۷/۱۲۷۲۴۰۰ 0(۶ طا۸م ع 11107560 

3 کلای ۸۱۲۷ ہت ۲۱۲۴ ہھ‎ "16 ۱۷۱۲٢٥١٣٢ 
۶ہ <-صہ.‎ ۲٢ ٥٢۱1۸٥6 ٣۹٢ 7٥٣۸58۶۷ ۱677 
11115 10۸57" 


1٦1۸۳ ۳۷۷۸۰. ۷1‏ ۳۷۸ ۳ حاماں٢٢0۱۱>‏ 4 
5001780 ۱۷۲۱۱۲۲۷ 5ہک تہ 


میمارے اس دعوت مس توجوان ادیوں کا جام صحت ہج کے ل ۓےکھڑا ہوا سے۔ 
س کوگی فلسغیادہ موشکافیوں کا وقت حییں۔ ایک ری موقح سے اور اسے بی بچکی 
نات یمرن ہیں اسی موچ کی مناسبیت سے اس تے اپتی نظ مکی بپبلی سطرمیں جی مہ دیا 
ہے کہ مہ سنہ بھی نس“ پیائے جاک میں اور اکیے بی عیرے ہہ شعرہیں۔ لین نے 
ساری نظم ایک جحیل ہے لیان اس نظ مکی طح فی تخلیق کا آغاز بھی اسی نیہ بھی 
جیں' ای حبھیل سے ہو ہے۔ آ ج کل کہ نار اسےسے بھی ہیں جو ٹن کے سلسلہ میں 
کعیل کا نام م نک رگڑ جاتے ہوں* اور فٗر] ہے بھاتا وع کر دی میں ک کیل کا 
نضیاتی مطل بکیا ہے اور انان کے لے ا سکی حاحاقی اہحیت کپنی ہے مجن فی 
کار ہہ سو جک رککعنہ شی جیٹتاکہ اس وقت جھے انسا نکی ایک زبروست قدمت ا ام 
دتق ہے۔ ا سک قلبقی سرکری کے صاع اضاعیت کے سے کے بی اہ مكیوں ۓ ہوں“ 
تلق سے میں اسے ایج سے سروکار میں ہوا عمش قبرتے سے لہ دی ىہ میں 


۸۵ 


سو چاکر کہ ضل اضا یکی افزائیش عیرا خرس ہے خن کاربھی ایک تخلیقی شموت سے 
تھے می ںگمرار ہوا ہے وہ اس بھیل کے لط فکی خاطراپنے آہ پکو اس تریک کے 
حوا لے وا ہے۔ اس ححالے میں قن کا رکی حیفیت لج عور تک کی ہے- برموں 
کے رھ جلبتی ےکی لزت میں تحلیل ہو کے رہ جاتے ہیں۔ اس بھی لکی مسرت میں 
فی کا رکو ہہ بھی یاد خمیس رتاکہ د کون ىی افیت ات رکے رپا ہے۔ ہر برٹ رٹ 
صاحب کے ول پر کھی لکی حا اتی عظمت جتنی چاسے نقتش ہو لیکن فن کار سے لے 
تخلیق سنھمد اور بانوں کے کیل بھی ہے۔۔۔۔ اور اجمیں سحتں میں جھ میق یچ اس 
لفط کے کھت ہیں۔۔۔ نر ان نے شع رکوتی سے متحلق سب سے بھی بات ب یکی 
ہے کہ سے سب سے محصویانہر مخظلہ ہے - وہ اس لج کہ بعول پا یڈجر شع رگوئی 
یقت پر جراہ راست اش اندازخمیں ہوگی۔ ہہ عمل میں ہے۔ مماں جھیں نید نہیں 
آارے بج جن کے ریت جرم یا گناہ پیا ہوتا ے۔ مہ بات پوری طر ورست 
میں* لین فی عخلیق پ بط رحعیل بی ععلوم بوقی ہے .۔---۔ خصوسا فن کا رک وکم 
ےکم خلیق سے وقت وراصل ت خلیق اتی دبش ناک جز ےکہ اگر سے ایک بے رر 
کیل نہ معلوم ہو نے خن کارٴ اس کے پاس نہ گے چنایچہ بھیل بھی شاعری کا ایک 
لازئی جز ہے۔ ینس کے اقی رشع روجور میں میں ؟ کا۔ پامیڈمکر تنے بھی لیکو شاعری کا 
ایک بے ضرر عاحطیہ ایا ہے۔ میق جس طرح بہاڑ کے ساتھ وادی گی رہتی ہے خرن 
کا رکی شخصیت کا ایک حنصردل کی بازی بھی ہے۔ بگمہ ایزرا پانڈ کے خیال میں ہر 
با شاعرکسی کسی عد کک چک جاز ہو ہے۔ خی ریجھے نز تحلیق کا پن ہی کیا سے لن 
ٹاکس مان جیسے بھاری بھ رکم آدبی نے جھے بی جایا ےکم خبرخن کارو ںکو ن کا رکی 
جھ یسب سے زیادہ ڈراتی سے وہ اس کا چچللا ین سے اورو ںکو چموڑ سے نٹ میس 
مس دز سے اىی لئے بر کگیا۔ بمرتال غن ککار کے لئے تطلیق کا ظا ای طرح 
ہوا ہے“ یس میلار ےکی عم شروئع ہوگی ہچ ارےاصاحب چھوڑیے “نے 

اگ اظھنا شرورع دا قے مار ےک انن میں سب سے لہ جو مب پہیاں خوے 
اتی نظ رئیں_ نے تخلیق کا ووسرا خضرہوا۔-۔۔_ خواب۔ اس لف ظط کی نضیاقی اور 





۸ 


حاحاتی تمیریں شروع نہ تھچ ابھی جم اسانی زبان بول رہ ہیں اور تن کاروں کی 
تو نکرنا چچاجے ہیں۔ کے چلہ کر چاسہے نہیں مہ مانتا پڑ ےک فن میں جو عقیقت سے 
اس کے مقالے می اور حقتیس صرف ایک سامہ ہیں۔ لگن چوکہ فن اس چیزے 
عطبعدہ ہے ے ہم روز عوکی زندگی میں حیقت کت ہیں۔ اس لے ہمیں ہہ پھلی نظر 
میس بے ححقیقت اور بے اصمل معلوم ہوا ہے فن اضساقی زبن کے کی عھ لکو ر وکرتا 
جامتا بی خیں “ہہ نے ساری سموں پر ایک ساجھ چا ہے ۔کو رح نقاد ب یگیا۔ ت اس 
نے مال واقی اور تخل حاقرق جانے ہین جنق2 سے شقن سیا کر واز۔ ےگ رآ کار 
ویدہ دانع اپنے آ پ کو روز عو کی حقیقت سے ال کا ہے- وہ جان وچ ھکر خواب 
دین جیا ہے۔ عام لوکو ںکی طرح خواب دی سے ینتا نہیں ای خال آرائی 
کے ری اس کا فنی خخنیل عرات مں ا ہےے۔ میلارے نے اسے ایک باقاعدہ 
ریاحضت بنا وا تھا مہ خواب د کے کا گل بھی فن کار کے بیل کا ایک حصہ ہے اور 
اس ہے بغیر شعرو شاعری تے الک رتی زوا کا ححیقت برحتانہ قصہ بھی تمیں کلما چا 
تا زولا نے رہکوں ماکخار خاندا نک یکدانی نل مطابق اصل ککھی “مر بحاتہ مہ میں 
شس آ رہ تھا ا ہیں فران سکو مے۸اء میں جرمی تنے قلست دی زولا نت ےکم اک 
پان“ اب ہوا جچھے الیے ہی وا ےکی ضرورت تی ہہ جعاگ میں سے لن والی بل 
پہیاں خی او رکیا ہیں ؟ مہ خر تحت فضاء بھی فن کے لئ اتی ہی ضروری ہے جیے 
بپاڑ سے لے یاوں۔ ححیقت میں ژوب جانے کے لے فن کا رکو لہ روڑ مرو کی 
حیقت سے قبع تعل قکرنا بنا ہے۔ میلار ےکی مل پربوں کے سلللہ میں ابھی آپ 
نے 00۷۷۸۳ .0× <۳ کا فقر" بڑھا۔ ا سکی فراضحی سی سس سے سے 
۷ھ . سام میلارے نے اس کا نیہ ھا ے- 3× لن شھ_ راقق ان 
دونیں بانوں میں بدا گرا تعلق ہے۔ شع کے سے کے لے اع رکو یوں ت یکھڑا ہونا پڑت 
ےکم سصرجے ٹاجھیں اوبر حقیق کی اصلی شحل اس طرح نظ رآتی ہے فن کار اہپینے 
تھی لکی وحن میں یہ بھ یک گر ہے۔ ٦یق‏ تکی صرحد انگ جاتے کے بعد ای 
کے سام ھکیا بات یی آتی ہے ؟ 

میلارے نے دوصرے بعد کے شروع مج ںکما ہے۔۔۔۔ مع یم تر میں یل 


ء۸ 


ہے ہیں“ جب کک شاعراپنے خوا بکو الگ در ہک دیکتا رہا۔ ہہ ایک بھیل تھا فجن 
شیسے می دہ اپنے خواب کے اندر داخل ہوا ىہ جھیل مم ب یگیا۔-۔۔ سندر کے سغرکی 
طرح مکل اور خطرناک۔ یہ ع مکیا ہے ؟* اتی اندروتقی دا کی تختش ؟ انضائی قطرت 
کے رازوں کی جج ؟ حیقت عطعب کی علاش ؟ ج چا ےکم لیت اس عخرمیں دی 
بھی مھ ڑحوتڑ ہے۔ ین اس مم کا ایک اور بھی زیادہ یادی مطلب ے۔ 
پینڈرل نکتا ےکلہ انسان نے پا خدا کا سب سے خطرناک عطی۔ زپان ہے- اور نے 
حخفہ اس لے دا گیا ہے وہ اف مم سکیا ہدکلعہ اگ چچھرایک فلقہ حیا تگھڑنے جیٹھ ت 
پت خمیں و ہەکیا کے گا۔ بسرعال ہم اپنے نتطہ نظر سے بویکھیں ن انسان اور پچھریں ہے 
فرق حسوس ہو ےہ اسان کے لے وجود ایک انددوتی تجزیہ ہے۔ پقھ ر کے لے 
جھیں۔ انسان ج سچھ بھی ہے وہ اس وقت بآ ہے جب اپنے ہوئے کا اقرا رکرے۔ 
اس اترار سے لئ اتان وجور میں خمیں آ) اور انان کا سب سے پا اور بیادی کام 
ہے وجود میں آنا۔ باقی سارے کام اس کے بعد آتے ہیں۔ انسان اپنے جس وجو رکا 
اقرا رکا ہے دہ کیا چت سے ؟ ےہ ایک رشن سے دوضری چچڑوں کے سات جو اصول 
چیڑوں کو ایک دوسرے سے الک اور ایک دوسرے سے لف رکتا ہے اے 
بینزران نے ”قرمت' کا نام دا ہے انسان وجود میں آنے کے لے ہہ اقرا رک رتا سے 
کہ اس ””قریمت'' کا ایک حصہ ہوں۔۔ مجن اسان دو سری چچزد ں کی مرو سے وجود میں 
آ0 ہےے۔ اس کا ا تزاف اور اقرار ىی وجور ے- اس اقرار کا زرلیہ انان سے پا 
زان ہے۔ آساقی سے لے میں تے ذرلع مہ ویا۔ زیان اس سے بھی زیادہ ای چچڑ 
ہے۔ لفظ صرف و محس چچزوں کا نام یا چیزوں کا میان نی“ چزیں قلب ماہیت پ اکر لفظ 
مین جاتی ہیں۔ مج زیان بھی ای بىقریت' میس شال سے جس میں انان شال ے۔ 
انان کا وجور اور تیان ازم و روم ہیں۔ پر زیانں خطرناک کیوں ے چرس تہانں 
ہیں چچیزوں کے ساس لاکھڑکرقی ہے ادر دوصری چزوں کا وجود جھمیں اپے وجوو کے 
لے خطریاک معلوم ہوتا ہے_ اتسان وجدہ لا شریں اور حطلق کل جنا چابتا ے* 
لد ری یں اس کا مہ جح خص ببکرتے پر تی نظ رآتی ہیں۔ اضا نکی سب سے ب وی 
اندروی مکش ہے ہے (را نے و حابم کر دکھایا ہے کہ ہہ حیاتیاتّی “نکش ہے )کر 


۸۸ 


انان چو ں کی ہگابی سے بغ وجود میں میں آ سا ین اس آمگاہی سے ور بھی 
ہے۔ می وہ "مار نفاطد" سے جس کے ملق فراق صاحب تن ےکما ہے۔۔ ”بلامیں سے بھی 
حیت کے س ری ہو ںگی۔* مہ صرمتی اڑی ہ ےک تض وقت انسان اس پر مو تکو 
تیَت ے۔ 

میں تو ایل میں اخاں سے بھاکگ چجے 

ہے کیا ضور کہ ہوقی تے موت پی ہوگی 

لین فن کار جان بوچ ھکر اس اممان میں پ جانا ہے۔۔۔۔ اور بھیل کے بمانے 

لفتھوں سے کے میں موت کا سامتا ہا ہے۔ بینڈدان تن ےکما ےکہ اہ ری وقت 
بھی سای جلیہوں' کا کار ہو سکتا ہے لکن قن کار کا کام ہی ىہ بے کہ و ہ کیل 
بی کیل میس موت کے منہ می ںکود پڑے۔ بی میلارے کا ری سفرہے۔ دو مسرے بند 
کی آخری لائی میں جس سند رکا کر ہے وہ بی ”قریت' سے جس میں ڈوہبے بغیر 
اڑا نک وجووحاضل جمیں ہو تا۔ پچھرہہ سنعد رچھی نے جاڑے شی مد ٭و جا ا ےکی 
اس میں گل یکڑکے گی ہے۔ جب آ دی نو ںکی آگاہی سے ڈر کے اہے اندر ککڑ 
جاے تو ہہ وجود کا ا نماد ہے۔ پھرجب آماہی آکی سے تو لرزہ براندا مک کے رکھ دبا 
ہے۔ خرض انسان کے گے قرقت لی اور قریہت لطٰ دونوں تی عزاب جان ژں۔ گن 
دل گی باز قن تار دوتوں :ی عذاب تو لک ہے۔ وہ اپنے خوایوں کی بل پرول کا 
تما شا دنت دنت ایک رم سے چوکھا سے فو پت چکتا ہ ےک میں تو ایک ہولناک حتدر 
میں عف رکر رہ ہوں س جماں دو زبردوست خحطرے ہیں۔۔-۔۔۔ ما ت چماز بوف م نگ ڑکر 
رہ جا کے یا گل کا نغاتہ بن جاہے۔_ مین اگر وہ سفرسے وصت بردار ہو جا پڑ ین کار 
کی حیثیت سے اپنا وجود ام خمیں رکھ سکتا۔ ییماں بھی ا س کی دل گی بیاڑی کام آتی 
ہے اور وہ شمایت انان ےکس دا سے۔ 

5۶ہ۱۸۷[600 ۶ن0 رم 3 مزْز رے یں) 

ین اس سفرییں فن کار بالنل اکیلا بھی یں ہوت۔ صرف اپچے بم عصرز می 

ضس لہ جو فن کا رر چیہ ہیں اور جو آنے والے ہیں وہ سب کے سب ایس میں 
رک ہیں۔ ہیں کی ےک اتقرادی طور سے خن کار تی تمہ قن کار کے ذریج اس 


۸۹ 

کے ق نکی پودی روایت سفرکرقی ہے زتجراو رکڑیو ںکی تس یہاں مناسب جیں 
رہ ےگی۔ شاعر ایک قر کی ححفیت سے ابق رداعت سے الگ ة3 ے؛ لن ہے رواہت 
اس کے اندر ر ہکرعم ليکرتی ہے اور وہ اس روایت کے اندر ر ہی ہہ ایک اور نتم 
کی ”قریت* سے جس کا اقرار فن کا رک وکرنا ڑا ہے میلارے تے اسے جس طرح 
خاہ رکیا ہے وہ جات اۓگریدی تھے میں میں آگی۔ اگریدی میں ت الی خولی 
(7<3< ظ7× 5ط ۱۷٣‏ ہے۔ کن میلارے کے یہاں دوسرے بت کی می لائی 
(3 <۵۱۷ پش ہوقی سے اور ددسری ۸09 د۸ شروح ہوقی ہے۔ فراضضی میں ہے 
دونوں لفظ مل اکر بے ھے جائیں گے لج دونوں ایک بھی ہیں اور اک انگ تھی۔ ہہت 
خیرایک فن کار کا دوسرے قن کاروں سے رشع ہوا۔ لگن دراصصل اس سفرمیں تی 
کاروں کے ساتھھ ساجھھ سارے انسان بھی شال ہیں ۔کیوکلہ شاعزیان استعا لکر رہا 
ہے۔ جو مشتکہ لیت ہے۔ زیان اپتی مممہ خود ایک رح ہے اور ایک تلق ہے۔ 
زبان کا مخحوم ىی ى کہ ایک آدی بدل رہا سے اور دد مرا ئ رہا ے۔ میلارے 
نے نو اتی ایک اور ق لم میں انتا : یکما تھاکہ شاعر حیلہ سے الف ظط کو اص تر صعق عطا 
کرت ہے۔ ٹین زیان چوککہ اصل میں کفتگو ہے اس لے ششاعر زیا نکو تو لکر کے 
اور اسے نے سف رکا ذرلعہ متا کے سارمے انساقو ںکو حکت جمں لات ے۔ جب شاخم 
کے ذریج زیان اپنا سخرشرو عکرتی ہے تو تن لوک ہہ زیان ہو لے ہیںٴ وہ سب کے 
سب ساتھھ نت چیہ آتے ہیں یہ لوگ شاعر کے ساتھ بندحھے ہومے ہیں اور شاعم 

ان لوگوں کے ساجے۔ 
اب میاارے کا چوتھا بن لیے شاخ رکا کیل ہمارے دیکھت و کت مفری نیگیا اور 
وہ اس کے خطرات سے آگاہ بھی ب ھگیا۔ وہ چچزوں کے ورمیان سف رکر را ہے اور اے 
ىہ بھی معلوم ہے کہ میری بست یکو ان سے خطرہ لاج ہے۔ لگن بی چےڑریں اس کے 
دوجو دکی خالق بھی ہیں۔ اب اس کے ساتے ہہ سوال ےہ اپ آ پکو ان چچڑول 
کے ہیر دکر وں گر اس وقنت کک ٢‏ قریت'“ کے اصا سکی صرمسی اس پر الب ؟ تی 
ہے۔ اب وہ خود قیصلہ خی ںکر يہ صرمسق قصل ہکرقی ہے یی اسے پکار ری ؤں 
اور اس بلاوے میں جو تقاط ہے وہ ا کی رو میں بس گیا ہے۔ اب وہ ل ڑکھڑا ےگر 


وا 
پڑنے سے بھی میں ڈرنا۔ ا کی دل گی جازی ا سےکماں کے آتی سے ! 
آخر اس سفرکا ا تل کیا ہے * لہ ت3 بینڈرلن اور پاحیڈمگر کا نظرہ ریے_ 
انان اس وقت کک وجود میں خمیں ۲ جب ک ککہ موجودات سے ””قریت'' کا اقرار 
ن ہککرے۔ ہہ اقرار زیان کے ذرہیے ہوا ہے اور اس طر حع کہ زی لفظ بن جاتی 
ہیں۔ چناجچہ ایک طرف ‏ و زبان اضا نکو وجود جس لاقی ہے دوسری طرف چچڑو ں کو 
شبات جخشؾق ہے۔ اگر زبان مہ ہو انسان کے لے وا نہ ہو۔ زبان دراصل نگ ے_ 
اس لے انا نکی زندگی اور شعر“ ایک می چچن کے دو تام ہیں لان شاع کی کاوشوں کا 
پاتعل بے ٴ ےکم اضان اور انا نکی زندگی وجود آے۔ 
میلارے اس قعظم میں قخلیقی خن کار کے نتط نظرسے سور رپا ہے> اس لئے 
اسے اپے سفر کے مال سےکوتی سروکار ھیں۔ اگر غن کار اپنے کام کے فائترے 
گنوانے گے اور ا کی مر مت میں فرق ؟ جات نز وہ تخلیق نی ںکر سکتا۔ اس کے 
لے انی حلیتی سرسق می سب ججھ ہے۔ چنانچہ میلارے نے اپتی جدوجمد کے تن 
پل بدے لا ابالی پی سے گوا یں۔۔۔ قال' چان؟ عارہٴ لان ے ان 
مسافروں کا ماز سحند رکی وسائیوں مم ںکھو جاے۔ کن ہے چان سے کھرا کے پاش 
پاش ہو جائے۔ محکن ہے ستاروں کک جا یچ قن کار ان امکانات ے واقتت ے“ 
گمران سے بے خیاز بھی ہے اسے فو اس ہہ دن ہ ےک سخرعجاری رے۔- 
(قاطت5۹0۱1017) ۳۷۲۶۲ .ہہ ںہ 
اگریزی کے میم نے .۷77 مہ کے بات مل دی ے۔ قراضمی میں 
1.071 کے صعی سید بھی ہیں اور خالی بھی۔ خالی ہوتے کا تصور میاارے کے یہاں 
رکزی حفیت رکھتا سے - یہ عد م کی بھی علامت ہے اور وجوو کے کل ہو جات ےکی بھی 
پھردجود بھی نز عدم ىی سے پا ہوا ہے۔ چتانچہ شاعرکے یادیان جس حلاش میں سرگرواں 
ہیں دہ صرف مصفا و ضز ہیں خی“ ”خالی“ بھی ہے لتق شاعر لہ سے ىہ ےر کے میں 
چلاکہ تھے ڈحومڑتا کیا ہے۔ ہہ سرگردائی اسےکمیں بھی نے جا عق ے۔۔۔-- حاروں 
تک بھی پا عمق ہے۔ موت کے کھاٹ بھی انار کمق ے۔ اسے حاش خیق ی 
ہے اپے اور دوسرے کے وجود کے اتقرا رکی ہے۔ قخن کار کا کام مس انتا ھی ہے۔ 


۹ 
سا فن کار ستارے ڈحوعڑتے میں تما وہ یس قل پڑت ہے۔۔۔۔ اپتی خودی کیکوتری 
سے قح ل کر دوسری چو ں کی طرف چل دنا ہے۔ چاسے اس حوق کا شرییھ بیکیوں عہ 
ہو۔ میلارے تے اپینے قاضیوں میں ساری یا تفکسہ دی ہے آخزری بن دکی لی اور تصسری 
لانتیں جم افیہ میں .07ت (ستارہ) کا جحراب ہےے- 791-75 (یاربان) - شاعر کے 
لے اپنا بادیان ہی ستارہ ہے۔ اس کا سخرہی ا سکی مضزل ہے۔ 
اق ياقں ج ری نفذیرں ے پچھ- 


استحار ےکا خوف 


آیسویں صدی میں جن لوکیں نے مارے ادب میں دی مخمی کی ترک 
رو عکی اضسوں تے خو بھی مخری ادب نہ بڑھا تھا۔ دوسروں سے تج کرا کے سنا و 
ارب سے جیں چند خیالات سے اہی عاصل ہوگی۔ چکہ فاع قوم کا رعب ول پھ 
جما ہوا تھا اور ان کی ہر یا تکو رن ککی نثاہ سے دیکھا جات تھا“ ڑا ہہ خالات اپ 
خیالات سے وزتی اور وقّع معلوم ہو ے_ چاے زیان سے ہکا گیا ہوٴ ٹن ق ا ھل۔ 
ارب کے متلق ہہ رات اعم ہو یکہ ادب وہ نز سے نس میں بدے اچچ اع اور 
کار آھر خیالات میں اسالیب جیا نکو نے می اگ یاکہ ا نک یکوکی حشثیت ہی شیں- یا 
بست سے بست ماتوی حیقیت ہے۔ سب سے اتچھا اسلوب وہ قرار پایا کٹ شں زیان 
آسان؟ جللےےہ چھوئے پچھوٹے عیارت صاف“ روالں اور سمجی ہوگی ہو اوھ سے می تھی 
تو رک لیامگیاکہ مہ خوبیاں ارارے یا صمشمؾ یا خلوض یا قوم کے ورو ے پا ہو گی 
ہیں۔ دہ جھ قرائڑ تن ےکما ہے کہ اسلوب ککعتہ وا ےکی سواع ری ہوا ہے۔ تو اڑی 
بات مارے مسلحوین کے زبن میں بھی حییں ۳ ححق تھی بللہ اگر اشنمیں کی بھی جاتیق 
ہے نو ا نکی مھ میں تہ آّی* اور ت ان کے گے تاعل تول ہوگی۔ پھ ران رتوں 
اناوت رس اور حخقلیت کا بی یڑا چچا ھا سرسید اور ان کے سای اپتا پررا ٹور 
اس یات پھ صرف کر رہے تھے کے اسلام کے ”اخام** بی برعقل اور ویادی نی 


(۹۲ 


کے لے بے کار آھ ہیں۔ انا نکی فطرت میں جو ہے صلی ہے و مد رجاے 
گی۔ اس کی اشیں زرا بھی گر نہ جھی_ جب لوگوں تے نقرآن ری ف کو یل کار گی 
کا پراعت نامہ یتا کے رکھ دیا نو ارپ 3 پچارا پچ ربھی ران کا جنتوالی ہے ا س کی و جو 
اہ ے کت متا ہے چنامچہ ادرب میں بھی ایک خی شریعت ناذز ہوگی اور ارب سے جن 
خاص مطایے سے ھے۔ 0) اوپ ار اگیز ہو۔ شی میذیا ت کو بدبی طور پ اور فی 
الفور حکت میں لائے۔ (۲) اصلیت پر نی اور حخقل کے وانڑے م"ں پتر ہو )٣(‏ مغیر 
اور کا رآ خیالات چٹ يککرے۔ ان اصولو ں کی تچ لی مں فاری اور اروو کا پرانا اروپ 
چھاناگیا ت پڑاک مکرا پا اور تر اور بچارے سادہ ول مولانا عالی جو اپنے مہ سے مہ مم 


ہیں۔ 
تی عخل ے ہیں ضج 
بر نی خر مو نی جرانے گے 
ان ت٠‏ کک ہے شکاعت پیدا ہو کہ ارے اوپ کا بست بڑا حصہ جذیات سے خا ی 
ہے۔ اگر ہے اوپ جزیات سے نا ی ہے نکیوں ؟ اس جم چذیا تک یلہ اد رکیا ے ؟ 
جذیا تک یکی کے یاوجود ہے ادپ واتّی اوپ سے یا خی ؟ ان سوالوں پر عال ی کی تخل 
تے بی خر میں کیا جو سوال مسشرمکانے کے وین میں چدرا شی ہو سا دہ ان 
بچاروں کے زین ج ںکماں سے آ۔ عالی تے اتی عدوں کے انور پدے مض ب کی 
شاعر کی ہے مین ا نکی شخصیت اتی منری ہوتی تق ی کہ دەکی طر کی شاعری 
سے قھا“ بے خیاز تے۔ جذیات کے تو دہ ضرور ماکل تھے نیشن جذب سے کچارے 
مولانا عاپی ات ڈرتے جھےکہ اتی عق لکو بھی تھوڑی سی ڈعیل دی ےکی ہمت کر 
جے تے۔ رو سے ی نکی عثال میں اضموں نے شاہ تصیی رکا ہہ شع یی کیا ے۔- 
جال چازر متاپ غب خش تے خغرین پ 
آورا گج برڑاۓ :8 رخر زین 
ان کے نویک يہ شع میں چتاں ہے ۔ موی چیتاں میں شعریت تیں ہو عحق_ 
آتح زب کو جذبات سے الیک کر کے حض مخھیل کی خاطراشیا اور خیالات سے کل 


ہیں 


1۲ 
میں بھی تو ایک الف ہے مین چوکہ اس میں نہ ت جذماتی آسودگی ملق ہے۔ مہ سے 
حرکت قو مکی فلاح و یبود کا سامان می اکرتی ہے اس لے مولاتا الۓے لطف سے یارہ 
چھراک رجے تے۔ قوم کے اتحطاط کے احساس اور اصلا حکی اکر نے اشمیں اور ان 
یے لوکو ںکو اور بھی مار رکھا۔ قصہ حخفقر“ برانی عم و نٹریں اتی جو زایاں نظ رآتی 
ملین ون لی او ر کو ور کے صن مین تہ "کت لین ئک بات سوک ار ےھ آزیب 
میں مال بدائع کی بھرمار ے- ووراڑ کار تیّہں اور احتعاروں گی بل عل ہے۔ 
اس لے ہارا اب مخرپی ارب سےکتردرہجے کا ہے ایک طرف تو حالی نے اییا شر 
07ات 
آگ خر چاۓ گٔ۔ گوارا جو خش عق 
کن ے آت لنت تم چر گہاں 
دوسری طرف تقید بازی کے پچکر میں 7 کے استتار ےکی تریف اہےے الفاظ یں 
کی س ےکلہ آ دی خواہ محزاہ برک جاتے۔ ان کے نزدیک استعارے کے جن فاردے 
ہیں () اس کے ذرہیے ھی چوڑی بات مقر الفاظ میں ہو تی ہے۔ (۲) روکھا پیکا 
مخمون آب و اب کے ساتھ بیان ہو سک ہے۔ مجح جزیات و خالات کے اظمار 
میں *اصل زبان کا جافیہ تگ ہو جاتا ے۔*' اور مو زبان'' رو وق ے۔ الٰی 
لہ استعارہ شعرمیں لطف اور اث چا کر دؾتا ہے۔ اوبر سے عائی نے تیب کی ےکم 
اگر استعارہ بعر از فمم ہوا ت شعریت زائل ہو جاتی ے- 
حائی کی اس ساری یٹ کا خلاصہ ىے ےک ”اصل زیان' الگ چڑزے- استحارہ 
انگ ہز میں کام تق بغیر استعارے کے بھی چل کا ے> نے ہے ارآ ے وگنہ 
اس سے روھی پچ بات عزیدار بن جاقی ہے۔ مس شرط ہہ کہ آ دی خقل سے 
دائڑے سے تہ لہ “کیوں صاحب“ اگر ہ مکوکی السا تجریہ جیا نکرنا جاہیں جو ماوراے 
عحل یا اضاتی تق کے یا اق عمل ے ملق ہو تپ رکیاکریں ؟ لا بیرل کا پٹا پٹایا 
مع ستف 
قامتی کہ نی ری زلار می ۔کتار ما 
پن جمیں اس میں استحارہ ہے بھی یا خھیں۔ بسرعال جو چچ زبھی ہ ےسیا وہ ععقل و 


ك1 


فم سے نۃذیک سے کیا فم سے بعر ہ ھکر یہ شع چیتان بی نی گیا ہے ؟ اگر عا ی کو 
اوب می ایک عل یڑ ھکھو لے کی اتی ھر تہ ہہوگی تو خوو اپنے اوپ میں اتّیں الٰی 
یں مل جاتیں جن پر خورکرنے سے وہ استعار ےک ماہیت سمجھ جھتے تے- بمرعال 
ان جیسے نتاروں کی تک نظرانہ تل پر اور احتیاط پپتدی تے اررو والوں کے ول 
میں استمارے کا خوف پیداکر دیا۔ اس مکی پیددی مخ یکی جھڈنڈی پر جلتے لت آر 
ایک ون ایا بھی آیاکہ ہمارے یک نقاوتے لا اس شع کو مل تزرار ویا- 
جھیے وہ ون کہ تھا ور حناول مکن مگلشن ہیں 
خزاں کا وقت سے جیشھے ہو تے کے اڑاتے ہیں 

عالی خود سکتے بی اہیجھے شاعرکیوں تہ ہوں اور ایک خاص طرح کے مرو ںکی کی 
خی اتھی خی کیوں نہ رھت ہوں ‏ جن ا سکور ذدقی کا آنغاز اتمیں سے ہوا۔ ہے تما ی 
خولی ارپ کا محلہ بھی جیں_ جو خس ىا جو جماعت استعارے سے ڈرآی ے۔ وہ 
وراصل زندگی کے مظاہ رآوز زندلکی تووں ے ورتی ہے ینہ سے کبراتی ہے۔ عالی 
می تو پھربھی اجی ہمت خج یک مہ اعتزا فک رھ 

یم کو بمار میں تی مر گلتاں تع تھا 
بین خزاں سے پل رل خاراں ع تھا 

ان کے بعد آتے وائے تو زندگی کا نام نے لم ےکم زندگی سے بھاگتے رہے_۔ 

جیساکہ میں تے او ہکماٴ حا ی کی بخیادی خطعطلی مہ خی کہ انوں تے استار ےکو 
”اص زبان' سے الک ھا- خالبا ”اصل زبان''کی اصطاح سے ا نکی عراد یہ تی 
کہ زیاع ہنقسہ اع جذیات اور خالات کے اعظمار کے لگ وجوو میں کی سے جن پے 
ہمارے شعوری زک یکو پری قزرت عاصل ہو- جن نہ نو شعوری زہن انال وجو و کا 
سب سے جیادی اور ابتداتی جز سے نہ اس سے ذرائعخ اظمار ححقل زیان کک رود 
ہیں۔ انسان نہ ۔خالی روح سے تہ خالی زن اح سب سے لے دہ حاتیاتی نظام ے۔ 
پھر ذریعہ اما رکی حشثیت سے زیان ہماری اتا ی اور انفراری ارتقام میں ایک جا وی 
درجہ رکھتی ہے اور مشوونما کی کئی خزییں سلکرتے کے بعد عاصل ببوتی ہے۔ پچ 
اپنے تزیات کا اظمار سب سے پل جساتی حرکتوں کے وریی ےکر ے اور جب إولتا 


5ك 


ھا سے اس وت بھی اس کے زیت لی ما ذہنی خی ہت پکہ جھگی۔ چناچہ 
انان کی انتا ی اور انقرادی زندگی مج زیا نکو سب سے پچ لے جن قوزیات سے سنا 
پڑ]ا سے وہ قوموں ہے حروج اور زوال کے فلننہ میں ہوتے پلمہ جساتی جخقییں اور 
یلو کی ویش ور مصاع قم قلتی نے سے پور اور قلسقیانہ سے قلسقیاتہ بات 
کر جن نے جج زی اخین تجیلی ہیں ے حقن کش ہیں گرظار چا ےچس اج 
اسے شعوری طور بر ہے بات معلوم ہو یا نہ ہو۔ اپ دنن کے ذر آری جبتویں 
سے بھالنا چاہتا ہے۔ لگن زنک یکین گا میں خور جبلت تی ہوگی بٹھی رہق ہے۔ 
غرض جم زان سے جو فقرہ بھی کمیں اس میں بھولا ہوا یا زبردسق بھلایا وا ریہ اور 
پاری ا پیر ہوم ے۔ ‏ مق مارا ایک ایک خر استمارہ ہو ے۔ 
استیارمے ے ارگ *داصل زان **کوتی ج زیں -۔کوگل او اما ے خر 
زان ادروثی کے اور غارق اثیاء ٭ ہے ورمیان عتاسیت اور مطابقت ڑھوڑتے یا 
خارتی اشیا کو اندرونی تجربے کا ائم مقام بنانے ک یکوسشش سے پا ہوتی ہے۔ اس 
لے تقیبا ہرلفط ہی ایک عردہ استارہ ہے۔ اص زیان یی ہے 

یہاں آپ اعتزاق کریں مے ک۔ اگر پر لفظ استمارہ سے پھر الگ سے 
استحارےکی بث ہی بے کار سے ما ہ ‏ کھییں کہ جن استاروں کا مطلب صرف 
اہر نضیات مہ یں ان سے اوب کے طالب عو ںک وکیا سروکار۔ ہیں و ان 
استعاروں سے غرض سے جمییں ہم بھی استیارہ ککھیں نشی وہ استعارہ جنمیں شاعر 
پا نر نار انفرادری طور سے تخل قکرا سہے ۔ مل عام الفاظ سے اخیا زکرنے کے لئے 
انن زیرو انار ھکے یج ین زع اود عردہ دوثوں تم کے استتعارے آخر ایک 
بی عحل کے زرییے اور ایک بی اصول سے مطالق خخلیق ہوتے ہویں۔ استحارے کیا 
پرائش کا عل دتی ہے جو خوا ب کی چیدائیش کا۔ آدی اپنے جیا ت کو قول بھ یکرنا 
اتا ہج اوز زرد بھی۔ ان دو رحانات میس مھت سے صورت فاق ہےکہ جزیہ برا 
راست فو ظاہر میں ہو ہو بھی میں کتا۔ اس کے ہا ےکوگی خاری چز جرب کا 
عاتم عقام من جاتی ہے۔ اس عحل کے زرلیہ چاسے خواب وجود میں آے۔ چاہے 
استمارہ* اس مں جمارے شنورٴ زاّی شور * اای ا١‏ شور“ احصاى چڑے اور خیال 


کی 


کے ساجھ ساجھ ہمار ےمم ردوٹیش کا وہ حصہ بھی شال ہو گا جو ہم نے انت اندر جذزب 
کر لیا ہے۔ با استتار ےکی تحلیق کے لے آ وی میں دو طر کی صت ہوتی چا جۓے- 
ایک تو اپنے لاشعور سے ہیں چا رک رن کی“ دد رے اتی خود یک یکوٹھری ے کل 
کرگمرددپچیشی سے روط متا مککریتے گی استتھارے میں سوال یہ خی ہو اک وہ عط نکی 
حد ٹم پیا قرین قیاس ہے ما تیں۔ دیج کی بات ہہ ہوقی ےک استعارے کا غالق 
ان ملف حناصرسے کتنا رڈ ما مکر سکا سے اور اخمیں آ یں میں مع لک کے ایک نی 
اور صعنی اق و رت گی نکیل کر ما سے پا مجییں۔ نہر وخ کیک صعلمن کو مویرار 
بنائے کا محاطلہ خمیںٴ لہ اصل انسار ہہ ہے میرے خیال میں۔ یماں لظم اور نڑکی 
تفرق بھی جائز میں ظلویر اور جو کے یعر تتیر ان روتوں چڑوں کر الگ انگ 
میں رھ ححق۔ آوی چاسے نشم کہ رہا ہو چا سے نش لگن اکر وہ خی قکرنا چاہتا ہے 
ر ادروثی وئیا اور یل وا ووٹو ںکو ول سے لقر اور ان دونو یکو آلیں میں حوۓ 
مغیرچارہ خمیں“ اور اس کا تہ ہوا ہے استعار ےکی پیدرائیشی۔ استعارہ 3 اضائی تجرے 
کی تلوں میں سے رستا ہے۔ ہہ عقل و ق لکی بات جییں جس طرح صحست عند آدئی یا 
صحت کا تلای خواب دک بغرخمیں رہ سگتا۔ اىی طرح استتارے کی فخلیق اورپ کا 
لازی عحل ہے مہ انگ بات ےکہ آ دی اس عم ل کو در دکر کے یا اس پر ند یاند ھکر 
کے انی تملیتقی صلاحی کو ححدودکرتنے- 

ڈاکٹر جا من نے سو ٹمفٹف کے متحل قکما اہ ہے سال استتدارے کا خطرہ ھی مول 
میں لیتا۔ جاضن کا مطلب ت خر ایک خاص طرز تز سے تھا نان اس فقرے میں 
انموں نے ایک نضیاقی ححیقت جیا ن ہر دی سے تض لوکوں کے لے استارہ واتقی 
ایک زبروست خطرے کی حیثیت رکتا ے۔ وہ جبلت کی حیات اقروز اور پلاکت جز 
توقیں سے گرا کے اپینے لے ایک تک سا صجلی نظام بنا لینے ہیں یا عتل سے ائدر تقلعہ 
بعد ہو کے جٹھ جاتے ہیں استعارہ چو کہ ححتل اور منطقن سے اورا ہے۔ اسی لے 
استعارہ ان سے زین میں ابجھرا اور ا نکی زندگی کا نظام خطرے میں پڑا۔ الیے لوگ 
خاص شریطوں کے ساجھ زندہ رہ کت ہیں ہہ شرمیں شحم ہوکھیں اور ا نکی زندگی ددم 
برجم ہوگی۔ اہنترا استعارہ کا خوف اصل میں خر ج۰ی قجزیات کا خوف ے۔ استعارے 


۹۸ 

سے ا تحخزاف زمدگی سے ا راف ےے۔ 

جیسا میں ن ےکھا“ استتعارہ اچنے اندروئیٰ گجزیات اور خارتی وئا کو ہلا تک تول 
کرتے سے چدا ہوا سے اگر آدی اس کے اندر اٹچجھ کے روگیا یا اپنی محبت میں الیا 
مر ار ہواکہ خاری دنا سے علاقہ جاقی نہ دا یا اس نے اپچنے قجریا کو تجو لک رن ےک 
صلاحی تکھو دی استعار ےکی خخلیق درکنار٭د ہکوتی حقلیتقق کا مکرجی میں کا بللہ 
ایر اتی روزق گی ضی کا ط)_ 

اکر کھتنے والا استھارے پالنل می میں استعا ل کر یا بست بی کم استعارے 
استعا لکر ہے تو اس کا عطلب ہہ ہ ےکم دہ اپنے جرب ے کا یس تھوڑا سا حصہ قولِگر 
کا سے اور نے قثزیات حاص لک رتنے کی صلاحت تو اس میں پالگل خیں ری۔ الی 
عالت میں دہ یھ ۓ یجن اکھت نے گا نین شس عالی بن کے رہ جاتے گا یا چم ریدا 
ادیب نے کے لے ایے آد ی کی خصیت میں اتی قردت وت چاجے کہ اسے سے 
تثیات ت حاصل ہوں ٹن وہ اس کے نفسیاقی نظا مکو درجم برہ مک کے رکھ دیے کے 
بیاۓ تچ جھت اکر خور اس نظام کا حصہ بین جاتیں۔ ایا منص سو مض ٹ کی طرح بدا 
ادیب تو ین کت ہے ین ا سکی تلق صلاعیتو نکی بری طرح نشوونما ھیں ہوتنے 
پاقی اور ساتتھ میں انا ٢ل‏ نظام اعم رک ےکی قمت بدی زبردست ادا کمن پڑکی ہے 
بیس سوکفٹ خور آخر میں جا کے پاگل ہ وگیا۔ پچھرایک بات اور یاد رکھتی جا ہے اتا 
بدا ایب چاسے شعوری طور پر استعاروں سے تا ہوٴ اور جئیں ا سکی تی مں بظاہم 
استارے یہ میں گر ا سکی پدری فظم یا پور یکمانی یذات خود ایک جم گی راستحارہ ہو 
گی۔ سوئفٹ تے گیور کا جو تصہ ککھا سے وم استحارہ چموڑ ایک زبروست 24۷711 
ہے۔ آذد یکو اہ نے باطن اور خارح بر موئمفٹ مج یگرفت حاصل ہو اور وہ کی ۶ہ 
کسی شل میں استعار ےکی تخلیق عکرے ہہ پالتل نا حان ے_ 

ان صورقں کے برخلاف ایک صورت یہ بھی ہو سی ےہ آ دی اپنی تر میں 
اننتھار ران الع یفز زا نکر وت ےون بت ہے تی و ےل فیا عفن تا با ریم 
حاص لک رن ےکو نے بے قرار ہے لان ا نکی تحظیم جییں کر سکتا اور تجر ےہ اس سے 
تتابد سے باہر نل مھ ہیں۔ یا اھر استتھارے خواہ ام اور التڑ] استعال ہو رہے یں ز 


اف 


اس کا سیب ہہ بھی ہو سکما کہ آ دی کا دماغ ادر جذیات ایک دوسرے سے الگ ہو 
مھے ہیں اور اس کا زیھن خیالات اور اشیا سے تخت سے طور پ ربیل رہا ہے یا ایک 
طرح کے ا مزا پالنغض میں مشخول ہے پچ رآجخری صورت اور سب سے ىقائل فدر 
صورت یہ ہ وگ یکہ استعارہ صرف قجزیات کے اعظمار کے لے می میں بللہ ان کے 
ازشہاط اور حظیعم کے لے بھی استعال ہو بہرحال استعار ےکی موجو دی اس ات پ 
ولا تکرتی ہ ےہ کھت دالے مس اہپنے ریا تکو تو لکہرتےٴ سے ہجزیا تو حاصل 
کرتے اور اگمر ضرورت بڑے تے اپنے برانے ذبتی نظا مکو نو ڑکر ایک نا نظام تب 
کرت ےکی صلاحی تکی ت لی حر کک موجودے۔ 

اب ىہ دی کہ اسنتعارے سےکیا حاصل ہوا ہے۔ سب سے لیت بسی ہے 
کہ اس کے ذرسیے اپنا بھولا ہوا تجزیہ زندہ ہوا ہے۔ اچ نے اندر جو قوت کے سرچنٹے 
عقل و تر دی می کے یچ دبے پڑے ہیں ان کک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ مجن اس 
سے بھی بڑبی بات مہ سےکہ استعارہ یز بے اور کگ رکی علبیرگی ش مک کے اشمیں نیک 
روسرے میں پچز پکر وا ے_ شعور اور لا شور* ”مم اور ومارغٴ قرو اور بماعت*“ 
انان اور نات کا وصال ای کے ومے سے ہو) ے- اس کا اث دہپا ہو یا شہ ہو۔- 
یرعال جو خصی تکئی کھڑوں میں ی فکئی ہو اس کا علاجع وق طور پر بی سی“ استمارہ 
کر ہے۔ اضاقی وجود اگ رککہیں وحر تکی شحل میں نظ رآ ہے تو استتتارے ٹیں۔ 
مولانا روم ت ےکما ےکہ جب صشق دل میں داخل ہو سے تو خود بر سی بھاگ جاتی 
ے۔ بی عال استتتارے کا ہے- خود یس“ اور استحارہ دوتوں ایک دوسر ےکی ضقد 
ہی ںکیوکلہ استعارہ اپنے ذاتی تجربے اور خارتی اشیاء کے درمیان مناسبیت ڈھویڑتے کا 
نام ے۔ استخارے سے وی وی گبرزتا ہے جو آپچنے آپ ہے چا پا رے اور 
ماری کائجات کے احاس اور اورا ککو معیبت متا ہوٴ استتارے کے استمال کا 
مطلب بی ہہ ہےککہ آوی میں خود برس کی کا لکوٹھری سے نک لک رکاتنا تکی طرف 
بدخھال ھت امرگ ١ی‏ عضو کی ںخا ا :عچاووعر رتو لک کنا 
سے جو سیا شی کر سن ہے۔ ار آ پ کو وت چاے ے بی رکا ×روم" ابیڑ 
جولیٹف' یڑ ھھے۔ رومیہ کے جولیٹ پر عاشق ہوتے ہی دای جربھونڈی سے بھونڈی چیر 


۲٠٣ 
اس کے لے محیت کا استعارہ بن جاقی ہے۔ رومی کی محب تکوگی روکھعا کیا ممون میں‎ 
تھا سے ور استعاروں کی یرد سے برلطف ما رہا ہو - اس حب ت کی ”اصل زیان'' می‎ 
تی۔ عشق ہوتے می ا سکی خود برسیق اس طرح شتم ہوک یکہ دہ کاتحا تکی حتیرسے‎ 
حرج زکو گے نگانے لگا۔ رومیو کے دل و دباغ میں کاتحا تیر حیت اور استدارے‎ 
دوتویں ایک ساتھ سا ب کی طرح آ نے ہیں ۔کی وہ خارتی کائتات کی میت کے اقیر‎ 
استمارے کا اتال * جممیں کاننا تکی محبت پر جو رکر] ہے۔ استعار ےکی شرط بی ىہ‎ 
ہ ےکلہ کاننا تکی برصورت چم کو بھی اہپپنے اندر جز بکریں ٴ اور خود ان شش جذب‎ 
ہو کیہ استفاز' انماق :اور کانکا کو ایت روضریے می مغ ممیت ےتا ایک ول‎ 
ہے۔ اسی عحل کے ذرسیے چو ںکی قلب ماہیت ہوکی سے اور اتی می اور انان اور‎ 
کاتنات ایک میم وحدرت کے اجزا ین جات ہیں۔ نظیری نے بی حخیقت ایک‎ 
استعارے تی یں ما نکی ے۔-‎ 
ک_ جلا یاق از غار مخیلا ں”شم‎ 

اہر ےک مجائنات سے امیا دید رابطہ اخ مکرنے میں نعاط بی میں دردو خم 
سے می ندچار ہوا پڑتا ہے۔ کاتات جھمیں پچکار کے اپےنے پاس ملاتی سے اور ڈرا کے 
بیکاتی بھی ہے۔ نحاط و خم کا ىسی استزاج استعار ےکی جان ہے مہ خم و نغاط ”بعد از 
ای ے۔ عحل ےاودا ہے۔ اسی لے استارہ بھی بعر از فمم ہوکر بی استعارہ بآ 
ہے۔۔۔ چاہے مولاتا عاٹی اے ‏ سار یں 

صشق کے علادہ استعارے کے لے آدی میں ووعری علاحیت اکسا رگ بل 
چاجے خجی دہ اتی جستی کے اصول کو زنرگی کا واعحر اضول تہ جھے- استعارے کا 
عطلب تی ہہ ےکم کاتنات میں بیک وقت وجود کے کئی اصول کا غریا ہیں جن کے 
ورمیان اختلاف بھی سے اور عماث مت بھی اور جو یدبی تتضاد کے پاوجود ایک وومرے 
مین جزب ب ھکر ایک جنرگک تز ود تکی فک یل یکر مکت ہیں خلا پالزاک تے یں 
کی بی بہوقی ممارقو ںکو روس کے مگعاس کے میداتوں سے تم دی ے اور عک 
کےکر یکو ںکو سقیر سقیر ری ہوی مروں کے سمدر سے۔ ہہ دوقوں اتیل ”لیر از 
ق۷ ور دشعمل'" ہیں "گر یالزاک تے استتحارے کے ورجے وججوو کے وو اصولول کا 
مقال ہکیا ہے۔ ایک طرف ت فطرت ہے۔ دوسری طرف ری مصنوی زندگی- چم ران 


۲) 

دونوں متظروں میں مشاس ت کی طرف اشار ہک کے بالزاک تے ایا ےک شمروالیں 
نے اپتی زندگ یکو فطرت سے الک تک لیا ہے لگن ا نکی حرت حیات تنے مصیبوی 
چو ںکو بھی ائسی قوت اور یت عطاکی ہے کہ وہ فطرت سے مقال ہکرتی ہیں۔ ایک 
اور “تی اس میں ہہ مت ہیں کہ چاے انسان اپینے لۓ ایک تیر قطری ماحول بی کیوں 
نہ تا رکر لے گر اسائی روح ا سکی تقی ربھی فطر کی اصطلاع می ںکر کے اس ٹیر 
فطری ماحو لکو بھی پھر فطرت میں خر قکر د ےگی۔ اپ عولاتا عالی بتاکی ںکہ ہے ساری 
باتیں ”*اصل زیان'' میں کس طر کی جا عق ہیں“ لت چلاتے ایک اور عثال دی- 
پروست نے ہٹل کے میزپرشو ںکو قریان گاہ کے خلافوں سے تیب دی سے جن پر 
ڈدپیے ہو سور کی دوشم بی ردی ہو۔ عالی کے اصولوں سے مطالق یہ حبر بھی نیم 
متاسب“ دوراز کار اور یعیر از فمم ہے۔کیوکلہ ہوٹل میں قریان گاہ کا سا زس تمیں 
”تا نان پروس تک وکھنا بیہ ہےکمہ لت لوکوں کے لے دنیادی زندگی بھی ایک رہب 
کا درجہ حاص لک یی سے -۔۔۔۔۔۔ اور قماایت محصوم رق سے۔ نہ بکی طرح 
مہ بھی ایک اصول حیات ہے اور اس لے قائل اعزام پھرجس طرح نزہب قیایاں 
چاہتا ہےٴ اسی طح دنادی شاشنگی بھی بڑی بڑی قیانیاں وصول کر لق ے۔ ایے 
واقات ے پٴوست کا نادل بھرا پڑا ے۔ چناتہ ہے استتحارہ ایک طرف تو طرے ےج 
دو ری طرف حنصہ۔ اس ایک استعارے مج پروست تے انا پورا ناول بھردیا ے۔ 
وجود کے اتے ختضار اصولوں اور تونوں کو کی اکر کے ان کی توعیت پرل ویتا عرف 
استحارے کا کام ےے۔ 

رشں تے گیا یرا گنا جز لوگ اسھارے ۔ے یت ین ہداس :نکی تل 
قوقیں سے ڈرتے ہیں۔ چوکلہ ان میس ججرہ کی می بجی خیقوں کو اپنے اندر یذب 
کرت ےکی ہت شی ہوقی* اس لے وہ جرح مکی خی رتلتی باتو ں کی طرف سے خطرہ 
حسو ں کرت ہیں“ اور استعارہ ‏ از ی طور پر اہن ساجھ خر متلقی اور بعر از تم 
گجزیات می کے لاج ےس ودنا استتعارہ داقن ڈرن ےک پچڑے- 

خر ایک آوھ کک والا استتارے سے ڈور ہے تو ور اککرے لیکن اگر سو سال , 
کک اویوں کی شی ںکی میں استمارے سے رز روں 3 اس سےکیا تچ ب رآ 
بنا ہے ؟ اب ہریات جھ تی سے لوا یے_ 


اوپ یا علارج القریا ؟ 


یں تر فیصل کن باجیں نے کا یھ ویے بھی حوق میں“ پھرارب ‏ خود ایک 
ملسل تجیہ ہے نون تخزمرات خی جو بات بات میں تالق نیہ صادر کے جاتیں- 
بیراں نے ایک تل تضتیشق بی سب بچھہ ہے مجن آرچع میں نے مان بوجھ کے اپے 
سام اور آپ کے سا سے ایک ایا سوال رکھا سے جس کا کوگی جواب ھیرے پا 
تیں۔ ارب پڑت یا برا جھلا ارب اکن کے سلسلہ میں جو قزیات بے حاصل ہو ہے 
ہیں٠‏ عام طور سے اتمیں کی محمد سے ادب کے بارے میں سوپنے کی کونش شک اک ھا 
ہوںٴ لن آج کا متطہ ہی یھ ایا سے جس کے سالے میں چھوٹی موٹی تملیقی کاوش کا 
تی صوومند قھین و گنا اس سے متلق بلہ کت کاجؾق تو و راصص لی کسی بہت بورے 
خن کار ب یکو پموچتا ہے۔ گر چ کلہ ہہ سوا لکئی برس سے ججھے بر شا نکر رہا سے' اس 
لئ میں نے سوچاکہ جو بھی الم خلم خیالات ھیرے زین میس آتے ہیں اخی ایک جلہ 
ےج مر روں* چاسے اس بث کاکوگی سخ نہ لے 

ارب ے صاع کو گیا فاتڑے پہ ریت ہیں۔ اس سے ملق تے لہ پررہ سولہ 
سال کے ع سے میں ہم بصست بیج من ہے ہیں لیک ن بھی بھی ىہ بھی سوچنا چا ےک شر 
کے یا اضمانہ آکنہ سے خور قن کا رکو ذاقی طور سےکیا یش پموچتا ہے خیرات بلت 


١ 

ظاہر ےکم آ دی شع کے تو ا سکی تصوبہ رسالوں میں چھپ جاتی ہے۔ ہہ چن ھی 
خاصی روح افزاء ہے لیکن اس سے علادہ بھی اع رک فکوگی ادر چیہ پسئچؾی سے یا نیں ؟ 
ایک یا بہت سے فن پارے حخلی قکرنے کے بعد بھی خن کا رکی شخصیت وش یکی وی 
می رہق ہے ما اس مم ںکوکی ارتا یا انحطاط رونما ہوا ہے ؟ فن کار اپنے جزبےے یا اپتی 
خصیت کا اں ہار اپنے فن پارے مج کر دے ‏ وکیا بات میں شم ہو جاتی سے یا اظمار 
کاکوتی روعمل ا سکی خصیت میں بھی نظ ر٢‏ ے_؟ 

جب سے فرائن کی فضیات متبول ہوکی ہے۔ مہ خیال عام ہومگیا ہ ےکم فی تخلیق 
کے ذریج فن کا رکی نفسیاتی ائچھتو ںکو ارنفاع عاصل بہت ہے۔ لق ج بکوئی جبلت 
براہ راست اپی تین میں کر تی تو وہ اس تسین کا یرل ڈحویڑتی ہب این 
کے غاقوی ذراتع و عم کے وت ہیں ینہ آو قرر اور سارح ووتوں کے لئ خر 
رساں اور یہہ پالنل بے ضرر۔ فی خلیق اڑسی چنز ہے جس کے زریجے محرومیوں کی 
حلاقی بھی ہو جاتی ہے اور پڈوسیوں کی نین میں بھی خلل خی پا لٹ ہلدی کے ھ 
ری اور رنگ چوکھا آے والا مخمون رہتا ہے۔ اس کا مطلب ہہ ےک تفلتقی کام م 
میں شن کا رکا را صرفائدہ ہی فائدہ ے۔ 

ہہ نتطہ نظ ر یھ نسیات والوں کک بی حدود یں ایک شاعرولیم ا میسن نے ت 
میماں ک ک مہ دیا ہےہکہ آرج کل محاشرہ ارب سے اتا بے از ہ وگیا ہے کہ اگر بست 
سے مشاعرو ںکو نضیاقّی ائیعنفیں جک ن برض و, شعری جم آت* آپ زہ اور پا 
نی تو ان سے چھککارا پان ےکی خاطربی شاحر یرت ہیں۔ می فی تخلیق عدرح الخیا 
ہے جس میں میس خود انا محاع ین جات ہے۔ 

اس سے بھی گے بوجھ کے آ رج کل مض لوگ ہے دجو یکر رے ہی ںکہ ی 
تخلیق کے ری خن کا رکی شخصیت ارتقا پاقی ہے۔ اگر اس ارتقاء کے آہعار آومی کے 
خارتی افعال میں نظرنہ میں تے یی کہ کے اعتزاض سے چیا چیا جا کا ےکم 
مشود نما ت3 اندرونی طور پر ہوگی ہے۔ جیساکہ مس پل بی کہ چکا ہوں“ اس معاملہ مس 


رو 


کوتی قطی فصلہ میرے مم سں کی جات خیں۔ پچھراس سے پر خورکرتے ہوتے یں 
بت سے فجن ککارون کی ذاعلی سوازج ری سے وذاققیت ہوقی چا ہے ان مم کا عم 
صرف جمداکو حاصل ہے عرا بی ت انا ےکم ا نظریا ت کو قجو کر اور .* فجن 
ضس شہاریں انی بجنی لق میں جو مے مے شنکورت و شمات پیا کرگی ہھیں۔۔ از لے 
تی الال تو میں اتا یکروں مگ کہ ایی شمارتیں ج کر دوں گا- 
پاں تو سوال یہ س ےک فی تخلیق قن کار کے ور وکا یراوا ہے یا خمل ؟ 
اس سے تر انکار می ںکیا جا سکس اکم وقق طور بر شاع کو شع رکنے سے ایک گون 
ضرور کا ہے خلا ورڈس درخ کو ایک زناتے مس ہے خ مم تھاکہ فطرت سے جم آ گی 
کا جو اصاس لہ حاصل تھا دہ غاب ہوگیا۔ اسی دو ران میں اس نے ایک ام کسی 
جس سے عہ صرف رد جی کی آکی بللہ تقزیت بھی ط ی٭ 
مب 1٦000٥‏ ج۸۷ 6 ۳۲-2۸۸۷۷۱۷ ٦۸۸21.۷١‏ ھ 
م ۱0" ۶؟ ۸۸٥۱۸۸1۸6۸101‏ ۶۴67 
درد سے سے وقتیق رای بھھ فی نکاروں پر بی موقوف حییں۔ اپنے خم سے واقف 
ہوتے بی انسا نکو خم پر غالب آ جاتنے کا امکان نظ رآنے گا ہے۔ بللہ فرائیڑ نے تو 
بیماں تک ککمہ ویا ہ ےک ہنی صحت ا مطلب صرف اتا ہ ےک لاشعوری لیف 
شعوری ت لیف بن جاے۔ بپھرافطوں پر انسا نکو ایا اییان سہ ےکم وہ جھتتا ہے جو یر 
لفقوں کیگمرفت میں آعئی و" میرے تی میں آگئی۔ چتناجیہ نف مک ےکر شا رکو جو 
تسین ملق ہے اس میں صرف ام بی بات می کہ کھٹے ہوتے جزب کو ظاہ رہوتنے 
کا یک راس ملا۔ شعور جس کو بجپان لیتا سے اس سے پھرڈر ا ٠ں“‏ یا ڈرے بھی 
ت ےکم س ےکم اپنے آ پکو بے رست و پا نوس می ںکر۔ اگر فتی تخلیق کے زریہ 
زرشعوری تلیف میں چھ افا ہوا ے ای وچہ ے- 
غرض اتی بات تو مسلم ہے کل قحلتقی عل شماخر کے در دک وقق طور پر بی سی 
ین تھو ڑا بس تکم ضرو رکرا ہے لان اسی بات کا دوصرا پہلو ہہ ےک ملق تمحل 
کے دوران میں سوۓے ہوقے حخریت بھی اگ اھت ہیں “جو ور وی موس ے ہوا ہو* 


۲۴۵ 


وہ بھی تج گکرتنے اتا ہے۔ ا سکی طرف بھی ورڈز ورجھ تے اار ہکیا ہے۔ اس تے 
بات ییماں سے شھرو عکی ہ کہ نظم ما اص مقصد جار یکو لطف بہجچانا ہے لان شاعر 
فعم مس ج جات عجیا نکر ہے ان میں سے بست سے "لیف دہ ہوتے ہژں- یہاں 
نظم کا اصل مقصد فوت ہوتے تا ہے۔ اب وزن شاعر کے کام ۲ ہے۔ شماعرجو مر 
استعا ل کر را ہے وہ ای نز سے صے لہ بھی بت سے شاعر استعا لک گے ہیں اور 
جس کے ریت محخلف تجربے مان میس آے ہیں۔ تاری اس تجربے سے ماتویسں سے 
اور اس آجنک سے اسے لطف عاصل ہو چنا ہے جا تجریہ بات خور ”لیف دہ سی“ 
مجن وز نکی بروات ا سکی لیف م ں سی آ جاتی ے۔ وزن کے یارے مں ورڑز 
ور کا نظریہ خلط ہو یا یح اس سے نی الال جمیں مطلب جییں۔ لان اپتی پٹ کے 
لے ہیں یماں دو نے خیال سمل ہیں۔ ایک تو کہ حملتقی عمل ااشورکی جموں رے 
ان چو ںکو باہر ثثال لا ہے جو ہمارے لے تکلیف دہ ہیں مجن تخلیق سے زربیے 
درو سے مات ٣نی‏ نو الک ری“ نا درد گے پڑت ے۔ وو عری یات ی هکہ اس ور وکو 
دہاتے کے لنۓ شاعرکو شور یکوش شکرق اتی ہے- 

خریماں کک بھی غنیمت ہے فی تخلیق سے درد دا ہا سے نو ہواکرے ‏ تی 
کار اسے تابد میں نے لا سکتا ہے۔ لیکن مارسل پروست نے تو اور بھی خوفاک یا ت کی 
ہے حیقت ہ رآدی کے اندر ای ککتاب لککھ دیق ہے۔ اسے پڑھہتا اور تا آدی کا 
سب سے بوا قریضش ہے لن اس مس اتی افیت اٹھائی پڑتی ہ ےکم اس فرض ے 
بے کے لے بح لوک تی جگوں میں ال ہو کے اپتی جان دے دی ہیں۔ ہے 
کوئی مبالضہ خمیں نضسیاتی محا لیو ںکو اسیسے عرییضوں سے روز سابقہ پا سے جو اپے آپ 
کو ملع کی ملیف برداشت جمی کر ھت اتی زندگی جا ہکرت رہیں ھے خو کچ یکر 
یں ے “گر اپینے لاشعور سے میں چار جم ںکریں ے۔ یجاری سے حیات عاصصل 
کرنے کے لئ بھی یسل دکھھ یل ےکی ہمت ورکار ہ تی ہے۔ فراق صاحب تن ےکما سے 


انا 


حیات تو سی جو پاتے ہیں لوگ اے ساق 
سے کو درد اٹھاتے ہیں لوگ اے ساق 

تو فن کا رکی خصوصیت بی ےک وہ ق یکو صرف تین کا زرییہ میں بنا بل 
اپنے آ پ کو جات کے مےسے میں جو درد انھانا ]ا سے اسے جان بوچھ کے اور خوٹی 
خوشی قبو کر ہے۔ شاع کی ععلمت اس بات میں خی ںکمہ اس نے شع کہ کے اتی 
نضیاتی الچھنوں پر جج پا پی اور مل کون حاص لکر لیا۔ ا سک بائی ‏ ہے کہ ددد 
سے بجھاگنےہ کے بجباۓ اس نے در دکو کییجے سے لگا کے مرکھات 

محض اظمار میں جو وقق کون جا ہے وہ نے حض وقت آر یکو پالگل ىی بار رکتا 
سہے اور اسے کی کام کے لا کی میں چچھوڑا۔ آرح کل کے ٹجتراردد اویوں کے ساتھ 
بسی عاد چپشل یا ہے۔ فوجزانی کے زانے میں ھٹ ہوتنۓ نی حزیات نے ایک ٢و‏ 
نم یا اضانہ کھوا ویا۔ اس میں تحوڑی سی تین می اور آدبی نے اپنے آ پ کو 
ادیب بجھ میا۔ پچھرساری عمرارب سانپ کے ےکی تچ چھوندر بنا رہاأضہ سا ادب ہی 
تخلیق یہر سے نہ چین سے جٹھ کے رو یکھا گے ایے لوگوں کے لج اوپ ورو _ے 
نے کا ایک بہانہ مین جا ہے۔ اگر شروع شروع میں خرن کار انی تخلی قکو زنرگی کا تم 
الیرل ىا اچینے ور کا بداوا بے ت جھ ہریج تشیس؟ بلگہ اگر ایترالی زانہ میں ٹن کا رکر 
تھوڑی بت تسین یا مزا نہ لے تو وہ عتملبقی کا مکی طرف راخب ہو بی نمیں ککتا بط 
می تجربے کے بعد ابنا کام چھوڑ کے بیھاک جا گا لین عملیقی تام مار ی رکتہ کے 
لے ضردری سے کہ فنثار اس تسین یا لزت کے احا کو ر کر مے سے سے دک 
تو لکرے ۔ وہ وہ خیں جو زندگی میں اٹھاتے پا ہیں کے پل وہ وکہ جو عملیتی کام کا 
لاڑی جزو میں ۔ فتکار اپنا در رس ط رح تقو لکر] سے اور ہے تولیت بزات خود ایک 
درد کے مین جاقی ہے۔ اس کا سب سے ابچھا مان حم سکی تظموں میں لے گا۔ پلمہ 
اس کی بشتز نموں کا موصوع می ہہ ہے۔ اتی شاعری کے ایتداتی در می جس 
شماعر یکو زندگی کا قائم عقام مجعتا تھاٴ بنہ ا سکی ننظرمیں شاعری جی اصل زندگی شی- 
چناتچہ اس کا عقیر, تھا 


ۓ- 
60077 ۲ ۸۳٣-ط.2لت‏ عھٌذ ٥ھ‏ ×ہ ۲ 
چنانچہ اس زان کی ایک فظم میں اس نے ق نی کو زندگی سے خموں کا علارج جایا 


ے۔-۔ 
3 


50۸1 خ5 10۸1۸11016 ۲6 ۷ط ×دتحجہہہ ہی 
٤0‏ ۰۲۳ھ .11ا5 11۸31860111516 _ ۶۲۰۱1٢‏ ۴گ ۳ 

01ہ ۲1۷ ۲ہ +61 آ” وح نیت 101 
29/۶ اط .۷۷11 70۸1۴٥37605‏ 


ین بی ععظم میں سٹیس نے تل مکیا ہ ےکم شاعری مج چارہمگریکی علاحیت 
ہے ؟گھریہ تسین جھوڑی در ےکی ہوقی ہے پچھراسی دور یں اس تے بات کا وو عرا 
رخ بھی یی یبر دا ہے۔ اپتی نشم 08د د5۸ مس اس نے ایا کہ ایک 
آدی ات شھوں کا علاح ڈمیڑ را ہے۔ پچ وہ حتاروں سے خ م خواری کا طالب ہوتا 
سے پیر ہے" یخم سے یں ے۔ می نان کئین بھی الین خیں عنقٴ 
کیوکلہ فطری مظاہر اس کی جات میں سے اخمیں اپنے آپ سے ہی قرصت میں 
ہے جب وہ سب طرف سے اوس ہو بچکتا ہے سو اسے سمدر ح ےکنارے ایک لیے 
ما ہے۔ اب اسے امید بن دی ہ ےک میں اپٹیکمائی سک کو سناّل گاٴ اس کے انور 
سے میری بی آواز کل گی خود عیرے الفاظ میری تسین کا باعث مین جنیں کے اور 
اس رح میرے سارے خم دور ہو جانہیں گے لان جب اس نے مہ ھایا تی 
چر می سرائم یورم سن چہ می سرایر والا مخمون ہوا۔ کہ کی آواز اس کی آواز _ے 
یالئل خلف خی سحلہ اسے بھول کا تھا۔ اس نظ م کا مطلب سی از کیہ کن ار 
نیادی طور سے ق یکو اپیے انمار کا یادی ذدلتہ منانا چابتا ہے لکن انظدار کے سلل 
میں اسے ائسی یں استعا لکرنی تی ہیں جو ا سکی خصیت کا حصہ نی ہوجیں پل 
ایک الک اور خاری وجود رکھتی ہیں لا الفاط چتاجچہ فن پارہ فن کا رکی شخصیت کا 
اقمار میں ین سکتا۔ ا کی تخلیق دہ چز میں ہین پاتی جو فن کار انا چاتاتھا۔ لزا 
فی کار اپے لبق کم میں اس تسین سے روم رتا ہے“ جو وہ اس میں ڈھویڑ رہ 
تھا۔ چنائچہ زاتی تین سے عحردی اس کے ححلیقی کا مکی لاڑی شرط ہوی- 


۲'۸ 

اتی بات تو ٹیس نے میں یتس سال کی عحرمیں می مج کی شی۔ من جب 
اس نے ماؤگون سے حش کیا اور برسو ں کی ناز مندی کے بعد بھی تاکائی کا مضہ وکجنا پڑا 
تق پچھرا سک بای عھریی سوپت عفد یہہ زندگی کے مو ںکی حلاقی شاعری کے ذرسے 
ہو بھی مق سے یا حمیں۔ ہیں تو اس نے یار یار یہ بھ یکا ہے کہ چلو اچھا ىی ہوا۔- 
عیری حبوبہ جھے تہ مل گی * میں تے کاسیاب عشق سے بھی جوا کا مکر لیا مجن شماع ری" 
من دوصری طرف یہ بھی اقرا ریا ہ کہ محبویہ کا خیال آتے بی شاعرانہ ععلمت ایک 
وححکوسل معلوم ہوتنے کی ہے قیرف ی تخلبق زندگ یکی خوعیوں سے بدی چیزسسی مان 
ہماری دگ یکی تہ نہ ےک شاعری کے وریج ےس“ اپیے خم سے حیات جیں پا 
سنا پلیہ خالنا شاعری کے طقبل اس کے زشم ع ربھرمنرل نہ ہو تھے شاع رکے خم سے 
رن اک وکیا ذاکرہ پموٹچ متا ہے۔ اس کے محلق فراق صاحب ت ےکما ے۔ 

ول ےھ رون ہیں ار اس لہ ا ےکوتۓ یاز 
اک کا اتا چک جاا زرا رخوار تھا 

جن جماں کک شاخر کے روتے اور یکھ اٹھاتے کا تلق ہے اس میں شاعری 
کرتے ےو یکبی میں آتی۔ اگر آپ ایلیس فکی شماعر یکو سان رکھیں تو شاید ہے 
وعحوئ یکر یی کہ معخلتقی کام جاری رکنے سے شاع کو کون ہو( چلا جا. سے یا اس کے 
درو میں ائی لطافت آکی لی جاتی ہ ےکہ وہ جم جیشے عام آرمیوں کا سا ورو خی رہتا- 
کین ٹس نو اتا بی بدا شاعر ہے وہ ن عرتے وم کک سکتا بی رہ۔ نہ اس تے تے 
اس بات پر ظ رکیا ہے اور علاعیہکھا ہے کہ ھبری شاعری کے دو بی موضسورع ہیں* ایک 
تو فمائی خواہشات ؛ ووصرے یادرضتگاں۔ ہہ دوتوں کے دوتوں وی شم ہیں جن کا یار مم 
آپ جیے عام آدمی اٹھاتۓ پھرتے ہیں اور تن سے بھی ضیات تین باتے۔ خود اپ 
یماں می رتےہکسہ رکھا ہے۔ ںا 

”ورو غ اس سے جح تو روان ہوا“ 

اس کا مطلب ہہ خمیں ےک لہ انسوں تے درو و خم اکٹ ھکر بج ےمگنٹھڑزی میں 
بانزھ لے اور بچن راک ای کر کے اشییں اپچنے شعروں میس گت رہے اور اس طرح 
ان کا بوجھ ہکا ہوا چلاگیا۔ اگر حم رصرف عاشقن ہوتے تر شایر ان سے وروو خم اھۓ 


۲۴۹ 


نہ چنے ہوتے لگن شع رکوتی سے سے میں اخ انا مطالصہکرنا بپڑا اور آخمیں ہے 
اب خموں سے سابقہ پڑا۔ ایک قطعہ می انسوں تے بی روتا رویا ےک اگر بحے 
یس حبو بکی طلب وت نے بھی صی ری کنائکیش جی مان یج نے ہہ بھی پن می ںکہ مرا 
دل اتا کیا ہے اور می ہو ںکیا۔ اس مکی پریٹانی شاعر کیا ایک معمولی آ دی کے 
دل میس بھی چیا ہو عق ہے“ لن ہہ الین اور ہہ خم شاع کے کام کا لازی جڑ ے۔ 
عیرا مطلب ان شماعروں سے خی جو زاتی تسین حاص ليکرتنے سے لئ شع رب ہیں 
لہ ان شاعروں سے ہے جو واقق عملیتقی کا مککرتت ہیں۔ اسیسے لوکوں کے لئ شماعری 
علاحع تمس رہتی بگمہ الٹی عذاب بن جاتی ے- 


۳ء 


تی خیق اور ورو 


ایزدا پاونڈ ن ےکما ہب ےکہ نقا دکوسیچتھ سوال الےے بھی اٹھانے جا ہیس جن کا کوئی 
قواب نہ دا جا گے ان میں سے مض سوال الىیے بھی ہونے جا ہیں جن میں نہ و 
ازیو ںک وککسی عم کاکوئی فائرہ پہوٹچ کے نہ اد بکو۔ اسی حم کا ایک سوال میں نے 
لی رنہ اٹھایا تھا“ میعن عخلتقی کام کے زریج کھتنہ وا ےکو زاتی طور سے نی تسین 
مل عق سے ؟ اصل بات تو ہہ کہ اس معالے میں صرف اسی کو ہو لے کا جؾ 
عاصل سے جس نےکوتی بدی چب تخلیق کی ہو اور تج اردو اد ب کی دنا ں اۓے 
آدبی صرف ایک فراق صاحب ہیں۔ مجن چوکمہ بے ادیپ کے زتتی عوالل عام 
آرمیوں سے ات مخلف میں ہو ت ےک جم جیسے لوک ان کے بارے مس بج سور بی 
نہ گییں۔ اس لئے فضیا تکی بدو سے اس مہو بک کیکوش شی جا عمق ہے۔ 
بے نضیات کے متعلق جو تھوڑی بت معلومات حاصل سے اس کے مل پر شاید مم 
یھ نے کی جرات < ہکرت خیگن انقاق سے بے اس موضورع پر ڈاکٹڑ مجر اتل _رے 
نگ دککرنے کا موتع م لگیا۔ جن لوکوں سے سعرالط نے خقل مندی سیکھی ھی ا نکی 
تی رکییں بھ یکی نمی ہوتی۔ مین ہمارے یہاں مشکل ہہ ہےکہ اگ رکوگی ای یات آ 
پڑے جس میں فلقٴ نضیات یا عرایات کے کی باہرے مشورہ لج اقی مگزارہ تہ ہو 
بے تو ایک آ دی ایا خیر. “ا مج سک راتے پر بھروس کیا جا ھے۔ نے وے کے 


رف 


اگل صاحب ہیں جن سے بے یر ملق سے اور جن کے عم بر جج اعقیار بھی ہے_ 
شایدر ا نکی علیت بھی ھیرے کام تہ آقی۔ اگر ان کا ادٹی شعور پچ ت۔ ہوتا اور انموں 
نے بھی اسی عم کا ادب مہ پڑھا ہوا جھ میں تے پڑھا ہے۔ اسی لے میں تے اخمیں اپنا 
استاد بنا رکھا ہے۔ خر او بکی خلیق اور فن کا رکی اتی تسین کے سے بر جن 
ار ون ت ک مگ کرتے کے بعد ہم دوتوں اىی جج پر پہوج چک ضیاقی نتظ نظرے 
بھی اس معالے میں کوتی تقطی فیصلہ تاشمکن ہے 'کیدکلہ ادیوں میں ہر حم کے خھموتے 
اور ہ رع مکی شماوتیں ملق ہیں۔ اگر ہم جاہیں تق نضیا تکی رو سے ہہ بات بد آسائ 
سے عای ت کر تی ںکہ او پ کی تخلیق لت والے سے ور وکا یراوا ہے۔ بللہ خخلیق 
کے ذریت اوییب کی شخصیت نشوونما پاقی ہے۔ ایک زاتے می ں کی اگگردی نقارو ں کو 
ان دونیں چیزوں کا تعلق دکمانے کا خبط ہوگیا ھا کو ان کا نقطہ نظرنضسیاتی میں تھا 
بللہ متحوانہ ملا پرشن مری اور ہی ہکن فوسٹٴ پھرجب سے لین ک کی نضیات کو 
اریوں میں محبولیت حاصل ہوئی ہے ہہ رجمان تقیر میں اور بی نمایاں ہ وگیا ے۔- 
شلا ایاڑھھ ڈور نے ایرٹ کے مخصی مشوونما کا پورا خاکہ بنا کے رکھ دیا ہے۔ الے 
نقادوں کا خیال کہ خلیقی کام فن کا رکی شخصی ت کو حملوط بنا ہے۔ و لیے بھی رح 
سے سوا سو سال پچطلہ شی نے کیہ :ورکھا ےکی شاخ رسب سے خلت مسب سے عزہ 
اور سب سے زیادہ خوش آری ہوا سے اود اگر ا کی انرروثی زندگی ے خورکریں ۲ 
سب سے خوش مت بھی آگی۔ اے رجھڑز تے بھی اس خیال کی نصرل ق کی ے۔ 
انوں نے قے ایک مستفل پیانہ بنا رکھا ہے۔ ہریت کو اسی سے ناپتے ہیں۔ بجبلتو ں کی 
ترحیب اور تیم ہوگئی یا حھیں۔ اس نظرہبے کے مؾ میں بست سی بائمیں میں طوۓ 
کی طرح دہرا سکتا ہوں۔ لگن جب فن کارو ںکی تخلیقات اور ا ن کی ڈاتی ڈندگ یکو ملا 
کر دکھا جات و اس خیا لکی حمابیت اقم آسمان تی رہتی۔ اس لئے الال میں وہ 
دلائل یی يککروں ما جھ اس نظظریے کے خلاف جاتے ہیں ہیں ت ارنقارکا نظرے قراءڑ 
می سے چلا ہے مین اس کے آخری دور کے خیالات کا جموی اش سبچھھ اسی تم کا ہوتا 


بے 
3 


٦۲ 
غم علق کا اسر مس سے ہو بج رگ عالع‎ 
شع جز ریت مین تلق سے بر نے ہیں‎ 

اس شعرمی خولی ہہ ہ ےکہ مرگ اور برایک بات بن ھھے ہیں اور اس طرح 
اس میں فرائڈ کیا (ج .219 ۸ ۸۸۸۵1۷) والا نظریہ بھی میا ہے آخری اع میں 3 
فرائڑ ہہ کے لا تھاکہ پزری تسین زندی میں رستیاب ی ضیں ہو مق ہر ہل 
اق ول نم تلق ان شی فی ا یکم لی بی کہ بنض حالات میں ت زیرہ 
رہ ے کے لے اپتے آ پ کو قرحب دلانا ازی جو جانا ہے۔ اسی لے لحض بدی ترزیوں 
نے ان م کھاتے کو زندگی کی ضروریات میں خا رکیا ے اور ہے بات ان تزعوں گا 
حیقت پندی پر ولالل تکرتی ہے۔ اس نظر بے کے مطابق تو ہم ادب اور ت یکو بھی 
انیم کے زمر ے میں ام لکر جیھت ہیں۔ تن او پکی تلیق ور وکا یراوا خی پللہ ور ہک 
بھلانے ک یکوسش شکی ہے خر فرا یڈ کے خیالا تکی تزجماتی اس حخیقن کے ساجھھ تیں 
کمن جچاہے۔ اس کا زین اتتا ہہ مگیب رت کہ اس کے بیماں لتضل وقعہ متضاد خیالات بجی 
مل جاتے ہیں۔ اس خیا لکو فرائ سے زیادہ فرائڑ کے مقلدین نے روابج دیا کہ 
فی سے زریجت جبکیں ارنفاع اتی ہیں اور جو تسین زنگی میں عاصل تیں ہو عمق وم 
ادب کے ذریجے مل جاقی ہے۔ اس نظریہ پر رات نے مہ اعتزا کیا ہ ےکم اگر بھوک 
بھی یباتوں میں شمائل سے تو اس کا ارتا کس طح بدا سے ؟ بجھوکا آد یکھانا میں 
کھائے گا تق مرجائۓ گا ۔کھاتے کاکوئی برل تمیں ہو سکتا۔ ہہ جبلت میں بللہ حاتیاتی 
عحل ہے۔ ا سکی تین بھی براہ راست ہوتی جچاہہجے۔ اس کے اخ ربھی حاتاقٗ نظام 
کا عمل پیک طرح جاری میں رہ سکتا _ نس کے ارنقاع کے بھ یکوٹی می میں 
راع تے صرف وہ جیتیس پا ححق ہیں جن کے مظاہ رکو فرامیڑ تے (1۲۷تھ55×0۸ 
۴1۷۸۸3۶110105 کما ہے۔ اس ارتا ع کی گخیائش بھی اس وقت می سے جب 
حااقی ع لکی حقثیت سے جن سکی یراہ راست تسین حاصل ہو ہچھی ہو اس تسین 
کا بدل کوگی تیں۔ بلتویں کا ارطاع ای مکی نکی خیاد بے شروع ہدتا جب ان 

تسین کے لقی ہآ دی جو کام بھ یکر ے گا ا کی حثیت ا رفا عکی میں بللہ ر گل 
0۸۰۸٣ ۲0۸(‏ 0ی ۸ع یک ہو گگل- حاعاق عواعل کے رک جاتے سے ہجو 


۲۲ 


و ۶7ھ ۹7۸515) پرا ہ٭.ا سے وہ ان سرکرمیوں سے شم خیں ہوتا 
ج نکی حثیت حل روگ ل کی ہوے ادتقا عکی عالت میں آدی اپ کام ے لطف لِتا 
سیت نال کک رتشن ما 5ر وق تن سے مو انچ آ دی ایک موری کے 
سے عالم میس کا مکرتا ہی چلا جانا ہے۔ خن کا مکرنے میں اسےکوگی زا نمیں 7۔ 
را کی اس تر کی غاد ہکلہت ہی ں کہ ادب دو رح کا ہو ہے۔ اک تر 
ارنفاع کا دوسرے روعل کا۔ لگن جمیں اویو ںکی ذاتی زندگی کے متحلق اڑسی نقواصیل 
معلوم میں جج کی رو سے فیصل ہک گی ںکہ فلاں شاعم ارتقارع ہو رہا ے اور فلا 
تاعرطن زررگل۔ ارقا ع کی عثال کے طور پر زیادہ سے تیادہ گیٹ کا نام لیاچا کت 
ہے ۔کیوکلہ وہ حون اور فی تخلیق کے ذریے عاصل ہوتے والی خی کا بست وک مک رتا 
ےئ نین سوال| نہ ہ ‏ ےکہ می ھکی خصیت میں خود قری اور روعائی پچار سو جیی کن 
تھی ؟ اپنے روعانی سکون کا ڈہنڈورہ چنا ارنقا عکی علامت یں بلمہ ہہ خوو روح ل کی 
کیفیت ہے۔ بڑے شاعروں میس سے ایک بوولی رانا سے جس تے خوو تقصیل سے سا 
نایا کہ وہ خظمیی کس طرح ککھتتا تھا۔ اس کے لے جملیقی کام ایک عزاب جان تھا 
وہ نظلمبیں کھتنے سے پنشنز چلشرے معاوضہ نے لیا اور نے تر جکر ڈالتا۔ پھر قرش 
چڑھنا شھروع ہو جا اور قرضس خواہوں کے ڈر سے بود سلی رگحع سے نکلتا چھوڑ دیتا۔ ون 
را تکھرے میں بد پڑا رہتا۔ آخ ج بکوئی جچا بیع نہ رجا تو نظلمیں کلت جج ای تم 
کا عال ای مرایٹن پر کا ہے۔ تسری عثال ما رکل پروست کی سے جو یا ت3 ہے کار لیٹا 
رتا یا پھر مستخفل اڑت لیس اتی ں جن سوے بقی مکے چلا جانا_ ان لوگوں کا كلق 
کا روگ لکی "عم کا ہے۔ ییماں ایک ادلی سوال چا ہوا ہے ۔کیا ارتقا کی شاعری 
رد لکی شاعری سے قدروقت مس لازی طور پر بھنت زم گی ؟ اگر بود طیرکو پورا ارنقاع 
حاصل ہو جاتا ‏ کیا دہ اپچنے معاشرے کے یارے میں الڑیمگمراں قزر یاتی ں کہ كکتا 
ج نکی بدولات ا س کی شاحر یکو جقمبری کا رحہ حاصل ہوا ؟ راح ت کستا ےک اے 
یاروںکی بھی ایک سای قردوقمت ہے“ مہ لوک سابتی حقیقت کا ایا ا شور رھ 
ہیں جو ظاہری طور بر صحمت مند لوگو ںکو حاصل خمیں ہوتا_ بقول اتمل صاحب راخ 
کی کاب بڑھ سے ت نے ی چاتا ے مم گی -×ص77ہ7<ہ تہ ہوے- 7 


۲۲ 


سطلب یی کہ اگر شاعری ارنقا ع کی خی بلمہ دوگ ل کی سہے تو بھی پو سے والوں کے 
لے ےکوتی قفرق نمی پڑت ساری معیبت شاع رکو اشھاقی پڑتی ہے لن میرا سوال 3 ان 
لوگوں سے سے جو شاعر یکو تسین کا وسیلہ یا خصیت کے ارنقاء کا زرنجہ جگھت ہیں۔ 
وہ 'روگل والی شاعر یکو اوپ مم سکیا درچہ وہیں گے ؟ 

اپچتا“ ایپ کے پارے میں ایک نظریہ ت ہے ہوا یجس ہیں تخلیق جبتوں ے 
ارتقاع کا زریہ مھا جات سے اور اورپ زنگی کا جات مقام رہ جات ے۔ رو مرا نظرے وہ 
سہے جس میں اد پکو خواب خترارف جا جا ے- اب سوال ہے ےک خوا پکیا 
ہو سے ؟* خوابیوں سے متحلق ایک متدل نظریہ تو ہے ےک ان کے ذرجے محردمیوں 
کی حلا ہوقی سے - تق خواب میں بھی ارنفاع کی کوسشش ہوقی ہے۔ چاسے سے 
کوشش اتی کامیاب نہ ہو جتتی فی تخلیق۔ ارنفاع والے نظریہ برتے میں ابھی بج کر 
بی چا ہوں۔ خوابوں کے متحلق ایک دوسرا نظریہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں عم 
اص لکرتے کا ایک وریعہ ہیں۔ ین ہہ عم میں برا" راست حاصل خی ہو بللہ 
علاتوں کے زریج نشی خواب شور کے رعماءات کے ورمیان مجھوتے سے پوا 
ہن ہیں۔ ایک تو اپنے آ پکو جاسن ےکی خواش دوسرے نہ جاسن ےکی خواہٹشں۔ پچ ران 
دوتوں خواہشمات کے اندر بھی دو متضاد رعااات ہدوت ہیں۔ جاسم میں لت بھی سے 
اور لیف تھی۔ اسی طرح نہ جاسم میں بھی ان دو یانآں سے سابقہ پڑت ہے- اس 
لے خواپ ہو یا ارپ۔ دوثوں لزتوں اور "لیف کے تصارم اور آویزش سے پیا 
ہوتے ہیں۔ اگر کھت وانے کے اندر شہ جاسم ےکی خاش غالب ہے* و اے اپتے 
یق کام مں بتی زار لیف ہز گی۔ لین چوکلہ اس کے اندر اخترا ف کی خواہٹی 
بھی ساب ساہقہ کا مکر دی ہے اس لے وہ کن یہ بھی جبور ہکا جیا میں نے بط 
مصمون مم ںکما تھا ورڈز ورجھ نے ٹنیک اندازہ لگایا ہےے۔ تخلیق کے دوران مل وہ ورد 
دا و سے جو یل بھی نہ اٹھا تھا۔ ارب کے ذریے ککعت دا بے کو اچچ بارے میں 
عم نے حاصل وت ہے لین ا سکی تجمت بھی ادالکرنی بڑتی ہے۔ آر عنڑت ےکم ہ ےکم 
7 منےی بڑی زبروست قنت وصو لکرتے ہیں۔- وہ مت بی درد ےت 

خواب ا ایب) کے بارے مجن ای اور ریہ ہچ خراب اخزا فکرن ےک 


ھ0۵ 


خوائل سے پیا ہوم ے- اپ سوال ہے ےکہ آوی امتزا ف کیو کنا چابتا ے ؟ 
اس کا ایک جواب ہے ہ کہ اپتے آ پکو زی لکرتے ما اپنے آ پ کو مزا وییے کے 
لئ ہہ خود اویق کا ایک مظمر ہوا۔ لق تحخلیق میں بد یکو جو مزہ ٢ا‏ ے وہ ہوے 
خوفقاف جع کی لزت ہے۔ یہاں ؟ کے بات صعملہ خی ہو جاقی ے۔ اے 

چموڑہیے۔ اختزاف کی خواپشل کو جیوڈور راکک تے ایک اور طرح ھا ے۔ 
ا ختزاف سے زرسے ای یکن سیق یا خالی وا کو ور :وہر اکر للف ابروز+ونا 
اتا ہے۔ اس حد کک و آ پ مہ ھت ہی ںکہ ایب کی تخل یکرتے سے و یکو 
تین س گی مین ایک واتے ما چند داقحعات سے جذیاقی ور بے اییا چک کے رہ 
جاناہکہ ان کے جخختقی ما خیالی اعارے سے رید لزت عاحل ہو“ یزات خوو ایک باری 
ہے شخصیت کے ارتا کا ے مطلب بی ہہ ہ ےکلہ آ دی مخت ما خیالی ماضی پر غااب 
آے“ اور آزادی عاص لکرے۔ ار اوپ امحتزاف ہے اور ا متزاف کے مق یں 
ماضی کا اعادہٴ نو فی خخلیق کے زریجہ حخصیت کا ارت اکس حد کک محکن ے ؟ 

یہاں آپ چھوئی شاعری اور بڑی شاعربی کے فر کی طرف توجہ ولیں گے چھوٹا 
شاعر ایک وقق تجرہے سے من بوجا ہے۔ اس کے لے معاقی تسین بست ہوتی 
ہے۔ بدا شاعراپنے تجریا تکی ت مکنا ہے۔ اس سے بڑی شاعری کے ذرصیجے شع رکی 
حتصیت بھی منم ہ گی اور نشوونما جات ےگی۔ اس بات پر رپرڈ نے بذا زور دیا ے۔ 
ان کے خیال میں شاعزی ہچپئی زیاد: بیز ںکی شع مکرے می اور ہے حظم جقئی اچ ی 
ہ ھگی۔ شاعری بھی اح بی بڑی ہ ھگی۔ رات نے بھ یکما ہ سم وق خود آمگاہی تو زہتی 
بیاروںکو بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ گن اس زی موجودگیٴ یا شخدرت ات ضروری 
ہیں جنئی خور اہی کے ان کھڑوںکی جحظم۔ اسی حم کا تام شعور ہے۔ نے اگ رسی 
مخ سکی شاعری میں جیا تکی حظیم نظ رہ ے تو اس نعطہ نظ رکے مطابق جم ہی ھن 
میں جح عیاب ہوں ےک ا سکی حخصیت بھی اس حد جک تع مم اور نشوونما پا ہی 
ہے۔ شی یکی تطیر میس رج ڈز نے بھی تن کر دی ہ کہ ایے لوکو ںکی ناہری یں 
جللہ باطنی زندکی یت“ وہاں آپ کو ری تیم سےگی۔ مق اگمر اس حت یمم کا ان 
خارتی زندگی پے نہ پڑے ة بھی ا سکی خوپى می ںکوگی فرق حھیں۔ بکلہ رز تے دی 


٦ 
زیان سے یہ بھ یکما ہے کہ اتی تیم دہی ہے جو خارتی عمل پر عہ اکساے۔ ہیں‎ 
اندر بی اندر ساری ججبلئیں ایک نت شکی مل میں عرتب ہو جاتھیں۔ اس کے برغلاف‎ 
راج نے سازا زور ای جات پر صر فکیا ہے کہ انددونی حظ یم اس وت تک تھل‎ 
خیں ہو عمق جب تک کہ وہ غارتی ححیقت سے جم آ گی عہ چ اکر نے۔ اس ہم‎ 
آئگی میں مشکل ہہ یش آتی ہ ےکہ موجودہ محاشرہ اححصال اور اخسا پک ییادوں پے‎ 
تاخم ہے اس تن ےکردار اور عل کا جو ڈحاتچہ بنا رکھا ہے اس کے علاد ہی اور سج مکی‎ 
تیم کا وہ روادار خھیں۔ اس لے اگ آ دی اندرونی طور سے تیعم پداکرے ن بھی‎ 
ىہ مم خاری دنا سے متصاوم ہوتے بی ٹوے ػمق ہے۔ اتی بات تذ رجھڑز نے بھی‎ 
تل مکی ہےٹمہ دنا ایس لوکو ںکی سحخت حخالض تکرتی ہے۔ مین ان کا خیال ہےکہ سے‎ 
تم عخالقت کے پاوجود برترار رہ عق ہے۔ رارنغٌ تے بایا ےہ اسے برقزار رکھٹا ہوا‎ 
مشکل کام ہے۔ مخصوصا بڑے اویوں کے لئ “کی کہ وہ الیے رانا تکو بھی تو لکر‎ 
کے اپچنے نظام میس شا لکنا چجاہجتے ہیں جن ے ماخرہ اف ے۔ چکلہ بوے‎ 
ادیوں کو ان دونوں چچزوں کے تصاوم کا اصاس شر ہو. ہے۔ اس لے ا ن کی‎ 
شخصیت مں انکثار دا ہوتے کا خطرہ ہروقت ربا ے۔ یہاں رات نے دیز ا من“‎ 
دوستو وی نے وغیرہ بے فن کارو ںکی مثالاس می کی ہیں جو اپنی تخلیقات کا شکار‎ 
وف ام تع اتی ب الات فان پارے ہیں و شرور عنم جن وگیثر کن و‎ 
ضروری جییں کی ہہ تیم خی کا رکی خصیت کا ایک تغل حصہ بن چاے بللہ زیادہ‎ 
امکان نو اس یات کا ہ ےک تخلیق کے دوران می اندروئی ےم کا انتا زبروست گزیہ‎ 
حاصل بر یت سے بعد اس کی شخصیت اور تجھرجاہے۔ جو لوگ ققی تخلی یکو شخصیت‎ 
کے ارام کا ذرنہ کچھ ہیں وہ ٹن اور فن کا رکو انکر کے میں وکیھ مت یا پچھرجو‎ 
خوبیاں فن پارے میں ہیں انی قن کا رر جخشا شرو عکر دی ہیں۔ دو سر یمروری‎ 
ان لوگوں میں ہہ ےک وہ ق نکی عزت پذکرتے ہیں گ رکسی اور مقر کے حصول کا‎ 
ذرلہ بیج ھکر وہ ق یکو میں دیکجھتے بلکہ ق نکی افادی تکو۔ وہ ران کی طرح ہے شمیں‎ 
کہ گے کہ خود آگابہ کسی اور متقصدر کے حصول کا ذربجہ خی یکلہ ہمارے جسمالی نظام‎ 
کا ایک حاتاقی عحمل ہے۔ نی ہم ارب تح قکہرتے ہیں نکی فائرے کے لے‎ 


ء۲ 

نییں یکلہ او بکی تخلیق ایک حاتاتی جیوری ے۔ 

رز تے ارپ کا ایک قائرہ اور چایا ہیی ایک طرف ‏ و ارپ سے ورے 
یں تم اتی ہیں دوسری طرف اوی ب کی شخمیت کی جلت ے ہیں ورق- 
اسے وبات ےک یکوشش می ںکرتی۔ ہرتی جحجل تکو جو لكرتی ہے اور ا سکی خاطراہنے 
اندروئی نظا مکو بدل دیق ہے چوکلہ ادیب کے اندر اس تحخیم کا سلسلہ برابر چلتا رہتا 
سیب ات سک اعصاپ کا تا وور ہو رہتا ہے اور اس مل سے ایک آرام کی 
کیقیت پا ہوقی ہے۔ اد ب کی تخلیق کا سے حاتاتّی فاندہ ہے۔ جو ادیب کی خصیت 
یکو میں مہ اس کے مج مک بھی پہوچتا ہے۔ راک نے ابی نضیات کا بیاد 
اعصاب کے عھل پر نمی مہ ایک طبیاقی قوت پر رھی سے جس کا نام سے ”اور 
مگون' اس کے خزدیک صحت من دی وہ ہے جو اپنے اندر ”او رگون “کی لروں کے 
ما کو رو کے شی“ جار دہ ہے جس کے اندر ان 'رو ںک یمگروشی می سںککی آ جاے۔ فی 
تخلیق تو اس جات کی علامت ہ ےک آدبی کی نی حد گگ ان رو ںک وروش 
کرت ےکی آزادی دے را ہے۔ یماں کک رارحا بھی رج ڈ کے خیا لکی آائ دکرے گا- 
ین اس سے آگے بیھ کے اس نے سے بھی جانا ہ ےکہ ج رآدی ''او رکون "کی صرف 
مخصوص مرا رکو سمار ستا ےٴ ىہ عدار زیادہ ہوگی اور اس کے زہتی اور جمائی 
نظام میں خلل آیا۔ پدے خن کار چونمہ ”او رگون کو پدری جرأت کے ساجر قول 
کر ہیں۔ اس لے اخمیں انی اس ہمت ے نتصان پہو نے کا اندلیشہ بھی زیادہ ہوتا 
ہے۔ یماں پھر راک نے این اور نے وق کی مثالیں یش کی ہیں جنیں ”اور 
ممون' کے اصا س کی ححرت تے پا لکر دیا۔ خرض خالص حاماتی نتطہ نطرے بھی 
فی خی ق سو چیشہ اور ہرحالت میں سحون آور تی ںکمہ گھت۔ یماں پڑے اویپ اور 
چھوئے ایب کا فرق بھ یکوتی می میں رکتا۔ فی تخلیق سے بتنا فاکرہ یا تتصان 
چوس ادج ب کوچ کنا ہے۔ انتا ہی بدے اویی کو بھی۔ رپ رز صاح ب کو آرج کی 
کے افاضحعت برست وانے خی اد ب کی ایت حای تک رق تی۔ اس لۓ اضوں د۵ 
گگٹۓ والول اور پڑ والں دوتو ںک نے لا یا ۓےکہ میاں اس ج بدے تفیاق 
اور حااتّیق ناکرے ہیں۔ لان تتصان اور ایا تی رد آپ تلق کے گل 


۲۸ 
مس خوفناک بات بھی جچتی چاسے نال بے ہیں۔ فی تحلی قکوماء الم مت والوں پ 
بج اختزاض ہہ ہے ےکم امممیں ہے عحل اس وق گراں قزر معلوم ہو ے جب اس 
میں کسی اور حم کے فائمرے کا پلو نت ہو۔ اس فنقطہ نظرتے رر جک ل کی بست سی 
مخری تذی ب کو خرا ب کر رکھا ہے۔ انس فحاظط سے ادپی تقید بر لوگ کے اشرات اجھ 
میں حایت ہو ۔ عالاککہ ان لوگوں کا دح ئی سے کہ جم اتیسویں صدی کی افاوعت 
برسی سے بمت آگے ئل کے ہیں۔ لن جیادی اختبار سے ان کا روبیہ بھی بی سے 
کہ ایک چز سے وجو کا جوا زکسی اور نز سے فنقطہ نظرسے ابی تکیا جاہے۔ شا جنی 
جبلت کا جراز ہے سے چے را ہوں۔ یچچ پا ہوتے کا جواز ہے ےک ضل اضانی تام 
رہے۔ رات پچتتا ےکہ نل انا یکیوں جائم ربچ ٭؟ اس کا جوا زکیا ے ؟ ہاں یہاں 
آ کے محاطہ ٹھپ ہو جات ہے بی کھپلا ہے لوکوں نے او یتنقیر می کیا ے- ارب 
کا تواز ہے ہے کہ اس سے ہیں فلاں فلاں مم کے قائردے پپھ وچ ہیں ا اس سے 
ابا رویہ ت قرون وس٢خی‏ میں (17۸5"._ن۸ 5۹7-۲110+1۸5) کا تھا۔ ان کے نویک 
فی تخلیق کی صلاحیت ایک الوںی صلاحیت ے۔ تن کار کے اندر قداکی ك لی صقت 
کا مککرقی ہے۔ اس لئے فن انا جواز خود ہے۔ شن سے آد یک وکیا فائدہ پسوچتا ے* 
اس کا تطسی قصلہ تق ای وقت ہو کنا ہے۔ جب ہم دو باتمں ےکر لییں۔ ایک تو ہے 
فی تخليق اوز اشانی شعور کا لیس می سکیا رش سے ددعرے یک شور انال 
ارتقاء کے کس دذہے میں چا ہوا اور اس کی حاعاتی ضردر تکیا ہے۔ میں 
حاحات جانا ضحی؟ ین را اور پربرٹ ری دوفیں کے یماں میں تے بی پڑخا ےے 
کہ ساتنس داں ۱ح سوال کا ابھی کت ککوگی جواب خمیں ودے ےے۔ الب راخ نے اتا 
ضرو رکا سے کہ اضاقی شور نے انگ رہا۔ خود آعگابہی اور نامیاتی حم کا ایک فطری عحل 
ے۔ یہاں نتصان اور فائنرے کاکوگی عوال خحس چا ہو تا * مہ نر کھاتے پٹ ےکا 
طرح ایک صاحاّی فل ہے۔ مع اگر جم فی تخلی ق کو ععلی طور ے پالل نتصات دہ 
بیس کمیں ت بھی فی تخلیق کا کام ہم سے حیاعیاقی مجبدری کے ماححت سرز3+* رہے 
گا جو آ دی شون حاص ل کرتے کے خیال ے شع رکا ہے اس کی زمثیت بک 
مارک فکرتے والو ںکی ہے۔ درد اٹھات ےکی ذمہ داری سے بھاگ کے چا اویب'تخلیق 


۲۹ 


میں ہوا کیا پر نے ورڑے ائ زاون کل ت٣‏ آلے یں تے ری 
میں سال بی کام جاری رکھا نے عیری حخصیت بڑی منطھم اور عربوط ین جات گی ؟ تقاد 
اور سائنس داں جو چاسے س وھکماکریںٴ فن کا رک وھ پع خی ہو تاکہ جے شون بل 
را سے یا لیف تچ ری ہے۔ وہ او ب کی تحلیق می ںک رت ارب تو اس ے اتور 
سے رستا ہے س یاقوا کی ایک بات قراقی صاحب ت ےکمہ دی ے- 

میاں رو یٹ کر ٹیش یں سو یار ان ڈریوں کو 

ىہ ہم سے پچ آے ہو خ م کیا تھا خوی کیا ھی 


۳۴ء 


ادپ اور جذیالت 


انفراری طور سے ایی ثالیس تو ونیا کے ہر اوب میں مل جاتئیں گی کہ شاع ریا 
اریب نے زہانہ یلوخت میں لکھعنا شر عکیا اور اپینے ادب مج سکم و یش اضافہ بج یکیاٴ 
ین چواتی سے سنہ نت عقلیقی ام بیج عح ہ گی شی کیشس "لاڈ رگ "گور 
لوتریاموں' اکیے لوک جو اپنے او بپکو بس تبیہ و ےکر جمیں سا لکی عمرسے لے نل 
تی تع یہ ان شی پارۓ مین یہ سونچتاضنہ اکن وہ زغزہ ریچ تی شحاعزیگک زا" 
ارب کے لے بچھھ ایا مفید خییں ادپی سج تے رین ہو سے جس تے انتھارہ انس سال 
کی عمرمیں اج زبروست مع میں تخلی قکیں اور اس کے بعد شاعری ے ایک و مکنارہ 
کش ہوگیا۔ اس کے متل کی اییے سوال چیا ہہوتے ہیں جو عملیتقی عمل کے مطامع 
میں بڑی ابمیت اخقیا رکر لیے ہیں۔ رین ہو نے اپنی خظممیں جلاک شاعری سے قوی ہکر لی 
تڑاے رین بوکی شخصیت کا زوا بھی ما ارتقا۔۔ اس شاعرانہ خودکٹ یکی ومہ واری خود 
رین بو پر ھی یا اس کے معاششرے پر خود اس جک ت کو ایک زبروست تفم ھا جا 
تا سے یا میں ۔کیا اس کے طرز اصاس مج ںکوی ای بات جج یہ اس سے آگے 
حخلیق عمل عحکن ہی خنیں تھا اس ایک اع رکی ذات سے امسے سوال دا ہدتے وں 
جن سے تخلیق کی ماہیت پر خو رکرتے ہو وامن بچایا بی میں جا کت پھر ایک 
متلہ مارکل پروست اور پال والیری جیسے لوگوں کا سے جمموں نے تھوڑا بست نت کے | 


۲٢ 


بعد پدرے میں سال چپ ساوحھے رھیٴ اور پھ رککتت پہ نے فو اییا لع اکہ جیسویں 
صدی کے سب سے بے اویوں میس نے نے کیا ان دونوں میں بی لتق سلاحیت 
چاللاس سا لکی عمرکہے بعد چیدا ہوئی ؟ یا شروع سے موجوو تھی گر میں سال کے لے 
غانب ہ وگئی ؟ اس عرحے شض اندر بی اندر نوا پاقی ری ؟ ہے سب مھ ارادی طور 
بے ہوا یا خیرارادری طور پر ؟ عحلتقی صلاحیت شن کار کے اخقیار میس ہوقی ہے ی ا سی 
اور قوت کے اخیار میں ؟ خرض اس عمم کے میں سے ان بدے ادیو ںکی زندگی _ے 
پرا ہوتے ہیں۔ ججھے اردد کے سارے شاعرو ںکی سار عمیاں ت از بر میں * رعال 
سنا ہ ےک ہ غالب نے بھی در کے بعد شاعری چھوڑ دی خی اور عالی ایک خاس زہاتے 
کے بعد خمزل سے تاب ہو جھے تھ۔ ہہ جتتی مشثالیں ہیں نے یی یکیں وہ سب کی 
سب اقرا کی جھییں۔ ںیشن چیچھلہ پنددہ میں سال سے ہمارے یماں مہ چ زکلیہ ین کے 
رہہ گئی ہےسلہ آ دی نے دوچار سال اچھا خاصا ککھا “اس کے بعد یا ق سرے سے غاب 
ما بچھروہ بھی سی جات میس رہتی۔ اب بیوں کت ے کو چاہے ہی کہ کے بی بسلا مج کہ 
ہارنے یہاں ادیب قلم ےيل پر روثی جمیں پیدراکر سکتا۔ اس لے مون خیل ککڑی کی 
گکر میں پڑت بی آ دی لکنا بھول جانا ہے۔ یا کسی اخلاقی لے چ ہکھڑے ہہ کر اویو ںکو 
خف سیت یہ کن اع لنکون ین ونونگنی ہی نشین فی دیون من وت یا 
ہارے پرانے شاعروں مس تی ہہ سب فوحیمات اپتی اپنی مہ میک سی مین یں 
ں ویر وغیر: شع مکی ححض ہہمارے ابی تکرتنے سے نہ تو حا نظام اییا ہو جاۓے 
ماک شاعزوں کا من موتیں سے بجھرا جاتے گے تہ ادیعوں کے صرپہ ایک دم سے 
کک کی دن سوار ہو اف ےگی۔ م ہک کہ ادییوں میس لص ہبی کن نہیں ہے بائل ہے 
نے کے حتراوف ےہ اویب "یں ککصت۔ ان دوتوں بانؤں من ا رکوگی فرق ے و 
کہ پلطا جملہ ذرا میا ہے۔ حح تح کی گن ت صرف پٹررہ عولہ سال کے لڑوں اور 
لڑکیوں میں مکی ہے جن جزیا تکو برا راست اعظمار کا وسیلہ خیں متا وہ اس عم رکے 
لوکوں میس ”ادب زوگی' کے ذرسیج ظاہرہوتے ہیں اوییوں کے سلملہ میس تو سو کی 
بات ہی ہے کہ اع میں کس تم کی گن ہونی چایے“ اور اگر ان میں یہ گن خیں 


٦۲ 


ہوقی تڑکیوں ؟ اگر ہہ رکاوشش خارتی یں تو شایر ادیوں اور ان کے بیدرووں کے 
بٹاۓ بھی نے ہٹ کیں۔ لان داعحلی رکاوٹو ںکو لتحض اوجات شعور یکونشش اور وہئی 
رو یے کی جدٹپی سے رو رکیا جا سکتا ہے اگر ای جمود سے پڑے والویں کے علاوہ 
ناو ںکو بھی گبراہٹ +وقی سے نو پچ رحقیر کا زیادہ زدر اڑسی باقوں پر صرف ہونا چا جۓ* 
ھک ھی ےکی حد تک اہن اعقیار مل ہوں۔ 

ہمارے اویب جس عمرمیں ککصع خشروع اور ش حمکرتے ہیں ژانہ ور چزہات کا 
ہو ہے۔ وراصصل وہ خود خھیں لت بللہ جزیات ان سے ککصواتے ہیں۔ ان کے پا 
عھ] اسلوب نمی ہوتا۔ جیذیات نس طر حککتے ہیں وہ اسی طرح کت لہ جاتے ہیں۔ 
جیے جییے جذبات جم ہدوت جاتے ہیں ان کا لھا بھ یکم ہو جا. ہے۔ اس سے 
ھیری عراد ہہ ےک عام انسانوں کی طرح جمارے اوییو ںکو بھی جوائی مم اپنا ہ رجڈیہ 
انیکھا نظ ر٢‏ سے اور وہ اپ نے کو اس خیرم شا لکنا چاہجے ہیں۔ ان وہ آہسع 
آہسۓھ ان جذبات کے عادی ہو جاتے ہیں ت پچھران ج ںکوگی ندرت باقی میں رمق اور 
اریوں کا علتی جوش بھی صا ہو کے رہ جانا ہے۔ عخرب کے اویب عمر بح مامت 
رہے ہیں ت اس کا ہہ مطلب ممی ںکہ ان کے جزبات بیشہ ملاظم رچے وں یا روڑ 
اپنے اندر ایک نا جزہہ ڈحوی ژالے ہیں۔ اصل میں سوال جوش اور زور کا تمیں* 
زاویو ں کی قدروقجت اس طرح من ٭وتی ہے کہ فلاں صاحب کے پاس جن جزے 
ہیں۔ فلاں صاحب کے پاسس پاچ انسان کے جذبات دہی گنے نے ہوتے یں اور 
مزیدار سے مزیدار جذبات سے بھی آدبی ایک عہ ایک دن انتا سی جا.ا ہے۔ الع جھ چچز 
تروتازہ رہ عتی سے اور شس میں فشونما ہونی جچاہجے۔ وہ سے مجزبات کے مخحلق ک ری 
کا رویےٴ جذباقی ارتا کے مم مہ خمی ںکہ آدبی نے اپنے اندر ایک چڑیا گ مبھول رکھا 
سے اور روز ایک تہ ایک جزبے کا اضاقہ ٭] رہتا ہے۔ اس سے اد ہہ ہوقی ےکم 
آدی کے جزبات ا س کی ٢حخصیت‏ کے ووصرے پھلڑوں بر اث ڈا لے ہیں ان سے ار 
لیے ہیں اذر اس دوگ تہ عمل کے ورہیجے ا نکی شخضیت جن بیک وت ژیاوہ ے ڑیادہ 
ہہ گیری اور زیارہ سے تیادہ ارکاز بدا ×] جا ہے۔ جذیات جا خو دکولی 
ترروقجمت میں رکھتےٴ آوی کا انوروقی رویہ اخیں عابل قرر بنا ے- تحوص] اروپ 


لن 


ہیں۔ 
ہہ بات حی ری یکو ای طرح معلوم تھی“ انسوں نے ج کسی اع رکو ڈانٹ پلا 
دی جح یکہ میاں تم اچنا چما اٹ کمہ ل اکر ضس خشاعری سےکیا مروکار*تڑ اس کا 
بی مطلب تھا۔ پچھراٹیں اس کا بھی اساس تھاکہ شاعراپنے جذبات کے بغیرشاعری 
کک ربھی خمیں سکما اور اس کے لئے جذیات ایک اندح اکنواں بھی بن بت ہیں۔ شاع رکو 
کیک وقت اپے جذیات قول بھ یکرتے پڑتے ہیں اور ان سے بے تعلق بھی رہنا ہو 
ہے- شا چذیات کا لام تی ہو سے اور اع سے آزا ہد تجی- ان ووتوں چو ںی کا 
کش بی دہ جار امات ہےٴجھ دوسرے لوگ میں اٹھا یت اور جس کے بقیرشاع مسج 
معوں میں شاعرخمیں بین کا ہہ ایاکرب ہے جس سے جان بچاتے کے لے شباعر 
کیں بھی چاو نے سکسا ہے مل یٹس ت ےکما سے یں 
٦۲۴۸1۲۰۲ ۸۸۴ 4 1711153 1۸۳‏ تی 11811016 عہھ 
۳۷۷۸۸5 کھ کھ۱۷ ۱٢‏ ۱1۸46 یرہ ع۳٣۷۳‏ 7‫ ہهہ 


٣۷‏ ٢0ہ‏ ١ط55م‏ 65531106 11 عاعہہ ۷ وہ یہ۶۸ 
ط1۸ ت0۹[۷ _ 001٥‏ 


چاہے کی شاع کی شاعری عشق ہی کے ذریج دجو میں آے لیکن حشق شاعر 
کے لے ایک تیب کا کام بھی درا ہے شاعرکی معحیبت ہہ ہ ےکہ وہ حشق بھ یکر 
ہے اور ساجھھ ہی اس سے بھی ڈراہ ےک کمیں صرف خاش ہی می نیکرعہ رہ جاے۔ 
شاع ری کی اس اندرولی اذمت کا ینتا ورو اگیز اظرار سٹیس اور مر کے یہاں ہوا ے-۔ 
وا مضعل بی سے نے گا_۔ یٹس تے ة3 ایک وقعد گ اکریماں ‏ کک ویاکہ میں 
ت اتی حجوب کو ابق بات مچجھانے کے لے شاعر یکرت ہوں۔ نین اس اختزاف میں ے 
کش بی ماں ہےکہ اپنے جذیات کے متححلق محروضی“ روب اختیار کیا جاۓ- 
شاعراپے جزیا تکو براہ راست اظمار کا موقع رتا ہے یا اخیں بپکتھ اور بناتا ہے۔ اس 
کا اظمار بھی جیٹس ہیک زیان سے سے :_ 
٠0 900‏ ہہ نفحفط 1۸۷ ۲ ۳ہ ہصم ۲ 
کی صاجند وادتزہہ 81۸7“ 7ص6٢٢۲‏ ۸۸۷ رط 


۲116 ۷۱۲۸۔ 6۸ہ 51۱۸۱۷۰۷ طت , ۷ہک 
117.00٦۷۷7 ۳۷۷۸,‏ 


۲ 


یٹ سک حر ےکہ میں نے اپنی شاعری میں اہی عحیوب کا عجلوہ دوکھایا۔ ہہ تذ الیک 
خیرادپیٴ ذاتی اور جذماتی مخقصر ہے۔ یا میں کت ےک سے دہ جذباتی ترک سے مس نے 
شعرکی شحل یں ارنقاع پایا- جن جیٹس تے جو یا تکی ہے اس کا دوعرا جتڑو ہے سے 
کہ دنا اس کے کظام میں ا سکی حبوبہ کا جلدہ دی کو راضی وی تے اس ل ےک ا سے 
بوا شاع رماتاگیا۔ اپنے آ پکو بدا شاعر منواتے کے لج جیٹس تے اپے حذبات ہ یکو 
میں بللہ اپنے اھر اور ای شخصیت کو نشو تما توی۔ خود شاعر کے خیال میں اس کا 
سب سے بدا کارنامہ ہہ ہے کہ اس نے لوگوں سے اپتی مویہ کی مععحمت موا یك 
دورو ںکی را میں اس کا اصلی کارنامہ ہہ ےک اس تے ایک السا آئیہ بتایا ہتس 
میں اس کی محبویہ کا علوہ نظ رمآ گے اور ہہ یہ اس کی ری شخصیت کی بئی میں 
ےزخ نز لا چ؟آو را نل ع٤‏ یز 'اخیان گلیم بب عارت فیب 
ہوگی ہے۔ ہہ آئنہ جذبات کے بے لوہے سے مار ہوا ہے گن بھٹی سے للا سے تو 
جام جماں نما یکر خیصل بھی شاعری میں جذیات کی قلب ماہیت اس طرع ہوقی 
ے۔ 

جن حمیں پنتس سال سے اردو والوں نے ادیپ کی ہہ تحریف عقر رکر رھی 
ہ ےکم وہ اول و آتر صاس ہوا ہے۔ نٹ عر بھری ہکا را کے سے فن کار کا ایک 
زکئی' اور جذہاتی ررغٗ ٭. ہے۔ وہ ہریات سے ا خمیں لیتا۔ جو چچت اس کی روعاتی 
جدوصد می مرد میں دق وہ اسے حسوس بی شی ںک را اور بی ا سکی قوت ہے اس 
کے بمخلاف جم ارد والوں کا ایمان ےکلہ جس آ دی کے اعصاب عرلت تہ رؤں وہ 
ایب می میں سے جذیات پر سک ازم پدری دالے دور مم وجود پڑے ہوگی تی“ لتق 
اس خائص شحل میں اس سے پل اردد شاعروں کے سائے چتد اۓے غاری معیار 
موجود جھے مجن سے اپتے جذیا تکو ہم آنگ متانا ہز ]ا تھا- خلا توف کی روات یا اور 
کچھ نہ سی ت عیاش کی ردایت۔ برعال آدی اپتے جذیات کے رم وکرم پر تمیں 
ہو تا تھا۔ بہ اسے اپنے جذیا تک وکسی مکی رخ پہ چلانا ی] تھا 
ابر الہ آیادی تن ےکھا تھاف سم 

چخود بس سے تو ہے تقر رس اتی" 


۲ 


ای بح جذیات بس سے و داقق محاورہ برسق بھترہے۔ اس می ںکم س ےکم 
یزیات کی مم کا تھوڑا بست خارتی اصول تو جس رآ جا ہے۔ گر از ثّ پاری وغیرہ 
نے جذیات بس کو ایک جب متایا۔ جس تے این مج ان کے میدوں کے پوے 
بے جیب خھوتے دیکھے ہیں۔ ب عم خود ہیں میں سا لکی ناموی کے یر ناول کاموں 
گا نے ا نکی نقموبریں وہاں چٹ یکروں گا۔ ثال کے حور پر ایک ممونہ دیھے- اس علقہ 
کے ایک رین فریات ہی ںکہ خمزل ان لوکو ںکی چتت ہے جو سی رکپڑے پچننے ہیں اور 
ظا مکو دقتز سے آتے کے بعد دوستوں کے علق میں ھکر پا نکھاتے اور شع ربج 
ہیں۔ جذبات کے سے میں ان لوگوں کا اگ رکوتی معیار تھا نہ ےکہ ہم وہ یاتیں موس 
ہکریں جو عام لوگ حسو سکرتے ہیں۔ یکن عام لوگوں سے اختلا فکرتنے کے _لۓے 
بھی لی چوڑی ذہتی حمی تکی ضرورت پدقی ے۔ عرف عام اور عطال جذیات کا 
فرست بنا کے رکھ لیے سے کام خی چتا۔ زہتی ترمبیت کے لقیرجذیات کا پور 
کرتے سے جو تہ فکضنا۔ اس کا غحمونہ ”نما بکی سرنزشت' یں دییھ۔ اس ناول 
کے ہیر نے مصور یکی نمائش میں ایک تقوب کا عنوان توب :کر کے انعام عاص لکیا 
ہے سکاب میں اس کا میان پڑھے “اور پھر ما ے کہ لشھے کے خفان پر جو تقو ہوتی 
ہے ا کی روں میں اور ا سککتا بکی روح مم سکیا فرق ے- 

۳۷ء کے بعد حرام اور علال جذیات کا فرق تو ص ٹثگیا ان يزبات ے خلق 
روبہ بنیادی طور سے وی رہا- اضاد ٹگارول اور شاعروں دوئوں کے لے ا گے اروپ 
کی تحریف بی دی ہ ےکلہ اس مج اتی اصاس اور ہچ بے کا خلوص پایا چاے اس 
ای نظرہیے کے ماحت او بکی تخلیق سے سے اتی جات کاقی ہ ےک کن والے تے 
کوگی دیپ بات دکھ یا سن کی ہو یا اس کے دل میں کی تم کے رہپ جذیات امنڑ 
آے ہوں۔ ادیب کا کام یس انتا ہے کہ وہ اپنے جذیا ت کو اپتی حر میں 'خ لکر 
دے۔ جذیات می تنا زور ہو گا تر بھی اتی بی اتی ہ وگی- یالحوم پا مے والوں اور 
کت والوں روتوں بی کا روہے ارپ کے یارے جن ہے رہا ے- چتگلہ ادعول کا روے 
اپے جذیات کے بارے میں یشہ ایک سا رجتا ہے۔ اس لے اخمیں سے موضوع تیں 


٦ 


لت سے اسالیب خی لج ایک می اوعب کے یہاں ایک تی جیے جذیا تکی گرار 
ریت دیکھت پڑھے دانے انتا جاتے ہیں۔ پھر ادیب خود اپنے جذبات مک کے کل منا 
چھوڑ رجا ہے۔ مہ جھگڑا حملیقی صلاحی تک یی زیادقی کا شمیں۔ جمارے او پک بدعای 
کی بڑی وج بی روہ ےےکہ اوب کے لے جذیات کے علادہ او ری چیڑکی ضرورت 
نہیں اور امھ ادب میں رت جذیات ہنی جا جۓے- 

ارب ق انگ رہا۔ عام زندگی می بھی اس آد یکو زیادہ حا قزر میں سبھا جا 
گان جن خزود جڑبات کل طاود اود ہد ہے اق اتزار و مدے خرت 
جذبات کے مع مہ میں ہی ںکہ آدبی کے اعصاب میں زازلہ آ جائۓ یا اس پر ۔کزانی 
کیغیت طاری ہو جائے۔ جذیاتی جخار میں جا ہو جانے والے آ ری کی زیار ت کوگی 
بست بدا روح افزا منظ رخضیں ے- جذباقی جون اور چچڑزے رت جذبات اوہ- یا اوں 
کت کہ جانوروں میں جزبا تکی حثرت کے اور صحمی ہیں انضمانوں میں اور جں چ ڑکو 
نے ۸7101 511ا ہد یکنا ہے۔ وہ صرف بباتوں سے جوش میں ٢‏ جانے کا 
عام میں ہے لہ بلت اور اضاقی اقار کی لڑاتی کا۔ انسان مں ہے حثرت اس ون 
پدا ہوئی جس دن اس نے جبلت کا عم ماس سے انثا رکیا۔ انسائی ضذعب کے مظاہر 
جبل ت کو آزاری ری سے وجور میں خمیں آتے بللہ جل تکو دہاتے اور اے ارنقاغ 
رجیے سے۔ انسان اور جانور می بی فرق ہے۔ انسائی زندگی سے عرادبی و ”نکش ہے“ 
جو ول اور راغ میں* جلت اور اخلاقی یا مالیاّی اقدار مں قردکی انوروئی خواہٹوں 
اور عاج کے خارتی اخکام میں علق رعتق ہے۔ انا نکی جرزیب فقس اور اس کی 
شخصیت کا ارتا اسی عمل کے زریع ہونا ہے جذباتی شدت با اتی کے مع ىہ ہیں 
کہ آدی کے اندر جو وو توتل برصر پییار ؤںٴ وہ ان دوٹوں کو بیک وقت, قو لکر 
گے۔ اس سے بھی بدی یات ے ےک آری ان روتون و ںکو آپں یں لی لکر 
کے ایک خی اور حیات پرور قو ت کی تقگی ل کر ے۔ خی زندگی حلیقمرنے کا بی 
طریۃہ ہے محض جزیات آد یکو بڑی جلد یکا رہیجے ہیں نان اس ترڑخ اور تلق 
عحل کے ذرییہ زندہ رہے کا نا حوق حاصل وت ہے اس مکی اخلاقی حرت سے 
گبرانا انمائی زندگی سے روگردائی آرے کے باب ہے۔ ارسطو کے زدیک تو انان کی 


۲۲ 

یجان می ہہ ہ کہ وہ اچپنے فطری وجو کو اخلاقی وجود کے تے گیں لاتے کی چدوجچر 
میں لگا رہتا ہے۔ انساتوں کا اورپ تو وتی ہے جو اس چروجمد میں شٹریک ہو“ ورت جو 
اوپ صرف جزیات کے اظمار ے مطلب رکتا ہو اے تو اں چائوروں تی کا او پکما 
جاسکا ہے جانور فطری اشیاء ہیں۔ ان کا مرنا ینا فطرت کے قیضے میں ے- اتا نکم 
ےکم روعائی ور پر میں وفعہ ھرتے اور شیں وقعہ ژنرہ ہوتے کی صلاحیت رکتا ے- 
اضسانی ارب کا موضوع صرف اسی عم کا انسان ہو سا ہے مصحض جذماتی انان نیں- 

ادب میں جذیا تک یکیا حیثیت سے “اس سے متلق ایک تہ نے :_ 

جون اسٹوارٹ مل فوجوانی میں بی انتا نیہ بڑحھگیا تھا اور اتا سپھ سوپنے لگا تھاکہ 
اسے زندگی سے دئچبپی ہی باقی تہ رتیٴ اور اس تے اراد ہهکر لیا کہ وریا ش ڈو پبکر 
جان دے رول گا۔ ڑوےۓے پمومچا انفاقی سے ورڈز ورج ھ یکتاب ساجھھ لی آکی تی* 
اس ےکھو لک پڑہنا شرو عکر دیا۔ ورڈز ورجھ کے کلام نے دل پر چنھھ ایا ا کیاکہ وہ 
زعدگی سے ری طرح مت نگمروایں آگیا۔ تو مل کی ذاقی زندگی میس شاعر یک ہے 
کچھ مہ تھی۔ اپنے ادلی تحجزیات پر خو رکرتے کے بعد مل اس تج پر پہوضچا ےک 
شاعری جذبا تکی پردرش کا تام تیں' بہ جذیا تکی تمذعب کا نام ہے- 

ہہ قذ بعد جس سوبلیں ےکلہ جذیا تکی تمفعب کیے ہوقی ہے۔ اس سے پچطلہ تو 
ہہ سوال دا ہما ےکلہ تفع بکی ضرورت ى یکیا سے ؟ جاتورو ںکی زندگی و نی الہ 
ایک می طر کی ہوتی ہے مج جسانی زندگی۔ انان تے اپنے ارتا کے دوران ش 
ایک اور ت مکی زندگی بھی پ راک کی ہے مج روعائی زندگی- جاتورول کا میا جینا صرف 
ایک جم کا ہے۔ انساتیں کا دو رح گا جاندرو ںکو زندہ رجے کے لے صرف اپے 
شی مک صحت مند رکھنا ڑا ہے۔ انسا نکو زندہ رجے کے لے سم کے تی رحیاحات 
کے ساخھ ساتھ روج کے فی رحاعا تکو بھی ابو میں رکھما پڑ ا ہے۔ اگر انسان کی 
روح زندگی سے انتا جاے مم بھی زیادہ دن جی خی کتا۔ اس کگۓ انان کا سب 
سے بدا مسلہ بی ہے کہ زندگی سے مقاصت اور بکائعت اور جم آ گی کے پیا کی 
جاے۔ من زندگی کے بست سے مظاہر اور حناصر اسان کی پپتد کے مطالق نیں 
ہوتے۔ اممیں کو تول کمرتے م جتایق اور ز٤ٹی‏ چدوجر کی ضرورت تی سے۔ 


۲۸ 


تزیب نف س کی ضرورت اسی لے یش آتی ہ ےکم اس کے بغی ہآ دی کیج معتیں میں 
زج گیں رو کتاے 

جذیا ت کی تذیب ایک طح تو زندگی خودکر دیق ہے لچ بست سے جذیات 
ایے ہوتے ہیں جنمیں یقت تظاہری میں ہونے ریی۔ لا نفرت کے جزہے کا کیج 
انار تق ہہ ےکلہ ہیں جس آدی سے نفرت سے اسے ما ڈالییں- جن خوو اپتی چان 
کا خوف ہیں ایب اکرتے سے رکا ہے۔ پچھرچ کہ انسائی اخ قیّات کے تزدیک ہے ڈیہ 
ناخوظگوار ہے۔ اس لے ہم اس کے اغنقی اتممار سے بھی جچتے ہیں ۔کیدکلہ اس میں 
ہاری سای حثیت کو نتصان پت یچنے کا ڈر رتا ہے۔ اس طبح مگ ی زندگ کا 
ضردریات ہمارے بست سے جذبات پر پابندی لگائے رکھتی ہیں۔ مجن دراسل چزبات 
ری تفعب میں بلکہ جذیا تکو زنُی رم جکڑے رتا ہے۔ تیب کے معمی تمہ ہیں 
کہ جذیات آزار ہوتے کے پاوجوو نتصان رسال تہ ہتیں- 

اس لے جذاقی تفع بک بی شریط ف مہ ہےہکہ ج رم کے جذیات کو قو لکیا 
جائۓے۔ پچھراجیں ہ رض مکی زہنیٴ اخاقی* سای جمالیاتی اترار سے کمرانے دیا جاے۔ 
ین اس حیشل ککشن ین اخخطر یب رچتا نے گی کین ردوقن عزلف ذشی ےہ ےگ یر 
پئیں۔ یہ کش کش ای وقت مفید ہو سی ہ ےک جب آدی کے علیقی ارارے کی 
سریرسق میں جاری رہے۔ اس کش کش سے ملف جذماتی اور غیرجباتی رعماءات 
میس اک تحیب ػنی چاہجے۔ پھر جو نتش عیب ہو سے وہ بھی اس مم کا ہوتا 
چاجے۔ جس سے ہم زندگیکی خی وت اور زندہ رتے کا یا اراوہ عاص کر گی“ جو 
اوب ہہ سارا کا مک سکم ہے وہ يذات خود زندگ یکی ایک طاقت بن جات ہے 

اس خکک اور بے رگگ بچحٹث سے بعد آج می دو ایک حثائیس اس یا تکی بھی 
دی جک جذیات کے بارے مس مارے پراتے شا ول کا روب ےکیا تھا 

پل ت3 ایک عام جزیہ مج رقایتٴ اس بے کا جیلی اظمار ای طرح ہو کا 
ہےکہ رقیب یا حبو کو بار ڈالا جاتے۔ ہہ جذ بے کا اظمار ہے جذبے کی تمذعب 
میں تفحب کا آغاز اس طرح ہو گاکہ ہم رقی بک مارتے کے باتے محیویپ سے 
کاح تک کے یا اسے طض دے کے اپنا بی ٹر اکر لییں۔ ملا 


|۲ 
یہ مم بے تہ آپ آۓ کئیں سے 
سد پچ ای میں سے 
ہہ شع رکہ کے شاعرتے محیو بکو جساتی ایا خی دی جن اخلاقی ما جذباقیق 
تکلیت ضردر دی ہے۔ درقایت کے جزہ ےکی اس سے بی تمقعب یہ ہگ یکہ اس 
ناخو شکوار جز بے سے پہلو بچاے یما سںکی تح زی تقو تک وک مك دیا چاۓ اور رایمت 
حیت کو بالنل شحخ یا تھوڑا مم مک مکر دیے کے ججاۓ اسے اور جم گی مبوط اور 
لطیف متا درے۔ لتق ایک خی جزبے کی قلب ماہیت ہو جاے اور وہ ایک عناتققظ 
جز بے میں عل ہوک اپ اندر اشاقی قوت پر اکر نے۔ ایمان کاىل وہ ہے جو پہوے 
بے لوک اپنے اندر جذ بکر نے۔ بدی محبت وہ سے جو نفرت سے بھی خی زندگی 
حاص لب مے ‏ خر“ اب آتنش کا ایک شع دی 


نل لی سے بت پرین سے بو مری 
بے ن ایک ابیا چزیہ تھا جو اضالی نقحلقات سے پوا تا ے- اب ایک ایا جذ 
لیے جو انسان اور فطرت کے رت سے پا ہو)ا ہے۔ فطرت مں بیادی اور وت 
کے مظاہردکچھ کے انسان کا پسلا روعمل مہ ھا ہےکمہ وہ خوف کے مارے مرزنے گے 
ا زنلدگ یکی قوقوں سے بدرماں ہو جائے۔ مہ ق ابتدائی جذیہ ہے اس جذ بے کی تمذعب 
میتی کے پاتھو ںکس طح ہوکی سے مہ اس شعرمیں دی :- 
لی بی ىا حدین خی کی دا پ میم 
کئیں آجے جئز تو ہار ئظمرے مم 
ایک تسا جذیہ فرد اور اضسائی زندگی کے تساام سے پیا ٭:ا ہے“ قر رکو زندگی 
قم قم پے گلست کا نہ دیلنا پڑت ہے۔ ان حرومیوں اور الوسیوں کا لازق 
ردان نے ہے کہ آزفی دا کی اعت یز ۴ے آور آے وازا ف نع کٹ گے ہے 
ابتطراتی روعل حجرقحب پ اکر یھ اور بھی مین سکتا ہے ل : 


شس 
با عالم یش ریں خا بکی ات میں 


آرن "تق گزڑاز نے سے چر رما 
اس شعرمیں اس تلیف کا اصاس زائل خی ہوتے پایا جھ شماع کو دنا یں کی 
مجن حس رو ی ےکی حیدیٹی نے دون غ کو جنت متا دیا۔ انان جرحم کے سیق آسائی 
سے کی لیتا ہے۔ لکن ہہ جات بدی مکل سے آتی ہ کہ دہ اس دا کی زندگی _ے 
یکالت کا اصاس چی اکر نے۔ جس اوب میں اس حم کے وہ کس ری طرف ایک 
ای کوششل کے آعار عہ سلے ہوں دہ ول بھلانے کے لے ت یک ہے۔ مین 
اضنانو ںکی زندگی میں اس کاکوئی مقام تمیں ہو کتا_ 


۴۳ء 


واخلیت پتری 


لہ رس پندرہ سال سے اردو کے اکر تقیری مضاين میں وا خلیت کا وکر اس 
طرح ہوا رہا ہے جیسے می کی بعاری کا تام ہے۔ جیسے عخار کا نام س نکر ہم میہ فر ضبر 
لے ہیں کہ عریض کا برن جتا ہو گا“ آعھمیں لال ہو ں گی وغیرہ وغیروں ای طرح 
ارے بست سے نقاو اس لفظ وا خلیت کے ساخھہ چند باتیں ہیں ضو بکرتے ی ںگویا 
. سب دا خلیت کے انڑے پچ ہیں۔ شا 0) آ دی اتی ذات مم سکھو کے رمگیا۔ )٢(‏ 
حقیقت سے اس کا رش ٹو گیا“ اور وہ اة تصورات میں اٹ ُھ کے رم گیا۔ )٣(‏ 
ززسرے آومیوں سے اس کاکوگی علاقہ خی رہ ادر اس تے اپتی ایک خالی وا انگ 
بسامی۔ (۴) وہ الا انقرادیت ند بللہ خود برست یناہ سای شعور اے عاصل تہ ہو 
سکا۔ (۵) انا وہ اضماشیت کا وشن تزار پایا۔ مت ہمارے نقادوں کے تزویک وا خلیت 
صرف عرض می میں جرم بھی ہے بگمہ ا نکی دجنیات مں و اس کا درچہ اڑ گناہ کا 
ہے۔ اگر وا خلییت اور خارجیت واقتی انان زجن کے دو تخل رججانات یں نت جارے 
نتادیں کے اس رو ےکی ال بالکل اڑی ہے جی ےکی آد یکو سے قر یا چھوئے قزر 
کی وجہ سے جم کن گگییں۔ اگر وا خلیت انان زین کا ایک تخل ران رہا بھی 
سے اور ساججھ بی ساجہ حرض بھی نکیا جو لوک اس خلقی لحنت مج ںگکرقآارؤں وہ خوو 
کش یک رلییں * خر ارد کے نقادوں تے اس فطری رحان کے سے نظام زندی می ںکون 


۲۲ 


سی ججکہ مصعحی نکی ہے قصہ شابید ہہ ہ ےکم جمارے تقاد سوپتے کی صلاحی کو وا غلیت 
کت ہیںٴ اور چنا ان کے فظام اقدار میں جم کے باب ہے۔ جس طبح ایک 
رب ریاضی داں نے اپتی بد می رخاوم ہکو شحلث تتسادی السا شی نکی گالی دی شی۔ ای 
طرح مارے ریف نقاو سوپتے والوں کو وا غلیت پندی کی گا ی وے ہیں۔ گال ی کی 
حیثیت سے تو ہہ لفظ بست کار آھر ہے“ لگن چکمہ نقاد اپنی تررو ںکی عتاعتٴ جیدگ * 
عییت اور سب سے زیادہ ”۱ حنت* پر ظ رکرتے ہیں اگر و ہکبج یکتعار اپ نے استعا لکردہ 
الفاط کے مم بھی ڈحویثڈ میاکرییں تو اخمیس پل کہ جات اتی سیدرھی سادی خیں 
ہے۔ 

الا ہمارے نقادو ںکو خارحیت یا خراح تی اس لے پند آقی ےکلہ اس کے 
ذریے آودی سای حخیقت سے قریب رہتا ہے ۔کم ےکم جھے ہے خیال سو نی صدی 
قبول کہ جو روہ آد یکو سابجی یقت سے قریب لائۓ وہ اس روب سے بھجرے 
جو اسے دور نے جائے۔ لین خراح جنی میں وی خطرات لاجؾ ہوتے ہیں جھ داخل یی 
میں۔ اگر آ دی خارتی حقیقت سے ہم آنیگ ہوتے یا اس پر ا انراز ہوتے یا ااے 
پرلیے کے لئے اپنے آ پک وکی خاص فقطہ نظر سے قسل کر نے یا اپنا ایک اص 
گمرار (ھ۶5۶50۲۲) بنا نے تر خارح نی بھی اس وی اور حخیقّت کے ورمیان 
دیدا رکی بح آکھڑی ہوتی ہے۔ را کے خیالل میں ت آدی اپنا ای ککردار بناتا دی 
اس لے ےکم حقیقت کا بھست می تھوڑا حصہ اس کے جتجربے میں سے اور جب جا 
کل سے الک ہو جا سے ا س کی صحویت بھی سح ہو جاتی ہے۔ خارق عحمل کے 
ذریجے خمارتی ححیق تکو برلیے کے مقصد سے تارج بی ایا رکرتے کا مطلب ہے ہو تا 
ےک یقت کے جو حناصر ہارے عمل سے ہیں یدل بت ہم اتی اپ وائزہ 
اصاس میں آتے می مہ یں عگنہ اہی ےکردار اور اس پر شی نکو برترار رکتے کے لج 
ىہ فر فک لی ںکہ ہم ساری ححیق تکو جھ رہے ہیں اور اسے یدل بھی جت ہیں۔ 
ہیی خراح ج۰ی کے وریہ بھی ایک خالی جنت تفیرمو عمق ے؛ اور واعل بیو ںکی جنے 
سے بھی زیادہ تاپاحدار۔ ایک اوسط در ہے کا داخل ہیں تو بچارا پ ری ے جات ےکلہ 


۲۲ 

عیری جنت صرف خالی ہے مجن خارح ہیں اتی جنت اور اصلی دنا کو بدی آسانی 
سے ایک سمبججھ جٹتا ہے۔ جب خارح ہیں اس خود قرجی میں مجنا ہو جاۓ کم ججے 
ححییقت پر برا اختیار عاصل سے تو ا سکی نید لات وقصہ خخت عاونژں سے بھی تہیں 
ٹوٹ یکلہ اس کاکمدار ان یانوں سے اش بی خمیں لیتا۔ بمت سے اکر > معلم* واعن“ 
اسلاع پنر “ای زمرے میں آتے وں۔- 

ہے مل خارح بی ہو یکو ححیقت سے انتا بی اق لکر حمق سے بتنا داخل ہنی 
خمونے کے طور پر ایک طرف ت وہ سیاسی تاول لیے“ جو انقلالی نتطہ نارے کے سے 
ہیں> شٴ شولو خوف کے تاول اور دوسری رف اوپ برائۓ اوپ کے ار لو ےکا 
ناول ‏ بذماتی تحلیم' یا احتان دال کا ”سخ و سیاہ' یا جوس کے پچطلے ناول کے وم جے 
جھ آنر لین کی ساسیات سے معحلق ہیں اور پھر چا ی کہ سای یق تک وکون بھتا 
ہے۔ اگ آپ کے نندیک آدی کے انددونی گرب اور اس کے خارتی عحل مج ںکوئی 
علاقہ خمیں٤حب‏ تو بات بی شحم ہو جاتی ہے۔ لان اگر ان دوتوں کے ورمیا نکوگی رپا 
ہے تو داعلی تجزیات پر خور سے بخی رآپ خارتی عمل اور سحابتی حقیقت پر اس کے اث کا 
ادرک حاصل بی می ںکر گگت۔ اس اوراک کے بقی رپ کے عمل سے مقصر اور 
اس کے تج میں اتا فرق دا ہو گاکہ آپ خودجمیں تہ کییں سے “کماں سے لے 
جج ےکیمان سد 

ار ؟ دی وا خلیت اور خمارحی تک وگڑ ب کر درے۔ یا جو مل اندرولی رعماءات کے 
زریج ظھور پڑے ہوا سے اسے اتی غارح نی کا مطظ رجہ ٹیش تو اسے خور پعد خیں 
چتاکہ میرے عمل کا مطلب اور ا سکی توعی تکیا ہے * نہ دہ ا سک کچ قرو تت 
مین بر سکا ہے اڑسی صورت میں عمل دی کے قضے میں خی رہتا۔ مکلہ دی آپنے 
عل کا فلام ین جانا ہے“ اور عمل جدح چاہتا ہے اسے نے برا ہے۔ انس مکی 
خارح جٹی امقرادی اور سای زندگی کے لت ےکصی جا و کن ےت اسی کا نتشہ قلوببر نے 
اپے ناول میں جھنا ہے شلا اس حاول کا ایک کردار اشزاکی اور انقلالی ے۔ 
تھوڑے ون بعد جب انقلاب پندوں پر محیت آقی ہے تو وی پلٰی سک وروی چے 
ڈیڑے سے انقابیو ںکی پٹائ یکرت نظ رآ ہے۔ سیاسی لوکوں میں اس مم کی ججرٹلیاں 


۲۲۲ 


عابتی حیقت کا حصہ ہیں یا نیس ۴ مہ ابی حیقت داغل ہیں توب نے کی یا تیں 
ھی کیا ہہ حقیقت راخل تی کے بغی رجہ میں 7 حمق تی کیا اس ت مکی داخل نی 
ہے بی یق معتیں میں مہ خیزساسی عمل خان ے ٭ 

اس تقام بچھتث سے حا مطلب ہہ مم ںکم خالی دا خلیت ببندری سے تکام پل کا 
ہے یا دا خلیت پبندی ہرعالت میں خارحیت پندی سے بھترہے۔ البعتہ تھے اس پے 
دای اصرار ہ ےکہ ”نم سکیا دکجھ ربا ہوں' ؟ والے سوال کا جواب ڈھویڑنے سے لے 
آد یکو ہہ معلو مکر ینا اہی ےکہ "می ںکس طرح دکھھ رہا ہہوں ؟ 'کیوککہ جس رح 
خارع نی غارتی حقیق تک پردے میں چا عمق ہے ٴ اسی طرح داخل نی کے زرہیے 
بھی ہے لازی خی ںکمہ آ دی ؛ دنا کی ححیقت تو انگ ری۔ ابی حیقت می مج نے 
تس طرح آدی کا نار یکردار اس کے شحور اور بیردئی ۴٣خیقت‏ کے ورمیان عاکل ہو 
کا ہے اسی طرح اس کا ” ذاعل یککردار" اسے اپنے آ پک وی اندروئی تو _ے 
وای کر لیتا سے اور پھر ہر کو اسی کی نظروں سے رتا ہے۔ مجن آدی اچنے دو 
کمدار جات ہے' ایک تو دوسروں کے لے اور ایک اپے لُۓ- اگر ہے اندرویٰگروار 
ضرورت سے زیادہ احتوار ہو جائۓ تو آدبی اپنے اندروثی عوا لکو د یھت اور کھت کی 
صلاحیت کھو دنا ہے اپنے ججاتے صرف اپتی اس خالی تو ےکر رتا سے ہے جموئی 
را خلیت پپنری سہے جو خارتی حقیقت سے بھا مہ کے لے ایا رکی جاقی ہے اور شس 
کا تہ اپنے آپ سے فرار ہا ہے ہمارے یہاں اواسی “ام اور بھیڑوں سے ملق 
ج نظمییں کسی جاتی ہیں دہ اسی تم کی وا خلیت پیندی کا نمونہ ہیں۔ اس کان وی تم 
کی حنیقت بنی سے علاقہ می میں اس لے ہم اس پر خور میں ہیں ے_ 

جن سوال ہے ےہ ججن داعل نی کے ورہیے یم او ریہ جیمیں فوکم ےکم 
اپنے اندرونی حواعل اور حرکا کو مجھہ کت ہیں وو ہیں خاری حخیقت ے وور نے 
اتی ہے۔ یا اس کے قرب لاقی سے ؟ لئے جم انی بت ہہ جات ما نکر شرو ںکرییں 
ےس واخل ہیں مخس خارتی حیقت کو دیکتا ہی شی ا س کی نظرفیس اہپینے زجنی 
عحوائل پر ہوقی ہے۔ اب حوال مہ 7ا ہ ‏ ےکہ ذہتی عوا لکیا چیہ ہوتے وں ؟ 

فرائڈ سے نزدیک ذزہی عواصل چار حناصر کے زریحے وجوو میں آتے ہیں ٭- 


۲ 


() انا (۲) فوْت الا () شور (م) حقیقے کا اصول_ ان چار عاعء رکا کی 
تاسب تقلف افراد ہیں ما ایک تی فرد ہے مخلف زہی عوامل میں مخلف ہو کا ے_ 
گر بسرحال ان میں سے تین نوکسی نکی حد کک خی رمضی چچیزیں ہیں ااشعور میں جو 
یں کا مکرتی ہیں۔ دہ کی ایک آد یکی زاتی یت میں فیادی جبلیں سب میں 
وی ہیں۔ اگ آ دی اپتے اند رکا مکرتے والی جچباتوں کا اوراک رکتا ہے تو وہ عم سے 
کم اپے معاشرے میں رہ ے والوں کی جعیاتو ںکو بھی تھوڑا بہت جھتا ہے۔ وہ اے 
اندر جزپ ہو کے ممیں رہ چانا۔ بللہ دوصروں کے ہی حرکات کا انرازہ نگانا سیھتا 
ہے ہیقت کے اصول'“' کا جو عروجہ تقصور ہے اس میں بست ہی یاتیں اتی صاف 
میں ہوکیں۔ بسرحال جھ داخل ہیں ہہ جات ہ کہ اگر میں حوک کے پچ میں چلوں گا 
تق موٹ سے کمرا جاؤں گا تو وہ بھی اسی حقیقت کر لی مک ہے صے خارع ہیں- 
تسری نز ہے فوق الانا۔ ا سکی تکیل سے ہوتی ہے اور ا سکی میں ککعتی ہیں ان 
تقصیلات مس پڑے اق رات با تکی جا عق ےکلہ اس کے جنانے میس محاشرے کی 
موجہ اخلاقی افدا رکا بات ہو ہے۔ اپچنے زہنی عحوائل میں جھ توتیں کار قریا ہیں اشمیں 
یھن کے مم یہ ہی ںکہ آ دی سای حقیقت یا اپنے محاشرے کے ساس“ معاخی اور 
اخاق عواعل سے بھی نال میں رہ سککتا۔ جو لوگ ہہ کت ہی ں کہ داقل بی سے 
زریتے آدی سای حقیقت کک جمیں کیج کتھا۔ وہ اپینے اس قیر ےکو جھظلاتے ہی ںک 
خر دی تیل معاشروکرتا ہے 

اب اس بجحث کا ایک اور پلو دی ہمارے زین می داخل شی ا اپنے مشاہرہ 
رن کی عادت کا آغا زکسے ہوا ہے ؟ جھیوڈور راکک تے ایا ےک بہ اشحتے یٹنا“ 
کلت ہکودتے یہ حسو کا ہ ےکم دوسرے لوگ جج بندیدگی یا ایند یو لکی تطرے 
دکجھ رسہے ہیں چچکمہ وہ چاہتا ہ ےکلہ لوگ چجھے پن دکریںٴ اس سک'ۓ وہ اپنا مشاہرہ 
شرو کر دتا ہے۔ ہہ دیھشہ کے ل کہ حیر یکون سی بات اخمیں پیند آتی ہے اور 
کون ىی ایند چچ کہ سوال دوسروں کے روگمل کا ہوا ہے اس لے دہ اپے آ پکو 
اخمیں کی نظطروں سے رتا ہے۔ نج دومروں کو ابی شخصیت کا حصہ بتا لیتا ے۔ 
خاریق حرکات کے مشاہرے کے یعد عمربوحنے کے ساجھ ساجھ اندروئٰی حرکات کے 


او 


مشثاہرے کا فی ر7 ہے اشمیں بھی دہ ماں با پکی تنظروں سےٴ آس پاس کے لوگو ں کی 
نظریں سے' اور آخ سا حکی فظریں سے دیکتا ہے۔ ہہ مشاہرہ ہی نہیں محاسیہ بھی 
ہے۔ داخحل بیٴ روعروں سے قرار کا وسیل۔ تیں* مہ دوسروں کو اپتی نعدگی می 
اعت کا انار ےکا ام ہیک اپ ئک انتا ہونے کے بع ہم ان لڑوں ے 
نظ نظرے ج تقد نکرتے ہیں 'ج نکی نطروں سے جم اپنے آ پکو دکچد رہے ہیں“ لن 
اکر ہم ہے میں میں داخل ہیں ت ا نکی نطروں سے اپنے آ پ کو چھپا نمیں سیت 
اتی اقدا رک جن اور انیں حقیری طور سے جاننے کا اک رکوئی متاسب طریقہ ہے ت 
داخل نی 

اک بی کی بات مائیں ت داخل نی کے سوا انساقی حقیقت کک نے کا او رکوئی 
طریقہ می ممیں۔ اس کے فادیک زین کے مین جے یا اوپر سییچے جن نی ہوں۔ () 
شعور (۴) زاتی شور (۳۴) اجتای داشعور۔ ہہ خمسری چز بالنل غی رجخمی ہے بوک 
اسے ایک زہئ یکیغیت میں جکہ ایک ”ےکا درجہ رتا ہے۔ اس کا ادرک عحاصل 
کمرتے کا مطلب ے> اپنی بی کے ححددد دائڑے سے باہر مل کے پرری انی ارت 
کے جرب میں رک ہوتا۔ مق واعل جن کی آفنری ہزم میں ہم صرف اپنے آپ 
سے ین پان فی اق تے زواجت ہیں۔ 

اگر ہہ بات آ پ کو متحوذانہ معلوم ہوقی سے نو رای کا نتطہ نظر و یھ جری کے 
ری ےکی بفیاد طبیجات پر ہے۔ ان کے تزدیک خود اہی کا مطلب نفیادی طور سے ہے 
کہ اپنے ذہتی اور جسانی نظام کے انزر ”او رگون "کی لمروں کے بما کی کیقی تکو 
حسو سکیا جائے۔ ان گروں کے دو ررغ ہیں۔ ایک تو حم کے اندر سے باہرکی طرقف 
دوسرے باہرفضاء جس سے مکی طرف۔ ان روں کے دو طرفہ با کے ذرہیے ہی 
ابنا اور اتی اشیاء کا ادراک حاصل ہو تا ہے۔ لچ رارخ تے تو غارحیت از وا غلیت 
کا فرق ہی ما دا ہے۔ ىہ دوقوں ایک می عل کے دو رخ ہیں۔ اگ آ٠‏ دی میں اچ 
آپکو دیھش کی ہمت ہے 7ے دو اسی مناسیت سے خاری یق تک بھی زیادہ کہ کت 
ہے۔ لہ رارک ت3 سے گاکہ باہرکی یو ںکو بھی صرف دتی دک سک سے جو لہ اہینے 
آ پکو دکچھ گے ان باہ رکی چچیوں میس سابتی یقت بھی شال ہے اور کاتیات بھی“ 


گ٢۲٢‏ 
خود آگاہی کے ہ رہل میں ان دوتوں چچوں کا ادرا کی :ری عد کک خرور شال 
وت ہے۔ میق جس کو مارے فقاو اپنے آپ جم ںکھو جانا ککتے ہیں خاری حقیقت 
سے رشع مان مک ےکا بی ایک ذرلیہ ہے۔ بشرطیکہ آدی بے بچ اہنے آپ مم ںکھو 
ے۔ 


۳ء 


لقیات اور تقیر 


مع یں آپڑی ہے مخ نیمترامہ بات می ت یی چابتا تھاکہ لضیات اور اروو 
تیر کے بارے میں یھ حر ضکروں:۔ خجان مشگل ے ےکم اررو ضں ارب ے لق 
مضاین ياکتایں ت کک یگئی ہیں؟ کن فراق صاحب کے علادہ تقیر بھی ج کی نے 
میں کی اور انموں نے تقر میں نصیات سے کوگی فائدہ خ*میں اٹھایا۔ اس لے 
مجبورا یماں حقیدر کے صمی مخری حقیر کے نہوں ھے ہیں مغخرلی اوپ ے واقف ہوتا 
جا ے یا ضحیں* مہ ہمارے بیماں کا ایک غزائی لہ ہے جس ب بھی بت نمی ہوتی۔ 
فیصلہ اپنی انی پپند کے اصول پر ہھ جانا ہےٴ بسرعا ل بھی بھی تق اخیاروں میں مر کے 
پاشندروں کا دک آ ہی جانا ہے۔ بی نوعیت اس مضمو نکی ے- 

یسویں صدی کا روعائی مزا جکیسا ہے ؟ کو یکسا ہے تی کوٹ یکا سے رید 
می کے خیال .یں بناوت پندی “تی کی رائۓ میں ئزریوں کے ورہیے روایت کا 
احیاء۔ یرعال اتی بات نے ایک صرصری نظرمیں بھی واشح ہو جاتی ہ ےہ آبن کل ہر 
تم سے انحما بیندانہ رویے ایک ووسرے کے پلو یہ چاو موجود ہیں اور اج یں سے ہر 
ایک خود حتاری اور ملق العانی کا دعوی وار ہے۔ ان عالات میں ػلتق او پ کی 
طرح مقیر میں بھی تن انداز نظرموجود ہو ںکم ہیں۔ ا نکی تشق گنن کا نے ہے موق 
شیں۔ می الال میں صرف جن رجیاحات کا وک رکروں گا “کی کہ ان کے ورمیان عام طور 


۲۹ 


سے دحییگا مشی تی رتق ہے_ 

() لہ نو خود نصیاتی نعط نار ہے چکمہ اد بکی تخلیق ایک زہنی عحل ے؛ 
اس لیے فقیات کے اہر ذہٹی اعرائض کے ساجھ او بکو بھی اپتی تقگرد میں شائ لکر 
لیے ہیں۔ بلہ اشمی تو دعوکی ہب ےکم وہ اد بک ماہیت کو اوروں سے بھع رھت ہیں_ 
بلکہ دوسرے مبجھ ہی کیا ھت ہیں ؟ چنانچہ بہت سے اہرین نضیات حقیر میں تس 
پڑے ہیں۔ ہہ لوگ اصل میں فن پار ےکو خی پلمہ فن کا رکی محخصی تکو دیکعتے ہں- 
ا نکی دل تپنیی کا مرکز ىہ سی ےکہ غن پارے میں فن کا رک یکو کون می زہتی اچمتوں 
کا انلمار ہوتا ہے اور وہ اپنے قن کے ذرہیجے ان ائمتو ںک وس جد گگ ارنارع درے 
سکا ہے۔ تی نہ لوگ خن کار سے بالنل وی سلو ککرتے ہیں جو اپچتے عرلیضوں سے 
رت ہیں عریعضوں کے خوابوں یا علاصتی بباریوں اور شاع کی تظمو ں کی ان لوگو ں کی 
نظرمیں ایک حیثیت ہے مہ یات بیتہ قرائڈ کے مقلدین کک بی ححدود ضیں- اوعب 
لوگ جیشہ ایے ننظریا کی حلاش میں رہے ہیں جو بطاہرعلمی نظ رآتے ہوں؛ لن ان 
کے جے ل کو پری طرح زار بھی چھوڑ ھیں۔ چنانیچہ آج کل ارب میں ینگ کا بدا 
جچر چا ہے۔ گن بونک کے مقلدین کا عال بھی یھ ایا طقف میں ہہ لوگ بھی وہی 
اريیب کی شخصیت کو دیھتے ہیں اور اخمیں ج چو اس با تکی ہوقی ہے کہ ادی کو اپتی 
شخصیت کے مشوو نما میں انی قلیقات سےکیا یرد عی“جھ ماہرین فسیات اونگ کے چو 
ہیں دہ ت یاقاعدہ اپنے عریعضوں سے تقمومیں جنواتے ہیں چنانچہ اس پررس گر کے 
زدیک بھی اد پکی حثیت ایک علال ع کی ے- 

اناری خصیت کے لگ بھی اور اجشائی خصیت کے لئ بھی۔ چچمٹ میوں کا 
زکر ‏ ی کیا خود اوک تن ےکما ےکم رونانی نر جیڑی یونانیوں کے لئ ایک ابتای 
عذارج کا عم رکھتی تھی* اور اشیس ای ڈی ہیں والی الجھنتوں سے میات دلاقی شی خر 
جو نقاد نضیات کے نام سے پڑت ہیں (اور ہے موا“ پروفھسرلوگ ہوے ہیں )وہ 3 اس 
مکی بات مفنا بی خھیں چاہجے ان لوکوں سے تع نر اجمی بات بسرعال سح ہ ےک 
نضیاتی حقیدر عموما* او بکو اس کی انفرادی اور اشتاگی افادىیت سے او کر کے تیں 


5 

دکھ کحق۔ اس معالے میں سب سے زیادہ ایمان داری قرانڑ نے برقی ے۔ بینگ 
صاحب تو مرن کی گر مج بڑے رجے ہیں۔ وہ بجے میں عمویا“ رقت پی اکر کے 
پو لے ہیں ببلہ ساکنس داں کے ساتہ ساجھہ تھوڑے تموڑے اویب بھی گیں_ ای 
لے ان کا اسلوب جیان اَيیکْ شلنگ والے تاولوں کا سا ہے۔ اس کے بمخلاف قراکڑ 
نے لیونارڈ وڈ ادپی پچ رکتاب ککھص ہو نے ہمایت عفاقی سے کہ دا ہے “لہ مصو ری چر 
فی خصوصیا ت کی ضیاتی ماہیت ابیت تو میں تے با نکر دی اس کے ق نکی عالیاّی قزر و 
تی تکیا ہے۔ مہ آپ جائیں آپ کا کام۔ لین عام طور سے نضیات کے و ٹیتیں 
یس اتی اخلاقی جرأت میں ہوقیٴ چکمہ دہ اتی بات بھی خمیں بح کم سی چ زی 
ماویت معلو مکر کین کے ہہ صعق میس ہو کہ ا کی قزر و قحمت بھی معزر ہہ وگیں خر 
اسے بھی پچھوڑہیے۔ مزا تو اس وقت 7ت س ےک جب ضہاقی نار کن والوں کا یا 
چھو ڑکر افسانوی یا ڈرامائ یکمداروں کے چیہ کت وں ےکرداروں کے اقعال یا اقوٴا لکو 
غیرشعوری ا نو ں کی علاشتیں کچھ بھی جلئے ھیک ہے۔ لیکن دہ تاپ کی عدود 
سے با رجالکر ہہ سوپپتے ہی ںکہ فلا ںکمدار فلاں عم کے عالات می کیاکی حرکتی کر 
کم تھا۔ شا ایک صاحب نے ” لٹ" کے ایک سی نکی جب تقیر قرائی ے۔ 
ڈراے میں اوفیلیا تے اپنے یا پکو قصہ سنایا ‏ ےکہ معلٹ جھ سے سے یر ےھھرے 
می آیا تھا۔ لگن منہ سے ایک لفظ خی ںکما۔ اس کی عالت ولواتوں کی ى ہو ردی 
ھی مفسرصاحب کت ہی کہ سے واقتد سرے سے جوا ہی حمیں۔ ای کگھٹی کھٹائی 
کنواری لڑکی سے دبا غ کی اخزاغع ہے۔ تر لحض وقت نضیاتی نتاو اص لکتا کو الگ 
رکھھ کے ایک تی تاب ککمنا شرو کر سیت ہیں۔ خرس ہوئی ان لوگوں کی انتا 
پپندری۔ اب نقادوں کے دو او رگمروہو ںکی طرف آ ہے جممیں نضیاتی حقیر پر بیادی 

طور سے اعتزاضل ے۔ 

(۲) اقاحات یا عراحیات کے نقطہ نظرسے او پکو پڑ سے والے ثقاو او پ کو 
سیاسیٴ محاشی اور اتی عوامل کا مظ رمجکھتے ہیں ا نکی نظرمیں او ب کی حیشیت محقل 
ایک ساتی دستاوی کی ہدقی ہے۔ ہہ لوگ اصل میں سارخ سے مطالعہ سے رل یی 
رکھتے ہیںٴ اور اد بکو صحتض ایک زریجے کے طور پر اتتعا لکرتے ہیں ان میں سے 


۲ 

نش نقادو ںکو ہہ دعوی بھی ہا س ےک دہ ادب پارو ںکی قرو ق٥ت‏ کا تن بج یکر 
کت ہیں۔ اس کا فصلہ دہ اس سائی دوتی ےکی بنا ب کت ہیں جو ان کے خیال م" ںی 
خن پارے میں صاف صاف یا ہیں پردہ موجود ا ہے۔ لشتی ساب افادعت اور الیاّیق 
قدر و ق٥ت‏ اع کے تزدیک ایک ہی چچت کے رو پلو یں۔ نضیات ے ان لوگو ںکو پاپ 
مارے کا بیرہے۔ ان کا عقیدہ ہ ےک ذیٹی میفیتیں معای عالات سے چوا وق ہیں- 
چنانچہ ہرسحای فظا مکی نضیات الک انگ ہ ھی اسی اصول سے ایک تیج ىہ تا ہے 
کہ چقئی نضیاتی ائیعنیں ہیں وہ اصل میں محاشی ائجھنیں ہیں یہ نظرییے ارب م کس 
طرح استعال سے جاتے ہیں۔ ا س کی ایک ثال میجئے۔ بر محجھیوس بوتاتی دیو مالا کا 
مور میرد ہے۔ فرائمڈ نے اس تج ےکی تشریںع مو ںکی ہے۔ ابتتدالی زانے کے انان 
کی ایک مخصوعییت بے جج یکہ وہ آل جلتے بہو نے مین دکلھ حا تھا فور] چا ب کر کے 
اسے بھا دا تھا۔ لگن فک کے بغیر اضمانی معاشرہ وجود میں میں ٣‏ کتا ھا۔ 
برو نیتھیوس وہ پلا آوی ہے نس نے گ بجھان ےکی خواہش پ ماب پایاٴ اور اس رخ 
اضانی حا ح کی خیاد ڈالی۔ وہ اس تے جیلت کو دہاتے کی کوشش کی اس لے 
اخاقات کا آغاز بھی ای سے جوا ہے۔ صسرحال فرامیڈ کے خیال میں ہہ قص ایک 
نضیاتی عح لک نمائتندگ کر ہے۔ لوگک نے اس نضیاقّی عح لکی تضیردوضری طر کی 
ہےے۔ ےکی محت شروںع میں اتی ماں کے لے وقف ہوتی سے مین اکر اسے آکے 
پڑھنا ہے تر ازی سے کہ وہ اپتی حیت کو ماں سے بثاکر دوصرے لوکوں اور دوری 
چیزوں پر صر فکرے۔ یہ عل چیشہ لیف دہ ہوا ہے لگن اس کے 'غی ہآدب ی کی 
نشووما عحکن خحییں۔ پرو میتیو کی داحتان اصل مس ےکی ماں سے آزادی عاسل 
کرت ےکی وامتانع ہے نہ ہوگی نضسیاقی تی اب خرانی تمہ ردیکت۔ ایک بزدرگ 

وسر ظاکیقال عاس نان گار ےکن قب ال رق سی اب 
اتیل میں اض سک معاشی حاات راع سے تار ندال ان کا ا 
وزن میت آ جا ہے۔ ان صاحب کے خیال میں برو منتھبوس صاحب اقتزار لج کے 
خلاف خورورو ںکی اناو تکی نمائند کرت ے* اور ےکردار عنت کٹل عرا مك خی 
ہے جماں تک تقیاتی تقاروں کا تلق وہ نز اس تضی کو بھی تو ل کر لیں ے- 


لان 


کیوکمہ ا نکی رات میں تو ایک علامت کے میں مم ہو ھت ہیں۔ لین تقاروں کا 
دو مرا مگردہ اتی تقیر کے علادہھکوئی دوصری تیر قو لکرتے کو تار نیں_ یمر عال 
جارج امن صاحب کے یہاں ہیں ایک سوال کا کوگی جواب میں ۔ اگر 
برو جھیوس جح مزدوروں کا نمائحندہ ہے نے آتر ایبھنس کے صاحب اقتزار لوگ اس 
کمدا رک اپے اج پر کیسے خیش ہوتے دی تھے ؟ خرض اب مس جمیبوں باتیں ای 
ہیں ہج نکی تشرع میس چاہے نات بھی جالکام رہے لیکن ادقابی علوم تو ان کے ملق 
کیک ہی خی سکیف 

(۳) تس ارہ "ال تتاروں' کا ہے۔ ہے لوگ اد پکو ایک تام بالذات چچڑ 
کھت ہیں جو عہ ت ابی عالات سے پدا ہہوتی ہے“ نہ ککصنہ داب ےکی ذاتی نضیات ے 
ان لوکوں کے تزدیک ادب پارہ اتی مہ الیک ای عمل وعدت ہ ےکہ اپ باہ ری 
چیوں سے اس کاکوی تعلق میں“ اور حر ادب پارے کو باہرسے یکنا جچاچے۔ اس 
مکی حقید یں یہ بات ضرور ہے کہ دہ فن اور عخالیاتی اضاس کو ایک تل 
حقثیت دیق ہے“ ادر اشمی دوسری چچیڑوں سےممد مھ میں ہوتے دیق۔ لیکن ایے نقار 
میں خور لق صلاحیت ہل چاے۔ ورتہ آدی زیادہ سے زیادہکوئی کوچ ب نکر رہ 
جا ہے۔ خصوصاٴ جب پروفیسرصاحبان ”مخابص* تقیر شر کر دینے ہیں ت اچا غاصا 
سی کاکول گا تیار ہو جانا ہے۔ شا اس صمدی کے شروع مس ٹہ لوگوں نے جو براہ 
راست محیٹرسے متحلق تھے یکنا شرو عکیا تھاکہ ڈراے پر قلسقیانہ یا ما بعر ا لطےعاتی 
مکی حقید نیں ہو جاہےٴ بککہ انج کے فقطہ نظرے تی بالیس سال کے عرسے 
یس مہ بر اڑقی اڑتی یوورسٹیوں کک بھی جا کپئیٴ اور مع پر وٹیسرصاحان کو ہے 
حقیری ”جرت' بست پیند آگی۔ چنانچہ ایک پوفسرصاحب یں ویلڑوک جخوں ‏ نۓ 
سوف کلین ی رکتاب کیسضی ہے۔ آ دج تاب مم اضوں تے نضیاتّی اور عرالی نقاروں کا 
خراق اڑایا ہے۔ اس کے بعد ”مخالص انج سے نعط نظر سے“ سے سوفن کل کو کتۓے 
بیٹھے ہیں۔ لن لن بروففسرصاحب اکک جاتے ہیں۔ سوف بلینزتے انی کک ی کی زیان 
سے ہے جات کسلواقی ہےککہ می اپنے بھاتی کی خاطرجان دے رہی ہوں؛ ایا تڑ میں 
اپنے شوجریا اپنے یچوں کے لے بھی تہکرتی۔ ظاہ رکہ عورت کا ای پال تکھتا رات 


م۲۲۳ 


سے بعر ہے۔ پھر رت سوف کلین یہ ہوقی ہ ےکم اس جیمسے عالی دماغ انسان تے ال 
ات ککھے کے کچارے پروٹسو ںکو پیا نکیا۔ نان درس لوگ جب لڑکوں ے پار 
نمی مات ت پھر سوف کین کیا یز ہے۔ چتانچہ پروسرموصوف تے فور] وریاق تکر لیا 
ہہ رہ سوف کلیزتنے کسی بی میں“ بعد میں کی جذل ایکٹرنے بدھا دی ے۔ اگر 
آ پکو اس سے انکار ہے قو یج دوسری تشرںع موجود ہے۔ سوف یتپ راتا گنگ ھا 
اسے مر کے فن سے بدری ری واتخیت تی اور ہے اتچی طرح معلوم تھ اکلہ قماش 
ین ہریات خور سے تھوڑی صفت ہیں چنانچہ اس نے ا نی سے ہہ یا ت کملوا ری- 
کیڈککہ اسے لین ھاکہ لوگ سی ان س کر یں گے۔ لیکن ان ''خالس'' تقار صاحب 
نے ہہ شی جا اکہ اکر سوف و کھینراسجج کا اتا ہی بدا ماہرتھا تو اس نے التی بات کی ہی 
کیوں' جس کا ڈرامہ پ ھکوگی اث تی۴ پوت ؟ پروفپسرصاح ب کو اڑسی اینڑی بینڑی بای 
رن ےکی ضردرت یوں یش آت یکہ ایڈمنڈوشسن ن ےکی ا گنی کی زہتی الچھنوں کی 
طرف اشادہ کر دا ہےٴ اور پروفسرصاحب کت ہیں کہ ذہنی ائجھنیں 3 چچ پچ ے 
اسافوں مج ہہوقی ہیں۔ ڈرابا یکمرداروں میں خی ہو حھتیں ۔کی کہ اشمیں تے فی جخیل 
نے پیا کیا ہے۔ اس کا مطلب فو یہ ہو اکہ افسانو کردا رکسی بواتی دنا یں مت وں 
اور ان کا عام انسافیں ےکوی تلق ہو ہی نیس ما فن کار جخبقی دنا سے بین اغز 
نمی کر سب بچھھ اپنے تخل سے اما ہے۔ لیے ''غالس' نقاو نضیا تکی عالفت 
میں سیدھی سادھی منطلق بھی نو بجھول جاتے ہیں اگ کی ناول کا ہرد کار میں جیا ہو 
ق3 پڑ من والے عمویا“ بی مگھت و ںک۔ مال وار آوی ہو گا- لت کی تتصی لی پرورے 
ھم افسافو کردا ر کی محاشی اور ابی حیثیت کا لقی نکر ھت ہیں او رکرتے ہیں_ ٢‏ مز 
الیم ناد اس لہ یہ اعتزا کیوں خی سکرت ےکک اضسانو یکردارو نک یکوگی سحاشیات 
میں ہوتی۔ مہ بایں تچ بی کے اضسافیں سے متعلق ہیں۔ لین اصصل بات ہے ےک 
بست سے لوگو ںکو تقید میں فضیات کا دخ لگوارا ہی یں اس کے خلاف ان کے 
اندد ایک شید بدراقعت ملق ہے۔ جج کی تشرع صرف نضیات بی ے ہو عمق ے_ 
ٹنیک ہ ےک اد بکی نضیاتی تفریحات کے ذربی کی ادب پار ےکی مالیاتّیق 
قزر قیت کا نین بالقل خی ہو کا بمہ مض اوقات ماہرین نضیات ہہ مک تمیں 


قزازں 


جا سے کہ ارب اور اخصالی امراض میں کیا فرق ہے۔ اوتیوں کی وی ائجمتوں کی 
جاسوی میں وم نضیات کا سیرعا ساروا اصول حول جاتے ی ںہ اوپ ارنقارع کا ایک 
ذرییہ ہے اور ارنفاع کا زرییہ دسی چتیزین عق ہے ج سکی ایک مستعمل سابی حیثیت 
ہو اور جس کی قرر و تجت سح میں لہ ہو۔ پھرارب ان اخصالی ححلیلات مں ے 
ہے جو انسان اور کائنات کے بارے میں علم حاص لکرتے کا ایک وسیلہ بن جاتی ہیں 
اس لے ایک اعصالی لیس اور ایک ادیب مج زشن و آسان کا فرق ہے۔ چاہے ان 
کی تکلیفیں ایک جنی ہی کیوں نہ ہوں۔ می نکی ماہیت اور ا سک قرو تجت دو 
اگ باتمیں ہیں۔ مین اگر نضیا تک حدد سے ادب پار ےکی ععالیاتّی حیثیت کا تین 
نہ ہو کے نو بھی آخر اوب با کسی خاضص ادب پار ےک ماجیت بکھتہ سےگری کیو ںکیا 
جاقۓ ؟ ”غاس' نقار اس یقت سے انکا ری ےہک ھت ہی ںکہ مالعد الات ال 
میں بسیات سے پیا ہوتی سے مارے بلند تین زعنی عوائل کا تعلق یت تین 
جسانی شثریات سے ہا سے اور ادا تحم جمارے ذک یکو گی کا ناج نات رہتا ے۔ 
اب اؤز ش یکو نی فرد یا گردہ کا زہنی علاح مھ لیا مل سی بات ہے نان بمرعال 
اد بک ہے حیشیت بھی تو ہے۔ نضیات محالیا تکی اتی بغدمت و ضرو رکر ححق ہب ےک 
کسی شاخر کے کلام میں سے ان نمو ںکو چچمانٹ اٹ کے ان کر دے جو شاع رکو 
خلاج کا کام نے ویۓ گئیں “مر فی خلیقات نہ بین کییں۔ خخالص جمالیاتی حقید بھی ای 
وقت اپنے جو ہردکھا تی ہے جب پچ انارج اور بھوسا الف الگ ہو چکا ہو- اد ی تقیر 
کے سا سے علہ یہ خی ںککہ قضیات سے زامن کے مچایا جاۓ- ال سوال ہے سے 
کہ ارلی تقیر نضیا تکو تم کی ےکرے۔ بست سے نقارو ںکو نضیات کے نام سے 
براہٹ ہوقی ہے نے ا کی وجہ ہہ متمی ںکہ حقیر اور مضیات ان مل بے جوڑ یں 
ہیں۔ اس کا سیب واعلی بدافعت سے “کی کہ انا نکو ہہ ححقیقت لی مکرتے میں بی 
مشکل بی آتی ےک نقاست کا غبع و حخر کات ے۔ 


پیش خدمت ہے کتب خالہ گروپ کی طرف سے 
ایک اور کتاب ۔ 
پیش نظر کتاب فیس بک گروپ کنب خانہ میں 
بھی اپلوڈ کر دی گئی ہے سا 

.58109://۷۸۷۰۷۷۸ ۰۲۵۰۰:٥۵ 0۱۳۸/9۲٥075 

016(ہ-1144796425720955/9:61/ 

میر ظہیر عباس روستعانی 
0307.2720069 


مد 
سڈ اور چدیر ایپ 


اس سال ٦م‏ یکو دنا بھرمیس فرائ ڈکی صد سالہ برىی مال یگئی ہے۔ پیل پچچاس 
٠‏ سال کے حعے میں فرائڈ کے نظریات نیہ اس طرح متبدل یا برنام ہوئۓ ہیں اور 
میسویں صدی کے عم اور اورپ پر ان کا اپچھا یا برا اتا ال ڑا ےک امن کے الف 
تک ا کی نریف مس دو ایک لفظط کت پر محبور ہو گے ہیں۔۔۔۔ سے ت ہوگی جیمویں 
صدی میں قرائ ڑکی اہمیت۔ لان جو مفک رکسی دور میں اتی اہحیت حاصل کر لمت ہیں 
ا نکی بر تی سے ہہوقی ہےکہ لوگ ان کے بارے میں سوچتا می چھوڑ دنین ہیں اور 
می سنائی باتوں پہ ایا رکرنے گے ہیں۔ چتاجچہ فرائکڑ کے بارے میس بھی عام طور سے 
لوکو ںکو مس اتی بات یاد دہ گئی ےہ فرائیڑ نے لاشعور دریاض تکیا اور جن کو اضانی 
زندگ لکی تام سرکرمیوں کا ماغز بنا دیا۔ لاشعور اور جن س کو ای اضسانوی شضرت عاصل 
ہوتی “گیا قرائیڑ تے اوز لف ھکما بی ہ اتھا۔ یف ران دو چیڑوں کے یارے ۰یں بھی 
اس نے جو چان کا ہے اسے اتا آسان مجھ لیا گیا ہے جیسے ان ہیانات پر رویارہ ور 
رن ےکی ضرورت بی حییں۔ خریض قرائم ڈک یکتابوں کے بارے مج عام روم ایک بے 
اخناتی کا ے_۔ 

ای بح قفرائڈ کے یارے میں چند ا حتزاضات بھی مسلمہ حقیقت ب یکر رہ گے 
ہیں شلا ای فگمڑھ ا گڑھایا احتزائض ہہ ےک فرائیڈ نے تو سادری زندگ کو جن بیا کے 


۲۲ 


رکہ دیا۔ کی بات ہہ ہ ےککہ نس فرائ ڈکی احیاد میں ہے ہہ ت الیک حیاتاتی حقیقت 
ہے۔ قفرائ ڈکی جدت 3 مس اتی ہی ہ ےک ج جات اور لوگ کت ہوئے گمراتے تھے 
دہ ال تے صاف صا فکمہ دی۔ پچمرہیہ ڈرا میڈ نے بھی خی ں کہا کہ زندگی میں بت 
کے عاو اذر پھھ ہے ہی یں آجز اس کے ےمان جنن آذر لاشخور کے علاوہ ایا آور 
فوق الانا کے تقسورات بھی ت موجود ہیں۔ اکر زندگی صرف جس کا بھیل ہوقی جب ت 
معاللہ بست آسان تھا۔ ساری بی یدکیاں “کنا شس اور لطا نس تر یں سے پیدا ہوقی ہیں 
کے آتان رعل ار چیزوں کے گمل اور روگەل کا نام ے- لاشعور' اناٴ وق الانا اور 
اضول حقیقت۔ بھی فرام نے انسائی تتذجب کے عوائل می اخلاق اور دوصری ت می 
اقا رکا بھی اتی بی اہحیت دی ہے جتٹی جن سکو۔ اگر فرامیڑ جن کو وسدہ لا ریف اح 
ق3 ھردہ ابی یا تکیوںکتاکہ موجودہ حاح مج ںکوئی فص اتی زہتی سحمت پاری طرح 
بھترار ٹیس رک سھا۔ الیک ق لوگ ویلے بی نس کے نام سے گبراتے ہیں۔ اشمیں 
زندی کا ایا ور بست اچھا گت ہے جس میں انسا نکو جن کے تاد سے زا کر یا 
کیا ہو۔ پھر فرائکڈ کے نیا تکی چوٹ براہ راست ہارے سای نظام پر اتی ے۔ 
ا کی ححقیقات ادر جات سے بی متنیہ برآھد ہوا ہ ےکہ گر ہہیں بھرپرر اور تلق 
زندگی بس رکرئی ہے تو اپنے محاشی نظھام ادر اس پر جنی اخلاقیا تکو ہے سے م ےکر اور 
تک بدلانا پڈے گا۔ مہ ددسری چی ہے جھ برراقتار یو کو جراسا ںکرتی ہے اور وہ 
لاشوری طور پر قرائنڈ کے خلاف تحص بک دیداری ںکھڑ یکرنے گت ہیں۔ اسی لئے 
ان یو کو فرانڈ کے مقالے میس موک بے ضرر معلوم ہو تا ہے۔ 

ای خطرے کا ایک ا مار ہہ بھی ہی ےکہ لونک نے مناظرے یازی کے سلملہ میں 
فرائنڈ پر جھ آوھے جھوئے اور آوھھے ہے امتراضات کے ہیں اتی بے چون و چرا 
صلی کر لیایا ہب خحصوصا“ اع راہ اور انکستان کے دہ نتاو و لفیات کے ذرسی 
اد بکو ین ھک یکوشش کرت ہیں عموما“ ای یک طرفہ راو ںکو جوں کے زوں نقل 
آیہاہؤں۔ فرائڈ کے متحلق خالط ضسیاں چیدراکرتے مج اگگریی تیر اوروں ۔ے 
مھ چڑ ھکر حصہ لے ربی ہے۔ متل ا کھا جانا ہ ےکہ فراڑ سے زویک لاششعور قوے کا 


ۓء‌َ" 


پشیدہ سرچشہ خی بلکہ رد یکی ٹوکری ہے۔ یس میں ساح کے ور سے مجبور ہو کے 
آدی اپ یگندی خواہشات مین رہتا ہے۔ مز ےکی یالت ہہ فرائیڑ ا نے ووسنتو ںکو ہے 
صحورہ دی اکر تھاکہ شمادی اور پججے کا شاب“ ان دو چیوں میں آر یکو اچے لاشعور 
کی بد یکن چاجے خواہ جج خراب جیکیوں مہ ہو۔ آخ عرداگی 3 بسی ہ ےکہ آدی 
اپنی نفدی سے جھاگے میں بللہ اسے تو ل کر تنے_ 

فراڈ کے اس با نکی روشنی میں ہہ اختزاض بھی حل نظرہ ےک وہ اتیسویں 
صدی کی 11۷19۰0 ہی میں چوضا رو گیا اور اس تے اسان کو ایک مین رے 
زیادہ یھ حر مھا یا کہ فراکڈ ناامیری اور ہم یر کا شکار ہ وگیا اور وہ انان سے 
لن ےکوتی خوظگوار صستمبل نہ دیکھ سکا۔ قرائیڑ کے دوسرے نظررہیجے قے اگ رسہے ای 
اتک لے سے ہی چع چنا ہےکمہ اس تے انا نکو چند معقررہ قوانینں کے مطابق جلنےہ 
والی مین بھی نیس مھا اور نہ انسا نکی قوت ارادی سے ابا رکیا۔ الب اے ہے 
کوارا خی ہوا کہ انسانی زندگی کے دکھ درو سے ؟ میں چراۓ اور اثما کو ونیوں 
کے اسیے خواب ریجنا کھائۓ ج بھی بپورے نی ہوتے۔ مگ رکی حیثیت سے قرا کڈ 
کی ععلمت بی ےہ اس نے انان ال مکو جحظلاے بغیراضسائی زندگی مل وتار دیکھا اور 
دکھایا ہے۔ سا انسان' صرف ا یکو چھا ہے جو یار امانت خی خوش اٹھا گے قرا یڑ 
نے ایک ایے نطاط کے امکاءات ظاہر نے ہیں جو ال مکو ول کر لیت سے پیوا ہوتا 
ہے۔ ہہ توطیت میں بللہ اڑی رجاحیت ہے ٴجھ خم و نٹاط سے مادریی ہے ہہ الم پرسق 
تں گی گا الے_ تیور ہے اور بی ولاوری' الیہ تصور سے بی شعلق ہے۔ فرائ ڑکی 
یرت بوتان کے الیہ نگارو ںکی نصیرت ے۔ 

ایک سائنس دا ںکو شاعروں کے ساتھھ جا طانا الیک بے گی سی بات معلوم ہوتی 
ہے خود فرائنڑ مض رفعہ اریوں اور فن کاروں پر فقرے باز یکرتے گا ہے۔ ایک 
طرف و اسے کین کا سارا کلام حفظ تھا۔ دوصری طرف اسے شی کاروں ہے 
شکایت ش یکہ ہہ لوگ سوج بیج ھکر بات ممیںکرتے۔ فن کاروں سے قرائ کی اس 
بے امیا کی دجہ بھی بدی دیپ ہے اہے محاشتے کے دوران میں فرائ ڈکو ایک 
ا ا شی و اکہ حبویہ کا ول ایک مو یا رکی طرف ماکل گیا ہے۔ مہ شی آخز 


۲۲۸ 


کو بے یاد للا رشتک اور ضے کا زور دکھا کے شتم ہوگیا۔۔۔۔ لیین دو مرا جہ ے 
ہواکہ فی ککارو ںکی بودی قوم فرائ ڈکی ظطروں می جیشہ جیشہ کے سے رقیب من گی_ 
اس کے لے فن کار تے وہ لوگ ین مھے اور سائنیں داں ' ہم لوک _۔۔ فرا کڈ 
تا ال تھا کہ شن کاریو ں کو عورنوں کا ول موہ لیت کے چچھھنڑے خوب آتے ہیں۔ 
اس کے منخلاف سائڑس داں عدہ چزوں پر تر ہکرت ےٹکرتے خود بھی خکک اور ہے 
رتگ بن جاتے ہیں۔ اس فیاد پہ فرامیڑ نے جو موا زن ےکرتے شروع سے ے فن کاروں 
اور سائنس واتو ںکو دو قویں بن اکر رکھ دیا۔ اس میں سم ظرلقی ہہ ےکم خود فرا کڈ 
اسانی رو کی ان ععظیم بستبوں میں سے ہے جن کے سے میں قن کار اور سائنسں 
دا ںکی تفریق بے مم جو جاتی ہے اور جن کے کارنامو ںکو صرف تلق بی کا نام دیا 
جا سکم ہے۔ 

قرائ ڈکو ادیوں سے نی تی ڑ سی گن دہ خود ایک زبروست نٹزتگار تھا اج 
بح ہوتی نثر بہت سے مسلمہ اویب بھی میں الہ ھت اظما رکی صحت اور عفائی 7 
ا یکی نکی بدیی خوبیاں ہیں۔ یھ نے اض اوقات اس کے ییماں شع رکا مزا متا ہے۔ 
کی لہ اکر شع ری صضت یہ ہ ےکم وہ بے والے کی قجہ اپتی طرف متعط فکرنے 
کے ججات ےکی خیال یا جذز بے یا چرکو شکا رکرے تو فرام ڈکی نر لحض وقیہ واقتی شعر 
ین جاتی ےے۔ 

چرس دک کہ فرامنڈ کے نظریات پر اوپ کاکیا اٹ پڑا اور فرائیڑ نے ادیو ںکو 
کس طرح متا ڑکیا کما جانا ہےکہ فرائڑ تے لا شعور وریاق تکیا۔ گر خوو قرانڑ ے 
کنا تھاکہ ا شعور حیری ایا خھیں۔ شور حقیقت اور اس کے عوائل سے ہوے 
شاعروں اور اریو ںکو بیشہ آگاہی عاصل رتی ہے ۔گو اضسوں تے ساتن کی زیان میں 
ا سکی نضرع خی ںگی۔ 

قرائڈ نے انسانی ضضیات کے بارے میں جو نظریات یش سے ہیں* ان کا سال 
بات داقیں سے خی 0۔ بللہ حزہویں اور اٹھارویں صدی کے آراتجی اریوں 
تھے فا کے وی تد نب میں“ افلاطون* پر لاروشی کو“ دیررو اور شٹۓے 
کے نام آتے ہیں۔ دہ اکٹ اپنے نظریو ںکی تقمدیق کے لئے شی تاور دو وستوشی یکو 


۲ 

گواہ کے طور پر یٹ کرت ہے وہ اوییوں سے بجھکتا بھی تھا لیکن لاشعور کے پارے 
میں ا نکی مصیرت کا بھی اتل تھا۔۔-۔۔ ہے ت ہوا براتے اوپ سے قرائڑ کا رشۃد- 
یسویں صدی کے اوب پر قرا میڈ کا اتا گمرا اش ےکلہ اس معالے میں تچلہ پا 
سال کاکوگی ووصرا عفر ا س کی برابری ممی کر سکتا۔۔ فرامی نے جیسومیں صندی کے 
اوییو ںکو ایک طرز اصاسس“ بلکہ زندگ یکو تجربے میں لانے کا ایک خاص اسلوب با 
ہے۔ اس سے بدی یا ت کسی مقر کے یارے میں او کیاکی جا عحق ہے۔ اگر قرامیڑ نہ 
ہوا تو جوکس عہ ہو“ کافکاتہ ہوا فی۔ ایس“ ایلیٹ صاحب ہیں قرامڑ پر جلتی 
چاسے فقرے باز یکریں لین ڈرامڑ سے بقیرخود ا نکی شانری کی ہہ شحل تہ ہوقی*جو 
اب ہے۔ یف رسوریں صد یکی سب سے بڑی اکم ےکم سب سے ہام بردر ترک 
( 1۸1.79 ںای بھی فرا یڑ سے یق خحکن تھی ا سکیمرو کی تخلیق اور عاتی 
تتقیر دوتوں ا س کی رون مت ہیں۔ اگریی پٹ نے والے مو ںکو ابھی پدری رح 
آندازہ خییں ہےلہ ا ںمردہ نے بر پکی شاعر قک ھکس طرح جتا سے اور اس کے 
اثر سے آزاد ہونے کے لیے مخربی اد ب کو کنی شش کح شککرتی پےگیٴ ہی سب 

قرا ڑکا نْضان ے۔ 
ایپ سے فرائڑ کا جو تحلق ہے وہ صرف اولی ار کا محاطہ شھیں۔ دی ےکی یز 
تو ہہ ےک کچلہ سو سال سے جو روح ادیوں میں کا کر ربی ہے وتی ڈرائنڑ مش 
تھی اور فرائ ڈکی حدوججمد کا رخ بھی اسی طرف تھا یدع ران اوےوں کا۔- وہ بوو لی کی 
معنوی اولاد میں سے ہے بوو علی رکی مظسوں کا مجموعہ بدری کے پھ ول“ ے۱۸۵ء مس شالَح 
ہوا ہے اور قرانڑ ۱۸۵۷ء میں چدا ہوا پالنل ایا معلوم ہو تا ہے جیسے بوو سلیر نے اتی 
مسفر* میں فرا میڈ کے ےکی ٹپ نو یکر دی ہو۔ قراننڈ نے افانی نضیات کے 
بارے میں جو چڑزیں وریافت کی اجییں سانس کی شل نے ضرور دی۔ اس تے 
سائس دانو ںکی طرح برسوں تجزیات بھی کے“ من پچ پچ تے اس کا معمل مس ایک 
ہی تھا خوو ا سکی روں* اس صعل میں وہ انا نکی ایک خی خریف اور اضانی نٹزے کا 
ایک میا نمور چی اکر ےکی حدوججر دکر زہا تھا اس کے مطالعہ کا حر خود ای ذات اور 
خود اتی ازیت تی وہ خود آگابی کے جچتم میں سے مگمڈرا تھا اور اس جچتم کے 


٥٥ 


سارے عزاب سے کے بعد اس تے اتا نکو رہاتی ادر آزادی عاص لک رن ےکی تی 
حا تی۔ فراڈ بوو لیر کے “ہے سافروں'" میں سے ایک تا جو تع میق کی 
گمرائیوں می ںکود جاتے ہیں۔ چاہے وہاں جنت ہو یا جنم اس یامعلوم خ طک یگمرایوں 
سکود جاتے ہیں کہ خی چی دریاف تک یں .-۔۔ بووسلیر کا ہہ و قع رحیبقی٭ہ 
فراڑ کا ااشعور ہے پھر اس ”حر میں فرائڑ بھی وبی ینہ ڈھویڑ رپا تھا چو 
بوو لی مموہ ہیں جھ خالی ہیں' ناریک ہیں' برععہ ہیں۔ پچھراس تختیش کا جو 
طریقہ قرائنڑ نے اپ قزیات کے زرفہ ابیجا کیا اس کی رف بوو لین اتی ایک نشم 
یس پل ہی اشار کر چکا ھا- 

”اے غدا جج انی ہمت عطا ق یا ں تی اور جنزاری کے بقیراپے ول اور 
عم کا عخابر هک گگؤںے*٭ 

اہن نے نے ام لے 3 فراڑ اور نو لی رتیں یک اور اعت ظ رق ے۔ 
اتی شاعری کا آغاز بوو لیر سے ہوا ہے۔ اھر علامتوں کے مطا لے کو عل مکی حیثیت 
فرامڈ نے دی ہے۔ بوو سلیتر نے دتیا کو ''علاستوں کا جنگل ''کما تھا فرائیڑ نے انان 
کے دباغ میں علامتوں کا جنگل دیکھا۔ بوو لین سے شرورع ہہوتے والی ادلی روامت اور 
راڈ سے شروع ہوتے وانے نات کے عم دوتوں تے علاما تکو انال زندگی اور 


کے یفن ما ڈرلید بجایا ےے- ان روتوں کا اتحصار علامات پے نب از مصسویں 
معدی مس ادب اور مات ایک دوسرے کے ساجھ ساتھ لہ ہیں تر ایا ہونا پاگڑے 
ما آخ جدید ادرب اور فرائڑ کے درمیان ایک اور چچ بھی تو مشتزک ے_ 

راں یو کا نس تھا" زندگ یکو یلو .سے فقو گزیا عمارۓ فۓ :ارب کااخوان 
ہے۔ اس ادب کا بھی جو بظا ہر ارب برائے ادب کا عائی ہےے۔ قرائڈ نع لہ ب ےتا 
علوغخ ہو تا ہی ےکن اقنائی زن گی جن بل عق اور انا نکو اخیں جمیلوں میں چئے 
بنا ہے۔ من فرائنڈ کی ساری کاوشوں کے یہ یادی ترک بی یک اضا نکی 
گی ں تلق قوت می طرح آے ؟ ار انا نکو یق زندگی یر اخقیا ری طیح 
صل ہو* اور پوو سیت والی روایت سے متحلق شاعروں اور ادیو نکی طرح وہ گی ای 
یہ بر بجچاکہ انساقی زندگی میں اصلی اور فی حیدٹی ونی ہے جو اتور ے واتقخ ہو 


۲۵۱ 


ىہ سچجھہ صوفیوں کی سی باتیں ہیں۔ لن اخ میں فرائ کی بصیرت خشاعروں اور 
فلنوں کی یرت سے جا ملق ہے۔ وس قرائ ڈ کنا کرت تھاکہ میں تے سائشیں واں 
ہوں' ٠ظلق‏ میںء میری تڑبیوں میس سےکوتی فلقہ حیات اق کرو لان قرائ ڈکو 
انا بای ای مہتکر یو - جس میٹ 0د 
نمیں۔ ان نات پ ت ہیں اعتزاض ہو بت ہیں۔ محکن ہے دس پا سال میس قرائڑ 
کے نظریات از کار رق ہھ کے رہ حیاسیں گے لکن جن پچیرتے اسے ات زیوست 
حثیت جنٹی سے اور جو اسے انسانی تک رکی رجش بیشہ زندہ رک گی دہ اسائی زندگی 
کے جقاگ قکو صلی مکرتےکی ہمت اور ا ن کی بنا > ایک الیہ اور ولاوراء اشہ نمور حیات 
تخلی قب ہن ےکی اللیت ے- 

ای لُے میں یہاں قرائ نڑ کے ان نظریات سے بث جمی ںککروں ما جو وی بھی 
خا سے مشمترہو ہہ ہیں بجلنہ نیہ دکھائؤں گاکہ ان نظریا تک عو سے اشالی ڈندگی کاکیا 
تقور مرتتب ہو سے اور ہے تصور فلقہ زیست (718۲5+11۸1.18<0) سے کتا 
قرب ے۔ 

انال زی سے ملق مپھلی بات تو قرائ ریو وس وید نم 
موی سے چچھوٹی چنز بھی بے می میں۔ انسان وص شکرنے ت بھی کوگی بات 
میں ککرہ سک جو راع رصعل ہو تش اوارٹ ا سار پر 
شخصیت سے متلق اتپ میں جات تنا ایک معموی سی غلطی بیا نکر کے رک دی 
ہے۔ چنانچہ انان کے چچھوٹے سے چھوئے کام میں ا سک بودی زندگی سا جاتی ے۔ 
ژزیست کا جراج اح آز رغزت خیازرت رفا چت:اتمان کو: ہرس زندگی اور موت 
کے درمیان قصل ہکرنا نا ہے۔ ہ رڑی انان اپ آپ کر با یا باڑن ے۔ آزاری 
حا کرت یہ ما لاشو ر نکی افلق شن بے دست دیاھ کے رہ جات ےب قرج بے 
و خی سس ت کے ایک ہے مم صلسل کا عام میں کہ ہہ تو اہپے آ پ کو 

پکرتے کا ای کف بھی ے ج ڈقجرخقرال گے ا “لن پوھرے۔ اشنا 

8 پا خحس ہ*]۔ بلمہ اچۓے آ پکو بنا]] ہے۔ے رظاصبت اوران آ پکے 
تخل ق کرے کا طریقہ ے موت اور وی کے :وزعیااع ااتقابے۔ ےل عقا ب کی 


۵۲ 

شعوری طور بر ہوا ہے تبھی لاشعوری طور - رعال ہر ا" تاب اضان کا پودی 
زگ ےآ ڑامرار وچ کل احاب 5ي روگ تا ے* او رکوگی ا ت٭اپ عوت 
کی طزف نے لاج یت اصلی نت نت کیہ آرق انتا پک زم داری قو لقکرے۔ 

اثنا نکی ذس واری اور اقاب کا نوز انیتوبین عنری کی میک یت سےکوہ رن 
ور ۓے' “اور فلق زیس تکی طرف اار ہکرت ے- لان ا ناب کی رخواروں کا جتا 
اصاس فرائ ڈکو تھا ات بت ج یکم مفکرو ںکو ہو گا قرام ڈکنتا ےکم انا نکی بیادی 
خواہش ہہ ہ ےک لمزت یا خی حاص لکرے۔ اس کے لے ضردری سےکہ اس چچی رکا 
احقا ب کیا جا جس 'سے خوی حاصل ہو۔ گن تحض اوتمات انسان غلط چ زا شاب 
کرت ہے او ربھھ ی تھی نے اس میں متا بکمرت ےکی اللیت ہی جاقی میں رہی۔ ا خاب 
کے معالے میں سب سے پلی عزاحت تو حا ح کی طرف سے تی ہے ہہ ضروری 
ضیںکہ جس چز سے آ ود یکو خوی کے حصو لکی نوقع ہے وہ حا کی نظکروں میں بھی 
اتی ہو۔ پھرحاح مت می جیا پابنریاں بھی عائم رکرتی ہے۔ چناجچہ ا تخا بک زم داری 
تو لکرے ہوۓ سب سے لہ سو آدٹ یکی حارح سے کر ہوقی سے۔ 

بپچھرانمانی نعلقات کے اندر می سیچھ الڑی جات سے جو ہماری خوش میں زہرطا دق 
ہے۔ تق وفع تو ہہ رین میں آا ےکلہ دوسروں سے تخلقات تن قرسی ہوں گے 
ان سے اتی ہی زیادہ انیت چا ہھگی۔۔ لاروش ٹوکو نے قرائیڈ سے بل کہ رکھا ےت 
ایض رفیہ حیت کے ماک وبی ہوتے ہیں جو نقرت کے" ہے اضالٰی زندگی کا جیپ و 
ریب تاد ہے۔ دومروں کے بقیر ہی ںکی مت مکی سرت حاصل میں مز حمق_ لن 
ہہ لوگ می بھمیں اذیت جات ہیں۔-۔۔ بقول سار ”جم کے مم ہیں دوسرے 
لول_٭ 

احخاب کے رات میں آج زی اور سب سے بڑی رکاوٹ ے- اضائلیٰ فطرت ٤‏ 
نمیادی دو رٹنا ہہں۔ انسان ایک مموع اضداد ہے اسے دو چچییں جک دقت اپ ای 
رف ڑج وں۔ حیت اور نفرے؟ موتے اور زندگیٴ فخلیق اور فزیب۔ سے ہ 
رحانات انسان کے اندر ایک ساجھ عم لٹکہرت ہیں اور وہ ایک ساج رو طرف چلٹا 
اہتنا ہیے۔ چناضہ ام نکیا جاقی میں کتی تو اس کے کڑے آڑ جا ہیں کھ وہ 


۲۲٢ 


مفلوح ہو کے رہ جا ہے خرض دوتوں صورفں میں موی تکی قوت اسے اینا لق یتا 
لق ہے۔ شابید فطرت کا تقاضا بھی بی س ےک آدی اہچتے آ پ کو مموت کے جوا ےکر 
دے۔ فرامیڑ تنے عو یکی مشمور نف لکی ہے کل ہی مرتع ائی اصلہ۔ چنانچہ زندگی بی 
مود ت کی طرف جاقتی ہے۔ جاندار چےڑمیں بے جان نا انی ہوں۔کی کہ وجو کی ال 
عدم ہے۔ وی بھی انسان کے لے تحزسی جبلتوں کے چقگل سے بنا مشنل ہ ےکیوکہ 
زندگی یھ قزامت پعد واقحع ہوگی ہے اور جھ تن ایک وقعد ہو گی ہے وہ اپنے آ پکو 
دجرانا انی ہے۔ چناجچہ آزاری سے تخب ل کی طرف بد حے کی ہجاۓ اضان یار یار 
ما ی کی طرف لوق ہے اور ماض یکو چچھوڑنا تمس چاہتا۔ جس یز سے ایک رقعہ لزت 
عاصصل بوتی ہے وہ مطال ۔ہکرتی سے کہ اس کا اعادہ ہج تا رہے۔ اس طرح انان ماضی 
کے جال میں بنس جا سے اور مستقیل یا جی زندگی نٹ وانے اسحقا بکی طرف یں 
چل تا قیرہ تر ہوا۔ ٹن انسانی معاللات اس سے بھی زیادہ ید : شحل اخیا رکر 
لیے ہیں۔ انسان عحییقت کو با سن کی اڑسی اہلیت خی رکتا جو جیشہ اس کا ساتھ 
درے۔ لیتق اوقات وہ سا ے کو بھی ٹھوس چ زبجھ جنٹتا ہے۔ چنانچہ ماضی کے اعاوہ 
بے من میں بھی انان یق ماضی اور غیرباضی ہے ررعیان تقیتر خی ں کر سا۔ اے 
پند میں چلناکہ جو تہ ہوا و کیا تھا۔ اور جو یھ ہو سکنا تھا و وکیا۔ لی انان کی 
آرروگیں اؤز حٹل ال نے تی واقعات کا ورچہ اتا رکر لق ہیں اور وہ سالوں 
کے چیہ سرکرداں بپھرنے تا ہے۔ اس طرح لذز تکی حلاش اوت بر شح.ہوقی سے 
اور خوشی کے ججاتۓ دکھ سا ہے۔ ہم بے نبر ی کی عالت میں اپنے آپ سے لڑتے 
ہیں۔ خود اپنے آ پ کو ایت جات ہیں کیدکہ ایمیے عالم میں جم ماضی کے غلام 
ہوتے ہیں اور ماضی بھی وہ جو شایر تی تمیں ہوتا۔ اس طرح ہم خور اپنے ا تاب 
کے ذزریجت اپنے آ پکو تی مباتوں کے رعم دکرم پر چھوڑ دسیتے ہیں۔ ہہ سے عام 
طور سے انسائی زندگی کا حتشہ- ىہ تقصور جھمیں بوو لین سے بیماں بھی متا ہے۔ چتانچہ وہ 
ایک تلم می کا ےط 
میں می رم ہیں اور میں ہی جر 
میں ىی ‏ غماجچہ ہوں اور ن"یں بی رخار 


۲۵۳ 


میں ی ار ہوں اور میں ىی جلاد 

آپ کین مگ ےہا یڑ نے انان کی جو مو گی بی ہے و" لیس بی زا ال 
ہے۔ اس سے و بھت رھ اکہ فراکیڑ نے انا کا مکیا بی مہ ہوا کی کہ اس تے انان 
کے نل ےکوی امیر چھوڑی بی میں نیشن انا نکی اصلی معیبت تو اس کا شور ے_ 
اپنے حااقی ارتقاء کے معن میں اس نے شحور پیا کر لیا ہے ٴ نز اس کا بوچھ اٹھانا دی 
پڈڑے گا۔ یسوریں صدی میں انسان کے ساتے سب سے بدا سئلہ بی ہے لہ اثسان یا 
تو انی عق کو تی مکر مے اور اس حقیقت میں سے مفملیقگی قوت تُانے ورت تا ہو 
جاے۔ فرائیڈ بھی نی امقیقت بی یکتا تھاکہ انسان دکھ درد سے خجات نمی پا سیکا گر 
دہ ایک ای چچیز عاص لک ر سا ہے جو مصرت سے مادریی ہے۔ شی آگاہیٴ وہ آگائی بے 
شی نے "نھگ یکا نام دا ہے۔ 

فرام ڈکوئی جتعلیا خمیں تھا۔ اس نے انسا ن کو ىے امیر خیں دلا یک نضیاقی تلیل 
کے ذرسیعے دنا جنت مین گی ہے۔ اس تے تو ایس انتا کما ےک اس عح لکی پروے 
غی رشوری دک ھکو شعوری کہ میں عیری لکیا جا سک ہے۔ مہ بظاہرچھوٹی سی بات معلوم 
موی سں گان بوزا ٣ل‏ انان کا خارا فلق* اور ارب ا بی آتا سے ۔ 
آگاہی ایک ایا جار امانت ہے جے اٹھاۓ بقیرانسان انان میں رہ ککتا۔ فراء انان 
کی جلندی اسی مس دیکتا ہ کہ سے جار اٹھا لیا جاے۔ اس کے زدیک آزادی بی ہے 
کہ انسان اپٹی جبوری کا شور حاص لکرے_ 

ىہ الم بہستی میں بمہ دلادری ہے۔ فرا مڑ نے تو انسانی دا رک یگوای دی ے۔- 
اس نے انسا نکو ایک اڑی جستی مھا ہے۔ جو خود ابتی مخلیقی قرت سر رھ 
آ پک رتاتی ہے۔ فراڈ نے اگ کی چز بر برو کیا ہے اود اس کا ایما نکی چتڑ پر 
ہے و انا نکی ححلیقی قوت ب۔۔۔ اس ہے ساقرنے تع حیبق میں خوطہ لاکر ہہ خی 
نز ثال ے۔ 


(موجورہ عالات ش٦ش)‏ 


آع کل ہمارے اوب پر جھ موت اکم ےکم جمود طاری ہے“ اول تا کی گگر 
ہی سے ہے اپنے مر نے چیہ سے لوگ بے پہروا ہیں 3 مچارے ار پ کی گار ذاری 
کون کرے ؟ اد بک جو عالت بجی ھی ہو عام روہ و ہہ ہے کہ ”سب چلتا ے_ 
مض وقت لوگ یہک کر اپتے آ پکو صعلت فک سے ہی ںکہ اد بکی ہہ عالت ہو 
ق3 رہ ےکی نہیں بھی بھی فکوتی بدی علیقی تریک نمددار دگی ہی۔ لین سوال ہے 
ہے کہ حضل انتظطار یں ٹیٹھے رہے سے یا 'مولا عھجے کرت رہے سے حی دی کے 
داع ہو جات گی ؟ پھر ےکیا ضرددی ہ ےک جھ اندروٹی تحریجات ارب کے وریہ ارقاع 
ا ہیں “دہ تھوڑے دن قد یں رہے کے بعد ارب ہی کے ذرلیے انا الما رکریں۔ 
کن ہے دوکوتی اییا راستد اتا رکریں جس کے تا ہماری اجای زی کے لے بھی 
وگوار ضہ ہوں۔ اپچھا خرس جج کہ ارب اپنے آپ زعرہ ہو جاے ا لان مض 
اب کی مقدار بڑھ جانے سے ادب کے معار می ں کیا فرق آے ما اس سے ملق 
ابی سے چکھھ تی ںکھا جا سکتا۔ بمرعال کچھ لوگ ابھی امیر کے سمادے زندہ ہیں- 

مض لوگ قم یاز یک ہکم ادب جس مجان ڈالنا اچ ہیں ان کا مخور, ے ‏ 


۲٢ 


جو رکو پوڑتے کا بمعین طریقہ ىہ ہےکہ ککھا جاےٴ لین قصہ ت3 بجی ہ ےک اگر لوگ 
کیہ بت تو اخییں مشورے بی ک کیا ضردرت تھی سادا سوال :3 بی ہ ےکہ لوگ کے 
کیوں نی بت ؟ اور اکر لھھ ہیں تو سفجی مکی بای ںکیو ںکرتے ہیں * بلکنہ ال اتا 
خراب ہ گیا ہ ےکہ اب فو جموا لوکویں سے خی زیانوں کا بھی اچھا ارب خی پڑھا چا 
۔ اب سے پاچ سات سال لہ اور چجھھ میں نے دکھانے کے لۓ بی مقرلی مصنقوں کا 
ام لے وا کرت تھے۔ مین تع کل تو مہ بات شاٗتگی کے خلاف ھی جاتی ے۔ 
جب مارا زین ارپ سے اس عد تک ڈرتے لگا ہھ تو اس کے می بیہ و ںکہ ادلی مور 
کا لہ ادلی خی رہا۔ جکہ تیاقی ی نیا ہے یا اجخفاعیات کے تحت ٢‏ ہے سے محض 
ای تل کا محالہ شییں۔ کہ ہرم کے ادی حجربے سے ہیئے براتے اور پورتے کی 
بات ہے۔ ککتے ہی کہ ینار حضویاقی نظا مکو اپے عنبضانہ ض٥‏ لک ای عادت پ؛ اتی 
ہ ےکہ پھراسے تنس یا خی قو تکی سار خی رہق یا ے حند رس سے پچتا رتا ے 
۔ یا پچلرپورا ظام سی ٹوٹ جانا ہے۔ بی عال ہمارے ادپی شحور کا ہ گیا ہے جمارے 
یہاں خی رگھوں کا ارب یا نز پڑھا می خی جا یا پڑھا جا ہے تے اس کاکوگی ا بی تمیں 
ہو جمارا شعور تے قلعہ بند مھ کے یٹ ھگیا ہے۔ تہ نو جتصیار ڈال ےکی ہمت ہے نہ باہر 
گل کے لڑن ےکی۔ تج کل ہماری جھ بھی ادبی سرگرمیاں ہیں ان کا متصد ہہ س ےک 
اپنے تل کی تقاطت کی جائے۔ اس ادب کی حیت ایک اخصالی علاصت کی سی 
ہے۔ جپ رہیں تو بے جڑٹی چدا ہوقی ہے۔ انا پورا پورا اظما رکریں نز لاشعور سے 
خوفاک جات ساسے آتے ہیں۔ جس سے ہنی سحون میں خلل بے ہے گوئم مفقل 
وگنہ گوتم یئل ہم دونوں پریٹانوں سے اتی سی ادلی سرکرمیو ںکی دو سے پچ 
جاتے ہیں۔ جو نز بظاجر ادلی جموو معلوم ہوتی ہے وہ دراصل اتی حقیقت سے زنگی 
کے مطالبات سے بھانہ اور جان بات ےک یکوش کی ہے۔ زندہ رج ےکی ومہ واریوں 
سے پچعطکارا پاتے کا ذریعہ ہے۔ زندگی کے مسائل کا ایک ھتان عل ہے۔ ہناری 
ارٹی شخصیت ایک عریتاد نظام ہے جس تے اپ گرو براقع تک ونواری ںکڑ یکر 
رکھی ہیں۔ اس وت ”لمعو اور آاسو' کا مشورہ رتا پالنل ایا ہی سے جیے کی اعصالی 


م۲۵ 


عریعسش ےکا جا ےکمہ دوڑ گ کو دو نل پیرل چچل لماکردٴ ٹنیک ہو جا ھے۔ بت کو 
داقق ای پکھا جا کے وہ ة اس وقت کک پوا خیں ہو کا جب کک یے اندرویق 
براقع تک رواریں ت ہٹ پائیں- 

نکیا اس کا مطلب ہہ ےکہ جہارے اوب انقرادری یا اجخقائی حقیت سے اق 
تعحلیل خق یکرانیس ٭ او بب کو عگھتہ کے لئ نضیات سے ند لت کے باوجود میں ایا 
نصیات پرست میں بنا یہو ںکہ ایا صحمل اور مہ خی سورہ دوں۔ سب سے بی 
نفیاتی عحلیل 3 معاششرے کی اندروئی ترٹلیاں وں۔ ان چریلیوں سے ساچے بییوں 
ت مکی با متس اپنے آپ سے اپنے آپ شم ہو عق ہیں۔ لیکن اس سے قع نظ رخور 
ادب کے دائرے جس بھی ایک اڑی چچیزموجود ہے ج وی نکی جد کک ان ولواروں 
کوکرا عق ہے جھ تخلیق کا راستد روکےکھڑی ہیں۔ میرا مطلب حقیر سے ہے۔ 

یہاں ہے سوال پچدا ون ہےکہ ہہ بات تقد کے قرمیضے میں شال بھی سے یا 
میں اس سے آگے مو کر آپ یہ بھی بوچھ نت ہو ںکہ ٢خ‏ تقی رکا زیض کیا ؟ 
ادب پارو ںکو بنا ؟ ا نکی قررو تی تِکا تین * تخلیق سے عھ ل کی تقیش ؟ اماق 
سے ہی سب قرا ئل تتقیر اشمام دے گی ہے“ الب لف زیائوں مں زور لف پاتوں 
پھ دا ہے۔ تقید کا فرلیض کیا ہو او رکیا نہ جہٴ“اس سلسلہ می ںکوگی مطلق اور بجرو تم کا 
اون نہ تر منایا جا سکس ہے اور تہ بتانا چاہے۔ اس کا اتحصار تز دراصل زان و مکا نکی 
مخصو صکیقیت پٍ ہے_ جو تنقیر حخل بررسوں کا ایک یل ہے اور زنرہ جتوں _رے 
دالمن بچاکر خود اپنے آپ میں من رہق ہے اس سے فو یر ہی ںکوتی مطلب تمیں 
ہے۔کیوککہ اس سے اودب پ کوتی اش شی پڑت یہاں ہیں مرف اس تقیر ے 
سردکار سے جو زندہ ققلیقی سرکرمیوں سے کی یہ کسی ت تا تحلق ضرور ر تی ےے۔ 
چاے عواففقت کا چاے خالقت کا- الىی مقیر چوکلہ براہ راست تخلیقی عرگرموں کا 
ایک حصہ ین جاتی سے اس لے اس کا فرییضہ جرزہاتنے میں ملف ہو ہے۔ اگر ساع 
ارروثی طور پر جم آنگ اور عربوط ہو تو صرف ''واہ وا“ جحان ال" ''گک ےکر ہی تتیر 
کی ارب پارے کا ورجہ خی نکر می ہے۔ اگر اح مج ں کول عروط نظام اقزار با 
نہ رہا ہو نے پھر تتقی رکو ارب پاروں سے تج بٹ اکر خوو او پ کی ابمیت کا اتب نیکرنا پڑت 


۸ 

ہے۔ اکر حابحع میں ادب باقی دوصری سرکرمیوں سے بالکل می انگ ہو کے رہ جائے تو 
ای عالت میں خمقید او پ کی قدر و بت کا سوال بھی چچھو کر او پ کی تخلیق کے 
عمل کا مطالعکرنے ػق ہے نز ٴ اس کا مطلب ہہ ہ ےک ا ر تنقید قلیتقی سرکرمیوں 

سے انا تعلق برقرار رکھنا اہی سے نز ہروور میں اس کا رض نلّف ہو گا- 
ہعادرے مان ادوپ کے پارے مم نکچ یکنعاز مخممون تو ککے جاتے ہیں> ان ہے 
کوتی میں سو چا کہ حقی کیا یز سے او رکسی ہونی جاے۔ بزض مال اس مم کا 
سوال کی کے زین میں چدا ہو ن بھی اس وقت تقی دک یکوگی ری تخریف معلوم 
کمرنے سے کام میں لے گا۔ اصل چیزة ہے ےک آ رج کل ار پ کی جو عالت ٭ ری 
ہے اور ار پکو جو مسائل دریش ہیں ا نکو ساتے رک ھکر دیھا جات ےکلہ ا وت 
جمورکو تو ڑنے کے لئ حتقی کی اکر تی ہے تقی رکو شطررع بناما سے حب تو بات دو ری 
ہے۔ مین اگر حقید حملتیق سرکرمیوں کا ایک حصہ بن عق سے تو پھر موجودہ ادلی 

صورت عا لکو نظرانرا زکر ریے کے بعد تمقید کاکوگی قریضہ باقی خی رہ جات 
خی اس سوال پر خو رکرنے سے لہ ہہ دسکجنا جا ےکم ۱۹۳۷ء سے ےکر ۱۹۴۵ء 
تک تقید کا فرییض کیا را سے اور اسے کس طرح سراخحجامم دیا گیا (۵ ۹۴ء کی تخمیص 
مس نے اس لن ےک یکمہ سے اد ب کی تنک اس وت تک اپتی مرا کو ہکم روہ 
زوال ہو چچی حھی) ۶ء میں نے ایب مے موضموعات اور نے احالیب میان نےکر 
آ نے تھے جن میں سے مض اردو کے لے پالل انی تے-۔ ظاہرہ کہ الی چچوں 
کی خالفت ہونی بی جاجے۔ اس کے علادہ ٣۳ء‏ کک ارد وکی فظم اور نژرونوں بثیت 
موی مرچھی تھیں۔ اقال یا پیم چند ما حصرت صوباقی جیسے دو ایک آدمیو ںکی موجودگی 
پپرے ای پ کی زندگی کا موت ضس ہے چنانچہ دہ زانہ بھی جمود کا تھا اور لوگ خی 
زندگی سے گھبراتے تھے ای زناتے میں حقید کا قرض ىہ تھاکہ نے اولی اضولو نکی 
تر جککرے اور خی تحری ککو قدم جھانے میں جرد دوے۔ اس تو دی سال کے عرسے 
میں چاسے اتھی حقید چا ہوگی ہو یا بری۔ بظاہر بی معلوم ہوا سہ ےک اہ مقصر 
میں کاسیاب رہی۔ کیو کہ تا ارب حخالقت پر بڑی جلدی غالب آگیا اور اس طر کہ 
پرانے اد ب کو اچنے تچ بکیا پیا۔ ین وراصل سے کاما ی عالات کی ی- ما ارب 


ات 


خخاص نضیاقی ضرورفوں ہے مات پیا ہوا تھا“ اس سے فرا ماحل پھر چھاگیا۔ ووسرے 
جھ لوگ من اوب کے حخالف تھے ان میں خود جاں تتیں شی اور تہ وہ ہۓ اوپ کے 
یادری اصولوں سے واتقف تے۔ بمرعال ستمے اورپ کے اقتزار میں مقیر تے بھی 
تھوڑی بت مدد ضرو کی تیر یماں کک تو ہہ تیر اپنے فرضل سے سم دوش ہوگی۔ 
جن اس وقت اہم 7 سوال ہے ہےکہ اس حقید نے اپنا قررض اواکرتے سے چان 
جرائی نکیوں اورک طرحع ؟کیوکلہ آرج کل کا ادلی جمود بىی حر کک ای تقی ری 
کوماہیوں کا مروون منت ہے_ 

اس تقید کا ایک یب اب بچھ ون سے لوکو ںکو نظ م7آتے لگا ہے لشتی تو ویں 
سال کک ہرجم کے سے ادیو ںکی تحریف می تتریف وت دی ہے اور اس سنا لے 
ہیں کی طرح کے اقیازات محوظط شی رجے جھےے۔ لیگن میں اس بات کو بھی اتا برا 
ہیں سجھتا۔ اکر نتریف کک والوں کا حوصلہ بڑعتا ہو یا سئے خیالا ت کو اپنے اسظکام 
می عرد تی ہو تو جانب داری اور میالقہ آرائی میں بھی کوتی مضائتہ تیں_ ۴۴ء یا 
۳ء کک یہ بات ضردری بھی عھی کیوکلہ سے اد بکو اتی مگہ بتائی تھی لیکن مبائقہ 
آرائی اس وت بھی جاری ری جب عحلڑقیق ترک منڈڑی ب ھی تی شروخ شریع 
میں تو حقیدری کام بھی انیس لوکوں تن ےکیا جھ عقلیقی کا مکر رہے تھے بمت سے سمۓے 
شاعروں اور افسانہ نگاروں نے اپتی اپت یکتابوں کے اچچ خود ہی کے یا ایک شاعر 
نے دوسرے شاعر پر ککھاٴ شت ہے لوگ اپنا یا انت ادلی اصولول کا تارف خوو ب یکرا 
رہے تھے اس وقت و قصہ ہی ہہ تماکہ جب کک ان اصولو ںکو تنلیم نےکر لیا چاۓ“ 
کے والوں کی پذعراتی ہو ہی میں صحق تی اس گے تقیر کا زیادہ زور اصولیں کی 
شرع پر صرف ہہ تھاٴ گے والوں کی نخریف پر تھیں۔ لیکن جب سے او ب کو و حت 
والوں تے قّو ل کر لیا یھ رتقیر کا کام انگ ہوگیا اور نقارول کا ایک عورہ طبقہ وجوو 
میں آگیا۔ عملیقی کا مکرتے والوں نے ت3 ۓ اصول لی اندروثی ضرورت کی متا پے 
احتیار جھے تھے “اس لئے وہ برا بھلا یا تھوڑا بہت نے اتیس مت بی تے۔ نقاووں کو 
ایک بی یتاکی ادر ڈلی ڈحلائی نز ہاج آئی۔ چنانچہ انسوں نے اپنا فرض مھا کہ ججہاں 
بھی ہہ اصول کا م کرت نظ رآئیں_ را تخریف بر ریں۔ اس سے بت جمیں کہ 


5ت 


اصول کا ممس طر حکر رہے ہیں۔ نقادوں تے ان اصولو ںکو اندر سے خی“ پاہرے 
دیکھا تھا۔ اممیں تبیہ ند میں ٹھاکہ ہہ اصول خحلتقی قو تکس طرح من ھت ہیں۔ 
چنانچہ نتادوں کا نقطہ نظرمامیاقی میں بللہ میکاگی تھا- اس کا جج ہے ہوا کہ مارے 
ادیو ں کی تحخلیقی قو تمدر تی لی گئی اور نقادو ں کو آر وس سال کک رگید 
ہوگی۔ وہ قصید ہگوتی کا فرض بدے خوص اور تیک تق کے ساجھ اداکرتے رے۔ 
اس خوش اناد ی کی ایک وچہ اور بھی ہے۔ ۰۴ء کے بعد جن لوگوں تے 
شاعری ما افسانہ نگاری شھرو ع کی ان میں بدی تنداد الیے لوگوں کی خی جموں نے 
اگریزی میں ایم ۔ا ےکیا تھا۔ مخری ایب سے ا نکی واتفیت ححددد اور نات سی 
گر بہرحال جراہ راست طضزور تھی اشمیں اپچنے علیتققکام میں چچتی بھی کامیا ی حاصل 
ہوگی اسے مال جم نمیں کا اٹ کنھ۔ اس کے مرخلاف مارے سے تقادوں میں بی 
تدراداف لوگ ںکی چنوں تااردد یش ایحم۔ ا ےکیا ہے۔ اضسوں نے نقاد جن ے کے لے 
اگھریزی میں تقی دک یکمائیں ت ضرور حنت سے بڑھی ہو ںگی۔ اس میں جے ورا بھی 
ین تین ین مغرب کے خملتقی ارب سے ا نکی واتخیت واجی بی واجی شی-_ نقار 
نے کے لئے انموں تے اتنا ہی کاقی سمچھاکہ تقی دک یکتایں بپڑھ ‏ ی جائیں- براہ راست 
مغرلی اروپ سے تلق نہ ہوتےکی وجہ سے ان لوگوں کے اوئی شُعو رکی تزبیبت تہ ہو 
تی چنانچہ اصول بازی تق اضموں نے حقلتقی کا مککرتے والویں سے بھی زیادہ کی“ جمی 
مفربی مصنفوں کا اردو کے ےم اوییوں پر اث پڑا ہے (شی نقادوں کے خیال مش) ا نکی 
بی چوڑی فرستیں بھی بیئھیں ۔ مۓ علوم کے نام اور اصطاتی الفاظط بھی وق“ ف3“ 
اعتعال ھۓے۔ لن تلق اوپ سے الگ رت ےک وچ ے اوپ کا اخاس ت و ان 
یس آیا ادر ضہ اپنے پڑ ھن والوں می چید اکر گے تزمیت یاقت ای شعور کے اخ ری 
ادب پارے کی قزروق٥ت‏ کا نین من جئیں۔ اس یاب مں ىہ لوک خت ٤کام‏ 
رہے۔ چناجچہ ا نکی نریفوں نے اویوں اور پڑ نے والوں دوتوں میس خد ا مال چا 
کر دی اوییوں تے مچھاکہ جچتی کاوش جم تن ےک لی اتی کان ہے۔ بخول تنقادوں کے 
آپ ٹ اروو ایپ میں جارا نام بیشہ زندہ رے گا۔ ووصری طرف پیم والیں تۓ 
جاکہ جب نقاد کک ان لوگو ںکی نحری ف بر رسے ہیں نے ہہ لوگ واشقی اچما کے رے 


۲٦) 


ہیں ھے_ اس لے انسوں تے بھی ادییوں سے کوگی مطال ہکرتا چھوڑ دیا۔ تقادوں کی 
تریفوں سے جو زہنی کابلی ہر طرف چا ہوگی سے ا سکی ایک پچموٹی سی عثال مج ن 
- مم راشد تے اپتی نظم ‏ اامران میں اجخنٰی' کے حصوں کا نام کو رکھا ے۔ تقادوں 
اور پڑ نے والوںٴ دوتو ںکو لی اتی بات سے ب 2گ کہ ایرا پاؤیڑ نے بھی اپنی نظمم 
کے حصو ںکو بسی تام دا ہے۔ بست ہوا نک یکو ڈا من کا بھی خیال آگیا۔ لگن ىہ 
بات آج تک کی جمیں پ جچھ یکہ آخخ کین وکیا بلا ہے۔ اس کی کیا خصوصیات ہؤں- 
اکر پسلا ' کیو" کے بجائے ”نپہلا حص*'کمہ دیا جاے ت وکیا قرق پیا ہو٣‏ سے ؟ اس ہے 
بجھہ کے سب چپ ہو کہ اگگریزی کا لفط سے “کوگی اتچھی ہی چ ہو گی۔- جارے 
یماں عال ہہ ہ وگیا س ےکہ اگھریزی لفظ کے بردے میں آپ جو چا سے لک - سب بل 
جاۓ گا۔ بللنہ نقاد لوک ا سکی نحریف ببھ یبر رہیں ھے۔ 

ہمارے ادیب ہہوں یا نقاد سب کی ا ی بی ری کہ اضوں نے مخرلی اروپ 
سے کے دا خر“ جن اتا ہی مھا جتنا بھی نظریں بے پوا۔ بڑے مر ےکی 
ات ےکن وم نار وع پک نت مال ےتکن ارچ لی ضح 
تک عام طور سے ”یک درس“ اور ” قری درس می ںکوگی فرق ممیں مو ںکیا 
جا.ا۔ یا پچھرافسانوں کا ال دیھئے۔ نقا کت ہی ںکہ ہمارے اضساتوی اورپ پ موپاسال کا 
بڑا اث پڑا ہے؟ نے مان لیا۔ موا ساں کے اقسمانے پڑم ھکر ہمارے اوییو ںکو بھی کم 
کی تریک ہوکی ۔ انسوں نے موباساں سے حقیقت نگاریٴ خارحیت ‏ جنی واقیات کا 
اتال کیجھا۔ لین موپاساں میں اس کے علادہ بھی تو ھست کیجتہ ے۔ بلمہ جو چچز 
موپاسا ںکو عظیم متاتی ہے وہ ادر بی یہ ہے۔ اس نے مرج انتا ا رماز پیا کیاکہ نٹ 
کو شاعری کے برا پہوسچا دیا۔ چناجچہ ایزرا پاؤنڑ نے نو بیماں ک کہ دیاکہ جس شاعر 
رہ سا تی وہ ای اد شر سا تہ 
ات کا اا س بھی پیدرا تی می ںکر ےہ دراصل وہ موا ساں سے عتائز میں ہو مے' 
لہ اس کے موضوعات سے۔ اگر بی واتا ت کی اور طرح بھی کاعےہ ہوتے جب بھی 
مارے اوب اتا ہی ا لیت .--۔۔ اس کے پاوجہود ہمارے نقاد کت ہیں کہ اروو 
اضسماتے عقرب کے مین افساتوں کے جم باهہ ہیں۔ اصصلی میں قص سے ربا ےکم 


٦۲٢ 
ادتوں ت ےکھا ہم نے عدید مخرلی وب سے ا لیا ہے تقاروں نے فو را کو یکاپ‎ 
کی اور چق مفری ادیتوں کے نام نظ رآنۓے سب فف ل کر ریے۔ اب چاہے سی کا‎ 
ا پڑا ہو یا نہ پا ہو۔ لا ڈی اچچ ار اور مرج وس کا نام یار بار لیا جات ے“‎ 
لن خود نقادو ںکو پعہ خی کہ ان لوکوں ت ےکیا جک ماری ہے- لارٹس کا مطلب ان‎ 
کے نزک ہے نی ما مات مم صا فگوگیٴ اور ج وت کا مطلپ ہے آزاو امہ‎ 
خیال۔ لئ قصہ شم۔ ان دوتوں کا اث اردو اضیانے بر مل معیبیت تر اصل میں بی‎ 
ری ہےکہ ہمارے کک والوں تے مخرلی ان سے حتائث قز ضرور ہونا چاہا ین مغرب‎ 
کے ایک کھصضن وا لن ےو بھی نک سے شی بوحاں‎ 
نے چلاتے ایک شال شاعری سے بھی ریت چلنے۔ عیرا جی نے مخری ارب براہ‎ 
راست بڑھا تھاٴ اور اس سے زیادہ سے زیادہ اث تو لککرت ےک یکوسشش بھی کی تی_‎ 
ا نکی نے تھی حقیدوں کا سن ادب کی ترک پر بت بدا اسان ہے اگ یر جی تہ‎ 
ہدتے تو خلا بہت سے سے ادیب اور شاعرچیرا سی مہ ہوتے' یاکم ےکم انتا نہ ککعچ‎ 
جتنا انموں نے تھا اویوں کے لے خصوص]ا شاعروں کے لے وہ ایک بست ہوا سنا را‎ 
تھ۔ مین سا می مرا خیال ہ ےک ادیوں کو بگاڑنے میں بھی ان کا پا ے_‎ 
انموں نے ابی عم کی ہہ تخریف عقر رکر ربھی خی کہ اس میں ”'نویتراتوں کے‎ 
مال" نشی جذاتی الجھتوں کا مان ہو۔ خلا وہ خی او ب کو بھی اس نظریے سے‎ 
پڑت تھے چنانچہ نیک وفعہ اضوں تے جوش میں ہآ کے یہاں کت ک ہمہ دیاکہ ن- م‎ 
* رازہ گی فی پووسلِنز اور میلارے کی تنظموں کے برابر وں۔ ا رن ے‎ ‫- 
تمارے نقادوں نے بی رٹ لگا رکھی ہے کہ ارد و کی آزاد ففم پر ان روتوں قراتجی‎ 
شاعروں کا ار پڑا ہے۔ میلارےکی ن  ما یز ہوقی ہے ؟ مہ جانے کے لے جیے ال‎ 
فراج یىی ایک لائی کم بد ےی جس کے لے میں معاقی کا خواجتگار ہوں۔ اس‎ 
سے آپ کو ہہ تو معلوم ہو جائۓ گا کہ میلارے سے حائث ہونے کے لئے ح‎ 
نوجوافوں کے مسائل می ڈوب جانا کانی خی ہے۔ قراضمی کے یی میں اردد میں بھی‎ 
وی الفاظ نل کر دوں گا اور ساحہ ضماجہ اگریزی ترجہ بھی جو ایک مشمور اعگریدی‎ 
شاعرتے کیا ہے۔ اس لائی میں میلارے تے زندگی سے تخلق ش مکر کے عد م کی‎ 


٦٦ 

خاش میں لے کی خراہش کا اظدا رکیا ہے“ دہ اضے ند رک سیاحص کنا چاہتا ہے 

جماں جا زکا ستول بی اکوتی جنےہ کک ھالی رتا ہو- 
ک7 ۶۶۶۲۲۲65115110 ۲۲7< !3۸75 5۸5 3۸7۰ 5۸75 

ہاں ٠‏ “ساں )ا !ق فرقل زاو) 

۶۴۶۳(۲ 0< آ3۸۸5۶75 ۳۷۲۱۲۲۳7 ,۶۱۸۰۳۶د< ۳۲710077 
05ھ151 
یماں الفاظ تمہ رہے ہی ںکہ شاعرزندگ یکو چچھو ڑکر عدم کے مک رتابیراکنار ٹش 
جانا انتا ہے۔ الفاط کی آوازیں مکمہ رہی ہی ںکہ دہ جاتے ہوتے کیا رہا ہے۔ زندگی 
سے پا جانا ہے۔ منساں ما ساں ما ! '۔-۔۔۔ یہ ایک حصرت بجھری آہ اد ری چز 
کےکھو جاتے کا افوس ہے ۔ممی اخوانی سرزشن میں داخل ہوتے کا تیر اور خوف بھی 
اس میں شال ہے ””قرتقل* میں دم ر* اور انت کی آواڑ چا ری ی ںکہ وہ عد مک 
دنا میں پہ نے کے بعد بھی کی ٹھوس بی کو اپت یرت میں رکھنا چاہتا ہے۔ خواہ وہ 
سی ہی لیف کیوں د ہو۔ (ے ٣ئ‏ آواڑ ے ظاہرہو )ا ہے ) خی لفظ ”لو 
سے پت چنا ےکم ٹھوس چیزوں سے اس کا تعلق بای میں رہ سا اور اخمیں ترک 
کرتا پڑے گا۔ مہ لفظ (”زطو'') ایا ہے تی ےکوکی چچنز اہ سے مک لکئی ہو۔ مہ پچ رایک 
آء ہے۔ خی یھ اس مکی یز موی ہے۔ میلار ےکی ن عم اور ہہ تو یں تے اس 
کے طریقہ کار کا صرف ایک خنصر بی کیا ہے۔ یہ شاعری جنسی الجنوں سے خی پا 
ہواکرتقی- محملہ اور چیزوں کے اس مس تھوڑے سے دا حکی بھی ضردرت پڑتی ے۔ 
نون ہارے نقاد بے تخیک ارد وکی آزاد شاعری کا سلسلہ میاارے سے جا ملاتے ہیں۔ 
رہا بوو سیر تو اس سے عتاثر ہوتے کا دوک یکمرتے سے لہ آوب یکو ہے سوج لھنا چا ہے 
کہ (7۸1.8ط۸۶2) گرجا) اور (۸..5ئ) (مرتے وقت کی خ خراٹ) جچے 
وو ممافیو ںکو مل اکر وہ ایک خی کاتنات تخلی قکر کا ہے یا خھیں۔ بوو لیر اور میلاررے 
خی ایے آودی ہی ںکہ جن کا نام ياوضو ہ کر لا چاجے“ مارے شا ۶ۃ ابق قام شی 
ائچمتوں کے پاوجود !۳ رھرسا ظز“ جک بھی میں بے سرصورت مارے تقاروں 
نے او بکی تاریوں سے مقرلی مصفقون سے یام نف يک رکر کے جمارے کھت والو ں کی 


۲۲۳ 
تخلبتقی تی کو می خید سد ریا- 


سوال ہہ ےہ اب ہہ تین ٹوٹ بھی عمق سے یا نمی ؟ اور تمقیر مارے اروپ 
کو جگانے م کیا حصہ نے لق ہے ؟ جیسا جس پل بی کمہ کا ہوںٴ تیر کے قریض 
کا تعلق اپنے زانے سے وا جا ہے۔ حقیر بجانے خو وکوقی ملق اور ستقل حیٹورےی 
یں رکھتی۔ ہے قے ایک اضاقی اور افادی چیڑزے۔ عالات کے پش نظریہ دو پچار باتیی 
میرے زین مں آقی وں۔- 

() ۳۰ء سے ۴۵ء وامے دور میں تخلیق پلہ آکی شی تقر بعد میں۔ اب اگر 
کوی جلیقی ترک اپنے آپ سے ات آپ پیرا ہو جاے ق3 مان انشر انرعا کیا چاے 
دو آیھھیں ورنہ تنقی رک تخلیق کے لۓ راستد صا فکرتا پڈے گا_ 

(۲) ا کی کل ىہ ب وگ کہ سب سے لے ت موجدہ ادلی مو دک اہیت وریاقت 
کی جائے۔ جیساکہ جس جار جا رکصہ چکا ہوں* آرج کل کا ”ارب' ارب خی ہے۔ بللہ 
ارب تخلیق ‏ ےکرے کا ایک بہاد ہے ادپ اور تلق کا جو خوف ہمارے ولوں میں 
بی گیا ہے۔ لہ تو ای کے اسیاب کا پت چلانا ہے۔ ہہ بات حض ادلی اقذا رکی عدود 
می رہکر نہیں ہو عق جود کے اسباب بی عد کک عرانی اور نفسیاقی ہیں۔ اس لے 
اگر تقد واتی او پکو پھررے زندہکرنا چایتی سے 3 اسے ان تام عوائل کا چائزہ لیت 
پڑے گا ۔ جن کے ذرسیج ادب چدا +٭ ا ہے۔ ظاہر ‏ ےکہ اس میں اص ہمت اور 
صافگوتی سے کام لیا ضروری ہے۔ کیوکنہ ایک طرف تر معاشر ےک سجھنا پڑے گا 
دوسری طرف اوٹی علقو ںىی اجتای نمضیا تکو بھی ریجنا ہو گا۔ الا ہے دوعرا کام زیادہ 
مشکل ہے ۔کیوکلہ اس میں مید یا یرد ہین ےکی ذرا بھی گخیائش ح*ت اروو ار بک 
تار مش زندہ جاویر ہو جائے کا موق ہے ہہ ت پاللی مگ یکر وریا مم ڈال کا محابظ۔ 
ہے۔ اس مض مکی تقید کے ذریع جیسے جیے اپ کا ڈ رکم ہوا جاتے گا براقعت شی 
جائۓ گی اوز لیتق قوت ابھرتی آےگی۔ دے ہی وے اس تقیر کی ابیت اور 
ضرورت بھی شخم وی جاقے گی یمان ک کک سہ حقیر اپینے باتھوں سے سم رجا ےگی_ * 
گھر ا عو کا نتر ہے ہو گا کے ادب زندہ ہو کے خرض تقی رک پا عوال ہے 
یکنا ےک ہمارے اویب لگ کیوں میں بت * دہ کون سے خوفاک قزیات یں 


اھ 


جنییں وہ لاشعو رکی توں مس چا جیٹھے ہیں اور ںاہ رضھیں ہوتے دبا چاے * مر 
ادیوں میں قوت حیات اور قویت تموکیو ںکم ہو گئی سے ؟ اور وہ اس عالت >> قاع 
کیوں موں ؟ ان سوالوں پر چر خکن نتطہ نظرسے خور ہونا جچایے۔ لن زیارہ امیت 
اجخقائی اور نضیاقی نعط نظظری ہے ساتھہ سا ححلبق عمل کے ان غللط نظریوں پ بھی 
ایک نظ رڑالنی پڑے گی ھ ماری تی کین اجکی مل ار کی ببرات بارے 
الین او پٹ والیف دوک کے ازع بن س ازیو بد کے ہیں۔ 

(۳) مخربی ادرب کے تو ں کی تعداد تق بییں بھی اس طرف بوھ گنی سے لان 
ہحاری تق رکو بھی اس طرف مائل ہونا چاہے۔ ہم و کے من رو اتی 
اپتے آپ میں اس طرحع من جٹۓے یں جیی ےکر ارضل پر مارے سوا کرئی رہتا ی 
میں اس وفعہ ہیں مخربی او بکو صرف بڑحنا بی میں بللہ جھنا اور سچھانا بھی 
چاہے۔ صرف مفرمی اود ب کی ارینیں الے نہ سے کام نیں لہ گا۔ بہ انفراری 
طور سے مغرلی مصفقوں کا مطالعہ ہونا چاہے۔ مطالعہ صرف ان کے ”فشقہ حیات'' کا 
میں بکہ ان کے ادٹی حریقہ کار کا ہہ ت بھم چچچنلہ پیر رہ سال کے عرسے میں بست دکیھ 
گے ہی ںکہ مخری ایب کے دو ایک موقموعات نق لکر سے ؟م سجتہ یش کہ جم بھی ان 
لوکوں کے باب ہو ھئے۔ دیکت کی چچنز ہے ہے کہ ادلی اور بمالیاقی اصول موس غعل 
آن طرح انتا رکا رون۔ ے۔۔ آیے ایم او ہے کی .ہے جارق حتین زاکرن 
با گی تو ہمارا ادب وہیں کاوہیں رہے گا جماں آرج ے- 

(۴) اب تک ماری حقید عح ما ارب کے بارے میں لی چوڑی باج ںکرقی ردی 
ہے اور انفاری طور سے افسانوں یا تظموں پر خو رکرتے سے تتزایا کی ے۔ اصول 
سازی اور اصول یاڑی بت جو ہچی- اپ تو الیا اضای یا ایک ثئ م نے کر اس کا 
پسٹ اارٹم ون چاجئے۔۔۔۔ پٹسٹ مارم اس ل کہ "رح کل عروہ اضماتے اور 
تین ری اخ ری روں۔ موی ظظریب نا میس سے بب نے وا نے کیہ جبیں سے 
حت۔ اگر آپ چاچے ہیں کہ پڑھنے وانے براہ راست خلیق میں حصہ لیں ت پل 
انمیں زہنی مطالیا تکی ضرورت سمچھاہے۔ ہہ صرف اس طرح مکن ہ ےک ارب میں 
سال اور الیمتوں کے علاوہ لف بھی ہدتے ہیں-۔۔۔ چکلہ سب سے بط لف ہی ہوتے 


٦٦ 


اور کھت والو ںکو لفتطوں میں ایک تحیب بھی چی امن پڑتی ے- 

آ ج کل حقیر کے جو قرلیض ہو کت ہیں ان میں سے دو چچار تع ت ےگمنوا رہیے_ 
ان میں تزمیم اور اضافہ بھی کن ہے لین اس طرح کے ناکے بناتے رے سے سید 
میں ہو۔ اصل بات تو ہہ ہے کہ لوگ انی حقیری صلاحیت سے کام لین چاہے 
ہوں۔ اگر ہہ خوا ہش بیدار ہو جاقے ت وہ اچپنے قرلیضے اور اپنا ریہ کار خوو ڈعویڑ نۓ 
گی۔ ہہ خوا یش کے بیدرار ہوٴ اور اسے کون بیدا رکرے ؟ مج جات پھروہیں آگئی* 
جماں سے چپ تھی۔ اگر آپ ممدی موعود کے اتنظار میں نہ جیھے رہنا چاہچے ہوں۔ ت 
آگے آپ سوبچنے۔ 





یں 


۳ء 


گی مقرلی کا انجام 


سات آجھ سال ادع مکی جات ہے ارد کے پروفیسوں مں ایک یب و عریب 
بجٹ پپلی شی۔ عالی نے ”زمانہ با نہ سازد نز یہ زانہ بساز' وانے فلنے سے ماقحت اپے 
بحم عصرشاعرو ںکو تح تکی ہے :- 
علل اب آے پدٹی می یں 
سن اتزڑاے می و ھر ہو بھی : 
ایک صاحب کو ٹیٹھ بٹھائے خیال ہیا کہ یہاں مخرلی سے راد ورپ خی بل 
فاری کا ایک کم نام شاعر ہے ادھ رھ لوگوں تے عا یکو نے اوپ کا چنوا بنا رکا 
تھا۔ اس تشر عکو انی ادلی تریک پر لہ تو رکیا۔ اِں پھ کیا تھا ایر وے اور بندہ 
لا کت ذدرگری ٹریع جوگی* اور تقاروں تے عراتی> سی محاثاقی“ سای دلااگل 
سے مایم کر دکھایا کہ عالی ایور پ کی تقلید پہ ہی اصرا رکر رہے تھے یرہ بحٹ ت 
سرے سے بے مم تھی عالی کا جو مطلب تھا اس کے متحلق کسی ودید من ی کی منیائشی 
ہی نہیں۔ کن مرا تی چاہتا ہے' کش عالی نے گنام فاری شائر مقر ی کی تیر کا 
مشورہ دیا ہوا کی وکلہ اجمیں ذرا بھی اندازہ خی تاکہ مقر بک پیرو یکرنا بالگ لکوہ 
خدا یا عمام یاوگر دکی خرلاتے کے برابہ ہے۔ اضموں تے من بھوئے ین سے ””عا ی اب 


۲۸ 


آ ''کما ہے۔ اس سے تو ہہ معلوم ہوا سے جیسے مضر بکی پروی میں سجہ میں گتا۔ 
یس گلے میں عفر ڈالا۔ پا میں بچعڑی کی ادر بل پڑے۔ عالی شہ یکم ےکم 
ہمارے نقاد ت3 بی مھت ہی ں کہ سے کام انتا ہی آسان ہے۔ چناجچہ ہم آے ون جن 
رسچتے فی نگ ارد اقساتہ شرب سے وه نے حکتا ھا نے کا ےب اب ے شر 
دس سال لہ اىی سے لے لت دعوے اروہ فعظم کے بارے میں ہوا کرت تے۔ اگر 
ان دووں کے جواب میں ہم ہہ کی ںکہ جارا ارب عقرب کے ارب سے بت یچچ 
سے و اس سے بھی بات میں شی۔ ار سوال صرف اخت ادب یا برے اوپ یا کم 
ایت ادب کا ہو بھی تٹولیش کی ضرورت میں تھی اسیل یرش نے ”ری 
شاعری' کے سلملہ میں جو دح تکی ھی :سے جا وکونششل سرے روستو ! ۔۔۔'' ہم 
اسی پ عم لکرتے اور امیا نکی خیند سوتے۔ نیشن سوال تو ہہ ہب ےکمہ اس سو سال کے 
عرسے میں ہم سے بی دی مخرلی ہہوئی بھی یا نمیں اور یی مخرلی کے صت کیا ہیں ؟ جھ 
نز ایک اد ب کو دورے ادب سے ان کفکرتی ہے وہ رز اصاس کا فرق ہے۔ مین 
خیالی کے زمانے میں لوکوں نے پیردی مخری کے مق ہہ جھ ےسک چڑیوں اور پچھولوں پ 
نیس کی جاتئیں یقن میدق ون شی ابی یکنج ھت ابچ زشاحخزقی ‏ سک 
ذر یع لوگوں کا اخلاقی درس کیا جائے کی وککہ مکانے تےکما سے وغیرہ وخیرو۔ ٣۳ء‏ 
کے بعد پروی مخرلی کے مع ہمارے ادعوں نے ہہ ےس یوناتی داومالا سے افماتۓ 
ازج جائین اور اپ آ پکو روعروں ے زیادہ صن برست اور آزار خیال امت 
کیا جاے۔ ۳۷ء میں حدید مخرلی اوب کا مطلب مہ قرار پایا کہ محاشی مسائتل کا جوکرہ 
ارب میں آ جائے۔ اس لٹ میں دو مزا مزا یہ تھاکہ الما ارب ساج بی ساج یٹ 
دی بھی ہ وگیا کی کہ معاعی مسانئل شی مسائل ہیں۔ اسی ددر میں چدید خلی اروپ 
کی پیردی کا ایک عطلب ہے بھی شھر اکہ نوجواتو ںکی ائجمتیں بیان ہوں۔ ا سممروہ کے 
مفسوں تے مخری ارب سے بڑے سے ہوا بقی ہہ مھ اک اوپ متصوو پالزات ہو تا 
ہے چناضچہ ان دو اصولوں کے مطابق نعظم ہیں کسی جا ۓےگی۔ پل تو توجواتوں کی 
الچھتوں کا وک ری < 


۲ 


ہے زین شض ٢‏ بی ہے 
رطلے چرام گی خ خر 
ےگ بی نو رس سیب 
گے پچ ل کر ان مصرعو ںکھ الٹ وچ“ 
رلے ام کی خشبو 
ہرے زین مس ٢‏ ری ہے 
یہ میلار ےکی نہ سی نوک م ےکم بوو لین رکی نظم تو ہھ ہ یکئی 
خی عالی کے زانے سے سم ےک آبج کک ہمارے یہاں پیردی مفرلی اس طرح 
ہوگی ہے اور اس کا جچہ ہے قگلا ‏ ےکمہ مارے اوپ سے پ رم کے سار پالگل ہی 
عائب ہو گئے۔ جمارے تقا و کے رچے می ںکہ اردو اوپ مخرلی اورپ کے راب تم گیا_ 
پرانے خال کے بجز رگ کت ہی ںکہ ہمارے پاس جو یھ تھا دہ بج یگنوا بیشھے_ بچارے 
پڑ نے والو کی سیجھ مھ میں خمیں آ کہ ہہب ھکیا ربا ہے۔ ان طرح طرح کے ملاؤں 
می اد بکی مرٹی حام وکی جا ردی ہے۔ پیر وی مخرپی کے صرف آیف بی مم ہو جع 
تے اور وہ ہ کہ ہم عقرب کا طرز اضاس تو لک رلییں۔ مجن ہم تے ت تھوڑی رے 
کے لے رک کے ہے بھی میں سوچ ا کہ ججارا رد اصاس کیسا تھا اور اس ج نکوگی 
تبدٹی آکئی ما شھیں۔ 
اگر ١‏ ٹن کی یات ماف جاتے قذ یک کچھ ردوصرے کا رز اسان تتمار نے میں 
متا اس کے خیال میں ت ہ رس رزمان و مکان کا ایک خصوص تضور رکتا ے اور ای 
سے اس کے رز اصاس کا لتین ہو ہے سے اڑی نز خمیں جن کسی اور کی کو خخل 
کی جا ے۔ ہ رہہ راہیۓ انظدار سے لے مخصوص شکلیں پیراکراا سے جو اسی کے ساتھ 
مرجاتی ہیں۔ ی کی او رہ کے کام خمیں 7 عتیں۔ بجللہ دوصرے سپ ردانے اسے سج 
تک میں ع_ ظز یق ڈراے اور مخرلی ڈراے کے ورمیا نکوگی ےر مرف بے 
یس نام الک سچردوسروں پر عہ نو اث ڈال سا سے مہ ان سے اش نے سکم ہے۔ 
خود ایک تچ رسے اندر بھی طرز اصسا سک یکوکی جیادی حدرپپی دقع میں ہو گھق۔ ج رہچر 


و 

نشو ما کے حدارحج حلےک(رتے کے بعد اتحطاط پڑ :ود کے مرجاتا ہے اپنے یی یجھ 
میں پھوڑا۔ 

ہہ نقطہ نظ رکج ہو یا غلط“عحض لوکو ںکو بعد ضس آنا۔ ٹوشس مان کک تے ا سے 
انان رعتی کے رارف مھا ہے۔ اگر ہہ نظریہ درست سے حب ت مم مولاتا عا یک 
تک یق سے بھی مخر بکی پیردی شی ںکر ھت تھے۔ لن اس نتر ہکھ ردرکرنے کے 
بعد بھی ہہ ارینی حثیت برترار رہتی ےک کی سچھرمیں طرز اصاس کی بیادی 
جریلیاں برو مال جو سی 27-7 "و جو امب نطرزے اصا ں کی 
سی کا دکر اس طر ح کرت ہیں جیے پرا ےکپڑے انار کے سے بن لے جاتیں_۔ 
لا ڈی۔ اچ لارن تے یہاں ‏ ککہ ویا کہ ہر بدا ادىیب شحو رک ی کی بدی تی یی کا 
یی خیمہ ہوا ہے۔ لین محض تم مک بدھی حبرٹی میں کھا جا کتا۔ ار طرز اضصاس 
میس روز انقلاب آتے گے تو سارا سح ایک پاگل خانہ بن جاتے۔ بڑی حبدیلیاں چاہے 
اندروثی عحلل کے ذرنجہ ہول“ٴ چاے بوئی اثات کے بجر * صروں بعر چا سے روما 
بوتی ہیں۔ آڈن کے خیال میں یور پکی ڈیڑھ جار سا لکی تار میں طر اصاس کے 
صرف جن بڑے انقطاب واقع ہوئے ہیں ۔ ایک ز بارہوہیں دی میں __ __ 
( 10۷ ٭.0:371- )کی رواعت پیا ہوگی۔ دوسرے سو یں صدی مل --۔-._٭ 
(.ص.ط۸) کا اتزار شخ ہرا۔ قیرے انسویں صدی میں با تیآ 
ساتے آگی' الش اش خ رطارع۔- 

چوککہ میں علی فاری خی چان“ رر ۷ہ یمر 
میں رز اصا کی کوگی انالی حیدریٹی :وی سہے یا تیں۔ میں صرف اروو اپ کی 
خزود ان زگ پا جت کی زان ت کر کنا وین اع :لوک کے ہو یکلہ جشنن مان ما 
ادپ پرا ہوا ے“ اررو ایپ ای دن عرگیا۔ ۓ ١‏ دب کت ی ںکہ ہم اروو اوپ 
مج ایا انقلاب لاۓ ی ںک۔ ١‏ اپ ات الک تی روایت وق این لے 
انار خی سکیا جا کہ خظاہرمیں نو بمت سی حیدیاں نظ رآتی ہیں۔ لیا نکیا موضوعات 
یا دو ار اسالیب کے برل کو اصاس کا انقطا ب مہ ھت ہیں ؟ یج ککتا ‏ ےکبہ ہیجیجلہ 
سو سال کے ع سے مس مخر ب کی پیرد یکمرنے کی جتتی بھی شعوری اور خر شعوری 


۲2) 


کوششیں ہوتی وں “ ان سب کے یاوجرد مارا اصاس وہ جمیں ین سا جو مخرب کا 
اصاس ہے بذات خود مہ کوگی افو کی بات ھھیں۔ توشش کی بات ىہ ے کہ 
مارے طرز اصاس میں جس نشوو نماکی صلاحیت شی وہ تشخ ہ وگئی یا ظاہرتہ ہو 
گی۔ دوسری طرف چم مخ بکی طرح کا ادب بھی پیرا ‏ کر گے ۔کیدکلہ وہ ت2 ایک 
اص حم کے رز اصاس سے می پا ہو سک ہے۔ ہمارے ادیو ںکی تخلیقی قوت ای 
لئے مخلوح ہوتی ہ کہ ان کے لے سارے راسمت مسدود ہیں۔ سو سال پچلے ارا 
ارب جس طرح چچل رہا تھا اگر ای طرح چتا رہا ن3 اس مِں ور صرف ای وقت پا 
+ھ سکتا تھا جب اس طرز اصاس کے سارے امکانات شتم ہو جاتے - آبج کل کا اد 
جحور عالی کے ”اب آو' سے پیا ہوا ہے۔ عالی کے زنائے سے | لم ےکر رج کک 
مارے اد بک بدتتی یہ دہی ہ ےکہ ہم نے پیردی مخرلی کا ارادہ ‏ وکر لیاٴ لن اروپ 
کے بارے میں اصول سازی زیادہ ت اپیے لوگوں نے کی ججتموں تے مفرلی اوب میں 
پڑھا تھا ما صرف مخرلی او پکی تار کا انڑگں پڑحا تھا- 

تی اب اصل تق ےکی طرف آیے۔ مہ کہ مارا اصاس مغخرب کا اصاس تمیں 
ین سکا۔ اس تخقیش متطظور ہو تو غھوتے کے طور پر ىہ بات درک کہ چیزوں کے مخلق 
جمارے ادب کا روب ہکیا رہا ہے اور مخرلی ادب کا روہ ہکیا ہے۔ ہار ی تز ل کی شاعری 
مس فو دراصل چیزوں کا ول ہے می یں اس شاعری کا موضوع انساتی تجزیات ہیں- 
ان کے علادہ یہ شاعری کسی اور چ زکو دیھتی بی میں آ پکییں ےک اوب کا 
موصوع اور ہو بی کیا سا سے * اس طرح مہ بات سو صدر درست ہچ کوک 
اننان اپے سوا کسی اور عحلوق کے شقزیات سے واقف بی کے ہو سکم ہے۔ لین 
بیورپ میں بح احمق سے بھی ککتے ہی کہ کاتنات میں صرف انسان ہی 3 ایک ریپ 
نز ہیں ہے آخ اور چو ںکو بھی نے ایک الک وججود رت کا مؾ حاصل ہے۔ اس 
روب کی انتا بپیندانہ مال قرای شاع .01ج کا کلام ہے۔ بمرعال ہماری شاعری 
میس اضسان کے سوا او رکوگی چچیز وجود میں رکھتی۔ مبتض لوگ خی تکرتے یں 
ہمارے شاعراکیے پیھولوں کے ہام لیے ہیں جمییں انسوں تے بجی دیکعا تک خجھیں_ 
لن ہہ اختزاض بالئل صمل ہے مارے خزل کو شاعر پچھولوں کی بات ہی میں 


0 
کرتے۔ گل“ الہ“ خرکس تین پچھول نمی ہیں ہہ ت تشبیسیں بھی نیں ہیں 


انسانی نتصورات کے تاعم مقام ہیں الی مثالاس تو ال خال ہیں۔ جماں شاعرتنے دبا 
کسی پچھول کا زک کیا ہے۔ شل می ر کے یہاں ایک آرھ بار ڑحاف کا نام آگیا ے- یا 
ار ےکر وا ہے۔ 


میں پر گے پماوں سے ہولوں کی 
جب بہار ے ان زرو زرر پچولوں کی 
یا آتشی کے ایک شعرمیں کی حد تک واتی فطرت کا ایک منظ رآگیا ے- 
یں جرے ڈر سے تہ دیکھا ازحر بت شب وصل 

جا خی کو کو اگ کا را 
ان مسعتشیات سے قع نطرجماری غزل انان کے علادہ کاننا ت کی کی اور چڑ 
سے تعلق میں ری اکر نون گا اتال بن کے ا اتان جات از 
تصورات کے تام بب کی حثیت سے۔ یا بیوں کک ےکہ نزل بیو ں کو دیمتی میں * اجمیں 
استما لکرق ہے۔ مشنوی ادر تھے کسانیوں میں السعہ چو ںکو دکھا جانا ہے من یہاں 
بھی یں کا الک اور تل وجور تلیم خی ں کیا جا ان کا شار صرف اضائی زندگی 
کے مناسیات میں ہوا ہے۔ میں یہ خی ںکتتاکہ جارا ادلی اصاس چییوں سے لطف لیت 
یا ان سے عحب تکرتے کی صلاحیت بی خی رکتا۔ ہہ لفف اندرروزی نے او طلسم ہو شریا'* 
یا ”فسانہ آزاد' یں مہ مہ لے گی۔ کن مہ ان چیزوں سے محبت میں تمہ اضسان 
کے ملقات سے محبت سے“ چیزوں سے محبت نیس بللہ ”ابی چیزوں' سے معحیت ہے۔ 
پچ رکسی جیز کے نام کے سا ما وکوتی صفت ہوقی ہی خی “یا ہوگی 3 زیادہ ے زیادہ 
ایک پھرىہ صفقت بھی یا ناس نکی کی خارتی خصوصی تکی طرف اشار ہکر ےگ“ 
يا یائثل ایتدائی تم کا انسانی روعل جا ۓےگی۔ خفا ”سر چھول'' یا ”ا ھا چھول' اسم 
کے ساجقھ کسی صفف تکی ضرورت اس لے میں مل آت یکہ ہمارے یماں ہرچی کے 
سے میں اضانی روعمل تتیا تخل ہو ہے شل *وطلسم ہوش ربا" میں کی لے یا 
با کا یا درحوت کا میان دیھتھے۔ چچیزو ںکی صرف و ححض قرست بناکر کک والا م مین ہو 
جا ےکہ میں تے پڑت والوں کی وٹی کا ساا نکر دیا -کیہگلہ وہ جات ےک چچ کا 


٢ 

نام لیے ہیں پڑ ھن والے کے زین میں اکپ یخصوص ردگل چدا ہہ گا اس لئے اسے 
صفات کے ذرىیع ماری کے اصا کو ہاج ےکی ضرورت چیش میں آتی۔ محکن ہے 
مغخرلی ارب کے بست سے براحو ںکو اڑی نثراتچھی نہ گے “کیوکلہ اس میں ڈاقی اور 
انرادری اث میں ھا۔ لن سے ت چیری دوسری ہے۔ ہارا رذ اساس بی نید اکر 
کا تھا اس کا چچھوٹا سا وت ہہ ہے کہ جم اججھہ خا سے سو سال کک پیردی مخرلی 
کرتے کے بعد وی خزچیداکر نہ حے۔ اگر مارے اوب میں چتوں سے ملق چےر 
تجب؟ گریمٴ خوف یا ارا رکا اضاس خی کا تو صرف ای وجہ سےکہ ہم انان کے 
سواکسی اور کا وجوو تقلیم جم ںکرتے اور چچیوں سے متحلق ہمارے روعمل مم ںکوتی 
دی چدا میں بوقی بللہ جب مکی چچ رکا تام س کر خوش ہوتے ہیں تو وراصل 
اہے اسی تنعل روگ ل کو یا وکر کے حظوط ہو تے ہیں_ ھا *×طلسم بہوشی ریاٴ" میں 
جب نارگی کا نام آئۓ گا ن اس سے راد وہ زا کتتہ ہو گا جو اضائیٰ زیان نے حمو سکیا 

ہے اور پیش ایک ی طرح۔ 
ہمارے طرز اصا سک یہ توحیت ابھی کک ہمارے نقادوں نے خمیں بھی۔ مسر 
نکی کاب پڑ سے کے بعر نے گت ہی ںکہ اردو کے موی نگارو ںکو اتال جذیلت 
بر عبور میں تھا و کردا رکو تچھا خمیں ھتہ وخیرہ خیروں ملا معض مشنویوں یر عام طور 
سے ہہ اختزاض ہو ےہ قصہ ت حزادی کا سے مجن جب وہ حش قکرتی ہے ت 
یسواؤ ںکی زیان بولق ہے۔ انا تخجیہ ہہ نیل کہ شاع مکردار ننگاری کا جح اوا تی ںکر 
سکا۔ پت شس ہمارے نقادوں نے ہہ کی قر ضف کر میا کہ توی نگا رک وکروار نگاری کا 
جم بھی ادا کرتا جاہے۔۔ ىہ بات اس کے ق نکی شرازیذ میں شال ہیں اس کے نی 
میں ت ہراضانی ترہے کا ایک تل تضور مجاتم ہے_ جو انفراو کردا رکی عدینریاں 
سے آزاد ہے جما نکھییں اس گے کا وک رآ گا۔ وہ شتادی کا محاشقہ ضیں دکھا“ 
بللہ عورت کا معاشمہ دکھاا سے جس کا صرف ایک بی تقور اس کے زین میں ے۔ 
عی رص نکی مشنویٴ ہارڈی کا عاول میں دوتوں کا سی ہیں منظر پالل الگ سے اور 
ہر تذی ب کو یہ جح عاصل ےک اپنے ف نکی طرائط اپنے آپ مقر رکرے۔ مجن 
انا نکو اپنے طریيق سے ستجھے۔ مخرمی اوب میں قرد کے اقعال اور اصاسات کا جن 


ات 


خود ا کی شخصیی تکرتی ہے ۔ ہمارے اوب میں ان پاتوں کا تین سای روایا تکرقی 
ہیں۔ طرز اصاس کے فر قکو جھے بقیرہم پیبدی مخر قکرہیں کے قے صشرمکانے کک بی 
روں ے۔- 

ہہ نے تھا مارا رز اصاں۔ مخرلی اد ب کی رواعت ہہ ےہ انسانی تجربے کے 
انفراری کو ا کی پوری جخصسیص کے سان کرفت مس لایا جاقۓ۔ اس نقہ نظر 
سے مفبی ادب یو ںکو بے ار عطریقوں سے چی کر ہے معثال کے طور پر چٹدنے 
() ایک بن زشاع کو اس وق ت کے حسوس ہوقی ؟ 
(۴) زان و مکا نکی حیدیلیوں کے ساجھ ایک چنز کے متحلق شاع رکا تی کے برلتا چلا 
3وت- 
(۳) شاعریا انان کے روگمل سے قطع نظ رکوکی بیز بزات خودکیا ہے۔ صرف ا سک 
ظاہری شحل و صورت“ یا محھ لکمیاوی خصوصیات خمیں* ینہ اس کے اندر وہ کون سی 
پیر ہے ج اسے ایک انفرادی وجود جخشؾ ہے۔ اس کی خثالیس وکھتی ہوں تو قراضجی 
پڑ نکی ضرورت ہیں بچھلوں کے محلق ڑی. ابچ دو رن سکی نظمیں کان ہو ںگی_ 
)٥‏ چچزوں کے اند رکوگی کانتاتی قوت بھی نظ رآ تی ہے یا میں ؟ 

اس فرست میں اور بھی اضاتے کن ہیں۔ بسرعال مخرب کا طرذ اصاس پر کو 
ار یار دیکتا ہے اور اس سے پروفعہ تا روگحل حاص لکر ہے 

بمارے یماں جب مفربی شاحر یکی تیر ششروح ہوگی ت درڈز ودج کی پروی مم 
لوگ فطری مظاہرمیں خدا کا لوہ ڈھو:ڑتنے گے۔ میں تے خلطکما۔ ےون ےککماں گے 
! ھر اصا کی حجبدپی شرو ہو جاتی۔ صرف ىہ جانے ےہ قطرت میں را کا لوہ 
نظ رآ ہے۔ میق چو ںکو دیکن کی جا چند خیالات اور قصورات نظم ہونے گے۔ 
ایل مرش یىی مض تعمییں ہیں۔ لا ہلبارش کا پل تطر" "یا محر چچل رتی ہے 
ین ہی" ان جس بھی چچزوں کو یکن کے میاۓے اتال اقعال اور ارارے ان کے 
ساتجھھ چا دسیے سے ہیں۔ جب حقیقت نگاری کا زور ہوا ت فطرت پرستی کے ساتہ مل 
رہ شحل پرا ہوئی- 


۲ 


بوڑحاکسان اتی گاڑی پہ جا رہا ہے ۔ جھیتو ںکو دیکتا سے اور صربلا رہا ے_ ۳۷ء 
کے بعد زیادہ سے زیادہ جدرٹی ہہ چیرا ہوگیکہ ککس کا صابن بھی تظموں میں آتے لگا- 

لن سوال ہہ ہےےکہ چیڑوں کے یارے مں جارا رو ےکتنا یرلا ؟ پرائے لوگ الن 
سے لطلف لیا کرت تھے ہم یہ بھی مجمی ںکر ھت اس سے تیادہ او رکیا ہوا ؟ اروو 
ادبپ کی اس نمشووتھما پر خو رکرتے ہے جھے نو اب ایا آتا ہے کہ عولانا عالی تے 
واقحق گنام فاری شاعرمخری بی کی تظلیر کا مشورہ وا تھا“ اور ہم آرج کک تمایت 
سعادت مندری کے ساجھ ا نکی ححت پر عح لکرتے لے آے ہیں۔ 


۳ء 


گر اقعال 


اردد ارب مرکا ہو یا عررہا ہوٴ یا جو بھی عال ہو“ کک مم ں کی ہزار دی اۓے 
موجود ہیں جو اپنے آ پکو اکن وانے یا پڑت والے مگھت ہوں' اور اس طرع اروپ 
سے کوکی نہ کوگی تعلق رھت ہیں اس تعل قکی وجہ یا نوعیت جتھ بھی سی لین ہے 
ای جلدی شخم ہوتے والا بھی جییں۔ اس حد کک تو اوپ کے لُ٤‏ عالات سا گار 
ہیں۔ مر قصہ ہہ ہوا ہے کہ ان دونوں مگروہوں کے لے ادب سانپ کے لے کی 
تھوندر بن کے روگیا ہے۔ نہ گی جا نہ ای جاقے۔ ادٹی تتطل کے مجی اصل 
یس بی ہی ںکہ ہیں تد خی ادب کے سلسلہ میں خود مارا رو ےکیا ہو لح لوگ 
ہہ ابی تکرکے جیپ ہو جات می ںکہ اویب پرانے موضوعات سے انتا گئ ہیں اور 
سے موقصوع جیں لت لیا نکیا موضوع کا پرانا یا تما ہونا انتا ہی اہم ہے۔ لوب کم 
ےکم جن ناول ایے ککھ مرا ہے جو اتی مم کے بے مثال شابکار ہیں۔ لیکن عم ربجھر 
بی رتا رہاکہ اپتی ببند کا موضوع مرح کک میں لما۔ جوکس کے موضوععات اس کی 
بپلی دوکمابوں بی میں متمین ہو جیے تے۔ بعد کے دو عظیم تاولوں میں الٹ چب ر کے 
انیں رتا رہا۔ موضوع نہ سل ےکی عثایت کے نو صی مہ ہی ںکہ ہم اس اتنظار ٹش 
بات پر ہاہھ دحرے ٹیٹھے رہی ںک حقیقت خود کان یڑ کے جم سے سوا ہے_ وریہ کلمتا 
ہمارے می س کی یات شھیں۔ پ رھ لوگ ماری ہمت بتد حا ےکو ہہ آلی وی رجے 


ۓ 


ہی ںکہ بدا ادص بکوتی روز پدا خض ہ۔ جچپ جاپ کام سے گے رہو۔ ایک تہ 
ایک ون ہہ مجزہ بھی رونما ہجو جائۓ گا۔ ماناکہ بڑا ایب ہ رکلی کے کڑ پہ جمیں متا۔ 
جن آسان سے بھی میں اک را۔ بے ادیب تو ہم آپ چھوئے پچھوئے "دی ہی 
پنداکرت ہیں۔ من ےکہ اشساتی ٹک تار بے آدمیو ں کی سوا عمری کا دوسرا 
نام ہو لن کسی زیان کے ادب سے عاد بڑے ادیوں کی فرست ہرگز نیں۔ بدا 
ایب ممدری مو عو دکی رح نازل خیں ہونا۔ بوا اویب آہستھ آہست ہوا جن ے اور 
صرف* اس وق ت کہ جب جیسوں چموے پچموئے اویب جییتوں حم کے تر ےکر 
رہے ہہوں جخمیں دور اپ اندر سیث ے۔ وہ سوڑ یکو بھالا تق ضرور بنا سے گر پپھلے 
سوگی تو ہو۔ اس کے ار وگرو جقنے بھی ادیب ہوتے ہیں ان میں بتھ نہ عماشت 
ضرور پاتی اتی ہے۔ ان سب لوکو ں کی ایک مشترکہ ست ضرور ہوقی ہے۔ پھر مرے 
کی بات ہہ ہ ےک با ادیب جن جما خمیس 7ت اپنے ساجھھ اپنے براب کے پا اپنے سے 
کچھ چھوئے ادیوں کی اک ٹل ساتھ لان ہے۔ شی یم کے ػاس پا مارلو“ یی 
جھ نٴ چیپ من وخیر: یس لوگ نظ رآتے ہیں جو خود بھی صعمولی آ ری یں وں۔ 
یسا ایلیٹف ت ےکا ہے۔ یک کےکی معموبی سے معولی جم عصرڈراما نا رکو بھی 
نے ھجے۔ ا سک یکمدار شگاری کا بخیادی انداز بھی وبی ہد گا جھ شی کا ہے۔ بوو سیر 
نے بور پکی شاعری میس ایک انقلاب اھر دیا۔ نج نکیا اس زانے مم کیا ددی ایک 
آدبی تھا جھ اس رخ جا رہا تھا۔ ىہ بات یاد رنہ کے ئل ہے کہ اس کی نظموں کا 
گھوے اور قلوب رکا ناول خارام پواری'“ روٹوں کے ووتوں ایک ىی سال خاح ہوےۓ 
تے۔ پمراجمیں کے ساجھ ساجھ مصوری کے میدان میں ولا کردا موجوو تھا یہ توں پر 
طرح ایک جیسے حہ سسی گر میوں پہ ایک می عم کے ناولوں کا اٹ پا تھاٴ او رکئی معنوں 
یس میں کے موں ایک می طرف جا رہے تے۔ موضوع کے محالے میں بھی اور 
شیک کے معالے مس تھی۔ علاوہ اڑیں بوو لیر اور وبیر سے پطہ وو ناول نگار اور 
استادال اور بالزاک آ جیشے ہیں۔ جو مس سال پشجشتران لوگوں کے آتے کا اعلا کر 
رسے ہیں خود اتی اردد زیا ن کو لے جج می رصاحب جہارے سب سے بڑے تا خر 


۸٘ 


ہی۔ خی نکیا ذبان * میان اور جذیات کے لہ مج ان کے جم عمروں کی کاوشیں 
بالثل ان سے انگ ہیں۔ دوسا اہم نز سوال ہہ ہ ےکہ ایضیے ہم عمروں سے بقیرکیا یر 
صاحب استے بڑے شاعرین بت تے ؟ پھر ذرا ہہ سوچ کہ نا کے نام کے ساتھ 
زیا نکی جو حیریلیاں مضسو بک عاقی ہیں۔ ان مس کتنے شاعروں کا ہاج تھا- غالب ہزار 
دو سی الیگن اہین کے ویانۓ ئن وشن آؤز یھن بی تھے ہے قاسب چاے 
ہی کہ الب نے عالی جیسے شاگردو ںک وکیا یت دیا۔ لین بقل فرا صاحب یہ کوقی 
نی دی کہ استاد نے شماگمردوں س ےکا سکھا۔ خود اپنے ہی زمات ےکو نے لیے ۳۷م 
کے بعد والے افسانہ نگاروں نے اچھا ادب چیا کیا ہو یا برا صرکیف جو نیکھھ بھی کیا 
ایک ساجھھ مل ےکا اور اب اس ادلی ق ط کی وج بھی بی ہے کہ دس پاچ شاعریا 
اضانہ مار ای انی مہ ادر چٹ چچھ اہ ےکوتی خی با تکرنا بھی چاچتے ہیں مجن ١ضیں‏ 
اصاس خی ہو ناک بت سے دومرے لوگ بھی اسی رخ جا رہے ہیں جن ے میں 
۸د مل گی ادیب ے اب بھی ہیں اور ان می سنہ نہ ٹاہ عحلیقی صلاحیت بھی ے_۔ 
ین وہ ہم سنری کا اصاس باق خی رہا۔ اس سے را طلب ہے تمی ں کہ سب 
ادیو ں کی ساست ایک ہی سی ہونی چاہجے گر ایک دور کے ادیوں میں ایک تلق 
پکائلت بھی ت ہوتی ہے جو ااشعوری طور پر ایک ایک لفظ کے یہ کا مکرتی ہے۔ 
موضوع نو ہر آدی ڈحوبٹ لیا سے ما دہ اپنے آپ سے اپنے آپ آ جاتے ہیں۔ گن 
الفاظ اور آپنک کی حلاش ایک آدی کے مس کا روگ جھییں۔ اس سے لے تے ایک 
پری ضس لکی ذہنی قوت درکار ہوقی ہےے۔ بدے ے ہوا شاعرھی حض اپنے ل ہوتے 
سی زیا نکو نی زندگی نیس دے کا جب مک ککہ اس ےکم س ےکم لاشعوری طور 
بے دوسروں کی رفاقت کا اصاس مہ ہو۔ برے اد کو چھوڑہجے ۔ محض اوب م ککوئی 
من و سلوپ خی کہ آسان سے تپک پڑے۔ اد بکی زندگیٴے اسی وقت خکن ہ ےکم 
جب کن والین ہی کو میں جگنہ پڑت والوں کو بھی ایپ اور ڈیا و بیانن کے 
مسائل سے بپجھھ نہ یھ وٹبی ہ “کیوککہ پڑھنا بھی ایک لبق قحل ہے اور اوب پیا 
کرنے کے لے دوتو ںگمروہو ںکو اتی اپتی طرح تقلتقی کاو کم بقیرے۔ ار بمیں 
اپنے اد بپکی موت پا زندگی سے ابھی ک ککوٹی علاقہ سے تو کھت سے سے پڑ سنا سیکمتا 


۲۷٤ 


چاہے اور س ہکوگی اڑسی مشکل بات بھی یں ۔ہکوتی رسالہ یا سناب اٹھایے اور صرف 
ایک صفہ مھ ونے کے طور پر لے کے عحض مفظطو ںکی متمہیں ب یکن لیے ادپی تق لکی 
پری تقوب آ پکو نظ رآ جال ۓگی- 

خلا آ ج کل کے اوب میں اقحعال کے استعال ہی کا قصہ ھجت جن اس سے 
لہ یہ تصرحع ضروری ہ ےکہ مس صرف دوسرو ںکو تم رسی رکرتے کی گھر میں نمیں 
ہوں یھ پررا ین ہےکہ میں بھی صرف ای وت اچھ کے کت ہوںٴ جب ووسرے 
بھی اچچھا کہ رہے ہوں ے۔ جنییں ابچھی نرکما جا سے جیے ت لہ خدد اتی گربریں 
پڑھھ کے گشن ہدقی ہے۔ اس کے بعد عام اردو نٹ کے نقالتس کا اساس ہہو تا ہے۔ اگر 
میں اتی نرسے من ہو تھے دوسرو ںکی کگ رکیوں ہہوتے کی تھی ہہ نے عیری خوو 
خریضی ہ ےک مس چاہتا ہوں سب کے سب اچھا ککعن ہک یکو شک ریں امہ می ال نکی 
حنت سے ذارہ اٹا گکوں_ 

افعال کا لہ بھی ایک اور نیاوی صئے کا جو ے- مارے پپرے او پکو 
یحض مسوں میں خزل نے مار رکھا ہے۔ شای ہے مزل بی کا قیضان ہےکہ اردو شاعروں 
اور نثر نگاروں میں تفقیری اصاس آرج کک پدا خیں ہو سگا۔ ہماری بدی سے بدی 
نفنلوں میں (:۴ 0× 0۰76ہی میں ابھرتی۔ اتحا ل کی کب فعلموں یا عا ی کی 
”تمناجبات بیوہ' یا سودا کے ”نشم رآُحوب* میں اس کا تھوڑا بست اساس ہوا ہے گر 
ای چیزو ںکو صعتشحیات مں مجض۔ مر ےک ماریں شاہ برار۔ ۳۷ء کے یعد ہے ہوا یی 
کہ موضوع تی اصل یز ہے ۔ ایک ریہ باج آ جات یس پھراس کے اوپ بین 
جانے میں نیاتھ دہ میں گھی۔ ہم یہ بات آزاد شاعر قکرتے ہے یاوجود خمییں سے سے 
کہ گے اقطع مے ورجخ وجور یں ٢نا‏ ہے۔ بللہ ری" گ یگرا ہکرنی بات ہے۔ 
ادب مس لفظ ىی تریہ ہوتے ہیں۔ نظم ہو یا اضسانہ* تر ےو محض لم مچشنم یا نکر 
سینے سے بات میں شی یہماں موصوع یا ریہ پدری نظم یا اضاتے می ہی حمیں پمہ 
جر جرلفظ اور فقرے میں موجود ہونا جاہیے۔ اگر کت وا لن ےکو اچنے تجریےہ سے گی اور 
تحلبتقیق دی سے تو اس کا وت صرف بی ہ ےکم اس کے القاط اليے ن۔ ہوں جیے 
لاشوں سے گڑھا پاٹ دیا گیا ہو“ لہ فاعلی حیشیت سے کا مک رسہے ہیں۔ جج شاعراور 


م۲" 


وضئی انسان دوقوں کے زین مس ایک بات مشترک ہے۔ مق دوتو ںکو پر ڑجان دار 
نر آتی ہے شاع رکا زین بھی ۸۱۸۸۴17190 ہا ہے۔ چتانچہ جب کک ایک ایک 
لفظ یں جان موجور تہ ہو۔ شاعری سرے سے ہو می میں گمق_ اب اس ”یان" کا 
بھی مطلب سجکھت بچلیں_ ارسطو نے ٹرجیڑی سے لۓ گم لک وکردار سے زیادہ طروری 
ایا ہے' اور ساتھھ بی ساجھ ہہ ھ یکھا ہےککہ آدی اپنے عمل سے بچپانا جات ہے۔ 
خیال سے ئیں۔ ہے جات ٹر جیڈی ہی کیا ساری ہی ششاعری کے لۓے کی پا عمق 
ہےے۔۔۔۔ اور بی عد تک عقلیتی نر کے لے بھی۔ چ اع ے القاظ اور فقروں 
ں صرف جذبات یا اصاسات خی بللہ مل ہو ے۔ یہاں پھر وٹیو ں کی زبان 
مال کا کام دےگی۔ ان لوگوں کا ذبن فاعل اور فنل میں تینکر ہی خی _ وہ چ کو 
صرف ای حد کک یھ ہیں جماں تک اس میں کوتی عمل نظ ر٢‏ ہو چتانچر وحٹیوں 
کے بت سے الفاظط دراصل جملے ہوتے ہیں جن میں فاعل اور نل ایک دوسرے میں 
بوست ہو جاتے ہیں۔ ہہ خصوصیت بست سی قریم زبانوں میں ابھی کک باقی ے۔ لا 
فاری میں ' روم“ حصعنی الس جانا ہوں"۔ اس سے بھی آکہے بڑجے۔ نضیات کے 
ماہرو میم راک کا نظریہ ىی سے ےک زیان یادی اخبار سے نامیاقی حم کے اندروثی 
افعال کا اما رکرتی ہے۔ چھکمہ شاعرانسانی بس کے بیادی سے میادی عتاصرکی آگاہی 
رکتا ہے اس لئے اس کے الفاظ میں جیشہ اسیک اندرونی حکت نظ رآۓ گی۔ اب 
ایک زبان اور ارب کے باج رکا ان سفن غیت لوسا کا خیال ہ ےک شاع مکی ععرت کا 
اندازہ اس بات سے ہوا ہب ےکہ اس تے جو افعال استعال سے ہیں ان میں ہکرت 
کس حد تک موجود ہے ۔کیوککہ ایس اقعال عظیم فطری قوت کا اصاس ولاتے ہیں- 
ا کی مثال یت کے مور بلنہ رسواۓ زانہ نقرے ہیں _٤‏ 


05ص۱۹۷۳۲ 7016 ٣۸××‏ مم ۔ تمہ ١۹۸٣‏ ۰ص ۸۶ص صوح- 


۷۰٥ا2۸ظ ۳۷۳۲۳۲٣۲‏ -ھم۸مہ ےہ 
چنانچہ فینولوسا نے نو یماں کک کمہ دا ہے کہ لفظ ” ہے' استعال ہوا اور شاعری 
غاخب۔ تمہ اس اف اکی قرادانی بدری قوم کے حاتاقی زوا ل کی نثان ے- 


۲۸ 


-٦‏ مکی جےکباں ک ورست یں اور وياىےے بڑوے اروپ ےکماں کک مطابقت 
رھت ہیں۔ اس کی بج کا نے ہہ موقع تھیں- لان ا ال اتیں ورست با نکر ورا 
اپتی زیان اور ایپ کا جائزہ مج اول ت جے ایک ہے پوا ٭ چلا ےک میراتوں 
کے زی وا لے ببھی فی یب پیدا ہی تی کر کت تکی دہ دو غطزی ہقوکوں کے شدیر 
مظاہر سے دور رہے ہؤں۔ وٹیا کا ہر یا اوپ یا ن حتدر سےکتارے پرا ہوا سے یا 
پھاڑوں کے سا میں“ اور بیھہ نہ ہو کم سکم رتا ہی ہو ہم ارد کھت وا نے 
ان سب سے عحروم ہیں۔ تم گر ہم فطر تک یکگرائیوں میں میں ات جھتۃ توم س ےکم 
اضسانی بی کو ہی جیا نککرتے کی صلاحت چ اکر لیت نین اردد شش عٹی کے ایک 
مرسری جائتدے بی سے آ پکو پ پت ہل جاۓ گ اکہ عاری زیان درچہ پررچ ”تق یھان 
دتی پک یگئی ہے۔ میہرکے یماں ایےے اقعال جھ انسانی جم کی ختلف ہکات بیا نکرے 
ہیں ات زیادہ نہ سی جقتے شیک کے یماں ہیں۔ گر پھربھی اتی خاصی تیداد میں 
موجود ہیں۔ الاب کے یماں انقاقیق سے ٹٹجے ہیں۔ غال بکی پور یکوشش یہ رئ یک 

ہے '" کے سوا کوگی اور فنل بی تہ استقدا لکرنا پڑے۔ طال بکو اضل می اس ور نے 

قرا ب کیا کہ تمسق کے مت قریب مں ٢‏ جات اسر" فلتیاد اعپارے ہق 
چاہے فریب ہو * چاہے چتھ اور“ من شاعراس کے فریب مس آہے بقیرشاع میں بین 
کتا۔ غال بکو بھی مجبور ہو کے ب ہکھنا پا تھا ”نی نمیں سے یادہ وذ ساغر کے لئیں* 
شاعری میں معظمت نہ نو وجود ححنل کے اصاس کے مقی ر۳ عق ہے۔ نہ بس کے تتعیل 
شعور سے لقیں لن تق کا شعو رھد رین کے بعد ق ارب کاخزی پچھول رہ جات ے۔ 
لات رک بعد اور الب رمق کے ویانے ہیل ایب کی چخوگکمت :بل وو یھی دی سن 
تل مت ما وی ادن ٗ2 سرن تے ال عیات عق پر جن ہیں 
تن ای نے یڈ فو اف ا اھ اس تق ایخری گر اق چات 
کا اصاس شخ ہوا تو ان لوگوں کے اندر اشیاء کا اصساس بھی سرتے زگاٴ اور قح نے 
صقضت کو موصوف سے ال گکر کے زیان و با نکو پالنل بی کھوکلا یتا دیا۔ چناتچ ان 
لوکو ںکی خٹراڑی ہے جحیی اینٹ پر اینٹ رھت لہ چا رے ہوں اور گارا تدارو۔ ڈرا 
یں گی اد جوا وھ وشن بے ٣‏ رپا ے ارنو اوب کے اخحاق شحف ٢‏ زاب ھاے 


۲ 


۳۷ء کے بعر لوگوں نے ہ ےکوشش ک یک صرف عحض ا موں یا چڑوں کے یاموں 
کی فرس تکو ادب مت اکر یی لیکریں۔ اس ارب مج ایےے اقعال آتے ہیں جو حل 
'ہونے'ک یکیغیت کک ححددد نیس رتےٴ بل ہ کی نکی ح مکی حکت پر بھی ولالت 
کرت ہیں۔ مین ہہ کت مکاکی موتی ہے۔ خامیاتی نھیں' چنانچہ اضانی عمل اور 
فطری قوو ںکو آہیں میں جوڑ ری کا امکان یھ ربھی پیرا خض ہوا۔ اصل مج ے اورپ 
اس بری رح ھن ہو انسا نکی تر مان یکر ہے جو اپنے سوا کسی اور چچ رکو کہ دی 
نمیں سا بسرعال چلے میکاکی کت ت ہمارے ارب میں نظ رہ نے کی تھی۔ یلد 
جن چار سال سے دہ بھی آہست آہستہ غاخب ہوتی جا رىی ہے۔ آرج کل ماری نژاور 
خصوبا قعم پ یس ایک شعل چھایا ہوا ہے۔---۔۔۔ "دنا" اس میں زنگی سے ملق 
مارا پررا رویہ جھکتا ہے۔ متوع اور فطری قومژں سے ہم آ پک عم ل کی سلاحیت ہم 
کھو ٹیہ ہیں* جس ایک اپے وجود کا مل سا اصاس ضرور جات روگیا ہے۔ دی وہ 
کے دن چتا ہے اس یکو ہم ادلی جمو درک کر معطن ہو جاتے ہیں۔ عال اکم بات بست 
دور تک جاتی ے۔ 

نی اب تج کل شائع ہونے دالے اد پکو دیکھتے ایک خزا ی کی صورت تو خور 
ارد کی تقیرمیں مم تی۔ ایک فاری والوں نے ىہ برعت روک یک ع الفاظ 
بوون* او رکردن لگا کے شمل بناتے۔ پھراردو والوں تے اس تار ےکی تظلیر مس 
کابی برتھة ہوئے فاری الفاظط میں 'اکرنا“ یا ہوہوعا*' زگ کے فل پر خ لکڑ سے شروع 
کر ویج اور جھ اعجتھ خماحے لی لفظ موجود تے اتمیں طلاق دی گے تا اور غالب 
کے زان میں ہہ عمل اور بھی زورک ڑگیا۔ اس کے بعد سے و اررو میں بس تکم اقعال 
داشل ہوئۓے ہیں۔ من ہبج کل نو کمال ہے ہوا ہے کہ جم اقعال نز پالل ہی بھول 
تھے میرا انزازہ ہے کہ گ رج کی اخیاروں اور رسالوں مج چپاس الفاظ سے نیادہ _ 
استعال میں میں آتے ۔ کت می ںکہ اردو زیان کی لغت مں جن ہزار الفاظ ہژں۔ 
ان مس سے بجھ عہ ہوتے نے ہزار افعال نے ہوں کے ہی۔ اگر جم لوگ ہر ج کل ؛ن ہزار 
میں سے سو اقحال بھی استعا لکر رہے ہیں نے بھی زرا سوچ کہ ان سو اقعال کے راچ 
م کعتی یاتل کس بت ہیں۔ اپ اگر مارا اوپ تاطاتٌؾ کاخخفار ۓ ہو چاے ٹکیا ہو ؟ 


۲۸۲ 

لگن مز کی جات ہہ ہےةکہ جھ لوگ پیچاس سے زیادہ اقعال پر قزرت تمیں رت ان 

میں سے عحض اس خوش معضی میں بھی جا ہی ںکہ مرا ادرب دنا کے مین اوپ کے 
مقابلہ میں چی کیا جا سکم ہے اور عال مہ ہہ گیا ہ ےکلہ *گرنا یا ”نون کے سوا ججاری 
تربیوں میں تجیسرا تل ور ڈھویڑے سے کت ے۔ 
ا اولی فطل کے سعائیٴ ساىیٴ تضیاقی اسباب جو بھی ہیں وہ تے انی جج لم 
گن آخر ہم کن والوں اور پڑت والوں کا واسطہ سب سے پطلہ الفاظ سے پت ے۔ 
لے انی تو خور سے وھیں۔ اکر ماق سب رکاوٹش وور ہ و گی اور الفاظ پر ماری 
قدرت کا بسی عالم رہا قکیا ہم واقق ارب تخل قکرلیں گے ان عالات میں اگ رکوگی 
آدی بڑی سے بڑبی ادلی صلا میں ل ےک بھی چیا ہوا تو و کون سا بڑا تیر مار نے گا ؟ 
ہارا سب سے پسلا کام فو ہہ ہ ےکہ لقتطو ںکو مخلو بکریں اور ہہ کام ایک پورے اگر 
کے ساتھ ہوا ہے۔ اد بکی تخلیق صرف ادیوں کے ذریع نمی بہوقیٴ اس میں ت 
پڑ ھن والے بھی شرک تکرتے ہیں۔ ادب کا جمود آج دور ہو سا ہے۔ بشرطیگہ جم ان 
چھوئے پچھوٹے کاموں کے لئ تیار ہوں۔ اس میں تو دحوم دھڑکا واتی ہیں سے لان 
اد بکی زندگی ای مج ہے اب دیج کی جات میس بی ہ ےکم ہم او ب کو زندہ بھی 
رکھنا جاہچے ہیں یا تھیں_ 


۶)۳ 


موجورہ اررو ارپ 


حاورو ںکا مل 


کم بنت ارب میں جمماں اور میں متس ہیں وہاں ایک ھگڑا ہہ بھی ہ ےک اس 
کے ایک عض رک بای حناصر سے ال گ کر کے مھت مچاہیں ت بات آدھی بن رہ جاتیق 
ہے یماں وہ ڈاکوں والی یات خی چل ق کہ کوکی مان کے اعراض کا ماہر سے ذکوگی 
ا کفکی بیاریوں کا“ ادب پارہ حناص رکا جموعہ شمیں ہوت۔ یہاں ‏ کل تی اصل چڑزے۔ 
گنن سے اابعخن گنی سے روا تل کے اور اہی ج من جاے ارب ضخن نا 
ارب کا محاطہ تو وتی سے جو اشیاء کا ے۔ 

اشیاء میں لسباتی ہوقی ہے اور چوڑائی بھی گن ایک ہے بی دوصری وجود میں 
نیں آ عمق ارب کے بارے می سوپنے شی تو ىیی امن جیش آتی ہے۔ بھی 
ایک پھلو سے متحل قوکی با ت کہ کے معن بھی نیس ہونے پا کہ پتد چلا یہ 
پلو روسرے پملو سے جڑا ہوا ہے۔ جمی تو ارلی تمقیر کا کام ہوا سے لڑتے کے برابر 
سے۔ 

شلا میں نے یھ دن سے خل چا رکھا ہے کہ مارے اوعو ں کو الفاظ پر قزدرت 
حاصل ہیں اس لئے ہارا سب سے پسلا ام ہہ س ےک الغا طکو مقابھ میں لایں۔ اس 
سید صھھے سادے بیان سے یہ ظاہریہ مہ کا سہ ےکہ ادیب لوگ روز مج اٹ کر تار 
حعہ لفت کا ایک صفقہ رث لمیاککرہیں۔ یا برای کتائیں بڑھ بڑھھ کے اج اجگے لفظوں یىی 


۸۵ 


ایک قرہت فا رکرنیں اور فان گفر جن رو ںیک موق نے موتقع ای ذو ذا حا 
لغ جا ریں۔ اکر یغرض عحال اس طرح ابچھی نثریا نظم کسی بھی جا کے تو ححضش ایک 
افسانہ چچپوات ےکی خا راتا مچنحص فکون پالے گاکہ توراللقا ت کی چار جلدیں ہروقتت 
ند ھے پر اٹھاے پھرے۔ اصل پچض نکی بات تو نہ ہ ےکہ لفط یا وکس طرح رجے 
ہیں اور افطوں پر تاب و کے پانا جانا ہے۔ آخر و ہکیا زی جس نے ایل گی رک 
میں بزار الفاظط دے ویے۔ عالاکمہ جماری ری اردو زیان میں کل سا کے چین 
ہزار الفاظ ہیںٴ اور آ ج کل کے اردو اوعیوں کے پاس ت شاید دو جن ہزار ے تیا ہد 
ہوں گے ےکیا قصہ ے ؟ 

الفاظ اس آدب یکو یاد ہوتے ہیں جو زندہ ہو۔ شی صے زندگی کے عوال اور مظاہر 
سے بجزباتی تعلق ہو اور جو اس تلق سے جککہ یا کھبراۓ ہہیں۔ دیو ںکو چھوڑیے 
حم آپ جیسے عام آ ری روزانہ جو الفاظط ہولج ہیں ان میں جاری پرری جسالی زکنی اور 
بذماآا سوا عھری جع وی ہے ۔کویا چ رآدی دن بجھراپٹی داستان اور چپن سے ےکر 
آچ ‏ کف کی تارق میا نک پ4 ہے۔ ان می سے بست سے لفظ تو ا لیے تجزیا ت کی 
نمائندگ یکرت ہیں جنمیں ہمارے شور نے بھی تو لکر لیا ہے۔ بت ے لفتلوں میں 
دہ تجزیات بی ٹیٹہ رہے ہیں جن سے شعور پچ ہے لان جمییں لاشعور ہمارے اوھ 
ھونتا ہے ۔ دوصری طرف ایے بھی لفظ ہوتے ہیں جمییں ہم حاشظ ہک یگولیا ںکدانے 
سے بعد بھی یادخمیں رکھ کت ۔کی وہ ٴ ان کا تعلق الے ناخوظگوار قزیات ے ہو 
ہے جن سے ہم داٴن بچھڑرانا جات ہیں۔ ہم سکتنے او رس حم کے الفاظ پر متابو عاسصل 
کر ھت ہیں۔ اس کا اتحصار اس بات پر ہے کہ میں زندگی سے رہ ا کتتا سے اور ہم 
خوظگوار اور ناخرشگوار دونوں طرح کے گزیات و لکبرت ےکی ہمت کی رجھتے ہیں۔ ہی 
پان خوشگوار تر بے کو قول کرتے کے گے بھی ہمت چاہے- بقول قرای صاحب 
ضعیلاکھیں مہ بھی حیت کے ع رکئی ہو ں گی“ اس میں بھی نٹی خووی کاکرپ برواشت 
سے یقی مکذارا خی ہونا۔ خود برست آدی نطاط کے تاعل رتا ہے نہ خم کے۔ اھر 
کوتی ھڑ صث کے پائئل اندر بن ہو جاے تو اسے لفتقو ںکی ضرورت ہی تمیں پڑاے 


۸ 
گی۔ کی کہ الفاظ تو اس تلق کا زریہ اظمار ہیں جو مارے اور تارق چچڑوں کے 
درمیان ہوا ہے۔ خدا تے ححخرت ہر مکو سب سے پل چیزوں کے نام سکعاے جے_۔ 
بر الفاط تل اعمار کا ذرییہ ہی خی ہیںٴ ان کے پیجچہ نیہ خواہش کا مکرتی ہ ےک ہم 
دوسروں سے تعلق پداکریں۔ چناج افطو ں کو ابو میں لاتنے کے لے وی کے انور 
دہ یں وی چاگیں- اک زندہ رٌیے اور ندگی سقلظد دی رک ےکی خوائشل۔- 
دوسرے انسانوں سے تعلق رھ کی خواپش* یی رنے تی ہزار الفاظ لت مس 
سے نعل میں سے تھے“ بکلہ چیڑوں اور اتساتو ںکی دا ے تچیں ہزار طرع متائژ ہوا 
تھا کی وگلہ ایک سیرحا ساوا اور بات خور مل سا لفظ ”اور'' استما لکرتے کا مطلب 
ىیہ بے کہ آد ی کی شخصیت میں اتی کیک موجود ہے ےکہ وہ اتی دپ یکو ایک چچزے 
دوصری چت زکک خعف لبر سے اس کے اند رگبراتی ہ ےکک بک وقت دہ چیڑوں کا اعا ‏ کر 
بے۔ بت سے لوک ںکی خصیت مر کے رہ جاتی ہے۔ تذ ای ل ےکہ دہ اپتی روخ 
کی گرائیوں میں سے ” ہاور" کن ےکی ہمت میں رھت میں شاعرانہ میا لہ سے کام 
نمیں نے را ہہ ذرا سا لفظ ”اور کتتا عظیم ہے۔ اس میں تو ایک پور ی کانجات سا 
عق ہے 
اتی چیک سے مقصود میرا یں اتا تھاکہ اریوں کے پاس لف طکم رہ جئھیں ت 
پورے ما شر ےک وکبرا جانا چاہے۔ ىہ تے ایک بست بے سابتی خل لکی علاصت ہے- 
پا عحل لوگ ادب ھی بے مصرف یز سے ہار بیانہ رہیں نان ارب مں ا ن کی 
یس بھی دح زکق ہے۔ ادب میں اغطوں کا ڑا ہو جاے نذ اس کے صاف مق ہہ ہیں 
کہ محاشرے کو زندگی سے وسخ دگجبی جس رتی ما قزیات کو تقو یکرتے کی وت 
میں بڑتی۔ جب ایب عرتے گے و ادیوں ق یکو تی بللہ مارے معاشجر ےک وعۓ 
ققوت بجی جا ہے۔ 
یراب ھی چوڑی یاتتں چھوڑ کے ہہ یھی ںکہ بر کل کے اوب ہیں لفتقوں 
کے قح طکی توحیت کیا ہے۔ کی الال محاورے کا محاطہ مییے ! بحض لوگو ں کی راے ہے 
کہ محادروں کے استعال کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر سید سے ساوح لفظوں _ے 
کام پیل جا نے اس ححلف مس کیوں بٹڑمیں ؟ دد ار لوگ اےے بھی ہیں جھ چاہے ہیں 


۲۸ 


کہ محاورے احتعال ہوں اور اس کی صورت وہ ہے جاتے یں کہ پاتا ارپ پڑھا 
جاقے۔ اگر اس طرح کے حاوروں کا استعال سیکھا جا سکتا ہے ے پچھروہ لقت والا تی 
تی کیا برا ہے ؟ خر ابی اتی را ت اس ععالے میں ھی دسے لیے ہیں۔ کوگی 
ماوروں کو قّو ل کر ہے کوی رو من جھ بات پان کی ہے دہ کوتی یں پرچتا“ 
اعل سوال نو ہے ہےکہ محاور ےب استمال ہوتے ہیں او رکیوں ؟ اور محاوروں میں 
کیا ہے ؟ دہ چمیں بین رکیوں آتے یں ؟ ان سے بیان مم اشاد کیا ہوت ے ؟ 
خاس نظریاتی بت ت جج آتی تیں۔ ایک آدھ مماور ےکو الٹ پل ٹکر رتا 
ہو ںکہ اس ےکیا می لے ہیں۔ سرشار ن ےکمیں ککھا ہے۔-۔۔ چراغ میں مق 
پڑی ادر اس تک بنت نے چادر نی“ اس اہج غاسے طویل گے کا بیرحا ساوا 
مطلب ہہ ہے کہ دہ لڑکی شام ہی سے سو جاتی ہے؛ نو“ جوٴ یا تکم لفتقوں میں اوا ہو 
جاۓ“ اسے زیادہ لفتطوں می ںکیو ںکما جاۓ ؟ اس سے فائمدہ ؟ فائمدہ ہہ ہ ےک بے کا 
اصل مطلب وہ تی جو میں نے میا نکیا ہے بکہ اس سے کمیں زیادہ ہے۔ ”شام 
برا فطرت کا عمل ہے۔ ”جداغ میں عق پ تا" انساو ں کی دنا کا عمل سے جھ ایک 
خطری عحمل کے ساتھ دقرع پڑے ٭] ہے اور ہہ عمل غاصا ہنگامہ ہے جن لوگوں 
نے وہ زانہ دیکھا ہے جب سرسوں کے تل کے برغ بت تھے“ انمیں یاو ہو گا 
جماغ می مق پڑنے کے بعد کی چچل بل جؾی تی انرمرا ہھ چیا اوھریق کے لے 
روی ڈموتڑھی جا ددی ہے۔ روئی مل گئی ت جلدی میں خی ھیک طرح میں بی جا 
ری ۔ بھی بست موٹی ہنی بھی بت بگی۔ دوسری طرف ہے بدی بسن کے پاکتر سے 
ردگی بین رہے ہیں۔ بسی دق تکھاتا کے کا ہے۔ بے پر روٹی نظرتیں ؟ ری روث 
پچانے والی انگ چلا ری ہے دشر وخیرو۔ ” چراغ می مق بڑتے* کے صن محض ہے 
می ںککہ شام ہوگئی۔ اس فقرے کے سان اخائی زندگی کا ایک برا متظرسا سے ۳٣‏ 
ہے۔ اس محاورے میں خطی تکی زندگی اور انسائی زندگ یکل م لکر ایک ہ ھگئی ہے۔ 
لہ شام کے اندجیرے اور خاٹے پہ انسان ں کی زندگی کی ہبی غالب کی ہے۔ 
سرار نے ہہ می ںکماکہ سورح خروب ہوتے بی سو جانا صحت کے لئے مر ہے_ 
اشییں 2 اس پر شب ہوا ہےکہ ایس دقت جج بک کے پچجموئے بے سب ایک گی 


م۸۸ 

جع ہوں اور اتی پل بل ہجو رتی ہوٴ ایک آدی سب سے عتہ مو ڑکر الک جا لیٹ_ 
اش اعتزراض ہہ ہ ےکم سوتے والی نے انخای زندگی سے بے تلق کییے برتی ؟ پھر 
”'چادر انا" بھی سو جانے سے ملف تر ہے۔ اس میں ایک اتایٹ کا اضاس ے۔ 
یی آدی زندگی کی سرکرمیوں سے جک جانے کے بعد ایک شعوری فل سے ورے 
اپنے آ پ کو دوسروں سے ال کک کے چادر کے سنج بناہ تا ہے۔ سرشار نے محضش 
ایک واقمد خی یا ن کیا۔ بگمہ عام اضماتوں کے رز عمل کا تقاضا دکھایا ہے۔ اس 
انفراری فل کے کیہ سے اجخائی زندگی جھاک رہی ہے۔ محادروں کے زرہیع ہیں خر 
اور یش منطظرایک دو سرے میں پوست ہو جئے ہیں- 

اب ایک ضرب الل نے ”مکی کے بھاکوں چیا ٹرتا۔' اس میں ایک عموی 
تور ایک اص واتے کی شعل میں یل کیا گیا ے۔ ہہ ایک استمارہ ے جو بقل 
ارسطو شاعر ی کی جان ہے ت ایے بھی محاورے اور ضرب الاعثال ہوقی ہیں جو حقل 
مان سے آگے بد کے شاعری بن جاقی ہیں۔ پھر مندرجہ بالا نقرے می ںگریلو زندگی 
کے کی پلو نظ رآتے ہیں۔ خاص طور سے لتض جانورو ںکو انساتو ںکی زندگی میں جو 
دخل سے ا کی طرف بھی اشارہ “ا ہے 

غرض مادروں میں انتا زندگی کی تقموببیں سار سے نضورات اور متوزاتے“ 
انان ' فطرت اور کائیات کے متحلق سارح کا رو “ہہ سب باتیں جھلکی ہیں محاورے 
صرف خوب صورت فقرے میں“ ہہ نو اجخائی گرب کے ککڑے ہیں۔ جن میں حرج 
کی برری شخصیت می ے- ماورہ استعا لکرتے کا فائدہ یہ ہب ےکلہ اس کے ذرسجے 
انفاری گرب کو اجخای تجرہے کے میں مر میں ریکھا جا کا ہے۔ محاورہ قر کو 
محاشرے میں تھا و ہے۔ تخحیص میں تم اور تمہ میں تخمیص پراکر ے۔ 
تاؤور این جانا سب الہ خرن کے ایا مخز ےک اج کے روضر سے زین سےت ز سک 
گرب ےک سا کے تجرہبے سے الک می ںکیا جا سکتا۔ محادرہ جز ھکو خالی جزو جمیں رتے 
ریاٴ اسے کل میں ژبون ے۔۔۔۔۔ میں زنرگی کی بیچوگیاں اور رگا رگ یاد ولاتا 
ہے۔ اس کے ذریے مخلف جات کا تضاد اور تقاطل نظ رکے سا سے ٢‏ ہے۔ چوکلہ 
عحاودہ فک و نچ کے پھر اجخائی زندگی جس وائیں نے ٢‏ ہے اس لئ ای وقتت 


۲۸۹ 

استعال ہو سے جب فرد اپے محاشرے سے تعلق برتقرار رکھنا چاہے۔ لج حاورہ 
ایک عروط اود متقبط معاشر ےکی پیدادار ہے جب قرد اپنے محاشرے سے مچھز 
جا اور وہ دوبارہ محاشرے میں کل مل جات کی خواہش بھی نہ رکتا ہو ق پھرنہ ت 

محاورے استعال ہو ھت یں نہ ا نکی ضرورت باق رہق ے- 7 
اردد شاعری میں محاوروں سے ایختاب سب سے پل میں عالب کے یہاں نظر 
٦ا‏ ہے۔ کیوکلہ ان کی خوایش تو ہہ خی کہ عرش سے بے وت کان کہ مکاں 
اپنا۔' آسمان سے بر ےکوی مطلق اور جرر گزیہ ہوت ہو تر ہو ہو انمائوں کا اتای 
ریہ شی ہوت۔ اس دنا مج تو فرد اپے تجرہےہ ہی کو ایک مطلق چ ز سجھہ سکم ے> 
اسے ادروں کے شرب سے اپے گرب کا مقالل ہکرت ےکی ضرورت میں یل آتی۔ ت 
رطااب محاورےکیوں استا لِکرتے ؟ اگر طالب کے خطوط موجوو تہ ہوتے ‏ ڑ بھیں 
ا نکی خصیت بڑی پچھوٹی او رھٹی ہوگی نظ رآتی۔ غال بکی غخزل میں ا نکی مخت 
کی عطظمت چاہے آکئی ہو وسعت خمیں آتے پاقی* غالب کو دد چیزوں نے مارا۔ ایک تز 
اپۓے آپ کے دوضرے اناتوں ے الگ رھت کی خرانش؟ ووسرے فلستیاد بانٹل 
مگھارتے کا خوتی_ مم تمام علقہ دام خیال ہے" ...سس یہ بات اپ لہ ورست 
سی "مگ سا ال بھی ای دفت پیدا ہوا ہ ےکہ جب ٹھوس پیزوں پر نظ رہو۔ ارسلو 
ن ےکا ہےسکہ نوجوان لوگ فی میں ین سن کیوکلہ ا ن کی اصول ساڑی اور خیال 
آراتی کے چیہ خصوصی جیا تکی تعداد بس تکم ہوتی ہے۔ اس اعقبار سے غالب اپ 
گلری زندکی میں جیشہ لڑتے ہی رہے۔ جماں کک مفکر ہوتے کا تعلق سے ال بک ر کے 
گور کے کن کک بھی میس پمو نف مجا نکر ک گور کا زیردست اتیاز بھی ہے کہ 
اس کا ہرخیال انفوادی ما اجخقائی زندی کے کی ع کی ھوس ججربے سے کت ہے۔ 
رعال غاب نے ایک ایمے دحا نکی ماحندک یکر رہے تے جھ ہمارے محاششرے مس پیا 
* چنکا تھا۔ میننی قرد کے دل میں ساح سے الک وت کی خواہش جب قر دی زنگی 
پرانے ایخائی مناسیات سے واقق انگ ہ گی تو از خ بزری وغیر: کا ارب ساتے آیا- 
ان لوگوں کا عقیدہ تھاکہ ادیب کے جزیات عام انساتوں کے قزیات سے الگ اور 
عمالیاتی توعیت سے ہوتے ہیں اور اوىیپ تصورات کی دنا بش رتا ے- فاری اور 


و 
عرلی سے الفا ط کی تعداد زیادہ ہو جانے کے بی صمق ہیں ان ویو ںکو تو بی منظور تھا 
/۔ اپینے قثزیات کا اخنصاص اور بدرت دوکھائھیں اور اجخائی تجزیات کا سابیہ کک اچے 
بے عہ پپانے پائے۔ چتاجچہ عحاورے اسی لے تک سے سے الہ انتا ی زندگی بن 
ۓے ممما نکی طرح ن ہرگ پڑے۔ 

رہ ۳۷ء کے بعد والے اویب ت عقیرے کے اعتیار سے تو دہ اجخمائی زندگی کے 
نل تھے گر خاندانٴ مہب وخیرہ ابی اداروں پر قین نہ رکھت تھے لی وہ موجووہ 
ابی زندگ یکو ردکر کے اپنا تعلق ایک ہمندہ اور خی لی اجتقائی زندگی استوا رکرنا چاے 
تھے پھر ووسری طرف کی طر حکی انخائی زندگی سے اتی وتباقی علاقۃ ‏ تھا 
..۔۔ اس کے مشاہر ےکی خوایش ضردر می (یماں میس ایک عام رحمان کا وک مکر دہ 
ہوں۔ انفراری حیثیت سے اح علیٴ“ عصصت چتتاتیٴ انظار ین وغیرہ مں زندگی ‏ ے 
حبت نظ رآتی ہے) جو لوگ اہتائی زندگی سے اس بری طر حعکٹ مۓے ہوں وہ ای 
چاہیں بھی تر ماورے استعال می ںکر ھت ۔کیوکلہ انجخائی زندگی ا نکی شخصیت میں 
اس طبح جذب می خی ہوگیٴ یسے سار“ نز ام اور راشد ا یی میں رس بس 
گی تھی مہ لوگ ”تراغ میں مق بڑی "کہ می خمیں ھت کی دک شام کے تقصور کے 
ساججھ ان سے زین میں ایتامی زندگی کا کوکی عمنظرتیں ایخ را ہہ تو ”نچادر انتا“ بھی 
می ںہ نے ۔ک یکلہ ایس انمانوں کے چھوئے سے بچھوے فعل ے دہ دی جیں 
جھ سرشا رکو تھی مہ لوگ نے ای مہ محض سوا کھییں ہے تن ایا لف استعال 

کرریں کے جو ایک جسمانی فل نے ضرور وکھدا گر انسانی مناسیات سے خالی ہو۔ 
تق محاورے کا مطہ حض اوٹی لہ یں بللہ اری پدری انفراری اور اتا 
زندگی کا معلہ ہے۔ ہمارے ون میں مماورے اس وقت ہیں گے جب ہم اتا 
زعدکی سے ہہ ماتی تعلق رھت ہوں اور ا محاشرے کو تو لکریں۔ ممحاورے 3 
اجقائی زنر لکی رح شاعری می امائی زندگی کے (85 ۸۸۴7 ہوں۔ جب کک ہیں 
اتی زندگی میں شاعری نظ رآ ےکی ہم حاورے بھی استعال خی ںکر جھیں ے_ 
کیوککہ سای میں متظریدل چا ہے اور ان کے ذریج ہمارے زین می ںکوگی اضوے 
میں ابھرتی۔ زندگی کی شجھییں رل جاتیں ت عحاورے بھی سے جنے چائگییں۔ مجن 


۲۹) 


غحقضب تو بی ہوا ےک سے محادرو ں کی چیدائش بالنل رک گئی ے- اس کا مطلب 
ہہ ہ ےکلہ میں اہتی زندگی سے تقلیتقق دیبی اد رگا جذباقی تعلق ماق ض۹یں رپاٴ وومرے 
عاری زندی اجزا ہش ب ثکئی ہے۔ کل کا اصاس خائب ب گیا ہے۔ جم ان تقجزیات 
کو ایک ووصرے میں ھا اکر ایک نمی جتا جچت۔ اسی لئے ہمارا زہن سے محاورے 
ایجاد خی ںکرتا۔ زین میں ہے صلاحیت ‏ ای وقت آلی ہے جب قرر اور معارے میں 
سا ربڑ ہھ۔ جان بوچ ھکر محاوروں کی لن ڈوری لگا ربیے کا مطلب اس سے زیادہ کے 
خی ںکہ مہ ایک نی رب چی اکر ن ےک یکوشش ہے محاورے اىی وقت ابو میں ہیں 
ے جب ادیو ںکو می خی بلمہ مارے معاشرے کے سب افرا کو اجتائی زندگی میں 
ڈوب جات ےکی گن ہو“ اور بنۓ ہماوزے ا وقت پیا مول گے چپ قرو اور بقاعت 


کا رط اتاگمرا ہوک میں اس دب کی موجووی کا خیال بھی نہ آے- 


کن روح سک پارے من 


٦ء‏ کے بعد سے اردو ارب میں جو حبدٹی ہوگی ہے۔ اس کے بارے میں دع ودے 
تر بے بوے سے صھے ہیں لن سے حبدٹلی نی الاصل جرب ےکی شی وریہ اظما ری 
تں۔ فاہرٹن الاب یا برنے جوےۓ خو رظ ۶ے وں* انی خزقَ گل 
بے بادری' کا ہے مض ساسی اور حا شی عوائل نے نوجوافوں کے اندر چتھ جذبالی 
یں پداکرر دی تھیں۔ ہہ جذباتی یجان اع مار چابتا تھا۔ لن وجوان ایک طرف 3 
اردو نٹ کے ملف اسالیب سے ابچھی طرح باخ رخمیں سے دوصری طرف عام لوگو ںکی 
زندہ زبان سے ان کا رش خطع ہو چکا تھا۔ بی جات تو یہ ےہ اس یق یکوگی 
زبان خی نہ حیٴنہ اگگریزی ۓ ارووٴ جو زبان ہہ طبقہ استعا لکر کا تھا اسے وسویں 
گلا سکی اگرہ یماب کا سیرحا سادا اررو 7ھ گھا چاہجے۔ ضس مں غاری چوں 
یا راخ یکیفیا ت کی خصوصی صفات اور اتیا زکرت ےکی منیائش نہ تی بیادی طور سے 
زبان تھی جس کے زذریے نوجوانیں نے اپچے تر ےکی تحکی یرم جچاہی۔ مخمی 
ارب سے اضموں نے تی اش لہ دو باتیں کیھیں' ایک تو جذیا ت کی آمیزش کے یتر 
غخارتی چو ں کی گن قگنوایاٴ مھ اکھے مج ںکو نکون سی یں رکھی تھجیں۔ افضمانے کے 
اشنا کا یا سکیا تھا ویر وشیرو- دوسرے طلازمہ خیال کا اصول۔ ہے دو عرا اصول 
جس رح بر امگیا اس میں ہہ ضرورت پیش حیں آ یکمہ اردو نج ںکوگی جدٹی کا 


1۲ 


جاے۔ میس ایک خال یا ایک تقوب کا سلسلہ دوسرے خال یا تقسوبہ سے ملاتے چلہ 
جمے۔ الب پہلا اصول برے مج ذرا دشواری ہچ آگ- ماری پان نڑیں غاریق 
چیزوں کا ان تر تا ہے ۔ گر قرست کے طریییقہ سے کسی کی نو عیت یا غاصیت جتاتنے 
کی ضرورت میں بھی جاتی۔ موا اسم سے چچلے بس ایک صفاقی لفظ یا فقرہ ہو ہے 
اگمریزی میں ہہ چچیزعام سہ ےککہ اگر مہ زکا وک آگیا تق ساجھ ساتھ ہہ بھی ایا جا ےکم میبز 
کون سی کلڑی کی تھی۔ شول کسی شی رس کہکیا تھا “کوگی حصہ ٹو ٹگمیا سے نز اس کا 
بیان بھی اسی لہ مس ائل ہو گا اب اردو ارب مس بی صلاحیت چ انی ج یک 
ایک چنز سے معحل قب کی صفاقی کے ایک ہی جنے کے ار ۲ کییں_ ٣۳ء‏ کے بعر 
والے نثرگاروں نے بیان کے صرف ایک میلےہ سے ایعنک یکوسش شکی ہے_ ہہ لد 
پل ماساں سے ت حے کے مہ میں یش آیا تھا۔ ان رنوں اس تم کے ام جن 
کا فنقی ترجمہ بت اگوا رگم را تھا بسرحال آہستت آہست لوگو ںکو ا سک عاوت پڑگئی- 
جماں کک میں مبججہ سکتا ہوںٴ نٹ رکا ہہ محلہ ابھی کک خاطرخواہ طور بر عل شی ہو 
سکا۔ اس من می دو ہیں وی ہیں یا نے عفاتی ککما کو اسم سے دور بٹاکر خی 
ےکی ضل دے دی جاتی ہے۔ مجن تقوب کے ہ رککڑے کو ایک رو خررے ے :انگ 
کر یا جاجا ہے اور آپ اصل چچزکو اس کے اجزاءم سیت ایک نظرمیں ہیں دک 
ھت ہرجز لہ الگ انگ نظ رآ ہے۔ اس کے بعد پڑ ھن والے کا دباغ ان گگڑوں 
کو آلین میں جوڑ تا ہے۔ ابزا کل سے اندر دکھاگی میں دی لہ اخجزاع کے مجمورے 
سے آبس آہس پدری شحل شخق ہے۔ دوسری تکیب ہہ ہ ےکہ اس طرع کا جملہ کے 
دا جیسے اگریزی میں ککھا جانا۔ ىہ بات اب بی ںکڑحب ممیں معلوم ہوگی۔ کیوکلہ 
در سولہ سال کے عرحے مس جم ماتوس ہو لے ہیں ۔گھمراس کا ہہ مطلب خمیں سے 
کہ معلہ عل ہو ہگا۔ البع کام چچل جا ے۔ 

ت ہم لوکوں نے اتی ابی ترروں میں نر کے صرف ایک کم_ے لے کو تلیمکیا تھا 
لین اسے بھی شعوری طور پر ع لکمرت ےکی کوسشش می ںکی۔ اس کے علادہ اور جھ 
مساتل ہو ھن تے۔ ا نکی طرف تر غیرشعوری طور پر بھی کوئی مجر میں ہوگی- 


۲۲ 
ہمارے اوعب تو اس ائل سے ککھص رہے ہیں۔ بات ہہ ہے کہ مارے ادیو ںکو یا تو 
تم دوراں تا رہتا سے یا شم جاناں ان دوفوں کے مق ہیں اپنے جذات کا تم اہے 
ش نکی کر انیوں تے بھی خی ںکی۔ مارے اوییوں نے اچ آ پ کو ضاس یا تک یا 
رم دل انسان غابیتککرنے کی کوشش ت بس ت کی ہے نیشن اچھا کھت والا ین کی 
ضرورت تھی محسوس شی ںکیٴ مارے ادیب جذیات کے ذریے کھت و ں* الذاد کے 
رج میں ان کے لے الفاظہ تو ہس تالیو ںکی رح ہیں جن میں جذبات جتے چلہ 
جات ہیں۔ الہ ایک عصمت چختاتی ای ہیں جو بھی بھی تیب ہکو الفاد کی شحل ہیں 
مس ں کر عق ہیں اور جے کے ذرىیت جرب ےکی تحریف یکر ححق ہیں۔ پچجلہ چار 
پاچ سال کے دوران میں منو نے لح اوتمات الفاط کو گر کی تخت کا وریہ بنایا 
ہے۔ یا چھرعزی: اج نے صرف ایک جلہ یق ور بخ میں توف کی اصسطلاعوں 
کے ذریے جرب ےکی مفسوص فوعیت میا نکی ہےٴ اور جاندی طور پر ان سے طٹرکا کام 
بھی لیا ہے۔ برعال ق امہ نے ادیوں تے وسائل ات مار یا خ کے مساکل کا مطالحہ 
تی ںکیا۔ 
اول 2 ہم اپنے ادیو ںکی رہ میں صرف جذیہ دیکھت ہیں “نکی حیثیت سے بھی 
خور میں کرت ۔کی اودی ب کی نخریف اس اط سے حا یہ ہوتی ہ ےکہ ا کی نر 
میں بڑی 'تسلاست' اور ”روای" ہے سے خولی عام طور سے صاف سیرحھے ایک 
”ردائی' کک محدد دک دینا بی غلط ہے آخ اپےے جرب بھی ہوتے ہیں جن کے اظمار 
روا سے جریہ ضحغ ہو کے رہ جانا ہے۔ یاکم س ےکم تیب ےکی نامیاتی وعرت 
برقرار شمی درہتی بکہ زی انگ انگ ککڑوں میں یٹ جات ہے۔ پھر روائی "کی تتری 
کرت ہو ہیں سے بھی ت دیچنا ای کہ جرچیزکی روائی بھی ت ایک جی تمیں 
بوتی۔ یوں تو لی جں بھی روائی ہے اور دریائۓ ندم میں تھی۔ لن ووتوں می قرق 
کنا ہے۔ صرف روا یکم رسینے سے کام تی چلتا۔ دیکنے کی بات ہہ ہ ےک کیا چز 
رواں ہچ اور کاب یرے سارے ایتراتی جذیات کی رقآر اور ہو گی- بیر: 
ریا تکی اور۔ بچھرجب خیال ادد جذیہ مل جائے ق اور ان سب سے ایک ہی مم 
کی روانی طل بکرنا تخلیق کا گلا کھوسٹے کے برابر ہے۔ اس کے علادہ ایک یات ہے بھی 


1 


زم نظر رکھتی چا ےک پڑت والوں کا داغ کس توگیت کا ے- جماں نے ن روا 
ہے۔ خحان ےکہ پڑت والوں کا داغ چیچوہ جزبے یا خیا لک :اپ تہ رکتا ہو اور تژ 
کو رواں ہوت ےکی اچازت تی تہ دے۔ وریا کی رواقی کا نمور اس زش یکو جائے اقیرم 
تل بی میں ہو ستتا۔ جماں وہ درا بس را ہے۔ اس حم مکی اصطظاعیں قراوائی _ے 
اور بے اعتقیالی کے ساجھ استعال ہونے کمییں نے حلیقی کاوشو ںکو صدمہ پنچتا ےد 
اصل میں مارے میماں ””رواقی'' کا مطلب ہہ ب ھگیا ےک دماخغع کے اوپر بوچد تہ پڑے 
اور ومرغ قطعق انقتعا لکی حالت میں بھی نس بچجھ نہ بتھ اغ نکر ھےے۔ یا بیو ں سک کہ 
اح تل رے اور جزت حتاث ہوتے رہیں۔ مع ےک ماریں شاہ عرار۔ ایک 3 
ہمارے اوییو ںکی عخلیقیق کاوش میں ویے ہی اش حلال پا ٭ چا ے۔ اوپرے نقاروں 
نے مہم الفاطد مسحم ری سے استعا لک رک کلت والوں اور پڑت والوں ووتو ںکو 
ای نکی چاٹ لگا دی سے جس میں دا غک یکم ےکم ضرورت پیش آئے اور زک نکو 
انگ رکہ کے او پککھا اور بڑھا جا گجے۔ 

بسی عال چموئے چھوئے جملوں کا ہے۔ اس خوبیکی اتی نحریف بھی سل انگاری 
کا تہ ہے۔ دح چھوٹا جملہ بذات خود ایک ادی خولی کے می نکیا۔ مز ےکی بات 
ىہ ہ ےکم شماوت کے طور بر اگگریزی کے یدید مصقفو ںکی شال چپی ںکی جاتی ہے۔ اگر 
ہہ یات ورست بھی تل مک کی جاے تو بھی بسرحال اگھریزی کے اویوں نے چھوے 
جم کو شعوری طور سے اخا بکیا ہے ان کے بیماں بدے سے بوے ےل کی جن 
سو سالہ روایت موجوو شی اگر وہ چھوٹا جملہ یں نڑ اس کا مطلب ہے ےکلہ وہ 
اسلوب کاکوتی خاص تزہ کر رہے ہیں ین جئ کیا نما ےکی اد رکیا چو ڑےگی۔ 
مارے یمان ارت و ازدو بدا لہ پوافازسی خن بھی ین حتاف نے لیک ےک لحش 
فاری گاروں نے حین حین من لیا جملہ ککھھا مارا ہے۔ مجن ایک ہی _ مکی چچڑوں ىا 
مطالیا تکی خرس بنا کے رکھ وی ےکو جوا جملہ خی کتتے۔ اگمر اس قررس تکو چچھوٹاکر 
دا جا یا بڑھا وا جات تو بھی مکی ساخت یا نامیاقی کیب مم ںکوقی قرق خیں 
پڑنا۔ جیادی طور سے وہ رجا سے چھوٹا خی لہ کم س ےکم اردو میں ت یوے گے کا 
مطل ب بجی ھا جی تھی ںگیا۔ نہ کی اس کی ضرورت وس ہولی چتاتچہ مارے 


5ف 

یماں چھوٹا جملہ لع اکوئی خولی نیس بکمہ مجیوری ہے 

زا ماری خ کا سب سے پسلا صلہ بی ےک بدا اور چرم جملہ کے ککما 
جاے۔ ہوا جملہ میں تے اس وچ سے کمہ وی اک ہکوگی موزوں اصطارع اس وقت جے 
میں سوبھحی۔ وریہ جیا عطلب ححض جملے کی طوالت سے میں ہے *اور*- +اگر 
گر لیکن وغیرہ لگا کے جملو ں کو جوڑتے لہ جانے سے بوا جملہ میں بخنا* جملوں کا 
جموعہ ضرور بین سکس ہے۔ بوے لے میں ایک تقیری اصاس ہوتا جاہے۔ جزدی فقروں 
کا آلیں میں ایک جاماقی رشن اور ایک گہ موی جچایے۔ بدا جملہ تو وہ سے جس کی 
نشور نما اپینے اندر سے ہو محضل اور اور کے کھڑو ں کو ایک چیہ تع :کر ویا گیا 
ہو۔ بوے جیملے کا ایک مضرف یہ ےک کی خیال کے ملف پہلو نیک وق یی سے 
جاتہیں۔ اول ق اس ع مکی ضرورت جمارے کھت والو ںکو پیش بی نہیں آتی مین اگر 
کھییں سے اس طرح کاکوئی خیال تحار لیا ما تجح کیا نے ”اور“ یا دعئیین بج ے 
لے کو وو حصوں میں تی مکر ریا ین ساجھھ بی ساتتھ خیال بھی وو حصوں میں یٹ 
جاما ہے۔ بجلکہ الیک خیال کے دو من جاتے ہیں۔ جن مس سے ایک پل یا دو مرا بجر 
مس یا دوسرا خیال لہ خیا ل کی نزخم کے طور پر آیا۔ سہ وہنی عمل اس مل سے 
بالنل منفف ہے جس میں خیال کے کی پہلو ایک ساتہ نظر کے ساسے آتے ہیں۔ یا 
خال اتی یچدکیوں سیت ایک ساتھ پرا ہو. سے اور نس کا اظمار بھی اس طرح 
ہونا چا ےکہ یہ نوحیت برقرار رہے۔ اصل میں حیقت بھی ہہ ےسک ابھی ہم نے 
سوچنا بی میں ککھا۔ ہمارا ذہنی عل بچوں کا سا ہے۔ ج کسی خیا ل کو صرف کلڑے 
از ےکر کے بیز ب کر متا ہے۔ ظاہر ہے کہ جمارے یمان یدے جنل گی طرورت 
حسوس بی میں ہو عمق ی_ 

تی رخیا لکو چھو ڑج محض نصومریں بی لکرتے کا محاطہ م"ییئے۔ ہوے ج لے کا ایک 
اور مصرف یہ ےکلہ کسی چت کابیان اس طرح ہب ھکہ اس کے اتنام او ر کل اگ الگ 
میں کہ یک وقت نظ رآ گھیں۔ ہہ صلاحت بھی جماری نٹرمیں ابھی کک میں آئی۔ 
تریمو ںکی حرد سے ار ی خثرتے کسی ہن کی جزویٴ تقعیلا تکی قرست تر بنانا سیگ لیا 
ہے لین ان تقعجعیدا کو ایک کل ود تکی شحل وین اسے تمیں آیا۔ وہ رج کل 


4و 


اور بڑو ووتول کا اعاطہ, بیک وق کر تے_ عارے پاس ہے ہی تیں- مارے یہاں 
بیاعیہ نث رکا مطلب ہے ایک پچاند۔ ایک چننز سے اکلہ ت3 ددسری پہ آ رہے۔ وہاں رے 
پل تو قسری یہ بکلہ ہیں نکی چچ کو سر کے دنا بھی خمیں آیا۔ ماری ترچڑوں 
کے اشراتی میان پر تمادر شھیں۔ بی دیکھت تاکہ اس کے ساتھھ دو سے زیاوہ عقتوں کا 
استمال ہمارے قوق پ گرا گرا ہے۔ ہہارے زہ نکی ایک ساخت ای سے ظاہر 
ہ ےکہ ہار ی قواعد میں عھو] صحق کو ایک تزیدی زج بکہ ٹھوس چچ کھت یں۔ 
لیکن دوسرا مطلب ہہ ہےکہ جم صقت اور موصو فکو انگ تی ںکر ھت لیتق جس 
طرح وسیو ںکی زیان مس ”'لال چڑیا" کے لے تے ایک لفظ ہوا ہے۔ گر ھعوال* سے 
لن ےکوتی لفظ میں ہوا ۔ جب کک صضت کو موصوف سے او کرت ےکی طات زین 
یس شہ آئے اس وقت کک علبقی نیل پدری قوت کے ساھھ عم می کر سکتا۔ لچ 
اختانات میس عمائ مت خی ڈہویڑ سکتا۔ اس معالے میں ہیں خمزل نے حراب کیا 
ہے۔ اگر شاعری عحضس علاسوں پر موقوف ہو کے رہ جائے قز پھر چڑوں کا براہ راس 
اور صیاقی ٹر عاص ل کرت ےکی ضرورت تیں رتی۔ نز لکی شاعری مارے ذبتوں پے 
ائسی غالب ری ےکم ہم چو ںکو نہیں دہ ے۔ ہزیں علایں بین جائیں نے پھر 
چیزیں نی ماق رہ اور مہ ہمارے حواس خ کو انی طرف جؾ ہیں۔ چتاتچہ اروو 
نرمیں چینوں کے صیاقی ادرا کفکی صلاحت ابھی کک چدا ہی میں ہوگی۔ ماری نڑ 
چیزوں کے نام ن نوا عق ہے “مر اجس ایک انقرادی وجوو اور خصحیت عطا تی ںکر 
عحق۔ جب اردد نثرایک چچھوٹا سا صیاتی تا بی یکرتے میں ڈگمگا جاتی ہو تز پچھرایک 
چیدہ تقوب چٹ قکرنا اور اس کے لے ایک بییوہ بملہ بتانا ‏ دو رکی بات ے۔ 

نث کو صرف بیان کا وسیلہ نمی بلہ عقلیتقی عل مانا جاے تو اس میں استتاروں کے 
بی رکام نمی چتا۔ لن ہمارے یماں شرع سے روای* سلاست اور عقاقی پر اتا زور 
ایا ہے کہ صن وائنے ہر کل اور دہ تلق عمل سے گمراتے ہیں_ حضش 
وضاحت کی خاطر تشبیسیں ت ہاری نٹ میں اکٹ استعال ہوئی ہیں۔ مین ملق 
اسنتحاروں کی مال بڑی کاوش کے بعد پاجہ آتی ںگی۔ مزل کی علامتوں وا ی خشاعری 
نے بیہماں پھر ہمارے تح لکو ححدد دکر دیا ہے۔ جمارے استتتارے ھو] ایک لق کے 


۲/۸ 


ہوتے ہیں۔ خزل میں کی بی چوڑی نوم کو استعارہ بنانا خکن بھی میں تھا ٴکیوکلہ وو 
معرعوں میں سارا مطلب اداکرنا ےسا ہے چتاجچہ ہعاری نٹرتے بھی ہہ بات جمیں تھی 
ک ہکوگی دہ نقسوم ایک حثیت بھی رکھتی ہو اور ساج بی ساج استتتارہ بجی ہو_ 
قصہ ہہ ہ ےکہ ہماری ن عو تثرچع و نوع دالی ذجنیت رکق ہے ملق زنیت تیں- 
ای لے مارے نرنگاروں سے نر یکوگی خولی سلسل برترار *ھیں ری چا سق_ اروو 
کے بے سے بڑے نرنگا رکو نے لیت ایک برا صفہ آپ ایا ممیں ثکال کت جس 
می عیب شری موجودسہ ہوں اور رچچتھ نہ ہو گا نر میان مج ڑحیا پن آ جاۓ گا_۔ 
ھلوں کا ربیل ٹوٹ جا گاٴ بجھرتی کے لفظ اور فضرے ؟ جانیں گے خرض جمارے اچ جھ 
سے انھے نثرنگار کا سانس بے بی میں ٹوٹ جا ہے اور بچارا تھوڑی دے پاچ کے پور 
پھ رآ کے بڑہتا ہے۔ بیہاں ت کفکہ روائی“ سلاست اور عفاتی کی خییاں کک دی پچدرہ 
سطروں سے گے میں پئیں۔ پچ میں سلسلہ ٹویٹ جا سے تو جمارے کھت والوں کی 
سب سے بڑی خابی شروع سے ہہ ری ہ ےکہ ان کا زجنی عمل چا ہے سی تم کا بھی 
ہو یسرحعال اس میں تتلسل خی ہو ا۔ مس رہ رہ کے کٹ سی ہچکق ہے“ اورپ رطانب 
ہو جاتی ہے قصہ ہہ ےہ ہماری نٹراےے زہانے میں پدا ہوگی ج بکوگی بڑی زکنی 
یں ارے عحاھرۓ خیں مج جمییں تی اور ۓ آرج تک پوا ہوی۔ وں 
ہہونےکو سیائیٴ محاششرتی ما خربی تریھیں ساس آتی ری ہوںٴ لن مرا مطلب اس 
تع مکی ذہنی ترک سے ہے جو خود زین پہ و رکرے۔ اس کے لقی ہو یکو سوچنا میں 
7ا اور سکسل اور عربوط گل رکی صلاحیت کے بی نربھی تر جمیںکرہپکی۔ شع الد 
کا جا کا ہے وی بھی دی نو مشرق میں ن رشع کے براب ھی جھیں بجیچ ھی اس 
کی ایک وجہ یہ بھی ہو عمق ےکم مشرق جز میں کل او رکل میں جز دیکھتہ کا ہے طرح 
عادی ہے۔ نیس جمز او رککل دوفوں پر ایک ہی تجہ صر فکمت پڑلی ے اور جب اچڑا 
کا بچھیلائے سو وو سو صئے ہو نے جزو اور کل کا تعلق ام رت کے لے بڑی ہنی قوت 
درکار ہے۔ اس لے آسان تکیب ہہ ہ ےکہ اججزاکھ اپنی اپنی مہ ین ما دیا جاے- 
جتزو میں کل ٹف بی آۓ گا۔ 

چنانچہ ہماری نٹرکا ہہ حول مال غالتا ای بغیادی نمور کا تخجہ ہے پھرآیک اور 


اہی 


بات بھی ہو می ہے۔ مر قکی نوجہ کا مرک ہے موجود ح* مضررب وججود میں ہآتے کے 
جح لک دککتا ہے۔ ای لج مخری نشرکے لے نے ذرا ذرا سی تتصیل اہم ہ کیو کہ اگر 
ج ڑکیا کل را میں ہو سے گا مثرقی نٹرکے ساب سے کل و بصرحال موجود 
ہے اور موجود رہے گا۔ ج زجگڑ جا گا نگڑ جاہے۔ کل کا حسن ون مطلق میں واپہے 
ود سالم ہے۔ مہ نقطہ نظمرہاری رگ و پے میں اس طح جن گیا ہےککہ مخربی ان سے 
شا کے بی ابھی کک میں تیا۔ 

ہتاری نی ایک اور خائی شریع سے ےکر تچ کک شی کی وی موجود 
ہے۔ جذبے او ریا لکو ایک دومرے م وت یا خیا لک پڈے اور زی کو خال 
یس تی یکنا ہماری نٹرکی طاقت سے باہررہا ہے۔ خیا ل کی خثر و رحقیقت جارے 
یما ںکبھی پیدا ہی میں ہوی۔ ابداللام آزاد اور خاز در یکی نبھی خیال حل کی 
نہیں بکلہ اچنے جذبات کے بارے میں کوقی مہ کوی خیال پیداکرنے کی کوشل 
ہے۔ ہماری نظرق نی ایملہ یا میا نکی نتڑری ہے یا جذکیٴ اور جیفی بھی دہ جن 
سے لوگ اتی طرح واقف ہہوں اور شے را پہچان لں۔۔۔۔۔ بیادی بباوں ے 
اما رکی نہیں بکلہ فعقط ابترائی جذبات کے مہ میں بھی ہماری نشمحض بیان ے 
ات میں یت درحیقت ہیں ان ایتزائی چذیات کا تجڑیے کرنا کک خیں 0۲۔ 
کیوککہ ہے میں عجلی اور کگری حناص رکی شمولیت لازی ے۔ لاض اقمانہ نگاروں 
نے ابی تجز ےکی تھوڑی بس تکوشش کی لین نقادوں تے اور ان کے ژ ٴا 
پڑ نے والوں نے امیس گے لے خی دا۔ جماں افسانہ مار جذیات کے بیان ے ہٹا 
اور فْر] اعتزاض ہوا کہ ہے اقساعہ ہے یا مقالہ۔ ہمارے تقادوں تے دو اک انگ تماتے 
ارت ہیں ایک تو ہے افسات ےکی زیانٴ دو سری ہے مقال ےکی زہانٴ اور ان ووتوں 
کو نقاد آپیں میں گڑ نیس ہوتے دا چاہتے۔ مج اتی اصرار ےک چزیہ اور 
خیال انگ انگ رہے۔ جذ بے پہ خیال کا بر بچھئیں بھی نہ پاتے پاے۔ اگر ۳۷ء میں 
نے ادیوں کے ساجھھ ساجھ الےے الےے نقاد بھی پیا وت ہوتے جو براہ راست تٌلبتقی 
عمل سے وٹپی رھت اور اس کا مطالع دکر بت نز پنددہ سولہ سال کے عرسے میں یو حت 
والے بھی اسالیب بیان کے نے جیا ت کو قو ل کر ھتے۔ لہ سن زیات کا مطالہ 


۳.۰۰ 

رر اناجب ڈازز گی طرف سےکوکی رجنماقی نہ لے تو پڑ سے والوں میں وو 
اظھینائی اور زی امحعلال پا ہھ جانا فطری بات ہے۔ پھ رحب پڑت والو ںکی طرف 
سے کوکی مطالہ یں ہو نے کت وانے بھی اپ لتق عمل سے و بی لیتا چموٹرر یت 
ہیں۔ خر مھ ے ہوا ہ ےکم ہے وا نے آۓ والوں کو حرا بکر رے ہیں“ اور 
کن وانے بے نے والو ںکو۔ اردو نٹرخ خی صلاحتتیں نے کیا پیدراکرتی۔ جتنی صلا یں 
خود اس کے اندر موجوو جھیں* امیس بھی بجپموندی نگ ری ہے۔ ھی بات ىہ ہ ےکہ 
ہم آ ج کل جو نٹ رککعھ رہے ہیں دہ ارد کے ابترائی تقاعر ےکی نر ہے۔-- تا یا“ 
بی گئی۔ ‏ الال ماری خثراس سے زیادہ پیچپگی یا ناس ت کی سمل خیں_ اور نے 
صورت عال اس وقت کک بد لح ےگی بھی خیں جب ب کک اردو نر کے تام اسالیب 
بیان کا گل جائزہ نہ لیا جائے-.-۔۔ عرفوں اور خوبوں سے نتطہ نظر سے جییں“ پل 

عخلڑقی کا مکرنے والویں سے نقطظ نظررے_ 


۳ء 


گر تڑےے سے فامدہ اختفاۓ عال سے 


ایرا پاؤیڑ ت ےکما ےکلہ جو دور ققلیقی اوت کے لحاط سے معظیم ہوا سے دہ 
تیموں کے اط سے بھی میم ہو ہے۔ یا تخلیقی کا دور تھے کے وور کے یعد ۲ت 
سے ۔ شثال کے طور پر اگگریزی میں انانتتھ کا زمانہ پاونڈ کی راتے میں اوڈ کا ریم 
مولڈگک انتا بدا شاعرہ ےس اس کا متقابلہ ٹن سےکیا جا سکتا ہے پھر اگصری:ی میں دو 
ایک تھے ایے ہوے ہیں جو تض اعقیار سے اص لکتتاب سے بھی بدجہ سے ہیں۔ 
لے ستزہویں صدری میں رای ے کا تزجمہ جو سر اس ارکرٹ تے کیا تھا۔ یا عارے 
ژانہ یں پروست کا تجمہ جو اسکاٹ موکریف ت ےکیا سے اور خور مصتف کی راے 
میں اصل سے بھرے۔ 

تزیموں کے متحلق پاوی کی رات کا اطلاقی جمارے ادب پر تھی ہو ے۔ جب 
ناررقی وخ کے ایپ کا ؤکر چن ٹزو ایب کے کسی ذو یا سی شا کے تلق لیم 
کا لفط اتتما لکرتے ہوتے مچکیاہٹ تی ہے۔ بمرعال ہمارے ییماں نس ش مکی بھی 
عظدت ہو اس کا یہ نہ سیچنہ تعلق تڑیموں ے طرور ےٴ اروو اورپ کے آغاڑ سے 
ےر پاپ کے زاتے مک کے چاے زارہ دہ ہوے ہوں* ان وارے شماعروو 
مک یکومشمی بر رہے تھے ایک طرف تو دہ فاری کے اسالیب اور تقسورا کو اپ 
زیان کے سا عق ڑہھال رسے تھے دوصری طرف خو اپتی ڈیان کا ایگ عزارع اور 


1 


ایک روح صجعمی ن کمن جاجے تس ۔ ہے بائکل دی جیز سے ج جرعریں اور چودحریں 
صدی میں اٹٹی اور انکستان کے ھاعروں نے فراضی کے (ے اث اپتی اپتی زہائیں ے 
ٹف 

پھر جپ مغرب کا ا بڑنا شروع ہوا ت3 سرشار جیے نال تار نے "ان 
کرت یں تمت و ساط کے قیل ؛زدۃ ین کم سے کم رد نال وجو دن 
آئے۔ ایک ت "ضانہ آزاد" دوسرے'ععاتی نول“ خر انتا صاف ظاہر ہے کہ 
سرشار کی تخلیق اور ان کے تس میں بس ت مرا رشن ہے۔ نین سوال ہہ ہے مک 
”خدائی فوجدار“ تر تے کے اط سے کیا ہے ؟ ہی جات تو ہہ ےک صشار نے ترجہ 
کیا ہی شییں۔ مہ اص لکمائ یکو دی لمباس پہنایا ہے اس میں اممیں نے جن بھی 
کمرم پڑی ہے اور ٹھونس ٹھانس بھی۔ اس طر حکتاب کے لتض سے پالتل مل ہو 
کے رہ جے ہیں۔ پھرانسوں نے سردا شی :کو پرری طرح ھن ک یکونشش بھی نی ںکی_۔ 
غالبا انی پور ی طرح معن کی ضرورت بھی میں تی کیدکہ سرشار کے زانے میں 
معاشرتی تبریایاں شورخ ت3 ب گنی جن ین صدیون سے عرصے میں اس معاشرے تے 
جو شل انقیا رک بی نی د ہم س ےکم ظاہری ود پہ جاقی تھی اور عیرا خال ہ ےکم ایک 
عریز ضاشرے بل رت ال ری 'ىق روعرے معاشرے کے او پکو پا ری روح 
مین بج حکزالہ اس کے اعصاب می اجی فیا تک قول تی ںکر تج وو سزوں کے 
ار بکو پر ی طرح تبھھ نکی گر یا خوا یش تو ہم جیسے لوکو ںکو ہوکی ہے جو ایک خلا میں 
رجے ہوں۔ ملا بورپ نے می مشرق کے فلسغو ںکو انیسویں صدی میں جا شروع 
کیا جب مخربی حا کی یادیں خی گی تھیں۔ اس لے اکر سرشار نے ایک مفرلی 
شابکا رکو 7 جم یا اخ کرت ہوم بگاڑ کے رکھ ویا تاس میں تن ےکی کوقی جات نہیں_ 
اضوں نے ا سناب میں انتا خی پڑھا تنا ان کے سعاشرے نے پڑھوایا ۔ لئے سے 
کے لفاظط سے ایک خرالی : ”خیدائی فیدر" میں ہہ ہوگی۔ اس سے بھی بڑی خزالی اس 
میں سے ہ ےکم ا کی عیارت خاہموار ہے۔ آدھا صفہ مزے نے کے کے ککھا سے تو 
آوھھے مفے میں کھاس کائی ہے اس پر جن بھی اعتزاض سے جا ھت ہوں وہ جے قول 


٣٣۳ 

ہیں اور یں اسے ارد و کی بد یکتابویں میں بھی میں حا رکرتا۔ شیین میں اس کے 
متحلق وبی بات کن کو ار ہوں جو اینرا پاؤتڑ نے ہوم رکے پہپ وانے تحے کے 
بارے مم ںکی ہے لوگ اع تکرتے ہی ںکہ یپ کے 7ت میں ہومروہ خی رہا 
جھ اصل بوتانی مج ہے پاؤ کی رائۓے ےکم ھپ نے ہوم کو چاہے بب کا یھ متا دیا 
ہوک لا یکم ےم منیھ تو مایا ہے" - سرشار نے بھی صردا شی کا تجح کرت ہوے 
یھ تو منایا ہے" ہہ اڑی جات سے جو سار کے بعد آنے وانے ایک حریم کے 
بارے میں بھی می ںکی جا ھی ۔کم ےکم مہ ایک اڑ یکتاب سے جس کا نام آپ 
اردو نکی وت حجکتابوں میں سے غخارح خی ںکر بت ؟ اس میں بھ یہ بھی نہ سسی اتا 
تق سے اس کا تمیں چالیس نی صدی حصہ دی سے پڑھا جا سک ہے۔ اردد میں مخلی 
ایب کے جو تحے ہوے ہیں ا نکی میغیت نظرمیں رکھیں ت اتی بات بھی غنمت 

معلوم ہوتی ہے۔ ٰ 
اذغ پری وا بے وور یں ہراہ راست تو ںکی تعداد جا ےکم ہوٴ ان بجی 
تع مکی لی رواحیت اور ہمال زوگی ان لوکوں نے پیا کرٹ مچادی دہ بھی اغز اور ڑتے 
کرتنے والی ذجنیت کا تہ ہے۔ میں نے ان لوکوں کی تزیہیںکمیں لڑسین میں پڑھی 
میں ۔ اس کے بعد پھرمت نمی بڑی ۔ 'بھھ حم ددراں سچھ خم جاناں' جک اکم 
ہے جو اوبہ سے کری پالی جا اس لے بی معلوم خی ںکہ ان لڑکوں ن ےکن مخرلی 
اویوں سے اش لیا او رن افساقوں کے تح نے ایک کک ر واملڑ کا اش تو مل 
ہے ۔کیوکلہ ا نکی ت٠زبروں‏ میں جاہیا آسگر وا ملنڑ کے خالات بری طبح تح کے 
ہو ککھرے بڑے ہیں۔ دوصرا اٹ شابھھ گے کے ”مورٹر“ کا ہے۔ بسرحال انموں نے 
آ سر وا حل ھی ىی چس چداکرتے کے لے ایک وریہ نیہ ضرو رکیاکہ مغیرفل کے مد 
ککسے جانھیں۔ ای جملوں سے ارود نرک وکیا نتصان بھیا۔ نہ تے جس پل ہکئی وقع کہ پکا 
ہوںٴ لی نی کبھی بھی وم کے جملو ںکی ضرورت چیش آتی ہے۔ خصوبا اس ل ےک 
اردو میں جملہ فنل پر شح ہو سے اور * اتا" مت تھے“ وغیر وکی ترار نر کے آ ہک 
کو ببیا دک کے رکھ دی ہے۔ پھرذرا جملہ لیا ہو جاے و اس مں چار پاچ وقد 'ا" 
تی فیا کے وی منتول ار سرد فیس پو طض وق کیل کے 


۳۴ 


مہ کے گلا ہو ںکہ ای زیان میں اتچھی نر قکسی ہی نیس جا عق_ بمرعال عریل بحال 
پرستوں نے اس مل کا ایک عل ضردر بی کیا تھا جھ بھی بھی مفیدر جایت ہو سکتا سے 
اور ہہ چ بھی آسر وا مل کے خیالات کا تجح کرنے کے سلسلہ می پاہتہ آتی۔ 

٦ء‏ کے کس پاس تح قرانمی اور روی اقماتوں کے ہوتۓ ان سے اروو تڑ 
نے یرجذیاتی عیان اود الیک می جملہ میں کی نز کے خلف اجزام کے ام گنواتے کا 
طریقہ ما آج اردو افساتوں میں عام طور پر جو زبان استعال ہوقی ہے وہ اتیں 
مریمو نکی بروات وجود جس آئی ہے۔ اس زانے میں تر نز یسییوں لوگوں نے کے 
من اگ ری ایک آد یکو مثال کے طور پہ پی یکرنا ہھ نز منٹ کا ام لیا جا سکتا ہے۔ 
آج کل کی افسانوی زبان کے تین میں منٹو سے تربمو ںکو جو وقل سے اے خمیں 
بھولنا چان لیکن دوسری طرف سے بھی حقیقت ہےکمہ اس دور کے ترجموں نے ان 
دو بانں کے علادہ ہماری نٹ کو او رھ بھی جمیں سکھایا یا نثرنگاری کے سلسلہ میں روسی 
افضسانے ہیں کیا کھاتے ہیں اس سوال کا مج ںکوتی جواب ممیں وے سکیا کی کک 
میں ال یکمائیں میں ڑھ سکم جن مس رو ں کو مادی چچڑوں سے ال کر لی اگیا ہو 
جن اس زاقتی تتسب ے قبع نظرویے بی بجے یم ہہ ےک ووستو لی کے ناول 
پڑ من سے روح میں علاعم چاہے جقنا ہو لکن حا بی دیکے میں کیا ہ ےکم جس تے 
اس سے اش لیا دہ عم ربھرلڑکا ہی بنا رہا۔ اردو افساتے پر تو خر اس کا اٹ ى یکتتا ے_۔ 
مجن ہندی کے دو ایک اقسان ہار می نے لیے ریس ہیں جنییں ووستونصی نے 
خرا بکیا۔ ممکن ہے بیدی کے اقساتوں کی زرابیاں بھی اىی اٹ کا سنہ ہوں_ رعال 
گے تمیں معلو مک در دی افضاتے بڑھ کے ک| وی معقول ن کنا سیک سکم سے یا جھیں_ 
ین ان گی ات ہہ ےک ہمارے بیماں موپاساں کے اضساتے اس پڑھے سے اور 
بھم نے اس سے موضوع کے اجاب کے علادہ او رھ بھی جمیں سیا 

یراب اپنے زات ےکی طرف آیے۔ تچ کل مو ں کی ضرورت رت رے 
سو کی جا ری ہے اور یھ برے بھلہ تر ہے ہو بھی رہے ہیں۔ لین تزجموں کا ہوا 
لا ضہ ہونا السی اہم بات شھیںس سوچ ےک ات ہہ ہےکہ ان سے جمارے لتق ادب پر 
کیا ا پے سکتا ہے۔ ابھی کک ت مارے بیہاں تر تے اس تتطہ نظرسے کے اور پا سے 


"۲۳۵ 


جات ہی ںکہ اردو بن والو ںکو بھی اص ل تاب کیکماتی معلوم ہو چاے- تزنموں 
سے زیادہ سے زیادہ اٹ ہم لوگ ہہ لیت ہی ںکہ جمارے ادیب بھی ولے بی موضوعات 
بر کن گت ہیں۔ لین تج ےکی برولت میں ایا تملتقی جزبہ نیس کت جیسا سرشا رکو 
م لیا تھا“ نہ ان کے ذرہیجے جماری خر سے اسالیب مم ںکوئی اضافہ یا تقیر ہہ ہے میں 
نے خو دکوتی ایا ترجہ می ںکیانس پر میں ظ کر سوںٴ لین ایی:راپاؤڑکی تظی رکے 
ہوم میں اچچھا تزجمہ ا یکو کت ہوںٴ جس میں چاہے اص لکتا بک روں برترار 
مہ رہے۔ لان وہ یھ نہ یھ بی ضرور جاتے۔ خرالی ہہ ےکلہ تج وں کے ما ےکو 
بحم نے ابھی کک اولی لہ سچھا۔ اسی لے نز جمارا اوپٴ خصوص] جماری نروڑ بروڑ 
مل موق جااری ے- 

اس صض کی ابمیت بحم تے اب کک اس وجہ سے حسوس می ں کیک ہیں اتی 
زان سے متحلق خوش نسیاں بست زیادہ ہیں۔ ہہ خود ا انی غالا ایک حر کک اردو 
بندری کے بجھکڑے کا مہ سے اور یھ اروو سے تقادوں ک اکرش میں یار یار ہے بٹانا جات 
لد اری زیان دا کی بڑی زیاتوں مں سے ے“ اور اردو یں چرخیال ارا ہو سا 
ہے۔ خیال ویال تو مم جات یس شاید اردو میں کانثٹ کا ہرخیال بوری مت کے 
سا خنقل ہو جامہے لگن اگ رکوتی صاحب پروست کا ایک جملہ اردد میں ٹیک تمہ 
کر کے دکھانیں تو میں ارد ھکو دنا کی سب سے بڑی زیان مان موں گگا۔ لئ ا سے بھی 
چھوڑہیے۔ آ پکیں ھےکہ اردو میں ابھی اتے پیچوہ او رگلک جملو ںکو سمارت ےکی 
اہلیت +یں پوا ہوگی۔ ضیرحے سماوے جملوں کا بی محالمہ من یا کرت ےک ہیں تے 
ممادام بواری' کا تجح کیا ہے نان اس خاول میں ایک کڑا ہے جس میں ہیردئی 
کی پچھتزی پر بر فگمرتے کا منظ بی يکیاگیا ہے اگر اردد کے سارے اویب م لک ر ان 
آٹٹھہ وس سطری ںکو اس طرح تجح کروی ںکہ اصل کا تن ویسا کا ویسابی رہے و اس 
دن سے میں اروو کے علاد وکسی اور زیا نک یکا کو پاجھہ خی لگاوں گا۔ یہ ٹں اروو 
زیا نکی برائی خی کر ربا ہوں۔ خامیاں نے جرزیان میں ہہوتی ہیں“ نین جم لوگ تزے 
کھت ہی ں کہ ماری زیان میں اب سی ضرورت ما اضان ےکی تم ہی تی ری۔ 
اد بکو اتی زیان سے محبت اور اس پر قین نے ضرور ہوتا چاے لان تخلیتق کا مکرتے 


۳۹ 


والو ںکو اس جات سے کوگی حطلب تح ہونا چا کہ جماری زیان کا شحار دا کی بای 
زبانیں یش ہو ہے“ یا ضیں' ماری زیان اتھی ہو ا بری۔ جمارے لے تہ پیر تمہ پا 
کی طبح ہے ہم اس سے چیجچھا نہیں بچھڑرا جھت۔ ہارا سب سے پسلا کام نو ہہ سب ےکم 
م ای موجودہ زبان کی صلاجحتیں دیھیں پچھریہ خو رکری ںکہ اب اس میں اظمار کے 
او رکو نون سے طرییتقہ اجیاد سے جا ھت ہیں گن مارے تاد بڑی آسائی سے کمہ 
ریے ہی ں کم مخربی ارب میں جچتتی اتی باتیں حی وہ سب جم نے سے لس اور جار! 
ارب مفخرلی ادب کے برابر ہویا۔ لگن آ پ کسی مخرٹیکتاب کا تر ہکرنے بیٹھیں تو 
پاچ منث میں سب حقیقت کل جاقی ہے بشرطیگہ آپ ہہ جانے ہو ںکم مصنف کلیتا 
کن حرج ہے پچنراوں سے خشکل سی ہے کہ از آپ خزجم کے انی مج بی 
یں* اور ان کاکوتی : ہکوگی عل بھی حلا شش کرنا مچاؤں و اروو تمقیر راست روک لق ے؟ 
وہ اس طر عکہ اردو یں تجموں کا سب سے بدا لہ ہہ ےکلہ پش رصرف دی 
کتاب بچاپتے ہیں جن یک تے_۔ ازع کتابیں تریرنے والوں کے شی یکو اروو یر نے 
مد رکر رکھا ہے- ا آنپ الر آپ تر ےکو تحلی قکرنا چاہیں نے ےکی محکن ے ؟ 

اس من میں اگر میں اپنے تزجموں کا وک رکروں قے آپ ہہ نہ کت ماک میں ایق 
کمابوں کا اشتمار درے ررہا ہوں۔ میں تو صرف یہ چاؤں گاکہ ھیرے تر تے ناکا مکیوں 
رہے۔ یھ مات لکیا پیش آے اور یں ا٘میں ع لی کیوں خی ںکر سکا- 

میرے ‏ شض کر فا جھ سے کت ہی ں کہ مرا سب سے اچھا ترجمہ ‏ آخری 
سلام" سے ۔ اس را سے عیری ہمت افزاکی نو بت ہوتی سے مجن میں اے اپتا 
کوتی کارتامہ میں مسمجھتا۔ اخشرو ڈکی ہ سکاب حفیقت نگاری کی روایت ے ملق 
ہے مان ا کی نٹرموباسا ںکی خث رخ ہے۔ اس کی زیادہ 7 وی واقعات یا کردار 
ار ی "یس ہے۔ ہں کی خرس کام چلائے عم کی ہے۔ اڑی عبار تکو ارد میں مس 
طرح حتف لکیا جاتۓے اس کا طریقہ مفنٹو نے ٣ء‏ کے قریب اپ نے تزرجموں میں ا دیا تھا- 
اب اگر آ پکو تھورے بست محاورے آت ہوں اور اوپی نٹ رک و نو کے لب و لچ 
سے قریب لا گھیں تو ا سکاب کا اچچھا خاصا ترجہ ہو سکم ہے۔ ھا خیال ےکمہ اپتے 
ت7 ے مس چاسے مس اھر ڈکی برایری نکر سکا ہوں۔ ان تجمہ بات کے بعد اصل _ 


۳٣ 


تاب پڑ کی کوئی اص ضرورت باق خیں رہق جس ص مکی خرا سکاب 
کے تح کے لے چایے اس کا ڈحانچہ متا متایا تھا اردد والے تح میں میں بی 
بات دیھتے ہی ںکہ روانی اور سلاست ہو ادر پڑت ہو ایا گے تی ےکتاب اروو میں 
بی کسی کی سے تعلی معاف ۔ مہ کام تو میں سوتے ہوم بھ یکر سا ہوں* لین اس 
سے اردواد بک وکیا فدہ پچنچتا ہے ؟ اس میں خحک می ںکہ اس سے تر تے کا کامم بست 
لگا ہو جانا ہے۔ مجن ماری ویان دہیں کی دہیں رعتق ہے جماں تھی۔ خرکی ای 
تخریف تے ہمارے او پ کو مار رکھا ے_ خصوص] 7ر ےکو۔ اگر ہمارے ثقار بے سے 
والو کو سے راز جا دسی ےکہ پڑت وقت داغ پر زور پڑے ‏ وکوئی ہرج خی شایر اروو 
نثزمیں مرح ہی کے زریعے ینہ تجربے ہو تا لین اپ ایک لف ظ کو اوج ررے 
اوہ مکرتے ڈر گکتا ہ ےکلہ اڑی یکتائیں پڑھھے مگاکون۔۔ اگر آ پکی اردو زیان میں بت 
سے اسالیب مان ہوتے حب فو ہہ مطالیہ با تھاکہ ت7رجمہ الیا گنا چا یۓ بے ال ہو_ 
نع آن ہے ناک کاخ سے شا اوس او لیب ین تی تق 
تی تہ ہوتے پاے- ایک گیب ہی بات ے- اگر ے زہثیت مارے ادب پ> عادق 
ری ت رایٹش یا جو س کی طرح کے لوگوں کے تر حے تو قیامت تک نہ ہو كھیں مے_ 
اب سے آشھ سال لہ یھھے ہہ خبط خھاکہ تج سکرتے ہوتے اروو کے اسالیپ کا خیال 
يہ رکھوں لن اب ارد کے نقاروں سے ڈ رگیا ہوں* اور ای ہمت خی رئی_ وہ 2 
میرے چلشررمت والے ہی ںکہ میں ارد وکو توڑ عروڑ ڈالوں ت بھی یر یکتاب ماپ 
ےرت 

میرے جس ےک خور سے بڑھا جانا چاجے تھا وہ سے ”ارام بواری"۔ لجتی 
ای خاکاصیاب تر ےکی حشثیت سے اول نے ا سکاب کا سح تزجمہ آرج گک ہوا ہی 
دنیاک کون سی زیان میس ہے اردد بچاری؟ نو پھربھی بی ہے۔ تاب اس تقائل 
یچ کے رف ےآ وی اویب ‏ ل کر اے رج ہکرت اور اس پر جن چار عال 
نگاتے “جح بکہیں جاک یھ یات شی میں ہہ دعوکئی خی ںکر سن اکہ ا سکتاب میں نی 
اسلوب کے نہ سال ساس آتے ہیں میس نے ان س بکو مجھ لیا۔ انس تام کے 


۲۳۰۸ 


لے بھی سال بھرجاجے۔ یسرعال جو دوبچار باتیں ھیرے لے پڑمیں وہ میں تے اردو میں 
پ اق جایں۔ للا ایک تو میس تے م ےکوسص لک کہ فھوبیرتے علابات اواف کے 
ذریجے جھ مع پدا ے ہیں ویے بی میں بھ یکروں۔ لین کاحب صاحب تے س بگڑ 
کر کے رکھا دیا۔ پھر ظوبیرتے یار بار متفف مم کے خیالا کو نقائل یا تتشاد کے لۓے 
ایک بی لے مس بن کیا ہے۔ میں نے ای جلوں کا مطلب ککعت کی جاے اتمیں 
وتیے کے ریے ہی اردو میس شحف لکر ویا اردو والیں تے شکابی تک یکہ تھے مم رواتی 
اور علاست شی سے ۔ خلا ہدام بواری' کے لہ صفہ پر شال کی ٹوٹ کا بیان 
ھجے۔ اکر حضل روائی اور علاست کا محاطہ ہو نے میں 'عھاٹی لخلول'" سے انراز میں 
اس ٹوپی کا مزیدار سے مزیدار جیان لکیہ سکتا تھا۔ گن میرے ساتے 3 سوال یہ تھاک 
ظلوبیر کے ایک جلے کا تجح کیا جاۓ چاہے اردو زیان چجین بول جائے بی میں تے 
کیا۔ لوگوں تے خکای ت کی تح کے لہ صمنےکی عیارت کیک ہے۔ جج خومی ت3 
جب ہوٹ یک ہکوگی صاحب اس لے کا اور اسچھا تجح کر کے جھھے کیجتے میں کی رسالے 
میس اب کرات ا کہ اردو نٹ کے ایک مےللے کا سیچتھہ نے نظ رآیا۔ یہ ظلوبی ری تاب کے 
چموٹے پچھوے میلے ہیں اور برے متلوں سے اعت کی تو جھھ میں ہصت بی نہ خی 
شا بجملوں کے آ بک یا پیا مراف کی نمی رکا محاطہ و انتا مخت تھاکہ جس نے بھاری 
پچ ر چھا اور چچوم کے پچھوڑ دیا- یمرعال اروو والوں تۓ تاول پڑھ لیا اور ہے صرق دو 
ڑاگی لوگو ںکو معلوم ہ ےکہ اس ترت میں عیری کامیاب کیا ھی اور ناکامیاب یلکیا- 
لہ سال میں نے سااں وال کے تاول ”صرخ و سیاو'' کا تج گیا۔ اس ناول 
نے تھے رلا رلا دیا۔ اگمر سلاست اور رواقی کی بات ہوقی تو میں لیے لیے بے کے 
پچاس من رو زکھھوا سکتا تھا۔ نان استاں دال توکم بجنت وہ آدبی ہے جو نٹ کے خی 
آز گآ س2آ ے بد( ماب آپ عرد مات موا ل ےک رارر ہے رارق 
کروں یا استاں دال سے بے اختزاف ہ ےکہ مج تے اپتے پاش کے مقا وکا اعزام 
کرت ہوئے استاں دال سے خدار یکی ۔کیوکمہ پاش ربچارےکی بی ہس تکیاکم سے 
کہ اتا یا چھڑا ناول چچھایا۔ جن ایک حاظ سے ارد زیان تے بھی ھیرے پان یائرھ 
ریے تھ۔ استاں وال جزیات کا تمزہ مگر حح کی زیان خ ںکرتا ہے۔ اروو میں اس 


ا 

کی صلاخت یں اگر میں اس کے سل ےکوگی ما اسلوب بنا ےک یکوش شل کر تو ور ہے 
تھاکہ اردد کے نقاد بی چچھیں ےے مہ عاول سے یا مقالد- کیا نکر میں تے استاں 
دا لکی روح سے ععاقی .انف کے ا سکی خلل عیار تکو تھوڑا سا چذبالئی رنگ دیا- یا 
یں کت کہ اردو کے نقارو یکو رحوت دی اب ایک اور مشئل یل گی پ لی نظر 
میں و استاں دال کے جملے بدے خنگ اور بے رگک معلوم ہوتے ہیں.. لین ذرہ خور 
سے پڑت ے ای کفکرارا ینٴ اور ایک اڑی چس سے کی جو طنرکے قرب تیچ جاتی 
ہے۔ یہ اڑی چنز سے جو اگریی تح میں جمیں آتے پاگی۔ عالانہ ہی تزجمہ اسکاٹ 
موکریف جیسے بڑے مرجم تےکیا ہے۔ قصہ می ہ ےکلہ استاں دا ل کی نر کے یی 
ڈیڑھ سو سا ل کی وہ فراضی رایت سہے ج (5ت5 34۸70۸4 کت والیں تے پا کی 
تھی۔ استاں دا لکی نر کے جییہ سے مہ مہ روش فوکو بول اتا ہے۔ اب جا یج 
اس خو یکو ارد میں خحف لکرتے کے لے میں الی رواب تکماں ے ات ؟ از 
پور یکی زبان میں اس کا تجح کرت ما عیب را٠‏ نکی زیان می ؟* اردو اوپ جست عقیم 
سی لیک نکی صاحب جھھے چچار ساریں احستاں دا لکی تج کر کے وکھا دیں۔ 

آبج کل میں شوورلوولا کلو کا ناول تج ۔کر رپا ہوں۔ اس میں ایک ئی معیبت 
ے_ مس ف الپ و او آروو من گے پر ااکرون۔ے برق ٣‏ ض ج٣‏ ۴ را 
پچھلڑ پن کا خمونہ تھے سرشار یا ساد ین سے یہاں مل سکتا ہے۔ مین اٹھارہویں 
صددی کے قرانمی استرہ میں جو رکھ رکھاو اور نقاست شی و ہکہاں سے لاؤں ؟ ان 
اس عاول کے متحلق اجی بات ضرو رکموں گا استاں دال کا تزجمہ مرشار جچھ سے اچما 
یں ربکت .لیکن ان ناو ل تو تی کر کے وہ کیہ تہ یفن ور بغا شک نک اور 
ہیں مہ بھی می ںکر متا اس کا مطلب ہہ ےکلہ اردو نڈزی جو یات تھی تآرح وہ بجی 
نمی ری۔ ٠‏ 

اپنے تجموں کا اتا لیا چو ڑا اشتمار میں تے اس لے دیا کہ اپینے کام کے سلمسلہ 
"یس یھ جن ارپی مسائل سے ابجھنا با میں میں عل جم ںکر سکا۔ میں تے دو چچار 
بڑ یکتابوں کے ترتے نکر ڈائے ہیں لگن میں تے ارد سے اسالیب میں رقی بھ ربھی 


٤ 


اضاقے تی سکیا ا یکی شکایت تھے اروو پہ حۓ والوں اور اررو کے تقاروں سے سے۔ 
اول ت میری ساط بی کیا ہے گن مج پچاہوں بھی تے اسلوب کاکوقی نا تج کرتے کی 
عبت شی پڑی۔ چتانچہ جج اپنے آپ سے بار عار یہ سوال پوچنا پڑت ہے کہ جھی 
تیموں سے لبق ادب پرکوگی ان تہ پڑے ان کا جوا زکیا ے- تس کا تے متطر ہی 
یہ ہونا چاہی ےک“ خواہ تجمہ تاکام ہو “گر اوییوں اور پڑت والوں کے ساتے ورائ 
اعمار کے نے مساکل یں خوا +کوگی ادلی سعلہ عل نہ ہو مر تر ہے کے ذزر بی کوگی 
ادلی معلہ پیا ت2 ہ۔ لن جب کک اردو تقیر زندہ ہے خدا نے چچاپا ‏ ہمارے زہن 
سکوگی ادلی لہ پیدرا ہو بی جیں کتا_ 


اسالیپ تاور ھارے اویب 


کچھ ون ہو ے اردو نث کے متحلق ایک مفمون کیٹ ہونۓ ہیں تےکما تھاکہ 
اردو وا لے لیا جملہ میں کیہ کت ۔ اگر کھت بھی ہیں نو وم بست ے ابڑا کا جُوع ہوتا 
ہے۔ مہ اججزا آیں میں عل ہ وھکر ایک وحرت خی نے ۔ تر جھ اسی ص لے کا ایک 
اور پھلو چٹ یکنا سے ۔ من چوککہ اردو کے لح جو لے عائی ہہ جھت ہی ںکہ اٹ 
زبان کی صلاحیتوں کے ملق بے سوچنا اور اپ اسالیب بیان کا ددعری زیانوں کے 
اسالیب سے مقالل ہککنا شرک یا ارتراد ہے - اس لئے من پل آ پکو ایک پا ت یاد 
ولا دوں ۔ میں ان لوگوں کے لے مخمون میں کی جنیں اروو اورپ سے علی “یا 
حقق ما پیشہ درانہ دثبی سے ۔ میرے خخاطب ‏ و وہ لوک ہیں جو چاے خوو تہ ھجت ہوں 
گر پن والوں کی حیثیت سے می سی اد ب کی حخلیق میں شال ضردر رچے یں 
جنمییں اپنے عجریات سے تھوڑی بت آمگاہی حاصل سے اور جو مہ بھی جاسنے می ںکہ ان 
جیا ت کو الفاط کے تالب میں ڈھاػُے ہو مے کیا دخواریاں مشش آّی ہٍں_ جو تیر 
تخلیقی کا مکمرتنے والوں کے لے سفرینا سے قرائحضش اخحجام تہ درے وہ حق پررسوں کا 
ے۔ 
ود ری بات یاد رھ کی مہ ہے۷ کی زبان میں جو اسالیب بیان اب تک ایجاد 
گے ہیں ا نکی خبیاں اور خامیاں صتتعل باززات چیڑیں خی یں - اما او رکا رر 


۲۲ 


اسلوپ وہ ہے جو ہمارے طرز اضاس سے پا ہوا ہو اور اس کا ساجہ درے کے - برا 
اسلوب وہ ہے جو اہ رج ںکتتا بی خوب صور تکیوں نہ معلوم ہ وگھر ہمارے تر کو 
اصلی شل میں پٹ ِکرنے ما ا سکی تقلب ماہی تکرتے کے بجائۓے اسے می خ کر سے 
رھ دے اور اس طرح سن جزیات کا راس روک دے یا میں کت کہ ہیں خود اتی 
یت کو مجح کی اجازت نہ دے ۔ اس عم سے از کار رفت اسالیب خوو جاری شخصیبت 
*انڈاری شخصیت اور اجتائی شخصیت دونو ںک و کچل جھت ہیں ۔ چنانچہ اسالیب بیان کے 
سلسلہ مج دی کی بات ہہ ہوقی س کہ ہم جو بات کھتا جاچے ہیں دہ ان کے زرل ھک 
بھی ھت ہیں یا میں * من آح کل ہمارے یماں اس سنہ کے من میں دو تم سے 
روسیے لے ہیں ' اور دونوں کے دونوں حض بدی حیتوں سے ہیں جراتے ہیں - 
ا کگردہ تہ ہکھتا ہہ ےکہ جمادی زبان کل ہج چی اور اس کے اسالیب می ںکسی تزرمم 
یا اضائے کے بقیر ”ہر خیال' اررو مج ارا ہو کک ہے۔ اگر ات ہے یانت یاد ولائی 
جا ےک ملق اور جرد فلخانہ خلا تکو برے تھلہ طرییقے سے اپنی ذیان میں اواکر 
لیا ادر یر ہے ہرہب ےکی رگا رگی یب گی اور وحدر ت کو الفاظطکیگرشت -یں نے ۳نا 
اور نز ہے“ تو دہ جواب ری ہی ںکم مشرقی روح ادر مخلی روح مم فیادی فرق ے - 
شر قکھ سردر ازلی حاصل ہے ۔ مغخرب ععقلی تجوزر ےکی خی می ںمرفآر ہے ۔ خر 
صردر ازٹی کا عال نو میں آ کے تل کے جانؤں گا ۔ کن یہ لوگ اج سی بات بھی خمیں 
دک کہ عخرب سے ػنے والی اشیاء اور خیالات نے خور ان کے رز اخزاس ئیں 
کی زبردست جیدییاں کی ہیں ۔ اگر مارا جذباتی نظام مخرپ والیں سے آ رخ تھی 
داتحق ؛نتا سی انگ ہے کوی صاحب عاف طکی ىی غزل چھوڑ “ عج یمن زا کا سا ایک 
صفہ می ککھھ کے دکھایں ؟ اسے بھی چچھوڑیے ایک انل ساس ےکی ثال لیے * تنج 
اردو کے اریوں میس سکتتے لوگ ایے ہیں جو اخرف صوی کی می پاکیزہ ٹ کے گیں ؟ 
اس کے پاوجود اخمیں متبولیت عاصل خی بوکی بلمہ اردد کے روضصرکک اپے 
ممونوں میں ان کا کر خی کرت .۔ اس میں یھ وشل جماری نک تظری او رکوہ یی 
کا بھی ہے ۔۔ مجن اع یت یی ہے کہ ان کی نشیٹس تزنے کی خما ہگ یکرقی ہے ود 


۲ 

بعارا تزیہ خی ہے یا یوں سکس ےکہ اگر ہم خور سے ویکھھیں او رکوسش شک یں تے اس می 
خوبیاں مھ نے ھت ہیں لان ہہ نثرہارے لاشعور سے یھ نمی ںکستی _ اروو کے موجورہ 
اسالی بی ترمم یا اضانے کے مقی رآرج بھی کم دے رہے ہیں ما یں * اس کا پند ت 

ای ایک حثال سے ہل جائۓ گا -۔ 
اچھا مارے یماں دو مرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو ہہ کجھت ہی ں کہ زیان کے 
اسالی بکو جس دن اور جس طرح چاہے بدل دہج ۔ اس میں چتھ نہیں گلتا _ ہیں 
کسی مغرنی مصنف کا انداز پبند آیا اور ہم نے فو رآ کے را اسے اردو میں نف لکر لیا 
کویا زیان کی اندرونی “ ادر نامیاقی نشوونما کے بقیربدل عق ہے ۔ یا اگریزی کے 
ادیب بچچلہ چہ سو سال کے عرسے میس جن قجیات سے ممذرے ہیں * اض اپت اندر 
جب کے بقیرجوگ کی طح ککھا جا کت ہے ! ا سںمروہ میں مض لوک تو اہیے ہیں 
جن کے نزدیک پراتے طرز اصاس سے جا را کوئی واسط خضٍ *یللہ مارے اصاات 
کی تارق ٦۳ء‏ سے شروں ہوقی ہے ۔ ایک دوسرا فرقہ ان لوگوں کاچ چھ لی زیان 
سے تو ادلی روای تکی ایت کا اختزا فکرتے ہیں ۔ لگن ان کا مطلب اصل میں ے 
ہوا ےک مخرلی اد ب کی طرح اردو کا پرانا اب بھی نوج کے لائگن ہے اسے پپھ کے 
اس میں سے بھی ابھی اتی اور کام کی چیزیں لے لی چاسینے ۔ ہہ سارے کے 
سارے ادجیب چاہے اضی سے بالئل بے تحلق ہوں چاسے ماض یکو دیپ اور کار آھ 
یز ہوں ۔ بسرعال اسے اپچتے وجود کا ایک حصہ میں مجھت _ لین مات یکو قول 
سے بغیرعہ فے ہم اس سے عقلتقی طور پر فائدہ اٹھا نے ہیں ۔ نہ اس سے پچھکارا پا کت 
ہیں “اس طرح ن ماضی کا بھوت ہمارا گلا دیاے ر کے گا اور ہیں سائس تک لیت تمیں 
دے گا ۔ فی اور راشد کی نظموں میں ععمت چتائی کے اضانوں ہیں نمیں ے 
اصاس تو 1 ہ ےک جم ماضی کے بوجھ ےہ دبے پڑے ہیں لین رج کل کے کات 
والے تو ہہ بات اپچے آپ سے پا یچتے بھی خی ںکہ ماضی سے بہار علا کس تم کا سے 
اور ہمارے طرز اصاس میں ماضی کے اجقائی تر ےک وکیا دحل ہے ۔ اس بات سے 
وافت ہوم لقیراردو کے اضالینے میس صمح یز تزمیدات اور اضائے کی ےک رگھیں ۓے 
ممبری مھ میں شمیس آ.۔ قریض کیچنتے آ پکوریں یو کا ہہ تملیتقی اصول بست پنر 


۲۳ 

آیاکہ اپنے حواس ضس میں جان بوچھ کر اختقار پا کیا جاۓ ۔- اب سوال یہ ےکم 
اردو میں اسے کیے بر جاۓ ۔ ؟ جس ارب نے آرج کک حواس شی کا استمال ہی 
ٹھیک طرح نہ ھا ہھ دہ ان کے اختظظا رک ھکیس سار لے گا * آپ پوچھیں ھےکہ اگر 
ہارے یماں ایک دم سے تجزیدی مصور یکی ریل بیل ہو ححق ہے تو رین ب وکی طرح 
کا او پکیوں خی پرا ہو کت ؟ قصہ ہے کہ آپ رگوں او رککیمو یکو قر ایک تُلکآت 
سے اھاککر دوسرے ملک میں زبروسق لے جا ھت ہیں ۔ یکن ایک زان سے لفظ 
دو ری زبان میں خعخل میں کۓ ہا گت ۔ تھوڑی سی مشن ىا ہمارت کے بعر آپ 
ورپ کے گزیدی مصورو ںکی نخل اتار ھت ہیں لگن رریں بد کے الفاظ کے خن جھ 
صدڑوں کا اتا ی تر ے این ےگنن اف رپ ابی داع گے اففاظ و رض بے 
کی طرع استعال تھی ں کر بت - رگگوں اور ککیرو ںکی بدد سے آپ تھونڑی وم کے لے 
وٹ بول بت ہیں ۔ لیکن الفاظ بڑی نظالم نز ہیں ۔ سہ فورا بھاجڑا چھوڑ ریے ہیں - 
تخلیق کا میران حرصہ نٹ رکی طرح ہے ۔ یماں نفسی نفسی کا عالم ہے .۔ ذاتی تب ےکی 
لہ یہ تو تیم نے عق ہے تہ تالی مہ خلوص سر رشزو رایت ۔ آپ چو یوکھیں کے 
دی کانمین مے ے 

قصہ مق رآ پکو اتی زیان کے اسالیب میں اگ رکوگی تید ٹ یگوارا میں ت3 آپ کا 
ادب ایک قم آگے خی بڑھھ گا ۔ مع اور خام کے بارے میں ہارا جذماتی روگل 
وہ خمیں جو عبراسن کا تھا * می ران بھی جارے اندر سی “ لگن ہم ہویمو وہ خیں چو 
ران تھے ۔ اس کے برخلاف اگر آپ صرف جدرٹلی اور تزمیم کے اتل یں اور ہے 
میں جا کہ یر امن تج بھی آپ کے اندر ٹیشھے ہیں اور انموں تے آپ کے 
اصا کو جکڑ رکھا ہے و آپ کا ادب بیشہ جوں می ٹاک ٹوئیاں ما رتا رہے گا۔ ا کی 
کت یا یق بھی خی گی 

کے ور سے کر ری سیا وا عق وی وہ مرو تب تخت ستوظاظ ۔ 
اس لئ اب اس مل کی رف ٣‏ ہاتا چاۓے جو مم آرخ پچھیڑنا چابتا ہوں - پاتھورن 
کے خادلی ””اسکارت ایٹر کے مرح پر نظ ران یکرت ہوئے عیرنے ساسح ایک پاچ 
چھ سطروں کا جمعلہ آیا شس میں سے اطلاع یم جات ی گنی مچ یکم حتیل کے سا سے ایک مع 


0۵ 


ٹیا ہوا ہے ۔ اس جملہ میں منظرکی تقعصیلات اس تزحیب کے سا اتی گئی تھیں 6)0 
ایک جوم ہے ۔ (۲) ہہ جوم مردوں کا ہے ۔ جج نکی خصوصیت یہ ہے کہ سب کے 
سب داڑھی وانے ؤں (۳) اب ان کے لیاس کے میان کا وقت ٢‏ ہے (۴) پھرپع 
چتا ہے کہ بجوم میں بد عورتیں بھی ہیں ۔ (۵) ان جس جح گے سرہیں او ریہ تے 
ٹییاں اوڑھہ رھی ہیں (۹) سہ جوم ایک ککڑی کی عمارت کے سا ےکھڑا سے (ے) 
مارت کے بچھاکک پر موٹےے موٹےے مض جڑے ہیں (۸) اور لو ےکی مبجخیں گی ہیں _ 

لہ فو یں ہہ شثائی کرت رہا ہو ںکہ ہم اردد وا لے کسی پچ ہکو ان حواس خح_ 
کی مردد سے محسو کرت ےکی صلاحیت میں رھت اسی لے جم اس کے سان صقت 
استعا ل 5رت ہوۓ کھبراتے ہیں _ یکن اس جملہ میں حواس ت کا سوال بی تمیں “ 
صرف ایک بصارت استعال ہوگی ہے ۔ خن اس کے پاوجوو اس جن کو تخعیات کی 
ای ترحیب کے ساتھہ اردو میں شعفل خی ںکیا جا کا . اگر بی باتیں اسی ترحیب کے 
ساھ اردو می ںکتی چائئییں نوکم ا زکم ححن چار جھلہ کھت پڑمیں سے ۔ لی منظر کے اجڑا 
ایک دومسرے سے انگ ہو جائیں کے اور جاری کا تور لہ تو ہر زکو علور, علورہ 
دی گا ۔ اس کے بعد اخمیں جو ڑکر پھر سے تسو بیائے گا ۔ ىا اکر اپنے داغ پر دہ 
زور خی ڈالنا چاہتا “تو ان کڑو ںکو اسی طرح حا ہوا رچتے دے گا ۔ بمرعال اروو 
کا ایب و چند تقصیلات قراہ مکر کے نچعت ہو جاتے گا ۔ ا نکو ایک متضبد تق کی 
شل دینا یا ض وین تقاری کا کام ہے ۔ آ پکمیں ےکمہ اس سے قرق ہیکیا با نا سے - 
خیال ' تو اردو میں بھی وی ادا ہوا جھ اصل اعگریزی عیارت میں ہے ۔ اس میں 
لک جمیںکہ ” خال “دی کا وی رہا “ جن گزی۔ چھ اور ہوگیا _ ارب کا علق 
خالات سے خیش ممہ قریات سے ہے ۔ پاتھورن نے صرف ایک منظ رکا نتش نہیں 
ھا پک اس من کو دیکھن کا برا عمل دکھایا ہے ۔ دیکت دال ےکی لاہ تے درچہ 
بد رجہ شس طرح حوگم تکی ہ گی اس کے ہر ہر قد مکی توم بی ہے ۔ ہے جملہ 
نیس ٴ ایک پورا سفریامہ ہے ۔ اس سے بھی بڑی بات ہہ ہے کہ اس جملہ میں نظراور 
خنط الین من تلع کک ای و سے :بین تب ان ععع کو وو سے ا پاہرسے من 
دکھا جا را یکلہ انی مہ تقائم رہجتے ہو بھی ایک وسع ت کل کاجز ب یکر _۔ اس 


0 


منظر میں ایک اندرونی کت سہے جو اضانی نظ ریرش سے ارڑی جم آننک ہے کہ 
آپ ان دوفو ںکو ایک دوصرے سے جدا می ں کر ھت - ایا جملہ اس وقت گلا چا 
کا ہے ےکمہ جب آدی کے ول میں خاری اشیام کے ع(ورہ وجو رکا اترار *ان کا ا<زام 
اور اپپنے آ پ کو ان کے جوا لے ےکر دی ےکی ہمت ہو - جب آری بی وقت ان ے 
انگ بھی رہ ے اور اپنے آ پ کو ان میں عحلیل بھی ہو جاتے وے ' اور اوپر سے ہے 
دی کا ہوش بھی برقرار رج کہ اس وقت ھیرے ساج کیا جات چی آ رہی سے - 
پینی آد یکو خارتی چچیزوں سے بھی وی ہو اوہ اپتی ذات کے سارے عوامل سے بھی 
.از اردو وا امس تم تا جم میں لگ بت لو اس کا خطلب بی ےہ جن طررع 
پاتھورن دیکتا سے اس طرح ہم میں دکھد ھت - 

اس بات سے خود امعنانی کا سامان چدا نہ کی ۔ وراصل م لے سے ہک کر پچ 
لن کی کوشش یہ کییے کہ عخرب کی خصوعیت سے عحلیل اور چیہ * مشرق کی 
خصوصیت سے اعتزارح “کی کہ ہاتھورن کے جملہ میں دوتوں پاتیں موجود ہیں * تجڑے. تھی 
اور امتزارج بھی ۔ ہہ صرف چند گگڑوں کا جموعہ شمیس پور ی اکاکی سے ہمارے ساتے 
سوال بی بی ےکلہ آخ ہ مکی ححقیق کو کھڑوں میں باعٹ کر * منتشرعالت می ںکیوں 
ریت ہیں ؟ ہاری نظراسے ایک متضبد شحل می ںکیوں میں دکھھ عمق * ہم ایک کل 
کے اجزا میں نامیاقی رشن کیوں خیں تام مم کر بت ؟ ہمارے جةہاتی ۳ام میں سے 
مھذرنے کے بعد چڑیں ایک دوسرے سے ان کگکیوں ہو جاتی ہیں ؟ 

کیا جم اپنے آ پ کو مک کر قلی دے لی سک تماریی چیڑوں میں اک ککر رہ جاتا 
ور پکو میارک ہو - مادروں رامگریم و عال را ؟ جن لوگول تے جمہ اوست کا فلقہ 
چپ را کیا سے اخمیں مہ بجھناکماں تک زیب وا ےہ چیوں کاکوگی وروں خمں ہونا 
اور علاش لا می سے ؟ کیا بورپ کے جمییوں اوعوں اور شاعرو ںکو انسان کے وروں 
تفآ یش تی زیت توف ا دیو عو کے خاسلی خمن موق ٣2نا‏ قارق 
اشیاء اور انسان کے جسانی عواعل روعاعیت سے اھ بے تلق ہی ںکہ ہم ان سے 
بائٹل ہی بای برتیں -؟ 

ہے ک کر بھی ہم اصلی صیلہ سے چا “یں چھٹرا سک کم ورپ والوں میں اچے 


4 


اصاسات کے مز ےکی صلاحیت “ تلیک یا بے دتی کے خفقیل کی ہے ۔ یورپ میں 
یسبوں شاعراور متصوقین ایے ہو ہیں جنموں تے اپنے اصاسا تکی تختیش کو ءا 
کے عفان کا ذریعہ منایا سے ۔ شابید جم اس خیال میں گن ہو ں کک بھیں تخل کی 
ضرورت ب کیا ہے ۔ ہیں تذ سرور ازلی حاصل ہے ان سرور از لکوگی ای چ یں 
جس کے سمارے وی من ہو کے جیٹہ جاۓ ۔ محیشویو کی بات دو سری ہے - عام 
تم کے آ دی اس جرب ےہکو چند نٹث سے زیادہ خمیں سار بت ۔ مشکل اس بات میں 
یی آتی ہ ےکمہ اس سور میں اور صلی زندگی یا انسانی ان کے عام عوالل میں 
راببلہ پر اکیا جائۓ ۔ ا سکیغیت کے شحم ہونے کے بعد بھی اگر آ دی اس خوش ب نی 
میں پڑا رہ ےکہ جھ پر دہی سرشاری کا عالم طاری ہے و ا سکی شاعری جیا تکی یں 
رت بلکہ پروگرا مکی مین جاتی سے ۔ عالاککہ میں فاری اوب کے متحلق بب کت ہویے 
ور اکر ہوں _ لان انتا تر یج بھی معلوم ےکم عمق اور حافط کی شاعری می تھوڑا 
سا فرق ے۔ اردو خمزل مم عال وقال کے روایق جذکر: کے پاوجود عالم جذب کا 
شاعر یکییں میں عق ۔ اور نے سابتی حالات میں نے ا سکیقیت کا تصور کک بای یں 
رہا۔ لین ہیں زہنی اور ضی آرام عطل کی جو عادت گی ھی وہ تج کک ممی ںگئی 
۔ جمارا ریہ تو یا دہ میں درا جھ آج سے سو سال پچ کے لوکوں کا تھا ۔ لان چوک 
جمارا رز اصاس نہ تو بدلا شہ ہم نے اسے یرس ےکی ضردرت محسو سکی ۔ اس لے ہم 
اپنے آپ سے بھی پدری طرح واقف خی ہوتے پاۓ ۔ ۳۷ء کے بعر حخیقت پندی 
کی ترک نے خارتی اشیاء کے بالارادہ ماہر سے کے ذرسیجت اصاس میں تھوڑا بمت 
فرق پیا کرنےکی ج ھکوششل کی خی وہ سیاست یازوں اور اردو کے پروڈسوں کی نژر 
+۶ - 

ہاں صاحب * اپنے ریا تکی انفرادیت اور ندرت سے نخاخخل برتت کا ایک بمانہ 
اور بھی تو ہو سکتا ہے ۔ آپ پھرودی مطرق اور مخرب میں غیادی قرق یالیس گے اور 
کئییں کہ مغرب نز اڑل سے خ رش کا ھکار ہے ۔ ہ رآ دی حقیق تکو اپنے آپ 
دریا نت کنا چاہتا سے ۔ اس لے اپنے چھوٹے سے پچھوئے تر کو الٹ پل ف کر 
دکتا ہے کہ شابد میں پجتھ نل آمے اس کے برخلاف اب سے سو سال لہ تک 


۲۴۲۰۸۸ 


مشرق والوں کا ایمان ایک ححیقت عفٹکی پر راج تھا اس لے ہیں تجریات کے تر ہے 
اور تخیشل کی ضرورت نہ جی اور جمارا اورپ چچزوں کا اخقضاص تیں بللہ ان کی 
عمومیت پٹ یکر تھا ۔ یھ نلم ےک ...... یہ طرز اصاس بھی اپتی مہ تقایل قزر 
ہے اور ئل قدر ارب پیداکر سک ہے ۔ جن صرف اىی وق تک جب قزیات کو 
محسو سںکرنے کا ہہ طریقہ خود قجزیات کے اندر سے پیدا ہو۔ اگر ہم ایک طرف تر ہے 
یی کے نرسے میس 7 چچے ہوں اور دوسری طرف چیزی ںکو اس ط کی ںک جے 
پر زی عشیت مستفل طور پر متحین ہو چجی ہے ہم صرف جھوٹا اور <علی اورپ پیا 
تہ تین نے سآ سے ین کا سب سے کے ان ناک شک بنا ےد ات کا 
جزب ممی ںکر سا ۔ ہم اپ کو ماضی سے آزاد کھت ہیں * ئن خی رشعوری طور پر 
.اض کے چتے می ںمگرفار ہیں ۔ مہ نے ہوگی آج کل کے ادیو ںک یکم بمق ۔ مجن شر 
کے روا شعور میں بذات خود ای کفکممزوری موجور سے ۔ رق والوں کا ائمان ختیقت 
عفلی پر راج رہا ہے ۔ ئن جب ایمان خور اپنے اوپہ ایمان نے آے تو حقیقت عفئی 
سے انل ہونے گنا سے ۔ مشرق وانے ہرز میں حقیقت کا علدہ تے ضرور دیکھا سے 
ہیں ۔ لن ذرا حور ھی کہ ہمارے یماں اس بات کو مان کس طر کیا جات ہے - 
اردو میں عام طور سے اس موجع پر کت ہی ںکہ حقیقت عف ی کی شمارتں ہر طرف ٭ 
تھی ' پڑی ہیں ۔ ہمارا بے اعقناتی کا روہ ت2 اسی لفظ کے اسخحاب سے اہر ہے ۔ جو 
نز ہر طرف کھری بپڑی ہے اسے اھانے کے لئے کاو شک کیا ضرورت سے ۔ مہ امت 
آج بھی ہو سکس سے ۔ کل بھی ۔ پرسوں بھی ۔ ممکن ہے علی ما فاری کے شماعروں میس 
کاوش کے ہار بھی نظ رآت نہوں لیکن اردو سے شاعر فو ان شماوتن کے اس بری 
رح اتل رہے می ں کہ انی دیکت سے بھی جی اما بے ہیں ۔ جب ہیں بعل تی 
سے معلوم ہ ےکم ہر جن کے چیہ حقیق تکیا ہ وی تو اسے دیع ےکی ضرورت بج یکیا 
سے ۔ جب ہم جا نے ہی ںکہ چچیزوں کے درمیا نکیا رشع ہے و ان میں رپا تا ئمکرتے 
اور اخ٘ییں تزحیب دی کیکوسش ش کیو ںکریں ؟ اسی لے ہمارے ادب تے چچڑوں کی 
طرف سے اور انسان کے سی جرب ےکی طرف سے اق بے اعتتاتی برتی ہے ۔ چوکلہ 
کوگی بات وریافت طلب می بی میں * اس لے ہم نے ااسا کو وریاشت اور 


٦ 


اکشاف کا زرییہ یں بتایا اور عہ اپے اضاسات کو اعتزام کے تال مھا ہم کسی 
یں سے ہم خوش ہونے کے سے کے ممیں بیہے۔ کیوکہ وہ تق نلم بی سے 
بحارے جوا ل ےکر د یگئی تجھیں_ جم چزوں کے اندروقی اور یادی را کے الی بری 
رح تائل ہو ےککہ ہم تے اپنے شعور یں اتمیں کڑے ککڑے ہو جاتے ریا۔ 
ہار ی نر کے اسالیب اسی طرز اصاس کی نمائندگی کرت ہوں۔ جب گک بمارے 
معاشرے میں کی نہ کی حد کک انضاط موجودتھا “نہ رز اصساس بھی اتی طر ح کی 
علبتقی قوت رکتا تھا۔ لین مہ انضباط شم ہوا ت مارے بے کا نغام بھی ٹو گیا - 
چوکلہ طرز اصساس بھی وی کا ددی رہا جو پراتے نظام سے جم آ بک تھا اس لئ ا سکی 
تلبقی قرت بھی روز بمو زکم ہوقی پل گئی اور مارے او پک ہ ہگمت یی ہو رع نمیں 
ظز ری ہے اعم یا نٹ کے اسالیب سے ملق سابل صرف اصطزای جگوڑے 
نمی “ ا نکی جڑیں ہماری اجتائی عخصیت اور اجخائی تجربے میں بست وور کک جاتی ہیں 
ےاروو زان ادر اد بک خالی خولی نشریف یا برات یکرنے سے کام جیسں ےہ گا اردو کے 
ادیوں سے تو میں مابوس ہو چچکا ہوں ۔ اردو کے پروفسرنقادوں تے ا نکی ڈہئی عاوتں 
ست گا دی ہیں ۔ الیسعہ اکر اررو پڑ ھن والے اپنے اد پکو دویارہ زنر ہکرا چاے ؤں 
ائی د ینا پڑے گاکہ اردد اقلم دخ کے موجہ اسالیب ان کے قزیات کا اظلمار 
کرت ہیں ما ا نکی نیل می عارج ہوتت ہیں ۔ اور اگر یہ اسالیب اشیں اپ 
آ پکھ جاسفے سے روک رہے ہیں تکیوں اور کسے ؟ اردد پڑ ھن وانے اپ اہىیت 
سے واقف ہو جانھیں اد رکیوں اور کی ے کی گر میں پ ہچائیں ت3 رج کل کا ادی مور رو 
روز دور ہو جانے ۔ لان پڑ ھن والو ںک کون جاتئے ؟ ادیب لوگ اہن آپ ے 
کین جج ی زج تج 


۳ء 


اردو میں طنرکے اسالیب 


یھ رن ہوم میں تے اپنے ایک ممون میں ہے ایا تھاکہ اردو میں مخرلی اوپ 
کا تج ہکرت ہو ےکیا دشواریاں یش آقّی ہیں - عیرے تحص روستوں نے اس پر جھ 
سے ای تک یکم حم نے اردو کے ساخھ بڑی زیاد یکی سے ۔ آتر اردو میں بھی ای 
چیزیں موجود ہیں ہن کا زج مخرلی زیاقوں میں ہو بی میں سکتا ‏ اس حقیقت سے 
نہ لہ انکار تما تہ اب ہے ۔ ہروا نکی الیک روح “ ایک شحخصیت اور انقارمت 
ہوقی سے ۔ اور اس شخصیت کی تقگی لکرنے والی قوتیں اتی زیادہ ہی ںکہ آسائی ‏ رے 
ان کے نام بھی میں لے جا ھت ۔ جخرافاتی حالات * ضلی مزاج اس زیان کے بوئۓے 
والو ں کی تاریخ * ان کا نہپ “ان کے مخختزات * پچھران سب عناص رکا ایک ووصرے 
بر عحمل اور روگل ۔ یہ ت موٹی موٹی باتیں ہوکھیں گر ان کے علاوہ جو چڑیں می 
زبان کا خصوص زاکتہ معحی نککرتی ہیں * انی ںکیا مام دا جا ۔ ىہ نی ا ال رق 
ینہ میں خمیں آ رہ عثال میں الع بی یکر سک ہوں - اتسویں صدی کے روی 
ناولوں میس لوک معییت کے وقت ىا ول مر خی کے عالم میں ایک ووسر ےکو ” بھاگی 
* کت ہیں ۔ ورجینا ولف کے خیال میں اس لفظط کا تزجمہ اگگھریزی میں ہو جی میں کا 
۔ کی وہ اگگری: انقرادیت ند لوگ ہیں ۔ دہ کسی ودوصر ےکو اپنے شم تک میں شر 
نی بتاتا چاہجے ۔ ایے موقع پر انگری: اپے ساتی کو زیادہ سے ناد (ط۸ءن 


۴۲۲ 


ک کر حخاط کر ے گا * لگن اس لفظ مس وہ اساس رفاقت * دہ پاگلت مفقتور ے و 
روسییوں کے '' بھاتی ' میں ہے ۔ مہ ااس بی اگگریزوں کے لے اجضی سے ت پھر 
ان کی ویان میں اس کے اعمار کے لے لف طکماں سے کے گا ؟ اس طر عکی ایک 
معثال اردو سے مججئے _ 
نیا ہے سوا کرے 
میاں خوش ریو جم رعا کر لے 
اس شعرمیں لے معرییہ کا تجمہ تو اگگریزی مہ ں کسی نکی طح ہہو جائے مگاگگر 

دوصرا مصرع تو ایا ہ ےکلہ تشریجی فوٹ آ ےکر بھی اس کا مطلب آپ اعگری :کو خمیں 
مھا ھت ۔ ہہ حالی ایک لفظط ' میاں "کی وجہ سے چوا ہوئی ہے ۔ مرا لفظ میں 
ایک قاست نی ہے کم جج کی 3دا خی کے نمانہ کپ انی عطاط بک ان سے 
ذریجے گے سے ڈ_ا بھی کت ہیں اور دور بھی کیل ھت ہیں ۔ اس ایک لفظط میں ہم 
آ گی اور پیا تکی موجووگی کا اترار بھی سا سکس ہے “ ہیدردی کا مطالہہ بھی اور بی گی 
کا اعلان بھی ۔۔ اب صرف ایک شاعر می رکے یہاں سے اس لف ظطکی مثالیس ویکے جو میں 
نے بی کسی کاوش کے موں ہی جن کی ہیں *۔ 

کیا بپوچھو ہ وکیا کے میاں ول نے بھی کیا کا م کیا 

عق پ ناکام رہا خر کو کام تام کیا 

جوش خم اشن سے اک آندرھی پچ آتی سے میاں 

خاک ىی منہ بے رے اس وقت اڑ جاتی ے میاں 

اک بھحرمٹ حال کا اک ال ماتی سے میاں 
گھ میں ہوں سو ار ہیں میاں عاقبت اک دن حاب سے میاں 

کیا ککیس پایا خی جانا سے مھ تم کیا ہو میاں 

جم ھے وا سے خم ہو اور اپ وا ہو میاں 

تر ١ںی‏ پیٹان عال کی ہے ورھی ۰ 

رھ بل گے ے ایا ھ ہو سوا طان 


21 

کک ےکو تو ہے لفظ دوس یا رفاقت کے اساس پر لال ت کرت ہے * لگن جیسا اوھ 
کے شعروں سے تظاہرہے کسی تو اس کے ذرسیے الا انا پن پیا ہوا ہ ےگویا ککۓ 
دالا غورد اپچنے آپ سے یاتی یکر رہا ہے * او رکبھی اتی دددی آ جاتی سے جیے ہو لۓ 
وانے اور ضنتے والے کے درمیان عداوت ہو ۔ خرض سے لف ط کی ایک اضانی تلق پر 
ولاات خمی ں کر ؛ بلمہ بہت سے مانوی جزیات اور اصاسات پر عاوی ے _ جتیں 
اردو پولے والیں کے اندروٹی گجربےہ نے ایک خاص اضساتی تلق سے ضل ککر وا ے 
۔ (قی المال کام چلانے کے لے اس تعلق کا نام رفات رکھ لیے ) ہہ تعلق یا رشند 
دو سری قوموں کے نظام زندی می بھی ایا جانا ہے لیکن جن مانوی اصاسما ت کو ہم 
اس رشن کے محت رھت ہیں انمیں وہ لوک شایرکسی اور رت کے ساتھ چپچاتے 
رے ہیں ۔ مجن جماں کک بدے بڑے اضانی رشتوں کا تلق ہے تو وہ بھی قرموں 
یں ایگ سے ایک ہو ھے.۔ کن ایک رز جنے کے مت او رکون کون سے اتی 
اصاسمات آتے ہیں ۔ مہ چی ہرقوم میس ملف ہ وی ۔ ایک توم کے گجربے اور ووسری 
قم کے کجربے جس جو فرقی ہوا ہے دہ دراصل اساس اور جز بے کے اض عرکپات 
کا فرق ہے ۔ بڑے بوے انسانی رشتو ںکی ظاہری شل چاہے ہرقوم میں ایک جی ہو 
“لین چرقو مکھ ان کا تجزیہ بالئل ایک انگ طرح کا عاصل ہوا ہے - اس کا مطلب 
یہ سی ےکہ ہرر نے کےمرد جو مانوی عرکیات ہوتے ہیں ان کے ترکبی اجزاء ہرگ 
ایک جیے مس ہوتے ۔ ہیں سے وہ نپوا ہوقی سے سے ہ مکی ذیان کی روخ یا 
شخصیت کت یں اور ای ُۓ ہرزیان سے اسالیب بیان اور ژْرہ الفاظ کا ایک حصہ 
کچھ اس عم کا ہوا ہے یی ےکی دوسری زبان میں خعقل میں کیا جا کنا اکم ےکم 
تج کرت ہوئۓ دشواری یل آکی ہے س ىیی وجہ ےہ روی کے * بھائی "اور 
اردو کے ' میاں '"کا ایی میں تزجمہ میں ہو سا ۔ کسی زیا نو حض اتی ہی 
بات پر نات میں قرار وے کہ اس میں کی دوسری زیان کی حض چچڑوں کا 

تج "یں ہو سکا ے 
ون فیا نکی ایک روح یا ایک انفراریت ہوتے کا مطلب ىہ بھی تی ں کہ اس 
کے الفاظط اور اسالیب مس مرے سےکوگی اضافہ یا تیدیٹی واقع بی تہ ہو اگر جم زیان 


"۲۳ 


کو ایک خامیاقی وصدت ماسنے ہیں ے ہیں ساخھ ہی ہہ بھی انا بے گاکہ ووصرے 
نامیاقی اجسا مکی طرح زیان کے اندر بھی فنٹوونھا یا اصطاط “خر شق کی نکی یی کا 
گل ضرور پایا جاۓ گا ۔ لگن ہم اردد والو ںکو مہ بات ماسننے سے انکار سے ۔ پچیجلہ سو 
سال کے عسے میں رورپ سے طح طر کی خی ممھتیں آنیں * سے سیاسی اوارے 
اور خالات آے ۔ حے اخلاق اور مابعد الطاقی تصورات آے ۔ ان سب تے 
صارے شعور اور اضاس میں طرح طر حکی جریلیاں بھ یکیں “ جمارے اوییپ اور ثقاو 
ان جریلیو ںکو تلیم بھ یکبرتے ہیں اور ا نکوکی نکی حم کے نام دی ےک یکونشش 
بجھ یکرت ہیں - ین شعورکی جبدرٹی کے ساتھ جماری زیان کے الفاظ “ اسالیب “ 
اشارات وکنایات اور لب و ےچ مش جو حریلیاں ہونی چایۓ شمیں ؛ و کییں نظ رتمیں 
آٹیں ۔ یہ کام ادیوں بی کا ہة پا ہ ےکم شعور و اصا کی ہر تید پ یکو الفا اک یگرقت 
میں لاکیں اور اس کے گے اگر ضرورت پڈے ت نیا پیرایے میان ایجا دکریں - ججارے 
ادیوں نے بوں ت سیاسی “ساب ٴ انا بی ہرم کے فرائحضس اپنے زے لیت ک یکوشش 
یی و ا ابترائی اور بیادری فرضلی سے جان چھاۓے رہ ۔ شعورکی پی کا 
اشمیس جقنا پھ اصاس تھا ۔ اس کے مطابق اگر انسوں نے اپنے انداز جیا نکو پر لے ےکی 
وش بھی کی و صرف ات کہ برانے اسالی ب کو ایک ایک کر کے چھوڑتے مل 
جائئیں ۔ چتاتچہ عال ہے ہوا ہے کہ آبج کل مارے اورپ می جو نثراستتمال ہو رہی 
ہے وہ اتی ساخت کے اختبار سے ارد وکی من يکتاب والی نے *اس پر طخلد ہک 
ععاری ذیان' دنا کی بڑی سے بڑی زیان کے مقاے میں لاگی جا مق ہے اور اروو کے 
اسالیب می ںکی طر حکیکبی سو سکرتا اردو کے دشمتو کو برد بچتچاتا ہے _ 

ہماری موجود عم اور نٹ کے اسالیب شعو رکی حیریلیوں کا ساجہ رین میں کس 
بری مب خاکام رسہے ہیں ۔ ا کی میس آرح صرف ایک عثال بی ںکروں ما بت ہیں 
کہ ۳۷ء کے بعد جمارے ازیوں تے ج رع مکی سای اقدا رکو تک و یی نطرے 
دنا اور اڑ صرتو کٹا رو عکیا ‏ کی وگلہ وہ روا شعو رکو ش کر سے ایک بالنل سے 
شع رىی یاد رکھنا چاہچے تھے ۔ اس میں شیک خی ںکہ اس حم کے خیالات ہمارے 
ادیوں کے زین میس آے ت3 رور مجن سوال ہے ےک خیالات ایک بم گی یذباق 


۲۴ 


اور صیاقتی ترب ےکی شکل می کی شل بھی انتا رکر ‏ کے یا ضس ؟ اگر ایا ہوا ہو 2 
مارے طتریہ اور مزاحیہ ارب میں یھ اس تم کا لپ و امہ پا ہونا ضرور تھا جو ورپ 
میں 1ا فلومیتزاور لافؤرگ کے یماں تا ے اور اررو “اد بک پوری ار مں شی 
کا اہ یو تی تا خی اہو ککران ےرا ور از سے 
الزاغم ہے ین کک الک ہہ بات پمردہراتے ویتا ہو ںکہ مھ اپتی زیان مج ںکیڑے ڈالنا 
مقر خھین ۔ اگر ٣ء‏ سے پپنلے اروو نٹزشض نو کا لپ دا سے 
کہ ہہ چچن مارے ہزیہ جس آکی می نہ تی اور مارے شعو رکو الۓے پیرانے اتلدا رک 
ضرورت ی تہ پڑی تی جب لوگ ق اہن اچ معاشرے اور اس کے اتزار ے 
می ہوں ت انمیں ظویئ ری طرح زہرلے اتراز ز میس ہوشث تی کر صراتنے کی 
ضرورت پیٹ خیں آتی ۔ گر حایت تو ان لوگوں سے ہے جو زبان سے اپنے لک کا 
اطان کرے یں ۔ مر جنموں نے فلویت کی طرح مصگرابا ابیھی جک میں شی “یللہ 
اردو زپان میں مم رانے کے جشنہ طرییقہ موجود تھے وہ بھی پاسھھ سےکھو وچ ے 

اروو اد پ کی تار میں طبر * خر * تحیک یا عراوت کے ججتے یق سے ہیں 
پچللہ ت ا نکی ایک نابمل سی فرست بنا ایس ؛ بای چٹ بعد میں ہوگی - 
۵) چزوں کے صرف و حضس نظھارے سے لطف یا انیسالط حاص لکنا _ ھا نظ راکیر 
آبادی اور لسم ہوش ربا کے محض صے _ 
( )کی نز پہ صرف اس لے نناکہ دہ غی رصعمو ما عام روش سے الگ ہے ۔ سے 
اررو طترو مزارع کا عام انراز ے ۔ 
(۴) مکی چنز بھ اس لئے ضناکہ وہ میں اپند سے شا سار تسین اور اوھ تچ کے 
روضرے ات رات لڑے 
( مکی آدی پر اس لے طترکر کہ دہ راہ راست سے جج ٹگیا ہے لا تڑے اجر - 
)٥(‏ ووسروں سے طور طریقوں “ خیالات و جذیات پر تقارت کے ساج مگران ا کیوگلہ وہ 
سب ہم سے پست او رکمترہیں _ لا اپ - 
(۹) اردو میں طنرکی محراج ہیں عیر “جو م۷ راہ ٹکو اتی حخصی ت کی تختش کا زریی 


نات ہیں۔ 


۲٥) 


یہ غغرست ناکھل سی گر اس سے اتا ضرور ظاہر ہو جانا ہب ےکہ جمارے ھی رکو 
چھوڑکر اق شماعریں اور خٹرتگارو ں کی تزیوں میں طنزو ما عکی غیاد خور ا ینان اور 
خود پندی پر تمائم ری سے -.۔۔۔ اہ مموں میں بھی اور برے محتوں میں بھی _ 
ہمارا اویب عام طور سے اس لے تی بنتاکہ اسے مروچہ اقار اور خالات ج ںکوگی 
ال بے جوڑ جات نظ رآ کئی وہ تو اپتی سای یا اتی اقزا رکو معیار بن اکر اخیں وو عروں 
پ عایی کر سے - یہماں اپنے آ پکو * دوصرو ںکو “سا حکو ؛ انسائی زندگی یا کاتجال تکو 
کے کا جبزیہ دکھاتی کک میں دا * بلمہ اس خی کے چیچیچہ تو مہ نقین کار فیا ہ ےک سے 
ساری باجتں ھی جا چگی ہیں اور ا ب کی تختی شکی ضردرت باقی یں رہی ؛ مہ ہم 
ایت وق اور ائمانداری کے ساجھ ووسرو ںکو ابنۓ مقر رکروم معیاروں کے مطالِق 
جا بت یں - 

اس کے برغلاف خی اوب میں ایک اور عم کی نی ملق ہے جھ کیج سے 
میں بللہ او رکیھھھ خیں ت ےکم ےکم وول اور راٹے کے زہاتے سے شاعروں اور ڑ 
نگاروں کے کلام مج ںوج رتی سے “یہ فی خود ببندی اور خور اعتاری کی یں بللہ 
کانا تگیر بے اعمینا یکی ہے ' اسے مضر بک مادہ بس اور تقلیک پیند یک کر بھی 
تیں خلایا جا سکنا کیو کہ ہہ نی ان وینداروں کے ہاں بھی ملق سے جو ان ایما نکو 
برکھنا چا جے ہیں اور جہن کا غقین اتا تلم ہےکہ بڑے سے بوڑے کوک اور شا تکو 
بھی ہن مبر نے جات ہے ۔ اس مت مکی بجی نت کے لے "وی چچیزو ںکو مررہ پیائوں 
سے میں ناچا بلکلہ جن بانوں پر مقین ہے ۔ انی بھی تھوڑی دم کے لئے ردکر کے ہے 
دمنا ےہ اب انسان اور کاتئنا تک یمیا شحل نی نظ رآتی ہے ۔ مہ فی چو ںکو 
کھی سبھاگی خیا لہ کر کے اق میں اڑا ری کا طریقہ میں “ بللہ ہرچ زکر ہروقت از 
سرن کت کا اصاس ہے ۔ اس پأسی کے دو پھلو ہیں “ ایک عریے “ دوصرا نے کے 
سی ایک طرف ت پرچیرے مطلق آزادی اور بے تلق پر ولا تکرتی ہے ٴ ددسری 
طرف ہر چز سے ملق ہوتے اور اس سلسلہ میس اپنا رومیہ مصعحی نکمرت ےکی پابندی پر- 
اپنے حاح اور ا سکی از کار رت اقدار بر تذ لڑکے بھی جس لیت ہیں - جن وومروں 
ہے علادہ خود اچے اوبر “ انسان بر “کائنات پر * اور الع سب سے یلند قوتوں پر ہنا 


اف2 

اور ای طرح بسن اکہ انسانی شور حور ہو جاۓ ' صرف اىی وقت محکن ےک جب 
بے والا اپنے اصاس * اپچے جذیات ادر اپنے زان سے بیک وقت پری طخ کام 
نے رہا ہو ۔ میں می ںکتاکہ اس خی کے مق رکوتی تذیب کل یا بڑی میں 'ق_ 
انانی شخصیت کے مض مظاہرايیے بھی ہوں کے جو شایر اس سے بھی پوے ہوں۔ 
جن جس ادب کے یش رووں نے باقاحدہ چیددی مخرلی کاپ وگرام بای ہو اور جس کے 
نقاد روز یہ اعطا نکرتے ہو ںکہ میں مخرپی ارب سے جو یک سیکھنا تھا وہ سیک بے گر 
اس کے باوجود مخرلی طنرکی پر چھاتیں کک اس کی فظم د نی نہ پڑی ہو 'ت پھرای 
ارب اور زیان کے معلم برداروں سے پوچھنا ی پا ےک حعخرت چایے * آپ کے 
ادیب کی بانتںن کن پر جادر ہیں ۔ اگر ہمارے سم ادیوں تے قزرامت پیروں اور 
رواعت ژرو ں کو چو ٹا لیا نڑکون بڑا جرمارا - عوال ہے ےک اضموں تن ےنب انان کا 
دہ رہ بھی دیکھا اور رکھایا جھ یک وقت معتحلہ خز بھی ہے اور پر جلال بھی اور جو چا 
مو سال سے مخر بکی ہرعن ی مکتاب اور تقصوے سے اک رہا ہے ؟ جسویں صدی 
جس عم کے روعائی قحیات سے مگمزری ‏ ان سے چٹ نظرمیش اتی بات جات ہوں 
کہ جو زیالن ( ۶۱٣.۸7‏ 05ا1٣٣۷٥۳كئ)‏ کے اس مور فقرے معحصصست ہت 
(0 4۸ 821101-071 کو اشمیں میں کے ساجھ میں دہرا عق اسے سویں 
صدی کی زبان خمیں کا جا سکتا ۔ اگر آپ اتی ڈیان کی علامتوں ے وائتت ہوتا 
چچاجتے ہیں نو ٠‏ زرا اس چھوئے سے فظر ےکو اردو میں تزجح کر کے و کے ۔ 


چچھوئی بحر 


چچموٹی رمیں اچچھا شعر کال لینا مارے ہاں یش ہکا لکی رٹیل سجھاگیا ے ۔ 
چموئی بھرکی حیشی تگویا ایب حسو ‏ یکی سی سے ۔ جس سے فورا پعد یل جانا ہ ےک شا م 
کو زبان و میان بر تی قزرت عاصل سے اور جنس ترہے کا انظمار مقصود سے اس پے 
برا قابو سے ما خھیں۔ اس طرح چچھوٹی بھرمیں کامیاب شع رک ہک رکویا شاعراپنی فی 
چنگی کا وت درے وا سے ۔ ہہ سب ورست سے ۔ گر جس انراز میں مارے یہال 
چھوئی بک رکا زکر ہوا ہے ۔ اس سے سیاتھ ہہ اصاس ہوا ہے جیسے پچھوٹی بھرمیں کامیالی کا 
کوتی کیکساں اور خی رخ معیار ہے ۔ اور اس میں ہرشاعر ایک ہی توعحی تک کامیا ی 
حعاص لکمرے گا الا اس غلط تن یکی وجہ ىہ ہے کہ چچھوٹی کے اختقمار میس چچھ ای 
کلک “ مین اور نشثریت ہوگی ہ ےکم آدمی کامیاب شعر سفن بی پلک اتا ہے اور 
بھی می عام و دجن میں یھی شیرق میں ایی اکتو جانا ہے کہ آگے سو کی ملت 
بی میں ملتی ۔ اورو ںکو ری بے سی کا طضت کیا دوں ٴ خود بجھ یکو حال بی مین 
ا ھت ٹن ہوۓ اضاس ہواکہ چچھوئی بحرمیں * ول کا معالمہ " اڑی بے سانگی سے 
کھلتا ہے ےک سارے علفات برطرف ہو جات ہیں ۔- بڑی میں تو کن بھی ےک 
ری اپنا محخنصی مزارج او رکردار چا نے جائۓ گر چموٹی رپ لوہے کا کوامو ہے ۔ 
۔ لاب الد *عحذاب کا عطر لہ گا .۔ ییماں آد یکی اصلیت چھرانے میس تجی 'کیوکلہ 


"۲۸ 


یہاں شاع رک اپنے جرب کاىی جو ہر نی “ بکلہ اتی پوری خصیت کا جو ہر یکرت ہوتّ 
ہے ..۔۔ ارادی طود پھ شی یماں “ آدی انت ورلعہ انظمار کے پاتھوں مور ہو سے 
رہ جاج ہے ۔ چوکلہ اس حقیقت کا اندازہ جھے غال بکی خزلیں دک کر ہوا اس لئے 
میس طالب بی کے یماں سے نمونے بی یکروں گا ۔ طالب کی شخصیت کا میرے ڑن 
می کیا تصور ہے ۔ اس پر میں تفحلی بج تی ںکروں گا ۔کیدککہ آرج کل کے زہاتے 
سکہ جب پڑت اجکی طرف لوگو ںکی نجہ سرے سے ہے بی یں کی موشوع 
بے تقصیلی سے لیت جال ححرت الوب کی خی ہمت بے ۔ بجر 6ال گی ظفیت 
پر آقاب ار صاحب کا لویل ممون لہ سے موجور ہے _ جس سے اسچچی جتقیر 
غالب پر میرے خال میں ابھی جک خیں کسی گی _ 

غالب کے اشعار کے ہبہ سے لہ الیک بات اور تع طلب ہے ۔۔ سے پابندی 
میرے اوپر مم صاحب نے لثائی ہے ۔ عالاکلہ اشمیں معلوم ہ ےکم رح کل ممون 
کگھنا سال بھرکی یل بجگتے کے برابر ہے اور اس میں الیک کالم کا اضا کرت ایا ے 
یے سزا کی حرت میں دہ بختے ادر بڑجھ گن ہوں ۔ بصرعال مفلی میں ٹا بھی گیلا ہی 
کی حم اح کا سوال ہےکہ د کون سے قتیات ہیں جھ چھوئی ب رکا موضوع بنتة ہیں 
پا اس سے ہم آپگی رھت ہیں ؟ سرسری طور سے سوپے کے بعد چار فتم کے قزیات 
میرک جج میس آتے ہیں جو چھوئی بھرکے لے موزوں ہیں_۔ 
0) سید حھے سادے ابتاگئی جذبات کی حرت اور وفور جو بے لاگ بے ملف برانہ 
راست اور فوری اظمار کے طالب ہوں ' الا ا کی مٹالش اردو سے زیادہ قاری میں 


یس گی۔ 





تھے۔ جسیخج پي۔ ػغ تسا آز 
آزں تيے ××ل٣ن‏ سے او کے "نے 


کے یی گت “شس جج لے 
بجی سض یں ْر ٭ سے 
(ہ) 
(۴) جذیا تکی مانودی اور لطیف ت اور قزرے بیدہ شمحھیں -۔۔۔ ایک شعریں 
صرف ایک ہزیہ لیا جانے اس ہردوسرے ہجرہے سے ال کفکر کے دیھا جاے “اور 
کون سے ساجتھ اس بر تھوڑا سا خو رکیا جاۓ ۔ یماں اظمار براہ راست اور بے لاگ 
جیں ہ و گا “ نہ تھوڑے سے ملف اور اریت کے سان ۔ بمرحال شاع رک یکوسشش ےھ 
ہ وگ یک ہ مخ رکا انث فوری ہو * اور شمحردل مین تن او رتمک ىی ہا کرے - یمان 
دہ بات خمیں ہ وگ یکہ جزیہ شرت اور وفور سے خوو بخوو ائل پڑے او رکم س ےکم الفاظ 
میں اپنا اظما رکرے ۔ یہماں جات ور ہنائی اتی ہے ۔ تجربے میں شور یکوششل سے 
صن چا کیا جا ]ا ہے ۔ ارد کی چچھوٹی کروں میس تجزیات کی ہے تم سب سے تیادہ 


۴۳۴ 


نل سے اور اس کی کامیاب تزین مال ان *جیدار من بی کے یہاں مق یں 
گ انار لور پھ یر“ درد اود غاللپ کے اس توعحیت کے اشعار غگورہ پالا شماعروں 


کے شعروں سے بحرہوں گے _ 
ووست ہو ى وچ*ۓج ٭ خ ہمت 
پلف پا و ںہ غاے 
۱ٹ( 
خطلده +خان رق نے 
جھے ےی یا کت خال رھت ھے 


مں) 
تج ہن ئا ھت جا ہے 
کیا ٠و‏ ئن کی خت جال کی 
۰ زی 
ال ان کی ہیں چھوڑی جاتی 

لن لت "ا لس بنا جتا 
ضس می 


(ورو) 
حم مکی نے سد ہے 
یی کگھوں کی نم خی سے 

یں 
گمپ یو خلا بب لال یت 
اور پھر يہ کی نال مری 

(نااب) 


(۳) جذیہ خیں بل ندم دتجریہ جس میں یا ف ایک ہی سے کے جزبے سے جلہ 
ہوں بای جزبوں کے ورمیان تصاوم او رکشا کش ہو ٴ یا ایک تر کو اپتی ساری 
زندگی یا دوعروں کی زندگی پا حیات ملق یا کاتنات کے سقائل رک ھکر خی رکیاگیا ہو * 
اس تربے میں میں ' پہلو ٴ یگیاں چاسے ہجچنی بھی ہوں * اندرون یشیش تی بھی 
کیوں نہ ہو گر وحرت اتی بوقی کہ اسے تفصیل سے بیا نکرن ےک یکومش شکریں 
تو وہ تجزیہ ماقی بی خمیں رہتا - اس کا اظدار یا ت حخنقرالفاظ مم ہو گا یا پالکل شی ہو گا 
۔ اس شعم ہے ججیات سے ووصرے ور ہے کا شع بھی ہو سم ہے اور بڑے سے ہوا 
شع ربھی ۔ ہہ شاع رک زہنی اور روحائی کاوش اور خصیت پر متحصر ہے ۔ شیک پت کے دو 


ضور گل ٭ے جات صری کر 8> 5ط 


اود ٤.تھ‏ 18 316-155 اسی تی ل کی چچزوں مس سے ہیں ۔ اردو شاعروں مم _ے 


المال میس صرف چار نام پچمانؤں گا - میرورد "غالب اور فرایق 


خر اھر ہو کیا ہوگا 
سے تممارے بھی رعیان پاتی ے 
. فیا 
نعل سے يا گی طنان ہے 
یم تو اس پینے کے ہاتھوں مر لے 


۷ 
یں) 
تع ای گے بل کا یج 
جب الف مات سا ہج گیا ہے 


م 
اٹل و لکو تحراپ رکیے وے 
تیری آگفوں سے یہ ت وور تمیں 

ف 


پر ای و لگ سرن یق ہے 
دنا حں اب دن ےک رات (رر) 

عا آآگھ بھی کا 

آچ ےا حم تیج بج یو ا 
() 


۳۲۲۳ 
(۶) عحبوب ما زندگیکی کات “ گلے *“ شکوے “ معن اہینے آ پ کو بھعزیا برت یا عؾ پر یا 
مظلوم یج ےکر ١‏ نے آ پ کو دوسرے انساتویں سے “ موب سے زندگی سے * کاتنات 
سے ال٤٣‏ فک ےکوی کڑدی “ می یا ول میس بچچت والی جیا ت کنا یا لی کئی سنانا * یا 
دل کے تب یھو لے پچوڑنا ؛ یماں اختضار اس لۓ با جا. ےک چو ٹکراری پڑے ۔ 
ىہ اتضار تجرہبے کی جامحیت کا خمیں “ بلہ تب ےکی نی اور ا تتباض کا ہے ۔ چنامچہ 
واسوشت والی ذینی ت کو بھی چچعوٹی بر راس آقی سے ۔ اس تعن میں خصوصیت کے 
ساجھ غالب * داغ اور سن برللدی کا نام لیا جا کت ے ۔ 
نے ناخم ین وۃ نین آتے کنا 
میں حم آپ ہے رج نکی کا رراغ) 
ترے میں کو این کام سے کام 
یلبپ ا کرت اک پور 
جم کو انا تع سے جن گن نے 
کن والوں کو خر کیا تھے ۔(رر) 
صرید طّ اع کسا بی 
پھر بھی اس کرپے میں گمذر ہوگا (ص می 
قغرے بر ے رق ا سے ا 
تو یئ اع 7ے ایت بین عن جے 
(رر) 
اس قسل کے اشعار میس خکایت یا طصنہ عہ سی ت کم ےکم اتی زندہ دلی * خوش 
لی اور گععلی مزاح کا مظاہرہ ضرور متقصود ہوا ہے ۔ یماں دراصل شاع رترہے سے 
زیادہ ان آن پک تمائل ہے لئ بی یکم را ہے۔ 
اب آسیئے غال بکی طرف ۔ موں ت غال بکی چھوٹی ۔روں میں آفنا یمر احتجاب 
اور گج رکئی مل جاتۓے گا - 
سنہ وگ لکماں سے آتے ہیں ا کیا چیزسہے ہو اکیا سے 


راز 
عشق کے اس المناک جبوں پر محصوبانہ ججنس بھی لے گا ۔ 
دل نادان گے ہوا کیا ے آت اس درد دواگیا ے 
سچردگی کا وفور بھی لے گا _ 
رھ اس د کی میتراری ہے سن جویاے زم کاری ہے 
رای بے وفا پہ عرت میں بپھردی زندگی ہاری ے 
غااب مغ رت اک وا سے 'انحنائ کک یل گر ارسے بکائات گا وتیں بھی 
سٹون.آ 
۲ ز آرائشی خ م کیاکی یں اور انریشہ پاۓے رور وراز 
گھرچعوئی پنمى ہر لھا چھرکاستواتد او وی 
سے اپنے آ پکو ال کک لی کی خیب سے میں کے ئن الا اخضا رکی وز ے 
اشی اور آسانی رثقی ے ۔ اور خود ئی اود خود فماقی کا اچچھا بمانہ ٹل جات ہے ۔ ” ول 
اداں جم ہوا کیا ہے ' دای غخمزل ان چند زلوں می سے ہے.۔ جہماں غاب اہپے 
آپ بے یاہ رگن سے ہیں ۔ ان سے تر میں غی رجخمی ابراز آیا سے اور انموں نے 
عق یا ت اور کاتنات کی طنارت ت اور حعومیت اور رچاؤ مو کیا ے بای 
وہاں بھی واسوخت تے ان کا چا خی چموڑا_ 
ہ مک ان سے ہے وفاکی امیر جو خی جاتنت وفاکیا ہے 
جم نے ناکم یھ خمیں غالب مفت باج آتے تو براکیا ے 
جب غااب اپے عق زندی جا کاحات ہہ تو رکر رہے ہوں اس وقت کی 2 
لای یىی کے اتی مس ےک1 “ بھلا موجع ىل جاے ت دہ دومروں سے اپتی 
یدگ اور بمتری جانے لغیرزہ بی خمیں گج _ 
فا اۓ مضاشن مت پچ لوگ نا ےک رسا پاند ھت ہیں 
اس شحرمیں نام ےکی نارسائی کا اتا مہ ممیں سے نی 1 اس جا تک خی ےکم 
لوک غلطط کت ہیں ب نقالٰ یک این کون بی سے وق بن سے و وشن ایک 
عظڑے اف ا رن کے یں “ابی بس سے باہرکی قوت پر * زندگ گکی خرانت 
بھ ین رکھت ہیں ۔ علب کی چیرے زی تو سے اسان کل دق 


۲٥ 


ان سے بیاگی برجم سے اور اس طرح ا نکی کتائی کی (خواہ وہ "لیف رہ ال 2ت ھ 
تعدب قکرتی ہے ۔ یہ میری می ن گت خی ای خمزل میس غاب ت ےکما سے - 
کو کاتے ار ویکھا ہے یھ بھی اک اتی ہوا باندت ہیں 

اہن شع کے ینہ ہیں کوقی در با ئن تن سے ۔ نہ کو گی بے فی سے 
غالب لفف نے رہے ہیں ۔ آ دی کو اپتی سی کا اصاس اپ نے کی فقمل یا عمل یا 
کی کے ذرلعہ ہوا ہے۔ کہ غال ب کو اپتی جس کے وجود اور اس کے کائیات 
سے الک ہوتے کا اضناش روتے کے ربج ہو ہے ۔ اس لئے مہ رگ ری بات خوو 
تھنی بش می کی ہے ۔ خواء سی ہے تیجیہ ہی کیوں عہ ہد ۔ پلنہ اگر انس کاکوتی متییہ ککتا 
قے غال بکی تی پھ رکاتنات سے متخلق اور مروط ہو اتی اور اس کی کتائی زا مل ہو 
جاتی “اس کے لئ طالب مار میس ہیں ۔ ان کے لے ت آ کی بے انڑی بی سوومید 
ہے ”کی وکلہ اس طرح ان کے اور کائنات کے درمیان حدفاصل ربق ہے ۔ پللہ مد 
ندری من جاتی ہے -...۔۔ کیوککہ الب کی جج کا متما عشق نی اپینے آ پ کو 
حیات اور کاتّات ٹں پوس تکرنا خی ہے “یگ ** ابی جوا بانرجنا ' چموٹی خصیت کا 
آدی روتے ے ور ہے کیوکكہ روتے کا مطلب بی اتی “قی سے یاہر جو دوصری 
قو ہیں ہیں ا نکی مادرانہ شفقت کا اختراف سے ۔ خلا ابی ایم فورسٹرتے (پاکتان ) پا 
ای این کے سارے لوگ فورسٹرکے بد ہیں )کما ہے مت سکما پکو پڑھ کے روتا ٣آ‏ 
جائے وہ اصلی فن پارہ خی ہے ٴ اس کے برخلاف بوو لیر نے بڑی تظم کی تخریف ہے 
بنائی ہ ےک اسے بڑھ کے آگگھوں میں نس ۳ جائیں ۔ خیر' اب آوکی بے اٹڑی کے 
مععلق مرکا شعر یی . رچموئی نہ سی “ بات بڑی ہے - 

روئے تے رات اس کے جو نشی رجہ ن کی ناچار می رمنڈکری سی مار سوگیا 

م کو ہوا یاندحن کی" ضرورت تی میں آئی ۔کیوکلہ جب وہ منڈکری مار سے 
سوتے ہیں نے ان کے یچ زشن جیی ٹھوس چیزہدقی ہے ۔ آہ چاسے آسان بر جاتے یا 
نہ جا ۔ لیکن اکر آد یکو زین بر لے آئے ت بی بست بڑی کامراقی سے ۔ اسی من 
مس فراق کا بھی ایک شعرضنن لئ _ 
قرصت ضروری کاموں سے پا ت رو بھی لو اے ائل ول ہہ کار عحیت بھی کے چلو 


۲ 
خر غال ب کی نوج یوں ت بیشہ ہی اپنے اوبہ مرکوز دنق ہے ۔ لیکن چچموئی بجر 
مس ت وہ یں سو سکرتے كت ہیں جیسے اس پچھوئی سی چادر میں ات چل ہکا ںد 
دورزے گی سیا تین . خترچھوٹی نکروں می ںکزخ شکرے ہ ںک زی زندگی کا جوہر 
مچوڑ میں ۔۔۔ اس زندگی کا جو صرف اخیں کے میں کہ بھی کے ہے میں آئی 
ا -..۔۔۔ اور کیہ خییں توم سے ےکم ایک تر بے کا عطرت ومینچ بی آ سے - 
۔تیوں. سے ہے آراق تی 


ست روئۓ جم اس کی رخصست کے بعد 
سے کی ! سے خودی مھ آآج میں 
نک مت سے ہہ عحامق یی 


ان نممیں' اور 7 *“ے ٣ق‏ عام انان گ ری ے ٭ مر کین یں ے 
عمومیت اور ماکیری بین جاتی ہے ۔ کی وہ خر اہنت اشعار ٹ زیاوہ ے زیاوہ وسحت 
اور جاسحعیت چدا کرنا جاتتے ہیں ؛ غالب چچموٹی بکروں میں اپے اخقضاض کا اعلان زیادہ 
کرت ہیں ۔ غالب اختضاز کا مطلب یہ لمت ہی ں کم ہرتیر ضروری چ ڑکو نظرایرا زکر 
ما جائے اور ان کے لئے اتی ذات کے علادہ ہرز تھ نانتل می ہے۔ پچھوٹی روں 
میس میراپنے تر ےکو دوسرے انسانوں کے گرب میں ھا لا دی ہیں۔ غاب اہے 


۲۲ 


تر کو جخا رک ددسروں کے تھے سے ان فک لیے ہیں۔ خالب چچموئی بح کو اس 
لے استعا ل کرت ہی ںکہ ان کی خصیت کا تھا ین پور یکساوٹ اور آآن پان کے 
ساتہ نظ رآ ۔ چچموٹی ہکزوں میں میرکی ذات مھ ہ ھکر اساضیت کا یہ ین جاتی سے 
اور غال بکی ذات بھلاہے سے میس بھولق بکمہ ہاو برل بد لکر مقالمہ پر ات آتی ہے۔ 
چھوٹی بکرم وہ یش ہکوتی افوٹ دار با کنا چاہتے ہیں ۔ اسی سے وہ اپنے اوہہ نظر 
کوکی اور کا زاویہ نظ رکبھی خی نے دسینے ۔ چنانچہ جب دہ عام زندگی کے یارے میں 
جح د کت ہیں ۔ جب بھی ایک لن کا سا انداز آ جات ہے - 
ہو ںکو سے نشاط کا رکیا نہ ہو ھرنا تق بے کا عزاکیا 
غالب نے اتی ذات سے ملق جو اجیجھہ شع ر کے ہیں ان میں سے بمت ے 
چھوٹی روں میں ملییں کے _ 
ورو مت کش ووا ۓ ہرا میں تہ ایھا ہوا یراۓ ہوا 
گل آقہ ہوں تہ پررہ ساز میں ہہوں اتی گلست کی آواز 
کیک رپا ہوں جنوں مہ ںکیاکیا یھ دنہ بے عداکر ےکوگی 
اور جب محبو ب کی طرف ‏ وج ہکرت ہیں تو چچھوئی ۔کروں میں عو واٹ وی “ 
للکار “ظضن کا رک پیداکر دی ہیں - 
تجائل یی سے مدعاکیا سکہاں کک اسے مس راپاغا زکیاکیا 
توازشی پاۓ یا دکتا ہوں خکایت پا رتگھیں کا گل کیا 
لیگ بکت و نک نغالئتی: تے صشق کی :روانتین ول یل اور حیب کا نیا تضور 
ڑکیا س طال بکی انقلالی حیشثیت جوسیچھ بھی ہو ۔ رہہ عشق ہے با ساعراح سے جک 
اص کے لئے ہہ عضزدری می کہ انس مین فناوگی اور ای خذلیل دی ہو گر عشق ے 
مزا میس تھوڑی سی خود فراموی اور تبولیت بھی نہ پیدا ہوگی ت وہ ؾ بی کیا ہوا - 
کیٹس نے انی حبوبہ کو چھہ خط کک ہیں * جن میں بڑدی ای کا انلم رکیا ہے - 
آر حلڈڑنے ان پھ حقی رکرتے ہو ےکا ہے مہ دوا قروش کے ملازم کا حشق سے گر 
آر حل جیسے لوک جو عشق میں برعال ابنا دقار جائم رکھنا چاہے ہیں تو ان میں اچم 
یت گنی خین ہجویک اپ عفانرنے کے یارسے بین دو چار گی باتین و ل کو یکر 


۲۸ 
کس لیس ن خی راب محبوپ سے متحلق الب کے تہ شع اور دی :_ 
بؿ کرتے ہو یں رتيیوں کو 
اف ٌُقا من ػ جم جا 
رق سے کہ لى حالی سے 
ہك گے نل لن خان ساےہ سا 
بج کو چا 3 ب غضقب ےہ ہوا 
یں غیب اور و ریب زاز 
اما کو ااے گر آجەتہ زاری 
جے مس تن سے ام کت یں 
مم بھی ما کی شود ران 2 
بے ىانئی تی عانت یی کی 
اس مخ ہوا کرے گی 
یف جا گق ھا ”ہے وی 
باتک پواں زان کی ے4 
وہ کھیں اؤں خا گرے کوئی 
ضرف حجوب کے بیارے میس ہی ضس بلک زمدگی کی خکایت بجی دہ اسی اغراز مض 
کرۓ ین۔ 
کیا دہ تر کی خدائی ھی بندگ میں عرا بھلا ع ہوا 
گر ریا جن ع رپا ہوں ۔ج نکنان اورے وبا لگنان 
جب توق می اح گنی غالب کو ںکی کا مل کر ےکوئی 
عیرا عطلب ہہ شی س کہ غالب چچعوٹی چھوئی کروں میں مس اسی تم کے شع رکۓ 
ہیں ۔ لن اتی بات ضرور ہے کہ چھوںی بکروں میس ان کے مزا حک ف نی بڑی آسانی 
سے ابجھ رآکی ہے اور وہ چھوئی ‏ رکو اس طرح استعا لکرتے پر مال ہی نک کسی کا گل 
کیا جا کے ۔ ہہ شی اود تزجی ا نکی خورگمری کا مازی حصہ ہے کی کہ جو دی اہ 
آپ کو این حد تک نیت رکرنا ہو وو نہ حوب سے من رو کا ہے ٭ تہ دومزوں ے 


گلا 


نہ زندگی سے --..۔ چھکمہ چھوئی بک رکا تقاقصہ می ہا ہے کہ گجزیات کا خلاصہ خی 
کیا جانے * اس نے طالب بھی اپچنے جزیات کا نوہر چی کرت میں اور وہ ہے یچ ےگ 
زندگی نے طالب سے اما حلوک خی ںکیا۔ اتمیں می رکا یہ نتطہ نظ رکھی قول تمیں ہو 
گا۔ 

لاعلابقی ہے جو رت ہے تھے آوارگی تچ ےکیا مصرصاحب متدگ بچارگل 

یہ غالب کا مخصوص مزارح ہے اور اگر صرف ا نکی چچھوٹی بروالی زلو ںکو ہی 
پیش نظ ررکھا جائۓ حب بھی ہے عزارح یالنل واتّ ہو جات سے ۔ یہ شاید یہاں ان کی 
اکڑ یھ زیادہ ہی نمایاں ہو جاتی ے - 

۳ء 


ہمارے یہاں ڈراماکیوں تیں 


اب جے فربائئی مضمون لکما و رہا ہے مصرع طرح یج سی ملا ہ ےکم رو میں 
ڈراماکیوں میں ہے۔ خی ایے قربائئی مفمونوں میس آسانی بھی رہتق ہے“ اکر مخرین 
دای بی سا را نو ہہ عڈر موجود سے کہ صاحب وہ ازرہ انثال ام مھا تھا_ اگ م پچ 
ڈھنیک کا جیا نے اتی داد خوو ویۓۓ کا مرح ا ۔کب اڑی" ادر تی راں تے ای 
فرائئی ممون میں جو آسانیاں ہوقی ہیں وہ تج تے برما کمہ دیں۔ اپ وہ 
دشواریاں سن جھ اس موضوع میس جھے بی آمیں گی۔ مج سے ار سال یہ اتی 
جماات کے سمارے مس ڈراا سے متحلق بست سی باتیں بدے یقن کے سات کہ کا 
تھا جن تن چار سال کک بتائی؟ روی“ فرانی؛ ڑ یی پٍڑجاتے کے یعر اپ ہے 
عال ہوا ےک میں ڈراما اور خصوصاٴ“ ٹر یڑ یک یکوکی اڑی نحریف بی می ںک رکا 
جھ ان سب چیزوں پر عاوی ہو جنخیس ڈراا یا ڑ یڑ یکمہ دا جات ہے۔ ڈرا ا کی ایک 
عام نتریف ہہ ہہ ےکہ اس می ں کی عمل کا نقتشہکھتچا جات ہے۔ لن ہرتزرزیب مل کا 
ایک الک تور رسڑ ہے پچھراس تسد رکی بیاد ہوقی سے اضانی نقزے اور زان و مکان 
ہے اس تیر پر'جھ سی توم کا مایہ الاقیاز وا ہے۔ چوکلہ سے اتزار حض نظیاتی 
حیثیت میں رتیں' بکلہ قوم کے بررے تجرہے سے پیا ہوقی ہیں“ اس لے ١‏ جپنگر 
کے خذدیک ایک تمقعب دوعری تیب کی اقزار اپنا ہی خی عق“ اور ت۔ ان افزار 


۲٢ 


کے ذرسجے وجود میں آتے وائے قو نکو تہ عمق ہے مقری ترزیب کے لف اووار 
می لوک ُونانی ڈرا) کے اصولوں سے مطال قنکوسش شک رت رس ہیں۔ مین ١‏ گر 
کے خاں|ل میں بونانی ڈراا اور مخلی ڈراا کے ورمیان صرف ایک چز ضزک 
ہ۔.-- لفظ * ڈراما * اس نظریے کی رو سے موف کلینز اور گیل پت کے ڈراے 
و کے ریت بالئل خطلف ہوں سے نا شیکپیتر کے کروارو ں کی شخفیت 
ہمارے سا سے تگیل پاتی ہے اور ا نکی خزال ‏ یکی صورت بھی اسی تیرمیں مخمرہوتّی 
ہےے۔ اس کے بمرخلاف بیونائیوں کےکردار نے بناے اور بل صورت میں جارے 
ساس آتے ہیں اور ان کی گلست ناری ذرائح سے واقح ہوقی سے ۔ مجن عحل کا 
مطلب ان دو ششم کے وراموں میں پالثل خلف ہے- اپ امر ہم ہے معلو مکرنا چایں 
کہ بونان میں اور ایازیتھ کے انگگتان میں ڈراءا کیوں پیا ہوا ناس کی وجوہات پالگل 
حتلف ہو ںگیٴ میق جس کو ہم جلدی میں ڈرااکسہ دسیت ؤں دہ جرتذعب میں 
لف م۴ ہو گا“ اور اس ہے وجوو میں آت ےکی انرروثی ضروریات بھی لف ہوں 
گی* اور عمل کا تصور بھی بالنل الک ہو گا۔ خرض بونانی اور مخرلی ڈرآمو ںکی پیدائشی 
اور مشووتماکی جو نیہ عام طور نکی جاقی سے وہ محاششرے اور اس کے فتون پر عایر 
میں ہو سی ےگی۔ 

ا نر کے اس نے کی یاداس عقیرے پر ہرک جنحی اشزا تکوگی چز 
میں ہرترزیب بذات خود یٹ کل خصیت رمق ہے جس کا دوسری تزیوں سے 
کوتی علاقہ شی ہوتا۔ یماں ہہ اعتزائض پیا ہوا ےہ اکر مہ جات ٹنیک سے تو پھر 
ا جنر نے دوسری جریو ںک وکس مھا اور ان کے متل ققکوتی رات دی ےکی جرات 
کی ؟ اس نظریے میں ہہ بہت بد یکتدری ہے۔ اچھا“ اب خلف ترزیوں کے ون 
کے نقابگی مطا کو چھوڑیے۔ صرف ایک معاجمرے کے ڈراماگئی ت یکو وین ےکلہ اس 
کے بن می ں کسی دشواریاں یی آقی ہیں۔ جن لوکوں نے مغرنی ڈراے کے ملق 
سوچا سے“ ان میں ے مت سول کا خیال ‏ ےک ڈراما قوت اراوی کا کیل ےے۔ جب 
تک ہہ حخضربرع رکار نہ آے ڈراما چیدا میں ہوا خصوص] ڑ جڑی ڈی اچچ لارش 


۲۳ 


ےنا ہے کہ اکر شر ججیڑی کا ہیرد پدری کانحا ت کی طاتوں کے خلاف بدوجند میں 
مروف نظرحہ آے ا ا کی عالت ىہ ہوتی ہےہکہ جی ےکوی مینڑک گاڑی کے یج ۳ 
کک ٹیل جاتے۔ مل اتا ہو ںک صرف میک یڑ ڑی ی خی بل یہن ڑ جیڑی 
کو بھی مجن کاچ کے اس طرح پڑخا جا سا ہے اس کے برخلاف ون ائٹ اور 
بس روسرے لوگوں کی رائے ےکہ وت اراردی کے انور کے و کے رڈ یکو 
مھا ہی نجس جا سکتا ‏ ادر ہہ بات انسوں تے شی کے سلسلہ م کی ہے۔ میق ایک 
ہی ڈراماکو دو ا عتلف طریتوں سے پڑھا جا سنا ہےةکہ زین اور آسمان کا قرت پیر 
٭و جانا ہے۔ نتادوں سے قع نظ آ کل کے مبحض بے ژرانا نگارو ںکو لین ک کت 
نے و اپے ' ای ڈیں ' دالے ڈراسے میں کامحات کے مظھام یکو مین سے تیم 
دی ہے۔ جس کے اندد آ کے آدی پتا می چلا جات ہے۔۔ ہنی کے "ہا نی * میں لے 
ىہ بات اور ذاع گی ہس بیما نکودین نے رو بی می ںکسہ دا ہے کہ اگر تبنارا 
نام '* ا ی گنی * ہے نو رت مکومشش کے با دجو شر جینڑی سے نمی یچ عگتیں۔ اس 
ساری حٹ کا متصد ہہ ہے ےکہ نے چھگڑے وراے پر خو رکرتے جدمے پیا وت ہیں* 
نے شای کسی بھی صحف کے سعالے میں پیا خی ہوتے۔ عالاکلہ اس موشورع پر 
ڑگ افلاطون کے دقت سے لص لہ ٣‏ رہب ہوں۔ اب بے ویکھۓ ٣ل‏ ٢خ‏ ری 
معاشرے میس ڈراماکی چیدائش کاکیا معیار عقر رکریں ؟کیا ڈراا ال وقت وتوو میں ٣‏ 
سے جب معاشرہ اضا نکی قوت ارادی پر ٹن رتا ہو یا ا وفت تکہ جب ہے عقیرہ 
تر ککر ویاگیا ہو ٭ 

چا اب ایک اور عوال ساۓ ٦٢ت‏ ہے ڈراما اور نوئی اد کا آلیں می ںکیا 
تلق ہے ایک ال سے ہے کہ وراے کے لئ حسبدی تعاشرے سے ح باعول ہھ 
بی میں سنا کی وک سال کا سب سے پڑا فرخمی ہے انددوں ادر بیوتی تزقیات رے 
لڑناٴ اپنے آپ کو ابنقراتی گناہ کے اثزات ے پا گکرتا* اور اتی مجا ت کی دن مں 
مد تال نے حیسٹر شی کا ےکم چے حیساتی کی بدری زندگی دی ایک ڈرایا 
بوقی ہے' اس کے مقابلہ حس دوسرا خیال ہہ ہ ےکہ حسوی ماشو ٹر یڑی پواکر بی 
نمیں کا کیوکہ حیسدی عقیرے کے مطابق حجات کا اتصار ہے مخدا کی مرضی پےٴ دہ 


"۲۲"۳ 

اپنی رعت سے سے چاہے معافکر ستا ہے اس لے انسا نکی زندی میں ڑجیڈی 
کا تو رکرنا تک ممناہ مرا ہے آندرے یھ کت ہی ںکہ حیساتی کے لے تو اصلی 
ڈراا مرتے کے بعد شروع "ا ہے۔ زط نکی زندگی سے عیسائیو ںکو ات رید دگپی 
سی نی جو وہ اس کے یارے میں ڈراما تخلی قک رکھیں۔ اس لے حیسدی ڈراما کھت کی 
کوشش شرمنں تحہرہو جی جییں ھی اس ناکائ یکی مثال بد کے نزدیک کلوویلی کے 
ڈراسے ہیں۔ شر نے نف یماں ک ک ہمہ ویا ےہ تحید برست محاشرو ڈراالی جذیات 
سے بیگاشہ ھا ہے کی کہ وہ تو ںکی رگا رگ یکو قیول نمی ںکر۔ ڈراسے کے لے 
و ینا نکی سرزشین موزوں تی٠‏ جماں ہرججلت کے لیے ایک ویو مقر تھا۔ اشمیں 
بلتوں کے بے لاگ تساوم سے ڈرامائی جذیات چا ہوتے تھے یر نے وو مرا معیار 
یہ تقائ مکیا ےہ ڈراما اس محاشرے میں تق پا سے جماں انسان داد نا بن گےٴ اور 
ول تا انسانں۔ ہہ نز حیسدی محاشرے مس نا ئن ہے۔ با ححسوی نرہ ب کی تق اور 
ڈداماگی نی کا زدال لازم و سنوم چچزیں ؤں۔- 

رہپ اور ڈراے کے تلق بر ہہ ددجم کے خالات مین نے آپ کے ساح 
یٹ یکر دیے۔ عیرا مطلب ہہ خمیں ےکم یہ فظریات ہمارے معاشرے پر بھی ضرور 
عابد ہیں ے۔ میں تذ صرف اتا جانا چاہتا ہو ںکہ ڈراماگی ف نکی بت تی مشکل چیز 
ہے اور یماں ابتداگی معیار ما مکرنا بھی کتتا دشار ہے۔ اب اصل م_صی لے کی طرف 
آیئے۔ جارے یہاں ڈراماکیوں میں سے ؟ اس سوال کا جواب لحض لوک تو سی دی 
ہی ںکہ ہرنل چند فخون سے اندروقی عناسیت رکھتی سے سائی تعخمییں اور ان _ے 
حتاث ہوتنے والی رز سمیں ڈراسے کے قن سے بگاعہ ہیں٠‏ پرے سائی ادب مں صرف 
لئ لت یا ایگ ال جن تہج رانا سے پگ مکاضرت رکی ے> تد نی سے 
جواب کیج کے ما خلطٴ صسرحال اس بث میں متض ای جھھڑے چیش آتے ہی ںکہ ان 
میں انا نی چابتا۔ اس لے میں نے صرف ات بات پر تو رکروں مگاکہ ہمارے موجودہ 
ادب میں ڈراما تر قمکیوں تی ںکر کا- 

اب کک مس تے پپرا زور اس بات >ھ ص فکیا ےکہ اس بث جشں بیادی 
سعیار ممائ مکرنا مشکل کام ہے لگن کی نہ مکی معیار کے بقیر بحٹ آگے بل بھی 


۲۲۳ 


میں تھی ا جنر کے جیسے بعد الطبراتی یا تزیدی معار میں ق ا ال ول نیس 
کروں گا کیو کہ اخمیں ردکرنا بھی اتا بی آسان ہے- مں ن کوک ایا معیار چاہتا ہوں 
جو ہ رش مکی تمزیوں اور اقتدار بر عائد ہو کے وشت* عمل* اضائی نز کے تضورات 
ہرتزیب میں محخلف ہو ھت ہیں۔ ین جو چیزسب میس مضتزرک ہے وہ ایک مر “دو 
اھ ؛ دو پیرلشی حم اور حم سے پدا ہونے وانے ذہتی عوامل ‏ اس لے مرا بنیادی 
معیار تق نضیاتی ہو گا۔ اتی جات تے بھی نظریہ ساز ماسنے ہی ںکہ ڈرامہ عح ل کی توے 
کشی سے عل کا تصور جر تزیببیں گازہو ہے تو ہونے ریچ ایک مل ہر 
معاشرے کے اقراد میں نے گا۔ مج سکی حین شضکلییں ہیں (۵) تحم کے اندر ” او رگون؛ 
کی کت (۲) مم سے اندر سے پاہر قضا کی طرف ” او رگون '' کا با (۳) قضاء 
ہیں ےتیج کے ار اورگون '' کا آنا ۔ ہہ جمارے جحم کا یادی عحل ے؛ اور 
اضانی شعور کا کام ہے۔ اس عمل کی ہئابی حاصل کریا۔ قطفی لوک اس چچ زکو خوو 
بنا ہی کائات کا حور یا عرفان وغیرہ کتے ہیں۔ رای کے زدیک انسالئی زندگی کا سب 
سے با اور ہب سے یادی ڈرانا بی ہے۔ ڈراا وی قرد یا محاشرہ تخل قکر تا ے“ 
جھ اپینے اندر اس عم لکو سو سکرت ےکی ہمت رکتا ہو 

بسی مت مارے مج کل کے اوب میں نظ ر ہیں آتی۔کبھی تو مارے اوجب 
سای نظظریات کے چیہ نے ہیں ھی جزیات برسق کے بییے “ھی ارٹی نظریات کے 
یچیے۔ میں ہمارے نقا کت ہی ںکہ ۱۹۳۷ء کے بعد ہمارے ادب میں صا فگوگی نے 
قرورغ پایا اور ادنیوں نے نشتز ےکر حاح کے پھوڑو ںکو چا جن اپننے آپ سے 
اور اپنے معاشرے سے اہی حاص لک رن ےکی می ہکونش ش کسی اج یکیرات ی حاصل میں 
کر گ٣‏ کہ دو چار عزال سے زیادہ ا سک یگرقت مج ٣‏ گ۸یں- پھرارے اروں نے 
کیا ہو رہا ہے او رکسے ہو دبا ہ ےکو پدری طرح بجھے اخ رکیوں ہو دہا ہ ےکی گگر شروع 
آزری۔ مان ےاى لظروں اور خصروب) ىیاى لوگوں تے ١ض‏ سمارا ویا اور بعد جن 
بالل بی اپنے قضے میں کر لیا اویوں کا کام تھا آگابی حاص لکرناٴ اس کے ججاے 
اضموں تے دوروں کے کم اپنے زے نے ئے۔ چار پاچ سال سے سیاست یاذی کے 
جیائے جزیات برستی کا زور ہوا ہے اس کا مطلب تھی بی ہ ےک اپنے جذیل ت کا 


۲ 


دی اور بے بقیر اتی ںکوئی موچ اور ول تام دے یا جاے۔ ہہ نے آگابسی کے 
فرییض سے اور بھی بدا فرار ہے۔ اسی طرح اوٹی نظظریات بھی لمح لوکگوں کے ام ٣‏ 
رہ ہیں۔ ادلی ناریا تکی ضرورت تو اس وقت ٹل آتی ےٴ جب آ پ کو اپے 
تہ کی ہعاہی حاصل و اور آپ اس ما یکو خارتی شحل وینا چاتے ہوں۔ اس کے 
یغیرارلی نظریات آعاہی سے جچتے کا ایک بماند بن جاتے ہیں۔ 

مض صورتیں میں اوب کے لیے ادپی فظریات سیاست سے بھی زیادہ ملک 
ایت ہوتے ہیںٴ اور ارب سے بھاگے کا سب سے اپچھا طریتہ خر ارپ ہو ے۔ 
بارے یہماں ہہ بھی ہو رہا ہے۔ جب ہمارے افساتے کک میں خور آگاہی کا اتتا فتران 
ہو تو پھر ڈرام ہکماں سے آسے ؟ جب ہم اپے اندر اور اپنے محاشرے کے انور 
ججباتو ںکی اہی لڑاتی اور ابی اقدار سے ان کے تاد مکو دیصے اور جک کی ہمت ہی 
نہ رکھتے ہوں تو ڈراما تو بست دو رکی بات ہے“ بی خنالی شاعری کک میں ہو عمق۔ اگر 
ہمارے اوب میں ڈراا نظ رجھیں ٢‏ اس میں تخلقی صلاحی تک یک یا یادقی کا سوال 
میں ہہ ہمارے ادیو ںکی خصی تک یکزدری ہے۔ اگر ہہ صنف جمارے اوپ میں 
نہ ہوقی تو جھ یکوتی بات نہ شی جہارے یہاں ت ڈرامائی اضاس بی خیں 1ا_ ڈراے 
کو اجکی غیرموجدوگی نے خیں ماراٴ ہم خود اپتی بت یکو ایک انتج ملک کی ہمت 
میں رھتے۔ جاری پیلک اس شن سے بے ماز ہو یا ضہ ہوٴ ہم خور ای آپ سے 
کرات ہوں_ 

ید ت ےکما ےکلہ ڈراما چداکرتنے کے لے محاشرے میں ہہ اصاس ہونا چا ۓے 
کہ انسان دلۃ ا ین سکم ہے اس فقرے میں نضیاقی حخیقت ہہ ےکم حم کے انور 
”اورکون' کی رفمار برنے کے ساتھ کو یکی شخصیت میں حیریایاں داقع ہو قیاؤں۔ ے 
قیت اندر سے "دب یکو برتے “ یجہ اور فنے پر جب رکرقی رہتی ہے۔ مہ ڈرااتی عمل ہر 
وت جاری رہتا ے اور ای کے زرییہ آوی کی شخصیت نشوونما پاتی ے۔ مارے 
ادب میں آدبیکی مقلب ماہیت کا نے وکر ہ یکیاٴ تید لی کا اصاس بھی عام طور سے خمیں 
ختا۔ ہمارے اقماتے ہہ تو جا دی ہی ںکہ آودب یکسا ہے لیکن ےکی خییں سککت ٹک وہ 
کیا ین رہا ہے" نے کا اصاس تپ ہمارے اوییو ںکو حاصصل بی شیں- 


3 


غالیا“ ١ای‏ رجہ ے مارے اں اقاد اتا مبول سے اور تاول جیاپ سے 
وہ چھوٹے سے چھوئے ناول میں بھ یکمرداروں کے اند ری مس یک تبدٹلی ‏ 
دکھاتی می بڑتی ہے۔ پھرڈراے کا ت محاطہ بی اور ہے۔ یہاں تر ایک یہ سے انور 
حدیلیاں ہیرد بے ٹڈٹ اتی ہیں اور دہ ئم زون مج جبہ سے بتھ بن جات ہے۔ ایے 
مموں سے روچار ہوتے کی طاقت ہمارے ارزیوں میں شیں_ وہ 3 قاعت پٹر واآع 
ہدتے ہیں۔ جھ ریکنھ ہیں دنی رہنا اہ ہیں۔ ابی خصیت کے ا ماد بی میں گن یں 
لہ اسی ا نماد سے لزت عاص٥‏ لک رتے ہیں۔ نہ دلو تا جن ےکی ہمت رھت ہیں نے پاتور 
ہن ےکی ایی لوگ انسان بھی یں نے اردد کے اویب الب بینے رہ ھت ہیں۔ گر 
ڈراما ت سے حبدٹلی کا مطالعہ جو لوگ حیدٹی کا خواب تک نہ وہ یں وہ ژرایا کے کلے 
یت ہیں ؟ بس ہے کا تکر گت ہی کہ ہمارے یہاں اسیج ضییں“ ورتہ یماں تھی دو چار 
بعد گیکیت دہ جا ہے حے ہرذرہ ایک ڈراے کا بیو نظر 

چرورے اضانہ نگارہوں یا شاعم اضررگی کو ارب ھت یں؛ اضاند یں یا 
اف ا ے پنے الال کی چچنکیاں لیت ہیں۔ اس امضححزال کے یی جو ہولناک جتف ہو 
ری ہے اسے دی کی ناب میں رکھے۔ اضسروگی کے شیرے میں اس بدری طرح نے 
5 یک ان سے بای جن لیکشت بفاحپاخوۃ شیں نے کن رق تداقٰ عاائت 
سے اتی عبعدگی بھی زی ہو لزا نی امن شی کمان سے ٣ت‏ پا نے قااہی ٣زق‏ 
کے ہ کی بات سے جو اپتی آ وید شک بھی ببھی اس طرح دکیہ ےہ جس لڑکے سوک پہ 
کھوں کی لڑاتی و یکا کھرے ہیں ے قلق گڑات خوو اپنے میں ایک ڈرااگی مکش 
رکھتی سے مین ہمارے ازیو ںکو ہر مت مکی مکش مرا ں رتی ہے دہ تذ اپنی ایک 
اعلی جخت مس رجے میں اور جنت ج ںکولی ڈرا) خیں ہوا- 





چھطا مانس خز لکو 


رسک کو عمرجھریہ ابی تکرتنےکی دن درس یکہ اچھا فن پیا کرنے کے لے 
ردب یکو پرکی ڑگار اور پاگیزہ ہونا عی یف تن جب وط بدے بڑے شن کارو ںکی زندگی 
بر نظرڑاتما ت پت چتاکہ سب کے سب آشفت مزارج اور آوارہ جیعت رہے۔ آنررے 
یر نے تی رصاف ‏ یكمہ و اکہ تیگ جذیات سے برا ارپ پا ہت ے۔ اپے اررو 
شاعروں ب یکو دکیھ مھیجئے۔ ہ رآد یک یکوتی کل ٹیڑی ضرور گل ہگی۔ مس ایک عای ہیں 
جھ ہر طرح وحلے دہلاے نظ رآتے ہیں۔ لگن اس کے یاوجود اضموں تے بڑی شاعری 
نہ سی و اتچھی شاعری نکی سے صرف ‏ رس عا ی' اور ” مناجات ییوہ ' وا ی 
شاعری خی بللہ خمزل میں بھی الب مومن اور بقع ے عنقیرت کے پاوجوو اٹموں 
نے ایک انگ اب و اجیہٴ ایک ععدہ رز اصاس پیداکر کے دکھایا ہے :کیا پچ رہم ہے 
بجی ںکہ خالی زبرو اتا کے ذرلعہ بھی اچچھا ادرب چیدا ہو سکتا ہے؟ جن عا ی کی تزل 
ا نکی ذاتی زندگی اور ” صررس ' کے پاوجور مواعظ حتہ سے خالی ے۔ اگر ہے رندی 
کی شاعری خی نے پرہی زگار یکی شاعری بھی میں ہے وکیا اس کا مطلب مہ لہ ماک 
انی کے ذاخ ت کخائے کے اور جھے* وکھاتے کے آور پ شجن اگر آبیا اتی ے ےکولّی 
انوکھی یات جمیں۔ چ رآدب یکم و یش انیا ہو ے- عالی میں ات راست یاڈی اور 
صا فگوگی نے یک دہ یار يار اتی ریا کاری کا اقرا رکرتے ؤں- 


۲۸ 


مضہ شہ ونگھیں دوست پھر عیرا اگر چائی ں کہ میں 
ان سے کیا کتا رپا اور آپ کیا کرتا رپا 
ایک دو خی عالی نے نے عیصیبوں شعرای ممون کے سے ہویں۔ اپتی ریاکارۂ کا 
اخا اتی ہروقت حا سے اور اس کا مات احتراف ان کے لے ایک ارروق 
جیدری م گیا ہے۔ مہ اصاس ان پہ اس بری طرح مسلط ہ ےک معلوم ہوتا ےکر 
راکاری کا اختراف دل کا پوچھ ہکاکرتے اور عمزت ففس برقرار رکتے کے کام ٢ت‏ ہے۔ 
تر ند نقارکتے ہی ںکہ ىہ انحطاط پھھ حا کی قتدروں پر چوٹ ہے۔ مئلا 
بح یہوں سے ہیں مارے تازی ہار 
آک بنرگ آتے ہیں محر میں تحترکی صورےی 
کن ہے ہہ بھی ' ارب براتے زندگی “کا ایک مظب ہو لین اگ کسی وی میں 
اتی یا ادوروں کی ریاکاری کا اصاس اتا شحدید ہو جائے تو ہم اس کے نضیاقی عم ل کو 
کی طرح بھی نظرانداز خمی ںکر ھ۔ بکنہ عا کی غمزل کے مخصوص لب و تجے* اس 
کی تک جن او ری کو بجھتا ہو تے اس کا سراغ اسی ریا ککاری کے اضاس میں یا 
اپے اوبہ شک مس لے گا۔ ظاہری اور باطنی حخصیت کا قرق اور اختلاف و ہر ح؛ض 
میس موجود ہو گا۔ تمرعام آدی بی آساقی سے اتی خصیت کے دو کڑ ےکر لیے ہں- 
بت دو ری اشئیں گب خین تق لاہ مازی طاقت خاش یکرت جهھ لے و ارے 
ضردری بھی مھت ہیں اور اس سے تم بی بھ یکرنا اہج ہیں۔ لیکن خود آگاہی اور 
انی شفصیت کے سارے عناص رکو ایک رکز پر لان تق فی کار کا لاڑی قرلیضہ ہے۔ ای 
لے فن کار کے اندر وه ھا جانی چیا ہوتی سے جس کا عام آد یکو ریہ ممیں ہوتا یا 
اما شریر گجزی میں ہہونے ایا ارب عہ تو خای زپرذ تقڑی سے پوا ٭و] ے“ نہ عال 
فی ور سے ازع :فوقو نکی جک غن تار ےل سید دق ہے.۔ ود آئزرتے ور 
کی خلیقات یک و ید* واعظ و رن کی ماش سے نکی ہیں۔ اسی مکش نے عالی سے 
ز لکسطواتیے عائی کی شائری کا بھیر پانا ہے 3 ای اندروقی آ ویش کا مطالعکرتا پڑے گا 
او سہ بھی د یکنا پڑے ماک ان کے اندر جو معحکش جاری ہے وہ ریا ال ب کی یاطنی 


۲۳۹٤ 
کش ےس(س طرح ملف سے۔‎ 
شاعر یکی بت سے پسطہ جی تھوڑی سی نضیات مگھار لیت دہج مہ تے عام طور‎ 
000 سے کھی شاعروں کے بارے می ںکما جا سکس کہ ان حضرت سے لاشعور میں‎ 
17۳۷نم چھ اور 09ص کی لڑای ہو ری ے-  ئن‎ <۰۳٣۶۱. اور 5ن5 یا‎ 
ارب کے طالب عکمو ںکی حیثیت سے محض اتی بات ہمارے لئے اعلمیزان بخنش خیں‎ 
ہو تی “کی کہ پچ رت ایک شاعراور دوسرے شاعم ںسکوگی فرق میں رہتا۔ دیع کی چچز‎ 
ہے سے کہ شاعر اس .27772 2۸1777 ک وکیا کجھتا تھا۔ لا غال ب کو‎ 
خاری حخیشت زندگی دوسرے یماں  کک عحجوب بھی س ب کھت تے- ود چاہجے سے‎ 
کہ اتی حفقیقت خوو بن جانیں۔ چتاجہ ا نکی متئش سراسرداخلی ہے حشمؾ اور انا‎ 
کے ورمیان می رکا محاطہ ہہ ےک گے اخمیس عشق میں جاکائی چند سای تحقیا تک وجہ‎ 
سے ہوگی۔ کن دہ ان اقتذار سے یرد آزما شی ہیں ایک طرف تو وہ اپیے عش کو‎ 
دیییت ہیں دوصری طرف انساقی زندگی اور اشانی بس کی مجبورلوں'“لاچارلو ںکو-‎ 
رکادی نککائی دنا سے آنخر تھیں آ ۓےگر وہ تو یھ کام ہو گا‎ 
دنا " می رکا .1 2:7771 222۸3.17 سے مر اس کے مصمی حجوب کے‎ 
رشع دار اور ان کے تحبات خی ہیں۔ بلمہ اضاتی زندگی ہے یادی عقائن۔ اگر ہم‎ 
اس '* دنا" کے تیج صعنی مبججھ لیس تمہ نے ہی ںکہ می رکے یہماں ونیا ادر عشق ایک‎ 
دوسرے سے دست وگریباں ہیں۔ عالی کے یہاں لڑاتی ہے شش اور ویاداری ی-‎ 
10008 سے ححقل اور عش قکی جک بھ یسکس مت ہیں۔ یا بین ک کی اصطاع مج‎ 
اور 205 کی آویزش گر ینک کی اصطاعیں اج وسحت رکھق ی ںکہ ان کی مد‎ 
سے جم عا یکی ضبحیت کے عناصرکی کیج نحزیف می ںکر بت اس سے بھترنوحی ںہ“‎ 
560 ٥ امٹیی کی اصطماحوں کے زورلیہ ہو گی۔ مجن عالیٰ سے انور گمر ہے‎ 
تا اور 60 ج77۷ کے ورسمیان؟ لن ان سے شش کو جو چچ روکتا اور دہانا‎ .07. 
چاہتی سے“ وہ جبر وا ی ” ونا ےپ کے چتر سای افزار اور اقدار تھی وہ جو ریف‎ 
لوک اپنے یچوں پر عائ دکرتے ہیں۔ شا دتے اہ سےکھان ا کھائے “گریبان یائدت رکھ و ٴ گی تہ‎ 
دو چک نہ اڑا وقیرو۔ عالی کی حخصیت کا ایک حصہ ت ان افزا رک ماتتا سے ووحرا حضہ‎ 


۔۲۴ 


ان سے بائی ہے۔ ایک حصہ حش قکو قو لک را ہے۔ عق لکو ر ہکرت ہہ دوصرا حصہ خقل 
کو قو کرت ہےٴ ادر عش ق کو رد۔ بی یھٹا تق عالی کے حدیزب او رکش کا سرچ سے 
اور کئیں سے وہ ریاکاری کا اساس با ہے۔ اس انددوقی ہویش تے اتی شاعربیایاٴ اور 
چھگ۔ ہہ دوٹیں حریف ایک دوسرے می بوست میں ہو گے“ اس لے دو دئے پن نے 
حا ی کی شاعری میں حرت اور ععلمت شمیں آتے دی۔ عام آدمیوں سے وہ اس یات میں بخز 
جےککہ انمیں اس دو رتے پین کا احماس تھا۔ گھروہ بے شاکروں کے پرابر اس ؤچہ سے تہ 
تی ےک یہ مقیقت مھ لین کے بعد ان کے اندر جییان اور حطاعلم خیں نہ عدامت پیا 
7۰- 

اب عالی کے ہہ دونوں رع دیکھ۔ بہماں کک عش یکو تقو لکرنے اور اپتی جست کو اس 
کے پر کر ریے کا تعلق ہے ہہ عطاحیت ان میں غاب سے کمیں زیادہ یں الب کے 
یہاں سپروگی کا اندزاذ دد ایک تہ ہی چیا ہوا ت۔ نیشن دہ انداز کچھ ایا ہے“ جیسے کوئی 
سے مس دمت ہو کے خوش یکر ہہو۔ نج سرشماری کے مھوں میں قز غاب اپتی خود پر سق 
بھول ھت ہیں درنہ خمیں؛ اور دہ بھی اس وقت جب اپنے انا کے جھشن اور ناو سے تک 
ہوں“ ادر پرچہ یادا یا دکمہ ےکوو پڑڈے ہوں۔ 


پور رق اب سے کت ثا ہے تم برسں ہوۓ یں پالم گریاں سے ہوے 


دن تی خہافف کو طامت کو جانۓ ےچ چداز ما مخ گرم ویان گۓ برے 
ر نی میں ہے کل دری سی کے پڑے روں حر تے پار حظضف ورای گے ہوے 


کن اس ے برخلاف عالی حبو ب کی بی ضرورت محسوس کرتے ہیں* اپے پترار کا 

اط سے یغیراس ضردرت کا امتزا فکرتے ہیں- 
کیوں بڑھاتے ہو اشتلاط بہت کم مک طائت میں جدائی کی 
قلق اوررل مں سوا ہوگیا ولاسا مسارا ملا ہ وگیا 

حبت اور حیو بکی جس ان کے لئے ایک ١ییا‏ لازی انساتقی تعلق ہے جس کی پرولت 
خود اپی بت اور زندگی کی شل و صورت ہی بدل جاتی ہے۔ عم اپی جسق کا تین سی ایے 
اشالی ثلقات کے ڑرنیہ ہو ے_۔ 

رس وہشت خی اور سی اجاڑ ہ وگئی اک ال کگھڑی جھھ ئن اجاڑ 


۵۱ 


اس کے جاتے ہیں ہے کیا ہوگئی گحرکی صورت .تہ وہ دبوار کی صورت سے نہ دری کی صورے 
تی رکایٹ سے جوان کے کبھی رک جاتا ہے اک اگاوٹ میں ادحر سے وہ ادھ مکرتے ہیں 
وقت رخصت تھا خت عالی پر مم بھی ٹیش تے جب وہ جانے گے 
محیو ب کی حیت اور خلوص کا انرار. حیوب کا اترام“ محبو بکی پاکیڑگی کا اصساس* محبت 
اور محبوب میں اپنے آ پکو جذ بک دس کی علاحت---- یہ الڑی یں ہیں جن سے 
غال بکی طبیجدتکو لاو نہیں “گر عالی کے زار مس ری ہوگی ہیں- 
قاضاۓ معحیت ہے وگرتہ تھے اور جححوٹ کا تم بر مگماں ہو 
پررے بست سے و لک شب ورمیاں رے شکوے وہ سب سنا اور میاں رے 
بجی ڈحوتثا سے جزم طرب میں اشمییںگھر وہ آے امن میں ت پھرائ یکماں 
جلنہ عالی نے تے ایک پھی س یکوشش ہہ بھی کی ھی کہ عش کو عام انسانی تعلتات کا 
ایک حصہ بنا لیں..-۔۔ وب یکوسشش ج می کے یماں اتی عطظمت کے ساتھ نظ رآتی ے۔ 
شا 
افماضسل پت وقت مروت سے رور تھا رو رو کے ہ مکو اور رولاتا ضرور تھا 
جن اس میں وہ عیروالی شحدید معحکش میں آتنے پاتی جس میں اشانی رشتوں ے 
تقاتے کا خیال بھی ہو اور انسانوں کے ورمیان جو نامچائل عبدر جج ہوتی ہے اس کا اصساں 
بھی۔ 
یھم فقیروں سے بے ادا کیا تن جیٹھے جو تم نے پیا کیا 
گی نا امیرا کرت ہنا مم رتم تو منہ بھی چا کر لے 
بکلہ عالی کے شعرمیں تو وہ رت والی بات بھی ضیں- 
کیا کیا آپ نے کہ یت سے 
ےہ لے حخن کا ور گیا 
عالی کے شحرم انسانی رو کی مالوسانہ تی نمی ں کو ںی اموں تے بعل بساعث اور 
وتحع واری اور خوش خل کی اقدا رکو اپنے عق میں داخ لکنا چاہا ہے۔ خر بست سے اج 
ازدو شارت انتا بھی شی ںکر کے اور حش کو عام انساتی تحلقات سے یارہ چچھریاہرجی کھت 


۵۲ 


رہے۔ صرصورت اس لفظ * مریت " سے عا کی شخصیت کے دوسرے پھلو کا پت چتا ے 
کن نے هر "یا ”سے مت کرت ہوئے دنیادار یکما ہے۔۔۔ لن وہ ظا اتزار 
نس میں دب باھھ سےکھانا بھی شمائل ہے۔ 

کہ اس دنا داری میں عم کو آدارگی اور بدچلتی کے رارف مھا جات ہے اور 
عالی کو سے اقدار بھی قبول ہیںٴ اس لے ا نکی شخصیت کا دوسرا پھلو اجمیں حشق سے روکتا 
ہےط عاقیت چٹی ادر افادیت پندی کے سیاروں پہ عشق پررا خھیں اتا نہ ت3 اس میں 
انفرادی فلا ح کی صورت ہے نہ اجقای فلا حکی۔ عشق می ناکای ہی سے نیس نہ کامیالی 
سے بھی مض رفعہ آدبی کی بت جس طرح منمشرہو جائی ہے اس کا ذکر نے عیرتے بھ یکیا 
ہے اور دوسرو ں کی عیرت کے لئے اتی عثال یش کی ہے مر عالی جھ صصق سے ڈراتے ہیں 
تق ای لے کہ نہ ایک طر حکی بے راہ ددی ہے۔ مس می پے کے آدی وتا کے مطلب کا 
نی رہتا۔ مجنا گریبان بند رکنا بجعول جانا ہے۔۔۔ سب چجھ ایا ماں تے اتی عفت سے 
سکھایا تھا ‫ 
اے عشق تو نے اکر قومو ںکوکھا کے چھوڑا جس گر سے صا ٹھایا اس کو خٹھا کے چھوڑا 

ووحتو ول تہ لگانا ‏ لگانا ہرز ینا خیر سے کہ کھھیں تہ لڑاتا ہرگڑ 

ان کے لے عق ایک یکا ہے ایک تخیب ہے“ ایک عیب سے جس سے چے 

کے دجنا ہی ابچھا۔ نان جب دہ ماں یا پکی تزیبی تکو بھلاکر عش نکر جیٹھت مہں نز اتضیں 


خود اپنے اوپر جب ہوا ے۔ 
چ رج 3 





فوققی سب جاتتے ریچ ا وق ویر اف سے کا یئ کب جاے ۴ا 
ایک رستریں سے جری عالی با ہوا تھا اس کے بھی ول پر تر چر کا نا کے چجوڑا 
بت عام لیے جے جن ول سے مم کو وك حرف خنتا ہوا جات سے 
زار کو گھ وں کے ےچ غتر او نے و ”غار کو اس سر خان ھں یں 
چنا ۔ے اشتار علق ہے علق گی جات خٰ جا ّری 


تلیغیں ت میرنے عشق کے ہاتھو ںکمیں زیادہ اٹحاتی ہو ںگی ‏ جن حشق ان کے 


لج کببھی حاقت یا سادہ دی یا قراموش کاری ختمیں پیا 


۳۵۲ 


لا علایق. ہے ج رتق سے جج آ وارگی 
کے کیا جر سحب بی چائگی 
ان کا سوال پالنل ووسری خم کا ہوت ے_ 
کیوں یر بی جممیں ںیھ بیاری ہو گئی سے ؟ 
اس کے برخلاف عالی صاحب نو عمش یکر یٹ کے بعد بھی ہہ کت جکت نی ں کم 
ج ھک خود ابی زات سے ابی اگماں تہ تھا۔ یا بھراپنے آ پکو ڈراتے دھرکاتے کت ہیں 
ا جن گے ہیں یا کن کی کر میں تک جاتے ہیں۔ اس وقت محبوب بھی ا نکی نظر 
ش رھ اور بین جات ے۔ 
ابی جانا خمیں عالی تے سس کیا نہ ہیں وہ 
حترت اس طف کا پائیں کے مزہ یاد رسے 
(زرا '” لللف '' کا لفط دیھئے_۔ جی ےگ روالوں سے نظ چا کے سگریٹ نی شرو عکر 
دی ہو) 
سے مشکل تھا عیدں لیم جم بھی خ کو بی چرانے گے 
رمق سے وہ ایک اس وجہ سے بھی کبراتے ہی ںکہ اس میں پے کے "دی پرنام 
جھ جاما ہے ادد اٗئیں پارساتیکی شرم اور اپنا بھرم تقائم رک کی بڑی گر ہے۔ ری 
طور پر رسواگی کے مضماین جرشاع رکے یماں آ جاتے ہیں گر عا کی اند رون “یش کو 
اس مخمون سے امس مناسبیت ہے۔ وہ صش قکی رما رکا اندازہ اسی چیانے سے لاتے 


یں 

نَ آئب رن خی یق تج بت تؾا' صی مساق ٣‏ 
فا گ۔ عحاق سے وت آراں مجر ایا بس جع رے رمواق 7 
ضھ لا کػوگق ارت ہیاں تج عق سضر تعق کی 


اب عالی کے اندر مفااصت کی خواپش پا ہوقی ہے۔ تہ صشق دیاتے ے وا 
ہے۔ مہ دنا داری چچھوڑی جاقی ہے۔ ان کا لہ یوں بیان ہوا ے 
آتے ئٹٹا جب ان کی یت میں بے مز 
کت ہیں لوگ مان کا اس میں تیاں ے اپ 


٥۵۲ 

اس مم ایک جات و مہ حعاعل خور ہہ ےکہ اگر ہارا یس لہ تز چان تک وے 
ہیں گر ا یک وکیالیا جا کہ لوگ کت ہیں۔ ”رائے عامہ" سے عای کا عحشق ور 
ہے دو ری بات ے ”اب' والی شرط ہے۔ نشی جب کک مشق نتصان رہ ع ہۓ+ 
اس وت تک مھ ہر خمیں “مر یات جب ذرا بڑھ جاتے ق3 پھراقیوس ہوتا ہے کے 
عد کے اند رکیوں تہ رہے۔ عا ی کی میانہ روی اور اخترال پپندی عدو نکی بری طرح 
تا ئل ہے شاعری ابھی چیزہے۔ بشرطلہ مغید ہوٴ عشق می ںکوی ہرج میں بشر یگ 
لے والویں میس بدتائی نہ ہو !جن لوگوں کے صشق میں اتی طات ہوقی ہ ےک ابتای 
اور انقراری ر حم کی مصلحت پبندی سے ککرا جائے وہ ایک اور ہی اشمیتان اور ول 
بی سے بات کرت وں۔ 

تمنائے دل کے گے جان دی سیق ماراۃ ضورے (یر) 

گر عالی ”اب 'کی منول آتے می کب برا کے چجچہ ینہ گت ہیں۔ اور اپ 
آ پکو شرم دلانے کے ہیں۔-۔.۔۔ عالی تم اور طازمت پیر سے قروش ! دراصصل عالی 
کے 260 031۷م اتا زورىی خی ں کر 09 :0۸٣انا‏ کو ز ےکر نے یا 
اپنے اندر جز بکر لے۔ اس یچارے میں تو اتی ہمت بھی خمی ںکہ برای رکی کر ہی 
نے سے يہ لڑاتیِ بس راکرا تکی ہے۔ ابھی خاص یگول می زکانزنس ہے۔ کچھ ے 
دبے یھ دہ دبے بھی اس نے اپنا دا مارابھی اس نے۔ عا کو نز تبرد آزائی _ے 
ےل جان پان ےکی گر پے جاتی ہے' انیس صن کی ” چاٹ *“ بد پچی ہے اس لے مبر 
بھی نی ہو مر ساتھھ ساتتھ نیہ دعاتیں بھی ماگتے جاتے ہہ ں کہ بدجھ خر ےگ ر٣‏ 
جائے۔ ہس وہ محالمہ ہے۔ جیسے لڑکا دن بھ رکم سے غائب رب ے کے بعد یا پ کی ڈاف 
کے خوف ے لڑ رپا ہو 

حا یکو خود اس کا اصاس ہےٹکہ لہ پاپ عاع کے ڈر سے وہ اپنا گلا خو و مت 

ایک عالم سے وفا کی ت نے اے عالی گھر 
فس پر ات را تال جا کر زا 
یں سے ان کا مخصوص محردبی کا صا“ اخیلول اور اضروگی کا لچہ پیا ہا 


۵ 
جم کو بہار میں بھی سر گلتان نہ تھا 
ین خزاں سے پل بھی ول خشاراں ‏ تھا 
عھراس ہے باوجود وہ عش یکوچ رائی مخت رہے۔ ا نکی اخترال پپندی نے نے 
حد مات مکرت ےکی الستہ اجازت اشی دے دیع یکہ جوانی می یلک جانا تذ فطری یات 
ہے گر پھر سبھل جانا چاہے۔ نج ایک خاص زاتے میں تھوڑے بت عش ق کی 
پچھٹی مل عق ہے۔ اب عالی کے اوہ ایک اور یز مسلط ب اتی ے۔۔۔- جوا یگمزر 
جانے کا صدمہ اور بڑحاپے کا حم ىہ بھی نس سے ڈرتے کا تیجیہ ہے گر جوا لی کی یاد 
میں بھی وہ قومندی اور اصاس نکر خی جو جوانی سے بجھریور فاترہ اٹھا لے کے پور 
ہونا جاہے۔ بکنہ اساس تاسف ہ ےک جوانی میں بھی ہم نے د لک کیا صربمں بھالیں* 
اور اب و روہ زانہ تیگیا- 
بے حم جوائی میس سرعے دہ عال گر اب می پان ہونا پڑے گا 
کے ماق مں می ي را مت انی عم کو یاد کو آئی یت 
عالی عش کو یج راتی بھی کھت ہیںٴ سام عشق جاں سے ببھاگتے بھی ہیں مر پچھر 
بھی دل یا آسماں کے ہاتھوں کچچڑے جاتے ہیں۔ اب ا٘میں ایک طرف ت جینپ“ 
رم اصاس م"ناہ ہا ہے دوصری طرف " باپ * سے بغاو ت کر کے خوںی ہوتی 
ہے۔ وہ اپنے عش کو اپنے آپ سے بھی چمپانا چاچے وں اور اہی دلادری کا عال 
دو رو ںکو جانا یا جتاا بھی چاجے ہیں۔ ا نکی خوتیٴ گی سی مک رابہٹ“ ان کا مخصوص 
مزاح اور ظرافت اشمیں دو رجمانا تکی عاعل ہے۔ وہ چننے بی اس طئ ی ںکہ چے 
کوگی یرہ آدی انقاتا را قی کر جیشھے اور پھرخور بھی اس طظانہ کت ے للف نے 
اور ساجھ بی سخجیدگی کا ازا مکرتے والی اقدار سے بھی پچچحیٹرخا یکرے۔ 
چس بیج مل مم ہچ سے جن غاد سخلے بر رات جر خضن ٣ق‏ 
تی اس کا کی عم میں متا میں زممار خاہر ہے کہ عال یکو کوگی کام ہے دریمیٹی 


ہہ مگراہٹ اندرونی متحش سے فرار کا یک ورلعہ ہے۔۔-۔۔ اس میں بقاوت 
اور گلست روتوں مال ہیں۔ وہ ہمت کر کے اپنے عشق کا اعطان بھی کرتے ہیں اور 


۵ 


شزم کے مارے اسے چھاتے بھی ہیں۔ اس میں اقرار بھی ہے اور انکار بھی آ ری 
بات سکتے ہیں اور آدھی میں کت انی لمزت اس میں ملق ہ ےکہ لوک ںکو پچ 
دے بہاموں 
سب بج ھہکما گر نہ لے رازاں سے ہم 

عا ی بھی اپنے آپ سے بھی بری طرح میں کھل۔ ان کی کوشش یہ دب یک 
سب سے بھی رہے۔ انموں نے اتی جستی کے محتضاد عناص کو ایک وومرے ہیں 
گھان ےکی ہمت میں کی پکنہ دونوں سے تھورا تھوڑا تعلق برقرار رن چاا۔ عشن اور 
حبوب دوقوں کے بارے مس موی اختپار سے ان کا روی۔ ہے ہ وگیاک۔ 

ا ھا ے یا براے ھیارد مارا 

جن لوکیں میں عشق اور محبوب پر عجان دے وبیے کا سلیقہ ہو] ہے وہ محبوب سے 
بھی میں بہراے۔ 
مہ سے ہم اپنے برا میں کے کہ فراق دوست جا سے مر آری ابچھا بھی تمیں 


یں ت عال یکو بھی انسائی تعلنقا تک پاکڑگی کا بدا اعزام ہے اور دوس کی بڑی قزر 
ج۔ 
ڈھارس ست چ اے ہم قز موم سے بندھی ہے عالی کو کھیں را میں تم چھوڑ ‏ چانا 

گر حالی کے بیماں دہ میروالی بات شی ئ یکہ بای بھی تعلق کا پردہ ین جائے۔ 
تصہ ىہ ہ ےکہ عیبر دوسروں سے پالنل انگ ہو گے تھے اپ ا ن کی چروجمد ہے تی 
کہ اپے آ پکو چھرددصروں میں مایا جائے۔ حا بھی پدری طرح دومروں ے اگ 
یں هو اشن وین نے ور ہک کی الک از 6 جیاون۔ حر نے کو سے 
دویادہ پانا ہے۔ عالی نے کبھ یکھویا بی میں تجھات ےکی ضردرت اتمی ںکھوتنے کے ور 
کی وجہ سے ہی یش آتی تی۔ ا